2021 September 24
کیا ائمہ اطہار علیہم السلام سے اربعین ملین مارچ کے سلسلے میں روایت موجود ہے ؟
مندرجات: ٢٠٥٧ تاریخ اشاعت: ٠٩ September ٢٠٢١ - ١٦:٥٧ مشاہدات: 87
سوال و جواب » امام حسین (ع)
کیا ائمہ اطہار علیہم السلام سے اربعین ملین مارچ کے سلسلے میں روایت موجود ہے ؟

کیا ائمہ اطہار علیہم السلام سے اربعین ملین مارچ اور امام حسین علیہ السلام کے چہلم  منانے کے سلسلے میں روایت موجود ہے ؟

جواب :۔مجموعی طور پر پیدل چل کر امام  حسین علیہ السلام کی زیارت کی اہمیت کے بیان میں ۲۵ کے قریب احادیث موجود ہیں۔اب چاہئے یہ زیارت پندرہ شعبان کی مناسبت سے ہو یا عاشورا ،اربعین یا رمضان میں زیارت پر جانے کے بارے میں ہو۔ ان میں سے بہت سی روایات کی سند بھی صحیح ہے اور قابل تشکیک نہیں ۔

جیساکہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی زیارت کے بارے میں نقل ہوا ہے :

«مَنْ زَارَ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ع مَاشِیاً کتَبَ اللَّهُ لَهُ بِکلِّ خُطْوَةٍ حَجَّةً وَ عُمْرَةً»«فَإِنْ رَجَعَ مَاشِیاً کتَبَ اللَّهُ لَهُ بِکلِّ خُطْوَةٍ حَجَّتَینِ وَ عُمْرَتَین ۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام کی زیارت کو جو  پیدل چل کر جاتا ہے تو ہر قدم کے عوض میں یک حج اور عمرہ کا ثواب اسے دیا جائے گا اور اگر واپسی بھی پیدل چل کر آئے تو ہر قدم کے بدلے دو حج اور دو عمرے کا ثواب دیا جائے گا ۔

تهذیب الأحکام، نویسنده: طوسی، محمد بن الحسن، محقق / مصحح: خرسان، حسن الموسوی، ج 6، ص 20، ح 46

اس کا معنی یہ ہے کہ آگر دس ہزار یا ایک لاکھ قدم چل کر جائے تو اسی حساب سے حج اور عمرہ کا ثواب دیا جائے گا ۔

جیساکہ ان ہستیوں نے اپنا پورا وجود اور سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کیا ہے ۔لہذا  اللہ امیر المومنین علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی زیارت کو جاننے والے کے لئے ہر قدم کے بدلے حج اور عمرہ کا ثواب دئے تو یہ  اللہ کے فضل و کرم کے اعتبار سے زیادہ اجر نہیں ہے ۔ لیکن بعض اللہ کے فضل و کرم سے بے خبر ہیں اور اس قدر اجر وثواب کو بعید سمجھتے ہیں اور اعتراض کرتے ہیں ۔

(إِنَّ الْفَضْلَ بِیدِ اللَّهِ یؤْتِیهِ مَنْ یشاء) سوره آل عمران (3): آیه 73

فضل اور کرم اللہ کے ہاتھ میں ہے جسے چاہئے اللہ نواز دیتا ہے ۔

دوسری جگہ ارشاد

(وَ يَزيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ وَ اللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشاءُ بِغَيْرِ حِساب‏) سوره النور (24): آیه 38

اللہ اپنے فضل و کرم سے ان کے اجر و ثواب میں اضافہ کرتا ہے، اللہ جسے جتنا چاہئے عطا کرتا ہے ۔

اللہ اپنے فضل وکرم سے کبھی اپنے بندوں کو اتنا دیتا ہے کہ جو قابل حساب و کتاب نہیں ہے۔ اللہ یک قدم کے عوض میں ایک حج اور عمرہ کا ثواب دئے تو اس  کو ایک بچہ بھی گن سکتا ہے۔لیکن اللہ کبھی اپنے کسی بندے کے لئے اتنا اجر و ثواب دیتا ہے کہ دنیا بھر کے حساب کرنے والے اس کے حساب وکتاب کرنے سے عاجز رہتے ہیں ۔

حضرت سیدالشهداء کی زیارت اور باقی  ائمه (علیهم السلام) کی زیارت میں فرق

 

الف :  جیساکہ بیان ہوا کہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے بارے ۲۵ کے قریب احادیث ایسی ہیں کہ جو پیدل آپ کی زیارت کے بیان میں ہیں ۔

«مَنْ أَتَی قَبْرَ الْحُسَینِ مَاشِیاً کتَبَ اللَّهُ لَهُ بِکلِّ خُطْوَةٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ وَ مَحَا عَنْهُ أَلْفَ سَیئَةٍ وَ رَفَعَ لَهُ أَلْفَ دَرَجَة»

جو بھی پیدل امام حسین علیہ السلام کی زیارت کو چلے تو اللہ اس کے ھر قدم کے بدلے ہزار نیکیاں لکھتا ہے ۔اس کے ہزار گناہ معاف کرتا ہے اور اس کے ہزار درجہ بڑا دیتا ہے .

وسائل الشیعة، نویسنده: شیخ حر عاملی، محمد بن حسن، محقق / مصحح: مؤسسة آل البیت علیهم السلام، ج 14، ص 440، ح 19555

امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے بارے میں پہلے غسل کرنے اور پاکیزہ اور صاف ستھرا لباس پہنے اور عطر لگانے کو کہا ہے ؛

لیکن امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے سلسلے میں الٹا حساب ہے ،روایت میں ہے کہ امام کی زیارت کو خستہ اور دکھی حالت میں ،بکھرے بالوں اور غبار آلود چہرے اور بالوں کے ساتھ زیارت کو جائے ۔

«إِذَا أَرَدْتَ زِیارَةَ الْحُسَینِ ع فَزُرْهُ وَ أَنْتَ کئِیبٌ حَزِینٌ مَکرُوبٌ شَعِثاً مُغْبَرّاً جَائِعاً عَطْشَاناً فَإِنَّ الْحُسَینَ قُتِلَ حَزِیناً مَکرُوباً شَعِثاً مُغْبَرّاً جَائِعاً عَطْشَانا»

جب بھی امام حسین علیہ السلام کی زیارت کو جائے تو حزن و اندوھ ،مغموم ، رنجیدہ اور پریشان حال اور بھوک و پیاس کی حالت  میں جائے کیونکہ جس وقت امام حسین شہید ہوئے اس وقت آپ حزن واندوہ ،غبار آلود اور بھوک و پاس کی حالت میں تھے ۔

کامل الزیارات، نویسنده: ابن قولویه، جعفر بن محمد، محقق / مصحح: امینی، عبد الحسین، ص 131، ح 3

 

ب : خاک شفاء سے شفاء ملنا

 

  امام حسین کےسلسلے میں بعض دوسرے امور بھی باقیوں سے الگ ہیں ،مثلا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی خاک کھانا ،امیر المومنین علیہ السلام کی قبر کی خاک کھانا حرام ہے لیکن امام حسین علیہ السلام کی قبر کی خاک کھانا نہ صرف حرام نہیں ہے بلکہ اس میں شفا بھی ہے !! 

خاک شفاء کی عظمتوں میں سے ایک عظمت یہ ہے کہ اس کے ذریعہ انسانوں کو ان کے دردوالم میں شفاء ملتی ہے ۔ اس بات پر جو روایات دلالت کرتی ہیں ان کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے :
1 : امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:بیشک امام حسین کے سرکے نزدیک سرخ مٹی ہے جس میں موت کے علاوہ ہر درد وغم کی شفاء ہے ۔ (کامل الزیارات صفحہ۲۷۲)
2 : امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: امام حسین کے مزار کی خاک ہردرد کے لئے شفاء ہے (کافی ج۱ص۳۶۰)۔
3 : امام رضاعلیہ السلام نے فرمایا: مٹی کا کھانا مردار، خون اور سور کے گوشت کی طرح حرام ہے سوائے امام حسین علیہ السلام کے مزار کی مٹی کے بیشک یہ ہر درد کی شفاء اور ہرخوف وہراس سے محفوظ رکھتی ہے ۔(تہذیب الاحکام ج۶ صفحہ۷۴)

ج :   امام حسین (علیه السلام) کے لئے ایک خاص عنایت یہ ہے کہ ان کے قبہ کے نیچے دعا اور حاجت پوری ہوتی ہے 

 

«وَ إِنَّ الْإِجَابَةَ تَحْتَ قُبَّتِه»

ان کے قبہ کے نیچے دعا کرئے تو اس کی دعا مستجاب ہوجاتی ہے ۔

بحار الأنوار، نویسنده: مجلسی، محمد باقر بن محمد تقی، محقق / مصحح: جمعی از محققان، ج 36، ص 286، ح 107

خداوندعالم نے امام حسین علیہ السلام کے ایثار و فدا کاری اور اسلام کو محفوظ کرنے کے لئے ہرطرح کے غم واندوہ کو برداشت کرنے کے بدلے میں آپ کے روضہ اقدس کو کچھ عظمتیں اور برکتیں عطا کی ہیں ان میں سے ایک عظمت یہ ہے کہ آپ کے قبہ کے نیچے دعا ئیں قبول ہوتی ہیں اور منت ومرادیں مستجاب ہوتی ہیں۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو بھی دورکعت نماز امام حسین علیہ السلام کی قبر کے نزدیک پڑ ھے تو وہ جو چیز بھی خداوندعالم سے مانگے گا خدا وندعالم اس کو وہ ضرور عطا کرے گا۔ (امالی شیخ طوسی ص۳۱۷)۔

 : خداوندعالم نے امام حسین (ع) کے قتل کے بدلے میں آپ کی ذریت میں امامت کو قرار دیا اور شفاء کو آپ کی تربت ، اجابت دعا کو آپ کی قبر مطہر میں قرار دیا اور زیارت کرنے والوں کے ان دنوں کو جن میں وہ زیارت کے لئے جاتا ہے اس کی عمر میں حساب نہیں کیا جاتا(امالی شیخ طوسی ص۳۱۹)۔

امام صادق (علیه السلام) مدینه میں مریض ہوئے اور کچھ دن تک آپ مریض رہیں تو آپ نے ذاتی مال دئے کا ایک آدمی کو امام حسین علیہ السلام کی زیارت اور وہاں آپ کے حق میں دعا کے لئے بھیجا.

آپ سے سوال کیا : فرزند رسول الله! آپ بھی حجت خدا ہے ،کیا ہم جائے اور حجت سے حجت  کے لئے دعا کرئے ؟آپ نے فرمایا : اللہ کا ہمارے جد بزرگوار امام حسین علیہ السلام پر خصوصی

فضل ہے اور یہ فضل کسی اور کے لئے نہیں ہے ۔ «وَ إِنَّ الْإِجَابَةَ تَحْتَ قُبَّتِه»

امام هادی (علیه السلام) بیمار ہوئے . «ابو هاشم خراسانی» امام هادی کے خصوصی اصحاب میں سے ہے اور امام حسن عسکری علیہ السلام کی امامت کے سلسلے کی زیادہ تر احادیث ان سے نقل ہوئی ہے ۔ وہ نقل کرتا ہے کہ امام هادی علیہ السلام  نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے جائے اور اس کے لئے دعا کرئے ۔

راوی کہتا ہے کہ جب میں گھر سے باہر نکلا تو جو شخص میرے ساتھ تھا اس نے کہا : امام ھادی علیہ السلام  نے ہمیں ایک فضول کام کے لئے بھیجا ہے ،کیا حجت خدا کے حرم میں جائے اور حجت خدا کے لئے دعا کرئے  اور ہماری حیثیت بھی کیا ہیں ؟ امام ھادی علیہ السلام  خود بھی تو  امام حسین علیہ السلام  کی طرح حجت خدا ہیں ۔  

میں پشیمان ہوا اور واپس پلٹا اور امام سے کہا : یابن رسول الله! کیا ہم حجت خدا کے حرم میں جائے اور حجت خدا کے لئے دعا کرئے  ؟ کیا آپ بھی حجت خدا نہیں ہیں ؟.

امام نے فرمایا : بات ٹھیک ہے لیکن اللہ نے ہمارے جد بزرگوار امام حسین علیہ السلام کو ان کی شہادت کی وجہ سے ان پر ایسا فضل و کرم کیا ہے کہ وہ کسی اور پر نہیں کیا ہے ۔

اربعین ملین مارچ کی حکمت اور فلسفہ

ایک اہم نکتہ یہاں یہ ہے کہ دنیا بھر سے لاکھوں کی تعداد میں عقیدت مند ،امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے کربلا جاتے ہیں ،اب ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ  ملین مارچ کا فلسفہ اور اس کی حکمت کیا ہے !؟

اس سلسلے میں چند اہم نکات ؛

1- امام سجاد علیہ السلام اور جناب زینب سلام اللہ علیہا کی یاد

امام سجاد علیہ السلام ،جناب زینب سلام اللہ علیہا اور اسران کربلا کے عظیم کاروان کی یاد منانا اور انہیں خراج تحسین قرار دینا ہے  ،کیونکہ امام سجاد علیہ السلام ،عقیله بنی هاشم حضرت زینب کبری اور اسران کربلا نے کربلا سے کوفہ تک اور کوفہ سے شام تک اور شام سے کربلا اور کربلا سے مدینہ تک کے سفر میں اس سفر کی صعوبتین ،بھوگ و پیاس اور مشکلات پرداشت کئیں اور جب ہم اربعین کے ایام میں ،ملین مارچ اور پیدل سفر کرتے ہیں تو ان عظیم ہستیوں کی اس راہ میں عظیم ایثار و قربانیوں کو یاد کرتے ہیں  اور انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں  اور یہ کام اسلامی شعائر کی حفاظت کے شمار ہوتا ہے ۔

2- شیعوں کی طاقت دنیا کے سامنے دکھانا ۔

ہم اس عظیم اجتماع میں شرکت کے ذریعے دنیا کو یہ بتانا اور دکھانا چاہتے ہیں کہ اگر کوئی شیعوں کے خلاف اقدام کرئے اور  حضرت سیدالشهداء اور دوسرے  ائمه علیہم السلام کے حرم پر حملہ کرنے کا سوچے تو ایسے لوگوں کو کڑوڑوں شیعوں کے غیض و غضب کا سامنا کرنا ہوگا

3- حضرت ولی عصر (ارواحنا فداه) کے ظہور کا استقبال۔

یہ امام مھدی علیہ السلام کے ظہور اور ان کے استقبال کے لئے آمادگی اور تیاری ہے ۔

ہم نجف سے کربلا تک تقریبا 95 کیلومٹر پیدل چل کر طے کرتے ہیں ، ہم امام علیہ السلام سے یہ کہتے ہیں کہ آگر اپ کے ظہور کی بشارت ملے تو کڑوڑوں کی تعداد میں جوق در جوق آپ کے استقبال کے لئے آئیں گے ۔

جیساکہ بعض نقلوں میں ہے کہ امام  علیہ السلام کے استقبال کو جاننے والے چار فرسخ تک صف میں ہوں گے ۔ ہم بھی اس ملین مارچ کے ذریعے اپنے مولا اور اس ہستی کے آمد کی تیاری کرتے ہیں کہ جس کے آمد کی بشارت انبیاء نے دی ہے ۔

لہذ اس عظیم اجتماع کا ایک اہم فلسفہ امام مھدی علیہ السلام کے آمد پر ان کے استقبال کے لئے جاننے کی تیاری ہے ۔

4- اسلام اور قرآن سے دفاع کا جذبہ اور شوق ۔

اس عظیم اجتماع اور ملین مارچ کا ایک اہم فلسفہ یہ ہے کہ جب انسان دیکھتا کہ ان میں بچے ،بوڑھے ،مرد و زن ، مریض اور معذور افراد سب دور دراز علاقوں سے اس میں شریک ہوتے ہیں تو اس سے دین کی راہ میں فدا کاری کا شوق و جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔کیونکہ اس میں شریک لوگ  امام حسین علیہ السلام اور ان کے اہل بیت اور باوفا اصحاب کے دین کی راہ میں قربانیوں کو یاد کرتے ہیں اور امام سے اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ اے ہمارے مولا و آقا اگر دین کی راہ میں قربانی اور فداکاری کی ضرورت پیش آئے تو ہم دریغ نہیں کریں گے ۔

5 – اھل بیت علیہم السلام کی تعلیمات اور کلچر کو عام کرنا۔

اس سفر میں جگہ جگہ شہدا کی تصویریں اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے فرامین اور ان کی قربانیوں کا تذکرہ ،ان کے مصائب کا ذکر اور ان کے نام پر مجالس جیسے مناظر یہ سب کے سب حقیقت میں ان کی تعلیمات اور ان کے کلچر کو عام کرنا اور دنیا کے سامنے اہل بیت علیہم السلام کی مظلومیت اور ان کی حقانیت سے دفاع کرنا ہے۔

6- جوانوں کے ذھنوں میں موجود مختلف قسم کے شبھات کا ازالہ اور ان کے سوالوں کے جواب ۔

 ہم دیکھتے ہیں کہ اس سفر کے دوران جگہ جگہ سوال اور جواب اور شرعی مسائل اور دینی معارف کے بیان کے ضمینے اور مواقع فراہم ہیں ، ہمارے جوان اس سفر کے دوران مختلف قسم کے شبھات دینی ماہرین کے سامنے رکھتے ہیں اور اپنے ذھنوں میں موجود سوالات ان کے پاس جاکر بیان کرتے ہیں ۔ لہذا یہ سفر دینی تعلیمات کی تبلیغ اور ترویج کا بہترین ذریعہ ہے۔

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی