2021 June 24
جناب عایشه اور حفصه کا پیغمبر صلی اللہ و آلہ وسلم کو تکلیف پہنچانا
مندرجات: ١٩٥٩ تاریخ اشاعت: ٢٢ May ٢٠٢١ - ١٧:٤٩ مشاہدات: 189
تصویری دستاویز » پبلک
جناب عایشه اور حفصه کا پیغمبر صلی اللہ و آلہ وسلم کو تکلیف پہنچانا

 

 

مسلم نيشابورى نے  عمر بن الخطاب سے نقل کیا ہے :

فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْر أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ مَا لِي وَمَا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ عَلَيْكَ بِعَيْبَتِكَ. قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ فَقُلْتُ لَهَا يَا حَفْصَةُ أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُحِبُّكِ. وَلَوْلاَ أَنَا لَطَلَّقَكِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم....

  عمر بن خطاب نے نقل کیا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیبیوں سے کنارہ گیری کیا ۔۔۔۔ میں  عائشہ  کے پاس گیا ، اور میں نے ان سے کہا کہ اے ابوبکر کی بیٹی! تمہارا یہ حال ہو گیا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذا دینے لگیں ۔سو انہوں نے کہا :  اے فرزند خطاب مجھ تم سے اور تمہیں مجھ سے کیا کام ؟  تم اپنی گٹھڑی کی خبر لو (یعنی اپنی بیٹی حفصہ کو سمجھاؤ مجھے کیا نصیحت کرتے ہوپھر میں حفصہ  کے پاس گیا اور میں نے اس سے کہا اے حفصہ! تمہاری یہ حالت ہوگئ کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذا دینے لگی ہو ؟ اور اللہ کی قسم! تم جانتی ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو نہیں چاہتے۔ اور میں نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو اب تک طلاق دے چکے ہوتے ۔۔۔۔۔۔۔

صحیح مسلم، كِتَاب الطَّلَاقِ ، باب فِي الإِيلاَءِ وَاعْتِزَالِ النِّسَاءِ وَتَخْيِيرِهِنَّ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ، حدیث نمبر۔ 3691

اهل سنت والوں سے سوال :

1ـ کیوں عایشه اور حفصه  نے رسول خدا صلي الله عليه وآله کو تکلیف پہنچائی ؟

2ـ کیا انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تکلیف پہنچانا، اللہ کی لعنت کا سبب بنتا ہے ؟

3 ۔ جناب عائشہ نے خلیفہ دوم کو جس انداز میں جواب دیا کیا وہ  ان کی شان کے مطابق تھا ؟

4۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیوں جناب حفصہ سے محبت نہیں کرتے تھے؟

 
 




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی