2017 January 18
کیا امام حسن(ع) کو معلوم تھا کہ دودھ یا پانی جو وہ پی رہے ہیں، وہ زہر آلود ہے؟
مندرجات: ٣٩٧ تاریخ اشاعت: ٠٧ November ٢٠١٦ - ١٢:٣٦ مشاہدات: 127
سوال و جواب » امام حسن (ع)
جدید
کیا امام حسن(ع) کو معلوم تھا کہ دودھ یا پانی جو وہ پی رہے ہیں، وہ زہر آلود ہے؟

 سوال:

 کیا امام حسن(ع) کو معلوم تھا کہ دودھ یا پانی جو وہ پی رہے ہیں، وہ زہر آلود ہے ؟

جواب:

سيد مرتضی عالم و متکلم شيعہ نے امام معصوم کے علم کے بارے میں کہا ہے کہ:

ضروری نہیں ہے کہ امام(ع) تمام علوم غیبی اور جو کچھ واقع ہوا ہے یا زمانے  آئندہ میں واقع ہو گا، اس کو جانتا ہو کیونکہ اگر ایسا ہو تو لازم آئے گا کہ:

1- امام خداوند کے ساتھ تمام علوم میں شریک ہو۔

2- امام کا علم لا متناہی ہو۔

3- امام کا علم خود اپنی طرف سے ہو۔

یہ تینوں نکات قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ:

اوّلاً: کیونکہ امام تمام علوم میں خداوند کے ساتھ شریک نہیں ہے۔

ثانياً: امام کا علم جس قدر بھی زیادہ ہو، متناھی ہے۔

ثالثاً : امام کا علم خداوند سے اخذ کیا گیا ہے۔

لھذا ہر علم کہ جو خداوند کی طرف سے ہو، جیسے: امور غیبی اور گذشتہ و آئندہ کی خبریں جو بھی ہو یہ قابل قبول بات ہے ورنہ ضروری نہیں ہے کہ امام تمام چیزوں کا علم رکھتا ہو۔

پس ضروری نہیں ہے کہ امام اپنی وفات یا شھادت کے وقت کو جانتا ہو یا اپنے قتل یا شھید ہونے کے بارے میں تفصیل سے آگاہ ہو۔

امير المؤمنين علی(ع) کے بارے میں بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں کہ وہ اپنی شھادت اور قاتل کے بارے میں جانتے تھے لیکن حضرت امیر(ع) اپنی شھادت کے وقت سے آگاہ نہیں تھے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ان پر واجب و ضروری تھا کہ قاتل کو اپنے آپ سے دور کریں اور خود کو قتل ہونے کے لیے قاتل کے پاس لے کر نہ جائیں۔

شيخ مفيد بھی امام کے تمام امور پر عالم ہونے کے علماء شیعہ کے اجماع کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:

شیعہ مذھب میں ایسا اجماع نہیں ہے کہ امام کو ہر چیز کا علم ہے اگرچے امام کے ہر مسئلے کا جواب جاننے کے بارے میں شیعہ مذھب میں اجماع ہے لیکن اس بارے میں اجماع نہیں ہے کہ امام تمام واقعات و حوادث کی شرح اور تفصیل بھی جانتا ہو۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ امام تمام حوادث اور واقعات کو کلی پر جانتا ہو اور اس کا علم امام کو خداوند نے عطا کیا ہو۔

البتہ یہ قول کہ امام ہر حادثے و واقعے کی شرح و تفصیل اور تمام جزئیات کو جانتا ہو، یہ قول قابل قبول نہیں ہے کیونکہ اس قول پر کوئی دلیل نہیں ہے۔

اس کے علاوہ حضرت علی(ع) کے علم کے بارے میں کہ آپ کو قاتل اور قتل ہونے کے وقت کا بھی علم تھا، اس بارے میں روایات ہیں کہ حضرت امیر کو اپنی شھادت اور قاتل کا علم تھا لیکن یہ کہ امام علی(ع) کو اپنی شھادت کے وقت کی تفصیل کا علم تھا اس بارے میں روایات موجود نہیں ہیں۔

مرحوم مفيد و سيد مرتضی کے اقوال سے استفادہ ہوتا ہے کہ:

امام کے علم غیب کے جاننے کا یہ لازمہ نہیں ہے کہ امام اس علم کی تفصیل، کیفیت اور جزئیات کو بھی جانتا ہو۔ اسی بارے میں روایات ہیں کہ جو اسی نظر کی تائید کرتی ہیں۔ ان روایات میں سے بعض یہ ہیں کہ:

1- امام صادق(ع) سے نقل ہوا ہے کہ جب بھی امام کسی چیز کے بارے میں جاننے کا ارادہ کرتا ہے تو خداوند اس چیز کا علم امام کو عطا کرتا ہے۔

2- امام صادق(ع) سے روایت ہے کہ امام جب بھی ارادہ کرے تو     وہ                        آگاہ ہو جاتا ہے۔

3- روایت ہے کہ امام جب بھی چاہے اس کو علم دیا جاتا ہے۔

4- معمر نے امام صادق(ع) سے پوچھا کہ کیا آپ کو غیب کا علم ہے ؟  امام نے جواب دیا کہ کبھی علم  غیب کے دروازے کو کھولا جاتا  ہے تو ہمیں بھی اس کا علم دیا جاتا ہے اور کبھی اس علم کا دروازہ بند رہتا ہے تو ہمیں اس کا علم نہیں دیا جاتا۔

ان روایات سے یہ نکات سمجھے جاتے ہیں:

1- امام کا علم غیب دائمی نہیں ہے لیکن جب بھی وہ جاننے کا ارادہ کرتے ہیں تو جان لیتے ہیں۔

2- جن غیبی امور کا جاننا ضروری نہ ہو امام کو ان کا علم نہیں ہوتا۔ 

3- تمام آئمہ(ع) اپنے شھید ہونے کے بارے میں جانتے تھے لیکن شھادت کی تفصیل اور جزئیات کا امام کو علم ہونے کے بارے میں روایات موجود نہیں ہیں۔

نتيجہ: 

امام حسن(ع) کو یقینی طور پر اپنے شھید ہونے کا علم تھا لیکن جو دودھ یا جو پانی وہ پی رہے تھے یہ تفصیل کہ ابھی اس وقت اس برتن میں زہر ہے، اس کا جاننا امام کے لیے ضروری نہیں تھا۔

نظر بعض علماء شیعہ یہ ہے کہ امور عادی و روز مرہ میں آئمہ کو حکم دیا گیا تھا کہ علم غیب سے استفادہ نہ کریں بلکہ ان امور میں عام لوگوں کی طرح زندگی گزاریں لیکن آئمہ(ع) اور عام لوگوں میں یہ فرق ہے کہ امام جب بھی علوم غیبی و واقعات سے آگاہ ہونے کا ارادہ کرتا ہے تو خداوند فوری اس چیز کا علم امام کو عطا کرتا ہے اور امور عادی و معمولی میں کہ جن کو جاننے کا آئمہ کو حکم نہیں دیا گیا تھا اصلا وہ اس کو جاننے کا ارادہ ہی نہیں کرتے تھے۔

التماس دعا





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی