2021 December 8
سارے صحابی جنتی ، سارے اصحاب پر اللہ ہمیشہ راضی{ اھل سنت کا مضبوط قلعہ}
مندرجات: ١٩٨١ تاریخ اشاعت: ١٦ June ٢٠٢١ - ١٩:٥٤ مشاہدات: 981
مضامین و مقالات » پبلک
سارے صحابی جنتی ، سارے اصحاب پر اللہ ہمیشہ راضی{ اھل سنت کا مضبوط قلعہ}

وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ" 

اللہ کا اصحاب سے ہمیشہ راضی رہنے اور سارے اصحاب کے جنتی ہونے کے نظریے کی تحقیق

اللہ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے:

وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهاجِرينَ وَ الْأَنْصارِ وَالَّذينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْري تَحْتَهَا الْأَنْهارُ خالِدينَ فيها أَبَداً ذلِكَ الْفَوْزُ الْعَظيم . التوبة / 100.

جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے .

اس آیت میں اللہ نے مهاجرین اور انصار میں سے ایمان میں سبقت کرنے والوں کے لئے اپنی دائمی رضایت کا اعلان کیا ہے ۔ ان کو جنت کا وعدہ دیا ہے اور خلیفہ اول اور دوم بھی یقینی طور پر انہیں میں سے ہیں۔ لیکن شیعہ جناب فاطمہ(س)کے گھر پر حملہ اور خلافت وغیرہ کے غصب جیسے معاملات کو بیان کرنے کے ذریعے اس آیت کا انکار کرتے ہیں اور ایسے افراد سے ناراضی کا اظہار اور ان کے اوپر الزام لگاتے ہیں کہ جن سے اللہ ہمیشہ راضی ہے ۔

نقد اور تحقیق

خلفاء کو جناب فاطمہ(س) کے گھر پر حملہ اور جناب امیر المومنین(ع) سے خلافت کو غصب کرنے جیسے مسائل سے بری الذمہ قرار دینا صرف دو  صورتوں میں ممکن ہے ۔

1 : اللہ کا اصحاب کی نسبت سے دائمی رضایت کا اثبات۔

   2: ان کے لئے اللہ کا وعدہ قطعی ہونے کا اثبات ۔

ہم اس شبہہ کا جواب اور اس کی وضاحت کے لئے چند نکات کی طرف اشارہ  کرتے ہیں:

 

1. (السابقون) سے کیا اور کون لوگ مراد ہے؟

2. عمل صالح و ايمان کی حفاظت بہشت میں داخل ہونے کے لئے شرط ہے:

3. دائمی رضایت کا نظریہ دوسری آیات سے ٹکڑاتی ہے:

4. قیامت کے دن اللہ کے بیغمبروں سے بھی حساب و کتاب ہوگا :

5. اللہ رسول اللہ (ص) کی ازواج کو بھی دھمکی دیتا ہے:

6.  قرآن میں اصحاب کے مرتد ہونے کا احتمال موجود ہے :

7. ابوبکر اور عمر کی پشیمانی اور آرزوئیں :

8. «السابقون الأولون» میں منافقین کا وجود اہل سنت کے مدعا کو باطل کرتا ہے:

9. أبو الغاديه،بھی  (السابقون الأولون) میں سے تھا :

10. ثعلبه بن حاطب بدري، بھی  (السابقون الاولون) اور مسجد ضرار کے بانیوں میں سے تھا :

11. عثمان کے قاتل بھی «السابقون الأولون» میں سے تھا :

12. اصحاب کے مرتد ہونے کی پیشنگوئی :

13. عمر کی طرف سے آیت(السابقون الاولون) میں تحریف کی کوشش:

 

1. (السابقون) سے کیا مراد ہے اور کون لوگ مراد ہے؟

اس آیت میں سبقت کو ایک اہم امتیاز اور فضیلت کے طور پر بیان کیا ہے لیکن اس سبقت ہے کونسا معنی یہاں مراد ہے؟

کیا صرف مسلمان ہونے میں دوسرے کی نسبت سے سبقت رکھنا یہاں پر مراد ہے؟ یا مسلمان ہونے میں سبقت کے ساتھ ساتھ اللہ کے دستورات کی پابندی اور نیک کاموں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت اور پیروی میں سبقت جیسے امتیازات سے متصف ہونا بھی ضروری ہے۔

مختصر یہ کہ حقیقی مسلمان ہونے کے بڑے امتحانوں میں کامیاب ہونا بھی ضروری ہے یا نہیں ؟   

اسلام کے عظیم دانشمند مرحوم سيد مرتضي رحمة الله عليه اس سلسلے میں فرماتے ہیں:

وأول ما نقوله: إن ظاهر هذه الآية لا تقتضي أن السبق المذكور فيها إنما هو السبق إلي اظهار الإيمان والاسلام واتباع النبي صلي الله عليه وآله، لأن لفظ ( السابقين ) مشتركة غير مختصة بالسبق إلي شئ بعينه.

وقد يجوز أن يكون المراد بها السبق إلي الطاعات، فقد يقال لمن تقدم في الفضل والخير: سابق ومتقدم. قال الله تعالي: (وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ. أُوْلَئكَ الْمُقَرَّبُون ) (الواقعة / 10 و 11 ) فإنما أراد المعني الذي ذكرناه، وقال تعالي: (ثمُ َّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَ مِنهْم مُّقْتَصِدٌ وَ مِنهْمْ سَابِقُ بِالْخَيرْاتِ ) (فاطر / 32 ) ويكون معني قوله تعالي ( الأولون ) التأكيد للسبق والتقدم والتدبير فيه، كما يقال: سابق بالخيرات أول سابق.

وإذا لم يكن هاهنا دلالة تدل علي أن المراد بالسبق في الآية إلي الإسلام فقد بطل غرض المخالفين وإذا ادعوا فيمن يذهبون إلي فضله وتقدمه أنه داخل في هذه الآية إذا حملنا علي السبق في الخير والدين احتاجوا إلي دليل غير ظاهر الآية، وأني لهم بذلك.

 ظاہر آیت سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں سبقت سے مراد ایمان اور اسلام کے اظہار  میں سبقت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت میں سبقت مراد نہیں ہے ۔کیونکہ لفظ (السابقون)  ایک مشترک لفظ ہے کہ جو کسی ایک معنی کے ساتھ مختص نہیں ہے۔{لہذا اس سے ایمان اور سلام کے اظہار میں سبقت ہی مراد ہونا ضروری نہیں ہے }

دوسری طرف سے یہاں یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ یہاں پر سبقت سے مراد اطاعت اور پیروی میں سبقت اور پہل کرنا مراد ہے جیساکہ کبھی جو نیک اور اچھے کاموں میں دوسروں پر فضیلت اور دوسروں سے ممتاز حیثیت رکھتے ہوں، تو ایسے افراد کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ دوسروں سے آگے ہیں اور دوسروں پر ان کو سبقت حاصل ہے۔

 جیساکہ اللہ کا ارشاد ہے : (وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ. أُوْلَئكَ الْمُقَرَّبُون ) اور سبقت کرنے والے تو سبقت کرنے والے ہی ہیں،  یہی اللہ کے مقرب بھی ہیں ، اس آیت میں اللہ نے سبقت کو اسی معنی میں استعمال کیا ہے جو ہم نے یہاں مراد لیا۔جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے (ثمُ َّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَ مِنهْم مُّقْتَصِدٌ وَ مِنهْمْ سَابِقُ بِالْخَيرْاتِ) 

 پھر ہم نے اس کتاب کا وارث ان افراد کو قرار دیا جنہیں اپنے بندوں میں سے چن لیا کہ ان میں سے بعض اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض اعتدال پسند ہیں اور بعض خدا کی اجازت سے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں اور درحقیقت یہی بہت بڑا فضل و شرف ہے۔

 اور مذکورہ آیت میں (الْأَوَّلُونَ) سے مراد اسی سبقت کی تاکید کرنا اور اسی میں ہی غور و فکر کرنا ہے۔ جیساکہ جو زیادہ نیکی کرتا ہو اس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے  کہ نیکی کرنے میں پہلے نمبر پر ہے.

لہذا اس آیت میں سبقت سے اسلام میں سبقت مراد ہونے پر دلیل نہ ہونے سے مخالفین کے مقصد اور استدلال خود بخود باطل ہوجاتا ہے۔ اسی لئے اسلام لانے میں سبقت کی بنیاد پر کسی کو اس آیت میں داخل کر کے اس کے لئے فضیلت ثابت کرنا چاہئے تو یہ مقصد اس آیت سے حاصل نہیں ہوگا۔انہیں اس کام کے لئے اس آیت کے ظاہر کے علاوہ کوئی اور دلیل لانا ہوگا اور یہ لوگ کہاں سے ایسی دلیل لاسکتے ہیں؟

المرتضي علم الهدي، أبو القاسم علي بن الحسين بن موسي بن محمد بن موسي بن إبراهيم بن الإمام موسي الكاظم عليه السلام (متوفاي436هـ)، رسائل المرتضي، ج 3، ص 88، تحقيق: تقديم: السيد أحمد الحسيني / إعداد: السيد مهدي الرجائي، ناشر: دار القرآن الكريم - قم، 1405هـ.

2. نیک اعمال کا انجام دینا اور ایمان کی حفاظت کرنا بہشت میں داخل ہونے کی شرط ہے:

قرآن مجید کی بہت سی آیات میں اللہ نے اپنے بعض بندوں کو بہشت میں داخل ہونے اور اللہ کے نیک بندوں میں سے قرار دینے کا وعدہ دیا ہے۔ لیکن یہ وعدہ شرط و قید کے بغیر نہیں ہے۔ آخرت میں  اللہ کی نعمتوں سے بہرہ مند ہونا  اور اللہ کے اس وعدہ گاہ تک پہنچنا ان لوگوں کے لئے ہے جنہوں نے اس تک پہنچنے کے لئے مقدمات فراہم کیے ہوں۔

  دوسرےالفاظ میں یہ کہنا صحیح ہے کہ اللہ کا یہ وعدہ مومنین میں سے «السابقون الأولون» کے ساتھ مختص نہیں ہے۔بلکہ یہ وعدہ عام ہے۔ اللہ کا یہ وعدہ ہر اس مومن کے لئے ہے کہ جو نیک اور صالح ہوں اور شائستگی رکھتے ہوں۔   جیساکہ سورہ توبہ کی ۷۲ نمبر آیت میں اللہ فرماتا ہے:

  جیساکہ اللہ نے سورہ توبہ کی آیت نمبر72 میں فرمایا ہے:

وَعَدَ اللَّهُ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ جَنَّاتٍ تَجْري مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ خالِدينَ فيها وَمَساكِنَ طَيِّبَةً في جَنَّاتِ عَدْنٍ وَرِضْوانٌ مِنَ اللَّهِ أَكْبَرُ ذلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظيم .

خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضا مندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے یہی بڑی کامیابی ہے۔

یقینی بات ہے کہ مومنین سے اللہ کا وعدہ ان کے معصوم ہونے پر دلیل نہیں ہے۔ یہ وعدہ ان لوگوں کو خطاء اور لغزش سے بچاو کے لئے نہیں ہے۔ لہذا یہ وعدہ دائمی اور مطلق نہیں ہوسکتا {بلکہ اس طرح کا وعدہ ہمیشہ قید و شرط کے ساتھ ہے}۔

لہذا یوں کہنا بہتر ہے کہ  اللہ کا ان سے راضی رہنا اور ان کا بہشت میں داخل ہونا ان کے آئیندہ کے کردار اور آئیندہ نیک کام انجام دینے کے ساتھ مشروط ہے۔

مشہور اور عظیم عالم دین جناب شیخ طوسی رضوان الله تعالي عليه اس سلسلے میں فرماتے ہیں:

علي أنهم لو كانوا هم المعنيين بالآية [ السبق الي الإسلام لا الإيمان و السبق الظاهري لا الباطني] لم يمنع ذلك من وقوع الخطأ منهم ولا أوجب لهم العصمة لأن الرضي المذكور في الآية وما أعد الله من النعيم إنما يكون مشروطا بالإقامة علي ذلك والموافاة به، وذلك يجري مجري قوله " وعد الله المؤمنين والمؤمنات جنات تجري من تحتها الأنهار " (التوبة / 72) ولا أحد يقول إن ذلك يوجب لهم العصمة ولا يؤمن وقوع الخطأ منهم بل ذلك مشروط بما ذكرناه وكذلك حكم الآية.

اگر مذکورہ آیت میں سبقت سے مراد اسلام لانے میں سبقت ہو، ایمان میں سبقت مراد نہ ہو،اسی طرح ظاہری اسلام لانا مراد ہو باطنی  اور حقیقی اسلام لانا مراد نہ ہو تو اس سے یہ لازم تو نہیں آتا کہ  ان سے کوئی خطاء بھی سرزد نہ ہو اور وہ لوگ خطاء اور گناہ سے معصوم ہوں۔ ۔کیونکہ اللہ نے اگر  کسی سے رضایت کا اعلان کیا ہے اور کسی کو بہشت کا وعدہ دیا ہے تو یہ دین میں ثابت قدمی ، دین کے ساتھ وفاداری اور دین کی پاسداری کے ساتھ مشروط ہے اور یہ وعدہ اللہ کے اس وعدے کی طرح ہے " وَعَدَ اللَّهُ الْمُؤْمِنينَ وَ الْمُؤْمِناتِ جَنَّاتٍ تَجْري مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ خالِدينَ فيها التوبة : 72" اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اب کوئی یہاں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس وعدے کی وجہ سے ان کا معصوم ہونا لازم آتا ہے ۔ یہ وعدہ ان کو خطاء اور غلط کام کے انجام دینے سے محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ یہاں یہ وعدہ اسی چیز کے ساتھ مشروط ہے جس کا ہم نے ذکر کیا۔

الطوسي، الشيخ أبو جعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفاي460هـ) الرسائل العشر، ص 128، ناشر: مؤسسة النشر الإسلامي التابعة  لجماعة المدرسين ـ قم.

سوره بينيه میں واضح طور پر یہ اعلان ہوا ہے کہ بہشت میں داخل ہونے اور اللہ کی دائمی رضایت حاصل کرنے کی شرط نیک اعمال کا انجام دینا ہے:

إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ أُوْلَئكَ هُمْ خَيرْ الْبرَيَّةِ. جَزَاؤُهُمْ عِندَ رَبهِّمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تجَرِي مِن تحَتهِا الْأَنهْارُ خَلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا رَّضيِ َ اللَّهُ عَنهْمْ وَرَضُواْ عَنْهُ ذَالِكَ لِمَنْ خَشيِ َ رَبَّه . البينة / 7 و 8.

(اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ تمام خلقت سے بہتر ہیں ان کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ابدالاباد ان میں رہیں گے۔ خدا ان سے خوش اور وہ اس سے خوش۔ یہ (صلہ) اس کے لیے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتا رہا!.

 لہذا یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ ایسے افراد سے اپنی دائمی رضایت کا اعلان کرئے جن سے ہر لمحےخطاء اور غلط کام انجام پانے کا امکان موجود ہے۔

کیا اس طرح ایسے افراد سے دائمی رِضایت کا اعلان ان کے غیر شرعی کاموں کی تائید شمار نہیں ہوگی؟

کیا ایسے وعدے کا معنی انہیں کھلا ہاتھ چھوڑنا نہیں ہے؟

کیا اس سے انہیں غلط کام انجام دینے پر اکسانا لازم  نہیں آتا ؟   

 عظیم عالم دین  علامه طوسي رحمة الله عليه اس سلسلے میں فرماتے ہیں:

وأيضا فإنه لا يجوز أن يكون هذا الوعد غير مشروط وأن يكون علي الإطلاق إلا لمن علم عصمته ولا يجوز عليه شئ من الخطأ، لأنه لو عني من يجوز عليه الخطأ بالإطلاق وعلي كل وجه كان ذلك إغراء له بالقبيح وذلك فاسد بالإجماع، وليس أحد يدعي للمذكورين العصمة فبطل أن يكونوا معنيين بالآية علي الإطلاق.

اس آیت کی صحیح تفسیر اور اور اس کا صحیح فہم یہ ہے کہ جنت میں داخل ہونے کا وعدہ بغیر شرط کے نہیں ہے۔

یہ وعدہ صرف اس صورت میں مطلق اور شرط کے بغیر ہوگا جب یہ افراد معصوم ہوں اور خطاء سے محفوظ ہوں۔

اور اگر یہ وعدہ قطعیت اور حتمیت کے ساتھ خطاء کار افراد کو بھی شامل ہو تو اس کا نتیجہ خطاء کار افراد کو خطاء اور اشتباہ  کرنے پر اکسانا ہے ۔ اس سے خطا کار افراد اپنے خطاء کا یہ کہہ کر جواز فراہم کرسکتے ہیں کہ ہمیں تو نجات مل ہوئی ہے ۔ لہذا میں تو آزاد ہوں ۔

لہذا اس قسم کی فکر اور نظریہ سب کے نذدیک فاسد اور غلط ہے۔ساتھ ہی کسی نے بھی اس آیت (السابقون الاولون) میں شامل لوگوں کے لئے معصوم ہونے کا ادعا نہیں کیا ہے۔

پس گزشتہ بیان کی روشنی میں اس میں شامل افراد بغیر کسی شرط کے اس آیت کا مصداق نہیں ہے۔

الطوسي، الشيخ أبو جعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفاي460هـ) الرسائل العشر، ص 128، ناشر: مؤسسة النشر الإسلامي التابعة لجماعة المدرسين ـ قم.

جیساکہ یہ نتیجہ اور مذکورہ مطلب «السابقون الألون»کی آیت کے سیاق سے بھی واضح ہے۔ کیونکہ اس سے پچھلی اور اگلی آیات منافقین کی مذمت میں ہیں اور ان میں ان  کے غلط کاموں کی وجہ سے ان کی مذمت کی گئی ہیں۔ اس آیت سے پہلی کی آیت میں اللہ فرماتا ہے:

الْأَعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَ نِفَاقًا وَ أَجْدَرُ أَلَّا يَعْلَمُواْ حُدُودَ مَا أَنزَلَ اللَّهُ عَليَ رَسُولِهِ وَ اللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ. وَ مِنَ الْأَعْرَابِ مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ مَغْرَمًا وَ يَترَبَّصُ بِكمُ ُ الدَّوَائرَ عَلَيْهِمْ دَائرَةُ السَّوْءِ وَ اللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ. التوبه / 97 و 98.

یہ بادیہ نشین بدو کفر و نفاق میں انتہائی سخت ہیںاور اس قابل ہی نہیں کہ اللہ نے اپنے رسول پر جو کچھ نازل کیا ہے ان کی حدود کو سمجھ سکیں اور اللہ بڑا دانا، حکمت والا ہے!

اس آیت کے فورا بعد ارشاد ہوتا ہے :

وَمِمَّنْ حَوْلَكمُ مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَليَ النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ نحَنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبهُم مَّرَّتَينْ ِ ثمُ َّ يُرَدُّونَ إِليَ عَذَابٍ عَظِيم .

اور تمہارے گرد و نواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے۔ ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

اس آیت میں واضح طور پر بیان ہوا ہے کہ اہل مدینہ میں سے بھی بعض منافق ہیں۔اب یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ ایک تو بہشت کا یقینی وعدہ بھی دے اور فورا بعد انہیں یہ سمجھا کہ تمہارے درمیان منافق لوگ بھی ہیں لیکن تم انہیں پہنچاتے نہیں اور پھر ان کو ڈبل عذاب دینے کا وعدہ دئے؟

نتیجہ : اللہ کے کلام کا یہ مقصد نہیں ہے کہ جو بھی  «السابقون الأولون» میں شامل ہوں یہ لوگ اس وعدے کے بعد ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے اور کوئی بھی نیک عمل انجام نہ دئے پھر بھی صرف اس بنا پر کہ یہ (السابقون الأولون) میں شامل ہیں ،اللہ ان سے راضی ہےاور اللہ کبھی بھی ان سے ناراض نہیں ہوگا اگرچہ یہ لوگ برئے سے برا کام بھی انجام دئے۔

 3. دائمی اور ہمیشہ کی رضایت دوسری آیات سے بھی ٹکراتی ہے۔:

اگر اللہ کی یہ رضايت عمل صالح کے انجام دینے کے ساتھ مشروط نہ اور یہ وعدہ کسی شرط کے بغیر ہو {چاہئے اس کے بعد نیک کام انجام دئے یا غلط کام انجام دئے} انہوں نے بہشت میں جانا ہی ہوں۔تو اس نتیجہ گیری سے تو دوسری بہت سی آیات کا تکذیب لازم آتا ہے ؛ مثلا : اللہ تعالی سورہ زلزال کی  7 اور 8 نمبر آیت میں فرماتا ہے:

وَ مَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَه .

اور جس نے ذرہ بھر برائی کی  ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا ۔

اگر اهل سنت کے اس دعوے کو قبول کیا جائے تو یہ کہنا ہوگا کہ تمام افراداپنے برے اعمال کا نتیجہ دیکھیں گے مگر صرف وہ لوگ کہ جنہوں نے پیغمبر کے ساتھ ہجرت کی ہوں ان کے برے اعمال  کا حساب و کتاب نہیں ہوگا اور اللہ کی رضایت ان سے دائمی ہی ہے۔

لہذا مندرجہ بالا مطلب اور نتیجہ گیری اس قسم کی بہت سی آیات سے بھی ٹکراتی ہے۔

سوال : اب ان لوگوں کا گناہ کیا ہے جو اصحاب کے بعد دنیا میں آئے ہیں ، ان کے ذرہ بھر اعمال کا بھی حساب کتاب ہو لیکن «السابقون الأولون» میں شامل افراد صرف اس وجہ سے کہ یہ لوگ ابتدائےاسلام میں زندگی بسر کرتے تھے ان کے کسی گناہ کا حساب و کتاب نہیں ہوگا اور وہ لوگ سیدھے بہشت میں چلے جائیں گے ؟

اللہ تعالی سورہ حجرات میں ارشاد فرماتا ہے:

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَليمٌ خَبير. الحجرات / 13.

اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ بیشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے۔

اگر یہی مسئلہ ٹھیک ہو کہ مہاجرین اور انصار میں سبقت لینے والے بغیر قید و شرط  کے ،چاہئے تقوی اور پرہیزگاری کا مالک ہو یا نہ ہو، چاہئے برے کام بھی انجام دیے ہوں پھر بھی اللہ کے نذدیک عزت والے لوگ ہوں گے۔ تو اس سے تو «السابقون الأولون» والی آیت دوسری بہت سے قرآنی آیات سے ٹکراتی ہے اور ایک دوسرے کی تکذیب کرتی ہیں ۔

  اسی طرح اگر اس آیت میں اللہ کی رضایت مطلق اور غیر مشروط ہی ہو تو قرآن کی دوسری وہ آیات جو وعدہ اور وعید اور سزاء اور جزاء کے بارے میں ہیں، یہ سب  آیات ان لوگوں کے ساتھ مختص ہوگی جن کا تعلق «السابقون الأولون» سے نہ ہوں۔یعنی جس سے بھی گناہ سرزد ہو اس کو سزا دی جائے گی سوای «السابقون الأولون» میں شامل افراد کے،یہ لوگ بعد میں چاہئے مرتد ہوں یا منافق پھر بھی انہیں سزا نہیں دی جائے گی۔

 اس مطلب کو قبول کرنا اس چیز کے مساوی ہے کہ اللہ کے فرامین لغو اور بیہودہ ہو کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوگا کہ «السابقون الأولون» چاہئے شریعت کے پابند ہوں یا نہ ہوں اللہ انہیں بہشت میں ہی ڈال دے گا ۔

اور اگر آیت کا مطلب یہی ہو کہ «السابقون الأولون» میں شامل افراد نے کبھی گناہ نہیں کیا ہے اور کسی قسم کی لغزش اور غلطی کے مرتکب ہوئے بغیر دنیا سے معصوم کی حالت میں چلَے گئے ہیں۔ تو یہ تو اہل سنت کے عقیدے کے ساتھ سازگار نہیں ہے ۔یہ تو اہل سنت کے ہی مسلم اور یقینی اعتقادات کا انکار کرنا ہے۔  

آگر یہ کہا جائے کہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں نے گناہ انجام دیا ہے ظلم کیا ہے فسق و فجور کے مرتکب ہوئے ہیں،لیکن پھر بھی اللہ ان سے راضی ہے اور ان کو بہشت میں ہی داخل کیا جائے گا، تو یہ نظریہ قرآن کی اور بہت سی آیات کے مخالف ہے۔

 کیونکہ اللہ سورہ توبہ کی آیت 96 میں فرماتا ہے :

فَإِنَّ اللَّهَ لا يَرْضي عَنِ الْقَوْمِ الْفاسِقين .

تو خدا تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا ۔

اسی طرح آل عمران کی 57 اور  140 نمبر آیت میں فرماتا ہے:

وَ اللَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمين .

اللہ ظلم کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا .

اگر اهل سنت کے مدعا کو قبول کیا جائے تو یہ بھی کہنا ہوگا کہ اللہ فاسق، گناہ گار اور ظالم لوگوں سے راضی نہیں ہے لیکن جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ہے، اللہ ہمیشہ ان سے راضی ہی ہے ان کا فسق و فجور اللہ کی رضایت میں کوئی تاثیر نہیں رکھتا !!

و يا اسی طرح اللہ سوره يونس میں فرماتا ہے:

وَ الَّذينَ كَسَبُوا السَّيِّئاتِ جَزاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِها وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ما لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ عاصِمٍ كَأَنَّما أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعاً مِنَ اللَّيْلِ مُظْلِماً أُولئِكَ أَصْحابُ النَّارِ هُمْ فيها خالِدُون . يونس / 27.

اور جن لوگوں نے برائیاں کمائی ہیں ان کے لئے ہر برائی کے بدلے ویسی ہی برائی ہے اور ان کے چہروں پر گناہوں کی سیاہی بھی ہوگی اور انہیں عذاب الٰہی سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا -ان کے چہرے پر جیسے سیاہ رات کی تاریکی کا پردہ ڈال دیا گیا ہو -وہ اہل جہّنم ہیں اور اسی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ۔

اور جیساکہ سورہ زخرف میں اللہ فرماتا ہے :إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فيِ عَذَابِ جَهَنَّمَ خَالِدُون . الزخرف / 74.

بیشک مجرمین عذابِ جہّنم میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

اگر اهل سنت کا مدعا صحیح ہو تو یہ قبول کرنا ہوگا کہ اللہ ہر گناہ انجام دینے والے کو سزا دے گا اور ان کے چہرے پر ذلت اور خواری چھاجائے گی اور یہ دوزخی ہوں گے۔۔۔۔ لیکن جو (السابقون الأولون)  میں شامل ہوں ان کا کوئی گناہ بھی حساب نہیں ہوگا اور یہ لوگ کبھی بھی جہنم میں داخل نہیں ہوں گے۔چاہئے گزشتہ اور آئندہ کے تمام خلائق کے گناہ ان کے گردن پر ہی کیوں نہ ہو!

4. اللہ کے پیغمبروں سے بھی حساب و کتاب لیا جائے گا :

اہل سنت کے عقیدے کے مطابق اللہ مہاجرین اور انصار میں سے سبقت والے پر ہمیشہ کے لئے راضی ہوا ہے اور یہ لوگ بغیر کسی حساب و کتاب کے بہشت میں ہی جائیں گے ۔جبکہ قرآن مجید کی آیات سے یہ بات ثابت ہے کہ اللہ کے پیغمبر بھی بغیر حساب وکتاب بہشت میں داخل نہیں ہوں گے ۔قرآنی آیات کے مطابق تو اللہ کے پیغمبر بھی قیامت کے دن حساب و کتاب کے قاعدے سے خارج نہیں ہیں۔ انہیں بھی حساب و کتاب دینا ہوگا جیساکہ اللہ سورہ اعراف میں فرماتا ہے:

فَلَنَسْلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْلَنَّ الْمُرْسَلِينَ. الأعراف / 6.

پس اب ہم ان لوگوں سے بھی سوال کریں گے اور ان کے رسولوں سے بھی سوال کریں گے!.

یہاں تک کہ اللہ اپنے پیغمبروں کو یہ دھمکی دیتا ہے کہ ایک ذرہ بھی شرک اختیار کرئے تو ان کے سارے نیک اعمال ختم ہوں گے اور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔جیساکہ ارشاد ہوتا ہے:

وَلَوْ أَشرْكُواْ لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كاَنُواْ يَعْمَلُون . انعام / 88.

اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو ان کے کیے ہوئے تمام اعمال برباد ہو جاتے ۔

اللہ کے آخری نبی صلي الله عليه وآله وسلم سے خطاب ہوا ہے:

وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَي الَّذينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخاسِرين . الزمر / 65.

اور بتحقیق آپ کی طرف اور آپ سے پہلے انبیاء کی طرف یہی وحی بھیجی گئی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضرور حبط ہو جائے گا اور تم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔

سورہ حافۃ میں موجود دھمکی کو دیکھے تو ہر قسم کا شک و شبہہ دور ہوجاتا ہے کہ اللہ کے کسی بندے کے درمیان بھی اس سلسلے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ سب کو اپنے کیے اعمال کا جواب دینا ہے حتی اللہ کی سب سے برتر مخلوق خاتم انبیاء ہی کیوں نہ ہو :

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ. لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ. ثمُ َّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِين . فَمَا مِنكمُ مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينب الحاقة / 44 ـ 47.

اور اگر اس (نبی) نے کوئی تھوڑی بات بھی گھڑ کر ہماری طرف منسوب کی ہوتی ۔ تم ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے پھر ان کی رگ گردن کاٹ ڈالتے پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔

جب اللہ اپنے نبی کو اس طرح دھمکی دیتا ہے۔تو اہل سنت کے پاس اس بات کو کہنے کا کیا جواز موجود ہے کہ خداوند مہاجرین اور انصار میں سے اسلام اورایمان میں پہل کرنے والوں سے ہمیشہ راضی ہی ہے۔چاہئے جتنا بھی برا کام انجام دئے ان کا کوئی حساب و کتاب نہیں ہوگا ، یہ سب یقینی طور پر بہشت میں داخل ہوں گے؟

یہ بات چھوڑے اللہ نے اسی دنیا میں اپنے عظیم پیغمبروں کو ترک اولی{ اہل سنت کی نگاہ میں گناہ } کی وجہ سے سخت سزادی ہے۔

 حضرت آدم عليه السلام  کو ایک ترک اولی کی وجہ سے بہشت سے نکال دیا :

وَ قُلْنَا يَادَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَ زَوْجُكَ الجْنَّةَ وَ كلاُ مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هَاذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ.فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنهَْا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كاَنَا فِيهِ وَ قُلْنَا اهْبِطُواْ بَعْضُكمُ ْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَ لَكمُ ْ فيِ الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَ مَتَاعٌ إِليَ حِينٍ. فَتَلَقَّي ءَادَمُ مِن رَّبِّهِ كلَمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيم . البقره / 35 ـ 37.

اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے

پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش ونشاط) میں تھے، اس سے ان کو نکلوا دیا۔ تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں سے) چلے جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے

پھر آدم علیہ السلام نے اللہ نے کلمات کی تعلیم حاصل کی اور ان کی برکت سے اللہ نے ان کی توبہ قبول کی۔ وہ توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔

 

حضرت یونس نھنگ کے پیٹ میں چلا گیا ۔۔۔

وَ ذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَي فيِ الظُّلُمَتِ أَن لَّا إِلَاهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنيّ ِ كُنتُ مِنَ الظَّلِمِينَ. فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَ نجََّيْنَاهُ مِنَ الْغَمّ ِ وَ كَذَالِكَ نُجِي الْمُؤْمِنِين . الأنبياء / 87 ـ 88.

اور ذوالنون کو بھی (اپنی رحمت سے نوازا) جب وہ غصے میں چل دیے اور خیال کرنے لگے کہ ہم ان پر سختی نہیں کریں گے، چنانچہ وہ اندھیروں میں پکارنے لگے : تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، یقینا میں ہی زیادتی کرنے والوں میں سے ہوں ۔

و حضرت نوح کو اپنے گناہ کار بیٹے کی نجات کی درخواست کرنے کی وجہ سے سزا دی : وَنَادَي نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبّ ِ إِنَّ ابْنيِ مِنْ أَهْليِ وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ الحْاكِمِينَ. قَالَ يَنُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيرْ صَالِحٍ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنيّ ِ أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ. قَالَ رَبّ ِ إِنيّ ِ أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْئَلَكَ مَا لَيْسَ ليِ بِهِ عِلْمٌ وَإِلَّا تَغْفِرْ ليِ وَتَرْحَمْنيِ أَكُن مِّنَ الْخَاسِرِين . هود / 45 ـ 47.

۔ اور نوح نے اپنے رب کو پکار کر عرض کی: اے میرے پروردگار! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اوریقینا تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

فرمایا: اے نوح! بے شک یہ آپ کے گھر والوں میں سے نہیں ہے، اس کا کردار صحیح نہیں ہے لہٰذا جس چیز کا آپ کو علم نہیں اس کی مجھ سے درخواست نہ کریں، میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ مبادا نادانوں میں سے ہوجائیں۔

۔نوح نے کہا: میرے رب میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کرو ں جس کا مجھے علم نہیں ہے اور اگر تو مجھے معاف نہیں کرے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔

 اب یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ اپنے عظیم پیغمبروں کو تو ایک ترک اولی کی وجہ سے سزا دے ؛ لیکن اصحاب اپنے برے کام مثلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی کے گھر کو آگ لگانے کی دھمکی دے ،ان کی پسلی توڑ دے ،ان کے فرزند کو شہید کر دے ، اللہ کی طرف سے منتخب خلیفہ کو ہٹا کر خود مسند خلافت پر کسی شائستگی کے بغیر بیٹھ جائے ، بدعتیں ایجاد کرئے اور اسلام کو اسی کے اصلی راستے سے ہٹادے اور ۔۔۔۔۔۔ ان سب کے باوجود ان کا کوئی حساب و کتاب نہ ہو ،انہیں ان کے برے کاموں کی سزا دینے کے بجائے الٹا انہیں یقینی طور پر بہشت میں داخل ہونے کا وعدہ دے اور ان سے ہمیشہ کے لئے اپنی رضایت کا اعلان بھی کرے ؟

5. اللہ، رسول خدا (ص) کی ازواج کو دھمکی دیتا ہے:

اس میں شک نہیں کہ رسول اللہ کی بعض ازواج پہلے اسلام لانے والوں میں سے تھی مثلا سودہ۔۔۔۔لہذا اہل سنت کے عقیدے کے مطابق ان کو بغیر کسی حساب و کتاب کے بہشت میں ہی جانا چاہئے اور اللہ ان سے ہمیشہ راضی ہی ہوگا۔

لیکن قرآن کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے آپ کی تمام  ازواج کو یہ دھمکی دی ہے کہ اگر ان سے کوئی غلط کام سرزد ہو تو دوسروں سے کئی گنا زیادہ سزا ملے گی۔

يا نِساءَ النَّبِيِّ مَنْ يَأْتِ مِنْكُنَّ بِفاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ وَكانَ ذلِكَ عَلَي اللَّهِ يَسيرا. الأحزاب / 30.

اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو کوئی صریح بے حیائی کی مرتکب ہو جائے اسے دگنا عذاب دیا جائے گا اور یہ بات اللہ کے لیے آسان ہے

تمام مسلمان مفسرین اتفاق نظر رکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے ایک راز کی بات جناب عمر کی بیٹی حفصہ کو بتای لیکن حفصہ نے وہ بات ابوبکر کی بیٹی عائشہ کو بتائی۔پھر دونوں نے ملکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تکلیف دینے کا منصوبہ بنایا۔اللہ نے ان دوںوں کو اس طرح دھمکی دی اور انہیں اس غلط کام کی وجہ سے توبہ کرنے کا حکم دیا :

إِنْ تَتُوبا إِلَي اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُما وَإِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ وَجِبْريلُ وَصالِحُ الْمُؤْمِنينَ وَ الْمَلائِكَةُ بَعْدَ ذلِكَ ظَهيرٌ. التحريم / 4.

اگر تم دونوں خدا کے آگے توبہ کرو (تو بہتر ہے کیونکہ) تمہارے دل کج ہوگئے ہیں۔ اور اگر پیغمبر (کی ایذا) پر باہم اعانت کرو گی تو خدا اور جبریل اور نیک کردار مسلمان ان کے حامی (اور دوستدار) ہیں۔ اور ان کے علاوہ (اور) فرشتے بھی مددگار ہیں ۔

اہل سنت کے ہی مشہور مفسر، قرطبی نے آپنی مشہور تفسیر میں اس آیت کے بارے میں لکھا ہے:

قوله تعالي: ( وإن تظاهرا عليه ) أي تتظاهرا وتتعاونا علي النبي صلي الله عليه وسلم بالمعصية والايذاء.

اللہ کے اس حکم کا معنی ( وإن تظاهرا عليه ) یہ ہے اگر تم دونوں نے ایک دوسرے کی مدد سے پیغمبر کی نافرمانی اور انہیں ایذاء دینے  کی کوشش کی تو۔۔۔

الأنصاري القرطبي، أبو عبد الله محمد بن أحمد (متوفاي671، الجامع لأحكام القرآن، ج 18، ص 189، ذيل آيه، ناشر: دار الشعب - القاهرة.

و سمرقندي نے بھی لکھا ہے :

ثم قال * ( وإن تظاهرا عليه ) * يعني تعاونا علي أذاه ومعصيته فيكون مثلكما كمثل امرأة نوح وامرأة لوط تعملان عملا تؤذيان بذلك رسول الله صلي الله عليه وسلم.

( وإن تظاهرا عليه ) یعنی ایک دوسرے کی مدد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نافرمانی اور انہیں تکلیف پہنچائی تو اس صورت میں تم دونوں کا کام وہی جناب نوح اور لوط کی بیویوں کے کام کی طرح ہوگا ،یہ دونوں اپنے برےکاموں کی وجہ سے اللہ کے ان پیغمبروں کو تکلیف پہنچاتی تھیں۔

السمرقندي، نصر بن محمد بن أحمد أبو الليث (متوفاي367 هـ)، تفسير السمرقندي المسمي بحر العلوم، ج 3، ص 446، ذيل آيه، تحقيق: د. محمود مطرجي، ناشر: دار الفكر - بيروت.

شيعه اور اہل سنت کا اس بات پر اتفاق کہ اس آیت میں مذکور رسول اللہ(ٍص) کی دو بیویوں سے مراد حفصه  اور عائشه تھیں؛ جیساکہ صحیح بخاری میں ہے۔:

عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْن، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاس رضي الله عنهما يُحَدِّثُ أَنَّهُ قَالَ مَكَثْتُ سَنَةً أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنْ آيَة، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَسْأَلَهُ هَيْبَةً لَهُ. حَتَّي خَرَجَ حَاجًّا فَخَرَجْتُ مَعَهُ فَلَمَّا رَجَعْتُ وَكُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَدَلَ إِلَي الأَرَاكِ لِحَاجَة لَهُ قَالَ: فَوَقَفْتُ لَهُ حَتَّي فَرَغَ سِرْتُ مَعَهُ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ اللَّتَانِ تَظَاهَرَتَا عَلَي النَّبِيِّ صلي الله عليه وسلم مِنْ أَزْوَاجِهِ فَقَالَ تِلْكَ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ. قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لأُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ هَذَا مُنْذُ سَنَة، فَمَا أَسْتَطِيعُ هَيْبَةً لَكَ.

عبید بن حنین نے کہ انہوں نے ابن عباس کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: ایک آیت کے متعلق عمر بن خطاب سے پوچھنے کے لیے ایک سال تک میں تردد میں رہا، ان کا اتنا ڈر غالب تھا کہ میں ان سے نہ پوچھ سکا۔ آخر وہ حج کے لیے گئے تو میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا، واپسی میں جب ہم راستہ میں تھے تو رفع حاجت کے لیے وہ پیلو کے درخت میں گئے۔ بیان کیا کہ میں ان کے انتظار میں کھڑا رہا جب وہ فارغ ہو کر آئے تو پھر میں ان کے ساتھ چلا اس وقت میں نے عرض کیا۔ امیرالمؤمنین! امہات المؤمنین میں وہ کون دو عورتیں تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے متفقہ منصوبہ بنایا تھا؟ انہوں نے بتلایا کہ حفصہ اور عائشہ تھیں۔  میں نے کہا : اللہ کی قسم میں یہ سوال آپ سے کرنے کے لیے ایک سال سے ارادہ کر رہا تھا لیکن آپ کے رعب کی وجہ سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 4، ص 1866، ح4629، كتاب التفسير، بَاب تَبْتَغِي مرضات أَزْوَاجِكَ، تحقيق د. مصطفي ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 هـ - 1987م

مسلم بن حجاج عمر بن خطاب بے نقل کیا ہے :

فَدَخَلْتُ عَلَي عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْر أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم فَقَالَتْ مَا لِي وَمَا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ عَلَيْكَ بِعَيْبَتِكَ. قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَي حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ فَقُلْتُ لَهَا يَا حَفْصَةُ أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم لاَ يُحِبُّكِ. وَلَوْلاَ أَنَا لَطَلَّقَكِ رَسُولُ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم.

جناب عمر بن خطاب کہتا ہے : سو داخل ہوا میں عائشہ کے پاس، اور میں نے ان سے کہا کہ اے ابوبکر کی بیٹی! تمہارا یہ حال ہو گیا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذا دینے لگیں ۔ انہوں نے کہا کہ مجھ کو تم سے اور تم کو مجھ سے کیا کام اے خطاب کے فرزند تم اپنی گٹھڑی کی خبر لو (یعنی اپنی بیٹی حفصہ کو سمجھاؤ مجھے کیا نصیحت کرتے ہوپھر میں حفصہ کے پاس گیا اور میں نے اس سے کہا اے حفصہ! تمہارا یہاں تک درجہ پہنچ گیا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذا دینے لگیں اور اللہ کی قسم! تم جانتی ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ  و آلہ وسلم تم کو نہیں چاہتے۔ اور میں نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تم کو اب تک طلاق دے چکے ہوتے۔

 النيسابوري، مسلم بن الحجاج أبو الحسين القشيري (متوفاي261هـ)، صحيح مسلم، ج 2، ص 1105، ح1479، كتاب الطلاق، باب فِي الإِيلاَءِ وَاعْتِزَالِ النِّسَاءِ وَتَخْيِيرِهِنَّ وَقَوْلِهِ تَعَالَي ( وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ )، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

اسی طرح اللہ نے اسی سورہ میں کچھ آیات کے بعد حضرت نوح اور لوط کی بیویوں کا انجام یاد دلایا تاکہ انہیں یہ پیغام دیا جائے کہ کہیں تم دونوں کا انجام ان کی بیویوں کی طرح نہ ہو:

ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً لِلَّذينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَ امْرَأَتَ لُوطٍ كانَتا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبادِنا صالِحَيْنِ فَخانَتاهُما فَلَمْ يُغْنِيا عَنْهُما مِنَ اللَّهِ شَيْئاً وَ قيلَ ادْخُلاَ النَّارَ مَعَ الدَّاخِلينَ. التحريم / 10.

خدا نے کفر اختیار کرنے والوں کے لئے زوجہ نوح اور زوجہ لوط کی مثال بیان کی ہے کہ یہ دونوں ہمارے نیک بندوں کی زوجیت میں تھیں لیکن ان سے خیانت کی تو اس زوجیت نے خدا کی بارگاہ میں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا اور ان سے کہہ دیا گیا کہ تم بھی تمام جہنمّ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔

اہل سنت کی روايات کے مطابق اس آیت کی شان نزول بھی عائشہ اور حفصہ ہی تھیں۔  

ابن قيم جوزية (متوفاي751 هـ) اپنی دو کتاب إعلام الموقعين و الأمثال في القرآن الكريم میں اس سلسلے میں لکھتا ہے:

ثُمَّ في هذه الْأَمْثَالِ من الْأَسْرَارِ الْبَدِيعَةِ ما يُنَاسِبُ سِيَاقَ السُّورَةِ فَإِنَّهَا سِيقَتْ في ذِكْرِ أَزْوَاجِ النبي صلي اللَّهُ عليه وسلم وَالتَّحْذِيرِ من تَظَاهُرِهِنَّ عليه وَأَنَّهُنَّ إنْ لم يُطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُرِدْنَ الدَّارَ الْآخِرَةَ لم يَنْفَعْهُنَّ اتِّصَالُهُنَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلي اللَّهُ عليه وسلم كما لم يَنْفَعْ امْرَأَة نُوحٍ وَلُوط اتِّصَالهمَا بِهِمَا وَلِهَذَا إنَّمَا ضَرْب في هذه السُّورَةِ مَثَلَ اتِّصَالَ النِّكَاحِ دُونَ الْقَرَابَةِ.

قال يحيي بن سَلَّامٍ ضَرَبَ اللَّهُ الْمَثَلَ الْأَوَّلَ يُحَذِّرُ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ ثُمَّ ضَرَبَ لَهُمَا الْمَثَلَ الثَّانِيَ يُحَرِّضُهُمَا علي التَّمَسُّكِ بِالطَّاعَةِ.

قرآن کی ان مثالوں میں بہت ہی عمدہ نکتہ پوشیدہ ہے اور یہ اس آیت کے سیاق سے متناسب ہے کیونکہ یہ پیغمبر کی بیویوں کے بارے میں اور انہیں اللہ کےرسول کی نافرمانی سے ڈرانے کے بارے میں ہے۔ان میں  انہیں یہ وارنیگ دی ہے کہ اگر یہ اللہ اور اللہ کے رسول کی نافرمانی سے باز  نہ آئے اور پھر آخرت کی سعادت کے بھی مشتاق ہو تو جان لیے کہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تعلق اور رشتہ انہیں فائدہ نہیں دے گا۔ جس طرح سے جناب نوح اور لوط کی بیوی ہونا ان کی بیویوں کے لئے فائدہ مند نہ ہوا، رسول اللہ کی بیوی ہونا بھی ایسا ہی ہے۔ اسی مطلب اور پیغام کو پہنچانے کے لئے اس سورہ میں سببی تعلق {بیوی ہونے } کی مثال لائی گئی،نسبی تعلق{ فرزند ہونے} کی مثال نہیں لائی۔

ابن قیم مزید لکھتا ہے :يحيي بن سلام نے کہا ہے : اللہ نے پہلی والی مثال میں عائشہ اور حفصہ کو غلط کام سے روکا اور دوسری مثال میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت اور پیروی کی ترغیب دلائی۔  

الزرعي الدمشقي، محمد بن أبي بكر أيوب (معروف به ابن قيم الجوزية)، إعلام الموقعين عن رب العالمين، ج 1، ص 189، تحقيق: طه عبد الرؤوف سعد، ناشر: دار الجيل - بيروت - 1973؛

الزرعي الدمشقي، محمد بن أبي بكر أيوب (معروف به ابن قيم الجوزية)، الأمثال في القرآن الكريم، ج 1، ص 57، تحقيق: إبراهيم محمد، ناشر: مكتبة الصحابة - طنطا - مصر - 1406، الطبعة: الأولي.

شوكاني نے اس سلسلے میں لکھا ہے :

وما أحسن من قال فإن ذكر امرأتي النبيين بعد ذكر قصتهما ومظاهرتهما علي رسول الله صلي الله عليه وإله وسلم يرشد أقم إرشاد ويلوح أبلغ تلويح إلي ان المراد تخويفهما مع سائر أمهات المؤمنين وبيان أنهما وإن كانتا تحت عصمة خير خلق الله وخاتم رسله فإن ذلك لا يغني عنهما من الله شيئا....

کہنے والے نے کتنی اچھی بات کی ہے ؛ عائشہ اور حفصہ کے واقعے اور ان دونوں کا رسول اللہ ص) کے خلاف سازش کو ذکر کرنے کے بعد جناب نوح ع) اور لوط ع) کی بیویوں کا ذکر کرنے اور انہیں ڈرانے میں ان دونوں  کو اور رسول اللہص)  کی باقی ازواج کو یہ واضح اور محکم پیغام موجود ہے کہ صرف اللہ کے سب سے افضل اور آخری نبی  کی بیوی ہونا ان کی نجات کے لئے کافی نہیں ہے۔

الشوكاني، محمد بن علي بن محمد (متوفاي1255هـ)، فتح القدير الجامع بين فني الرواية والدراية من علم التفسير، ج 5، ص 256، ناشر: دار الفكر - بيروت.

اسی طرح سوره حجرات میں  رسول اللہ(ٍص) کی دو بیویوں کی طرف سے دوسروں کے عیب نکالنے اور  دوسری عورتوں کو غلط القاب سے پکارنے کا ذکر کیا اور غلط کام کی وجہ سے ان کی توبیخ کی۔

يَأَيهُّا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسيَ أَن يَكُونُواْ خَيرْا مِّنهْمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسيَ أَن يَكُنَّ خَيرْا مِّنهْنَّ وَلَا تَلْمِزُواْ أَنفُسَكمُ ْ وَ لَا تَنَابَزُواْ بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْايمَانِ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُوْلَئكَ هُمُ الظَّالِمُون . الحجرات / 11.

ایمان والو خبردار کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے کہ شاید وہ اس سے بہتر ہو اور عورتوں کی بھی کوئی جماعت دوسری جماعت کا مسخرہ نہ کرے کہ شاید وہی عورتیں ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو طعنے بھی نہ دینا اور اِرے اِرے القاب سے یاد بھی نہ کرنا کہ ایمان کے بعد بدکاریً کا نام ہی بہت اِرا ہے اور جو شخص بھی توبہ نہ کرے تو سمجھو کہ یہی لوگ درحقیقت ظالمین ہیں

یہ آیت بھی اہل سنت کے مفسروں کی گواہی کے مطابق ابوبکر کی بیٹی عائشہ اور عمر کی بیٹی ،حفصہ کے بارے میں ہی نازل ہوئی ہے۔

فخر رازي نے اس آیت کی تفسير میں لکھا ہے :

وقوله تعالي: * ( ومن لم يتب ) * أمرهم بالتوبة عما مضي وإظهار الندم عليها مبالغة في التحذير وتشديدا في الزجر.

اللہ تعالی نے اس جملے میں( ومن لم يتب ) توبہ کرنے اور گزشتہ کے برے اعمال سے اظہار پشیمانی کا حکم دیا اور یہ حقیقت میں شدید انداز میں ڈرانے اور سخت انداز میں منع کرنے کو بیان کرتی ہے۔  

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج 28، ص 133، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1421هـ - 2000م.

آلوسي  اور بيضاوي لکھتے ہیں :

( فأولائك هم الظ المون ) * بوضع العصيان موضع الطاعة وتعريض النفس للعذاب.

یعنی ان لوگوں نے نافرمانی کو اطاعت کی جگہ قرار دی ہے اور اپنے نفسوں اور جانوں کو  خطرے میں ڈالے ہیں اور اپنے کو عذاب کا مستحق قرار دیا ہے۔

الآلوسي البغدادي، العلامة أبي الفضل شهاب الدين السيد محمود (متوفاي1270هـ)، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، ج 10، ص 122، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

البيضاوي، ناصر الدين أبو الخير عبدالله بن عمر بن محمد (متوفاي685هـ)، أنوار التنزيل وأسرار التأويل (تفسير البيضاوي)، ج 5، ص 218، ناشر: دار الفكر - بيروت.

شوكاني اس آیت کی تفسیر میں لکھتا ہے:

(ومن لم يتب) عما نهي الله عنه ( فأولئك هم الظالمون ) لارتكابهم ما نهي الله عنه وامتناعهم من التوبة، فظلموا من لقبوه، وظلمهم أنفسهم بما لزمها من الإثم.

اگر اللہ کی طرف سے منع شدہ چیز کو انجام دینے کی وجہ سے توبہ نہ کی  تو یہ لوگ ظالم ہیں۔کیونکہ اللہ کی طرف سے منع کی ہوئی چیز کو انجام بھی دے اور پھر بعد میں توبہ بھی نہ کرئے تو  یہ اپنے اوپر ظلم کرنے والا ظالم قرار پائے گا۔

الشوكاني، محمد بن علي بن محمد (متوفاي1255هـ)، فتح القدير الجامع بين فني الرواية والدراية من علم التفسير، ج 5، ص 64، ناشر: دار الفكر - بيروت.

قرطبي اس کی شان نزول کے بارے میں لکھتا ہے :

قال المفسرون: نزلت في امرأتين من أزواج النبي صلي الله عليه وسلم سخرتا من أم سلمة، وذلك أنها ربطت خصريها بسبيبة - وهو ثوب أبيض، ومثلها السب - وسدلت طرفيها خلفها فكانت تجرها، فقالت عائشة لحفصة رضي الله عنهما: أنظري! ما تجر خلفها كأنه لسان كلب، فهذه كانت سخريتهما.

وقال أنس وابن زيد: نزلت في نساء النبي صلي الله عليه وسلم، عيرن أم سلمة بالقصر. وقيل: نزلت في عائشة، أشارت بيدها إلي أم سلمة، يا نبي الله أنها لقصيرة وقال عكرمة عن ابن عباس: إن صفية بنت حيي بن أخطب أتت رسول الله صلي الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، إن النساء يعيرنني، ويقلن لي يا يهودية بنت يهوديين! فقال رسول الله صلي الله عليه وسلم: [ هلا قلت إن أبي هارون وإن عمي موسي وإن زوجي محمد ]. فأنزل الله هذه الآية.

مفسروں نے  کہا ہے : یہ آیت رسول اللہ ص) کی ان دو بیویوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جو ام سلمہ کا مزاق اڑھاتی تھیں۔کیونکہ انہوں نے سفید لباس بہنا تھا لیکن اس کے سرے پیچھے کی طرف لٹکی ہوئی اور راستہ جلتے وقت زمین پر کھنچتی ہوئی جاتی تھی۔

اور عائشہ اور حفصہ نے ایک چیز اس کے پیچھے باندھ لی۔

انس اور زید نے کہا :یہ آیت رسول اللہ(ص) کی ان بیویوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جو جناب ام سلمہ کو قد چھوٹا ہونے کی وجہ سے، ان کی سرزنش کرتی تھیں

کہا گیا ہے : یہ عائشہ کے بارے میں ہے کہ اس نے رسول اللہ(ص) کو اپنے ہاتھوں کے ذریعے جناب ام سلمہ کی طرف اشارہ کیا اور کہا : اے اللہ کے رسول(ص) دیکھو اس کا قد کتنا چھوٹا ہے۔

عکرمہ نے ابن عباس سے نقل کیا ہے : ابن عباس نے کہا :حی بن اخطب کی بیٹی ، صفیہ رسول اللہ(ص) کے پاس آئی اور کہا : اے اللہ کے رسول! عورتیں میرا عیب نکالتی ہیں  اور کہتی ہیں : ایے یہودن ۔ تجھ پر افسوس ہو تیرا باپ اور ماں یہودی تھے ۔ رسول خدا (ص) نے فرمایا : تم کیوں جواب نہیں دیتی کہ میرا بابا ہارون(ع)  اور میرا چچا حضرت موسی(ص)  اور میرا شوہر محمد (ص) ہیں ؟ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی   

الأنصاري القرطبي، أبو عبد الله محمد بن أحمد (متوفاي671هـ)، الجامع لأحكام القرآن، ج 16، ص 326، ذيل آيه، ناشر: دار الشعب - القاهرة.

جو کچھ گزشتہ آیات کی تفسیر میں بیان ہوا اس سے ثابت ہوتا ہے «السابقون الأولون» کے بارے میں اللہ کی رضایت دائمی نہیں ہے بلکہ یہ رضایت ان کے آئندہ کے کاموں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ اپنے رسول کی ازواج میں سے خاص کر عائشہ کو  کہ جو«السابقون الأولون» میں سے ہے،اس طرح دھمکی نہ دیتا کہ غلطی کی صورت میں تمہیں دوسروں سے دو برابر سزا دی جائے گی اور یہاں تک کہ انہیں کافروں کے انجام کی مثال پیش نہ کرتا ۔۔

قابل توجہ نکتہ یہاں پر یہ ہے کہ جناب عائشہ خود ہی اعتراف کرتی ہے کہ رسول اللہ(ص کے بعد ان سے غلط کام سرزد ہوا ہے اسی لئے یہ وصیت کرتی ہے کہ انہیں پیغمبر کے پاس دفن نہ کرئے  بلکہ انہیں دوسری ازواج کے پاس  بقیع میں دفن کرئے.

محمد بن سعد نے الطبقات الكبري  میں اور  ذهبي نے سير اعلام النبلاء میں نقل کیا ہے:

عن قيس، قال: قالت عائشة... إني أحدثت بعد رسول الله صلي الله عليه وسلم حدثا، ادفنوني مع أزواجه. فدفنت بالبقيع رضي الله عنها.

قيس کہتا ہے: عايشه کہتی تھی: میں نے رسول اللہ(صکے بعد بہت سی بدعتیں ایجاد کی ہیں ۔ اسی لئے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج کے پاس بقیع میں دفن کیا جائے۔

الزهري، محمد بن سعد بن منيع أبو عبدالله البصري (متوفاي230هـ)، الطبقات الكبري، ج 8، ص 74، ناشر: دار صادر - بيروت.

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 2، ص 193، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

حاكم نيشاپوري نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:

هذا حديث صحيح علي شرط الشيخين ولم يخرجاه.

یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔

النيسابوري، محمد بن عبدالله أبو عبدالله الحاكم (متوفاي405 هـ)، المستدرك علي الصحيحين، ج 4، ص 7، تحقيق مصطفي عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1411هـ - 1990م

اسی طرح یہاں پر بزرگ اصحاب کی جو یقینی طور پر «السابقون الأولون» کے اعترافات سے بھی استدلال کرسکتے ہیں مثلا  ابوسعيد خدري، براء بن عازب اور دوسرے... ان کے اعترافات سے نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی«السابقون الأولون» کا وہ نتیجہ نہیں نکالتے تھے جو اہل سنت نتیجہ نکالتے ہیں۔

ہم نے  آیت{ بيعت رضوان} کے سلسلے میں اپنی تحقیق میں ان اصحاب کے اعترافات کو مفصل طور پر ذکر کیا ہے لہذا یہاں ان کا تکرار نہیں کریں گے ۔  https://www.valiasr-aj.com/urdu/shownews.php?idnews=1977

 6. قرآن میں بعض اصحاب کے ارتداد کا احتمال موجود ہے :

ہمارے نظریے کے مطابق «السابقون الأولون» سے دائمی رضایت کا نتیجہ لینا ، اصحاب کے مرتد ہونے کےاحتمال اور امکان کو بیان کرنے اور انہیں ارتداد سے دور رہنے کا حکم دینی والی آیات کے بھی مخالف ہے ؛ کیونکہ اگر اللہ ہمیشہ ان سے راضی ہی ہوتا اور ان کا جنت میں جانا یقینی ہوتا تو پھر اللہ کیوں انہیں ڈرا رہا ہے اور انہیں عذاب کا وعدہ دے رہا ہے؟

وَمَا محُمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَ فَإِيْن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَليَ أَعْقَابِكُمْ وَمَن يَنقَلِبْ عَليَ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضرَُّ اللَّهَ شَيًْا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِين . آل عمران / 144.

اور محمد تو صرف ایک رسول ہیں جن سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں کیااگر وہ مر جائیں یا قتل ہو جائیں تو تم اُلٹے پیروں پلٹ جاؤ گے تو جو بھی ایسا کرے گا وہ خدا کا کوئی نقصان نہیں کرے گا اور خدا تو عنقریب شکر گزاروں کو ان کی جزا دے گا.

يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَ يُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَي الْمُؤْمِنينَ أَعِزَّةٍ عَلَي الْكافِرين . المائده / 54.

ایمان والو تم میں سے جو بھی اپنے دین سے پلٹ جائے گا ...تو عنقریب خدا ایک قوم کو لے آئے گا جو اس کی محبوب اور اس سے محبت کرنے والی مومنین کے سامنے خاکسار اور کفار کے سامنے صاحبِ عزت, راسِ خدا میں جہاد کرنے والی اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے والی ہوگی -یہ فضلِ خدا ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور وہ صاحبِ وسعت اور علیم و دانا بھی ہے

واضح سی بات ہے کہ یہ آیات «السابقون الأولون» میں شامل اصحاب اور دوسرے سب اصحاب کو بھی شامل ہے ۔

اس سلسلے میں اور بھی بہت سی آیات موجود ہیں ہم ان سب کو یہاں ذکر نہیں کرتے۔

7. ابوبکر اور عمر کی پشیمانی اور آزوئیں :

اهل سنت کا یہ ادعا ہے کہ انصار اور مہاجرین میں سے ایمان میں سبقت والوں سے اللہ ہمیشہ خوش ہے اور ان کا بہشت میں جاننا بھی یقینی ہے۔لیکن اصحاب کی تاریخ اور ان کی زندگی کا مختصر مطالعہ اور ان کی باتوں کو سننے سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ خود اصحاب مذکورہ آیت کا مذکورہ نتیجہ نہیں نکالتے تھے ، انہیں اپنے اوپر اللہ کے راضی ہونے اور اپنے جنتی ہونے کا یقین نہیں تھا۔

جیساکہ اعتراض کرنے والے نے یہ کہا ہے خلیفہ اول اور دوم  یقینی طور پر «السابقون الأولون» میں سے ہیں؛ لیکن یہ دونوں حضرات اپنی پوری زندگی میں اور وہ بھی زندگی کے آخری لمحات میں جس آرزوں کا اظہار کرتے تھے ان  سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اپنے انجام کے بارے میں پریشان تھے اپنے بہشتی ہونے کا انہیں اطمنان نہیں تھا۔

محمد بن اسماعيل بخاري عمر بن خطاب سے نقل کرتا ہے:

عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ... قَالَ [عمر] وَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لِي طِلاَعَ الأَرْضِ ذَهَبًا لاَفْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَبْلَ أَنْ أَرَاهُ.

اللہ کی قسم آگر میرے پاس سونے سے بری کوئی زمین ہوتی تو میں یہ سب اللہ کی راہ میں خرچ کرتا اور اللہ کےعذاب کو دیکھنے سے پہلے اپنے کو نجات دیتا۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 4، ص 201، ح3692، كتاب فضائل الصحابة، ب 6، باب مَنَاقِبُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، تحقيق د. مصطفي ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 هـ - 1987م.

ابن حجر عسقلاني اس روایت کی وضاحت میں لکھتا ہے:

وانما قال ذلك لغلبة الخوف الذي وقع له في ذلك الوقت من خشية التقصير فيما يجب عليه من حقوق الرعية أو من الفتنة بمدحهم.

عمر نے یہ بات اپنے اوپر  لوگوں کے  واجب حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کے سلسلے میں خوف لاحق ہونے کی وجہ سے کہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 7، ص 43، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

اگر اہل سنت کا ادعا صحیح ہو تو پھر جناب عمر کو  خوف لاحق ہو اور عذاب سے رہائی کے لئے صدقہ دینے اور مال خرچ کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی  ؟

جلال الدين سيوطي عمر بن خطاب سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

عن عمرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَوْ نَادَي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ دَاخِلُونَ الْجَنَّةَ كُلُّكُمْ أَجْمَعُونَ إِلاَّ رَجُلاً وَاحِدَاً لَخِفْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، وَلَوْ نَادَي مُنَادٍ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ دَاخِلُونَ النَّارَ إِلاَّ رَجُلاً وَاحِدَاً لَرَجَوْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ ) ( حل ).

جناب عمر نے کہا :اگر آسمان سے کوئی منادی نداء دے: اے لوگو  تم سب جنتی ہیں سوای ایک آدمی کے ، مجھے یہ خوف ہے کہ وہ آدمی میں ہی ہوں اور اگر منادی نداء دے : کہ اے لوگو سوای ایک آدمی کے تم سب جہنمی ہے تو مجھے امید ہے کہ وہ ایک آدمی  میں ہوں ..

السيوطي، جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر، جامع الاحاديث (الجامع الصغير وزوائده والجامع الكبير)، ج 13، ص 318، ح 1240؛

الأصبهاني، أبو نعيم أحمد بن عبد الله (متوفاي430هـ)، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، ج 1، ص 53، ناشر: دار الكتاب العربي - بيروت، الطبعة: الرابعة، 1405هـ؛

إبن رجب الحنبلي (متوفاي795 هـ)، التخويف من النار والتعريف بحال دار البوار، ج 1، ص 15، ناشر: مكتبة دار البيان - دمشق، الطبعة: الأولي، 1399هـ؛

الهندي، علاء الدين علي المتقي بن حسام الدين (متوفاي975هـ)، كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال، ج 12، ص 277، ح 35916، تحقيق: محمود عمر الدمياطي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1419هـ - 1998م.

اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ خليفه دوم  آیت «السابقون الأولون» سے وہ نتیجہ نہیں نکالتا تھا جو اہل سنت کے علماء نتیجہ نکالتے ہیں۔ 

علي بن جعد اپنی مسند میں، الربعي نے  وصايا العلما،میں ، ابونعيم نے حلية الأولياء میں ، بغوي نے شرح السنة لکھا ہے اور اسی طرح دوسروں نے نقل کیا ہے :

عن ابن عمر: كان رأس عمر علي فخذي في مرضه الذي مات فيه، فقال لي: ضع رأسي، قال: فوضعته علي الأرض، فقال: ويلي وويل أمي إن لم يرحمني ربي.

عمر کا بیٹا کہتا ہے: جس پیماری سے میرے  والد فوت ہوئے اس بیماری کے وقت میرے والد کا سر  میرے زانوں پر تھا ، انہوں نے اس وقت کہا : میرے سر کو زمین پر رکھو اور پھر کہنے لگا : افسوس ہو مجھ  پر ، اگر اللہ مجھ پر رحم نہ کرئے تو۔

الجوهري البغدادي، علي بن الجعد بن عبيد أبو الحسن (متوفاي230هـ) مسند ابن الجعد، ج 1، ص 136، : تحقيق: عامر أحمد حيدر، ناشر: مؤسسة نادر - بيروت، الطبعة: الأولي، 1410هـ - 1990م؛

الربعي، أبو سليمان محمد بن عبد الله بن أحمد بن زبر (متوفاي379هـ)، وصايا العلماء عند حضور الموت، ج 1، ص 37 ـ 38، تحقيق: صلاح محمد الخيمي والشيخ عبد القادر الأرناؤوط، ناشر: دار ابن كثير - دمشق - بيروت، الطبعة: الأولي، 1406هـ - 1986م؛

الأصبهاني، أبو نعيم أحمد بن عبد الله (متوفاي430هـ)، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، ج 1، ص 52، ناشر: دار الكتاب العربي - بيروت، الطبعة: الرابعة، 1405هـ؛

البغوي، الحسين بن مسعود (متوفاي516هـ)، شرح السنة، ج 14، ص 373، تحقيق: شعيب الأرناؤوط - محمد زهير الشاويش، ناشر: المكتب الإسلامي - دمشق _ بيروت، الطبعة: الثانية، 1403هـ - 1983م.

الزمخشري، أبو القاسم محمود بن عمرو بن أحمد جار الله (متوفاي538هـ) ربيع الأبرار، ج 1، ص 116.

هناد بن سري متوفاي243 هـ كه جو  بخاري، مسلم  اور اہل سنت کے باقی صحاح سته کے بھی راوی ہے وہ  كتاب الزهد میں ضحاک سے نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے :

عن الضحاك قال مر أبو بكر بطير واقع علي شجرة فقال طوبي لك يا طير تقع علي الشجر وتأكل الثمر ثم تطير وليس عليك حساب ولا عذاب ياليتني كنت مثلك والله لوددت أن الله خلقني شجرة إلي جانب الطريق فمر بي بعير فأخذني فأدخلني فاه فلاكني ثم ازدردني ثم أخرجني بعرا ولم أك بشرا.

قال وقال عمر يا ليتني كنت كبش أهلي سمنوني ما بدا لهم حتي إذا كنت أسمن ما أكون زارهم بعض ما يحبون فجعلوا بعضي شواء وبعضي قديدا ثم أكلوني فأخرجوني عذرة ولم أك بشرا قال وقال أبو الدرادء يا ليتني كنت شجرة تعضد ولم أك بشرا.

ابوبکر ایک جگہ سے گزر رہا تھا ،درخت کی شاخ پر ایک پرندے کو دیکھا اور کہا:خوش نصیب ہو، درخت کی شاخ پر بیٹھتے ہو ،درخت کے پھل کھاتے ہو،اڑھتے ہو اور کسی قسم کے حساب و کتاب بھی نہیں دیتے،اے کاش میں بھی تمہاری طرح کا پرندہ ہوتا۔ اللہ کی قسم مجھے یہ پسند تھا کہ اللہ مجھے  راستے کے کنارے کا ایک درخت بناتاتاکہ ایک اونٹ میرے پاس سے گزرتا ۔ وہ مجھے اپنے منہ میں لیتا اور مجھے نگل لیتا اور پھر گوبر کی شکل میں اس کے پیٹ سے نکلتا، لیکن انسان نہ ہوتا !!! .

عمر بھی کہتا تھا :کاش میں گھر میں ایک موٹا مینڈھا ہوتا اور گھر والے میرے بدن کے بعض حصوں کا کباب بنا کر اور بعض حصوں کو خشک کر کے کھالیتے اور پھر پاخانے کی شکل میں باہر آتا اور میں انسان ہی خلق نہ ہوتا۔ابودرداء یہ قول نقل کرتا ہے : کاش میں ایک درخت ہوتا اور مجھے کاٹ لیتااور میں انسان خلق نہ ہوتا۔  

 الكوفي، هناد بن السري (متوفاي243هـ)، الزهد، ج 1، ص 258، ح 449، باب من قال ليتني لم أخلق، تحقيق: عبد الرحمن عبد الجبار الفريوائي، ناشر: دار الخلفاء للكتاب الإسلامي - الكويت، الطبعة: الأولي، 1406هـ؛

الأصبهاني، أبو نعيم أحمد بن عبد الله (متوفاي430هـ)، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، ج 1، ص 52، ناشر: دار الكتاب العربي - بيروت، الطبعة: الرابعة، 1405هـ؛

البيهقي، أحمد بن الحسين بن علي بن موسي أبو بكر (متوفاي458هـ) شعب الإيمان، ج 1، ص 485، ح 787، تحقيق: محمد السعيد بسيوني زغلول، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1410هـ؛

السيوطي، جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر، جامع الاحاديث (الجامع الصغير وزوائده والجامع الكبير)، ج 13، ص 317.

اسی طرح محمد بن سعد، نے عبد الله بن عامر بن ربيعه سے نقل کیا ہے :

أخبرنا يزيد بن هارون ووهب بن جرير وكثير بن هشام قال أخبرنا شعبة عن عاصم بن عبيد الله بن عاصم عن عبد الله بن عامر بن ربيعة قال رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخَذَ تِبْنَةً مِنَ الأَرْضِ فَقَالَ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ هذِهِ التبْنَةَ لَيْتَنِي لَمْ أُخْلَقْ لَيْتَنِي لَمْ أَكُ شَيْئَاً لَيْتَ أُمي لَمْ تَلِدْنِي لَيْتَنِي كُنْتُ نَسْيَاً مَنْسِيَّاً۔

عبد الله بن عامر بن ربيعه نے نقل کیا ہے: عمر نے زمین پر سے بھوسا اٹھا یا اور کہا : کاش میں یہ بھوسا ہوتا، کاش میں دنیا میں ہی نہ آتا، کاش میں کچھ بھی نہ ہوتا ،اے کاش میری ماں مجھے جنم ہی نہ لیتی۔ اے کاش میں بالکل فراموش ہوچکا ہوتا۔

الزهري، محمد بن سعد بن منيع أبو عبدالله البصري (متوفاي230هـ)، الطبقات الكبري، ج 3، ص 360، ناشر: دار صادر - بيروت؛

إبن أبي شيبة الكوفي، أبو بكر عبد الله بن محمد (متوفاي235 هـ)، الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار، ج 7، ص 98، تحقيق: كمال يوسف الحوت، ناشر: مكتبة الرشد - الرياض، الطبعة: الأولي، 1409هـ؛

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفاي279هـ) أنساب الأشراف، ج 3، ص 440؛

البيهقي، أحمد بن الحسين بن علي بن موسي أبو بكر (متوفاي458هـ) شعب الإيمان، ج 1، ص 486، تحقيق: محمد السعيد بسيوني زغلول، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1410هـ؛

البغوي، الحسين بن مسعود (متوفاي516هـ) شرح السنة، ج 14، ص 373، تحقيق: شعيب الأرناؤوط - محمد زهير الشاويش، ناشر: المكتب الإسلامي - دمشق _ بيروت، الطبعة: الثانية، 1403هـ - 1983م؛

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج 3، ص 270، تحقيق د. عمر عبد السلام تدمري، ناشر: دار الكتاب العربي - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولي، 1407هـ - 1987م؛

السيوطي، عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفاي911هـ)، تاريخ الخلفاء، ج 1، ص 129، تحقيق: محمد محي الدين عبد الحميد، ناشر: مطبعة السعادة - مصر، الطبعة: الأولي، 1371هـ - 1952م.

اسی طرح یہاں خلیفہ اول کی باتیں بھی قابل توجہ ہے وہ  بھی اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنے کیے ہوئے کاموں پر اظہار پشیمانی کرتا تھا، انہیں کاموں میں سے ایک جناب فاطمہ زہرا(س) کے گھر پر حملہ کرنا تھا۔

لہذا واقعی معنی میں جناب ابوبکر  اور عمر اپنے بہشتی ہونے اوراپنے اوپر اللہ کی راضی ہونے کا یقین رکھتے تھے تو کیوں اس قسم کے کلمات اپنی زبان پر جاری کرتے ہیں اور کیوں اس قسم کی آرزوئیں کرتے ہیں؟

امير مؤمنین علي عليه السلام کے آخری جملات پر ایک نظر:

خلیفہ اول اور دوم کے اعترافات اور آروزوں کو دیکھنے کے بعد مناسب ہے کہ امیر المومنین علی ابن ابی طالب ع کےآخری جملات پر بھی ایک نظر کی جائے اور ان کے زندگی کے آخری جملات کو خلفاء کے جملات کے سامنے رکھ دیا جائے۔ جیساکہ ابن اثير جزري ، اسد الغابة میں لکھتا ہے:

عن عمرو ذي مر قال: لما أُصيب علي بالضربة، دخلتُ عليه وقد عَصَب رأْسه، قال قلت: يا أَمير المؤمنين، أَرني ضربتك. قال: فحلَّها، فقلت: خَدْشٌ وليس بشيء. قال: إِني مفارقكم. فبكت أَم كلثوم من وراء الحجاب، فقال لها: اسكتي، فلو ترين ماذا أَري لما بكيت. قال فقلت: يا أَمير المؤمنين، ما تري؟ قال: هذه الملائكة وفود، والنبييون، وهذا محمد يقول: يا علي، أَبْشِر، فما تصير إِليه خَيرٌ مما أَنت فيه.

عمرو ذي مر کہتا ہے: جب علي عليه السلام پر ضربت لگی تو میں ان کے پاس گیا ، ان کا سر باندھا ہوا تھا میں نے ان سے عرض کیا : یا امیر المومنین تلوار کی زخم کی جگہ مجھے دیکھا دیں :انہوں نے سر پر باندھا رومال اتارا۔ میں نے کہا:  امیر المومنین یہ چھوٹا زخم ہے۔ آپ نے فرمایا : میں اپ تمہارے پاس سے جارہا ہوں۔ ام الکلثوم جو اس وقت پیچھے بیٹھی ہوئی تھی ، رونے لگی ۔امام نے فرمایا : آرام سے رہو اور خاموش ہوجاو۔ اگر وہ چیز جو میں دیکھ رہا ہوں تم بھی دیکھتی تو تم نہ روتی۔ میں نے کہا :یا امیر المومنین ،آپ کیا دیکھ رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: یہاں پر بعض فرشتے اور انبیاء علیہم السلام تشریف فرما ہیں اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی فرمارہے ہیں: تجھے خوش خبری ہو ابھی جو  آگے آپ کے منتظر ہیں وہ ان سے بھی بہتر ہیں۔

 الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاي630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج 4، ص 131، تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1417 هـ - 1996 م.

زمخشري،ربيع الأبرار میں نقل کرتا ہے:

أسماء بنت عميس: أنا لعند علي بن أبي طالب بعد ما ضربه ابن ملجم، إذ شهق شهقة ثم أغمي عليه، ثم أفاق فقال: مرحباً، مرحباً، الحمد لله الذي صدقنا وعده، وأورثنا الجنة، فقيل له: ما تري؟ قال: هذا رسول الله، وأخي جعفر، وعمي حمزة، وأبواب السماء مفتحة، والملائكة ينزلون يسلمون علي ويبشرون، وهذه فاطمة قد طاف بها وصائفها من الحور، وهذه منازلي في الجنة. لمثل هذا فليعمل العاملون.

اسماء بنت عميس سے نقل ہے: جب علي عليه السلام پر ابن ملجم نے ضربت لگائی   اور آپ زخمی ہوئے تو اس وقت میں آپ کے پاس تھی ۔ آپ نے اچانک چیخ ماری اور بے ھوش ہوگِے۔پھر ھوش میں آیا اور فرمایا:خوش آمدید ،خوش آمدید ،اس اللہ کا شکر ہےجس کا وعدہ سچا ہے اور ہمیں جنت کے وارث بنایا ہے۔ آپ سے پوچھنے والے نے پوچھا: آپ کیا دیکھ رہے ہیں ؟ فرمایا : یہ دیکھو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں اور یہ میرا بھائی جعفر  اور یہ میرا چچا جناب حمزہ ہیں ،آسمان کے دروازے کھلے ہیں اور فرشتے نازل ہورہے ہیں مجھے سلام اور بشارت دے رہے ہیں اور یہ فاطمہ(س) ہیں کہ جو حور العین کے جرمٹ میں ہیں اور یہ بہشت میں میرا مقام ہے{ایسی ہی (نعمتوں) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنے چاہئیں۔}

 الزمخشري، أبو القاسم محمود بن عمرو بن أحمد جار الله (متوفاي538هـ) ربيع الأبرار، ج 1، ص 438، طبق برنامه الجامع الكبير، الإصدار الرابع.

8. «السابقون الأولون» کے درمیان منافقین کا وجود بھی اہل سنت کے نظریے کو باطل کرتا ہے:

قرآنی آیات کے مطابق (السابقون الأولون) میں ایسے بھی منافق تھے جس کے بارے میں اللہ نے  «في قلوبهم مرض» کہا ہے؛سورہ مدثر کی ۳۱ نمبر آیت میں ہے :

وَمَا جَعَلْنَا أَصحْبَ النَّارِ إِلَّا مَلَئكَةً وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتهَمْ إِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ لِيَسْتَيْقِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ وَيَزْدَادَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِيمَانًا وَ لَا يَرْتَابَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ وَ الْمُؤْمِنُونَ وَ لِيَقُولَ الَّذِينَ فيِ قُلُوبهِم مَّرَضٌ وَ الْكَافِرُونَ مَا ذَا أَرَادَ اللَّهُ بهَِاذَا مَثَلًا.

اور ہم نے جہنمّ کا نگہبان صرف فرشتوں کو قرار دیا ہے اور ان کی تعداد کو کفار کی آزمائش کا ذریعہ بنادیا ہے کہ اہل کتاب کو یقین حاصل ہوجائے اور ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہوجائے اور اہل کتاب یا صاحبانِ ایمان اس کے بارے میں کسی طرح کا شک نہ کریں اور جن کے دلوں میں مرض ہے اور کفار یہ کہنے لگیں کہ آخر اس مثال کا مقصد کیا ہے اللہ اسی طرح جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور اس کے لشکروں کو اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے یہ تو صرف لوگوں کی نصیحت کا ایک ذریعہ ہے۔

مفسرین کا اس بات پر اتفاق نظر ہے کہ سورہ مدثر ،خاص کر اس کی یہی آیت مکہ میں نازل ہوئی ہے اور «في قلوبهم مرض» سے مراد منافقین ہیں اور یہی منافقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دوسرے مومنوں کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ آئے اور "السابقون الأولون " میں شامل ہوگئے۔.

 اب یہ کیسے قابل قبول ہے کہ اللہ  اپنے رسول کے ساتھ ہجرت کرنے والے سب لوگوں سے ہمیشہ راضی ہوں حتی «في قلوبهم مرض» میں اس کا شمار ہوتا ہو.

9. أبو الغاديه، در ميان (السابقون الأولون):

اسلامی تاریخی میں شروع کے مسلمانوں میں سے  بعض ایسے چہرے  بھی ہیں کہ جن کا شمار  (السابقون الأولون) میں سےہوتا ہے لیکن اہل تشیع اور اہل سنت کا اس بات پر اتفاق نظر ہے، کہ ان میں سے بعض اللہ کے غیض و غضب کا مستحق ہے اور ان  کا ٹھکانہ جہنم ہے ،انہیں میں سے ایک جناب عمار یاسر کا قاتل  ابوالغاديه ہے.

ابن تيميه حراني اس سلسلے میں لکھتا ہے:

كان مع معاوية بعض السابقين الأولين وإن قاتل عمار بن ياسر هو أبو الغادية وكان ممن بايع تحت الشجرة وهم السابقون الأولون ذكر ذلك ابن حزم وغيره.

معاویہ کے ساتھ بعض ایسے لوگ بھی تھے جن کا شمار" السابقون الأولون" (شروع کے مہاجرین)  میں ہوتے تھے ۔انہیں میں سے ایک جناب عمار یاسر کا قاتل ابوالغاديه ہے۔ وہ ان افراد میں سے ایک ہے جنہوں نے  درخت کے نیچے پیغمبر کی بیعت کی ۔جیساکہ اسی مطلب کو ابن حزم وغیرہ نے بیان کیا ہے.

الحراني، أحمد بن عبد الحليم بن تيمية أبو العباس (متوفاي728هـ)، منهاج السنة النبوية، ج6، ص333، تحقيق د. محمد رشاد سالم، ناشر: مؤسسة قرطبة، الطبعة: الأولي، 1406هـ.

جبکہ رسول خدا صلي الله عليه وآله نے یہ اور اس کے گروہ کے بارے میں  فرمایا ہے:  وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، يَدْعُوهُمْ إِلَي الْجَنَّةِ، وَيَدْعُونَهُ إِلَي النَّار.

افسوس کہ  عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرئے گا،جبکہ عمار انہیں جنت کی طرف اور وہ گروہ انہیں جہنم کی طرف دے رہے ہوں گے ۔  

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 1، ص172، ح436، كتاب الصلاة،بَاب التَّعَاوُنِ في بِنَاءِ الْمَسْجِدِ، و ج3، ص1035، ح 2657، الجهاد والسير، باب مَسْحِ الْغُبَارِ عَنِ النَّاسِ فِي السَّبِيلِ، تحقيق: د. مصطفي ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407هـ - 1987م.

عجیب بات یہ ہے جناب عمار یاسر کا قاتل ، ابوالغاديه نے ہی نقل کیا ہے کہ جناب عمار کا قاتل جنہم میں ہوگا۔

ذهبي نے ميزان الإعتدال میں لکھا ہے :

عن أبي الغادية سمعت رسول الله صلي الله عليه وسلم يقول: قاتل عمار في النار وهذا شيء عجيب فإن عمارا قتله أبو الغادية.

  ابوغاديه سے نقل ہوا ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ فرماتے سنا ہے: عمار کا قاتل جہنم کی آگ میں ہوگا ۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ خود اس نے جناب عمار کو قاتل بھی کیا ہے۔

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، ميزان الاعتدال في نقد الرجال، ج 2، ص 236، تحقيق: الشيخ علي محمد معوض والشيخ عادل أحمد عبدالموجود، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1995م.

لہذا نتیجہ یہ نکلا کہ ابوالغاديه کا شمار تو «سابقون الأولون» میں ہوتا تو تھا لیکن آیت کے نازل ہونے کے بعد اس نے ایسا کام انجام دیے کہ جس کی وجہ سے اللہ کی رضایت ، اللہ کے غضب اور ناراضگی میں تبدیل ہوگی۔

10. ثعلبه بن حاطب بدري، بھی (السابقون الاولون) اور مسجد ضرار کے بانیوں میں سے تھا :

ثعلبة بن حاطب انصاري بھی جنگ بدر میں شركت کرنے والوں میں سے تھا اور یقینی طور پر «السابقون الأولون» میں بھی اس کا شمار ہوتا تھا۔اس کی زندگی کا مطالعہ کرنے  سے بہت سے اہم  نتائج سامنے آتے ہیں۔ انہیں نتائج میں سے ایک عدالت صحابہ اور اللہ کا اصحاب پر ہمیشہ راضی رہنے اور اصحاب کے لئے جنت کا قطعی وعدہ اور۔۔۔۔جیسے نظریات کا باطل ہونا ہے ؛کیونکہ اہل ست کے بزرگ علماء کے اعتراف کے مطابق وہ ان بارہ منافقوں میں سے ایک تھا جنہوں نےمسجد ضرار بنائی۔ 

اس طرح اس کا شمار ان افراد میں سے ہے جس کے لئے رسول خدا صلي الله عليه وآله نے  مال و ثروت زیادہ ہونے کی دعا کی اور اس سے یہ عہد وپیمان لیا کہ وہ زكات اور صدقات بھی وقت پر  ادا کرئے؛ لیکن جب اس کا مال زیادہ ہوا تو اس نے اپنے عہد وپیمان کو بلا دیا۔زکات کو ٹیکس کہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وکیل کو زکات دینے سے انکار کیا.

ثعلبه کا جنگ بدر اور  احد میں حاضر ہونا :

ابن اثير جزري نے اسد الغابه میں لکھا ہے:

ب د ع * ثعلبة ) بن حاطب بن عمرو بن عبيد بن أمية بن زيد بن مالك بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالك بن الأوس الأنصاري الأوسي شهد بدرا قاله محمد بن إسحاق وموسي بن عقبة وهو الذي سأل النبي صلي الله عليه وسلم ان يدعو الله ان يرزقه مالا.

محمد بن اسحاق اور  موسي بن عقبه نے کہا ہے: ثعلبه انصاري جنگ بدر میں تھا اسی طرح وہ وہی شخص ہے جس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مال زیادہ ہونے کی دعا کی۔

الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاي630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج 1، ص 237، تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1417 هـ - 1996 م

ابن عبد البر نے الإستيعاب میں لکھا ہے :

آخي رسول الله * بين ثعلبة بن حاطب هذا وبين معتب بن عوف بن الحمراء شهد بدرا وهو مانع الصدقة.

رسول خدا (ص) نے ثعلبه  اور معتب بن عوف کے درمیان عقد برادری قائم کیا ، ثعلبه جنگ بدر میں شریک ہوا یہ وہی شخص ہے جس نے زکات دینے سے انکار کیا.

إبن عبد البر، يوسف بن عبد الله بن محمد (متوفاي463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 1، ص 210، تحقيق علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ.

محمد بن سعد نے بھی الطبقات الكبري میں نقل کیا ہے:

وآخي رسول الله صلي الله عليه وسلم بين ثعلبة بن حاطب ومعتب بن الحمراء من خزاعة حليف بني مخزوم وشهد ثعلبة بن حاطب بدرا وأحدا.

رسول خدا (ص) نے ثعلبه اور معتب کے درمیان عقد برادري قائم کیا، ثعلبہ جنگ بدر اور احد میں حاضر تھا۔

الزهري، محمد بن سعد بن منيع أبو عبدالله البصري (متوفاي230هـ)، الطبقات الكبري، ج 3، ص 460، ناشر: دار صادر - بيروت.

صفدي نے بھی بلکل اسی مطلب کو الوافي بالوفيات میں ذکر کیا ہے:

ثعلبة بن حاطب بن عمرو بن عبيد بن أمية بن زيد بن مالك بن عوف بن عمرو بن عوف آخي رسول الله صلي الله عليه وسلم بينه وبين معتب بن عوف بن الصحراء شهد بدرا وأحدا وهو مانع الصداقة....

الصفدي، صلاح الدين خليل بن أيبك (متوفاي764هـ)، الوافي بالوفيات، ج 11، ص 9، تحقيق أحمد الأرناؤوط وتركي مصطفي، ناشر: دار إحياء التراث - بيروت - 1420هـ- 2000م.

ابن كثير دمشقي سلفي، نے بھی اس کو بدر میں شریک افراد میں سے قرار دیا ہے.

القرشي الدمشقي، إسماعيل بن عمر بن كثير أبو الفداء (متوفاي774هـ)، البداية والنهاية، ج 3، ص 385، باب اسماء اهل البدر، ناشر: مكتبة المعارف - بيروت؛

القرشي الدمشقي، إسماعيل بن عمر بن كثير أبو الفداء (متوفاي774هـ) السيرة النبوية، ج 2، ص 492، باب اسماء اهل البدر.

لہذا اس کا بدری صحابہ میں سے ہونے میں کسی قسم کا شک و شبہہ نہیں ہے۔

ثعلبه  اور مسجد ضرار کی تعمیر :

اللہ نے قرآن مجید میں ان منافقین کی سخت مذمت  کی ہےجنہوں نے اسلام کو نقصان پہنچانے اور کفر کی تقویت کے لئے مسجد ضرار بنائی ۔ جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے:

وَالَّذينَ اتَّخَذُوا مَسْجِداً ضِراراً وَكُفْراً وَتَفْريقاً بَيْنَ الْمُؤْمِنينَ وَإِرْصاداً لِمَنْ حارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنا إِلاَّ الْحُسْني وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكاذِبُون . التوبه / 107.

اور (ان میں سے ایسے بھی ہیں) جنہوں نے اس غرض سے مسجد بنوائی کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور مومنوں میں تفرقہ ڈالیں اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے پہلے جنگ کرچکے ہیں ان کے لیے گھات کی جگہ بنائیں۔ اور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا مقصود تو صرف بھلائی تھی۔ مگر خدا گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں.

بہت سے اہل علم حضرات اور تاریخ اور تفسیر کے ماہرین نے ،ثعلبہ کو بھی ان افراد  کے ساتھ ذکر کیا ہے جنہوں نے مسجد ضرار بنانے میں کردار ادا کیا۔

محمد بن جرير طبري نے اپنی تفسير اور تاريخ ، ابن كثير دمشقي، ابن أبي حاتم رازي، جلال الدين سيوطي، ثعلبي، عبد الرحمن بن جوزي اور ... نے اپنی تفسیروں میں اور ابن هشام حميري نے  السيرة النبوية میں ،اسی طرھ دوسروں نے لکھا ہے:

وَكَانَ الَّذِينَ بَنَوهُ اثْنَي عَشَرَ رَجُلا: خِذَامُ بْنُ خَالِدٍ مِنْ بَنِي عُبَيْدِ بْنِ زَيْدٍ أَحَدُ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَمِنْ دَارِهِ أَخْرَجَ مَسْجِدَ الشِّقَاقِ، وَثَعْلَبَةُ بْنُ حَاطِبٍ مِنْ بَنِي عُبَيْدٍ، وَهَزَّالُ بْنُ أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ، وَمُعْتَبُ بْنُ عُشَيْرَ مِنْ بَنِي ضُبَيْعَةَ بْنِ زَيْدٍ...

مسجد ضرار بنانے والے بارہ لوگ تھے ... اور بنو عبید سے ثعلبه بن حاطب بھی تھا...

الطبري، أبي جعفر محمد بن جرير (متوفاي310هـ)، تاريخ الطبري، ج 2، ص 186، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت؛

الطبري، محمد بن جرير، جامع البيان عن تأويل آي القرآن، ج 11 ، ص 23، ناشر: دار الفكر، بيروت - 1405هـ

القرشي الدمشقي، إسماعيل بن عمر بن كثير أبو الفداء (متوفاي774هـ)، تفسير القرآن العظيم، ج 2، ص 403، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1401هـ؛

إبن أبي حاتم الرازي، عبد الرحمن بن محمد بن إدريس (متوفاي327هـ)، تفسير القرآن، ج 6، ص 1880، تحقيق: أسعد محمد الطيب، ناشر: المكتبة العصرية - صيدا؛

السيوطي، عبد الرحمن بن الكمال جلال الدين (متوفاي911هـ)، الدر المنثور، ج 3، ص 277، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1993؛

الثعلبي النيسابوري، أبو إسحاق أحمد بن محمد بن إبراهيم (متوفاي427 هـ)، الكشف والبيان (تفسير الثعلبي )، ج 6، ص 221، : تحقيق: الإمام أبي محمد بن عاشور، مراجعة وتدقيق الأستاذ نظير الساعدي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت - لبنان، الطبعة: الأولي، 1422هـ-2002م؛

الحميري المعافري، عبد الملك بن هشام بن أيوب أبو محمد (متوفاي213هـ)، السيرة النبوية، ج 5 ، ص 212، تحقيق طه عبد الرءوف سعد، ناشر: دار الجيل، الطبعة: الأولي، بيروت - 1411هـ.

سيوطي نے الإتقان میں لکھا ہے :

5662 * ( والذين اتخذوا مسجدا ضرارا ) * قال ابن إسحاق إثنا عشر من الأنصار خذام بن خالد وثعلبة بن حاطب وهو من بني أمية بن زيد ومعتب بن قشير....

ابن اسحاق نے کہا ہے: انصار میں سے بارہ نفر نے مسجد ضرار بنائی ،انہیں میں سے ایک ثعله بن حاطب تھا.

السيوطي، عبد الرحمن بن الكمال جلال الدين (متوفاي911هـ)، الإتقان في علوم القرآن، ج 2، ص 387، تحقيق: سعيد المندوب، ناشر: دار الفكر - لبنان، الطبعة: الأولي، 1416هـ- 1996م.

سمعاني نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے:

قوله تعالي: * ( والذين اتخذوا مسجدا ضرارا وكفرا ) نزلت الآية في قوم من المنافقين منهم: وديعة بن ثابت، وثعلبة بن حاطب....

یہ آیت منافقوں کے ایک ایسے گروہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے مسجد ضرار بنائی انہیں میں سے ثعلبہ بھی تھا.

السمعاني، أبو المظفر منصور بن محمد بن عبد الجبار (متوفاي489هـ)، تفسير القرآن، ج 2، ص 348، ذيل آيه، تحقيق: ياسر بن إبراهيم و غنيم بن عباس بن غنيم، ناشر: دار الوطن - الرياض - السعودية، الطبعة: الأولي، 1418هـ- 1997م.

بغوي لکھتا ہے:

نزلت هذه الآية في جماعة من المنافقين بنوا مسجدا يضارون به مسجد قباء وكانوا اثني عشر رجلا من أهل النفاق وديعة بن ثابت وخذام بن خالد ومن داره اخرج هذا المسجد وثعلبة بن حاطب وحارثة بن عمرو.

مسجد ضرار سے متعلق آیت منافقوں کے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو مسجد ضرار بنانے کے ذریعے مسجد قباء کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے ان کی تعداد بارہ تھی۔ انہیں میں سے ایک ثعلبہ بن حاطب ہے.

البغوي، الحسين بن مسعود (متوفاي516هـ)، تفسير البغوي، ج 2، ص 326، تحقيق: خالد عبد الرحمن العك، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

أبو الحسن ماوردي نے النكت والعيون میں لکھا ہے:

قوله عز وجل: ) وَالَّذِينَ اتَّخَذُواْ مَسْجِداً ضِرَاراً وَكُفْراً ( هؤلاء هم بنو عمرو بن عوف وهم اثنا عشر رجلاً من الأنصار المنافقين، وقيل: هم خذام بن خالد ومن داره أخرج مسجد الشقاق، وثعلبة بن حاطب، وَمُعَتِّب بن قشير، وأبو حبيبة بن الأزعر، وعباد بن حنيف أخو سهل بن حنيف، وجارية بن عامر، وابناه مُجمِّع وزيد ابنا جارية، ونبتل بن الحارث، وبجاد بن عثمان،

اللہ تعالی کا یہ کلام: (وَالَّذِينَ اتَّخَذُواْ مَسْجِداً ضِرَاراً وَكُفْرا) منافقوں کے ایک گروہ کے بارے میں ہے کہ جو بارہ تھے انہیں میں سے ایک  ثعلبه بن حاطب ہے.

الماوردي البصري الشافعي، علي بن محمد بن حبيب (متوفاي450هـ)، النكت والعيون، ج 2، ص 400، تحقيق: السيد ابن عبد المقصود بن عبد الرحيم، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان.

ابن عادل نے تفسير اللباب میں لکھا ہے:

قال ابنُ عباسٍ، ومجاهدٌ، وقتادةُ، وعامة المفسِّرين: الذين اتَّخَذُوا مسجد الضرار كانوا اثني عشر رجلاً من المنافقين، وديعة بن ثابت، وخذام بن خالد ومن داره أخرج هذا المسجد، وثعلبة بن حاطب....

ابن عباس ، مجاهد ،قتاده اور دوسرے سارے مفسروں نے کہا ہے: جن لوگوں کا مسجد ضرار بنانے میں کردار تھا یہ بارہ منافق تھے انہیں میں سے ثعلبہ بن حاطب بھی تھا۔

تفسير اللباب، ابن عادل، ج 8، ص 367، طبق برنامه المكتبة الشاملة.

ثعلبه اور  زكات ادا کرنے سے انکار:

اسلامی واجبات اور اقتصادی احکام میں سے ایک زکات کا حکم ہے۔ اس پر ایمان اور عقیدہ رکھنا اعتقادی کو تکمیل کرتا ہے،لہذا قرآن کی بعض آیات میں نماز کے حکم کے فورا بعد زکات کا حکم آیا ہے اور یہ اس حکم کی اہمیت اور خاص شرائط کے ساتھ مسلمانوں پر اس کو ادا کرنے کے لازم ہونے کو بتاتی ہے ۔

قرآن میں ایسے افراد کی مذمت بھی ہوئی ہے جنہوں نے زکات دینے سے انکار کیا یا زکات اداء کرنے میں کوتاہی کی۔

 سوره توبه میں منافقوں کے بارے میں آیا ہے:

وَمِنهْم مَّنْ عَاهَدَ اللَّهَ لَئنِ ْ ءَاتَئنَا مِن فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ. فَلَمَّا ءَاتَئهُم مِّن فَضْلِهِ بخَلُواْ بِهِ وَتَوَلَّواْ وَّ هُم مُّعْرِضُونَ. فَأَعْقَبهَمْ نِفَاقًا فيِ قُلُوبهِمْ إِليَ يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِمَا أَخْلَفُواْ اللَّهَ مَا وَعَدُوهُ وَ بِمَا كَانُواْ يَكْذِبُون . التوبة / 75_ 77.

اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیک کاروں میں ہو جائیں گے  لیکن جب خدا نے ان کو اپنے فضل سے (مال) دیا تو اس میں بخل کرنے لگے اور (اپنے عہد سے) روگردانی کرکے پھر بیٹھے۔ تو خدا نے اس کا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کے لیے جس میں وہ خدا کے روبرو حاضر ہوں گے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس لیے کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اور اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔

{اس آیت کی تفسیر میں ایک اہم نکتہ ہے کہ دو قسم کے منافق ہیں ،ایک معروف گروہ، یعنی جو اپنے نفاق کو چھپایے ہوئے تھے۔ دوسرا گروہ اہل ایمان اپنے برئے اعمال کی وجہ سے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور منافق بن جائے۔}

اہل سنت کے اکثر مفسروں نے اعتراف کیا ہے، یہ آیات ثعلبه بن حاطب بدري کے بارے میں نازل ہوئی ہیں.

محمد بن جرير طبري اپنی تفسیر میں لکھتا ہے:

حدثني محمد بن سعد، قال: ثني أبي، قال: ثني عمي، قال: ثني أبي، عن أبيه، عن ابن عباس قوله: ومنهم من عاهد الله لئن آتانا من فضله... الآية، وذلك أن رجلا يقال له ثعلبة بن حاطب من الأنصار، أتي مجلسا فأشهدهم، فقال: لئن آتاني الله من فضله، آتيت منه كل ذي حق حقه، وتصدقت منه، ووصلت منه القرابة فابتلاه الله فآتاه من فضله، فأخلف الله ما وعده، وأغضب الله بما أخلف ما وعده، فقص الله شأنه في القرآن: ومنهم من عاهد الله... الآية، إلي قوله: يكذبون.

ابن عباس سے ان آیات کی شان نزول کے سلسلے میں نقل ہوا ہے:  ثعلبه نامی ایک شخص نے لوگوں کے سامنے یہ اعلان کیا اور لوگوں کو گواہ بنایا : اگر اللہ نے  مجھے اپنے فضل اور ثروت سے نوازا تو میں ہر حقدار کا حق ادا کروں گا مال کے زکات بھی اداء کروں گا ،اپنے رشتہ داروں کا خِیال رکھوں گا ۔ اللہ نے اس کو بہت زیادہ مال دیا تاکہ اس کا امتحان لے سکے ۔لیکن اس نے اپنے کیے کسی وعدے کو بھی پورا نہیں کیا  اور اسی لئے اللہ کے غضب اور ناراضگی کا زمینہ اس نے فراہم کیا اور مذکورہ آیت میں اس  کا واقعہ ذکر ہوا ہے .

الطبري، محمد بن جرير، جامع البيان عن تأويل آي القرآن، ج 10، ص 241، ح 13204، ناشر: دار الفكر، بيروت - 1405هـ.

فخر رازي نے اس کی شأن نزول کے بارے میں کہا ہے :

والمشهور في سبب نزول هذه الآية أن ثعلبة بن حاطب قال: يا رسول الله ادع الله أن يرزقني مالا. فقال عليه السلام: « يا ثعلبة قليل تؤدي شكره خير من كثير لا تطيقه »....

اس آیت کی شان نزول کے بارے میں جو چیز مشہور ہے وہ یہ ہے کہ ثعلبه نے رسول خدا (ص) سے عرض کیا : میرے لئے مال ثروت کی دعا کرئیں۔ آپ نے فرمایا : ثعلبہ اگر مال تھوڑا ہو لیکن اسی کا شکر ادء کرتے رہے تو یہ اس کثیر مال سے بہتر ہے جس کی حق اداء نہ کرسکے۔۔۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج 16، ص 138، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1421هـ - 2000م.

ابن كثير دمشقي نے اس  آيه کو ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے:

وقد ذكر كثير من المفسرين منهم ابن عباس والحسن البصري أن سبب نزول هذه الآية الكريمة في ثعلبة بن حاطب...

ابن عباس  اور حسن بصری جیسے بہت سے مفسروں نے کہا ہے : اس آیت کی شان نزول ثعلبہ بن حا طب ہے۔

القرشي الدمشقي، إسماعيل بن عمر بن كثير أبو الفداء (متوفاي774هـ)، تفسير القرآن العظيم، ج 2، ص 388، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1401هـ.

ابن عربي نے اس آیت کے بارے میں مفسروں کے اقوال نقل کرنے کے بعد لکھا ہے : صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہ آیت ثعلبہ بن حاطب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

هذه الآية اختلف في شأن نزولها علي ثلاثة أقوال الأول أنها نزلت في شأن مولي لعمر قتل حميما لثعلبة فوعد إن وصل إلي الدية أن يخرج حق الله فيها فلما وصلت إليه الدية لم يفعل الثاني أن ثعلبة كان له مال بالشام فنذر إن قدم من الشام أن يتصدق منه فلما قدم لم يفعل الثالث وهو أصح الروايات أن ثعلبة بن حاطب الأنصاري المذكور قال للنبي ادع الله أن يرزقني مالا أتصدق منه....

اس آیت کی شان نزول کے بارے میں تین نظریے ہیں :

1. عمر کے غلاموں میں سے ایک غلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔اس نے ثعلبہ کے ایک قیمتی اونٹ ماریا تھا اور کہا تھا کہ اگر اونٹ کی دیت ادا کرئے تو اللہ کے حقوق کو ادا کرئے گا ۔لیکن دیت لینے کے بعد اپنے وعدے پر عمل نہیں کیا ۔

  2.  ثعلبه کا کچھ مال شام میں تھا اور یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر شام واپس لوٹ آیا تو اس کو صدقہ کے طور پر اداء کرئے گا ۔لیکن جب شام پہنچا تو اپنے وعدے پر عمل نہیں کیا ؛

3.  تیسرا قول جو سب سے صحیح ہے وہ یہ ہے کہ ثعله بن حاطب انصاري کہ جس کا ذکر پہلے ہوا ۔اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ  و  آلہ وسلم سے عرض کیا : اللہ سے میرے لئے مال کی دعا کریں، تاکہ میں صدقہ دوں...

إبن العربي، أبو بكر محمد بن عبد الله (متوفاي543هـ)، أحكام القرآن، ج 2، ص 547، تحقيق: محمد عبد القادر عطا، ناشر: دار الفكر للطباعة والنشر - لبنان.

ابن جوزي نے اس کی شان نزول کے بارے میں موجود اقول کے بارے میں لکھا ہے:

قوله تعالي: ( ومنهم من عاهد الله ) في سبب نزولها أربعة أقوال: أحدها: أن ثعلبة بن حاطب الأنصاري، أتي رسول الله فقال: يا رسول الله، ادع الله أن يرزقني مالا، فقال: " ويحك يا ثعلبة، قليل تؤدي شكره، خير من كثير لا تطيقه " قال: ثم قال مرة...

والثاني: أن رجلا من بني عمرو بن عوف، كان له مال بالشام، فأبطأ عنه، فجهد له جهدا شديدا، فحلف بالله لئن آتانا من فضله... والثالث: أن ثعلبة ومعتب بن قشير، خرجا علي ملأ، فقالا: والله لئن رزقنا الله لنصدقن... والرابع: أن نبتل بن الحارث، وجد بن قيس، وثعلبة بن حاطب، ومعتب بن قشير، قالوا: لئن آتانا الله من فضله لنصدقن. فلما آتاهم من فضله بخلوا به فنزلت هذه الآية، قاله الضحاك.

إبن الجوزي، عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفاي597هـ)، زاد المسير في علم التفسير، ج 3، ص 321، : ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1404هـ.

جس طرح سے ابن جوزی نے نقل کیا ہے اس کے مطابق چاروں صورتوں میں آیت کا شان نزول ثعلبہ ہی ہے. پہلے ،تیسرے اور چوتھے قول میں صراحتاً ثعلبہ کا نام آیا ہے ، دوسرے قول میں بھی «رجلاً من بني عمرو بن عوف» سے مراد ثعلبہ ہی ہے؛ کیونکہ اس کا تعلق اسی قبیلے سے ہے اور عمرو بن عوف اسی کے اجداد میں سے ہے.

اس آیت کی تفسیر میں اہل سنت کے دوسرے مفسروں کے اقوال اور نظریات مختلف اور بہت زیادہ ہیں۔ تکرار اور طولانی ہونے سے بچنے کے  لئے ہم یہاں ان افراد کی کتابوں کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے واضح طور پر یہ کہا ہے کہ یہ آیت ثعلبہ کے بارے میں ہی نازل ہوئی:

أسباب نزول الآيات، الواحدي النيسابوري، ص 170 و الإتقان في علوم القرآن، السيوطي، ج 2 ص 387 و التسهيل لعلوم التنزيل، الغرناطي الكلبي، ج 2 ص 81 و الدر المنثور، جلال الدين السيوطي، ج 3، ص 261 و السيرة النبوية - ابن هشام الحميري - ج 4 ص 978 و المحرر الوجيز في تفسير الكتاب العزيز، ابن عطية الأندلسي، ج 3، ص 61 و تفسير ابن أبي حاتم، ج 6، ص 1847 و تفسير ابن كثير، ج 2، ص 388 و تفسير أبي السعود، ج 4، ص 85 و تفسير البحر المحيط، أبي حيان الأندلسي، ج 8 ص 276 و تفسير البغوي، ج 2، ص 312 و تفسير البيضاوي، ج 3، ص 159 و تفسير الثعالبي، ج 3 ص 199 و تفسير الثعلبي، ج 5 ص 72 و تفسير الجلالين، المحلي، السيوطي، ص 253 و تفسير السمرقندي، ج 2، ص 75 و تفسير السمعاني، ج 2، ص 331 و تفسير النسفي، ج 2، ص 100 و تنوير المقباس من تفسير ابن عباس، الفيروز آبادي، ص 162 و فتح القدير، الشوكاني، ج 2، ص 385 و معاني القرآن، النحاس، ج 3، ص 235 و...

ثعلبه بن حاطب منافقوں میں سے تھا :

مسجد ضرار کے بارے میں موجود مطالب کے علاوہ بھی اہل سنت کے بعض علماء نے واضح طور پر ثعلبہ کو منافقوں کی لیسٹ میں ذکر کیا ہے.

أبو جعفر محمد بن حبيب بغدادي (متوفاي: 245هـ)، نے" المحبر باب أسماء المنافقين" میں لکھا ہے:

اسماء المنافقين وهم ستة وثلاثون رجلا منهم من الاوس (دري) بن الحارث و (الجلاس) بن سويد بن الصامت... و (ثعلبة) بن حاطب و (المعتب) ابن قشير وهما اللذان عادا الله " لئن آتانا من فضله لنصدقن ولنكونن من الصالحين....

منافق 36 لوگ تھے ان میں سے ثعلبة بن حاطب بھی ہے.

البغدادي، أبو جعفر محمد بن حبيب بن أمية (متوفاي245هـ)، المحبر، ج 1، ص 467 ـ 468.

لہذا اس کے منافق ہونے میں کوئی شک وشبہہ نہیں ہے. اب ان مطالب کے پیش نظر کیا یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ نے اس آدمی سے ہمیشہ رضایت کا اعلان کیا اور وہ یقینی طور پر جنت میں ہی جائے گا؟!!!

ایک اہم نکتہ :  جیساکہ بیان ہوا کہ ثعلبہ کو منافقین میں شمار کیا ہے لیکن قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ پہلے مرحلے میں واقعی مومن تھا ایسا نہیں تھا کہ یہ دل میں نفاق لئے ظاہری طور پر مسلمان ہوا ہو ۔جیساکہ آیت کہہ رہی ہے کہ اس کے غلط کردار کے نتیجے میں یہ آہستہ آہستہ خود بخود منافق ہوا ،غلط کردار کی وجہ سے ایمان اس کے دل سے نکلا اور نفاق کی چڑھیں اس کے دل میں مظبوط ہوگئیں اور یوں یہ جہنم کے مستحق بن گیا ۔لہذا ممکن ہے اصحاب کی ایک جماعت غلط کردار کے نتیجے میں منافق بنی ہو۔

11. عثمان کے قاتلوں کا شمار بھی «السابقون الأولون» میں ہوتا ہے:

اہل سنت کے مسلم عقیدے  کے مطابق جو لوگ عثمان کے قتل میں شریک ہیں وہ کافر، ظالم فاسق اور جہنمی ہیں۔

ابن حزم اندلسي کہتا ہے:

فقتلوه ولا خير من ذلك عند أحد لعن الله من قتله والراضين بقتله فما رضي أحد منهم قط بقتله... فساق محاربون سافكون دما حراما عمدا بلا تأويل علي سبيل الظلم والعدوان فهم فساق ملعون.

عثمان کو قتل کیا اور کوئی بھی اس کام کی تعریف نہیں کرتا۔اللہ اس پر لعنت کرئے جس نے عثمان کو قتل کیا اور اس پر بھی اللہ کی لعنت ہو جو اس قتل پر راضی ہوا۔ ان لوگوں نے جو خون بہانا حرام تھا اس کو جان بوجھ کر اور ظلم کے ساتھ بہایا،یہ لوگ فاسق اور نفرین شدہ لوگ ہیں۔

إبن حزم الظاهري، علي بن أحمد بن سعيد أبو محمد (متوفاي456هـ) الفصل في الملل والأهواء والنحل، ج 4، ص 123 ـ 125، ناشر: مكتبة الخانجي، القاهرة.

شمس الدين ذهبي نے تاريخ الإسلام میں لکھا ہے :

فكل هؤلاء نبرأ منهم ونبغضهم في الله، ونكل أمورهم إلي الله عز وجل...

ہم عثمان کے قتل میں شریک سارے لوگوں سے اظہار بیزاری کرتے ہیں،ہم اللہ کی خاطر ان لوگوں کے دشمن ہیں۔ان کے انجام کو ہم اللہ پر ہی چھوڑتے ہیں

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج 3، ص 654، تحقيق د. عمر عبد السلام تدمري، ناشر: دار الكتاب العربي - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولي، 1407هـ - 1987م.

ایک اور جگہ لکھتا ہے:

وروي سليمان بن أبي شيخ، عن عبد الله بن صالح العجلي قال: أقبل الحكم بن هشام يريد مندلا، فلما جلس قال له أصحاب مندل: يا أبا محمد، ما تقول في عثمان قال: كان والله خيار الخيرة، أمير البررة، قتيل الفجرة...

حكم بن هشام سے یہ سؤال ہوا: عثمان کے بارے میں تمہارا نظریہ کیا ہے؟ کہا: اللہ کی قسم وہ زیادہ نیک کام کرنے والے اور  نیک لوگوں کے امیر تھے ۔ان کو فاجر لوگوں نے قتل کیا ....

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج 11، ص 93، تحقيق د. عمر عبد السلام تدمري، ناشر: دار الكتاب العربي - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولي، 1407هـ - 1987م؛

المزي، يوسف بن الزكي عبدالرحمن أبو الحجاج (متوفاي742هـ)، تهذيب الكمال، ج 7، ص 158، تحقيق: د. بشار عواد معروف، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الأولي، 1400هـ - 1980م.

ابن كثير دمشقي سلفي لکھتا ہے:

ولقد أحسن بعض السلف إذ يقول وقد سئل عن عثمان: هو أمير البررة، وقتيل الفجرة، مخذول من خذله، منصور من نصره.

سلف میں سے بعض سے جناب عثمان کے بارے میں سوال ہو تو انہوں نے کتنا اچھا جواب دیا : عثمان نیک لوگوں کا امیر تھا اور فاجر لوگوں نے انہیں قتل کیا۔ ان کو  ذلیل اور خوار کرنے والے ذلیل اور خوار ہو اور ان کی نصرت کرنے والوں کی اللہ نصرت کرئے۔

القرشي الدمشقي، إسماعيل بن عمر بن كثير أبو الفداء (متوفاي774هـ)، البداية والنهاية، ج 7، ص 222، ناشر: مكتبة المعارف - بيروت.

بخاري نے  تاريخ الكبير و الأوسط  میں اور بہت سے اہل سنت کے علماء نے لکھا ہے:جناب عائشه ہمیشہ عثمان کے قاتلوں کو بدعا دیتی تھی اور کہتے تھی:

قُتِلَ وَاللَّهِ مَظْلُومًا لَعَنَ اللَّهُ قَتَلَتَهُ...

عثمان مظلوم قتل ہوا اللہ ان کے قاتلوں پر اللہ لعنت کرے۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، التاريخ الصغير (الأوسط)، ج 1، ص 95، تحقيق: محمود إبراهيم زايد، ناشر: دار الوعي، مكتبة دار التراث - حلب، القاهرة، الطبعة: الأولي، 1397هـ - 1977م؛

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، التاريخ الكبير، ج 4، ص 358، تحقيق: السيد هاشم الندوي، ناشر: دار الفكر؛

النميري البصري، أبو زيد عمر بن شبة (متوفاي262هـ)، تاريخ المدينة المنورة، ج 2، ص 265، تحقيق علي محمد دندل وياسين سعد الدين بيان، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1417هـ-1996م؛

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفاي279هـ) أنساب الأشراف، ج 2، ص 298؛

إبن أبي الدنيا، أبو بكر عبد الله بن محمد بن عبيد (متوفاي281هـ)، مجابو الدعوة، ج 1، ص 65؛

الطبراني، سليمان بن أحمد بن أيوب أبو القاسم (متوفاي360هـ)، المعجم الكبير، ج 1، ص 88، تحقيق: حمدي بن عبدالمجيد السلفي، ناشر: مكتبة الزهراء - الموصل، الطبعة: الثانية، 1404هـ - 1983م؛

القرشي الدمشقي، إسماعيل بن عمر بن كثير أبو الفداء (متوفاي774هـ)، البداية والنهاية، ج 7، ص 195، ناشر: مكتبة المعارف - بيروت.

هيثمي نے اس کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:

رواه الطبراني ورجاله رجال الصحيح غير طلق وهو ثقة.

طبراني نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور اس کے سارے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں، سوای طلق کے کہ جو قابل اعتماد ہے۔

الهيثمي، علي بن أبي بكر (متوفاي807هـ)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج 9، ص 97، ناشر: دار الريان للتراث / دار الكتاب العربي - القاهرة، بيروت - 1407.

أبو بكر آجري نے حذيفة سے نقل کیا ہے:

حدثنا أبو محمد عبد الله بن صالح البخاري، قال: حدثنا إسحاق بن إبراهيم قال: حدثنا حماد بن يزيد، عن ابن عون، عن الوليد [ أبي ] بشر، عن جندب، عن حذيفة قال: قد ساروا إليه والله ليقتلنه، قال: قلت: فأين هو؟ قال: في الجنة، قال: قلت: فأين قتلته؟ قال: في النار والله.

حذيفه نے کہا ہے: عثمان قتل ہوا، میں نے کہا : ابھی کہاں ہے؟ کہا: بہشت میں ہے، میں نے کہا: اس کو قتل کرنے والے کہاں ہیں ؟ کہا: اللہ کی قسم جہنم کی آگ میں.

الآجري، أبي بكر محمد بن الحسين (متوفاي360هـ) الشريعة، ج 4، ص 1996، ح 1464، تحقيق الدكتور عبد الله بن عمر بن سليمان الدميجي، ناشر: دار الوطن - الرياض / السعودية، الطبعة: الثانية، 1420 هـ - 1999 م.

اب ہم بعض ایسے افراد کا نام ذکر کرتے ہیں کہ جن کا شمار «السابقون الأولون» میں بھی ہوتا ہے اورعثمان کو قتل کرنے والوں میں بھی:

فروه بن عمرو انصاري:

فروة بن عمرو ان لوگوں میں سے ہے جو بيعت عقبه اول اور جنگ بدر میں شریک تھا؛لہذا یقینی طور پر «السابقون الأولون» اس کو بھی شامل ہے؛ لیکن یہی شخص عثمان کے قتل میں شریک تھا ۔یہاں تک کہ مالکی مسلک کے امام مالك بن أنس اس کے نام اپنی  کتاب میں لانے سے اجتناب کرتا اور صرف اس کے لقب کا ذکر کرتا تھا.جیساکہ ابن عبد البر نے الإستيعاب میں لکھا ہے:

فروة بن عمرو بن ودقة بن عبيد بن عامر بن بياضة البياضي الأنصاري شهد العقبة وشهد بدرا وما بعدها من المشاهد مع رسول الله صلي الله عليه وسلم... ولم يسمه [المالك] في الموطأ وكان ابن وضاح وابن مزين يقولان إنما سكت مالك عن اسمه لأنه كان ممن أعان علي قتل عثمان رضي الله عنه.

فروة بن عمرو ،بیعت عقبه کے وقت اور جنگ بدر اور دوسری جنگوں میں رسول خدا (ص) کے ساتھ حاضر رہا ... مالک نے اس کا نام موطا میں نہیں لایا، ابن وضاح اور  ابن مزين نے کہا ہے: مالك نے اس لئے اس کا نام نہیں لایا کیونکہ وہ عثمان کے قتل میں شریک تھا۔

إبن عبد البر، يوسف بن عبد الله بن محمد (متوفاي463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 3، ص 1260، رقم: 2074، تحقيق علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ.

الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاي630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج 4، ص 179، تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1417 هـ - 1996 م.

جَبَلَه بن عمرو انصاري، ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے جناب عثمان کو مسلمانوں کی قبرستان میں دفن ہونے نہیں دیا:

جبلة بن عمرو انصاري ساعدي، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بزرگ اصحاب میں سے تھے اور جنگ صفین میں امیر المومنین علیہ السلام کے ساتھیوں میں سے تھے ،لیکن اس کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے جناب عثمان کو قتل کرنے اور ان کے گھر پر حملے کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔یہ ان افراد میں سے ہے جنہوں نے سب سے پہلے عثمان کے خلاف علی الاعلان بات کی اور لوگوں کو اس کے خلاف اکسایا اور یہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے عثمان کو مسلمانوں کی قبرستان میں دفن ہونے نہیں دیا اور ان کے جنازے پر نماز بھی پڑھنے نہیں دیا .

جیساکہ إبن تيميه  نے «السابقون الأولون» کی جو تعریف کی ہے اس تعریف کے مطابق جس کا ذکر پہلے ہوا اور اس نے  ابوالغاديه کو جنگ احد میں شرکت کی وجہ سے «السابقون الأولون» میں سے قرار دیا ، لہذا ابن تیمیہ کی اس تعریف کے مطابق جبلة بن عمرو بھی یقینا انہیں میں میں سے ہے ؛ کیونکہ اہل سنت کے ہی علماء کے مطابق یہ جنگ احد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور کی دوسری جنگوں میں بھی شریک رہا۔

ابن عبد البر قرطبي، نے تو اس کو فاضل اور فقیہ اصحاب میں شمار کیا ہے:

جبلة بن عمرو الأنصاري الساعدي ويقال هو اخو أبي مسعود الأنصاري وفي ذلك نظر يعد في أهل المدينة روي عنه سليمان بن يسار وثابت بن عبيد قال سليمان بن يسار كان جبلة بن عمرو فاضلا من فقهاء الصحابة وشهد جبلة بن عمرو صفين مع علي رضي الله عنه وسكن مصر.

جبلة بن عمرو انصاري، کے بارے میں بعض نے کہا ہے وہ ابومسعود انصاري کے بھائی ہے۔لیکن اس قول میں کچھ شک ہے ۔ وہ مدینہ کا رہنے والا تھا  اور سليمان بن يسار نے کہا ہے: جبلة بن عمرو، فاضل اور فقیہ اصحاب میں سے ہے۔ جنگ صفین میں اس نے علی بن ابی طالب کا ساتھ دیا ۔لیکن مصر میں مقیم رہتا تھا۔

القرطبي، يوسف بن عبد الله بن محمد بن عبد البر (متوفاي463 هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 1، ص 235، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ.

شمس الدين ذهبي نے بھی اس کو فاضل اصحاب میں سے جانا ہے اور کہا ہے وہ جنگ احد میں شریک تھا:

جبلة بن عمرو بن أوس بن عامر الأنصاري الساعدي. وهم بعضهم وقال: هو أخو أبي مسعود البدري: فأبو مسعود من بني لحارث بن الخزرج.

شهد أحداً وغيرها، وشهد فتح مصر وصفين قال ابن عبد البر: كان فاضلاً من فقهاء الصحابة.

جبلة بن عمرو... کے بارے میں بعض نے یہ خیال کیا ہے کہ وہ عبد الله بن مسعد کے بھائی ہےجبکہ ابو مسعود قبیلہ خزرج کے بنی حارث سے تعلق رکھتا تھا۔

وہ جنگ احد اور دوسری جنگوں میں بھی شریک رہا مصر فتح کرتے وقت وہ حاضر تھا اور جنگ صفین میں بھی شریک رہا ۔ ابن عبد البر نے کہا ہے: وہ فاضل اور فقیہ اصحاب میں سے تھا .

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج 4، ص 28، تحقيق: د. عمر عبد السلام تدمري، ناشر: دار الكتاب العربي - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولي، 1407هـ - 1987م.

ابن حجر عسقلاني نے واضح طور پر کہا ہے: وہ جنگ احد میں شریک تھا ۔یہ وہی ہے جس نے عثمان کو بقیع میں دفن ہونے سے روکا۔  

جبلة بن عمرو بن أوس بن عامر بن ثعلبة بن وقش بن ثعلبة بن طريف بن الخزرج بن ساعدة الساعدي الأنصاري قال بن السكن شهد أحدا قال وهو غير أخي أبي مسعود لاختلاف النسبتين قلت هو كما قال وروي بن شبة في أخبار المدينة من طريق عبد الرحمن بن أزهر أنهم لما أرادوا دفن عثمان فانتهوا إلي البقيع فمنعهم من دفنه جبلة بن عمرو الساعدي فانطلقوا إلي حش كوكب ومعهم معبد بن معمر فدفنوه فيه.

جبلة بن عمرو...  ابومسعود کے بھائی نہیں ہے؛ کیونکہ اس کے نسب اور ابومسعود کے نسب میں فرق ہے،جس طرح إبن شبه نے اخبار المدينه میں عبد الرحمن بن أزهر کے واسطے سے نقل کیا ہے: لوگ چاہتے تھے عثمان بقیع میں دفن ہو ،لیکن جبلة بن عمرو انصاري نے اس کام سے منع کیا۔ لہذا عثمان کو  «حش كوكب» (بقیع سے باہر ایک باغ) لے گیا اور معبد بن معمر بھی ان کے ساتھ تھا ،وہی پر عثمان کو دفن کیا۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852 هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج 1، ص 457، رقم: 1081، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412 - 1992.

محمد بن حبيب بغدادي نے جناب عثمان پر نماز پڑھنے اور بقیع میں دفن کرنے سے منع کے سلسلے میں لکھتا:

فلما قتل عثمان بن عفان خرج به نفر من قريش ليلاً ليصلوا عليه ويدفنوه فأتاهم جبلة بن عمرو الساعدي فمنعهم الصلاة عليه.

جس وقت عثمان کا قتل ہوا، قریش کے بعض افراد گھروں سے نکلے تاکہ ان کا جنازہ پڑھے اور ان کو دفن کرئے ، جبلة بن عمرو ساعدي آیا اور نماز پڑھنے سے منع کیا.

البغدادي، محمد بن حبيب (متوفاي245هـ)، المنمق في أخبار قريش، ج 1، ص 295، تحقيق: خورشيد أحمد فارق، ناشر: عالم الكتب - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1405هـ -1985م.

نميري نے تاريخ المدينة میں لکھا ہے :

فانتهوا به إلي البقيع فمنعهم من دفنه جبلة بن عمرو الساعدي فانطلقوا إلي حش كوكب ومعهم عائشة بنت عثمان معها مصباح في حق فصلي عليه مسور بن مخرمة الزهري ثم حفروا له فلما دلوه صاحت بنته عائشة فلم يضعوا علي لحده لبنا وهالوا عليه التراب.

تشييع کرنے والے جنازے کو بقیع لے گیے؛ اور جب جبلة بن عمرو ساعدي نے منع کیا تو  «حش كوكب» کی طرف نکل گئے؛ عائشه بنت عثمان بھی ساتھ تھی ایک چراغ بھی اوپر سے ڈھانپ کر ان کے ساتھ تھا تاکہ کوئی اسے پہچان نہ سکے۔ مسور بن مخرمة زهري نے ان پر نماز پڑھی، اور ایک قبر کھودی ،جس وقت جنازے کو لحد میں اتارنا چاہا تو ان کی بیٹی نے چیخ ماری۔ ان لوگوں نے اس ڈر سے کہ کسی کوپتہ نہ چلے جلدی سے لحد پر کوئی پتھر بھی نہیں رکھا اور اوپر مٹی ڈال دی۔  

النميري البصري، أبو زيد عمر بن شبة (متوفاي262هـ)، تاريخ المدينة المنورة، ج 2، ص 263، تحقيق: علي محمد دندل وياسين سعد الدين بيان، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1417هـ-1996م .

شمس الدين سخاوي لکھتا ہے:

جبلة بن عمرو بن أوس بن عامر بن ثعلبة بن وقش بن ثعلبة بن طريف بن الخزرج بن ساعدة الساعدي الأنصاري شهدا أحدا وروي ابن شبة في أخبار المدينة من طريق عبد الرحمن بن أزهر أنهم لما أرادوا دفن عثمان انتهوا إلي البقيع فمنعهم جبلة هذا من دفنه فانطلقوا به إلي حش كوكب ومعهم معبد بن عمرو فدفنوه به.

السخاوي، الإمام الحافظ شمس الدين محمد بن عبد الرحمن، التحفة اللطيفة في تاريخ المدينة الشريفة، ج 1، ص 235، رقم: 739، (متوفاي902هـ) ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1414هـ/ 1993م.

جبلة بن عمرو شروع کےان افراد میں سے ہے جنہوں نے بہادری کے ساتھ عثمان کے خلاف بولا اور اس کو قتل کرنے کی قسم کھائی ۔بلاذري نے انساب الأشراف میں ، طبري، ابن أثير جزري اور ابن كثير دمشقي سلفي نے  اپنی تاریخ کی کتابوں میں اور نويري نے نهاية الأرب میں لکھا ہے:

مر عثمان بن عفان علي جبلة بن عمرو الساعدي وهو علي باب داره وقد أنكر الناس عليه ما أنكروا فقال له: يا نعثل والله لأقتلنك ولأحملنك علي قلوصٍ جرباء ولأخرجنك إلي حرة النار؛ ثم أتاه وهو علي المنبر فأنزله وكان أول من اجترأ علي عثمان وتجهمه بالمنطق الغليظ، وأتاه يوماً بجامعة فقال: والله لأطرحنها في عنقك أو لتتركن بطانتك هذه وأطعمت الحارث بن الحكم السوق وفعلت وفعلت.

جبلة بن عمرو اپنے گھر کے باہر کھڑا تھا اور عثمان بن عفان کا وہاں سے گزر ہوا ۔۔۔ جبلہ نے کہا: اے نعثل (ایک یہودی کی طرف اشارہ ہے جو بدصورت اور بلند قامت تھا ) اللہ کی قسم تجھےمار دوں گا  اور تجھے ایک بھوکا اور خارش کی بیماری میں مبتلا  اونٹ پر سوار کرادوں گا۔ پھر مسجد میں آیا اور عثمان کو ممبر سے نیچے اتار دیا۔

جبلہ ان آدمیوں میں سے ہے جو سخت لہجے میں عثمان کے خلاف بولتا تھا اور اس سے بات کرتا تھا۔ ایک دن ایک عباء اپنے ساتھ لایا اور کہا : اللہ کی قسم یا اس کو تیری گردن میں ڈال دوں گا یا تمہیں اس شخص کو اپنے سے دور کرنا ہوگا جس کو تم نے  اپنا راز دار بنایا ہوا ہے۔تم نے حارث ابن حکم کو {خلیفہ کے رشتہ داروں میں سے } بازار کا مالک بنایا ہوا ہے اور۔۔۔۔۔۔

الطبري، أبي جعفر محمد بن جرير (متوفاي310)، تاريخ الطبري، ج 2، ص 661، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت؛

الجزري الشيباني، أبو الحسن علي بن أبي الكرم محمد بن محمد بن عبد الكريم (متوفاي630هـ)، الكامل في التاريخ، ج 3، ص 58، تحقيق: عبد الله القاضي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة الثانية، 1415هـ؛

إبن كثير القرشي، إسماعيل بن عمر أبو الفداء (متوفاي774 هـ)، البداية والنهاية ج 7، ص 176، ناشر: مكتبة المعارف - بيروت؛

النويري، شهاب الدين أحمد بن عبد الوهاب (متوفاي733هـ)، نهاية الأرب في فنون الأدب، ج 19، ص 292، تحقيق: مفيد قمحية وجماعة، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1424هـ - 2004م.

ابن عساكر دمشقي جبلہ کے بارے میں لکھتا ہے:

فكان من أشد القوم علي عثمان صوتا جبلة بن عمرو الأنصاري فقالت صفية وصغوها مع عثمان من هذا الذي يرفع صوته علي أمير المؤمنين فقالت عائشة هذا جبلة بن عمرو الأنصاري فصاحت صفية يا جبيلة أترفع صوتك علي أمير المؤمنين فقالت عائشة وصغوها مع الملأ الذين حصروا عثمان لم تصغرين اسمه ادعيه يا جبلة فإن الله لم ينقصه ولم ينتقص اسمه.

جبلة بن عمرو انصاري ان لوگوں میں سے تھا جو عثمان کے خلاف بہت سخت گفتگو کرتا تھا ایک دن اونچی آواز کے ساتھ خلیفہ سے مخاطب ہوا، یہاں تک کہ صفیہ جو عثمان کے ساتھ رہتی تھی ،کہنے لگا: یہ کون ہے جو امیر المومنین کے سامنے اونچی آواز میں بات کرتا ہے؟   

عائشه نے کہا : یہ جبلة بن عمرو انصاري ہے.

صفيه چیخ کر بولی:اے جبيلة! کیا اپنی آواز کو  امير المومنين کے سامنے بلند کرتے ہو؟

عائشه نے کہا : اسے عثمان کو محاصرہ کرنے والوں کے ساتھ ہی چھوڑ دو، تم کیوںکہ اس کے نام کو تصغیر کے ساتھ پکارتی ہو{ اسم تصغیر یا اسم مصغر: وہ اسم ذات جو کسی اسم کی چھوٹائی یا چھوٹا پن ظاہر کرے}؟ اس کو اپنے نام کے ساتھ ہی پکارو ،اللہ نے انہیں چھوٹا نہیں کیا ہے اور اس کا نام بھی چھوٹا نہیں ہوا ہے ،اس کو اس کے نام کے ساتھ پکارو ۔

عبد الرحمن بن عديس:

ابن تيميه کی تعریف کے مطابق  «السابقون الأولون» ابوالغاديه جس کا ذکر پہلے ہوا، یہ آیت ان لوگوں کو شامل ہوتی ہے کہ جن کا شمار بیعت  شجرہ  والوں میں ہوتا ہے۔

أبو الغادية وكان ممن بايع تحت الشجرة وهم السابقون الأولون.

الحراني، أحمد بن عبد الحليم بن تيمية أبو العباس (متوفاي728هـ)، منهاج السنة النبوية، ج6، ص333، تحقيق د. محمد رشاد سالم، ناشر: مؤسسة قرطبة، الطبعة: الأولي، 1406هـ.

بيعت رضوان میں شریک افراد میں سے ایک عبدالرحمن بن عديس ہے۔ جناب عثمان کو قتل کرنے  کے سلسلے میں اس کا کردار بہت زیادہ ہے ۔کہا جاتا ہےمصر سے آئے لشکر اور خلیفہ کے خلاف قیام کرنے والے افراد کے اصلی لیڈروں میں اس کا شمار ہوتا تھا .

ابن عبد البر در الإستيعاب لکھتا ہے :

عبد الرحمن بن عديس البلوي مصري شهد الحديبية ذكر أسد ابن موسي عن ابن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب قال كان عبد الرحمن بن عديس البلوي ممن بايع تحت الشجرة رسول الله صلي الله عليه وسلم قال أبو عمر هو كان الأمير علي الجيش القادمين من مصر إلي المدينة الذين حصروا عثمان وقتلوه.

عبدالرحمن بن عديس بھی درخت کے نیچے بیعت والوں میں سے تھا ۔ یہ خلیفہ سوم کے گھر کا محاصرہ اور انہیں قتل کرنے والوں کی کمانڈری کرتا تھا۔

إبن عبد البر، يوسف بن عبد الله بن محمد (متوفاي463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 2 ص 840، ح 1437، تحقيق علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ.

ہم نے مذکورہ مطلب کو بيعت شجره کی آیت کی تحقیق میں تفصیل سے بیان کیا ہے ہم یہاں دوبارہ  یہاں تکرار نہیں کرتے.

بزرگ صحابی جناب طلحه بن عبيد الله کا جناب عثمان کے قتل میں کیا کردار تھا ؟

طلحة بن عبيد الله سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں سے تھا؛ لہذا یقینی طور پر «السابقون الأولون»میں ان کا شمار ہوتا ہے؛ لیکن دوسری طرف سے ان کا شمار ان لوگوں میں بھی ہوتا ہے جنہوں نے خلیفہ سوم کو قتل کرنے میں اہم کردار اداء کیا۔ یہ بھی اسلامی سرزمین کے مختلف علاقوں میں رہنے والوں کو خط لکھتا اور لوگوں کو خلیفہ کے خلاف ابھارتا۔جناب خلیفہ سوم کے گھر کے محاصرے کے دوران بھی یہ ان لوگوں میں سے تھا جو خلیفہ کے گھر پانی لے جانے سے بھی روکتا تھا۔ اسی لئے مروان بن حکم نے جنگ جمل کے دوران ایک تیر مار کر اس کو قتل کیا اور عثمان کے قتل کا بدلہ لیا.

عبد الرحمن بن عديس، طلحه کے دستور کے مطابق عمل کرتا تھا :

طبري نے اپنی کتاب میں لکھا ہے :

حدثني عبد الله بن عباس بن أبي ربيعة قال دخلت علي عثمان رضي الله عنه فتحدثت عنده ساعة فقال يا ابن عباس تعال فأخذ بيدي فأسمعني كلام من علي باب عثمان فسمعنا كلاما منهم من يقول ما تنتظرون به ومنهم من يقول انظروا عسي أن يراجع فبينا أنا وهو واقفان إذ مر طلحة بن عبيد الله فوقف فقال أين ابن عديس فقيل هاهو ذا قال فجاءه ابن عديس فناجاه بشئ ثم رجع ابن عديس فقال لأصحابه لا تتركوا أحدا يدخل علي هذا الرجل ولا يخرج من عنده. قال فقال لي عثمان هذا ما أمر به طلحة بن عبيد الله ثم قال عثمان اللهم اكفني طلحة بن عبيد الله فإنه حمل علي هؤلاء وألبهم والله إني لأرجو ا أن يكون منها صفرا وأن يسفك دمه انه انتهك مني ما لا يحل له سمعت رسول الله صلي الله عليه وسلم يقول لا يحل دم امرئ مسلم الا في إحدي ثلاث رجل كفر بعد اسلامه فيقتل أو رجل زني بعد احصانه فيرجم أو رجل قتل نفسا بغير نفس ففيم أقتل قال ثم رجع عثمان قال ابن عباس فأردت أن أخرج فمنعوني حتي مر بي محمد بن أبي بكر فقال خلوه فخلوني.

عبد الله بن عباس بن ابوربيعه نقل کرتا ہے: میں عثمان کے پاس گیا اور ان سے گفتگو کی،عثمان نے میرا ہاتھ پکڑا اور گھر سے باہر لوگوں کی باتیں سننے کا کہا ۔ ان میں سے بعض کہہ رہے تھے : ہمیں کس چیز کا انتظار ہے؟ بعض کہہ رہے تھے : منتظر رہیں شاید پلٹ کر آئے۔ اسی دوران طلحه بن عبيد الله آیا ، اور کہا : ابن عديس کہاں ہے ؟ جواب دیا : یہاں ہی ہے، طلحہ نے آہستہ اس کو کچھ کہا، ابن عديس نے اپنے دوستوں سے کہا : کسی بھی صورت میں کسی کو اس گھر میں داخل ہونے یا گھر سے نکلنے کی اجازت نہ دینا.

عثمان نے کہا : یہ  طلحه بن عبيد الله کا حکم ہے، پھر کہا : اے اللہ مجھے اس شخص کے شر سے محفوظ فرمایا، اس نے لوگوں کو اکسایا ہے۔ اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ اس کو فقر و تنگدستی کا شکار کرئے اور اس کا خون بہادیا جائے اور وہ مر جائے۔ کیونکہ وہ ایسا خون بہانا چاہتا ہے جس کو بہانا اس پر حرام ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا ہے ،آپ نے فرمایا:مسلمان کا خون بہانا صرف تین صورت میں جائز ہے۔مسلمان ہونے کے بعد کوئی کافر ہو،کوئی مرد زنا کرئے اور اس کی بیوی بھی ہو،کوئی کسی بے گناہ کو قتل کرئے۔ پھر عثمان نے کہا: میرا جرم کیا ہے کہ یہ لوگ مجھے قتل کرنے کے درپے ہیں؟

ابن عباس کہتا ہے : نکلتے وقت مجھے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے ،لیکن محمد بن ابی بکر کے حکم سے مجھے نکلنے کی اجازت ملی ۔

الطبري، محمد بن جرير (متوفاي310هـ)، تاريخ الطبري، ج 3، ص 411، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت؛

الشيباني، أبو الحسن علي بن أبي الكرم محمد بن محمد بن عبد الكريم (متوفاي630هـ)، الكامل في التاريخ، ج 3، ص 174، تحقيق عبد الله القاضي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة الثانية، 1415هـ.

طلحه جناب عثمان تک پانی لے جانے کی اجازت نہیں دیتا تھا :

بلاذري نے انساب الأشراف میں لکھا ہے :

حرس القوم عثمان ومنعوا من أجل أن يدخل عليه، وأشار عليه بن العاص بأن يُحرم ويلبي ويخرج فيأتي مكة فلا يُقدم عليه، فبلغهم قوله فقالوا: والله لئن خرج لا فارقناه حتي يحكم الله بيننا وبينه، واشتد عليه طلحة بن عبيد الله في الحصار، ومنع من أجل أن يدخل إليه الماء حتي غضب عليّ بن أبي طالب من ذلك، فأدخلت علي روايا الماء.

نگہبان اور محافظ گھر کی حفاظت کر رہے تھے اور کسی کو گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے تھے، ابن عاص نے یہ مشورہ دیا کہ احرام کا لباس پہن لیا جائے اور لوگ لبیک کہتے ہوئے مکہ کی طرف حرکت کرئے تاکہ اس طرح عثمان کی جان محفوظ رہ جائے۔ یہ مشورہ مخالفوں کی کانوں تک جب پہنچا تو انہوں نے یہ قسم کھائی ؛ اگر یہ گھر سے نکلا تو پھر ہم نہیں چھوڑیں گے ۔ یہاں تک کہ اللہ ہمارے  اور اس کے درمیان فیصلہ کر دئے{قتل کرنے کی طرف اشارہ ہے}۔ طلحه بن عبيد الله نے محاصرہ کو اور سخت کیا اور وہاں تک پانی پہنچانے بھی نہیں دیا ، حضرت علی علیہ السلام اس حالت کو دیکھ کو غصہ آیا۔ ۔۔۔۔۔

 البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفاي279هـ) أنساب الأشراف، ج 2، ص 285.

ابن قتيبه دينوري لکھتا ہے :

ثم أقبل الأشتر النخعي من الكوفة في ألف رجل وأقبل ابن أبي حذيفة من مصر في أربع مئة رجل فأقام أهل الكوفة وأهل مصر بباب عثمان ليلا ونهارا وطلحة يحرض الفريقين جميعا علي عثمان ثم إن طلحة قال لهم إن عثمان لا يبالي ما حصرتموه وهو يدخل إليه الطعام والشراب فامنعوه الماء أن يدخل عليه.

مالك اشتر نخعي ہزار لوگوں کے ساتھ کوفہ سے اور ابن أبي حذيفه چار ہزار لوگوں کے ساتھ مصر سے مدینہ آیا اور عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا ۔ طلحہ نے دونوں گروہوں کو عثمان کے خلاف اکسایا ۔وہ  کہتا تھا : تمہارے محاصرے سے اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا،گھر میں غذا اور پانی لے جایا جارہا ہے۔ پانی لے جانے نہ دیا جائے.

الدينوري، أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة (متوفاي276هـ)، الإمامة والسياسة، ج 1، ص 36، تحقيق: خليل المنصور، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1418هـ - 1997م.

طلحه نے مصر کے لوگوں کو خط لکھا تھا :

ابن قتيبه دينوري، طلحه کی طرف مصر والوں کے نام لکھے خط کو اس طرح نقل کرتا ہے:

بسم الله الرحمن الرحيم من المهاجرين الأولين وبقية الشوري إلي من بمصر من الصحابة والتابعين أما بعد أن تعالوا إلينا وتداركوا خلافة رسول الله قبل أن يسلبها أهلها فإن كتاب الله قد بدل وسنة رسوله قد غيرت وأحكام الخليفتين قد بدلت

فننشد الله من قرأ كتابنا من بقية أصحاب رسول الله والتابعين بإحسان إلا أقبل إلينا وأخذ الحق لنا وأعطاناه فأقبلوا إلينا إن كنتم تؤمنون بالله واليوم الآخر وأقيموا الحق علي المنهاج الواضح الذي فارقتم عليه نبيكم وفارقكم عليه الخلفاء غلبنا علي حقنا واستولي علي فيئنا وحيل بيننا وبين أمرنا وكانت الخلافة بعد نبينا خلافة نبوة ورحمة وهي اليوم ملك عضوض من غلب علي شيء آكله.

یہ خط شروع کے مہاجرین اور شوری میں موجود باقی رہنے والے افراد کی طرف سے مصر میں موجود صحابہ اور تابعین کے نام ہے۔

ہمارے پاس آئیں تاکہ خلافت کو نالائق لوگوں کے ہاتھ لگنے سے نجات دے سکے۔ اللہ کی کتاب میں تبدیلی کی ہے اور رسول اللہ کی سنت کو بدل دیا ہے۔ اور پچھلے دو خلفاء کے احکام  بھی بدل دیے ہیں۔

اصحاب اور تابعین میں جو بھی باقی ہو ،انہیں اللہ کی قسم دے کر ہم کہتے ہیں:ہمارے پاس آئیں تاکہ حق کو واپس لیا جائے۔لہذا اگر اللہ اور قیامت پر ایمان ہو تو ہماری طرف حرکت کریں۔ تاکہ حق کو اسی راستے پر دوبارہ لگاسکے حس راستے پر رسول اللہ کے دور میں تھا اور جس حالت میں خلفاء کو ہم نے چھوڑا اسی حالت اور راستے کی طرف واپس پلٹا دیا جائے۔ کیونکہ ابھی صورت حال ہے کہ حق کو پامال کیا گیا ہے ۔ بیت المال پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں اور خلافت کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد جو نبوت اور رحمت کی جانشینی تھی اب یہ ایسی بادشاہت میں تبدیل ہوئی ہے کہ جس کو جو ملے ہڑپ  کر جاتا ہے۔

الدينوري، أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة (متوفاي276هـ)، الإمامة والسياسة، ج 1، ص 34، تحقيق: خليل المنصور، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1418هـ - 1997م.

طلحہ کی طرف سے عثمان کو قتل کرنے کا اعتراف :

ابن عبد البر نے الإستعاب میں لکھا ہے:

روي عبد الرحمن بن مهدي عن حماد بن زيد عن يحيي بن سعيد قال قال طلحة يوم الجمل

ندمت ندامة الكسعي لما شريت رضا بني جرم برغمي

اللهم خذ مني لعثمان حتي يرضي.

طلحه جنگ جمل میں کہتا تھا : میں اس کام سے پشیمان ہوں جس کے ذریعے سے بنی حزم کی خوشنودی حاصل کی گئی.

اے اللہ ! عثمان کے خون کا بدلہ ہم سے لے لے۔

إبن عبد البر، يوسف بن عبد الله بن محمد (متوفاي463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 2، ص 766، تحقيق علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ؛

الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاي630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج 3، ص 85، تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1417 هـ - 1996 م.

محمد بن سعد نے الطبقات الكبري میں لکھا ہے :

أن مروان بن الحكم رمي طلحة يوم الجمل، وهو واقف إلي جنب عائشة بسهم فأصاب ساقه، ثم قال: والله لا أطلب قاتل عثمان بعدك أبدا، فقال طلحة لمولي له: أبغني مكانا. قال: لا أقدر عليه. قال: هذا والله سهم أرسله الله، اللهم خذ لعثمان حتي يرضي، ثم وسد حجرا فمات.

مروان حكم نے جنگ جمل  میں طلحه کو جناب عائشه کے پاس کھڑا دیکھا، ایک تیر مارا ، یہ تیر طلحہ کی پنڈلی میں لگا اور کہا : اللہ کی قسم اس کے بعد عثمان کے قاتل کے پیچھے نہیں جاوں گا، طلحه نے اپنے غلام سے کہا : مجھے کسی امن والی جگہ پر لے جائے،  اور کہا : یہ ایسا تیر تھا جو اللہ کی طرف سے آیا ، اے اللہ ! عثمان کا انتقام مجھ سے لے لینا اور مجھ  سے راضي رہنا ، پھر سر کے نیچے ایک پتھر رکھا اور دنیا سے چلا گیا۔

الزهري، محمد بن سعد بن منيع أبو عبدالله البصري (متوفاي230هـ)، الطبقات الكبري، ج 3، ص 223، ناشر: دار صادر - بيروت؛

المزي، يوسف بن الزكي عبدالرحمن أبو الحجاج (متوفاي742هـ)، تهذيب الكمال، ج 13، ص 422، تحقيق د. بشار عواد معروف، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الأولي، 1400هـ - 1980م.

بلاذري نے أنساب الأشراف میں نقل ہے:

قال مروان يوم الجمل: لا أطلب بثأري بعد اليوم، فرمي طلحة بسهم فأصاب ركبته فكان الدم يسيل فإذا أمسكوا ركبته انتفخت فقال: دعوه فإنما هو سهم أرسله الله، اللهم خذ لعثمان مني اليوم حتي ترضي.

مروان نے جنگ جمل کے دن کہا : آج کے بعد خون کا انتقام لینے کے کوشش نہیں کروں گا، ایک تیر عثمان کی طرف پھینکا اور پھر ،تیر اس کے  گھٹنے پر لگا، خون بہنے لگا زخم کو باندھا لیکن خون اچھل کر نکلنے لگا، طلحه نے کہا : مجھے چھوڑ دو ، یہ ایسا تیر ہے جو اللہ کی طرف سے آیا ہے، اے اللہ! عثمان کے خون کا بدلہ مجھ سے لے لے اور مجھ پر راضی رہے.

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفاي279هـ) أنساب الأشراف، ج 1، ص 311.

بلاذري نے مندرجہ بالا بات کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:

وكان طلحة شديداً علي عثمان فلما كان يوم الجمل قال: إنا داهنا في أمر عثمان فلا نجد اليوم شيئاً أفضل من أن نبذل له دماءنا اللهم خذ لعثمان مني حتي يرضي.

طلحه ،عثمان کے خلاف سخت موقف رکھتا تھا ؛ لیکن جنگ جمل کے دوران اس نے کہا : عثمان کے بارے میں کوتاہی اور غلطی کی ہے،اج بہتریں کام یہی ہے کہ  اس کی خاطر اپنا خون بہا دوں اور یہ کہا : اے اللہ ! عثمان کے خون کا انتقام مجھ سے لے لینا اور مجھ پر راضی رہنا .

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفاي279هـ) أنساب الأشراف، ج 3، ص 311.

ذهبي نے بھی سير أعلام النبلاء میں بلکل اسی مطلب کو ذکر کیا ہے اور لکھا ہے:

قال إبن سعد أخبرني من سمع إسماعيل بن أبي خالد عن حكيم بن جابر قال قال طلحة إنا داهنا في أمر عثمان فلا نجد اليوم أمثل من أن نبذل دماءنا فيه اللهم خذ لعثمان مني اليوم حتي ترضي.

  حكيم بن جبير سے نقل ہوا ہے : ہم نے عثمان کے قتل کے  مسئلے میں ہم نے حق پوشی ،دھوکہ اور فریب دہی سے کام لیا۔ آج ان کے حق میں بہترین کام یہ ہے کہ ہم اپنا خون ان کے لئے بہا دئے  ۔پھر کہا : اے اللہ! آج عثمان کے خون کے بدلے میں اس حد تک مجھ سے خون نکال لینا یہاں تک کہ آپ مجھ سے راضی ہوجائے۔

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 1، ص 35، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

امير مؤمنین عليه السلام عثمان کے قتل میں طلحہ کو قصوروار سمجھتے تھے:

امير مؤمنن عليه السلام نهج البلاغه میں فرماتے ہیں :

وَاللَّهِ مَا اسْتَعْجَلَ مُتَجَرِّداً لِلطَّلَبِ بِدَمِ عُثْمَانَ إِلَّا خَوْفاً مِنْ أَنْ يُطَالَبَ بِدَمِهِ، لأَنَّهُ مَظِنَّتُهُ، وَلَمْ يَكُنْ فِي الْقَوْمِ أَحْرَصُ عَلَيْهِ مِنْهُ، فَأَرَادَ أَنْ يُغَالِطَ بِمَا أَجْلَبَ فيهِ، لِيَلْتَبِسَ الأَمْرُ، وَيَقَعَ الشَّكُّ.

اور خدا کی قسم اس شخص نے خون عثمان کے مطالبہ کے ساتھ تلوار کھینچنے میں صرف اس لئے جلد بازی سے کام لیا ہے کہ کہیں اسی سے اس خون کا مطالبہ نہ کردیا جائے کہ اس امر کا گمان غالب ہے اور قوم میں اس سے زیادہ عثمان کے خون کا پیاسا کوئی نہ تھا۔اب یہ اس فوج کشی کے ذریعہ لوگوں کو مغالطہ میں رکھنا چاہتا ہے اور مسئلہ کو مشتبہ اورمشکوک بنا دینا چاہتا ہے 

نهج البلاغه، خطبه 174.

طلحہ کا قتل عثمان کے خون کے انتقام لینے کے لئے ہوا:

ابن أبي شيبه اپنی کتاب  المصنف میں ، ابن عبد البر نے الإستيعاب میں اور ابن حجر نے تهذيب التهذيب میں نقل کیا ہے:

حدثنا وَكِيعٌ عن إسْمَاعِيلَ عن قَيْسٍ قال كان مَرْوَانُ مع طَلْحَةَ يوم الْجَمَلِ قال فلما اشْتَبَكَتْ الْحَرْبُ قال مَرْوَانُ َلاَ أَطْلُبُ بِثَأْرِي بَعْدَ الْيَوْمِ قال ثُمَّ رَمَاهُ بِسَهْمٍ فَأَصَابَ رُكْبَتَهُ فما رَقَأَ الدَّمُ حتي مَاتَ قال وقال طَلْحَةُ دَعَوْهُ فَإِنَّمَا هو سَهْمٌ أَرْسَلَهُ اللَّهُ.

مروان جنگ جمل میں  طلحه ساتھ تھا ، جس وقت جنگ شروع ہوئی، مروان نے کہا : آج کے بعد عثمان کے خون کا بدلہ لینے کی کوشش نہیں کروں گا ،یہ کہا اور ایک تیر طلحہ کی پھر پھینکا ،تیر طلحہ کے گھٹنے پر آلگا، طلحه نے کہا : یہ تیر اللہ کی طرف سے آیا ہے ، اس کے گھٹنے سے خون نکلتا رہا اور وہ مرگیا ۔

إبن أبي شيبة الكوفي، أبو بكر عبد الله بن محمد (متوفاي235 هـ)، الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار، ج 7، ص 542، ح 37803، تحقيق: كمال يوسف الحوت، ناشر: مكتبة الرشد - الرياض، الطبعة: الأولي، 1409هـ؛

إبن عبد البر، يوسف بن عبد الله بن محمد (متوفاي463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 2، ص 769، تحقيق علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ.

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852هـ) تهذيب التهذيب، ج 5، ص 19، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الأولي، 1404هـ - 1984م.

اس روایت کی سند کی تحقیق:

وكيع بن الجراح: ثقة حافظ عابد من كبار التاسعة.

تقريب التهذيب، ج 2، ص 284، رقم: 7441.

اسماعيل بن ابوخالد: ثقة ثبت من الرابعة مات سنة ست وأربعين.

تقريب التهذيب، ج 1، ص 93، رقم: 439.

قيس بن ابوحازم: ثقة من الثانية مخضرم ويقال له رؤية.

تقريب التهذيب، ج 2، ص 32، رقم: 5583.

ابن عبد البر  الإستيعاب میں لکھتا ہے:

وإن الذي رماه مروان بن الحكم بسهم فقتله فقال لا أطلب بثأري بعد اليوم وذلك أن طلحة فيما زعموا كان ممن حاصر عثمان واستبد عليه ولا يختلف العلماء الثقات في أن مروان قتل طلحة يومئذ وكان في حزبه.

مروان نے طلحہ پر ایک تیر سے حملہ کیا اور اس کو مار دیا ، اور کہا: آج کے بعد میں عثمان کے خون کا بدلہ لینے کی کوشش نہیں کروں گا ؛ کیونکہ  طلحه ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے عثمان کے گھر کا محاصره کیا اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آیا۔

ابن عبد البر  آگے لکھتا ہے : ثقہ علماء کا اس میں اختلاف نہیں ہے کہ طلحہ کو مروان نے قتل کیا جبکہ دونوں ایک ہی لشکر میں تھے{دونوں جناب عثمان کے خون کا انتقام لینے جناب امیر المومنین سے مقابلے میں کھڑے تھے۔}

إبن عبد البر، يوسف بن عبد الله بن محمد (متوفاي463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 2، ص 766، تحقيق علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ..

ابن حجر نے فتح الباري میں لکھا ہے:

وقتل طلحة يوم الجمل سنة ست وثلاثين رمي بسهم جاء من طرق كثيرة ان مروان بن الحكم رماه فأصاب ركبته فلم يزل ينزف الدم منها حتي مات.

طلحه  36 ہجری کو قتل ہوا ، اس کا قاتل مروان حكم تھا۔ اسی کے تیر سے نکلے خون کی وجہ سے وہ مر گیا اور یہ بات متعدد طرق سے نقل ہوئی ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 7، ص 82، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

ذهبي نے سير اعلام النبلاء میں لکھا ہے :

وكيع حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس قال رأيت مروان بن الحكم حين رمي طلحة يومئذ بسهم فوقع في ركبته فما زال ينسح حتي مات رواه جماعة عنه ولفظ عبد الحميد بن صالح عنه هذا أعان علي عثمان ولا أطلب بثأري بعد اليوم.

قيس کہتا ہے : جس وقت مروان بن حكم طلحہ کی طرف تیر مار رہا تھا میں اس کو دیکھ رہا تھا؛ یہ تیر طلحہ کے گھٹنے پر لگا اور اس حد تک خون نکلا کہ وہ مرگیا ۔

ایک اور نقل کے مطابق: (مروان نے کہا:( یہ ایسا آدمی ہے کہ جس نے عثمان کے خلاف لوگوں کی مدد کی ؛ ( میں نے عثمان کے خون کا انتقام اس سے لیا ) اور آج کے بعد پھر عثمان کے خون کا بدلہ لینے کی کوشش نہیں کروں گا۔

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 1، ص 35 ـ 36، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

مروان نے عثمان کے بیٹے سے کہا : میں نےتیرے باپ کے بعض قاتلوں کو سزا دے دیا ہے:

ابن أثير جزري نے اسد الغابه میں نقل کیا ہے:

وكان سَبَبُ قَتْلِ طَلْحَةَ أن مروان بن الحكم رماه بسهم في ركبته، فجعلوا إذا أمسكوا فَمَ الجرح انتفخت رجله، وإذا تركه جري، فقال: دعوه فإنما هو سهم أرسله الله تعالي، فمات منه. وقال مروان: لا أطلب بثأْري بعد اليوم، والتفت إلي أبان بن عثمان، فقال: قد كفيتك بعض قتلة أبيك.

طلحہ کے مرنے کا سبب ، مروان بن حکم کا وہ تیر تھا جو طلحہ کے گھٹنے پر آلگا اور جب زخم کو باندھا جاتا تو زخم خراب ہوجاتا اور جب کھولتا تو خون نکلنا شروع ہوتا ۔ طلحہ نے کہا : مجھے چھوڑ دو، یہ ایسا تیر ہے جو اللہ کی طرف سے آیا ہے۔طلحہ اسی زخم کی وجہ سے دنیا سے چلا گیا ۔مروان نے کہا: آج کے بعد عثمان کے خون کا انتقام لینے کی کوشش نہیں کروں  گا اور مروان نے ابان بن عثمان سے کہا : میں نے تیرے باپ کے بعض قاتلوں سے انتقام لیا ۔

الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاي630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج 3، ص 86، تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1417 هـ - 1996 م.

ابن عبد البر،الإستيعاب میں لکھتا ہے :

رمي مروان طلحة بسهم ثم التفت إلي أبان بن عثمان فقال قد كفيناك بعض قتلة ابيك.

مروان نے  طلحه کی طرف تیر مارا اور پھر ابان ابن عثمان سے مخاطب ہو کر کہا : میں نے تجھے تیرے باپ کے بعض قاتلوں سے رہائی دلائی۔

إبن عبد البر، يوسف بن عبد الله بن محمد (متوفاي463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 2، ص 768، تحقيق علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ؛

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 1، ص 36، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ؛

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج 3، ص 487، تحقيق د. عمر عبد السلام تدمري، ناشر: دار الكتاب العربي - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولي، 1407هـ - 1987م.

سودان نے عثمان کو  طلحه کے حکم سے قتل کیا :

عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبزي عن أبيه قال رأيت اليوم الذي دخل فيه علي عثمان فدخلوا من دار عمرو بن حزم خوخة هناك حتي دخلوا الدار فناوشوهم شيئا من مناوشة ودخلوا فوالله ما نسينا أن خرج سودان بن حمران فأسمعه يقول أين طلحة بن عبيد الله قد قتلنا ابن عفان.

سعيد بن عبد الرحمن بن ابزي نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے: میں دیکھ رہا تھا کہ لوگ عمرو بن حزم  کے گھر کے دوازے سے عثمان کے گھر میں داخل ہورہے تھے۔ اللہ کی قسم میں یہ بھول نہیں کرسکتا ؛سودان بن حمران عثمان کے گھر سے باہر نکلا اور میں نے اس کو یہ کہتے سنا :طلحہ کہاں ہے؟ {اس کو یہ بتائے }ہم نے عفان کے بیٹے کو قتل کیا ہے ۔

 

قتل عثمان میں جناب عائشه کا کردار:

جناب عائشہ ان افراد میں سے ایک ہے جنہوں نے لوگوں کو جناب عثمان کے خلاف ورغلانے اور ان کو قتل کرانے میں اہل کردار اداء کیا۔ خلیفہ  نے جس وقت بیت المال سے جناب عائشہ کے حصے کو کچھ کم کیا اس وقت سے ہر روز جناب عائشہ خلیفہ کے خلاف بولتی تھی اور دینی دستورات کے خلاف انجام پانے والے خلیفہ کے کاموں کو لوگوں کے لئے بیان کرتی تھی ۔

کیونکہ جناب عائشہ حضور کی زوجہ بھی تھی اور کیونکہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی بیویوں کا خاص احترام رکھتے تھے اسی لئے ان کی باتیں لوگوں پر زیادہ اثر انداز ہوتی تھیں۔یہی چیزیں سبب بنی ،لوگ دور دراز کے علاقوں سے مدینہ آئے اور عثمان کو قتل کیا۔

اہل سنت کے مشہور مفسر فخر رازی اس سلسلے میں لکھتا ہے :

الحكاية الثانية أن عثمان رضي الله عنه أخر عن عائشة رضي الله عنها بعض أرزاقها فغضبت ثم قالت يا عثمان أكلت أمانتك وضيعت الرعية وسلطت عليهم الأشرار من أهل بيتك والله لولا الصلوات الخمس لمشي إليك أقوام ذوو بصائر يذبحونك كما يذبح الجمل.

فقال عثمان رضي الله عنه: (ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً لِلَّذِينَ كَفَرُوا اِمْرَأَةَ نُوحٍ وَامْرَأَةَ لُوطٍ الآية. التحريم: 10/66.

فكانت عائشة رضي الله عنها تحرض عليه جهدها وطاقتها وتقول: ايّها الناس هذا قميص رسول الله صلي الله عليه وسلم لم يبل وقد بليت سنّته اقتلوا نعثلا قتل الله نعثلا....

عثمان نے عائشہ کے اخراجات پورا کرنے میں کوتاہی کی ، اسی لئے جناب عائشہ ان سے ناراض ہوئی اور عثمان سے کہا: جو  چیز تیرے پاس امانت تھی اسے تو نے کھائی ہے، امت کو تو نے ذلیل کیا ہے۔تیرےخاندان کے برے لوگوں کو تو نے امت پر مسلط کیا ہے۔ اللہ کی قسم اگر تیرا یہی پانچ وقت کی نماز پڑھنا نہ ہوتا تو بعض لوگ تجھ پر حملہ کرتے اور تجھے اونٹ کی طرف ذبح کردیتے۔  

جناب عثمان بھی قرآن مجید کی ان دو آیتوں{ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً لِلَّذِينَ كَفَرُوا اِمْرَأَةَ نُوحٍ وَامْرَأَةَ لُوطٍ الآية. التحريم: 10/66.} کو ذکر کرتا {کیونکہ ان میں جناب نوح ع اور لوط ع کی بیویوں کی مذمت ہوئی ہے لہذا جناب عائشہ کو اس کے ذریعے سے جواب دیتا}

جناب عائشه بھی پوری قوت اور طاقت کے ساتھ لوگوں کو عثمان کے خلاف اکساتی اور کہتی: لوگو! رسول خدا (ص) کے لباس ابھی پٹھا اور پرانا نہیں ہوا ہے لیکن ان کی سنت کو ختم کیا ہے۔ اس  نعثل کو قتل کرو{نعثل ایک مصری یہودی مرد کی طرف اشارہ ہے جس کی رھاڑی لمبی تھی لیکن بےوقوف انسان تھا }  

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ) المحصول في علم الأصول، ج 4، ص 343، تحقيق: طه جابر فياض العلواني، ناشر: جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية - الرياض، الطبعة: الأولي، 1400هـ.

جناب عائشه، نے ہی  عثمان کے  قتل کا حکم دیا :

اميرمؤمنن علي عليه السلام نے عائشه کے نام اپنے ایک خط میں لکھا :

وأنت يا عائشة فإنّك خرجت من بيتك عاصية للّه ولرسوله تطلبين أمراً كان عنك موضوعا، ثم تزعمين انك تريدين الاصلاح بين المسلمين، فخبريني ما للنساء وقود الجيوش والبروز للرجال، والوقوع بين اهل القبلة وسفك الدماء المحرمة؟ ثم انك طلبت علي زعمك دم عثمان، وما انت وذاك؟ عثمان رجل من بني امية وانت من تيم،ثم بالامس تقولين في ملا من اصحاب رسول اللّه (ص): اقتلوا نعثلا قتله اللّه فقد كفر، ثم تطلبين اليوم بدمه؟ فاتقي اللّه وارجعي الي بيتك، واسبلي عليك سترك، والسلام.

اے عائشه! تو نے گھر سے نکلنے کے ذریعے اللہ اور اللہ کے رسول کی نافرمانی کی اور وہ بھی ایسے کام کے لئے نکلی جو تیرا کام نہیں۔اور تو کہتی ہے : امت کی اصلاح کرنے نکلی ہوں،مجھے ذرا یہ تو بتاو: کہ عورتوں کو لشکر کی کمانڈری اور لوگوں کے درمیان اپنے اپ کو ظاہر کرنے  اور لوگوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے اور اہل قبلہ کے خون بہانے سے کیا کام ہے؟تیرا خیال ہے تو عثمان کے خون کے قصاص کے درپے ہو۔ عثمان کا تعلق بنی امیہ سے ہے اور تو قبیلہ بنی تمیم سے ہو ۔ کل تو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اصحاب کے درمیان یہ کہتی تھی : اس نعثل کو قتل کرو، خدا اس کو مارڈالے ،یہ کافر ہوا ہے اور آج اس کے خون کا انتقام اور قصاص لینے کے چکر میں ہو؟ اللہ سے ڈرو اپنے گھر واپس جاو اور پردے میں رہو۔

سبط بن الجوزي الحنفي، شمس الدين أبوالمظفر يوسف بن فرغلي بن عبد الله البغدادي، تذكرة الخواص، ص 69، ناشر: مؤسسة أهل البيت ـ بيروت، 1401هـ ـ 1981م.

ابن قتيبه دينوري لکھتا ہے :

قال وذكروا أن عائشة لما أتاها أنه بويع لعلي وكانت خارجة عن المدينة فقيل لها قتل عثمان وبايع الناس عليا فقالت ما كنت أبالي أن تقع السماء علي الأرض قتل والله مظلوما وأنا طالبة بدمه فقال لها عبيد إن أول من طعن عليه وأطمع الناس فيه لأنت ولقد قلت اقتلوا نعثلا فقد كفر فقالت عائشة قد والله قلت وقال الناس وآخر قولي خير من أوله فقال عبيد عذر والله ضعيف يا أم المؤمنين ثم قال:

منك البداء ومنك الغير ومنك الرياح ومنك المطر

وأنت أمرت بقتل الإمام وقلت لنا إنه قد فجر

فهبنا أطعناك في قتله وقاتله عندنا من أمر

قال فلما أتي عائشة خبر أهل الشام أنهم ردوا بيعة علي وأبوا أن يبايعوه أمرت فعمل لها هودج من حديد وجعل فيه موضع عينيها ثم خرجت ومعها الزبير وطلحة وعبد الله بن الزبير ومحمد بن طلحة.

بہت سے لوگوں سے نقل ہوا ہے :جناب عائشه مدينه سے باہر تھی اور جب انہیں عثمان کے قتل کی خبر دی گئ اور یہ کہا گیا کہ لوگوں نے علي عليه السلام کی بیعت کی ہے، جناب عائشہ کہنے لگی: وہ دن زیادہ دور نہیں ہے کہ آسمان زمین پر گر جائے۔اللہ کی قسم عثمان کو ظلم کے ساتھ قتل کیا گیا،میں اس کے خون کا بدلہ لینے کے لئے قیام کروں گی۔ عبيد نے انہیں جواب دیا : آپ نے تو سب سے پہلے ان پر اعتراض کیا اور لوگوں کو اس کے خلاف اکسایا۔ آپ ہی نے کہی تھی: اس نعثل کو قتل کر دو یہ کافر ہوا ہے۔جناب عائشہ نے عبید کو جواب دیا ؛یہ میں نے بھی کہا اور لوگوں نے بھی لیکن یہ میری بعد والی راے پہلے والی راے سے بہتر ہے۔عبید نے جواب میں کہا : یہ ایک کمزور عذر اور بہانا ہے۔  پھر ایک شرع پڑھا "

آپ تو اپنی راے اور نظر سے پلٹ گئی، طوفان برپا کیا اور سب جگہ اب طوفاف کے لپیٹ میں ہیں۔ آپ نے ہی اس کے کفر کے بہانے اس کے قتل کا حکم دیا  اور ہم نے آپ کی اطاعت میں ایسا کیا، لہذا عثمان کا قاتل وہ ہے جس نے یہ حکم دیا ہے۔

اور جب جناب عائشہ تک یہ خبر پہنچی کی شام کے لوگوں نے علی علیہ السلام کی بیعت سے انکار کیا ہے تو انہوں نے ایک ایسا کجاوہ { اونٹ کی چھت دار کاٹھی جو عام طور پر پردہ ڈال کر اس پر عورتیں بیٹھتی ہیں }تیار کرنے کا حکم دیا کہ جو لوہے سے بنی ہو اور اس کے اطراف میں باہر دیکھنے کے لئے سوراخیں بھی ہو اور پھر بعد میں جناب عائشہ شہر سے باہر نکلی جبکہ زبیر ، طلحہ ،عبد اللہ بن زبیر  اور محمد بن طلحہ بھی ساتھ  تھے۔

الدينوري، أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة (متوفاي276هـ)، الإمامة والسياسة، ج 1، ص 48، باب خلاف عائشة رضي الله عنها علي علي [عليه السلام]، تحقيق: خليل المنصور، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1418هـ - 1997م؛

الشيباني، أبو الحسن علي بن أبي الكرم محمد بن محمد بن عبد الكريم (متوفاي630هـ)، الكامل في التاريخ، ج 3، ص 100، با تفاوت جزئي، تحقيق عبد الله القاضي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة الثانية، 1415هـ.

جناب عثمان کے قتل میں جناب عائشه کا کردار اتنا مشہور اور یقینی ہے کہ لغت اور آدب کی کتابوں میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔

ابن اثير جزري لکھتے ہیں:

نعثل ( ه ) في مقتل عثمان لا يمنعنك مكان ابن سلام أن تسب نعثلا كان أعداء عثمان يسمونه نعثلا تشبيها برجل من مصر كان طويل اللحية اسمه نعثل وقيل النعثل الشيخ الأحمق وذكر الضباع ومنه حديث عائشة اقتلوا نعثلا قتل الله نعثلا تعني عثمان وهذا كان منها لما غاضبته وذهبت إلي مكة.

عثمان کے دشمن انہیں نعثل کہتے در حقیقت میں یہ لوگ عثمان کو ایک مصری شخص سے تشبیہ دیتے تھے کہ جس کی دھاڑی لمبی تھی، اور یہ کہا گیا ہے : نعثل یعنی بوڑھا اور بے وقوف شخص،  اور عائشه بھی کہتی تھی: نعثل کو قتل کرو، انہوں نے بھی اسی معنی کے مطابق یہ بات کہی ہے. کیونکہ جب خلیفہ نے جناب عائشہ کو ناراض کیا اور وہ مکہ کی طرف نکل گئی۔

الجزري، أبو السعادات المبارك بن محمد (متوفاي606هـ)، النهاية في غريب الحديث والأثر، ج 5، ص 79، تحقيق طاهر أحمد الزاوي - محمود محمد الطناحي، ناشر: المكتبة العلمية - بيروت - 1399هـ - 1979م.

ابن منظور نے لسان العرب میں لکھا ہے :

نعثل: رجل من أهل مصر كان طويل اللحية، قيل: إنه كان يشبه عثمان، رضي الله عنه هذا قول أبي عبيد، وشاتمو عثمان، رضي الله عنه، يسمونه نعثلا. وفي حديث عثمان: أنه كان يخطب ذات يوم فقام رجل فنال منه، فوذأه ابن سلام فاتذأ، فقال له رجل: لا يمنعنك مكان ابن سلام أن تسب نعثلا فإنه من شيعته،

وكان أعداء عثمان يسمونه نعثلا تشبيها بالرجل المصري المذكور آنفا. وفي حديث عائشة: اقتلوا نعثلا قتل الله نعثلا تعني عثمان، وكان هذا منها لما غاضبته وذهبت إلي مكة، وكان عثمان إذ نيل منه وعيب شبه بهذا الرجل المصري لطول لحيته ولم يكونوا يجدون فيه عيبا غير هذا.

نعثل ایک  مصری کا نام ہے کہ جس کی دھاڑی لمبی تھی ،کہا گیا ہے کہ عثمان کا ہم شکل تھا اور اسی نام کے ذریعے لوگ  عثمان کی مذمت کرتے تھے ۔ ایک دن عثمان تقریر کر رہا تھا ایک آدمی نے ایک بری بات کہہ کر اس کی تقریر کاٹ ڈالی ۔ابن سلام نے اس شخص کو روکنا چاہا ،ایک اور شخص نے کہا : ابن سلام عثمان کے حامیوں میں سے ہے،ابن سلام کی وجہ سے تم عثمان کی برائی بیان کرنے سے باز نہ آئے۔لہذا عثمان کے دشمن عثمان کو اسی مصری شخص سے تشبیہہ دیتے تھے اور اس کو نعثل کہتے تھے۔

 عائشہ سے نقل ہے : نعثل کو قتل کرو ۔ {اس سے ان کا مقصد عثمان ہی تھا}یہ اس وقت کہا جب جناب عائشہ ،عثمان سے ناراض اور غضبناک ہوگئ اور مدینہ چھوڑ کر چلی گئی۔

جو بھی عثمان سے ناراض ہوجاتا اور اس کی سرزنش کرنا چاہتا اس کو اسی مصری شخص سے تشبیہہ دیتا اور یہ تشبیہہ دھاڑی لمبی ہونے کی وجہ سے لوگ دیتے ،کوئی اور عیب اس میں یہ لوگ نہیں دیکھتے تھے۔

الأفريقي المصري، محمد بن مكرم بن منظور (متوفاي711هـ)، لسان العرب، ج 11، ص 670، ناشر: دار صادر - بيروت، الطبعة: الأولي.

جناب عائشہ کا لوگوں کو عثمان کے خلاف اکسانے کے کچھ نمونے:

عثمان کے خلاف لوگوں کو ورغلانے کے موارد میں سے ایک جناب عمار کی حمایت کا مسئلہ تھا

بلاذري نے انساب الأشراف میں نقل کیا ہے:

وبلغ عائشة ما صنع بعمار فغضبت وأخرجت شعراً من شعر رسول الله صلي الله عليه وسلم وثوباً من ثيابه ونعلاً من نعاله ثم قالت: ما أسرع ما تركتم سنة نبيكم وهذا شعره وثوبه ونعله ولم يبل بعد، فغضب عثمان غضباً شديداً حتي ما دري ما يقول، فالتج المسجد وقال الناس سبحان الله سبحان الله.

جب جناب عائشہ کو یہ معلوم ہوا کہ عثمان نے جناب عمار یاسر کی پٹھائی اور انہیں تکلیف پہنچائی ہے تو اس وقت جناب عائشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر کے بال اور آپ کے کپڑوں میں سے ایک کپڑا اور آپ کے جوتوں میں سے ایک جوتا لے کر آئی اور کہنے لگی:تم لوگوں نے اپنے نبی کی سنت کو کتنی جلدی بلادئی۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال ان کا لباس اور ان کی نعلین ہے ابھی یہ خراب نہیں ہوئی ہے ۔عثمان کو عائشہ پر سخت غصہ آیا اور اس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس کو کیا کہنا جائے۔ مسجد میں بھی بہت رش تھا لوگ سبحان الله، سبحان الله کہہ رہے تھے.

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفاي279هـ) أنساب الأشراف، ج 2، ص 275.

وليد بن عقبه کے شراب پینا کا واقعہ جب پیش آیا اور  خلیفہ نے اس کو مارنے اور کو سزا دینے سے اجتناب کیا تو جناب عائشہ نے آواز بلند کی اور کہا : عثمان نے اللہ کے حدود کو پامال کیا ہے اور اس واقعے کے گواہوں کو دھمکی ہے۔

قال أبو إسحاق: وأخبرني مسروق أنه حين صلي لم يرم حتي قاء، فخرج في أمره إلي عثمان أربعة نفر: أبو زينب وجندب بن زهير وأبو حبيبة الغفاري والصعب بن جثامة، فأخبروا عثمان خبره، فقال عبد الرحمن بن عوف: ما له أجُنَّ قالوا: لا، ولكنه سكر، قال: فأوعدهم عثمان وتهددهم وقال لجندب: أنت رأيت أخي يشرب الخمر؟ قال: معاذ الله، ولكني أشهد أني رأيته سكران يقلسها من جوفه وأني أخذت خاتمه من يده وهو سكران لا يعقل؛ قال أبو إسحاق: فأتي الشهود عائشة فأخبروها بما جري بينهم وبين عثمان وأن عثمان زبرهم، فنادت عائشة: إن عثمان أبطل الحدود وتوعد الشهود.

مسروق نے نقل کیا ہے: (وليد بن عقبه) نے نماز کے دوران قی کیا ، اور چار لوگ{ ابوزينب، جندب بن زهره، ابوحبيبه غفاري و صعب بن جثامه} عثمان کے پاس گئے اور واقعے کو ذکر کیا ۔ عبد الرحمن عوف نے کہا : پاگل ہوگیا ہے کیا ؟ انہوں نے کہا : نہیں؛ بلکہ مست ہوگیا ہے،مسروق کہتا ہے : عثمان نے انہیں دھمکی دی اور جندب سے کہا : کیا تم نے دیکھا ہے کہ میرا بھائی شراب پیتا ہے؟اس نے کہا : اللہ کی پناہ اور کہا : میں نے اس کو مست دیکھا اور یہ دیکھا کہ کوئی چیز اس کے منہ سے باہر نکل رہی تھی۔ میں نے اس کی انگلی کو اس کے منہ سے باہر نکالا لیکن اس کو پتہ نہیں چلا ،کیونکہ مست تھا اس کی عقل کام نہیں کررہی تھی.

ابو اسحاق کہتا ہے: یہ گواہی دینے والے جناب عائشه کے پاس گئے اور جو عثمان کے پاس پیش آیا،سب بتایا ۔ جناب عائشه نے فرياد بلند کی : عثمان نے اللہ کے حدود کو پامال کیا ہے اور گواہوں کو دھمکی دی ہے.

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفاي279هـ) أنساب الأشراف، ج 2، ص 267.

ابو الفداء نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے:

وكانت عائشة تنكر علي عثمان مع من ينكر عليه، وكانت تخرج قميص رسول الله صلي الله عليه وسلم وشعره وتقول: هذا قميصه وشعره لم يبل، وقد بلي دينه.

عائشه ،عثمان کے مخالفوں کے ساتھ دیتی تھی، رسول خدا (ص) کے لباس اور بالوں کو باہر نکالتی اور کہتی تھی: یہ رسول خدا (ص) کے لباس اور بال ہے ۔یہ ابھی برانا اور خراب نہیں ہوا ہے لیکن ان کے دین کو خراب کیا ہے۔

أبو الفداء عماد الدين إسماعيل بن علي (متوفاي732هـ)، المختصر في أخبار البشر، ج 1، ص 118.

ابن أبي الحديد معتزلي شارح نهج البلاغه کہتا ہے:

قال كل من صنف في السير والأخبار: إن عائشة كانت من أشد الناس علي عثمان؛ حتي أنها أخرجت ثوباً من ثياب رسول الله صلي الله عليه وسلم، فنصبته في منزلها، وكانت تقول للداخلين إليها: هذا ثواب رسول الله صلي الله عليه وسلم لم يبل، وعثمان قد أبلي سنته.

جس نے بھی تاريخ اور سيرت کے بارے میں کوئی کتاب لکھی ہے اس نے یہ بات بھی نقل کیا ہے کہ جناب عائشه، عثمان پر سخت تنقید کرنے والوں میں سے تھی،یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لباس باہر لے آتی اور اپنے گھر کے دروازے پر لٹکادیتی اور جو بھی آتا ، اس سے کہتی : یہ دیکھو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لباس ہےابھی یہ پھٹا پرانا نہیں ہوا ہے۔ لیکن عثمان نے اس کی سنت کو بلا دیا ہے۔

إبن أبي الحديد المدائني المعتزلي، أبو حامد عز الدين بن هبة الله بن محمد بن محمد (متوفاي655 هـ)، شرح نهج البلاغة، ج 6، ص 131، تحقيق محمد عبد الكريم النمري، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1418هـ - 1998م.

عائشہ کے کاموں کا انجام اور جنگ جمل:

جناب عائشہ گھر سے نکلی اور ایسے شخص سے جنگ کرنے کے لئے میدان میں اتری کہ جو دوسرے خلفاء کی طرح (اهل سنت کے عقيدے کے مطابق) مسند خلافت پر بیٹھ گئے تھے اور لوگوں نے ان کی بیعت کی تھی ۔لہذا یہ واقعہ تاریخ اسلام کے فراموش نہ ہونے والے واقعات میں سے ہے، کوئی اس واقعے کا انکار نہیں کرسکتا ،یہاں تک کہ خاص ذہنیت اور خاص جہت سے تاریخ  لکھتے والے اور تاریخی حقائق میں تبدیلی کرنے والے مصنفین بھی اس واقعے کو نقل کیے بغیر نہ رہ سکے۔

 

ابن عبد ربّه اندلسي   عقد الفريد میں لکھتا ہے:

دخل المغيرة بن شعبة علي عائشة فقالت يا أبا عبد الله لو رأيتني يوم الجمل قد نفذت النصال هودجي حتي وصل بعضها إلي جلدي قال لها المغيرة وددت والله أن بعضها كان قتلك قالت يرحمك الله ولم تقول هذا قال لعلها تكون كفارة في سعيك علي عثمان.

مغيره بن شعبه عائشه کے پاس گیا : عائشہ نے کہا : اے مغيره! اگر تم جنگ جمل کے دن ہوتا اور یہ دیکھتا کہ کس طرح میری کجاوے پر تیروں اور نیزوں سے حملہ ہو رہا تھا بعض تو میرے بدن کے نذدیک بھی پہنچ گیا تھا۔ مغیرہ نے کہا : اللہ کی قسم تم اسی تیروں سے قتل ہوجاتی۔ عائشہ نے کہا :اللہ تم پر رحم کرئے ، تم نے ایسی بات کیوں کہی ؟ اس نے جواب دیا : شاید آپ کا قتل ہونا عثمان کے قتل میں آپ کی کوششوں کا کفارہ ہوتا۔

  الأندلسي، احمد بن محمد بن عبد ربه (متوفاي: 328هـ)، العقد الفريد، ج 4، ص 277، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الثالثة، 1420هـ - 1999م.

12. اصحاب کے مرتد ہونے کی پیشنگوئی:

حدیث حوض ان احادیث میں سے ایک کہ جو عدالت صحابہ کی بنیاد کو ہی خراب کرتی ہے اور ان سارے اصحاب  کے بہشتی ہونے کے نظریے کو زیر سوال قرار دیتی۔ یہ حدیث اہل سنت کے معتبر منابع میں موجود ہے۔

محمد بن اسماعيل بخاري نے نقل کیا ہے :

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْح، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي هِلاَلٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَار، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَا أَنَا قَائِمٌ إِذَا زُمْرَةٌ، حَتَّي إِذَا عَرَفْتُهُمْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَيْنِي وَبَيْنِهِمْ فَقَالَ هَلُمَّ. فَقُلْتُ أَيْنَ قَالَ إِلَي النَّارِ وَاللَّهِ.

قُلْتُ وَمَا شَأْنُهُمْ قَالَ إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا بَعْدَكَ عَلَي أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَي. ثُمَّ إِذَا زُمْرَةٌ حَتَّي إِذَا عَرَفْتُهُمْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَيْنِي وَبَيْنِهِمْ فَقَالَ هَلُمَّ. قُلْتُ أَيْنَ قَالَ إِلَي النَّارِ وَاللَّهِ. قُلْتُ مَا شَأْنُهُمْ قَالَ إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا بَعْدَكَ عَلَي أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَي. فَلاَ أُرَاهُ يَخْلُصُ مِنْهُمْ إِلاَّ مِثْلُ هَمَلِ النَّعَمِ ".

 ابوہریرہ نے نقل کیا ہے:  نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں (حوض پرکھڑا ہوں گا کہ ایک جماعت میرے سامنے آئے گی اور جب میں انہیں پہچان لوں گا تو ایک شخص (فرشتہمیرے اور ان کے درمیان سے نکلے گا اور ان سے کہے گا کہ ادھر آؤ۔ میں کہوں گا کہ کدھر؟ وہ کہے گا کہ واللہ جہنم کی طرف۔ میں کہوں گا کہ ان کے حالات کیا ہیں؟ وہ کہے گا کہ یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں (دین سےواپس لوٹ گئے تھے۔ پھر ایک اور گروہ میرے سامنے آئے گا اور جب میں انہیں بھی پہچان لوں گا تو ایک شخص (فرشتہمیرے اور ان کے درمیان میں سے نکلے گا اور ان سے کہے گا کہ ادھر آؤ۔ میں پوچھوں گا کہ کہاں؟ تو وہ کہے گا، اللہ کی قسم! جہنم کی طرف۔ میں کہوں گا کہ ان کے حالات کیا ہیں؟ فرشتہ کہے گا کہ یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں واپس لوٹ گئے تھے۔

میں سمجھتا ہوں کہ ان گروہوں میں سے ایک آدمی بھی نہیں بچے گا۔ ان سب کو دوزخ میں لے جائیں گے۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1017، ح 2615، كتاب الوصايا، ب 23، باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَي ( إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ... و ج 7، ص 209، ح 6587، كتاب الرقاق، ب 53، باب فِي الْحَوْضِ، تحقيق د. مصطفي ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987 .

ابن كثير دمشقي سلفي نے  البداية والنهاية میں جناب  عائشه سے نقل کیا ہے:

لما قبض رسول الله صلي الله عليه وسلم ارتدت العرب قاطبة واشرأبت النفاق.

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے چلے گئے تو اس وقت سارے عرب مرتد ہوگئے اور سب جگہ منافقت چھاگئی۔

القرشي الدمشقي، إسماعيل بن عمر بن كثير أبو الفداء (متوفاي774هـ)، البداية والنهاية، ج 6، ص 336، ناشر: مكتبة المعارف - بيروت.

ان دو روايات کے مطابق، اصحاب کی ایک کم تعداد کے علاوہ باقی مرتد ہوگئے تھے۔ اب یہ مرتد ہونے والے "السابقون الأولون" میں سے ہوں یا بعد میں اسلام لانے والوں میں سے ہوں.

13. جناب عمر اور (السابقون الاولون) میں تحریف کی کوشش:

اس آیت کریمہ میں اللہ نے مسلمانوں کو تین گروہوں میں تقسیم کیا ہے: 1. مہاجرین میں سے سبقت کرنے والے لوگ 2. انصار میں سے سبقت کرنے والے لوگ؛ 3. وہ لوگ جنہوں نے ان سبقت کرنے والوں کے نیک کاموں میں ان کی پیروی کی ہوں ۔

لیکن جیساکہ یہ بات ثابت ہے کہ خليفه دوم قبیلہ قريش کو باقی تمام  قبیلوں سے برتر سمجھتا تھا اسی لئے ان کے لئے اس بات کو قبول کرنا بہت سخت تھا کیونکہ اس آیت میں دوسرے قبائل کے لوگوں کی بھی تعریف اور فضیلت بیان ہوئی،لہذا اس آیت میں تصرف کرنے کی کوشش کی ۔

اہل سنت کے علماء نے نقل کیا ہے : جناب خليفه دوم «واو» کو حذف کرنے اور «والذين اتبعوهم» کو «المهاجرين»کی صفت قرار دینے کے ذریعے آیت کی اس طرح تلاوت کرتا تھا : والسابقون الأولون من المهاجرين والأنصار الذين اتبعوهم بإحسان.

خلیفہ دوم کی طرف سے «واو» کو حذف کرنے کے کچھ نتائج :

الف: یہ آیت مسلمانوں کے دو گروہ کو ہی شامل ہوگی: 1. مہاجرین میں سبقت کرنے والے ؛ 2. وہ انصار جنہوں نے مہاجرین کی پیروی کی !، لہذا تیسری قسم یہاں پر نہیں ہوگی۔

ب: اصحاب کی فضیلت مہاجرین کی پیروی کی وجہ سے ہے ،خود انصار کی ذاتی فضیلت نہیں.

ج: اللہ کا بغیر کسی شرط کے مہاجرین سے راضی ہونا  (لا بشرط) ؛ لیکن اللہ کا انصار سے راضی رہنا مہاجرین کی پیروی کی وجہ سے ہے (بشرط شيء) اور تابعین اور دوسرے مسلمان کا اس آیت میں موجود فضیلت سے کوئی تعلق نہیں (بشرط لا ).

خلیفہ اس معمولی تحریف کے ذریعے سے انصار کو یہ پیغام دینا چاہتا تھا کہ تم لوگوں پر مہاجرین کی اطاعت واجب ہے ۔  

اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ مہاجرین اور ان کی پیروی کرنے والوں سے راضی ہے اور انہیں جنت میں لے جائے گا۔  

قاسم بن سلام نے فضائل القرآن میں لکھتا ہے:

حدثنا حجاج، عن هارون، قال: أخبرني حبيب بن الشهيد، وعمرو بن عامر الأنصاري، أَنَّ عُمَرَ بنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَرَأَ: وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ المُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارُ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ، فَرَفَعَ الأَنْصَارَ وَلَمْ يُلْحِقِ الْوَاوَ في الَّذِينَ، فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بنُ ثَابِتٍ: وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ، فَقَالَ عُمَرُ: الَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ، فَقَالَ زَيْدٌ: أَمِيرُ المُؤْمِنِينَ أَعْلَمُ، فَقَالَ عُمَرُ: ائْتُونِي بِأُبَي بنِ كَعْبٍ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذالِكَ؟ فَقَالَ أُبِيٌّ: وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ فَقَالَ عُمَرُ: نَعَمْ إِذَنْ، فَنَعَمْ إِذَنْ، نُتَابِعُ أُبَيَّاً.

عمر خطاب آیت کی اس طرح تلاوت کرتا تھا : وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ المُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارُ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ" لہذا  (الانصار) اور  (الذين) کے درمیان سے واو کو ہٹا کر لفظ (الانصار)  کو پیش کے ساتھ تلاوت کرتا تھا  اور جب زید ابن ثابت نے کہا : (و الذين) پڑھنا چاہئے ۔ عمر نے پھر واو کے بغیر تلاوت کی ۔ زید بن ثابت نے کہا : امیر المومنین بہتر جانتے ہیں ۔عمر نے ابی بن کعب کو بلایا ۔ جب وہ آیا اوراس سے جب پوچھا تو اس نے کہا : (والذين اتبعوهم)  تو عمر نے قبول کیا اور دو مرتبہ کہا : ہم ابی کی پیروی کریں گے۔

البغدادي، أبو عُبيد القاسم بن سلاّم (متوفاي224هـ)، فضائل القرآن، ج 2، ص 66؛

الطبري، محمد بن جرير، جامع البيان عن تأويل آي القرآن، ج 11، ص 8، ناشر: دار الفكر، بيروت - 1405هـ؛

السيوطي، الحافظ جلال الدين، جامع الاحاديث (الجامع الصغير وزوائده والجامع الكبير)، ج 14، ص 8؛

السيوطي، عبد الرحمن بن الكمال جلال الدين (متوفاي911هـ)، الدر المنثور، ج 4، ص 268، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1993.

اس روایت کی سند کی تحقیق:

القاسم بن سلام بخاری اور مسلم کے راویوں میں سے ہے:

الإمام المشهور ثقة فاضل مصنف.

مشهور پیشوا ، قابل اعتماد، دانشمند اور  صاحب تالیف ہے.

تقريب التهذيب، ابن حجر، ج 2، ص 19 رقم: 5479.

حجاج بن محمد الأعور: بخاري، ابوداوود  اور ترمذي کے راویوں میں سے ہے:

الحافظ... وقال أبو داود: بلغني أن ابن معين كتب عنه نحوا من خمسين ألف حديث.

ابن معين نے اس سے ۵۰ہزار حدیث نقل نقل کیا ہے.

الكاشف في معرفة من له رواية في كتب الستة، الذهبي، ج 1، ص 313، رقم: 942.

هارون بن موسي الأزدي: یہ بھی بخاري،مسلم اور... کے راویوں میں سے ہے۔

صدوق علامة نبيل.

سچا ، بہت زیادہ علم والا .

الكاشف في معرفة من له رواية في كتب الستة، الذهبي، ج 2، ص 332، رقم: 5923.

حبيب بن الشهيد الأزدي بخاري، مسلم اور ...کے  راویوں میں سے ہے۔

ثقة ثبت من الخامسة

قابل اعتماد اور راویوں کے پانچویں طبقہ میں سے  اس کا تعلق ہے.

تقريب التهذيب، ابن حجر، ج 1، ص 185، رقم: 1100.

عمرو بن عامر الأنصاري الكوفي:  بخاري، مسلم  اور .... کے راویوں میں سے ہے۔

ثقة من الخامسة.

قابل اعتماد اور پانچوِیں طبقے سے ہے.

تقريب التهذيب، ابن حجر، ج 1، ص 738، رقم: 5073.

ممكن ہے کوئی کہے ؛  عمرو بن عامر، نے صرف أنس بن مالك سے روایت نقل کیا ہے ۔وہ  عمر سے نقل نہی کرسکتا.

جواب :  یہی بندہ خلیفہ اول کے دور میں بھی تھا ۔

ابن حجر عسقلاني نے اس کے بارے میں لکھا ہے:

عمرو بن عامر الأنصاري ذكر وثيمة أنه ممن شهد اليمامة في خلافة أبي بكر وأنشد له مرثية في ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري.

عمرو بن عامر خلافت ابوبكر کے دور میں يمامه کے واقعے کے وقت حاضر تھا اس نے ثابت بن قيس انصاري کے بارے میں ایک مرثیہ بھی پڑھا ہے .

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852 هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج 4 ص 541، رقم: 5902، تحقيق علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ - 1992م.

متقي هندي نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد اسی سلسلے میں لکھا ہے:

قال الحافظ ابن حجر في الأطراف صورته مرسل قلت له طريق آخر عن محمد بن كعب القرظي مثله أخرجه ابن جرير وأبو الشيخ وآخر عن عمرو بن عامر الأنصاري نحوه أخرجه أبو عبيد في فضائله وسنيد وابن جرير وابن المنذر وابن مردويه هكذا صححه ك.

الهندي، علاء الدين علي المتقي بن حسام الدين (متوفاي975هـ)، كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال، ج 2، ص 605، تحقيق: محمود عمر الدمياطي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1419هـ - 1998م.

فخر رازي نے تفسير كبير میں لکھا ہے :

المسألة الثالثة: روي أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه كان يقرأ ) وَالسَّابِقُونَ الاْوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالانْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ ( فكان يعطف قوله: ) الأنصار ( علي قوله: ) رَّحِيمٌ وَالسَّابِقُونَ ( وكان يحذف الواو من قوله: ) وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ ( ويجعله وصفاً للأنصار...

والتفاوت أن علي قراءة عمر، يكون التعظيم الحاصل من قوله: ) وَالسَّابِقُونَ الاْوَّلُونَ ( مختصاً بالمهاجرين ولا يشاركهم الأنصار فيها فوجب مزيد التعظيم للمهاجرين. والله أعلم.

نقل ہوا ہے : عمر بن خطاب جب  (السابقون الاولون) والی آیت کی تلاوت کرتا تو  (واللذين) کی واو کو ذکر نہیں کرتا تھا اور الذین کو (الانصار) کی صفت قرار دیتا تھا ، اور ان کا واو کو ذکر نہ کرنے کی وجہ تھی ، وجہ یہ تھی کہ اس آیت میں اللہ کی طرف سے تعریف صرف مہاجرین کی ہوئی ہے اور اس میں انصار کے لئے کوئی فضیلت نہیں ہے ،انصار کی فضیلت صرف مہاجرین کی پیروی کرنے کی وجہ سے ہے۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج 16، ص 8، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1421هـ - 2000م.

حفص بن عمر الدوري (متوفاي246 هـ) نے بھی عمر کی اس قرائت اور پھر ابي کی طرف سے اس قرائت کی غلطی کو دور کرنے کے واقعے کو حسن بصری کے ذریعے سے معمولی فرق کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

حدثني أبو عمارة عن أبي الفضل الأنصاري عن سليمان عن الحسن قال اختلف في هذه الآية عمر بن الخطاب وأبي بن كعب فقال عمر ( والأنصار الذين اتبعوهم بإحسان ) وقال أبي والأنصار والذين اتبعوهم بإحسان فلما رآه عمر فقال إني سمعت رسول الله صلي الله عليه وسلم يقرأها هكذا وقد الهاك بيع الخبط بالمدينة.

الدوري، أبو عمر حفص بن عمر (متوفاي246هـ)، جزء فيه قراءات النبي صلي الله عليه وسلم، تحقيق: حكمت بشير ياسين، ناشر: مكتبة الدار - المدينة المنورة - السعودية، الطبعة: الأولي، 1408هـ - 1988م.

اہل سنے کے مشہور مفسر آلوسي، اس سلسلے میں لکھتا:

وأخرج أبو عبيدة. وابن جرير. وابن المنذر. وغيرهم عن عمرو بن عامر الأنصاري أن عمر رضي الله تعالي عنه كان يقرأ بأسقاط الواو من * ( والذين اتبعوهم ) * فيكون الموصول صفة الأنصار جني قال له زيد: إنه بالواو فقال ائتوني بأبي بن كعب فأتاه فسأله عن ذلك فقال: هي بالواو فتابعه.

الآلوسي البغدادي، العلامة أبي الفضل شهاب الدين السيد محمود (متوفاي1270هـ)، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، ج 11، ص 8، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

ثعلبي نے بھی  اپنی تفسیر میں لکھا ہے :

وروي أن عمر بن الخطاب ( ح ) قرأ: السابقون الأولون من المهاجرين والأنصار الذين اتبعوهم بإحسان برفع الواو وحذف الواو من الذين، قال له أُبيّ بن كعب: إنما هو والأنصار والذين اتبعوهم بإحسان وإنه قد كرّرها مراراً ثلاثة، فقال له: إني والله لقد قرأتها علي رسول الله صلي الله عليه وسلم والذين اتبعوهم بإحسان، وإنك يومئذ شيخ تسكن ببقيع الغرقد، قال: حفظتم ونسينا وتفرغتم وشغلنا وشهدتم وغبنا ثم قال عمر لأُبيّ: أفيهم الأنصار؟ قال: نعم ولم يستأ من الخطاب ومن ثمّ قال عمر: قد كنت أظن إنّا رفعنا رفعة لا يبلغها أحد بعدنا فقال أبي: بلي، تصديق ذلك أول سورة الجمعة وأواسط سورة الحشر وآخر سورة الأنفال. قوله: ) وآخرين منهم لما يلحقوا بهم ( إلي آخره وقوله تعالي: ) والذين جاءوا من بعدهم ( إلي آخر الآية، وقوله: ) والذين آمنوا من بعده وهاجروا وجاهدوا معكم فأولئك منكم.

عمر نے آیت کی تلاوت کی لیکن واو کو ذکر نہیں کیا ،ابی بن کعب نے عمر سے کہا :یہ جملہ واو کے ساتھ ٹھیک ہے اور کئ دفعہ اس کا تکرار کیا اور کہا : اللہ کی قسم اس آیت کو ہم نے اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے تلاوت کی ہے اور تو اس وقت ایک بوڑھا انسان تھا اور بقیع میں رہتا تھا۔ عمر نے کہا : تم  نے قرآن کو حفظ کیا ہے اور ہم نے فراموش کیا ۔اپ فارغ ہوتا تھا اور ہماری مصروفیت،تم حاضر رہتا اور ہم غائب رہتے۔ پھر ابی سے کہا :کیا اس فضیلت میں انصار بھی شریک ہیں؟ ابی نے کہا : ہاں ۔ عمر نے کہا : میں یہ سوچتا تھا کہ کوئی بھی ہمارے مقام اور درجے کا نہیں ہے ۔ ابی بن کعب نے کہا : انصار کی فضیلت کو ، سوره جمعه کے شروع میں (وآخرين منهم لما يلحقوا بهم)، اور سورہ حشر کے درمیان میں (والذين جاءوا من بعدهم)، اور سورہ  انفال کے آخر میں (والذين آمنوا من بعد وهاجروا وجاهدوا معكم فأولئك منكم) دیکھ سکتے ہو۔

الثعلبي النيسابوري، أبو إسحاق أحمد بن محمد بن إبراهيم (متوفاي427 هـ)، الكشف والبيان (تفسير الثعلبي )، ج 5، ص 8، : تحقيق: الإمام أبي محمد بن عاشور، مراجعة وتدقيق الأستاذ نظير الساعدي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت - لبنان، الطبعة: الأولي، 1422هـ-2002م.

مذکورہ بالا مطالب سے زیادہ اہم اور قابل افسوس مطلب یہ ہے کہ خلیفہ دوم قسم کھا کر کہتا تھا : اللہ نے اس آیت کو اسی طریقے سے نازل کیا ہے جس طریقے سے وہ خود تلاوت کرتا تھا اور اس میں الذین کو واو کے بغیر پڑھتا تھا،یعنی اس طریقے کے بغیر جو موجودہ قرآن میں موجود ہے.

ابن شبه نميري نے تاريخ المدينة میں لکھا ہے :

حدثنا معاذ بن شبة بن عبيدة قال حدثني أبي عن أبيه عن الحسن قرأ عمر رضي الله عنه ) والسابقون الأولون من المهاجرين والذين اتبعوهم بإحسان ( فقال أُبي ) والسابقون الأولون من المهاجرين والأنصار والذين اتبعوهم بإحسان ( التوبة 100 فقال عمر رضي الله عنه ) والسابقون الأولون من المهاجرين والذين اتبعوهم بإحسان ( وقال عمر رضي الله عنه أشهد أن الله أنزلها هكذا فقال أُبي رضي الله عنه أشهد أن الله أنزلها هكذا ولم يؤامر فيه الخطاب ولا ابنه.

عمر ( والسابقون الاولون) والی آیت کو واو کے بغیر تلاوت کرتا تھا  اور جب ابی نے آکر  ٹھیک کیا تو عمر نے پھر وہی پہلی والی صورت میں تلاوت کی اور کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ  اللہ نےاس آیت کو اسی طریقے سے نازل کیا ہے جس طریقے سے میں نے تلاوت کی ہے۔ابی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ جس طریقے سے میں نے تلاوت کی ہے یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی ہے۔   

النميري البصري، أبو زيد عمر بن شبة (متوفاي262هـ)، تاريخ المدينة المنورة، ج 1، ص 375، ح 1170، تحقيق علي محمد دندل وياسين سعد الدين بيان، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1417هـ-1996م.

اگر حقیقت میں بھی اسی طرح نازل ہوئی ہو جس طرح خلیفہ نے تلاوت کی ہے،تو کیوں جلدی میں ابی کی بات کو مان لیتا ہے اور  ابی کی بات پر گواہی دینے کے لئے کسی کی گواہی کا مطالبہ نہیں کرتا ؟

 اور اگر آیت اسی طرح ہی ہو جس طرح ابی نے کہا ہے اور خلیفہ نے اپنے اجتہاد میں غلطی کی ہو تو کیوں قسم کھانے کے ذریعے سے قرآن میں تحریف کرتا ہے؟  

نتیجہ اور خلاصہ :

مذکورہ ۱۳ مطالب کی روشنی میں اس آیت سے یہ نتیجہ نکلنا غلط ہوگا کہ  اللہ نے اصحاب سے ہمیشہ راضی رہنے کا اعلان کیا ہو اور سارے اصحاب کو جنت میں لے جانے کا وعدہ دیا ہو اور سارے اصحاب جنتی ہی ہوں۔ کیونکہ ایسا نتیجہ قرآن کی دوسری آیات سے بھی ٹکڑاتا ہے اور اصحاب کی سیرت اور عملی زندگی کے بھی خلاف ہے۔

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی