2021 June 24
امام مھدی علیہ السلام ،رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم کے بارہویں باجانشین
مندرجات: ١٩١٠ تاریخ اشاعت: ٢٨ March ٢٠٢١ - ١٦:٤٦ مشاہدات: 486
مضامین و مقالات » پبلک
امام مھدی علیہ السلام ،رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم کے بارہویں باجانشین

 امام مھدی علیہ السلام ،رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم کے بارہویں باجانشین

علمائے اہل سنت کے اعتراف کے مطابق حضرت مہدی (ع)، خلفائے اثنا عشر اور نسل رسول خدا (ص) میں سے ہیں،

مسلم اور دوسروں نے اس روایت کو نقل کیا ہے:

حدثنا قُتَيْبَةُ بن سَعِيدٍ وأبو بَكْرِ بن أبي شَيْبَةَ قالا حدثنا حَاتِمٌ وهو بن إسماعيل عن الْمُهَاجِرِ بن مِسْمَارٍ عن عَامِرِ بن سَعْدِ بن أبي وَقَّاصٍ قال كَتَبْتُ إلي جَابِرِ بن سَمُرَةَ مع غُلَامِي نَافِعٍ أَنْ أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ من رسول اللَّهِ صلي الله عليه وآله قال فَكَتَبَ إلي سمعت رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وآله يوم جُمُعَةٍ عَشِيَّةَ رُجِمَ الْأَسْلَمِيُّ يقول: لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حتي تَقُومَ السَّاعَةُ أو يَكُونَ عَلَيْكُمْ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كلهم من قُرَيْشٍ.

عامر بن سعد بن ابی وقاص کہتا ہے کہ: میں نے اپنے غلام کے ساتھ مل کر جابر ابن سمرہ کو لکھا کہ جو تم نے رسول خدا سے سنا ہے، اسکو ہمارے لیے بھی لکھو، جابر نے ہمارے لیے لکھا کہ جمعے کے دن شام کے وقت اسلمی کو سنگسار کیا گیا تھا، اس نے رسول خدا سے سنا تھا کہ انھوں نے فرمایا تھا کہ: ہمیشہ دین باقی ہے گا، یہاں تک کہ قیامت برپا ہو جائے اور تم پر بارہ خلیفہ ہوں گے کہ وہ سب قریش سے ہوں گے۔

       النيسابوري القشيري، ابوالحسين مسلم بن الحجاج (متوفي261هـ)، صحيح مسلم، ج3، ص1453، ح1822، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

 

اسکے باوجود کہ علمائے اہل سنت نے بہت ہی کوشش کی ہے کہ حدیث «خلفای اثنا عشر» کے مصداق کو بنی امیہ و بنی عباس کے خلفاء بیان کریں، لیکن پھر بھی اہل سنت کے بہت سے علماء نے اعتراف کیا ہے کہ حضرت مہدی (ع) ان بارہ خلفاء میں سے ایک ہیں:

1. ابن كثير دمشقی:

ابن كثير دمشقی سلفی نے اپنی تفسیر میں اقرار کیا ہے کہ یہ روایت ان بارہ صالح خلفاء پر دلالت کرتی ہے کہ جو حق کو برپا و قائم کریں گے، اور ان بارہ خلفاء میں سے ایک مہدی ہے کہ روایات میں اسکے آنے ( ظہور ) کے بارے میں بشارت دی گئی ہے:

ومعني هذا الحديث (البشارة) بوجود اثني عشر خليفة صالحا يقيم الحق ويعدل فيهم...

والظاهر أن منهم المهدي المبشر به في الأحاديث الواردة بذكره أنه يواطئ إسمه إسم النبي صلي الله عليه وسلم وإسم أبيه إسم أبيه فيملأ الأرض عدلا وقسطا كما ملئت جورا وظلما.

یہ روایت بارہ صالح خلفاء کے وجود کے بارے میں بشارت دے رہی ہے کہ جو لوگوں کے درمیان عدالت قائم کریں گے۔

اور ظاہر یہ ہے کہ ان بارہ خلفاء میں سے ایک حضرت مہدی ہیں، وہی مہدی کہ روایات میں جو پیغمبر کا ہم نام ہے اور جسکے والد کا نام رسول خدا کے والد کے نام پر ہے، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جسطرح کہ وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہو گی۔

ابن كثير الدمشقي، ابو الفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفي774هـ)، تفسير القرآن العظيم، ج2، ص33، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1401هـ.

2. جلال الدين سيوطی:

سيوطی اہل سنت کے بزرگ مفسرین میں سے ہے، اس نے کہا ہے کہ: ابو داود نے اپنی کتاب سنن میں حضرت مہدی کے بارے میں ایک باب ذکر کیا ہے اور اس باب میں ان حضرت کے بارے میں روایات کو ذکر کیا ہے، ان احادیث میں سے ایک جابر ابن سمرہ والی حدیث کو ذکر کرنے کے بعد کہتا ہے کہ: مہدی بارہ خلفاء میں سے ایک ہے:

        أن المهدي أحد الاثني عشر

السيوطي، جلال الدين أبو الفضل عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفي911هـ)، الحاوي للفتاوي في الفقه وعلوم التفسير والحديث والاصول والنحو والاعراب وسائر الفنون، ج2، ص80، تحقيق: عبد اللطيف حسن عبد الرحمن، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1421هـ - 2000م.

سيوطی نے اپنی ایک دوسری کتاب میں اعتراف کیا ہے کہ بارہ خلفاء میں سے دس آ چکے ہیں اور ابھی دو آنے باقی ہیں، کہتا ہے کہ ان دونوں میں سے ایک مہدی ہے کہ جو رسول خدا کے اہل بیت میں سے ہے:

وعلي هذا فقد وجد من الاثني عشر خليفة: الخلفاء الأربعة، والحسن ومعاوية وابن الزبير وعمر بن عبد العزيز، ويحتمل أن يضم إليهم المهتدي من العباسيين، لأنه فيهم كعمر بن عبد العزيز، وكذلك الطاهر لما أوتيه من العدل، وبقي الاثنان المنتظران، أحدهما المهدي، لأنه من أهل بيت محمد صلي اللّه عليه وآله وسلم.

پس بارہ خلفاء یہ ہیں: پہلے چار خلیفہ، امام حسن، معاویہ، ابن زبیر، عمر ابن عبد العزیز، اور یہ بھی احتمال ہے کہ مہتدی عباسی بھی ان میں سے ایک ہو، کیونکہ وہ عباسی خلفاء میں، عمر ابن عبد العزیز کی طرح تھا، اور طاہر بھی ہے کہ جو عدل و انصاف سے کام لیتا تھا، اور ان بارہ خلفاء میں سے دو کے انتظار میں ہیں، کہ ان دو میں سے ایک مہدی ہے کہ جو رسول خدا کے اہل بیت میں سے ہے۔

السيوطي، جلال الدين أبو الفضل عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفي911هـ)، تاريخ الخلفاء، ج1، ص12، تحقيق: محمد محي الدين عبد الحميد، ناشر: مطبعة السعادة - مصر، الطبعة: الأولي، 1371هـ - 1952م.

3. محمد بن يوسف صالحی شامی:

صالحیی شامی نے بھی بزرگان سے نقل شدہ روایات کی روشنی اعتراف کیا ہے کہ حضرت مہدی رسول خدا کی عترت میں سے ہے اور اس نے ان روایات پر کوئی اشکال و اعتراض بھی نہیں کیا:

وروي الإمام أحمد والباوردي عنه [ابي سعيد الخدري] قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: (أبشروا بالمهدي، رجل من قريش من عترتي يخرج في اختلاف من الناس، فيملأ الأرض قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وجورا،  ويرضي عنه ساكن السماء وساكن الأرض ويقسم المال صحاحا.

امام احمد اور بارودی نے ابو سعيد خدری سے روايت کی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: میں تم کو مہدی کہ جو قریش سے اور میری عترت سے ہے، کی بشارت دیتا ہوں، وہ لوگوں کے آپس میں اختلافات کے وقت ظہور کرے گا، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جسطرح کہ وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہو گی، اہل زمین و آسمان اس سے راضی ہوں گے اور وہ مال کو لوگوں میں عادلانہ طور پر تقسیم کرے گا۔

الصالحي الشامي، محمد بن يوسف (متوفي942هـ)، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد، ج10، ص171، تحقيق: عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1414هـ.

4. ابن حجر ہيتمی:

اور ابن حجر ہيتمی نے بھی قبول کیا ہے کہ بارہ خلفاء میں سے آخری، حضرت مہدی ہو گا:

والظاهر أن آخرهم المهدي فإنه بملك جميع الأرض.

اور ظاہر یہ ہے کہ بارہ خلفاء میں سے آخری شخص مہدی ہے کہ جسکی تمام زمین پر حکومت ہو گی۔

الهيتمي، أبو العباس أحمد بن محمد بدر الدين ابن محمد شمس الدين ابن علي نور الدين ابن حجر (متوفي973 هـ)، مبلغ الأرب في فخر العرب، ج1، ص38، تحقيق: يسري عبد الغني عبد الله، دار النشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي 1410هـ - 1990م،

5. عظيم آبادی شارح سنن ابو داود:

عظيم آبادی کہ کتاب سنن ابو داود کا شارح ہے، اس نے اور کتاب جامع ترمذی کے شارح مبارکفوری نے ابن کثیر کے کلام کو نقل کیا ہے کہ اس نے کہا ہے کہ:

و معني هذا الحديث البشارة بوجود اثني عشر خليفة صالحاً يقيم الحق، و يعدل فيهم.

اور انھوں نے بھی اسی بات کو قبول کیا ہے۔

المباركفوري، أبو العلا محمد عبد الرحمن بن عبد الرحيم (متوفي1353هـ)، تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، ج6، ص293، دار الكتب العلمية - بيروت.

العظيم آبادي، محمد شمس الحق (متوفي1329هـ)، عون المعبود شرح سنن أبي داوود، ج11، ص247، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الثانية، 1995م.

6. مجمع (مرکز) فقہی رابطة العالم الاسلامی:

مجمع (مرکز) فقہی رابطة العالم الاسلامی کہ جو مكہ مكرمہ میں ہے، اس نے بھی کہا ہے کہ: بارہ خلفاء میں سے آخری وہ ہے کہ جسکے آنے کے بارے میں رسول خدا نے خبر دی ہے:

«ويظهر عند فساد الزمان وانتشار الكفر وظلم الناس ويملأ الأرض قسطاً وعدلاً، كما ملئت ظلماً وجوراً، يحكم العالم كله، وتخضع له الرقاب... وهو آخر الخلفاء الاثني عشر، أخبر النبي صلي اللّه عليه وسلّم عنهم في الصحاح».

جب زمانہ خراب ہو جائے گا اور لوگوں میں کفر و ظلم زیادہ ہو جائے، تو وہ ظاہر ہو گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جس طرح کہ ظلم و ستم سے بھری ہو گی۔ اسکی ساری دنیا پر حکومت ہو گی، تمام لوگ اسکے مطیع و تابع ہوں گے..... وہ بارہ خلفاء میں سے آخری خلیفہ ہو گا کہ جسکے آنے کے بارے میں رسول خدا نے صحیح روایات میں خبر دی ہے۔

الفتوي التي أصدرها المجمع الفقهي في رابطة العالم الإسلامي في مكة المكرمة،

علمائے اہل سنت کی سرگردانی:

اہل سنت کے علماء بارہ خلفاء کے مصداق کو معیّن و واضح کرتے ہوئے بہت ہی حیرت اور سرگردانی کا شکار ہو گئے ہیں، کیونکہ ایک طرف سے اس بارے میں تمام روایات صحیح و حسن سند کے ساتھ انکی اپنی صحیح ترین کتب میں ذکر ہوئی ہیں، اور دوسری طرف سے بارہ کے عدد نے ان علماء کو مشکل و سرگردانی میں مبتلا کر دیا ہے، اور انکے کسی معنی و تفسیر کے مطابق بارہ کا عدد انکے بیان کردہ خلفاء پر پورا نہیں اترتا، اس لیے کہ یا تو انکے بیان کردہ خلفاء بارہ سے کم ہو جاتے ہیں یا پھر بارہ سے زیادہ ہو جاتے ہیں!!!

اہل سنت کے علماء کی اس روایت ( بارہ خلفاء ) کی صحیح تفسیر بیان کرنے میں سرگردانی کو ابن جوزی نے اس طرح سے بیان کیا ہے کہ:

هذا الحديث قد أطلت البحث عنه، وتطلّبت مظانّه، وسألت عنه، فما رأيت أحدا وقع علي المقصود به.

اس روایت ( بارہ خلفاء ) کے بارے میں، میں نے بہت زیادہ بحث کی ہے اور اسکے بارے میں، میں نے ہر ظن و گمان سے کام لیا ہے، اور میں نے کسی کو بھی نہیں دیکھا کہ جو اس روایت کے صحیح معنی و مقصود تک پہنچا ہو۔   

ابن الجوزي الحنبلي، جمال الدين ابو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفي597 هـ)، كشف المشكل من حديث الصحيحين، ج1، ص449، تحقيق: علي حسين البواب، ناشر: دار الوطن - الرياض - 1418هـ - 1997م

ابن بطال بکری قرطبی نے صحیح بخاری کی شرح میں، ابن حجر عسقلانی نے کتاب فتح الباری میں اور بدر الدين عينی نے کتاب عمدة القاری میں مُہلَّب سے نقل کیا ہے کہ: کسی نے بھی اس روایت میں مذکور بارہ خلفاء کو صحیح و یقینی طور پر معیّن نہیں کیا اور ہمیشہ سے اس روایت کے بارے میں اقوال اور آراء مختلف ہی رہے ہیں:

لم ألق أحدا يقطع في هذا الحديث بمعني- يعني بشئ معين.

کوئی بھی اس روایت کے قطعی و یقینی معنی کو معیّن اور اسکی واضح تفسیر کو بیان نہیں کر سکا۔

إبن بطال البكري القرطبي، ابو الحسن علي بن خلف بن عبد الملك (متوفي449هـ)، شرح صحيح البخاري، ج8، ص287، تحقيق: ابوتميم ياسر بن إبراهيم، ناشر: مكتبة الرشد - السعودية / الرياض، الطبعة: الثانية، 1423هـ - 2003م.

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفي852 هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج13، ص211، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

العيني الغيتابي الحنفي، بدر الدين ابو محمد محمود بن أحمد (متوفي855هـ)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج24، ص281، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی