2021 July 24
سیدہ فاطمہ سلام اللہ کی رضایت اور ایک مرسل روایت
مندرجات: ٢٠١٥ تاریخ اشاعت: ١٥ July ٢٠٢١ - ١٩:٠٦ مشاہدات: 51
مضامین و مقالات » پبلک
سیدہ فاطمہ سلام اللہ کی رضایت اور ایک مرسل روایت

 سیدہ فاطمہ سلام اللہ  کی رضایت اور  ایک مرسل روایت   

موضوعات کی فہرست۔

 اہل سنت کے مناظر حضرات  کہتے ہیں ۔

 شعبی کی روایت پر ہمارا تبصرہ ۔

مراسیل شعبی کے عدم اعتبار پر تصریات

قانون کے اعتبار سے بھی شعبی کی مرسل روایت حجت نہیں

شعبی کا امیر المومنین علیہ السلام کے بارے برابلا کہنا

شبعی قرآن میں انبیاء کے لئے مالی وراثت کے قائل تھا

جو شاخ نازک پر آشیانہ بنے گا وہ ناپائیدار ہوگا۔

 

اہل سنت کے مناظر حضرات  کہتے ہیں ۔

   سُنی و شیعہ کتب سے ثابت ہے کہ  حضرت ابوبکر صدیق نے سیدہ فاطمہ سے آخری ایام میں ملاقات کی تھی اور رنجش ختم کر کے انہیں راضی بھی کر لیا تھا۔

1   السنن کبری (امام بیہقی) عربی اور اردو کتاب سے عکس ۔2  البدایہ والنھایہ  الطبقات الکبیر  4سیر اسلام النبلاء  ۔5  شرح نہج البلاغہ ابن میثم بحرانی۔6  بیت الا حزان عباس قمی۔

 امام زہری کی روایت مرسل نہیں ہے۔

  شعبی کی مرسل روایت ہمارے ہاں صحیح کا درجہ رکھتی ہے۔ (دلیل معرفتہ الثقات، تذکرہ الحفاظ)امام عجلی نے  شعبی کی مرسل روایت کو صحیح کا درجہ دیا ہے

شعبی کی مرسل روایت :

اگر فرض بھی کریں کہ بی بی زہرا کچھ عرصے کے لیے شیخین سے ناراض بھی ہوئیں تھیں، لیکن یہ مطلب بھی اپنی جگہ پر ثابت ہوا ہے کہ بی بی زہرا کی زندگی کے آخری ایام میں شیخین بی بی کے پاس آئے اور ان سے معذرت کر کے انکو راضی کر لیا تھا، جیسا کہ بیہقی اور دوسروں نے نقل کیا ہے کہ:

عن الشعبي قال لما مرضت فاطمة أتاها أبو بكر الصديق فأستئذن عليها فقال علي يا فاطمة هذا أبوبكر يستئذن عليك فقالت أتحب أن أأذن؟ قال نعم فأذنت له فدخل عليها يترضاها و قال و الله ما تركت الدار و المال و الأهل و العشيرة إلا لإبتغاء مرضاة الله و مرضاة رسوله و مرضاتكم أهل البيت ثم ترضاها حتي رضيت.

جب حضرت فاطمہ بیمار ہوئیں تو ابوبکر انکو راضی کرنے کے لیے انکے پاس آیا اور ان سے ملاقات کرنے کے لیے اجازت مانگی، علی (ع) نے فاطمہ (س) سے فرمایا کہ: ابوبکر آپ سے ملاقات کرنے کی اجازت مانگ رہا ہے، بی بی نے فرمایا کہ: کیا آپ چاہتے ہیں کہ وہ اس گھر میں داخل ہو ؟ علی (ع) نے فرمایا کہ: ہاں، پس فاطمہ (س) نے یہ سن کر ابوبکر کو اجازت دے گی، ابوبکر گھر میں داخل ہوا اور فاطمہ سے راضی ہونے کے لیے معافی مانگنا چاہتا تھا، ابوبکر نے کہا: خدا کی قسم میں نے اپنے گھر، اپنے مال اور اپنے رشتے داروں وغیرہ کو، خداوند، رسول خدا اور انکے اہل بیت کو راضی کرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے، یہ سن کر فاطمہ ان سے راضی ہو گئیں۔

البيهقي، احمد بن الحسين (متوفی 458هـ) دلائل النبوة، ج 7، ص 281؛

البيهقي، احمد بن الحسين (متوفي 458هـ) الاعتقاد والهداية إلي سبيل الرشاد علي مذهب السلف وأصحاب الحديث، ج 1، ص 354، تحقيق: أحمد عصام الكاتب، ناشر: دار الآفاق الجديدة - بيروت، الطبعة: الأولي، 1401هـ.

 نوٹ : جیساکہ  اس سلسلے کی روایات میں سے جو روایت  قابل استدلال ہے وہ یہی شعبی کی روایت ہے شیعہ کتب سے جو حوالے پیش کیے جاتے ہیں وہ  بھی شعبی کی یہی روایت ہے جس کو  شیعہ علماء نے نقل قول کیا ہے ۔

   شعبی کی روایت پر ہمارا تبصرہ ۔

 آگر صحیحین میں موجود جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کا خلفاء پر ناراض ہونے  کو بتانے والی  روایات کے بارے  یہ اعتراض صحیح ہے  کہ یہ سب  امام  زہری  کا گمان ہے وہ واقعے کے عینی شاہد نہیں تھا ، تو اب  شعبی کیسے رضایت کے شاہد ٹھہیرا ؟

 اب کیا شعبی نے ان کا چہرہ دیکھا یا رضایت کے الفاظ سنے ؟ وہ  الفاظ   کہاں ہیں کہ جو خود سیدہ سے نقل ہوئے ہوں ؟ اگر ناراضگی ثابت کرنے کے لئے انہیں کے الفاظ اور چہرہ دیکھنا ضروری ہے تو رضایت   ثابت کرنے کے لئے ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہے ؟

 اہل سنت کے مناظرہ کرنے والے  صحیحن میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا خلفاء سے ناراض اور بائیکاٹ کی حالت میں  دنیا سے جانے والی بات کو امام زہری کا گمان سمجھتے ہیں  اور یہ اعتراض کرتے ہیں ؛ کیوں امام زہری کو صرف الھام ہوا کسی اور کونہیں ہوا ؟ کیوں اتنے مشہور واقعے کو صرف زہری نے نقل کیا کیوں یہ کسی اور صحابی کے توسط سے نقل نہیں ہوا؟ اب یہی سوالات  شعبی کی روایت کے بارے میں ہم  کریں تو آپ لوگوں کے پاس کیا جواب ہے ،  زہری کی روایت  تو اہل سنت کی صحاح ستہ میں صحیح سند نقل ہوئی ہے  ،لیکن شعبی کی روایت صحیح ستہ میں ذکر بھی نہیں ہے ،کسی صحابی سے  یہ روایت نقل نہیں ہوئی ہے ؟ کیوں اتنے اہم مسئلہ کو اصحاب ،خاص کر خلفاء نے خود ہی ذکر نہیں کیا؟  صرف شعبی کو کیسے الہام ہوا ؟ صحاح ستہ، خاص کر صحیحین  میں یہ روایت نقل کیوں نہیں ہوئی ؟ شعبی کی کیا مجبوری تھی کہ اس  نے اصل روایت کے راوی  کا ذکر نہیں کیا؟ کیا یہ مناسب نہیں تھا اتنے اہم مسئلہ میں کہ جس کی وجہ سے  خلفاء پر طعن کے دروازے کھل جاتے ہیں   وہ   اصل راوی کا نام لیتا اور   اس سلسلے میں موجود ابھام کو دور کرتا اور  اعتراض کرنے والوں   کے لئے جواز فراہم نہ کرتا  ؟ کیا  اس جیسے اہم مسئلے میں راوی کے نام کو ذکر نہ کرنا خود اس بات کی  دلیل نہیں ہے کہ یہ  ایک حقیقت کو چھپانے کی کوشش کا نتیجہ ہے ؟  

     شعبی کی روایت  سند کے اعتبار سے ضعیف ہے ۔۔۔کیونکہ ایک تو یہ مرسل روایت ہے ،دوسرا اس کا یک راوی ،اسماعیل بن ابی خالد مدلس  ہے ۔مدلس ہونا ایک عیب ہے ۔روایت نقل کرنے میں ایمانداری سے کام نہ  لینے  کی نشانی ہے ۔

 مراسیل شعبی کے عدم اعتبار پر تصریات

اہل سنت کے  بزرگوں کی طرف سے مراسیل شعبی کے عدم اعتبار پر تصریحات  موجود ہیں ۔    

 الف :  ابن عبد البر کہتا ہے   "ومَرَاسِيلُ الشَّعْبِيِّ لَيْسَتْ عِنْدَهُمْ بِشَيْءٍ". علماء کے نذدیک شعبی کی مرسل روایات کی اہمیت نہیں۔

  ابن عبد البر أبو عمر يوسف بن عبد الله (م : 463هـ) -التمهيد لما في الموطأ من المعاني ۔- ج 22 :320۔

ب :    صحیح بخاری کے مشہور شارح القَسطَلانِي کہتا ہے  "وَأَمَّا مَرَاسِيلُ الشُّعْبِيِّ لَيْسَتْ بِحُجَّةٍ، مُطْلَقًا َلا سِيَّمَا مَا عَارَضَهُ الصَّحِيحُ۔۔۔ شعبی کی مرسل روایات مطلقا حجت نہیں خاص کر اگر وہ صحیح سند روایت سے ٹکراتی ہو تو بلکل حجت نہیں ۔ إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري 6 :475

 عجلی کی توثیق کی اہمیت نہیں

جیساکہ امام عجلی نے شعبی کی مرسل روایات کو صحیح کا درجہ دیا ہے تو دوسروں نے عجلی کی توثیق کو قبول نہیں کیا ہے اور عجلی کو توثیق  کے مسئلے میں سہل انگار اور  زیادہ دقت نہ کرنے والا قرار دیا ہے ؛

مشہور محدث اور ماہر رجال البانی کہتا ہے : وہ توثیق کرنے میں سہل انگاری سے کام لیتا تھا زیادہ دقت نہیں کرتا تھا ۔

وثقه العجلى " قلت: وهو من المعروفين بالتساهل فى التوثيق , ولذلك , لم يتبن الحافظ توثيقه ,، الأَلْبَانِيُّ   إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل (5/ 289):

ایک اور جگہ پر ایک روایت کے بارے  البانی لکھتا ہے :وجميع رواة الحديث ثقات إلا منصور الكلبي وقد وثقه العجلي "قلت : توثيق العجلي في منزلة توثيق ابن حبان ولذلك لم يعتمده ههنا الذهبي وغيره من المحققين فقال الذهبي في ترجمته من " الميزان " : تمام المنة في التعليق على فقه السنة (ص: 400):

" لہذا عجلی نے توثیق کی  ہے تو عجلی کی توثیق کو  البانی ،ذھبی اور دوسرے محققین نے قبول نہیں کیا ہے ۔

قانون کے اعتبار سے بھی شعبی کی مرسل روایت حجت نہیں

 اہل سنت کے علماء نے مرسل روایت کی حجت کے لئے جو قانون بتایا  ہے اس کے مطابق بھی  شعبی کی مرسل روایات حجت نہیں ہے ۔

ملاحظہ کریں ۔۔

الف :    قال الإمام مسلم- رحمه الله- في مقدمة صحيحه: "والمرسل من الروايات في أصل قولنا وقول أهل العلم بالأخبار ليس بحجة ۔۔۔ وهو قول عبد الرحمن بن مهدي ويحي بن سعيد القطان وابن المديني وأبي خيثمة زهير بن حرب ويحي بن معين وابن أبى شيبة والبخاري ومسلم وأبي داود والترمذي والنسائي وابن ماجة وغيرهم من أئمة الحديث۔۔۔

العلائي: جامع التحصيل في أحكام المراسيل. ص30.

لہذا  امام مسلم ، امام بخاری  ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ کے نذدیک مرسل روایات حجت ہی نہیں ۔ 

ب مرسل روایت کے بارئے صحیح ترین قول یہ ہے کہ جس کے بارے میں یہ علم ہو کہ وہ صرف ثقہ راوی سے ہی روایت نقل کرتا ہے تو اس کی مرسل روایت حجت ہے ورنہ حجت نہیں۔

وأصح الأقوال أنّ منها المقبول، ومنها المردود، ومنها الموقوف، فمن علم أنه حاله أنه لا يرسل إلا عن ثقة: قُبل مرسله، ومن عرف أنه يرِسل عن الثقة وغير الثقة، فإن إرساله عمن لا يعرف فهو موقوف، وما كان ومن المراسيل مخالفاً لما رواه الثقات كان مردودا.

اب دیکھنا یہ ہے کہ  کیا شعبی ہمیشہ ثقہ راوی سے ہی روایت نقل کرتا تھا ؟

اہل سنت کی  کتابوں میں اس کی  روایات  کے بارے تحقیق کرنے والے جانتے ہیں کہ شعبی ہمیشہ ثقہ راوی سے روایت نقل نہیں کرتا تھا لہذا بہت سی جگہو ں پر اہل سنت کے علماء نے اس کی مرسل روایت کو ضعیف قرار دیا ہے ۔

کچھ نمونے ۔

ابن حجر عسقلانی شعبی کی ایک مرسل روایت کے بارے میں کہتا ہے :

هذا الحدیث ضعیف بهذا الإِسناد؛ لأن الشعبی لم یسمع من علی رضی الله عنه سوى ما فی الصحیح، والله أعلم.

العسقلانی الشافعی، أحمد بن علی بن حجر ابوالفضل (المتوفی 852هـ)، المطالب العالیة بزوائد المسانید الثمانیة، ج16، ص82،: دار العاصمة/ دار الغیث، الطبعة: الأولى، السعودیة - 1419هـ .

حَدَّثَنَا سَعِیدٌ، قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بَیَان، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبی قَالَ: نَسَخَتْ هَذِهِ الْآیَةُ: {وَإِنْ (1) تُبْدُوا مَا فِی أَنْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوهُ} مَا بَعْدَهَا: {لَهَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْهَا مَا اکْتَسَبَتْ۔۔
  سنده صحیح إلى الشعبی، لکنه مرسل کما یتضح من الروایة الآتیة برقم  فیکون ضعیفًا لإرساله.

الجوزجانی، أبو عثمان سعید بن منصور بن شعبة الخراسانی (المتوفى 227 هـ)، التفسیر من سنن سعید بن منصور، ج3، ص1016، ح479

حدثنا یحیى عن إسماعیل حدثنا عامر، وحدثنا محمد بن عبید حدثنا إسماعیل بن أبی خالد عن رجل عن الشعبی قال: مر عمر بطلحة ...
(252) 
إسناده فی ظاهره ضعیف، لانقطاعه. فإن عامرا الشعبى لم یدرک عمر ولا طلحة، روایته عنهما مرسلة.

الشیبانی، أحمد بن محمد بن حنبل   (المتوفى241هـ)، مسند الإمام أحمد بن حنبل، ج1، ص272، ح252، المحقق: أحمد محمد شاکر، الناشر: دار الحدیث – القاهرة، الطبعة: الأولى، 1416 هـ - 1995 م.

وهذا إسناده ضعیف، رجاله کلهم ثقات؛ وعلّته: الانقطاع ببن الشعبی وعائشة؛ وقال المنذری فی " مختصره ": " هذا مرسل؛ الشعبی لم یسمع من عائشة ".
الألبانی، أبو عبد الرحمن محمد ناصر الدین ضعیف أبی داود - الأم، ج1، ص96، ح34، دار النشر : مؤسسة غراس للنشر و التوزیع، الطبعة : الأولى - 1423 هـ .

ابن حجر عسقلانی اس ادعا کو رد کرتا ہے کہ  شعبی ثقه کے علاوہ کسی اور سے روایت نقل نہیں کرتا تھا اور یہ کہتا ہے کہ مرسل روایات کے بارے میں تحقیق کی توپتہ چلا کہ اکثر مرسل روایات غیر عادل راویوں سے نقل ہوئی ہیں :

وما قاله القاضی صحیح فإن کثیرا من الأئمة وثقوا خلقا من الرواة بحسب اعتقادهم فیهم وظهر لغیرهم فیهم الجرح المعتبر، وهذا بیّن واضح فی کتب الجرح والتعدیل.  فإذا کان مع التصریح بالعدالة فکیف مع السکوت عنها.

و فتشت کثیرا من المراسیل فوجدت عن غیر العدول. ۔۔۔۔وقول الشعبی: "حدثنی الحارث الأعور وکان کذابا وحدیثه عنه موجود".   فمن أین یصح حکم (على) الراوی أنه لا یرسل إلا عن ثقة عنده على الإطلاق.

العسقلانی الشافعی، أحمد بن علی بن حجر ابوالفضل (المتوفى852 هـ)، النکت على کتاب ابن الصلاح، ج2، ص549و550، المحقق: ربیع بن هادی عمیر المدخلی، الناشر: عمادة البحث العلمی بالجامعة الإسلامیة، الطبعة: الأولى، 1404هـ/1984م.

 شرح علل الترمذی، میں لکھا ہے :  امام ابن رجب کے قانون کے مطابق شعبی کی مرسل روایات ضعیف اور حجت نہیں ہیں۔کیونکہ وہ ضعیف راوی سے بھی روایت نقل کرتا تھا ۔

  وبناء على هذه الضوابط التی قعدها ابن رجب نحکم على مرسلات الزهرى والشعبی بالضعف، کما نحکم على مرسلات کل من عرفنا له روایة عن الضعفاء.

                الحنبلی، الإمام الحافظ ابن رجب (المتوفى795هـ) ، شرح علل الترمذی، ص187، تحقیق : الدکتور همام عبد الرحیم سعید، دار النشر : مکتبة المنار - الزرقاء –    الأردن، الطبعة : الأولى ، 1407هـ - 1987م.

امام حاکم کہتا ہے کہ اس نے اصحاب میں سے سوای انس کے کسی اور کو نہیں سنا ہے :

وَأَنَّ الشَّعْبِیَّ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ صَحَابِیٍّ غَیْرِ أَنَسٍ، وَأَنَّ الشَّعْبِیَّ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ، وَلَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَلَا مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَیْدٍ، وَلَا مِنْ عَلِیٍّ إِنَّمَا رَآهُ رُؤْیَةً، وَلَا مِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَلَا مِنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ...

النیسابوری، أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحاکم (المتوفى405 هـ)، معرفة علوم الحدیث، ص111، تحقیق: السید معظم حسین،‌ الناشر: دار الکتب العلمیة – بیروت،‌ الطبعة : الثانیة، 1397هـ - 1977م.

جیساکہ بہت ساروں نے مذکورہ روایت کے اصلی راوی کو کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ناکام رہا ہے۔

ابن كثير:‌ والظاهر أن عامر الشعبي سمعه من علي ، أو ممن سمعه من علي.   البداية والنهاية ج 5 ص 310.

کہتا ہے ظاہر یہ ہے اس نے حضرت علی علیہ السلام سے یا ان سے سنے کسی سے راوی سے نقل کیا ہے ۔جبکہ امام حاکم کہتا ہے کہ اس نے سوای انس کے کسی صحابی کو سنا بھی نہیں ۔

شعبی کا امیر المومنین علیہ السلام کے بارے برابلا کہنا

شعبی کا شمار امیر المومنین علیہ السلام  اور ان کے  شیعوں کے دشمنوں میں ہوتا تھا اور  امیر المومنین علیہ السلام کے دشمنوں کی پارٹی یعنی بنی امیہ سے اس کے خاص تعلقات تھے ۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کیوں اس روایت کا سہارا لیا اور اصل راوی کا نام ذکر نہیں کیا ۔

شعبي  نے حاکم کے خوف سے مولی علی علیہ السلام کو   برا بلا کہا :

عن مجالد عن الشعبي قال: قدمنا علي الحجاج البصرة، وقدم عليه قراء من المدينة من أبناء المهاجرين والأنصار، فيهم أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه... وجعل الحجاج يذاكرهم ويسألهم إذ ذكر علي بن أبي طالب فنال منه ونلنا مقاربة له وفَرَقاً منه ومن شره....

ہم نے بھی حجاج کو راضی کرنے اور اسکی ہاں میں ہاں ملانے کے لیے، علی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا....،

أنساب الأشراف بلاذري (متوفاي279هـ) ، ج 4، ص 315؛  

 شبعی قسم کھاتا تھا کہ امیر المومنین علیہ السلام قرآن کا حافظ نہیں تھا ۔۔

وروي شَريك عن إسماعيل بن أبي خالد، قال: سمعت الشَّعبي يقول ويحلف بالله: لقد دخل علي حُفرته وما حِفظ القرآن<.

الصاحبي، فقه اللغة، ج1: ص50  البسوي، أبو يوسف يعقوب، المعرفة والتاريخ، ج1، ص483.

شعبی جنگ جمل میں اصحاب کی شرکت کو کم دکھانے اور حضرت امیر علیہ السلام کے موقف کو کمزور کرنے کے لئے قسم کھاتا تھا کہ جمل میں صرف چار صحابہ شریک تھے اگر یہ تعداد پانچ تک پہنچ جائے تو میں جھوٹا ہوں ۔قال الشعبي لم يشهد الجمل من الصحابة إلا أربعة فإن جاءوا بخامس فأنا كذاب۔

 محمد بن عبد الوهاب: مسائل لخصها محمد بن عبد الوهاب ج1: ص170، نشر: مطابع الرياض، ط1.

جبکہ بہت سے اصحاب نے باقاعدہ طور پر شرکت کی اور حضرت امیر علیہ السلام کی حمایت میں جنگ لڑی اور صرف جنگ جمل میں ۱۳۰ بدری صحابی آپ کے ساتھ شریک تھے :

قال الذهبي: وقال سعيد بن جبير : كان مع علي يوم وقعة الجمل ثمانمائة من الأنصار ، وأربعمائة ممن شهدوا بيعة الرضوان . رواه جعفر بن أبي المغيرة عن سعيد.

وقال المطلب بن زياد ، عن السدي : شهد مع علي يوم الجمل مائة وثلاثون بدريا وسبعمائة من أصحاب النبي صلي الله عليه وسلم ، وقتل بينهما ثلاثون ألفا ، لم تكن مقتلة أعظم منها.

تاريخ الإسلام، ج 3، ص 484، تاريخ خليفة بن خياط : 138 ، العقد الفريد : 3 / 314.

شبعی

شبعی قرآن میں انبیاء کے لئے مالی وراثت کے قائل تھا

جیساکہ اصحاب ،تابعین اور اہل سنت کے مایہ ناز علماء میں سے بہت سے  ایسے ہیں کہ جنہوں نے واضح انداز میں قرآن میں انبیاء علیہم السلام کی مالی وراثت کو قبول کیا ہے ۔انہیں میں سے ایک یہی شعبی ہے۔ ویرث من آل یعقوب یَرِثُنِی الْمَالَ وَیَرِثُ مِنْ آلِ یعقوب النبوه   

 محقق لکھتا ہے :  وهو قول ابن عباس وابی صالح والحسن والسدی وزید بن اسلم ومجاهد والشعبی والضحاک کما فی الطبری

  تفسیر سفیان الثوری.ص181.ط دارالکتب العلمیة

 

 اب سوال یہ ہے کہ کیا اہل سنت کے مناظر حضرات شعبی کے اس نظریے کو  بھی قبول کرتے  ہیں ؟ جبکہ  شعبی خلیفہ کی طرف سے جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کو ان کے حق سے محروم کرنے  کی واحد دلیل {حدیث نحن معاشر الانبیاء لا نورث۔۔۔} کے خلاف  نظریہ دیتا ہے اور  اس سلسلے میں شعبی اور شیعوں کا ایک ہی موقف ہے ۔

 

  جو شاخ نازک پر آشیانہ بنے گا وہ ناپائیدار ہوگا۔

گذشتہ بیان کی روشنی میں دیکھیں تو

اس روایت کے  ایک راوی بھی ایک مدلس ہے ،روایت بھی مرسل  اور صحیح سند روایت کے ٹکراتی ہے ، امام مسلم ،امام بخاری کے نذدیک مرسل روایات حجت نہیں  ،ابن حجر کے مطابق اکثر مرسل روایات کے اصلی راوی غیر عادل ہوتے ہیں ،  شعبی نے اصحاب میں سے صرف انس کو دیکھا ہے لہذا اس کی  اکثر روایات تابعین سے ہیں ، اور یہ کاذب  اورغیر ثقہ سے بھی روایت نقل کرتا ہے  ،اہل سنت کے علماء کی تصریحات کے مطابق جو غیر ثقہ سے روایت نقل کرتا ہے اس کی مرسل روایت حجت نہیں ہے ،ابن حجر وغیرہ نے اس کی کئی مرسل روایات کو ضعیف قرار  دیا ہے ،اس کی مرسل کو صحیح کا درجہ دینے والا امام عجلی ہے کہ جو توثیق کرنے میں زیادہ دقت نہیں کرتا  ، ابن عبد البر وغیرہ نے اسکی مرسل روایات کو اہمیت نہیں دی ہے اور حجت نہیں سمجھا ہے

 اب کسی نے اس کی مرسل کو حجت مانا بھی ہو تو اس سے حقیقت بدل تو نہیں جائے گی ۔اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوگا کہ اس نے ثقہ راوی سے ہی اس روایت کو نقل کیا ہو۔ کسی نے اس کی روایت کو صحیح کا درجہ دیا ہو تو اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوگا کہ اس کی مرسل روایت کی سند کا مضمون واقع کے مطابق  بھی  ہو ۔۔۔۔

اب سب حقائق کے باوجود شعبی کی مرسل روایت کو ہی آنکھیں بند کر کے حجت ماننے کا مطلب یہ ہے کہ رضایت والی کہانی کے قائلین شدید فقر علمی کا شکار ہے ،

یہاں تک کہ امیر المومنین  علیہ السلام اور ان کے شیعوں کے بارے منفی نظریہ رکھنے  والا اور بنی امیہ کی طرف جکاو رکھنے والا ایک راوی کی مرسل روایت پر اعتماد کرنے پر مجبور ہے کیونکہ اس کے علاوہ کوئی قابل اعتماد سند ان کے پاس نہیں ہے  اور وہ بھی ایسی سند کہ جو  صحاح ستہ  کی صحیح سند روایت کے مخالف ہے۔

لہذا شیعوں کو جواب دینے کے لئے ہاتھ ،پاوں مارتے ہیں اور   علم حدیث اور رجال کے سارے قوانین  کو توڑ دیتے ہیں ۔

 

 

 




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی