2021 December 6
اھل بیت علیہم السلام کے پیرو کون ؟
مندرجات: ٢١٣١ تاریخ اشاعت: ١٤ November ٢٠٢١ - ١٧:١٧ مشاہدات: 145
یاداشتیں » پبلک
اھل بیت علیہم السلام کے پیرو کون ؟

 اھل بیت علیہم السلام کے پیرو کون ؟

شیعہ یا اھل سنت ؟

 جیساکہ شیعہ نظریہ خلافت کی بحث میں بنیادی مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد دین کے پیشوا کون ہیں ؟ کون دینی تعلیمات کے حقیقی وارث اور محافظ ہیں ؟

کون دینی تعلیمات کی حصول کا سب سے مطمئن اور قابل اعتماد سرچشمہ کون ہیں؟

شیعہ نظریہ خلافت اور امامت کے مطابق ائمہ اہل بیت علیہم السلام ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حقیقی جانشین اور آپ کے بعد امت کے دینی پیشوا ہیں ۔

اگر فرض کرئے کہ ائمہ علیہم السلام کی جانشینی پر قرآن اور حدیث سے کوئی واضح نص  اور دلیل نہ بھی ہو پھر بھی عقلی طور پر ان سے زیادہ دینی تعلیمات کی حصول کا قابل اعتماد سرچشمہ نہیں ہے۔

 لہذا دوسروں کی پیروی ہدایت کا باعث ہو یا نہ ہو ان کی پیروی یقینی طور پر امت کی ہدایت کا باعث ہے ۔

جیساکہ  ائمہ اہل بیتؑ  کی اہم ترین خصوصیات میں سے ایک ان کا  مستقیم ہو یا غیر  مستقیم حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے سب سے ممتاز  شاگرد  ہیں۔ انہوں نے بچپنے میں ہی  وحی اور نبوت کے زیر سایہ  تربیت حاصل کی اور کبھی بھی انحرافی اور غلط افکار   اور اعمال کے مرتکب نہیں ہوئے، بُرے اور جاہلانہ عادات و رسوم  سے خود کو آلودہ نہیں کیا ۔ان سے بڑھ کرکوئی بھی  حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شاگردی اور تربیت  سے بہرہ مند نہیں ہوئے ۔لہذا ان کے ہر حرکات و سکنات اور  فکر و نظر اسلامی تعلیمات کا آئنہ دار  اور عملی مجسمہ ہیں۔   

ائمہ اہل بیت علیہم السلام کا اپنے بارے میں موقف

 ائمہ اہل بیتؑ خود کو ہی دینی تعلیمات کا حقیقی وارث اور محافظ سمجھتے تھے ۔ قرآن کی تفسیر  اور تاویل کا اصلی ذمہ دار خود کو ہی جانتے تھےاور اس چیز کے معتقد تھے کہ  لوگوں کو  چاہے کہ انہیں دینی پیشوا  مان کر ان سے دینی تعلیمات حاصل کرئے ۔

جیساکہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے ممتاز شاگرد، امیرالمومنین علی بن ابی طالبؑ فرماتے ہیں: تَاللَّهِ لَقَدْ عُلِّمْتُ تَبْلِيغَ الرِّسَالَاتِ وَ إِتْمَامَ الْعِدَاتِ وَ تَمَامَ الْكَلِمَاتِ وَ عِنْدَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ أَبْوَابُ الْحُكْمِ وَ ضِيَاءُ الْأَمْرِ۔

اللہ کی قسم! مجھے پیغام الٰہی کے پہنچانے، وعدہ الٰہی کے پورا کرنے اور تمام کلمات الٰہی کے مکمل وضاحت کرنے کا علم دیا گیا ہے۔ ہم اہل بیت ؑکے پاس حکمتوں کے ابواب اور مسائل کی روشنی موجود ہے[1]۔

نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۲ میں ہے :

هم موضع سرّه۔۔۔۔۔۔۔ لا يقاس بآل محمّد صلّي اللّه عليه۔۔ هم أساس الدّين، و عماد اليقين. إليهم يفيء الغالي، و بهم يلحق التّالي. و لهم خصائص حقّ الولاية، و فيهم الوصيّة و الوراثة۔۔۔

آل پيغمبر (ص): وہ خداوند کے اسرار کی جگہ، اسکے فرمان کی پناہ گاہ، اسکے علم کے ظرف، اسکے احکام کا مقام، اسکی کتب کی پناہ گاہ ہیں اور اسکے دین کے مستحکم پہاڑ ہیں، خداوند نے انہی کے ذریعے سے دین کے ٹیڑے پن کو سیدھا کیا اور دین میں ڈر و خوف کو ختم کیا ہے۔ آل محمد دین کی اساس و بنیاد ہیں ۔۔۔۔ اس امت میں کسی کا بھی آل محمد کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔آل محمد دین کی بنیاد اور یقین کے ارکان ہیں۔

غلو کرنے والے کو انکی طرف پلٹنا چاہیے، اور پیچھے رہنے والے کو ان سے ملحق ہونا چاہیے، ولایت و حکومت کی صفات ان میں پائی جاتی ہیں، رسول خدا (ص) کی وصیت اور اسکی میراث انہی کے پاس ہے۔۔۔ 

ایک اور جگہ آپ کا ارشاد گرامی ہے : اہل بیت پیغمبر پر نگاہ رکھو اور ان  کے راستے کو اختیار  کرو ، ان  کے نقش قدم پر چلتے رہو کہ  وہ نہ تمہیں ہدایت سے باہر لے جائیں گے اور نہ ہی  ہلاکت کی طرف  پلٹ کر جانے دیں گے۔ وہ ٹھہر جائے تو ٹھہر جاؤ اور وہ  اٹھ کھڑے ہوں تو تم بھی  کھڑے ہو جاؤ,  ان سے آگے نہ نکل  جانا ورنہ تم  گمراہ ہوجاؤ گے اور پیچھے بھی نہ رہ جانا ورنہ تم  ہلاک ہوجاؤ گے[2]۔

   امام سجاد فرماتے تھے: رَبِّ صَلِّ عَلَى أَطَايِبِ أَهْلِ بَيْتِهِ الَّذِينَ اخْتَرْتَهُمْ لِأَمْرِكَ، وَ جَعَلْتَهُمْ خَزَنَةَ عِلْمِكَ وَ حَفَظَةَ دِينِكَ، وَ خُلَفَاءَكَ فِي أَرْضِك[3]. پالنے والے! اہل بیت کے ان پاکیزہ ترین ہستیوں پر درود بھہیجے جنہیں  آپ نے  اپنے  طرف سے دی ہوئی ذمہ داریوں کو انجام دینے کے لئے انتخاب کیا  اور انہیں اپنے علوم کا خزانہ دار ، اپنے دین کے محافظ  اور زمین پر اپنا جانشین قرار دئے ۔

ائمہ اہل بیتؑ ان لوگوں پر اعتراض کرتے کہ جنہوں  نے انہیں ان کا حقیقی مقام نہیں دیا  اور انہیں دینی پیشوا قرار دینے کے بجائے دوسروں کے پیچھے چلے.ائمہ اہل بیتؑ سے اس سلسلے میں متعدد باتیں نقل ہوئی ہے :  آل محمد علوم الٰہی کے دروازے ہیں ۔[4] مشرق و مغرب میں جاکر کھنگال ڈالو ، تمہیں صحیح علم  ہمارے سوا کہیں اور نہیں ملے گا ۔[5]

اے  لوگو! کہاں جارہے ہو  اور کہاں لے جائے جارہے ہو؟[6] خوش بخت وہ ہے جو ہماری پیروی کرے  اور بدبخت وہ ہے جو  ہماری مخالفت کرے اور ہم سے دشمنی کرے[7] ۔ 

جیساکہ ائمہ اہل بیتؑ اپنے اس  موقف میں حق بجانب ہیں اور امت سے ان  کی یہ توقع قرآن اور سنت اور عقل و منطق کے عین مطابق ہے ۔

 کیا امت نے اہل بیت کی پیروی کی؟  

یہاں یہ دیکھنا بہت اہمیت کا حامل ہے کہ  کیا  امت اسلامی، اہل بیتؑ کہ دینی پیشوائی کا شعور رکھتی ہے  ؟ کیا اسلامی فرقے  ائمہ اہل بیتؑ  سے دینی تعلیمات حاصل کرنےکی کوشش کرتے ہیں؟ کیا ان  کی اہم ترین کتابوں میں  ائمہ اہل بیتؑ اتنی تعلیمات موجود ہیں کہ جو  ان کی پیروی کے ادعا کی حقانیت کی گواہی دئے ؟  

 

کیسے ثابت ہوگا کون کس کی پیروی کرتے ہیں؟

 

شیعہ اور اہل سنت دونوں اہل بیت کی پیروی کا ادعا کرتے ہیں  یہاں اہم بات یہ  دیکھنا ہے کہ ان میں سے کونسا فرقہ اہل بیت ؑ کے بارے میں  قرآن و سنت اور عقل  کے حکم پر عمل کرتے ہیں ؟

اس کام  کے لئے ہم یہاں  ان دو  گروہوں کی معتبر ترین کتابوں کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ اس طریقے سے ہم اہل بیتؑ کی نسبت سے ان فریقوں کے  طرز عمل  کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ  ان کےمذہبی تاریخ  کا جائزہ  بھی لے سکے کیونکہ  یہ معتبر کتابیں تقریبا ہزار سال پہلے کی  لکھی ہوئی ہیں

شیعہ اور اہل سنت کی معتبر ترین کتابیں جہاں ہمیں اہل بیتؑ کی نسبت سے موجودہ لوگوں کے طرز  عمل کو واضح کرتی ہیں وہاں  ہمیں ان کے سلف  کا اہل بیت ؑ سے ارتباط کی نوعیت بھی بتاتی ہے۔

 اس کام کے ذریعے ہمیں  یہ معلوم ہوگا کہ  اہل بیتؑ کا  مذہب  کیا تھا اور  ان کی  تعلیمات کے وارث کون ہیں  اور  کون کیا ہے ؟ 

شیعہ اور اھل بیت کی پیروی کا ادعا  :   

آٗئیں پہلے مختصر طور پر شیعوں کی اصلی اور معتبر ترین  کتابوں کا جائزہ لیتے ہیں اور پھر بعد میں  اہل سنت کے تمام فرقوں کے نذدیک معتبر ترین کتابوں کا جائزہ لیں گے ۔

شیعوں کی معتبر ترین کتابیں:

1- الکافی: اس کا مؤلف محمد بن یعقوب کلینی معروف به ثقه الاسلام متوفی 329 ہجری ہے ۔یہ کتاب  اعتقادی ، اخلاقی اور احکام کا جامع  ایک اہم کتاب ہے اس میں  ائمہ اہل بیتؑ سے منقول ۱۶ ہزار سے  زیادہ احادیث موجود ہیں۔

 2-  من لایحضره الفقیه : اس کا مؤلف محمد بن علی بن حسین بن بابویه قمی مشهور به شیخ صدوق متوفی 381 ہجری ہے.اس کتاب میں ائمہ اہل بیت ؑ سے چھے ہزار کے قریب احادیث موجود ہیں۔  

 3- التهذیب : اس کا مؤلف محمد بن حسن طوسی معروف به شیخ الطائفه متوفی 460 هجری ہیں. اس کتاب میں تقریبا 13590 احادیث  ائمہ اہل بیت ؑ سے نقل ہوئی ہے ۔ 

4- الاستبصار: اس کا مؤلف بھی شیخ‌الطائفه ہی ہے ۔ اس میں بھی  5511 احادیث ائمہ اہل بیتؑ سے نقل ہوئی ہیں .

 یہی چار کتابیں کتب اربعه کے نام سے مشہور ہیں  اور شیعوں کی اہم ترین کتابوں میں سے ہیں، ان میں موجود مختلف ابوب میں ائمہ اہل بیتؑ سے منقول احادیث سے شیعہ اپنے اعتقادی اور غیر اعتقادی مسائل میں  استفادہ کرتے ہیں۔

 ۵-  نهج‌البلاغه : اس کا مؤلف سید رضی متوفی 406 ہجری ہے ، یہ  امام علیؑ کے کلمات کا مجموعہ ہے۔اس  میں 239 خطبے، 79  خطوط  اور  480 مختصر کلمات موجود ہیں. نهج‌البلاغه حقیقت میں امام علیؑ کا دوسروں پر  علمی برتری کا عملی ثابت ہے۔  

۷-  صحیفة سجادیه : یہ  امام سجادؑ کے 54 دعاؤوں کا مجموعہ  ہے ۔ اس میں امام ؑ نے اسلامی تعلیمات کو  دعا کے خوبصورت پیرائے میں بیان فرمائے ہیں ۔  

ان چند کتابوں کے علاوہ  بھی شیعوں کی دوسری اہم کتابوں کا بھی یہی حال ہے ،بعنوان مثال  التوحید : تأليف شیخ صدوق متوفی ۳۸١ ہجری - عیون اخبار الرضا ۔ تأليف شیخ صدوق: ۔تحف‌العقول : تأليف حسن بن علی  حرّانی متوفی 381 ہجری ۔  غررالحکم : تأليف عبدالواحد بن محمد  متوفی 550ہجری - الاحتجاج : تأليف احمد بن علی[چھٹی ہجری  کے اہم  شیعہ عالم]-

لہذا اہل تشیع کی یہ  اہم ترین  کتابیں ائمہ اہل بیتؑ اور ان کے شاگردوں سے منقول احادیث  سے لبریز ہیں  اور یہ ان کے اسی عقیدے کی بنیاد پر ہے جو شیعہ  اہل بیت ؑ کے بارے میں رکھتے ہیں  جیساکہ ان کے بڑے بڑے علماء نے  ائمہ اہل بیتؑ کے دینی پیشوا اور حضور پاک ص کے حقیقی جانشین ہونے کے اثبات میں  کتابیں تالیف کی ہیں[8] ۔

 اس بنیاد پر اہل تشیع کی بنیادی ترین  خصوصیت ان کا یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے بعد قرآن و سنت اور عقل کے دستور کے مطابق اہل بیتؑ  ہی دین کے پیشوا ہیں، دینی تعلیمات کا حقیقی محافظ  اور  وارث  انہیں ہیں  اور ان کے اسی عقیدے کی عملی ثبوت ان کی معتبر ترین کتابیں ہیں۔

 

اھل سنت اور اھل بیت کی پیروی کا ادعا  :

 اب ہم شیعوں کے مقابلے میں  مسلمانوں کی اکثریت یعنی اہل سنت کے اہم ترین کتابوں میں اس بات  کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان میں کس حد تک اہل بیتؑ سے منقول دینی تعلیمات کو اخذ کیا ہے۔

صحیح بخاری : اس میں موجود  روایات کی کل تعداد  7275 و با حذف مکررات 2602  ہیں ۔ اس میں  پیغمبر ؐکے سب سے  اہم شاگرد  اور تربیت یافتہ شخصیت اور  ان کے علوم کا دروازہ یعنی حضرت علیؑ سے رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی  صرف  ’’ ۲۹ ‘‘ احادیث  [9]نقل ہوئی ہیں، مکتب  وحی کے پرورش  یافتہ  جناب فاطمہ ؑ سے  چار ، امام حسن مجتبیؑ  سے کوئی   ایک روایت بھی نقل نہیں ہوئی  ہے، امام حسین ؑ سے صرف ایک روایت نقل ہے[10].

  انھیں  چند  احادیث  کے علاوہ  بخاری نے خود  ان اہم  اسلامی شخصیات  کی سیرت  اور تعلیمات  کا ایک نمونہ بھی نقل نہیں کیا ہے۔ اسی  طرح  امام  سجاد ؑسے تین اور امام  باقرؑ سے  چار روایات اس میں نقل ہے لیکن  امام  صادقؑ  امام کاظمؑ سمیت باقی ائمہ اہل بیت سے کوئی روایات صحیح بخاری میں نہیں ہے [11] 

   صحیح مسلم :   اس  میں موجود  روایات  کی کل تعداد 7275 و با حذف مکررات ۳۰۳۳ ہیں ۔ ابن جوزی  کے بقول  اس میں  امام علیؑ  سے ۳۵ روایات  نقل ہوئی ہے۔[12] جناب  فاطمہ زهراء ؑ سے تین   روایات  ، امام حسنؑ  سے کوئی  روایت  نقل نہیں ہوئی ہے ،امام حسینؑ  سے  ایک روایت،  امام سجادؑ سے  چار ، امام باقر ؑ سے ۱۳ ، امام صادقؑ  سے  ۸ لیکن  امام  کاظمؑ  سمیت باقی  ائمہ اہل بیتؑ سے  ایک روایت  بھی  نقل نہیں ہوئی ہے ۔[13]

جیساکہ صحاح ستہ  [چھے اہم کتابیں ]  میں  سے یہی  دو اہم کتاب  صحیحین [ صحیح  بخاری اور صحیح مسلم ]مسلمانوں کی اکثریت  کے نذدیک قرآن مجید کے بعد اسلامی تعلیمات کا سب سے اہم  ترین مجموعہ ہیں۔ 

اہل سنت کی انہی دو  اہم کتابوں  میں جہاں رسول اللہ ص کی احادیث اور تعلیمات کو ان سے نقل نہیں کیا ہے وہاں خود ان اہم  اسلامی شخصیات  کی سیرت  اور تعلیمات بھی ان کتابوں میں نقل نہیں ہیں ۔

 جیساکہ  اہل سنت کی معتبر ایمانیات کی کتابیں بھی اس طرز عمل کی بنیاد پر لکھی گئی ہیں ۔ کیونکہ ان میں اہل بیتؑ کے بارے میں شیعوں کے عقیدے کو رد کرنے کی  سر توڑ کوشش کی گئی ہے۔اور شیعوں کے برخلاف  اصحاب کو دینی پیشوا کے طور پر پیش کرنے کی  کی کوشش کیا ہے اور  شیعوں پر یہ  الزام  بھی لگاتے ہیں کہ شیعہ اصحاب کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ کیونکہ دینی تعلیمات کو بعد کی نسلوں تک پہنچانے کا وسیلہ اور ایک پل کی مانند ہیں ، شیعہ  اصحاب سے دشمنی کر کے اس پل کو خراب کرنے اور اسلام کو نقصان پہنچانے کی فکر میں رہتے ہیں ۔

    لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے،شیعہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ان اصحاب کی عظمتوں کو سلام کرتے ہیں جنہوں نے  اسلام کی راہ  میں قربانی دی  اور آخری دم تک  اپنے عہد و پیمان پر ثابت قدم رہے  ہوئے قرآن و سنت کی دستورات سے سرپیچی نہیں کئے ۔شیعہ  صرف ان اصحاب کو نہیں مانتے جنہوں نے اہل بیت پیامبرؑکے ساتھ اچھا رویہ نہیں رکھا۔

شیعہ  اہل بیتؑ  کے بارے میں اپنے عقیدے  کو ثابت کرنے کیلئے قرآن و سنت سے  استدلال کرتے  ہیں  اور لوگوں کو  یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ  مسلمانوں کا حقیقی  دینی پیشوا  کہ جن کی اتباع  اور پیروی  آج بھی سب پر واجب ہیں وہ اہل بیتؑ  ہیں، لیکن  شیعہ مخالف اس کو  فورا   اصحاب کی  شان میں گستاخی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ لہذا  بعض اصحاب  کے کاموں کی درستی  یا نادرستی  سے بحث خود بخود سامنے آجاتی ہے ۔ شیعوں کی یہ کوشش حقیقت میں  دین مقدس اسلام کی تعلیمات کو  صحیح راستے سے حاصل کرنے  کے لئے ہیں، اسی لئے قرآن و سنت سے اس عقیدے  کو ثابت کرنے اور اس سے دفاع کے لئے دلیل لاتے ہیں اور قرآن و سنت اور عقل کے مقابلے  میں کسی دوسرے معیار کو نہیں مانتے۔

تعجب  اور تأسف :

جیساکہ بیان ہوا کہ شیعہ مذہب کی بنیاد ہی  اہل بیتؑ  کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حقیقی جانشین ہونا ہے اسی لئے ان کی معتبر کتابوں ائمہ اہل بیتؑ سے کی تعلیمات سے لبریز ہیں اور ان کی ایمانیات کی کتابوں میں اسی موضوع پر دلائل پیش کی ہیں ۔

لہذا شیعوں  کے علاوہ کوئی اور اسلامی فرقہ ان کی پیروی کا دعوا کرئے تو یہ ان کی مذہبی تاریخ کے آئینہ دار ،معتبر کتابوں سے قابل اثبات نہیں ہے  ۔

لیکن  عجیب بات یہ ہے  کہ نہ اپنی کتابوں میں اہل بیتؑ  کی تعلیمات  موجود ہیں  نہ  شیعوں کے پاس موجود انکی تعلیمات کو قبول کرتے ہیں ،  اس کے باوجود یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم ہی اہل بیتؑ  کے دوست اور پیروکار ہیں ۔

اور  یہ دوستی اور پیروکاری کا نہایت انوکھا دعوا ہے ۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ  بہت سے لوگ منفی پروپیگنڈوں کی بنیاد پر   مکتب اہل بیتؑ کے پیروکاروں کو  خیانت کار اور  دھوکہ باز  اور گمراہ سمجھتے ہیں اور تشیع کا بانی کسی گمراہ  اور کافر کو قرار دیتے ہیں۔ جبکہ شیعہ قرآن و سنت  کی روشنی میں ہی  اہل بیتؑ کی جانشینی اور ان کی دینی پیشوائی کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔۔

 لہذا  اہل بیتؑ کے پیروکاروں کے خلاف  کیے جانے والے پروپیگنڈے تشیع کی حقیقت سے جہالت،تعصب اور ان کے علمی اور منطقی  دلائل کے مقابلے میں عاجز  ہوکر غیر منطقی اور انصاف  سے  دور  رویہ اختیار کرنے کا نتیجہ ہے ۔  اہل بیتؑ کے پیروکاروں سے دشمنی حقیقت میں اسی سیاست کا نتیجہ ہے جو اہل بیتؑ کے خلاف روا رکھی گئی۔اسی سیاست اور مذہبی تعصبات کا نتیجہ  لوگوں کی اکثریت کا اہل بیتؑ کی تعلیمات سے دوری کے طور پر ظاہر ہوا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔

 

 

[1] - نهج‏ البلاغة ،خطبه، ١۲۰ :

[2] . نهج ‏البلاغة خطبه، ۹۷        

[3] - الصحيفةالسجادية،  دعاء 47  

. [4] تفسیر عیاشی ، ج ۱ ص ، ۸۶۔وسائل الشیعہ ، ج  ۱۸ ص ۹ 

[5] ۔ کافی  ج  ۱ ص  ۳۹۹

[6] ۔ کافی  ۔ ج ۱ ص ۴۷۸

[7] . دلائل الامامہ، ص ۱۰۴

[8]- جیساکہ اس سلسلے کی بعض اہم کتابیں درج ذیل ہیں  ، الشافي ، شريف مرتضي، - عبقات الانوار ، سيد مير حامد حسين هندي، احقاق الحق ، قاضي شوستري، شرح تجريد علامه حلي- دلائل الصدق .محمد حسين مظفر-  الغدير ، علامه اميني -  الانصاف في نص علي الامامه و غايه المرام ، سيد هاشم بحراني . الراجعات، سيد شرف الدين

[9]- ابن‌جوزی، تلقیح فهوم اهل‌الاثر، ص287

[10] مجلة علوم حدیث، شماره47، ص1۵۰-١۷۸.

[11]- سیری در صحیحین، ص133 مجلة علوم حدیث، شماره47، ص1۵۰-١۷۸.

[12]- ابن‌جوزی، تلقیح فهوم اهل‌الاثر، ص287

[13]- مجلة علوم حدیث، شماره47، ص1۵۰-١۷۸





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی