2022 May 16
اہل بیت (ع) کے قاتل اور دشمن شیعہ ہیں یا اہل سنت کے سلف؟
مندرجات: ٢٢٢٢ تاریخ اشاعت: ٠٩ February ٢٠٢٢ - ١٥:١٢ مشاہدات: 455
وھابی فتنہ » پبلک
اہل بیت (ع) کے قاتل اور دشمن شیعہ ہیں یا اہل سنت کے سلف؟

اہل بیت (ع) کے قاتل  اور دشمن شیعہ ہیں یا اہل سنت کے سلف؟

 

مطالب کی فہرست

شیعہ جواب دیتے ہیں

شمر شیعہ تھا۔

امام حسین علیہ السلام کو خط لکھ کر کربلا آنے والوں کو پہچانیں  

عقیدتی شیعہ اور سیاسی شیعہ میں فرق ہے :

شیعہ مخالفین دو راہے پر ۔۔ 

شیعہ علماﺀ کے اعتراف کے نام پر دغل بازی  : 

کوفہ  اصحاب اور ان کی اولاد کا شہر تھا

اسلامی دنیا میں کرونا سے خطرناک ناصبیت کی وباء
....

 


شیعہ جواب دیتے ہیں

 

کربلا کے واقعے میں شیعوں کو  امام حسین (ع) کے قاتل ثابت کرنے  کا آسان فارمولا....

 

  کچھ سوالات کے جواب دیں مسئلہ حل ہے.....

 

 سوال : 1   

عمر سعد کو کس  نے کربلا میں امام حسین ع سے لڑنے کے لیے کمانڈر بنایا تھا اور ہزاروں کی تعداد میں فوج اس کو دیا تھا ?

سوال : 2   

 

ابن زیاد کو کس نے امام حسین ع کے قیام کو کچلنے کے لیے کوفہ کا گورنر بنایا تھا??

 

سوال : 3  

کیا کربلا کے واقعے میں ان دونوں کا بنیادی  کردار  قابل انکار ہے ?

 

سوال : 4   

کربلا میں عمر سعد کی کمانڈری میں امام حسین (ع) اور ان کے یار و انصار کو گیرا کر بے دردی سے انہیں شہید کرنے والے لشکر میں موجود ایک شیعہ کا نام بتادے جو مولا علی (ع) کو خلیفہ بلا فصل مانتا ہو اور خلیفہ اول اور دوم کی خلافت کا منکر ہو اور وہ یزیدی لشکر میں بھی ہو ?

صرف ایک کا نام...


اگر ہم سے کہے تو ہم ثابت کریں گے کہ  یزیدی لشکر میں موجود سب کے سب  مولا علی (ع) کو خلیفہ بلا فصل نہیں مانتے تھے اور خلیفہ اول اور دوم کو خلیفہ مانتے تھے..

 

شمر شیعہ تھا۔

بعض کہتے ہیں کہ شمر جنگ صفین میں امیر المومنین علیہ السلام لہذا ان کے شیعہ کہے جاتے تھے اور اسی نے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کو شہید کیا ۔ لہذا شیعہ ہی امام حسین علیہ السلام کے قاتل ہیں ۔

 3  سوال :

  جنگ صفین میں اہل سنت کے سلف کس کے حامی شمار ہوتے تھے ؟

کیا جنگ صفین میں موجود سارے مولی علی (ع) کو خلیفہ بلافصل ماننے والے اور خلیفہ اول اور دوم کی خلافت کا انکار کرنے والے تھے ؟ مثلا جناب عمار ،ذولشھادتین ، ابو ایوب انصاری ، ابن عباس وغیرہ  ......??

کیا شمر شیخین کی خلافت کو نہیں مانتا تھا  اور حضرت علی علیہ السلام کو خلیفہ فصل مانتا تھا ؟

منطقی اور علمی نتیجہ :

اگر اہل سنت  اپنے سلف کو ان جنگوں میں حضرت علی علیہ السلام کے حامی شمار نہیں کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ان کے  سلف نے ان جنگوں میں شرکت نہیں کی اور حضرت علی علیہ السلام  کا ساتھ نہیں دیا تو یہ سب تہمتیں ہمیں منظور ہیں ۔۔

اور اگر ان جنگوں میں شریک تھے اور اہل سنت کے سلف نے بھی امیر المومنین علیہ السلام کا ساتھ دیا ۔۔۔۔ اور حضرت علی (ع) کی حمایت میں جنگ لڑی ہیں اور جیساکہ شمر وغیرہ کو اسی وجہ سے شیعہ کہے جاتے ہیں تو یہ تو اہل سنت کے ہی سلف ہیں ۔۔ شمر ہو یا یزیدی لشکر کے کمانڈرز ہو یا اس میں موجود لشکر والے ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں تھا جو خلیفہ اول اور دوم کی خلافت کا منکر ہو  اور حضرت علی علیہ السلام کو خلیفہ بلا فصل مانتے ہو ۔۔۔۔

 

امام حسین علیہ السلام کو خط لکھ کر کربلا آنے والوں کو پہچانیں

امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں آپ کو خط لکھ کر آپ کو قتل کرنے یزیدی لشکر میں شامل افراد کا نام لیا ۔ آپ نے جن جن کا نام لیا وہ سب اہل سنت کے ہی سلف ہیں ۔ لہذا امام حسین علیہ السلام نے تاریخ میں شیعوں کے خلاف تبلیغ کرنے والوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رسوا کیا ۔۔۔۔

دیکھیں  امام  کو خط لکھ کر آپ کو شہید کرنے کربلا آنے والے جن جن کا امام نے نام لیا ان میں سے ایک بھی شیعہ نہیں تھے ،بلکہ یہ وہ لوگ تھے جو کسی نہ کسی طریقے  سے بنو امیہ کے حامی شمار ہوتے تھے:  

۔فنادى [الحسین ]يا شبث بن ربعى ويا حجار بن أبجر ويا قيس ابن الاشعث ويا يزيد بن الحارث ألم تكتبوا إلى أن قد أينعت الثمار واخضر۔۔۔۔

 تاريخ الطبري [4 /323] أنساب الأشراف [1 /419]الكامل في التاريخ [3 /419] البداية والنهاية [8 /179]

 لہذا کوئی بھی  شبث ، حجاز ، قیس ، یزید بن حارث کے شیعہ ہونے کو ثابت نہیں کرسکتا۔  

 

شیعہ خط لکھنے والے کہاں گئے؟

پہلی بات :شیعہ خط لکھنے والوں میں سے کسی ایک کا نام  یزید کے لشکر میں نہیں دکھا سکتے ۔

دوسری بات :   شیعہ خط لکھنے والوں کو یا تو ابن زیاد نے  گرفتار کر لیا تھا جیسے سلیمان صرد وغیرہ  یا انہیں شہید کر تھا ،جیسے  قیس بن مسہر اور جو اس کی چنگل سے نکلے میں کامیاب ہوئے تھے  ان میں سے بعض کربلا میں امام سے آملے اور آپکی نصرت کرتے کرتے شہید ہوہے۔۔ جیسے ،حبیب بن مظاہر ، سعید بن عبداللہ ، عابس بن شاکر ، مسلم بن عوسجہ وغیرہ۔

 اور دوسرے جو  اس وقت کی حالات کی وجہ سے یا آپ کی نصرت میں کوتاہی کی وجہ سے  امام کی نصرت کرنے کربلا میں حاظر نہ ہوسکے  ، وہ لوگ بعد میں کوفہ میں امام ؑ کے قاتلوں سے انتقام لیتے ہوئے  شہید ہوئے جیسے عبد اللہ بن وال ، المسيب بن نجبة وغیرہ 

 لہذا کوئی بھی کسی ایسے شیعہ  کا نام  تاریخ  سے ثابت نہیں کرسکتا جس  نے امام کو خط  بھی لکھا ہو اور بعد میں آپ کو شہید کرنے  یزیدی لشکر میں شامل ہوکر کربلا آیا ہو ۔

صرف ایک کام نام ۔۔۔۔ ایک کام ۔۔۔۔۔۔

نوٹ : اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بعض شیعوں نے امام اور امام کے سفیر کی نصرت میں کوتاہی نہ کی ہو ۔۔۔ جیساکہ ابن زیاد نے ایک مہینے کے اندر بہت سے اہم شیعہ شخصیات کو چن چن کر قتل کیا اور بہت سے چیدہ چیدہ افراد پر کڑی نظر رکھی ہوئی تھی۔۔ لہذا بہت سے شیعہ چاہتے ہوئے بھی کربلا نہ پہنچ پائے ۔۔۔۔لیکن اس کے باوجود کربلا میں امام کے ساتھ شہید ہونے والوں کی اکثریت پھر بھی کوفہ کے شیعوں کی ہی   ہے ۔۔

 

 لہذا یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کے شیعوں میں سے ایک بھی یزیدی لشکر میں شریک نہیں تھے۔۔۔۔لیکن برعکس کربلا میں امام  کی نصرت کرتے  ہوئے شہید والے شیعہ ہی تھے یقین نہیں تو شہدائ کربلا بارے میں تحقیق کریں ۔۔

ہمارا سوال :

اہل سنت کے بے انصاف شیعہ دشمن اپنے سلف کو بچانے ، اپنی سیاہ تاریخ پر پردہ ڈالنے اور عوام کو دھوکہ میں رکھنے  کے لئے شیعوں کے خلاف جھوٹی نسبتوں کا سلسلہ کب تک جاری رکھو گے ۔۔؟

 

حسینت زندہ باد ،یزیدیت مردہ باد ۔۔۔۔

  

عقیدتی شیعہ اور سیاسی شیعہ میں فرق ہے :

عقیدتی شیعہ سے مراد حضرت علی علیہ السلام کو خلیفہ بلا فصل ماننے والے اور خلفاﺀ ثلاثہ کی خلافت کو شرعی حیثیت سے قبول نہ کرنے والے ۔

ہم کہتے ہیں کہ اس دور میں   امام علی کی حمایت کرنے والے اور جنگوں میں ان کے ساتھ دینے والے اور ان سے محبت اور ان کے دشمنوں  {خاص کر معاویہ } سے نفرت کرنے والوں  کو  شیعہ کہتے تھے۔۔

 ان میں سے اکثریت ان کی تھی جو خلیفہ اول اور دوم کو بھی ماننتے تھے۔۔۔

 لیکن ہمارے اکثر مخالف کیونکہ تاریخ کا مطالعہ نہیں رکھتے اسی لئے ان چیزوں میں فرق کرنے سے عاجز ہیں جبکہ انہیں کے علماء نے اس فرق کو واضح انداز میں بیان کیا ہے۔۔

 دیکھیں چند نمونے ۔  

۔ابن تیمیہ :

 حضرت علی(ع)  کے شروع کے  اصحاب  کو شیعہ علی کہتے تھے یہ خلیفہ اول اور دوم پر علی کو فضیلت نہیں دیتے تھے ۔۔۔۔

{  الشِّيعَة الْأُولَى أَصْحَابَ عَلِيٍّ لَمْ يَكُونُوا يَرْتَابُونَ فِي تَقْدِيمِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ عَلَيْهِ.۔۔۔ منهاج السنة النبوية " (2/ 72)  ۔ وَلِهَذَا كَانَتِ الشِّيعَةُ الْمُتَقَدِّمُونَ الَّذِينَ صَحِبُوا عَلِيًّا، أَوْ كَانُوا فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ : لَمْ يَتَنَازَعُوا فِي تَفْضِيلِ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَإِنَّمَا كَانَ نِزَاعُهُمْ فِي تَفْضِيلِ عَلِيٍّ، وَعُثْمَانَ

،منهاج السنة النبوية" (1/ 13-14) . ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                          

 ۔۔قال الذهبي

: سلف کے زمانے میں شیعہ سے مراد  اور آج کے دور میں شیعہ سے مراد

" الشيعي الغالي في زمان السلف وعرفهم : هو من تكلم في عثمان والزبير وطلحة ومعاوية ، وطائفة ممن حارب عليا رضي الله عنه، وتعرض لسبهم.والغالي في زماننا وعرفنا هو الذي يكفر هؤلاء السادة ، ويتبرأ من الشيخين أيضاً، فهذا ضال معثَّر " انتهى من "

ميزان الاعتدال" (1/ 6)

قال ابن حجر

  :" التشيع في عرف المتقدمين : هو اعتقاد تفضيل عليّ على عثمان , وأن عليا كان مصيبا في حروبه وأن مخالفه مخطئ، مع تقديم الشيخين ، وتفضيلهما ...وأما التشيع في عرف المتأخرين : فهو الرفض المحض ، فلا تقبل رواية الرافضي الغالي ولا كرامة " انتهى من "

 تهذيب التهذيب " (1/ 94) .۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔ لہذا سلف کی اصطلاح کے مطابق شیعہ سے مراد علی ابن ابی طالب(ع) سے محبت کرنے والے خلیفہ اول اور دوم کو ماننے والے ۔۔۔جنگوں میں مولا علی (ع)  کو حق پر اور آپ سے لڑنے والوں کو باطل پر سمجھنے والے۔۔

 لہذا کوفی شیعہ یعنی  امام علی(ع) کی فوج میں شامل اور دمشق کے بجائے کوفہ  میں رہنے والے اور  ان کی حمایت کرنے والے اور ان سے محبت کرنے والے ان کے دشمنوں سے نالاں افراد ۔۔

 جناب امام نسائی ،امام حاکم نیشاپوری ۔ ابن عبد البر ۔ابن ابی الحدید معتزلی کو شیعہ اور فیہ تشیع  اسی اصطلاح کے مطابق ہے۔ کیونکہ یہ تینوں مولا علی(ع) کو حق پر جانتے اور ان کے مخالفین میں سے خاص کر معاویہ سے نفرت کرتے تھے۔۔۔۔

شیعہ مخالفین دو راہے پر ۔۔

۔ اگر  امام علی(ع)  اور امام حسن(ع) کے دور میں شیعہ سے مراد انہیں خلیفہ بلافصل ماننے والوں کو ہی مان لیا جائے جیساکہ  آج کے شیعہ ماننتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ خلیفہ اول اور دوم کو ماننے والے حضرت علی(ع) کے شیعہ  تو نہیں تھے بلکہ اہل سنت کے سلف  کو معاویہ یا عثمان کے شیعہ کہے جاتے تھے۔۔۔

کیا اہل سنت والے اس نتیجے کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں ؟؟

اگر اس نتیجے کو قبول نہیں کرتے اور یہی کہتے ہیں کہ ان جنگوں میں شرکت کرنے اور امام کے ساتھ دینے کی وجہ سے شمر وغیرہ کو شیعہ کہا جاتا ہے تو کیا اہل سنت کے سلف معاویہ کے ساتھ تھے اور ان جنگوں میں امیر المومنین (ع) کی حمایت کرتے ہوئے شریک نہیں ہوئے ؟؟

اگر اہل سنت کے سلف نے ان کی حمایت نہیں کی ہو تو آج اہل سنت والے کیوں اپنے سلف کی سیرت پر عمل نہیں کرتے ؟

 

شیعہ علماﺀ کے اعتراف کے نام پر دغل بازی  :

شیعہ جن علماﺀ نے کہا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کو شیعوں نے ہی قتل کیا ہے تو ان کی انہیں کتابوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا ان کا مقصد  شیعہ کی دوسری اصطلاح ( یعنی ان جنگوں میں آپ کی حمایت کرنے والے اور آپ کے مخالفین سے لڑنے ) والے شیعہ ہیں۔ یہاں عقیدتی اور امام علی علیہ السلام کو خلیفہ بلا فصل ماننے والے شیعہ مراد نہیں ہے۔۔۔

چاہئے یہ بات شہید مطہری نے کی ہو یا سید جواد نے یا کسی اور متقدمین اور متاخرین نے ۔۔۔۔۔۔

لہذا یہ سب اسکین دغل بازی اور ڈھوپتے کو تنکے کا سہارا والی بات ہے ۔۔

 شیعہ مخالفین کی طرف سے اس سلسلے میں پیش کردہ کچھ اسکین

 شیعہ جواب دیتے ہیں ۔۔

علامہ مجلسی نے ایسی کوئی بات نہیں کی ہے ۔۔۔۔۔ بحار الانوار عربی زبان میں لکھی ہوئی ہے اگر سچے ہو تو اس کی عربی متن دکھا دئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  شیعہ جواب دیتے ہیں ۔۔۔


کوفہ  اصحاب اور ان کی اولاد کا شہر تھا

اہل کوفہ کہنا شیعہ ہونے کے ساتھ مساوی نہیں ہے ۔۔۔۔ کوفہ اصحاب کا شہر ہے اس کو خلیفہ دوم نے آباد کیا ہے سینکڑوں اصحاب کوفہ میں سکونت پزیر تھے ۔۔۔۔۔۔

عقیدتی شیعوں کی تعداد دوسروں کی نسبت سے بہت تھوڑے تھے۔۔۔۔۔۔

کوفہ وہ اسلامی شہر ہے جس کو جناب عمر بن خطاب  نے آباد کیا تھا اور حضرت علی (ع) نے دارالخلافہ بنایا تھا۔ اس میں حضرات صحابہ  کی ایک بڑی تعداد آکر قیام پذیر ہوئی۔ مؤرخین نے ان کی تعداد 1500 بیان کی ہے۔
 چنانچہ امام احمد بن عبد اللہ بن صالح العجلی الکوفی م 261ھ فرماتے ہیں: 

نزل الکوفۃ الف وخمس مائۃ من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم 

(تاریخ الثقات للعجلی ص517باب فیمن نزل الکوفۃ وغیرھا من الصحابۃ) 

ترجمہ: سر زمین کوفہ میں  پندرہ سو صحابہ مقیم تھے.. 

......لہذا کوفہ  اصحاب اور ان کی اولاد کا شہر تھا 

 


اسلامی دنیا میں کرونا سے خطرناک ناصبیت کی وباء ....

شیعہ مخالفین شیعہ کتابوں کی احادیث میں تحریف کرتے ہیں لیکن بعض اپنی معتبر ترین کتابوں کی باتوں کو قبول کرنے اور خاندان پیغبر (ص) کے قاتلوں اور ان کی شان میں گستاخی کرنے والوں سے اظہار برائت کے لیے تیار نہیں...

 لیکن ہر جگہ واہ صحابہ واہ واہ واہ کا نعرہ لگاتے ہیں...

دیکھیں :

جس لب و دندان کو رسول (ص) چھومتے تھے ..اس کی بے احترامی....

یزید کا زنائی بھائی اور معاویہ اور یزید کا خصوصی گورنر ابن زیاد کی بے شرمی اور گستاخی دیکھیں ۔

 اہل سنت کی معتبر کتابوں میں یہ واقعہ نقل ہوا ہے کہ یزیدی کمانڈر صحابی کا بیٹا عمر سعد ملعون نے امام حسین (ع)کے سرمبارک کاٹ کر یزیدی گورنر ابن زیاد کے پاس بھیجا۔

معاویہ اور یزید کے اس خصوصی گورنر نے جنت کے جوانوں کے سردار ،فرزند رسول اللہ (ص)  کے مقدس سر کی بے حرمتی کرتا  تھا ۔  

 

 چند نمونے :

 

 صحیح بخاری میں یوں نقل ہوا ہے :

اس وقت ابن زیاد آپ کے سر مقدس پر چھیڑی مار رہا تھا :

3465 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَام فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ فَجَعَلَ يَنْكُتُ وَقَالَ فِي حُسْنِهِ شَيْئًا فَقَالَ أَنَسٌ كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَخْضُوبًا بِالْوَسْمَةِ۔

صحيح البخاري، کتاب مناقب ، باب مناقب الحسن و الحسین (12/ 90)

 

 سنن الترمذى میں یوں نقل ہوا ہے :

ابن زیادہ آپ کے ناک پر چھیڑی مار رہا تھا :

 حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الْبَغْدَادِىُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ قَالَتْ حَدَّثَنِى أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ فَجِىءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ فَجَعَلَ يَقُولُ بِقَضِيبٍ لَهُ فِى أَنْفِهِ وَيَقُولُ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حُسْنًا لَمْ يُذْكَرْ. قَالَ قُلْتُ أَمَا إِنَّهُ كَانَ مِنْ أَشْبَهِهِمْ بِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

سنن الترمذى (13/ 398 کتاب مناقب ، باب مناقب الحسن و الحسین)

 

معجم طبرانی میں نقل ہوا ہے :

 ابن زیاد ہاتھ میں موجود چھیڑی سے امام کی آنکھوں اور ناک پر مار رہا تھا ۔تو صحابی زید ابن ارقم نے یہ حالت دیکھ کر کہا : چھیڑی اٹھاو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو  اسی مقام کو چھومتے ہوئے دیکھا ہے ۔

5107 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ مِرْدَاسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، لَمَّا أُتِي ابْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَجَعَلَ يَنْقُرُ بِقَضِيبٍ فِي يَدَهِ فِي عَيْنَهِ وَأَنْفِهِ، قَالَ لَهُ زَيْدٌ: «ارْفَعِ الْقَضِيبَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ فَمَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْضِعِهِ»

المعجم الكبير للطبراني (5/ 206): باب   حُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ

 

مسند أبي يعلى الموصلي میں یہی واقعہ یوں نقل ہوا ہے :

ابن زیاد چھیڑی آپ کے دانتوں پر مار رہا تھا اس وقت صحابی انس بن مالک نے اسے ٹوکا۔

3981 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ جِيءَ بِرَأْسِهِ إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِقَضِيبِهِ عَلَى ثَنَايَاهُ وَقَالَ: إِنْ كَانَ لَحَسَنَ الثَّغْرِ، فَقُلْتُ: أَمَا وَاللَّهِ لَأَسُوءَنَّكَ، فَقَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ مَوْضِعَ قَضِيبِكَ مِنْ فِيهِ»

مسند أبي يعلى الموصلي (7/ 61):

 

لہذا امام حسین علیہ السلام کے مبارک سر  یزیدی کمانڈر کی طرف سے یزیدی گورنر ابن زیاد کے پاس لے جانا اور ابن زیاد کی طرف سے سر کی بے حرمتی اور اس پر صحابی کا احتجاج اہل سنت کی معتبر کتابوں میں موجود ہے ۔

 

عجیب بات

کچھ لوگ یزیدی گورنر اور یزیدی کمانڈر کے ظالمانہ سفکانہ,مجرمانہ ,گستاخانہ کردار پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں..ان گستاخوں کو امام حسین (ع) کا قاتل کہنے کے بجاے شیعوں کو امام حسین ع کے قاتل کہتے ہیں..

جبکہ یہی یزیدی گورنر فخر سے کہتا تھا... الحمد للہ امیر المومنین یزید (لع) کو حسین اور ان کے شیعوں پر فتح ملی...

الحمد لله الذى أظهر الحق وأهله ونصر أمير المؤمنين يزيد بن معاوية وحزبه وقتل الكذاب ابن الكذاب الحسين بن على وشيعته

تاريخ الطبري [4 /351]  الكامل في التاريخ [2 /179 - أنساب الأشراف [1 /425]

 

سوچنے کی باتیں :

کیا اس یزیدی گورنر کے لیے سب سے آسان کام یہ نہیں تھا کہ اس ننگ و عار سے بچنے کے لیے یہ کہتا:  مجھے کیا ہے انہیں تو ان کے شیعوں نے قتل کیا ہے ۔۔

لیکن وہ ایسی جرات نہیں کرسکا کیونکہ یہ اس کی رسوائی کا سبب بنتا.. اس کے لئے سب کے سامنے سفید جھوٹ بولنا آسان نہیں تھا ۔

لیکن آج کل بعض یزیدی گورنر سے دو قدم آگے نکل کر کہتے ہیں..

شیعہ ہی امام حسین علیہ السلام  کے قاتل ہیں

 

شرم مگر تمہیں نہیں آتی........





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی