2018 October 22
امام حسن مجتبی (ع) نے معاویہ کے ساتھ صلح کیوں کی اور حکومت اسکے حوالے کیوں کر دی ؟
مندرجات: ١٢٠٣ تاریخ اشاعت: ١٨ December ٢٠١٧ - ١١:٣٨ مشاہدات: 1369
سوال و جواب » امام حسن (ع)
جدید
امام حسن مجتبی (ع) نے معاویہ کے ساتھ صلح کیوں کی اور حکومت اسکے حوالے کیوں کر دی ؟

سوال:

امام حسن مجتبی (ع) نے معاویہ کے ساتھ صلح کیوں کی اور حکومت  اسکے حوالے کیوں کر دی ؟

جواب:

اہل سنت کو یہ ثابت کرنے کے لیے، کہ امام حسن (ع) نے امامت کو معاویہ کے حوالے کیا تھا، چار مطالب کے واضح کرنے کی ضرورت ہے:

1- انکو حتمی طور پر یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ امام حسن نے حقیقی طور پر اور تہہ دل سے مکمل رضایت کے ساتھ معاویہ کی بیعت کی تھی، نہ کہ مجبوری کی حالت میں فقط ایک ظاہری بیعت۔

2- انکو یہ بھی ثابت کرنا پڑے گا کہ حضرت امام حسن معاویہ کے حق میں خلافت سے دستبرادر ہوئے تھے۔

3- انکو یہ بھی ثابت کرنا پڑے گا کہ امام حسن نے اپنے اختيار سے معاویہ کی بیعت کی تھی، اور ان پر کسی قسم کا دباؤ اور جبر نہیں تھا۔

4- اگر بيعت امام حسن عليہ السلام کی کچھ شرائط تھیں، تو کیا معاویہ نے ان شرائط پر عمل بھی کیا تھا ؟

رسول خدا (ص) کی شہادت کے بعد ہونے والے واقعات کی روشنی میں اور تاریخ اسلام پر گہری نظر رکھنے والے بابصیرت انسان جانتے ہیں کہ اہل سنت ہرگز ان چاروں مطالب کو ثابت نہیں کر سکتے۔

صُلح امام حسن (ع)، اس قرار داد کو کہا جاتا ہے کہ جو شیعوں کے دوسرے امام، امام حسن (ع) اور معاویۃ بن ابی سفیان کے درمیان سن 41 ہجری کو منعقد ہوئی۔ یہ صلح نامہ ایک ایسی جنگ کے بعد منعقد ہوا کہ جو معاویہ کی زیادہ خواہی اور اس کی طرف سے امام حسن (ع) کی بعنوان خلیفہ مسلمین بیعت سے انکار کے نتیجے میں شروع ہوئی تھی۔ اس صلح کے مختلف عوامل و اسباب ہیں جن میں سے امام حسن (ع) کے بعض کمانڈروں کی امام (ع) سے خیانت، حفظ مصلحت مسلمین، شیعوں کی جان، مال اور عزت و آبرو کی حفاظت اور خوارج کا اسلام کو نقصان پہچانے کا خطرہ، وہ اہم ترین عوامل میں سے ہیں کہ جن کی وجہ سے امام اس صلح نامے پر راضی ہونے پر مجبور ہوئے۔

بہرحال امام حسن (ع) کی صلح کے بارے میں چند نکات درج ذیل ہیں:

نكتہ اول:

کتب تاریخی میں لفظ بیعت کی جگہ، لفظ معاہدہ اور صلح ذکر ہوا ہے، اور واضح ہے کہ معاہدے ، صلح اور بیعت میں بہت زیادہ فرق ہے:

قال يوسف ] بن مازن الراسبي [ : فسمعت القاسم بن محيمة يقول: ما وفي معاوية للحسن بن علي صلوات الله عليه بشيء عاهده عليه ،

یوسف راوی کہتا ہے کہ میں نے قاسم ابن محيمہ کو کہتے ہوئے سنا تھا کہ: معاویہ نے حسن ابن علی کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر عمل نہیں کیا تھا۔

علل الشرائع ج1 ص 200

في كلام له (عليه السلام) مع زيد بن وهب الجهني قال (والله لأن آخذ من معاوية عهداً أحقن به دمي وآمن به في أهلي خير من أن يقتلوني...).

حضرت امام حسن (ع) نے زید ابن وہب سے فرمایا کہ: خدا کی قسم اگر میں معاویہ سے وعدہ لے لوں کہ جسکے ذریعے سے اپنی اور اپنے اہل بیت کی جان کو محفوظ کر لوں تو یہ کام میرے قتل ہونے سے بہتر ہے۔

الاحتجاج ج2 ص 69

اسی کتاب میں حضرت نے زید ابن وہب سے ایک دوسری جگہ پر فرمایا:

( فو الله لان أسالمه... ) في كلام له عليه السلام مع زيد بن وهب۔

خدا کی قسم اگر اس سے صلح کر لوں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الاحتجاج ج 2 ص 69

فلما استتمت الهدنة علي ذلك سار معاوية حتي نزل بالنخيلة.

جب قرار داد صلح مکمل ہو گئی تو معاویہ نخیلہ کی طرف واپس چلا گیا۔

الارشاد للمفيد ج 2ص14

ان شیعہ کتب کے علاوہ دوسری کتب میں بھی امام حسن (ع) اور معاویہ (لع) کے درمیان ہونے والی قرار داد کو لفظ معاہدے، عہد اور صلح سے ذکر و یاد کیا گیا ہے، یعنی کہیں پر بھی ذکر نہیں کیا گیا کہ امام حسن نے معاویہ کی بیعت کی تھی، جیسا کہ اہل سنت علماء اور عوام کہتے رہتے ہیں۔

شیعیت کی 1400 سالہ تاریخ میں شیعہ علماء نے بھی اسی نظرئیے کی تائید کی ہے۔ تاریخ اسلام کے مؤرخین نے بھی جب سن 41 ہجری کے واقعات ذکر کیے ہیں، تو لفظ صلح الحسن لکھا ہے نہ کہ بیعۃ الحسن۔

نكتہ دوم:

دنیاؤی حکومت اور الہی امامت میں فرق بہت واضح ہے۔ دنیاؤی حکومت اور سیاست کا حال تو بہت ہی محسوس اور واضح ہے، جبکہ امامت الہی یعنی خداوند خود انسانیت کی ہدایت اور نجات کے لیے ایک معصوم انسان کو خود نبی یا امام بنا کر بھیجتا ہے۔ ایسا گناہ اور خطا سے پاک انسان صرف خداوند کی خوشنودی کے لیے اسکی مخلوق کی صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرتا ہے۔

دنیاؤی حکومت اور امامت الہی کے معنی و مفہوم کو نظر میں رکھتے ہوئے، بطور فرض قبول بھی کر لیں کہ امام حسن نے اسلام کی مصلحت اور مجبوری کی حالت میں حکومت دنیوی معاویہ کو دے بھی دی تھی تو ، اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ انھوں نے مقام امامت الہی سے کنارہ کشی کر لی ہو، اس لیے کہ امام حسن تو خود کو اس منصب الہی سے عزل یا کسی دوسرے کو نہیں دے سکتے تھے ، کیونکہ یہ مقام، منصب الہی ہے اور وہ ہی مقدس ذات جسکو اہل اور قابل دیکھتی ہے، یہ مقام عطا کر دیتی ہے۔

اسکے علاوہ معاویہ اپنے خاندانی پس منظر کے لحاظ سے بھی، منصب الہی پر فائز ہونے کے بالکل قابل نہیں تھا، کہ جسکی ماں ہند ایک نمبر کی بدکار عورت تھی، اس کا باپ ابوسفیان ایک نمبر کا اسلام اور رسول خدا (ص) کا سر سخت دشمن تھا، جسکی دلی آرزو اسلام کی نابودی اور رسول خدا کو قتل کرنا تھا۔ خود معاویہ شراب خوار، بتوں کی خرید و فروش کرنے والا، زنا کار، صحابہ کا قاتل، امیر المؤمنین علی (ع) پر سبّ و شتم کی بدعت کی بنیاد رکھنے والا، یزید جیسے شرابی و زانی کا باپ اور رسول خدا اور انکے اہل بیت سے حسد و بغض و دشمنی رکھنے والا انسان تو ہرگز ہرگز معصوم اور منصب الہی پر فائز ہونے کے قابل نہیں ہو سکتا۔ ایسا انسان فقط مکر و فریب و دھوکے سے دنیوی حکومت کو ہی زبردستی غصب و چھین سکتا ہے۔

وہ روایت معروف کہ جسں نے اس مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے وہ:

الحسن والحسين امامان قاما أو قعدا ،

حسن اور حسين ہر دو امام ہیں، ہر دو قیام کریں یا ہر دو قیام نہ کریں۔

علل الشرائع ج 1 ص 211

نكتہ سوم:

اگر امام حسن کے بیعت کرنے والے فرض کو قبول کریں، تو شیعہ اور اہل سنت کی تاریخی کتب کے مطابق یہ بیعت اجباری اور مجبوری کی حالت میں کی گئی تھی۔ لہذا بیعت اجباری سے معاویہ کی خلافت کو ہرگز قانونی اور شرعی ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

جیسے انسان بہت ہی مجبوری کی حالت میں شراب پینے پر مجبور ہو جائے تو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ شراب کا پینا حلال اور شرعی بھی ہے۔ معاویہ غاصب کی خلافت بھی ایسے ہی تھی۔ جیسے روایت میں ذکر ہوا ہے کہ:

في كلام له (عليه السلام) مع زيد بن وهب الجهني قال (والله لأن آخذ من معاوية عهداً أحقن به دمي وآمن به في أهلي خير من أن يقتلوني...).

حضرت امام حسن (ع) نے زید ابن وہب سے فرمایا کہ: خدا کی قسم اگر میں معاویہ سے وعدہ لے لوں کہ جسکے ذریعے سے اپنی اور اپنے اہل بیت کی جان کو محفوظ کر لوں تو یہ کام میرے قتل ہونے سے بہتر ہے۔

الاحتجاج ج2 ص 69

یہ روایت اور اسی طرح کے معنی و مفہوم کی دوسری بہت سی روایات امام حسن کے اس دور کے سخت حالات کی صورتحال کو جاننے کے لیے کافی ہیں۔ معاویہ اور اسکے درباریوں نے اسلام ، رسول خدا اور انکے اہل بیت کی دشمنی میں یہ حالات پیدا کر دئیے تھے کہ رسول اسلام کے بیٹے کو اپنی جان کا خطرہ محسوس ہونے لگا تھا۔ امام نے بھی اسی صورتحال کے پیش نظر اپنی اور اپنے تمام شیعوں کی جان کو محفوظ کرنے کے لیے ، معاویہ جیسے خیانت اور جنایت کار انسان سے صلح کر لی تھی۔

الاحتجاج ج2 ص 69 الرقم 158

تذكرة الخواص ،

الكامل في التاريخ ج 3 / سنة 41،

تاريخ الاسلام للذهبي / عهد معاوية سنة 41

اور اسی طرح روایات میں ذکر ہوا ہے کہ اگر یہ صلح وجود میں نہ آتی تو روئے زمین پر کوئی بھی شیعہ زندہ باقی نہ رہتا۔

علل الشرائع ج1 ص 200

اور اسی طرح خود امام حسن نے اپنے کلام میں اپنی اس صلح کو رسول خدا کی کفار کے ساتھ صلح کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ رسول خدا نے حفظ اسلام کے لیے اس صلح کو انجام دیا تھا:

في كلام يخاطب به أبا سعيد فيقول له: علة مصالحتي لمعاوية علة مصالحة رسول الله صلي الله عليه وآله لبني ضمرة وبني أشجع، ولأهل مكة حين انصرف من الحديبية.

میری معاویہ کے ساتھ صلح کرنے کا سبب ، وہی رسول خدا کی بنی ضمره ، بنی اشجع اور حدیبیہ کے مقام پر کفار مکہ کے ساتھ صلح کرنے والا سبب ہے۔

علل الشرائع ج 1 ص 200

یعنی جیسے رسول خدا (ص) نے اسلام اور مسلمانوں کی جان کی حفاظت کے لیے مجبور ہو کر کفار سے صلح کی تھی اور اس صلح کا نتیجہ بھی فتح مکہ کی صورت میں مسلمانوں کو نصیب ہوا، اسی طرح امام حسن (ع) نے بھی اسلام، اپنی جان اور اپنے شیعوں کی جان کی حفاظت کے لیے مجبور ہو کر نہ چاہتے ہوئے بھی معاویہ سے صلح کی تھی اور اس صلح کا ہی نتیجہ ہے کہ آج 1400 سال گزرنے کے بعد بھی دنیا امیر المؤمنین علی (ع) کے شیعوں سے بھری ہوئی ہے۔ اسی لیے آج کے شیعہ علوی اور حسینی ہونے سے پہلے، حسنی ہیں۔

نكتہ چہارم:

تاریخ اسلام کے ساتھ خیانت اور مظالم میں سے ایک ظلم یہ ہے کہ امام حسن اور معاویہ کے درمیان ہونے والی صلح کی شرائط کو دقیق طور پر ذکر نہیں کیا گیا، لیکن پھر بھی کتب تاریخ سے چند مہم شرائط کو اکٹھا کیا گیا ہے:

1- معاويہ اپنے آپکو امير المومنين نہیں کہے گا۔

علل الشرايع ج1 ص 200

2- شہادت (گواہی) اسکے پاس واقع نہیں ہو گی، یعنی وہ قاضی شرعی نہیں ہو گا۔

علل الشرايع ج1 ص 200

3- شیعیان علی (ع) کو سزا وغیرہ دینے کا معاویہ کو کوئی اختیار نہیں ہو گا۔

علل الشرايع ج1 ص 200

4- معاویہ جنگ جمل اور جنگ صفین میں شہید ہونے والے شہداء کی اولاد میں دس لاکھ درہم تقسیم کرے گا۔

علل الشرايع ج1 ص200،

الكامل في التاريخ ج 3/ سنة 41

5- معاویہ لعین امير مؤمنین علی عليہ السلام پر سبّ و شتم نہیں کرے گا۔

الكامل في التاريخ ج3 / سنة 41

سير أعلام النبلاء للذهبي ج3ص 264

تهذيب ابن عساكر 4ص222

تاریخ کے سینے پر ثبت ہے کہ معاویہ نے بالکل ان تمام شرائط پر عمل نہیں کیا تھا:

الكامل في التاريخ ج 3 / سنة 41 

علل الشرائع ج1 ص 200

اس تفصیل اور تحقیق کی روشنی میں صلح امام حسن (ع) کو انکے مقام امامت سے کنارہ کشی نہیں کہا جا سکتا، حتی اس صلح سے امام حسن (ع) کے معاویہ کو شرعی اور قانونی طور خلافت دینے کو بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا۔  

اسکے علاوہ بھی معاویہ بنی امیہ  سے ہے اور رسول خدا (ص) سے نقل شدہ صحیح  حدیث کے مطابق بنی امیہ پر خلافت حرام ہے۔ خود معاویہ  قوم کے لحاظ سے بھی بالکل حاکم اور خلیفہ نہیں بن سکتا، اس لیے معاویہ نہ مہاجرین میں سے تھا اور نہ ہی انصار میں سے تھا، بلکہ وہ طلقاء میں سے تھا کہ اسکو خلافت سے کیا کام تھا۔

التماس دعا۔۔۔۔۔

 

 

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی