2024 June 21
زیارت آئینہ معرفت
مندرجات: ٢٢٥٦ تاریخ اشاعت: ٢١ August ٢٠٢٢ - ١٣:٤٧ مشاہدات: 1301
مضامین و مقالات » پبلک
اللہ ہر زائر کو امام حسین علیہ السلام کی بامعرفت زیارت نصیب ہو
زیارت آئینہ معرفت

  بسمہ اللہ الرحمن الرحیم۔

زیارت آئینہ معرفت  ۔

یقینا زیارت ایک  عبادت اور بہترین اعمال  میں سے ہے ۔ خاص  کر امام  حسین ؑ کی  زیارت کے سلسلے میں موجود ائمہ اہل بیت ؑ کی تعلیمات کی رو سے  اس سفر میں زائر کا ہر قدم عبادت شمار ہوتا ہے ۔ ہر عبادت اور نیک عمل  بجا لانے کے  کچھ  آداب و شرائط   کی رعایت ضروری ہے۔ جیساکہ امام حسین ؑ کی زیارت کے سلسلے میں  بھی  ائمہ معصومین ؑ نے  کچھ  خاص شرائط اور آداب  کا ذکر کیا ہے ۔یقینا ان سے آگاہی ہمیں  اس مقدس نورانی سفر  سے زیادہ  سے زیادہ بہرہ مند ہونے کے لئے  مفید و معاون ہے۔ زیارت کی اہمیت اور   اس کے بجالانے کے  آداب و شرائط   کے سلسلے میں   ائمہ اہل بیت ؑ کے کچھ  نورانی  کلمات  پیش خدمت  ہے ۔تاکہ زائرین   خود ہی  ائمہ ؑ کے نورانی فرامین   اپنے لئے آئینہ قرار دئے  اور  عشق و عقیدت کے  اس  مقدس سفر سے ایسے پھول چن کے اپنے ساتھ  لے چلیں کہ  سب جگہ حسینی کردار  اور   کربلا ئی فکر  کی خوشبو  پھیلے اور  سب کی زبان پر حسینؑ  حسین  ؑ کی  صدا بلند ہو ۔

احادیث  میں امام  حسین ؑ  کی زیارت کی اہمیت اور اس  کا  اجر و ثواب     

ü    رسول اللہﷺ سے نقل ہوا ہے: قَالَ الْحُسَيْنُ ع لِرَسُولِ اللَّهِ ص يَا أَبَتَاهْ مَا لِمَنْ زَارَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص يَا بُنَيَ‏ مَنْ‏ زَارَنِي‏ حَيّاً أَوْ مَيِّتاً أَوْ زَارَ أَبَاكَ أَوْ زَارَ أَخَاكَ أَوْ زَارَكَ كَانَ حَقّاً عَلَيَّ أَنْ أَزُورَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ أُخَلِّصَهُ مِنْ ذُنُوبِهِ


ü    [1].امام حسینؑ ،رسول اللہﷺ سے سوال کرتے ہیں کہ اے پدر بذرگوار !  آپ کی زیارت   کرنے والے  کا  اجر وثواب کیا ہے؟ فرمایا :جو میری زندگی میں  اور موت کے بعد  میری زیارت کرتا ہے  یا آپ کے والد یا  بھائی  یا  آپ کی زیارت کرتا ہے  میرے ذمے اس کا یہ حق ہے کہ  میں قیامت کے دن  اس کی  زیارت کروں اور اسے گناہوں سے پاک کروں۔    

ü    امام صادق ؑ: مَا مِنْ أَحَدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَ هُوَ يَتَمَنَّى أَنَّهُ مِنْ زُوَّارِ الْحُسَيْنِ لِمَا يَرَى مِمَّا يُصْنَعُ بِزُوَّارِ الْحُسَيْنِ ع مِنْ كَرَامَتِهِمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى[2]۔قیامت کے دن  جب   اللہ  کے نذدیک   امام حسین ؑ  کے زائر  کی منزلت اور عظمت  دیکھے گا  تو   ہر کوئی یہ تمنا کرئے گا کہ کاش میں   بھی امام حسین ؑ کے زوار میں سے ہوتا ۔

ü    امام صادقؑ  : مَنْ أَرَادَ أَنْ يَكُونَ فِي جِوَارِ نَبِيِّهِ ص وَ جِوَارِ عَلِيٍّ وَ فَاطِمَةَ فَلَا يَدَعْ زِيَارَةَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ[3]۔جو جنت میں  اللہ کے نبیﷺ اور  حضرت علیؑ و فاطمہ ؑکے ہمجوار میں  رہنا چاہتا ہے  وہ حسین ابن علیؑ کی زیارت ہاتھ سے جانے نہ دے۔

ü    امام صادقؑ : إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ص تَحْضُرُ لِزُوَّارِ قَبْرِ ابْنِهَا الْحُسَيْنِ ع فَتَسْتَغْفِرُ لَهُمْ ذُنُوبَهُمْ[4].جناب فاطمہ بنت محمدﷺ اپنے بیٹے  حسینؑ کی قبر پر حاضر ہوتیں ہیں اور  زائروں  کے گناہوں  کے لئے اللہ سے طلب بخشش کرتیں ہیں۔

ü    امام صادق ؑ  :‏ إِنَّ إِلَى جَانِبِكُمْ لَقَبْراً مَا أَتَاهُ مَكْرُوبٌ إِلَّا نَفَّسَ اللَّهُ كُرْبَتَهُ وَ قَضَى حَاجَتَه [5]

امامؑ   جناب فضیل  سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں :تمہارے نذدیک  ایک قبر ہے (امام حسین ؑ کی قبر ) جو بھی  پریشانی کی حالت میں وہاں جائے گا اللہ اس کی پریشانی کو دور کرئے گا  اور اللہ  اس کی حاجت پورا کرے گا ۔

     امام صادق ؑ کا فرمان ہے: ‏ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ حَجَّ أَلْفَ حَجَّةٍ ثُمَ‏ لَمْ‏ يَأْتِ‏ قَبْرَ الْحُسَيْنِ‏ بْنِ‏ عَلِيٍ‏ع لَكَانَ قَدْ تَرَكَ حَقّاً مِنْ حُقُوقِ اللَّهِ تَعَالَى (مِنْ حُقُوقِ رَسُولِ اللَّهِ ص[6]) وَ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ حَقُّ الْحُسَيْنِ ع مَفْرُوضٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ[7]۔

تم میں سے  کوئی ہزار مرتبہ حج  کو جائے لیکن  حسین بن علی ؑ کی قبر کی زیارت کو نہ جائے  تو    اس نے  اللہ(بعض نقلوں کے مطابق  رسول اللہﷺ)  کے حقوق میں سے ایک حق کو ترک  کیا ہے   اور  اس کے بارے قیامت کے دن سوال ہوگا  ۔پھر  فرمایا : سارے مسلمانوں پر حسینؑ کا حق  ہے ۔

ü     امام باقر ؑ کا فرمان : مَنْ لَمْ يَأْتِ قَبْرَ الْحُسَيْنِ ع مِنْ شِيعَتِنَا كَانَ مُنْتَقَصَ‏ الْإِيمَانِ‏ مُنْتَقَصَ‏ الدِّينِ‏ وَ إِنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ كَانَ دُونَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْجَنَّةِ[8].ہمارے شیعوں میں سے کوئی (قدرت کے باوجود)  امام حسینؑ کی زیارت کیے بغیر مرتا ہے  تو  اس کا  ایمان اور دین ناقص  ہوگا۔ اگر جنت میں داخل  بھی ہو تب بھی  وہ  مومنین  کے درجے  سے نیچے درجے   پر  ہوگا۔

ü    امام باقر ؑ  کا فرمان : مُرُوا شِيعَتَنَا بِزِيَارَةِ قَبْرِ الْحُسَيْنِ ع فَإِنَّ إِتْيَانَهُ يَزِيدُ فِي الرِّزْقِ وَ يَمُدُّ فِي الْعُمُرِ وَ يَدْفَعُ مَدَافِعَ السَّوْءِ وَ إِتْيَانَهُ مُفْتَرَضٌ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ يُقِرُّ لِلْحُسَيْنِ بِالْإِمَامَةِ مِنَ اللَّهِ[9].

: ہمارے شیعوں کو امام حسینؑ کی قبر کی زیارت  کا  کہو   کیونکہ  ان کی زیارت   کرنے  سے اس کے رزق میں اضافہ ہوگا،اس کی عمر  طولانی ہوگی،اس  سے  بلاوں کو دور کرے گا ۔(یاد رکھنا )امام حسینؑ کی زیارت  کرنا  انہیں اللہ کی طرف سے منتخب امام  سمجھنے والے سارے مومنین پر فرض ہے۔

ü    امام صادقؑ  کا ارشاد ہے: يَا عَبْدَ الْمَلِكِ لَا تَدَعْ‏ زِيَارَةَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ع وَ مُرْ أَصْحَابَكَ بِذَلِكَ يَمُدُّ اللَّهُ فِي عُمُرِكَ وَ يَزِيدُ اللَّهُ فِي رِزْقِكَ وَ يُحْيِيكَ اللَّهُ سَعِيداً وَ لَا تَمُوتُ إِلَّا سَعِيداً وَ يَكْتُبُكَ سَعِيداً[10].

: اے عبد المالک ! حسین بن  علی  ؑ کی زیارت   ترک نہ کرنا  اور   اپنے  دوستوں کو    بھی ان  کی زیارت  کرنے کا  کہو ۔ اللہ تمہاری  عمر  کو  طولانی کرئے گا   ،تمہارے رزق  میں  اضافہ   کرئے گا۔ تمہاری زندگی کو   کامیاب اور سعادت مند  کرئے گا اور   تمہاری موت کو  کامیاب   موت  اور تجھے سعادت  مند لوگوں  میں سے قرار دئے گا ۔

    امام صادقؑ   کا فرمان :   لِمَنْ يُجَهِّزَ إِلَيْهِ‏ وَ لَمْ يَخْرُجْ لَعَلَّهُ تُصِيبُهُ [لِقِلَّةِ نَصِيبِهِ‏] قَالَ يُعْطِيهِ اللَّهُ بِكُلِّ دِرْهَمٍ أَنْفَقَهُ- مِثْلَ أُحُدٍ مِنَ الْحَسَنَاتِ وَ يُخْلِفُ عَلَيْهِ أَضْعَافَ مَا أَنْفَقَهُ وَ يُصْرَفُ عَنْهُ مِنَ الْبَلَاءِ مِمَّا قَدْ  نَزَلَ لِيُصِيبَهُ وَ يُدْفَعُ عَنْهُ وَ يُحْفَظُ راوی  سے  سوال کرتا ہے ، کوئی کسی وجہ سے زیارت کو نہ جاسکے لیکن وہ کسی کو  خرچ دے کر   زیارت کے لئے روانہ کرتا ہے، اس کا کیا اجر و ثواب کیا ہے ؟ امام ؑ نے فرمایا:  ہر درہم کے عوض احد   کی پہاڑی کے برابر  نیکیاں اسے  اللہ  دی جائے گی۔جو خرچ ہوا ہے اس کے چند برابر  اس کے لئے ذخیرہ کیا جائے گا  ۔ اس سے  نازل شدہ  اور حتمی بلاوں   کو دور کیا جائے گا ۔اس کے اموال کی حفاظت ہوگی۔

ü  :‏ مَنْ أَتَى قَبْرَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ  الحسین۔۔۔  وَ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ شَيْئاً إِلَّا أَعْطَاهُ وَ أَجَابَهُ‏ فِيهِ‏ إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَهُ وَ إِمَّا أَنْ يُؤَخِّرَهُ لَهُ وَ رِضَا اللَّهِ خَيْرٌ لَهُ وَ دُعَاءُ مُحَمَّدٍ ص وَ دُعَاءُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَ الْأَئِمَّةِ خَيْرٌ لَهُ[11] ۔جو  اباعبد اللہ  امام حسین ؑ کی قبر کی زیارت کو جاتا ہے ۔۔ وہ جو بھی اللہ سے مانگے گا اللہ اسے عطا کرئے گا اور اس کو فوری یا تاخیر کے  ساتھ جواب ملے گا  اور اللہ کی رضا  اس کے لئے   سب  سے بہتر  ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی دعا اور حضرت امیر المومنین اور ائمہ ؑ کی دعا اس کے لئے  سب  سے بہتر ہے۔

احادیث اور  زیارت کی شرائط     

E   امام باقر ؑ : مَنْ أَتَاهُ شَوْقاً إِلَيْهِ وَ حُبّاً لِرَسُولِ اللَّهِ وَ حُبّاً لِفَاطِمَةَ وَ حُبّاً لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ص أَقْعَدَهُ اللَّهُ عَلَى مَوَائِدِ الْجَنَّةِ يَأْكُلُ مَعَهُمْ وَ النَّاسُ فِي الْحِسَابِ [12]۔جو شوق  سے  امام  حسینؑ  کی زیارت  کو جاتا ہے اور جو   جناب رسول اللہﷺ،حضرت  فاطمہؑ  اور امیر المومنینؑ   کی محبت میں  ان کی  زیارت کو جاتا ہے ، خدا اسے   بہشتی  دسترخوان پر  بٹھائے گا اور  وہ ان حضرات کے ساتھ  اس دسترخوان سے کھائے گا جبکہ دوسرے   حساب و کتاب دے رہیں ہوں گے۔

E      امام صادق ؑ  : مَنْ أَتَاهُ شَوْقاً إِلَيْهِ كَانَ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ الْمُكْرَمِينَ وَ كَانَ تَحْتَ لِوَاءِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيّ[1]. جو شوق کے ساتھ امام حسینؑ  کی زیارت کو جاتا ہے ،اس کا شمار اللہ کے باعزت اور محترم بندوں میں سے ہوگا اور وہ امام حسین ؑ کے پرچم  تلے رہے گا  ۔

E   امام موسی کاظم ؑ:۔ کا ارشاد گرامی ہے :أَدْنَى مَا يُثَابُ بِهِ زَائِرُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع بِشَطِّ الْفُرَاتِ إِذَا عَرَفَ‏ حَقَّهُ‏ وَ حُرْمَتَهُ وَ وَلَايَتَهُ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَ مَا تَأَخَّرَ[13].کمترین صلہ جو فرات کے کنارے امام حسین ؑ کی زیارت کرنے والے زوار کو ملتا ہے( اگر  وہ امام کے حق کی شناخت رکھتا ہو ان کے  مقام  اور  ولایت کی معرفت  رکھتا ہو ) وہ یہ ہے کہ   اس کےگذشتہ اور   آیندہ   کے سارے  گناہ معاف ہوجاتا ہے۔

E   امام صادقؑ کا فرمان ہے:۔  مَنْ زَارَ الْحُسَيْنَ ع عَارِفاً بِحَقِّهِ يَأْتَمُ‏ بِهِ‏ غَفَرَ [اللَّهُ‏] لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَ مَا تَأَخَّرَ[14]۔۔۔لَمْ يَكُنْ لَهُ عِوَضٌ غَيْرُ الْجَنَّةِ وَ رُزِقَ رِزْقاً وَاسِعاً[15] ۔ جو امام حسینؑ کی زیارت کرتا ہے  ،جبکہ وہ  امام  کے حق کی معرفت رکھتا ہے  اور ان کی پیروی  بھی کرتا ہے،اللہ اس کے پچھلے اور اگلے سارے گناہ معاف کرتا ہے۔ ۔۔ اس  کا صلہ سوای جنت کے کوئی چیز نہیں   ہے اور  اس کے رزق میں  وسعت دی جائے گی ۔

E  امام صادقؑ: مَنْ زَارَ الْحُسَيْنَ مُحْتَسِباً لَا أَشَراً وَ لَا بَطَراً وَ لَا رِيَاءً وَ لَا سُمْعَةً مُحِّصَتْ عَنْهُ ذُنُوبُهُ كَمَا يُمَحَّصُ الثَّوْبُ بِالْمَاءِ فَلَا يَبْقَى عَلَيْهِ دَنَسٌ[16] جو امام حسینؑ کی زیارت کرتا  ہے اور اس کی یہ زیارت  خالصانہ  ہو ،کسی   سرکشی یا  خوشگزرانی اور  دکھاوئے کے لئے نہ ہو  تو  اس  سے  گناہوں کو اس طرح پاک کیا جائے  گا جس طرح پانی سے  گندا کپڑا پاک و صاف کیا جاتا ہے  ۔ اس پر کوئی  آلودگی باقی نہیں رہے گی۔

احادیث اور  سفر کے آداب 

   امام صادقؑ نے امام حسینؑ کی زیارت کے سفر  کے آداب  کے بیان میں محمد بن مسلم  کو    چند  چیزوں کی خاص  طور پر رعایت کو لازمی قرار دیا ۔

  ۱:۔ ہمسفر  اور دوسرے زوار  کے ساتھ اچھا برتاو  کرنا ۔    ۲:۔   کم  بولنا  مگر یہ    کہ بولنا ضروری  اور مفید  ہو ۔   ۳:۔ زیادہ سے زیادہ  اللہ کا  ذکر کرنا ۔    ۴:۔ صفائی کا  خیال  رکھنا   (خاص کر کپڑے صفاف رکھنا  )۔  ۵:۔   حرم  جانے سے پہلے غسل کرنا   ۔   ۶:۔  خشوع  اور فروتنی  کے ساتھ  زیارت  کرنا    ۔  ۷:۔کثرت  سے نمازیں  پڑھنا ۔  ۸:۔  محمد و آل محمد ﷺ پر  کثرت  سے درود  بیجنا۔ ۹:۔    دوسروں کی چیزوں   کا خیال رکھنا(بغیر اجازت  کسی کی چیز  سے استفادہ نہ کرنا )۔   ۱۰ :۔  نظریں    جھگا کر رکھنا (نامحرم  اور غیر شرعی چیزوں پر نظر نہ کرنا ) ۱۱:۔  ہمسفر اور زائر    کو کسی  قسم کی   مدد کی ضرورت ہو  تو مدد کرنا ۔ ۱۲:۔    ایک دوسرے کے ساتھ مواسات اور  فراح دلی سے پیش آنا۔ ۱۴ :۔  تقیہ   کی  رعایت کرنا ۔  ۱۵:۔  حرام چیزوں سے پرہیز کرنا ۔۱۶:۔  جھگڑا  اور   فضول  بحثوں   اور بے جا   قسم کھانے سے  اجتناب کرنا ۔ 

امام  صادقؑ  ان دستورات  کی رعایت کی صورت میں  اعمال  کے قبول ہونے  اور  اللہ کی  مغفرت  ،رحمت اور  رضایت  حاصل ہونے کی  نوید دیتے ہیں[17] ۔

دوسری روایت میں  امام فرماتے ہیں :۔  إِذَا أَرَدْتَ زِيَارَةَ الْحُسَيْنِ ع فَزُرْهُ وَ أَنْتَ كَئِيبٌ حَزِينٌ مَكْرُوبٌ شَعِثاً مُغْبَرّاً جَائِعاً عَطْشَاناً فَإِنَّ الْحُسَيْنَ قُتِلَ حَزِيناً مَكْرُوباً شَعِثاً مُغْبَرّاً جَائِعاً عَطْشَاناً- وَ سَلْهُ الْحَوَائِجَ وَ انْصَرِفْ عَنْهُ وَ لَا تَتَّخِذْهُ وَطَناً[18].

جب امام حسینؑ کی قبر کی زیارت کو جائے تو تم غم و اندوہ،بھوکا و پیاسا  اور پراگندہ  حالت میں جانا ،کیونکہ  امام حسین ؑ   اسی  حالت  میں شہید  ہوئیں اور پھر  اپنے  حوائج  کے لئے دعا کرنا ،  پھر وہاں سے پلٹنا  اور   کربلا  میں وطن     کی طرح  قیام نہ  کرنا ۔

امام صادق ؑؑ: بَلَغَنِي أَنَّ قَوْماً أَرَادُوا الْحُسَيْنَ ع حَمَلُوا مَعَهُمُ السُّفَرَ فِيهَا الْحَلَاوَةُ وَ الْأَخْبِصَةُ وَ أَشْبَاهُهَا لَوْ زَارُوا قُبُورَ أَحِبَّائهِمْ مَا حَمَلُوا مَعَهُمْ هَذَا[19].  راوی سے پوچھتے ہیں کہ  سنا ہے بعض  لوگ امام حسینؑ کی قبر کی زیارت کو جاتے ہیں تو اپنے ساتھ  میٹھی میٹھی چیزیں  (  خوشبودار اور مزے دار)  کھانے   لے کر جاتے ہیں پھر امام  اعتراض  کرتے ہوئے فرماتے ہیں  : کیا یہ لوگ  اپنے  والدین کی  قبر پر جاتے ہیں   تو اسی طرح جاتے ہیں  ؟

(لہذا  اس معنوی سفر میں  تفریحی  امور  ،جیسے  عیش و نوش    اور  خوشگزرانی    ، تصویریں   بنانے پر   زیادہ  توجہ   وغیرہ   سے اجتناب  کرنا چاہئے اور  معنوی   امور، جیسے  نماز  ،قرآن کی تلاوت ،ذکر ،زیارت ،دعا   اور استغفار   وغیرہ   کی طرف زیادہ توجہ دینا چاہئے  تاکہ    اس سفر کے معنوی   فیوضات سے زیادہ سے زیادہ استفادہ  کرسکے ) 

دوسری روایت میں  راوی  امام سے پوچھتا ہے کہ مولا   اس  سفر   میں پھر کیا  کھائے ؟ فرمایا :  روٹی اور دودھ [20]۔

( لہذا زیادہ سے زیادہ سادہ  غذا کھانے پر اکتفا کرنا   ،کھانے میں زیادہ روی سے پرہیز   کرنا  اور سفر کے دوران اپنے  نفس پر کنٹرول   اس معنوی سفر کے ساتھ  زیادہ مناسب ہے    )۔

اللہ ہمیں معرفت کے ساتھ زیارت نصیب کرئے۔

  فرامین معصومین ؑ کی رو سے  زیارت کے اجرو ثواب اور فیوضات سے کماحقہ فیضیاب ہونےکے لئے خلوص نیت کا ہونا اور ریا اور خوشگزرانی جیسے غیر معنوی امور سے اجتناب  ضروری ہے۔ زیارت کی بنیادی شرائط میں سے ایک اہم   شرط’’ عارفا بحقہ‘‘ہے  ۔ معصومین ؑ کی وضاحت کے مطابق  امام کے مقام کی معرفت    اور ان کے حق کی شناخت   یہ ہے کہ  ہم انہیں رسول اللہ ﷺ کے حقیقی جانشین  اور واجب الاطاعۃ سمجھیں ،  امام کے  دستور کے سامنے سرتسلیم خم رہیں اور ان کی سیرت و  فرامین    پر عمل  کو اپنا نصب العین بنائیں ۔ حَقُّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ وَ يُطِيعُوا[21]۔ امام کا حق یہ ہے کہ لوگ  ان کی باتوں کو سنے اور ان کی اطاعت کرئے۔

 

 

 

 


 

[1] الكافي (ط - الإسلامية) / ج‏4 / 548 / باب زيارة النبي ص ..... ص : 548

[2] كامل الزيارات ؛ النص ؛ ص135

[3] كامل الزيارات ؛ النص ؛ ص137

[4] كامل الزيارات ؛ النص ؛ ص118

[5] كامل الزيارات ؛ النص ؛ ص167

[6] وسائل الشيعة / ج‏14 / 433 / 38 باب كراهة ترك زيارة الحسين ع ..... ص : 428

[7] كامل الزيارات، النص، ص: 194

[8] كامل الزيارات / النص / 193 

[9] كامل الزيارات  ، باب  ۶۱ ص 151 

[10] كامل الزيارات  باب ۶۱ص  152

[11] كامل الزيارات / النص / 127  

[12] كامل الزيارات ؛ النص ؛ ص137

[13] ۔ الكافي (ط - الإسلامية) / ج‏4 ص : 580

[14] كامل الزيارات / النص / 139 

[15] كامل الزيارات / النص / 151 

[16] كامل الزيارات ؛ النص ؛ ص144

[17] کامل الزيارات ؛ النص ؛ ص130

[18] كامل الزيارات، النص، ص: 132

[19]  كامل الزيارات ؛ النص ؛ ص129

[20] كامل الزيارات، النص، ص: 130

[21] الكافي (ط - الإسلامية) / ج‏1 / 405 / باب ما يجب من حق الإمام على الرعية و حق الرعية على الإمام ..... ص : 405

 

تحریر : غلام محمد ملکوتی

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی