2019 December 8
اگر ابوبکر اور عمر نے خلافت کو غصب کیا تھا تو پھر امام علی (ع) کیوں انکے ساتھ تعاون کیا کرتے تھے ؟
مندرجات: ١٨٠٧ تاریخ اشاعت: ٢٩ May ٢٠١٩ - ١٣:٠١ مشاہدات: 398
سوال و جواب » امامت
اگر ابوبکر اور عمر نے خلافت کو غصب کیا تھا تو پھر امام علی (ع) کیوں انکے ساتھ تعاون کیا کرتے تھے ؟

سوال:

اگر ابوبکر اور عمر نے خلافت کو غصب کیا تھا تو پھر امام علی (ع) کیوں انکے ساتھ تعاون کیا کرتے تھے ؟

توضيح سؤال :

اگر حضرت علی (ع) دلی طور پر ابوبکر و عمر سے راضی نہیں تھے اور انکو اپنے حق کو غصب کرنے والے جانتے تھے تو انکو اپنے غصب شدہ حق کو واپس لینے کے لیے ہمیشہ ایک مناسب فرصت کے انتظار میں رہنا چاہیے تھا اور فرصت ملتے ہی اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے تھا، اور جب عمر نے حضرت علی (ع) سے ایرانیوں سے جنگ پر جانے کے لیے مشورہ لیا تھا تو حضرت علی (ع) کو مشورہ دینا چاہیے تھا کہ عمر تم خود میدان جنگ میں جاؤ تا کہ وہ جنگ میں قتل ہو جاتا اور خلافت دوبارہ حضرت علی (ع) کو واپس مل جاتی، حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت علی کیسے مخلصانہ طور پر عمر اور مسلمانوں کی خیر خواہی کے لیے خود عمر کو ذاتی طور پر جنگ پر جانے سے منع کرتے ہیں اور سچے دل سے خلوص نیت کے ساتھ مختلف مواقع پر خلفاء کو مشورے دیتے ہیں اور واقعا حضرت علی (ع) ایسے ہی مخلص اور پاک نیت انسان تھے اور خداوند انکو اسلام اور مسلمین کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔

اگر حضرت علی خلفاء کی حکومت کے مخالف تھے تو انکے وزیر اور معاون نہ بنتے، كتاب تاريخ ابن اثير ج 3، ص 55، میں نقل ہوا ہے کہ حضرت علی، عمر کے لیے بہترین مشاور اور خیر خواہ اور مشکل مسائل میں بہترین قاضی تھے۔ حتی عمر سے نقل ہوا ہے کہ:

لولا علي لهلك عمر،

اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔

جواب:

بحث و تحقیق:

مخلصانہ مشورے:

امیر المؤمنین علی (ع) کے وہ تمام کام کہ جو خلفاء کے ساتھ تعاون کرنا اور مشورہ دینا شمار ہوتے تھے، کی تین اقسام ہیں:

1- مقدمات میں مشورہ دینا،

2- جنگی اور دفاعی امور میں مشورہ دینا،

3- علمی اور اعتقادی مسائل میں مشورہ دینا، 

ان تمام امور میں امیر المؤمنین علی (ع) کا کردار زیادہ سے زیادہ ایک سوال کرنے والے شخص کا جواب دینا اور انکے مسائل کو حل کرنا تھا کہ جو ہر مسلمان کا دینی اور اخلاقی وظیفہ ہے۔ حتی اگر وہ مشورہ لینے والا مسلمان نہ بھی ہو تو پھر بھی ضروری ہے کہ مکمل انصاف اور امانتداری سے اسکی مدد کی جائے اور جب حفظ اسلام اور دین خدا کی بات ہو گی تو واضح ہے کہ ایک مسلمان کا وظیفہ کتنا دشوار اور اہم ہو گا۔

مرحوم سيد مرتضی نے اس بارے میں لکھا ہے:

فأما استدلاله علي رضاه بما ادعاه من إظهار المعاونة والمعاضدة ، وأنه أشار عليه بقتال أهل الردة فإنه ادعاء معاونة ومعاضدة علي سبيل الجملة لا نعرفها ، ولو ذكر تفصيله لتكلمنا عليه ، فإن أشار بذلك إلي ما كان يمدهم به من الفتيا في الأحكام ، فذلك واجب عليه في كل حال ، ولكل مستفت فلا يدل إظهار الحق والتنبيه علي الصواب في الأحكام لا علي معاونة ولا معاضدة ، وإن أشار إلي ما كان منه عليه السلام في وقت من الأوقات من الدفع عن المدينة فذلك أيضا واجب علي كل مسلم وكيف لا يدفع عن حريمه وحريم المسلمين ، فأي دلالة في ذلك علي ما يرجع إلي الإمامة .

فأما المشورة عليه بقتال أهل الردة فما علمنا أنها كانت منه ، وقد كان يجب عليه أن يصحح ذلك ، ثم لو كانت لم تدل علي ما ظنه لأن قتالهم واجب علي المسلمين كافة والمشورة به صحيحة .

آپ کا دعوا ہے کہ علی (ع) نے خلیفہ کی مدد اور اسکے ساتھ تعاون کیا ہے، جیسے اہل ردہ کے ساتھ جنگ کرنے کے موقع پر ابوبکر کو مشورہ دینا وغیرہ، یہ صرف ایک دعوا ہے اور اگر اسکی تھوڑی تفصیل بھی ذکر ہوتی تو اس سے بہتر جواب دیا جا سکتا تھا، اور اگر اس تعاون سے مراد احکام دین میں مدد و راہنمائی کرنا ہو تو یہ ہر عالم پر واجب ہوتا ہے اور اسکو صحیح بیان بھی کرنا چاہیے، اس بات سے ان (خلفاء) کے ساتھ تعاون کرنا استفادہ نہیں ہوتا اور اگر آپکی مراد علی (ع) کا مدینہ کے لوگوں کی جان ، مال اور ناموس کے دفاع کے لیے، مشورہ وغیرہ دینا ہو تو یہ بھی واجب ہے کیونکہ دوسروں کی جان کی حفاظت کے علاوہ اپنی جان کی بھی حفاظت کی ہے اور ان کاموں کا تعلق خلفاء کی خلافت کی تائید و تصدیق وغیرہ کرنے سے نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنا تو ہر مسلمان کا شرعی و اخلاقی فرض ہے۔

اور ابوبکر کے علی (ع) کے ساتھ اہل ردہ کے ساتھ جنگ کرنے کے بارے میں مشورہ کرنے والی بات کو ہم نہیں مانتے یا کم از کم یہ بات ہمارے لیے واضح نہیں ہے اور یہ بات مزید واضح ہونی چاہیے اور اگر تمہارے مقصود پر دلالت نہ بھی کرتی ہو پھر بھی اسلام میں مشورہ دینا اور تعاون کرنا نیک کام ہے کیونکہ مرتدین کے ساتھ اسلام کی راہ میں جنگ کرنا تمام مسلمانوں پر واجب ہے۔

الشافي في الامامة ، علي بن الحسين الموسوي معروف به الشريف المرتضي (متوفي436 هـ) ، ج 3 ص 251

امیر المؤمنین علی (ع) اور اہم وظیفہ حفظ دین:

خداوند کی جانب سے منصوب شدہ امام و راہنما کے وظائف میں سے ایک بہت ہی اہم وظیفہ، دین و شریعت کی حفاظت کرنا ہے اور اگر وہ محسوس کرے کہ دین خطرے میں ہے تو ہر ممکن طور پر دین کی حفاظت کرے۔

البتہ یہ وظیفہ زمان اور مکان کے لحاظ سے مختلف ہوتا رہتا ہے اور ہر امام و راہنما موجودہ حالات کے مطابق قدم اٹھاتا ہے، کہ کبھی حالات کے مطابق یہ وظیفہ غصب شدہ حق کے مقابلے پر صبر و تحمل و سکوت کرنے سے ادا ہوتا ہے اور کبھی یہ وظیفہ دشمن کے سامنے ڈٹ جانے سے ادا ہوتا ہے۔ ہر امام عقل ، معرفت اور بصیرت کے لحاظ سے کامل ہوتا ہے، اس لیے کن حالات میں کیسا قدم اٹھانا ہے، یہ امام کی اپنی ذاتی حکمت عملی پر منحصر ہوتا ہے۔

ابن حجر ہيثمی نے رسول خدا (ص) سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:

في كل خلف من أمتي عدول من أهل بيتي ينفون عن هذا الدين تحريف الضالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلين ألا وإن أئمتكم وفدكم إلي الله عز وجل فانظروا من توفدون .

ہر زمانے میں میرے اہل بیت میں سے عادل افراد میری امت میں موجود ہوں گے کہ جو گمراہ افراد کی تحریف ، باطل نسبتوں اور جاہلوں کی غلط تاویلوں کو دین سے دور کریں گے، آگاہ ہو جاؤ کہ تمہارے امام تم کو خداوند کے پاس لے کر جانے والے ہیں، پس غور کرنا کہ کس کو تم روانہ کرنے والے ہو، (یعنی ہر کسی کو اپنا امام تسلیم نہ کرنا)

الصواعق المحرقة علي أهل الرفض والضلال والزندقة ، أبو العباس أحمد بن محمد بن علي ابن حجر الهيثمي (متوفي973هـ) ، ج 2 ، ص 441 ، ناشر : مؤسسة الرسالة – لبنان،

امير مؤمنین علی (ع) کو اگرچہ انکے مسلّم حق اور رسول خدا (ص) کی جانشینی و خلافت سے دور کر دیا گیا اور حقیقت میں خلفاء کی طرف سے انکے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا، لیکن اسکا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ اپنے دوسرے وظائف پر عمل نہ کریں کیونکہ کبھی کبھی خلفاء کی لا علمی اور انکے غلط فیصلے سبب بنتے تھے کہ وجود اسلام خطرے میں پڑ جاتا تھا، اس حساس صورتحال میں امام علی (ع) کا دینی فریضہ تھا کہ وہ شریعت اسلامی پر کوئی آنچ نہ آنے دیں، مثلا جنگ نہاوند کے موقع پر بادشاہ ایران نے اسلام کی نابودی کے لیے بہت بڑا لشکر تیار کیا ہوا تھا اور اگر امیر المؤمنین علی (ع) کی تدبیر اور جنگی مہارت نہ ہوتی تو نہ صرف یہ کہ یقینی طور پر عمر کا سارا لشکر بلکہ اسلام جڑ سے نابود ہو جاتا۔

اس موقع پر امیر المؤمنین علی (ع) کا وظیفہ تھا کہ رسول خدا (ص) کی شہادت کے بعد نظام اسلامی اور دین اسلامی کی حفاظت کریں کیونکہ رسول خدا (ع) کے اہل بیت ہونے کے حوالے سے اس بارے میں انکا وظیفہ ہر دوسرے مسلمان سے سنگین تر اور اہم تر تھا۔

عمر کی بنائی ہوئی چھ افراد پر مشتمل شورا میں امیر المؤمنین علی (ع) نے فرمایا:

بَايَعَ النَّاسُ لأبِي بَكْرٍ وَأَنَا وَاللَّهِ أَوْلي بِالأَمْرِ مِنْهُ ، وَأَحَقُّ بِهِ مِنْهُ ، فَسَمِعْتُ وَأَطَعْتُ مَخَافَةَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ كُفَّارَاً يَضْرِبُ بَعْضُهُمْ رِقَابَ بَعْضٍ بِالسَّيْفِ ، ثُمَّ بَايَعَ النَّاسُ عُمَرَ وَأَنَا وَاللَّهِ أَوْلي بِالأَمْرِ مِنْهُ وَأَحَقُّ بِهِ مِنْهُ ، فَسَمِعْتُ وَأَطَعْتُ مَخَافَةَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ كُفَّارَاً يَضْرِبُ بَعْضُهُمْ رِقَابَ بَعْضٍ بِالسَّيْفِ .

لوگوں نے ابوبکر کی بیعت کی حالانکہ خدا کی قسم میں اس سے بیعت کے لیے مناسب تر تھا، لیکن میں نے لوگوں کے زمانہ جاہلیت و کفر کی طرف واپس پلٹنے اور مسلمانوں کی داخلی جنگ ہونے کے ڈر سے، سکوت اختیار کیا، پھر عمر کی بیعت کی گئی، حالانکہ خدا کی قسم میں اس سے بھی زیادہ اس کام کا مستحق تھا، لیکن پھر بھی قتل و غارت ہونے اور لوگوں کے دوبارہ کافر ہونے کے ڈر سے چپ رہا۔

جامع الاحاديث (الجامع الصغير وزوائده والجامع الكبير) ، الحافظ جلال الدين عبد الرحمن السيوطي (متوفي911هـ) ج 12 ص 54

تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل ، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله الشافعي (متوفي571هـ) ج 42 ، ص 434 ، ناشر : دار الفكر – بيروت،

در اصل امیر المؤمنین علی (ع) نے لوگوں کے مرتد ہونے، انکے زمانہ جاہلیت کی طرف واپس پلٹنے، ظلم و غصب کے مقابلے پر صبر و سکوت کرنے اور خلفاء سے تعاون کرنے میں سے کسی ایک کو انتخاب کرتے کہ رسول خدا (ص) کے فرمان کے مطابق اپنے حق سے چشم پوشی کرتے ہوئے، اسلام اور مسلمین کی خاطر خلفاء کے ساتھ تعاون کرنے کو ترجیح دی تا کہ اپنا حق رہے نہ رہے لیکن اسلام اور مسلمین باقی رہ جائیں، لہذا ایک مقام پر مولا علی (ع) نے فرمایا ہے کہ:

إِنَّ هَؤُلَاءِ خَيَّرُونَّا أَنْ يَظْلِمُونِي حَقِّي وَ أُبَايِعَهُمْ فَارْتَدَّ النَّاسُ حَتَّي بَلَغَتِ الرِّدَّةُ أَحَداً فَاخْتَرْتُ أَنْ أُظْلَمَ حَقِّي وَ إِنْ فَعَلُوا مَا فَعَلُوا .

اس قوم نے میرا حق غصب کرنے اور میرا انکی بیعت کرنے کا ارادہ کیا تھا، اس صورتحال سے ایک گروہ دین سے مرتد ہو گیا، پس میں نے اپنے حق پر ظلم ہوتا برداشت کر لیا اگرچہ اس قوم کا جو دل تھا، انھوں نے انجام دیا۔

بحار الأنوار ، محمد باقر مجلسي ، ج28 ، ص393 .

امام علی (ع) کا وظیفہ مظلوم کا دفاع کرنا تھا:

امیر المؤمنین علی (ع) کا ان مقدمات اور عدالتی امور میں دخالت کرنا، اس لیے تھا کہ جن میں خلفاء کی احکام اسلامی سے جہالت سبب بن سکتی تھی کہ کسی بیچارے کا حق ضائع ہو جائے اور کسی مظلوم پر حکومتی ظلم ہو جائے، در اصل ایسے مظلومین کا امیر المؤمنین علی (ع) کے سوا کوئی سہارا نہیں تھا اور اگر یہ حضرت انکے حق کا دفاع نہ کرتے تو یقینا بہت سے لوگ اپنے حقوق اور اپنی جان کو ہاتھ سے دے دیتے۔

ان حضرت نے خطبہ شقشقيہ میں عثمان کے قتل ہونے کے بعد حکومت کو قبول کرنے کی ایک دلیل، علماء کا مظلومین کے حقوق کا دفاع کرنا شمار کیا ہے:

أَمَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ لَوْ لَا حُضُورُ الْحَاضِرِ وَقِيَامُ الْحُجَّةِ بِوُجُودِ النَّاصِرِ وَمَا أَخَذَ اللَّهُ عَلَي الْعُلَمَاءِ أَنْ لَا يُقَارُّوا عَلَي كِظَّةِ ظَالِمٍ وَلَا سَغَبِ مَظْلُومٍ لَأَلْقَيْتُ حَبْلَهَا عَلَي غَارِبِهَا وَلَسَقَيْتُ آخِرَهَا بِكَأْسِ أَوَّلِهَا وَلَأَلْفَيْتُمْ دُنْيَاكُمْ هَذِهِ أَزْهَدَ عِنْدِي مِنْ عَفْطَةِ عَنْزٍ ...

اس خدا کی قسم کہ جس نے دانے میں شگاف کیا ہے اور ذی روح کو خلق کیا ہے، اگر بیعت کرنے والوں کا ہجوم حاضر نہ ہوتا اور مدد کرنے والوں کی طرف سے اگر میرے لیے اتمام حجت نہ ہوتا اور اگر خداوند علماء سے عہد نہ لیتا کہ ظالمین کے شکم سیر ہونے اور مظلوم کی بھوک پر سکوت نہ کریں تو خلافت کے اونٹ کی لگام اسکی کوہان پر رکھ دیتا اسے آزاد کر دیتا اور اس آخری خلافت کو پہلی خلافت کے برتن سے سیراب کر دیتا، پھر تم نے دیکھنا تھا کہ تمہاری یہ دنیا میرے لیے بکری کی ناک سے نکلنے والے ریشے سے بھی زیادہ حقیر و پست ہے۔

مطلب مزید واضح ہونے کے لیے امیر المؤمنین علی (ع) کا عدالتی مقدمات میں دخالت کے ایک نمونے کو ذکر کرتے ہیں:

حدثنا عُثْمَانُ بن أبي شَيْبَةَ ثنا جَرِيرٌ عن الْأَعْمَشِ عن أبي ظَبْيَانَ عن بن عَبَّاسٍ قال أُتِيَ عُمَرُ بِمَجْنُونَةٍ قد زَنَتْ فَاسْتَشَارَ فيها أُنَاسًا فَأَمَرَ بها عُمَرُ أَنْ تُرْجَمَ فمر بها علي عَلِيِّ بن أبي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عليه فقال ما شَأْنُ هذه قالوا مَجْنُونَةُ بَنِي فُلَانٍ زَنَتْ فَأَمَرَ بها عُمَرُ أَنْ تُرْجَمَ قال فقال ارْجِعُوا بها ثُمَّ أَتَاهُ فقال يا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْقَلَمَ قد رُفِعَ عن ثَلَاثَةٍ عن الْمَجْنُونِ حتي يَبْرَأَ وَعَنْ النَّائِمِ حتي يَسْتَيْقِظَ وَعَنْ الصَّبِيِّ حتي يَعْقِلَ قال بَلَي قال فما بَالُ هذه تُرْجَمُ قال لَا شَيْءَ قال فَأَرْسِلْهَا قال فَأَرْسَلَهَا قال فَجَعَلَ يُكَبِّرُ .

ابن عباس کہتا ہے زنا کرنے والی ایک پاگل عورت کو عمر کے پاس لایا گیا، اس نے چند افراد سے مشورہ کر کے حکم دیا کہ اس عورت کو سنگسار کر کے قتل کر دیا جائے۔ جب اسکو حد جاری کرنے کے لیے لے کر جا رہے تھے تو راستے میں علی آتے ہوئے دکھائی دئیے تو انھوں نے فرمایا:

اس عورت نے کیا جرم کیا ہے ؟ کہا گیا: یہ فلاں قبیلے کی پاگل عورت ہے اور اس نے زنا کیا ہے اور اب عمر نے اسکے سنگسار کرنے کا حکم دیا ہے۔ علی (ع) نے فرمایا: اسکو واپس لے جاؤ، پھر وہ عمر کے پاس آئے اور فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ تین افراد مکلف نہیں ہیں:

1- پاگل کہ جب تک صحیح نہ ہو جائے،

2- سویا ہوا انسان کہ جب تک بیدار نہ ہو جائے،

3- بچہ کہ جب تک بالغ نہ ہو جائے،

عمر نے کہا: ہاں یہ میں نے بھی سنا ہے، مولا نے فرمایا: اگر سنا ہے تو اس عورت کو آزاد کر دو، عمر نے اسکو آزاد کر دیا اور بلند بلند آواز سے تکبیر کہنا شروع کر دیا۔

سنن أبي داود ، سليمان بن الأشعث أبو داود السجستاني الأزدي (متوفي275هـ) ج 4 ، ص 140 ، ح 4399 ، كِتَاب الْحُدُودِ ، بَاب في الْمَجْنُونِ يَسْرِقُ أو يُصِيبُ حَدًّا ، ناشر : دار الفكر ، تحقيق : محمد محيي الدين عبد الحميد .

قابل توجہ ہے کہ بخاری نے بھی اسی روایت کو نقل کیا ہے، لیکن اس ناصبی نے ہمیشہ کی طرح حدیث کو اول و آخر سے کاٹ کر صرف اس حصے کو ذکر کیا ہے:

وقال عَلِيٌّ لِعُمَرَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْقَلَمَ رُفِعَ عن الْمَجْنُونِ حتي يُفِيقَ وَعَنْ الصَّبِيِّ حتي يُدْرِكَ وَعَنْ النَّائِمِ حتي يَسْتَيْقِظَ .

صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل أبو عبد الله البخاري الجعفي (متوفي256 هـ) ج 6 ، ص 2499 ، بَاب لَا يُرْجَمُ الْمَجْنُونُ وَالْمَجْنُونَةُ ، ناشر : دار ابن كثير , اليمامة – بيروت،

اور ابن عبد البر نے صحيح سند کے ساتھ لکھا ہے:

يحيي بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال كان عمر يتعوذ بالله من معضلة ليس لها أبو الحسن وقال في المجنونة التي أمر برجمها وفي التي وضعت لستة أشهر فأراد عمر رجمها فقال له علي إن الله تعالي يقول وحمله وفصاله ثلاثون شهرا الحديث وقال له إن الله رفع القلم عن المجنون الحديث فكان عمر يقول لولا علي لهلك عمر .

عمر ہمیشہ خدا کی پناہ مانگتا تھا کہ ایک علمی مشکل پیش آ جائے اور اسکو حل کرنے کے لیے مولا علی موجود نہ ہوں، ان موارد میں سے ایک پاگل عورت تھی کہ عمر نے اسکو سنگسار کرنے کا حکم دیا تھا اور ایک دوسری تھی کہ جس نے چھ ماہ کے بچے کو جنم دیا تھا اور عمر اس پر بھی حد جاری کرنا چاہتا تھا، علی نے فرمایا:

خداوند نے فرمایا ہے: حمل اور دورھ پلانے کی کل مدت تیس مہینے ہے۔ پھر مولا نے فرمایا: خداوند نے پاگل سے تکلیف کو اٹھا دیا ہے، ایسے موارد میں ہی عمر کہا کرتا تھا:

اگر علی نہ ہوتے تو میں عمر ہلاک ہو جاتا۔

الاستيعاب في معرفة الأصحاب ، يوسف بن عبد الله بن محمد بن عبد البر (متوفي463 هـ) ج 3 ، ص 1103 ، ناشر : دار الجيل - بيروت  .

ایسے موارد واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ امت اسلامی میں احکام الہی کو زندہ کرنے میں امیر المؤمنین علی (ع) کا کردار ایک کلیدی اور بنیادی کردار تھا اور اسکے علاوہ آپ مظلومین اور مساکین کو انکے حقوق دلانے کی ایک مطمئن پناہگاہ تھے۔

سمعانی کی نقل کے مطابق اسی واقعے کی طرح کا ایک واقعہ عثمان کے دور میں بھی پیش آیا تھا کہ اگر امیر المؤمنین علی (ع) بر وقت دخالت نہ کرتے تو ایک مؤمنہ عورت شکم میں اپنے بچے سمیت عثمان کی احکام اسلامی سے جہالت کی نذر ہو جاتی۔

أن امرأة أتت بولد لستة أشهر من وقت النكاح ، فجاء زوجها إلي عثمان في ذلك . فهم عثمان رضي الله عنه برجمها ، فقال علي : لا سبيل لك عليها ؛ لأن الله تعالي يقول : «وحمله وفصاله ثلاثون شهرا» وقال : «والوالدات يرضعن أولادهن حولين كاملين» فإذا ذهب الفصال حولين ، بقي للحمل ستة أشهر ، فتركها عثمان .

ایک عورت نے چھ ماہ کے بچے کو جنم دیا، اسکا شوہر عثمان کے پاس گیا اور سارا واقعہ اسکو بتا دیا، عثمان نے اس عورت پر حد جاری کرنے کا ارادہ کیا، علی (ع) نے عثمان سے فرمایا: تمہیں اس عورت پر حد جاری کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ خداوند نے فرمایا ہے: حمل اور دورھ پلانے کی کل مدت تیس مہینے ہے۔

اور مزید فرمایا ہے: مائیں اپنے بچوں کو دو سال مکمل دودھ پلائیں اور جب دودھ پلانے کی مدت دو سال، تیس ماہ سے کم کی جائے تو حمل کی مدت چھ ماہ باقی بچتی ہے، عثمان نے امیر المؤمنین علی (ع) سے اس بات کو سننے کے بعد اس عورت کو چھوڑ دیا۔

تفسير القرآن ، أبو المظفر منصور بن محمد بن عبد الجبار السمعاني (متوفي489هـ) ج 1 ، ص 236 ، ناشر : دار الوطن – الرياض،

احکام الہی سے مکمل آگاہی باعث بنتی تھی کہ امیر المؤمنین علی (ع) ایسے موارد میں چپ نہ رہیں اور باطل حد جاری ہونے والے موارد میں مانع ہو جائیں کیونکہ وہ اپنا دینی اور اخلاقی فریضہ سمجھتے تھے کہ افراد کے حقوق، انکی حفظ آبرو اور معاشرتی لحاظ سے لا پرواہ نہ رہیں، جیسا کہ ایک یہودی عورت کے پاؤں سے پازیب اتارے جانے پر فرمایا تھا کہ اس غم سے اگر ایک غیرت مند انسان مر جائے تو وہ حق کی موت مرا ہے۔

وَ لَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ الرَّجُلَ مِنْهُمْ كَانَ يَدْخُلُ عَلَي الْمَرْأَةِ الْمُسْلِمَةِ وَ الْأُخْرَي الْمُعَاهِدَةِ فَيَنْتَزِعُ حِجْلَهَا وَ قُلْبَهَا وَ قَلَائِدَهَا وَ رِعَاثَهَا مَا تَمْتَنِعُ مِنْهُ إِلَّا بِالِاسْتِرْجَاعِ وَ الِاسْتِرْحَامِ ثُمَّ انْصَرَفُوا وَافِرِينَ مَا نَالَ رَجُلًا مِنْهُمْ كَلْمٌ وَ لَا أُرِيقَ لَهُمْ دَمٌ فَلَوْ أَنَّ امْرَأً مُسْلِماً مَاتَ مِنْ بَعْدِ هَذَا أَسَفاً مَا كَانَ بِهِ مَلُوماً بَلْ كَانَ بِهِ عِنْدِي جَدِيراً .

مجھے خبر ملی ہے کہ لشکر شام کا ایک شخص مسلمان عورت اور اسلامی حکومت کی پناہ میں موجود ایک غیر مسلم عورت کے گھر میں داخل ہوا ہے اور ان عورتوں کے پازیب، چوڑیاں، گلے کے ہار اور کانوں کی بالیاں لوٹ کر لے گیا ہے، حالانکہ ان عورتوں کے پاس اپنے دفاع میں رونے اور فریاد کرنے کے سوا کچھ نہ تھا !

خطبه 27 نهج البلاغه ، فيض الإسلام .

معاویہ (لع) کا لشکر شام بہت سی غنیمت لے کر واپس چلا گیا اور انکا ایک بندہ بھی زخمی نہیں ہوا تھا، اگر عورتوں والے اس غم ناک واقعے پر ایک غیرت مند مسلمان غم سے مر جائے تو اسکی ملامت نہیں کی جائے گی۔

مرجعيّت علمی امام امير المؤمنين علی (ع):

مولا علی (ع) نے جس علم کو زبان وحی سے اور خداوند کے خاص فضل سے حاصل کیا تھا، اس علم کی بنیاد پر انکا وظیفہ تھا کہ وہ لوگوں کے علمی سوالات کے جواب اور علمی مسائل کو حل کریں، اسی وجہ سے مسلمان اور غیر مسلمان انکو اپنے لیے علمی پناہگاہ سمجھتے تھے اور جس موضوع اور مسئلے میں وہ ضرورت سمجھتے تھے، اس شہر علم کے دروازے کی طرف رجوع کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات امیر المؤمنین علی (ع) کا جو خلفاء کے ساتھ تعاون سجمھا جاتا ہے، وہ ان علمی مسائل میں تھا کہ جنکے سمجھنے سے خلفاء کلی طور پر عاجز تھے اور سیاسی طور پر نہ چاہتے ہوئے بھی رسول خدا (ص) کے شہر علم کے دروازے پر جھکنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ ایسے موارد میں امام معصوم اور انکے شاگردان کا فرض ہے کہ وہ اپنے علم سے دوسروں کی علمی و معرفتی مشکلات کو حل کریں، کیونکہ مولا علی (ع) نے اپنے استاد رسول خدا (ص) کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ:

فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ الله بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لك من أَنْ يَكُونَ لك حُمْرُ النَّعَمِ

خدا کی قسم اگر خداوند تیرے ذریعے سے ایک بندے کی بھی سیدھے راستے پر ہدایت کر دے تو یہ تیرے لیے سرخ بالوں والے انتہا‏ئی قیمتی اونٹوں سے بھی زیادہ بہتر ہے۔

صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله البخاري الجعفي (متوفي256 هـ) ج 3 ص 1357 ، ح 3498 ، بَاب مَنَاقِبِ عَلِيِّ بن أبي طَالِبٍ ، ناشر : دار ابن كثير ، اليمامة – بيروت،

ابن عبد البر قرطبی نے امير مؤمنین علی (ع) سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:

وقال علي رضي الله عنه يؤخذ علي الجاهل عهد بطلب العلم حتي أخذ علي العلماء عهد ببذل العلم للجهال .

خداوند نے جاہل افراد سے علم کے سیکھنے کا اور علماء سے علم کے سیکھانے کا عہد و پیمان لیا ہے۔

جامع بيان العلم وفضله ، يوسف بن عبد البر النمري (متوفي463 هـ) ج 1 ، ص 122 ، ناشر : دار الكتب العلمية - بيروت .

دوسری روایت میں ہے:

عن أبي هريرة أن رسول الله صلي الله عليه وسلم قال مثل الذي يتعلم العلم لا يحدث به الناس كمثل الذي رزقه الله مالا لاينفق منه .

رسول خدا (ص) جو شخص علم تو حاصل کرے لیکن اس علم کو دوسروں کو نہ بتائے تو وہ ایسے شخص کی مانند ہے کہ جسکے پاس مال تو ہے لیکن وہ اسے راہ خدا میں خرچ نہ کرے۔

جامع بيان العلم وفضله ، ابن عبد البر ، ج 1 ص 122 .

ابن حجر ہيثمی نے کتاب الصواعق المحرقہ میں لکھا ہے:

ولقد قال له «أنت مني بمنزلة هارون من موسي إلا أنه لا نبي بعدي » وكان عمر إذا أشكل عليه شيء أخذ منه ... ولقد كان عمر يسأله ويأخذ عنه ولقد شهدته إذا أشكل عليه شيء قال ههنا علي .

رسول خدا (ص) نے علی (ع) سے فرمایا: تیری مجھ سے وہی نسبت ہے کہ جو ہارون کو موسی سے تھی، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، عمر کے لیے جب بھی کوئی مشکل پیش آتی تو وہ علی (ع) سے مدد لیتا تھا۔۔۔۔۔ عمر علی (ع) سے پوچھا کرتا تھا اور ان سے علم سیکھا کرتا تھا، اور میں مشاہدہ کیا کرتا تھا کہ جب بھی عمر کے لیے کوئی مشکل پیش آتی تو کہتا ( غم کی کوئی بات نہیں) علی یہاں موجود ہیں۔

الصواعق المحرقة علي أهل الرفض والضلال والزندقة ، أبو العباس أحمد بن محمد بن علي ابن حجر الهيثمي (متوفاي973هـ )، دار النشر : مؤسسة الرسالة - لبنان -

اہل سنت کے بزرگ عالم مناوی نے کتاب فيض القدير میں لکھا ہے:

أنا مدينة العلم وعلي بابها فمن أراد العلم فليأت الباب » فإن المصطفي المدينة الجامعة لمعاني الديانات كلها أو لا بد للمدينة من باب فأخبر أن بابها هو علي كرم الله وجهه فمن أخذ طريقه دخل المدينة ومن أخطأه أخطأ طريق الهدي وقد شهد له بالأعلمية الموافق والمخالف والمعادي والمحالف .

خرج الكلاباذي أن رجلا سأل معاوية عن مسألة فقال : سل عليا هو أعلم مني فقال : أريد جوابك قال : ويحك كرهت رجلا كان رسول الله يعزه بالعلم عزا وقد كان أكابر الصحب يعترفون له بذلك وكان عمر يسأله عما أشكل عليه جاءه رجل فسأله فقال : ههنا علي فاسأله فقال : أريد أسمع منك يا أمير المؤمنين قال قم لا أقام الله رجليك ومحي اسمه من الديوان .

رسول خدا (ص) نے فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی اسکا دروازہ ہیں اور جو بھی طالب علم ہو تو اسے دروازے پر آنا چاہیے۔ رسول خدا (ص) معارف دینی کا مرکز و سرچشمہ ہیں کہ ان معارف کو حاصل کرنے کے لیے اسکے مخصوص دروازے سے داخل ہونا چاہیے اور خود رسول خدا نے واضح بتایا ہے کہ وہ دروازہ، علی ہیں اور جو بھی اس دروازے کو گم کر دے گا تو اس نے ہدایت کے راستے کو گم کر دیا ہے، دوست اور دشمن نے علی کی علمی برتری اور افضلیت کی گواہی دی ہے۔

كلابذی نے نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے معاویہ سے علمی سوال کیا تو معاویہ نے کہا جاؤ جا کر علی سے پوچھو اسکا علم مجھ سے زیادہ ہے، اس شخص نے کہا: میں تم سے جواب سننا چاہتا ہوں، معاویہ نے کہا: چپ ہو جاؤ کیا تم اس انسان کو پسند نہیں کرتے کہ رسول خدا نے جسکو علم سے عزت بخشی ہے اور بزرگ صحابہ بھی اس بات کا اعتراف کیا کرتے تھے اور جب بھی کوئی عمر سے علمی سوال کرتا تو وہ کہتا تھا: علی یہاں ہیں، ان سے پوچھو، (چاپلوسی کی غرض سے) جب سوال کرنے والا اصرار کرتا کہ میں اپنا جواب خلیفہ سے ہی سننا چاہتا ہوں تو عمر اسے کہتا:

چلے جاؤ یہاں سے، خدا تیرے پاؤں کو ضعیف اور کمزور کرے اور پھر غصے سے ایسے شخص کا نام بیت المال لینے والوں کی لسٹ سے مٹا دیتا تھا۔

فيض القدير شرح الجامع الصغير ، عبد الرؤوف المناوي (متوفي1031 هـ) ، ج 3 ص 46 ، ناشر : المكتبة التجارية الكبري – مصر،

لہذا امیر المؤمنین علی (ع) کے لوگوں کو علمی جواب دینے کو انکا خلفاء سے تعاون شمار نہیں کیا جا سکتا اور نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ان خلفاء اور انکی حکومت سے راضی تھے۔

امیر المؤمنین علی (ع) اسلام کا دفاع کرتے تھے، نہ کہ خلفاء کا:

امیر المؤمنین علی (ع) کا خلفاء کے ساتھ ان دفاعی، جنگی، سیاسی، عدالتی اور علمی مسائل میں مشورے اور تعاون کرنا، منحصر ہے کہ اگر امیر المؤمنین علی (ع) ان امور میں مستقیم طور پر دخالت نہ کرتے تو خلفاء کی بے تدبیری اور ان امور سے عدم آگاہی وجود اسلام اور مسلمین کو خطرے میں ڈال دیتی، لہذا امیر المؤمنین علی (ع) کے اسطرح کے مشوروں اور تعاون کو خلفاء کا دفاع اور انکی حکومت سے راضی ہونا شمار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ حضرت در اصل اسلام کی ترقی کی راہ میں رسول خدا (ص) اور اپنی تحمل کی گئی زحمات اور مشقات کی حفاظت کر رہے تھے، ورنہ ان حضرت کے خطبات اور بیانات سے واضح طور پر سمجھا جا سکتا ہے کہ انکی خود خلفاء اور انکی غاصبانہ حکومتوں کے بارے میں کیا رائے تھی۔

مطلب کو مزید اچھے طریقے سے سمجھنے کے لیے ایک واقعے کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ امیر المؤمنین علی (ع) نے کیسے اپنی دور اندیشی اور حکمت عملی سے اسلام کو مکمل طور پر نابود ہونے سے نجات دی تھی:

جنگ نہاوند اسلام کے ابتدائی ایام کی خطر ناک ترین جنگ تھی، کیونکہ ایرانیوں کے شکست کھائے ہوئے لشکر نے اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے پورے ایران سے ڈیڑھ لاکھ افراد پر مشتمل لشکر تشکیل دیا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ نہ صرف مسلمانوں کو کوفہ میں شکست دیں بلکہ تمام ممالک اسلامی پر قبضہ کر کے اسلام کو مکمل طور پر نابود کر دیں۔

ابن اثير جزری نے اس جنگ میں ایرانیوں کے لشکر کی تعداد کے بارے میں لکھا ہے کہ:

وأما الوقعة [اي واقعة النهاوند] فهي زمن عبد الله فنفرت الأعاجم بكتاب يزدجرد فاجتمعوا بنهاوند علي الفيرزان في خمسين ألفا ومائة ألف مقاتل ...

نہاوند کی جنگ کا واقعہ ایرانیوں کی شکست کے بعد رونما ہوا تھا کہ نہاوند کے مقام پر فیروز کی کمانڈ میں ڈیڑھ لاکھ کا لشکر جمع ہو گیا۔

الكامل في التاريخ ، أبو الحسن علي بن أبي الكرم محمد بن محمد بن عبد الكريم الشيباني (متوفي630هـ) ج 2 ، ص 412 ، ناشر : دار الكتب العلمية – بيروت،

اس جنگ کی حساسیت اور اس جنگ میں مسلمانوں کی کامیابی یا شکست کی اہمیت کو جاننے کے لیے ابن اعثم کی کتاب الفتوح سے عمار یاسر کے خط کو ملاحظہ فرمائیں کہ جو اس نے عمر کو لکھا تھا:

عمار ياسر نے ایسے لکھا ہے:

أما بعد ... أن أهل الري وسمنان وساوه وهمذان ونهاوند وأصفهان وقم وقاشان وراوند واسفندهان وفارس وكرمان وضواحي أذربيجان قد اجتمعوا بأرض نهاوند في خمسين ومائة ألف من فارس وراجل من الكفار ، وقد كانوا أمروا عليهم أربعة من ملوك الأعاجم منهم ذو الحاجب خرزاد بن هرمز وسنفاد بن حشروا وخهانيل بن فيروز وشروميان بن اسفنديار ، وأنهم قد تعاهدوا وتعاقدوا وتحالفوا وتكاتبوا وتواصوا وتواثقوا علي أنهم يخرجوننا من أرضنا ويأتونكم من بعدنا ، وهم جمع عتيد وبأس شديد ودواب فره وسلاح شاك ويد الله فوق أيديهم ،فإني أخبرك يا أمير المؤمنين أنهم قد قتلوا كل من كان منا في مدنهم ، وقد تقاربوا مما كنا فتحناه من أرضهم ، وقد عزموا أن يقصدوا المدائن ويصيروا منها إلي الكوفة ، وقد والله هالنا ذلك وما أتانا من أمرهم وخبرهم ، وكتبت هذا الكتاب إلي أمير المؤمنين ليكون هو الذي يرشدنا وعلي الأمور يدلنا ، والله الموفق الصانع بحول وقوته ، وهو حسبنا ونعم الوكيل ، فرأي أمير المؤمنين أسعده الله فيما كتبته والسلام .

شہر رے ، سمنان ، ساوه ، ہمدان ، اصفہان ، قم ، كاشان ، راوند ، فارس ، كرمان اور اطراف آذربايجان کے لوگ سرزمین نہاوند پر ڈیڑھ لاکھ افراد پر مشتمل سوار اور پیدل لشکر چار بادشاہوں، با ارادہ جنگجوؤں، مکمل جنگی اسلحہ سے لیس اور طاقتور سواریوں کے ساتھ جمع ہو گئے اور سب نے آپس میں قسم کھائی اور وعدہ کیا تا کہ وہ ہمیں (مسلمانوں کو) اپنی سرزمین سے باہر نکالیں، حالانکہ خداوند کا ہاتھ تمام ہاتھوں سے بالا تر ہے۔

اے عمر میں تم کو خبر دیتا ہوں کہ انھوں نے ہمارے تمام دوستوں کو انکے شہروں میں قتل کر دیا ہے اور جن علاقوں کو ہم نے فتح کر کے آزاد کیا تھا، وہ اب ان علاقوں کے نزدیک پہنچ گئے ہیں اور انکا ارادہ ہے کہ کوفہ تک ہمارے شہروں پر ایک ایک کر کے قبضہ کر لیں۔ خدا کی قسم ہمیں انکی اس حالت سے ڈر لگ رہا ہے، میں (عمار یاسر) تم کو یہ خط لکھ رہا ہوں تا کہ تم خود کوئی فیصلہ کر کے ہماری راہنمائی کرو۔

عمر کو جب یہ خط ملا تو دشمن کے خوف سے ایسے اس پر لرزہ طاری ہوا کہ اسکے اطراف میں بیٹھے ہوئے افراد نے اسکے دانتوں کے آپس میں ٹکرانے کی آواز کو سنا۔

ابن اعثم نے مزید لکھا ہے کہ:

فلما ورد الكتاب علي عمر بن الخطاب رضي الله عنه وقرأه وفهم ما فيه وقعت عليه الرعدة والنفضة حتي سمع المسلمون أطيط أضراسه ، ثم قام عن موضعه حتي دخل المسجد وجعل ينادي : أين المهاجرون والأنصار ؟ ألا ! فاجتمعوا رحمكم الله وأعينوني أعانكم الله .

ثم قال : أيها الناس ! هذا يوم غم وحزن فاستمعوا ما ورد علي من العراق ، فقالوا : وما ذاك يا أمير المؤمنين ؟ فقال : إن الفرس أمم مختلفة أسماؤها وملوكها وأهواؤها وقد نفخهم الشيطان نفخة فتحزبوا علينا وقتلوا من في أرضهم من رجالنا ، وهذا كتاب عمار بن ياسر من الكوفة يخبرني بأنهم قد اجتمعوا بأرض نهاوند في خمسين ومائة ألف وقد سربوا عسكرهم إلي حلوان وخانقين وجلولاء ، وليست لهم همة إلا المدائن والكوفة ، ولئن وصلوا إلي ذلكفإنها بلية علي الاسلام وثلمة لا تسد أبدا ، وهذا يوم له ما بعده من الأيام ، فالله الله يا معشر المسلمين ! أشيروا علي رحمكم الله .

جب یہ خط عمر نے پڑھا تو خوف سے اسکے بدن پر لرزہ طاری ہو گیا اور مسلمانوں نے اسکے دانتوں کے آپس میں بجنے کی آواز کو سنا، پھر عمر اپنی جگہ سے اٹھا اور مسجد میں جا کر چیخ کر بولا:

اے مہاجرین و انصار تم سب کہاں ہو ؟ سب جمع ہو جاؤ، تم پر خدا کی رحمت ہو میری مدد کرو کہ خدا بھی تم کی مدد کرے۔

پھر عمر نے کہا: اے لوگو ! آج غم کا دن ہے، سنو کہ عراق سے کیا خبر آئی ہے، سب نے پوچھا: کیا ہوا ہے ؟ عمر نے کہا: ایران کے تمام لوگ آپس میں جدا جدا تھے، لیکن اب شیطان نے انہیں اکٹھا کر دیا ہے اور انھوں نے ہمارے دوستوں کو شہروں میں قتل کر دیا ہے، یہ عمار یاسر کا خط ہے کہ جو اس نے کوفہ سے لکھا ہے، ڈیڑھ لاکھ افراد نہاوند کے مقام پر جمع ہو گئے ہیں اور ان میں سے بعض تو شہر حلوان، خانقین اور جلولاء تک آن پہنچے ہیں اور انکا اصل مقصد شہر مدائن اور کوفہ پر قبضہ کرنا ہے، اگر وہ ان دو شہروں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اسلام پر ایسی مصیبت آن پڑے گی کہ جسکا کبھی بھی جبران نہیں کیا جا سکے گا۔ تم کو خدا کا واسطہ ہے کہ مجھے مشورہ دو کہ میں کیا کروں ؟

عمر کے پاس بیٹھے طلحہ ابن عبيد الله ، زبير ابن عوام ، عبد الرحمن ابن عوف وغیرہ نے عمر کو وہی رسمی ہمت دلائی اور حوصلہ دیا کیونکہ انکے پاس ایسا کوئی عملی اور مفید مشورہ نہیں تھا کہ جو عمر کو بتاتے، عمر نے جب انکی باتوں کو سنا تو اسکا لرزہ مزید زیادہ ہو گیا اور اس نے کہا:

أريد غير هذا الرأي .

مجھے انکے علاوہ کوئی دوسرا مشورہ چاہیے۔۔۔

یہاں تک کہ عثمان ابن عفان نے مشورہ دیا کہ عمر خود تمام مہاجرین و انصار کے ساتھ جائے اور لشکر ایران کو شکست دے کر آئے۔

وأنا أشير عليك أن تسير أنت بنفسك إلي هؤلاء الفجار بجميع من معك من المهاجرين والأنصار فتحصد شوكتهم وتستأصل جرثومتهم ... تكتب إلي أهل الشام فيقبلوا عليك من شامهم ، وإلي أهل اليمن فيقبلوا إليك من يمنهم ، ثم تسير بأهل الحرمين مكة والمدينة إلي أهل المصرين البصرة والكوفة ، فتكون في جمع كثير وجيش كبير ، فتلقي عدوك بالحد والحديد والخيل والجنود ...

عثمان نے عمر سے کہا: تم خود مہاجرین و انصار کے ساتھ انکی شان و شوکت کو خاک میں ملانے کے لیے، انکی طرف پیشقدمی کرو۔۔۔۔۔ شام کے لوگوں کو بھی خط لکھو کہ وہ بھی تمہاری مدد کے لیے حرکت کریں، یمن کے لوگوں کو خط لکھو کہ وہ یمن سے حرکت کریں، پھر مکہ و مدینہ کے لوگوں کے ساتھ مل کر کوفہ اور بصرہ پہنچ جاؤ، ایسے دشمن سے جنگ کے لیے بہت بڑا لشکر تیار ہو جائے گا۔

عثمان کے مشورے کے باوجود بھی عمر کے دل کو چین نہ آیا تو آخر میں مجبور ہو کر امت اسلامی کے مشکل گشا کے دامن سے تمسک کرتے ہوئے کہا:

يا أبا الحسن ! لم لا تشير بشيء كما أشار غيرك ؟

اے ابو الحسن ! دوسروں کی طرح آپ کیوں کوئی رائے نہیں دے رہے ؟

علی (ع) نے اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے ہمیشہ کی طرح اسلام کی عزت اور نجات کے لیے عمر کو ضروری مشورے دئیے:

إن كتبت إلي الشام أن يقبلوا إليك من شامهم لم تأمن من أن يأتي هرقل في جميع النصرانية فيغير علي بلادهم ويهدم مساجدهم ويقتل رجالهم ويأخذ أموالهم ويسبي نساءهم وذريتهم ، وإن كتبت إلي أهل اليمن أن يقبلوا من يمنهم أغارت الحبشة أيضا علي ديارهم ونسائهم وأموالهم وأولادهم۔

وإن سرت بنفسك مع أهل مكة والمدينة إلي أهل البصرة والكوفة ثم قصدت بهم قصد عدوك انتقضت عليك الأرض من أقطارها وأطرافها ، حتي إنك تريد بأن يكون من خلفته وراءك أهم إليك مما تريد أن تقصده ، ولا يكون للمسلمين كانفة تكنفهم ولا كهف يلجؤون إليه ، وليس بعدك مرجع ولا موئل إذ كنت أنت الغاية والمفزع والملجأ ، فأقم بالمدينة ولا تبرحها فإنه أهيب لك في عدوك وأرعب لقلوبهم ، فإنك متي غزوت الأعاجم بنفسك يقول بعضهم لبعض : إن ملك العرب قد غزانا بنفسه لقلة أتباعه وأنصاره ، فيكون ذلك أشد لكلبهم عليك وعلي المسلمين ، فأقم بمكانك الذي أنت فيه وابعث من يكفيك هذا الامر والسلام .

اگر شام کے لوگوں کو خط لکھو گے تو وہ تمہاری مدد کے لیے شام سے نکلیں گے تو اس سے اس بات کا خطرہ ہے کہ نصرانی ہرقل کی سالاری میں سرزمین شام پر حملہ کر کے وہاں کی مساجد کو منہدم، مردوں کو قتل، اموال کو غارت اور عورتوں کو قید کر لیں گے،

 اور اگر اہل یمن کو خط لکھ کے مدد کے لیے بلاؤ گے تو وہ حبشہ کے لوگوں سے محفوظ نہیں ہوں گے کہ وہ انکی سرزمین پر حملہ آور ہوں گے اور انکے اموال کو غارت، انکی عورتوں کو قید اور انکے بچوں کو قتل کر دیں گے۔

اور اگر خود تم مکہ اور مدینہ کے لوگوں کے ساتھ بصرہ اور کوفہ کی طرف حرکت کرو گے تا کہ دشمن تک پہنچ سکو تو تمہارے بعد مسلمانوں کے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں ہو گی کہ جسکا وہ سہارا لیں، پس تم خود مدینہ میں ہی رہو کہ اس سے دشمن کے دل میں وحشت اور خوف زیادہ ہو جائے گا کیونکہ اگر خود تم ایرانیوں سے جنگ کے لیے جاؤ گے تو وہ کہیں گے کہ عربوں کا راہبر تنہا رہ گیا ہے اور اسکے لشکر کی تعداد کم رہ گئی ہے تو اس سے وہ زیادہ جوش کے ساتھ لشکر اسلام سے جنگ کریں گے، پس اپنے لشکر کو دشمن کی طرف بھیجو اور خود یہاں ہی رہو۔

كتاب الفتوح ، العلامة أبي محمد أحمد بن أعثم الكوفي (متوفي314 هـ) ، ج 2 ص290 ـ 295 ، ناشر : دار الأضواء للطباعة والنشر والتوزيع ،

اگر امير المؤمنین علی (ع) اس جیسے اہم مسئلے میں دخالت اور راہنمائی نہ کرتے تو اسلام اور مسلمین کے سروں پر کیا کیا مصائب نازل ہونے تھے ؟!

یہاں پر کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ امیر المؤمنین علی (ع) نے عمر کا دفاع اور اسکی خیر خواہی کی ہے ؟!

کیا ایسے مشورے دینے اور راہنمائی کرنے سے ان حضرت کے خلفاء کی حکومت سے راضی ہونے کو ثابت کیا جا سکتا ہے ؟!

مولا علی (ع) کیوں فتوحات میں شرکت نہیں کرتے تھے ؟

امير المؤمنین علی (ع) کہ جو اپنی شجاعت، بہادری، جانثاری کی وجہ سے عرب جیسے معاشرے میں شیر خدا کے لقب سے جانے جاتے تھے، جو صاحب ذوالفقار تھے اور جو رسول خدا (ص) کے زمانے میں ہر جنگ میں پیش پیش تھے، آج بھی جنگ احد، خندق، خبیر، بدر وغیرہ انہی کے نام سے جانی جاتی ہیں، جس نے عرب کے بڑے بڑے نامور بہادروں کی ناک خاک پر رگڑ دی جیسا کہ وہ خود فرماتے ہیں:

وَ هَلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَشَدُّ لَهَا مِرَاساً ، وَأَقْدَمُ فِيهَا مَقَاماً مِنِّي ! لَقَدْ نَهَضْتُ فِيهَا وَمَا بَلَغْتُ الْعِشْرِينَ .

کیا قریش میں سے کوئی بھی میری طرح کا جنگی تجربہ رکھتا ہے ؟ اور کیا جنگ میں کوئی مجھ سے سبقت لے سکتا تھا ؟ میں تو ابھی 20 سال کا بھی نہیں ہوا تھا کہ جب میں میدان جنگ میں ہمیشہ حاضر ہوتا تھا۔

نهج البلاغه ، خطبه 27 .

عمر ابن خطّاب ہمیشہ اعتراف کرتا تھا کہ:

واللّه لولا سيفه لما قام عمود الإسلام .

خدا کی قسم اگر علی کی تلوار نہ ہوتی تو اسلام کبھی بھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا تھا۔

ابن أبي الحديد، شرح نهج البلاغه، ج 12، ص 82 .

امیر المؤمنین علی (ع) کی ان شجاعانہ صفات کے پیش نظر ان حضرت کے میدان جنگ سے دور رہنے کو خلفاء تحمل نہیں کر سکتے تھے، کیونکہ ان حضرت کا فتوحات میں شرکت نہ کرنا، مسلمانوں کے اذہان میں یہ سوال ایجاد کر سکتا تھا کہ علی ابن ابی طالب (ع) صدر اسلام کی جنگوں میں بہادری کے اتنے جوہر دکھانے کے باوجود اب اسلام کی سرزمین کفر و شرک میں پیشقدمی کے وقت کیوں فتوحات سے دور اور غائب ہیں ؟!

آخر کار ایسا کیا ہوا ہے اور کونسی چیز باعث بنی ہے کہ امیر المؤمنین علی (ع) کسی بھی جنگ میں شرکت نہیں کر رہے ؟

کیا وہ مشرکین کے ساتھ جہاد کو واجب نہیں جانتے تھے ؟! اور کیا وہ خلفاء کی خلافت کو قانونی نہیں مانتے تھے اور ان جنگوں کو بدعت جانتے تھے ؟ یا یہ کہ فتوحات (تلوار کے ساتھ) کے نام پر نشر اسلام کو معقول کام نہیں جانتے ؟ اور کیا وہ نہیں چاہتے کہ آنے والی انسانیت دین اسلام، کہ جو دین رحمت و محبت ہے، کو ایک خونخوار و بے رحم دین کے طور پر جانیں اور دین کے خلاف عمل کرنے اور خلفاء کی عقل کے مطابق کاموں کو اسلام کے نام پر دینی و شرعی شمار کریں ؟

خلفاء نے کتنی مرتبہ امیر المؤمنین علی (ع) سے مشورہ و مدد مانگی تھی:

خلفاء کا امیر المؤمنین علی (ع) سے مشورہ کرنے اور پیچیدہ علمی مسائل حل کرنے کی درخواست کرنے کی تعداد کو دیکھتے ہوئے پہلی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ خلفاء علمی لحاظ اور حکومت کرنے کے تجربے سے کتنے جاہل تھے اور دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ امیر المؤمنین علی (ع) سے اتنی کم تعداد میں مشورے کرنا، اس بات کی علامت ہے کہ ان حضرت کا رابطہ حکومت سے کتنا کم اور وہ حکومتی امور سے کتنے دور تھے !

محقق معاصر شيخ نجم الدين عسكری نے كتاب «علي والخلفاء» میں لکھا ہے:

ابوبكر نے اپنی خلافت کے 2 سال و 3 ماه (27 ماه) کے دوران  مرتبہ 14  مختلف امور میں علی (ع) کی طرف رجوع کیا تھا۔

علي والخلفاء ، ص 73 - 97.

ان 14 موارد میں 9 علمی سوال، 4 سوال شرعی و عدالتی فیصلے اور 1 جنگی مشورہ شامل تھے۔

قابل ذکر ہے کہ ان 14 موارد میں صرف 4 مرتبہ علمی و شرعی سوال خود ابوبکر نے مستقیم مولا علی (ع) سے پوچھے اور باقی 9 موارد میں 2 مرتبہ ابوبکر کے صحابہ سے مشورہ کرتے وقت، علی (ع) نے اپنی رائے دی تھی، 2 مرتبہ ایک محفل میں حاضر ہونے کی وجہ سے ان حضرت کو اظہار رائے کرنا پڑ گیا، 3 مرتبہ ان حضرت کو خبر ملنے پر انھوں نے مشورہ دیا اور 2 مرتبہ مولا علی اور ابوبکر کے درمیان ایک تیسرا شخص واسطہ تھا۔

کیا یہ کہنا صحیح ہے کہ ابوبکر نے اپنی خلافت کے دوران تمام اہم کاموں میں علی (ع) سے مشورہ کیا تھا اور اس نے کوئی بھی کام مولا علی کی رائے کے بغیر انجام نہیں دیا ؟!

عمر ابن خطاب نے اپنی خلافت کے 10 سال و 5 ماه (125 ماه) 85 موارد میں حضرت امير (ع) کی طرف رجوع کیا تھا۔

علي والخلفاء ، ص 99 - 333 .

ان 85 موارد میں 59 مرتبہ عدالتی مقدمات، 21 مرتبہ سوال علمی، 3 مرتبہ مالی امور اور 2 مرتبہ امور جنگی کے بارے میں مشورے کیے گئے تھے۔

قابل توجہ ہے کہ ان 85 موارد میں سے عمر نے 27 مرتبہ مستقیم طور پر خود ان حضرت کی طرف رجوع کیا تھا، 13 مرتبہ مسائل شرعی و عدالتی، 2 مرتبہ امور مالی اور ایک مرتبہ علمی سوال کو عمر نے پہلے صحابہ سے مشورہ کیا اور پھر آخر میں امام علی (ع) کی رائے کے بارے میں پوچھا تھا۔

باقی 42 موارد میں وہ حضرت موقع پر موجود تھے اس لیے اظہار رائے کر دیا، یعنی ان موارد میں بھی ان حضرت کے حاضر ہونے کے باوجود، انکی طرف کوئی توجہ نہ کی گئی۔

اس تفصیل کے مطابق کیا صحیح ہے کہ کوئی دعوا کرے کہ عمر ہمیشہ اپنی مشکلات اور مسائل میں امیر المؤمنین علی (ع) کی طرف رجوع کرتا تھا ؟

عثمان نے 12 سالہ (144 ماه) دوران خلافت میں 8 مورد میں حضرت علی (ع) کی طرف رجوع کیا تھا۔

علي والخلفاء ، ص 335 - 345 .

یہ 8 موارد:

اوّلاً: تمام مسائل شرعی اور حدود کے جاری کرنے کے بارے میں تھے،

ثانياً: 3 مورد میں عثمان نے خود مستقیم امام علی سے رجوع کیا تھا اور 4 موارد میں وہ حضرت موقع پر حاضر تھے، اس لیے اظہار رائے کیا تھا۔

قابل توجہ ہے کہ ایک مرتبہ عثمان نے مولا علی سے کہا:

إنّك لكثير الخلاف علينا،

تمہاری رائے اکثر اوقات ہماری رائے سے مختلف ہوتی ہے۔

مسند أحمد، ج 1 ص 100 .

معاويہ نے 7 امور میں امير المؤمنین علی (ع) کی طرف رجوع کیا تھا۔

علي والخلفاء، ص 329 - 358.

التماس دعا۔۔۔۔۔

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی