2021 October 21
حضرت زہرا (س)کے گھر کے دروازےکو جلانا
مندرجات: ١٩٢٥ تاریخ اشاعت: ١٨ April ٢٠٢١ - ٠٢:٥٨ مشاہدات: 727
یاداشتیں » پبلک
حضرت زہرا (س)کے گھر کے دروازےکو جلانا

 

حضرت  زہرا (س)کے گھر کے دروازےکو جلانا

 اعتراض: عصر نبوی ؐ  کے گھروں کے  آج  کے لکڑی کے دروازوں کی طرح  دروازے نہیں  ہوتے تھے۔ بلکہ اس دور میں گھروں کے سامنے صرف پردے لٹکائے جاتے تھے تاکہ راہ گذر   افراد کی نگاہ  گھر کے اندر   نہ پڑے   لہذا حضرت زہرا کے گھر کے دروازے کو جلانا اور آپ کو در و دیوار کے درمیان زخمی کرنا، صحیح نہیں ہے۔

تجزیہ اور تنقید

 

یہاں چند نکات قابل غور ہیں:

پہلا نکتہ: اس دعوا کی کوئی تاریخی اور روائی دلیل نہیں ہے کہ  اس دور میں گھروں کے دروازے نہیں ہوتے تھے۔ کسی نے بھی آج تک اس دعوا پر دلیل پیش نہیں کی ہے۔ اس کے علاوہ یہ معقول نہیں ہے کہ ایسا دور جس میں قلعہ خیبر، قلعہ بنی نظیر اور بنی قریظہ  کے مضبوط دروازے موجود تھے یہ دعوا کیا جائے کہ اس دور میں صرف  پردوں کا ستعمال کیا جاتا تھا کیا یہ قابل قبول ہے کہ باب جبرئیل اورسدّالابواب کا واقعہ صرف ایک پردہ تھا اور کوئی دروازہ نہیں تھا؟ کیا در وازہ کعبہ جو اس زمانے میں تھا اس کے بارے میں یہی بات کی  جائے تو  کیا یہ درست  ہے؟ کیا پردہ کتا اور بلی جیسے جانوروں کو آمد ورفت سے روک سکتا ہے؟  تاریخ گواہ ہے کہ پیغمبر اکرم ؐکی مدینہ ہجرت سے پہلے لوگ خانہ جنگی میں گرفتار تھے یہاں تک کہ راتوں کو سوتے وقت اسلحہ  ان کے ہمراہ ہوتا تھا  یہاں تک کہ اللہ تعالی نے  رسول خداؐ کو مبعوث کیا اور ان پر احسان کیا اور آپؐ ان  کے لیے صلح اور ارامش ارمغاں لے آئے۔

[1] ایسے حالات میں کیا یہ بات قابل قبول ہے کہ وہ لوگ جو ہمیشہ  حتی حالت خواب میں بھی ہمسایوں کے اذیت و آزار سے محفوظ نہیں ہوتے تھےاور گھروں پر دروازے نہیں لگاتے تھے بلکہ صرف پردوں پر اکتفاء کرتے تھے؟

دوسرا نکتہ: جو کچھ روایات اور تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے وہ اس دعوا کے برخلاف ہے۔عصر حاضر کے مورخ سید جعفر مرتضی عاملی  نے اپنی کتاب« مأساۀ الزهراء » [2]میں اس قسم کی  درجنوں احادیث سے استناد کیا ہے جن سے  بخوبی اس بات کو ثابت  کیا گیا ہے کہ اس زمانے میں آج کے دور کی طرح دروازے موجود تھے ۔ یہاں ان میں سے بعض احادیث کو بیان کریں گے:

1-صحیحین کی روایت کے مطابق ابوموسی اشعری  پیغمبر اکرم ؐ کے ہمراہ«بئر أریس»  تک گئے  رسول خدا ؐاندرتشریف لے گئے اور ابوموسی دروازے کے باہر کھڑے رہے۔ ابوموسی کہتے ہیں: ایک ایسے دروازے پر بیٹھا رہا جو کھجور  کی لکڑی سے بنا تھا۔[3]

2-ابوفدیک نے روایت کی  ہے کہ محمد بن ہلال سے حضرت عائشہ کے گھر کی خصوصیت بارے پوچھا : اس نے جواب دیا: اس کا دروازہ شام کی طرف تھا۔ میں پوچھا : دروازے کے دو پٹ تھے یا ایک؟ کہا: ایک: میں نے پوچھا: اس کی جنس کیا تھی؟  کہا: جونیپئر[4] یا  ٹیک[5] درخت کی لکڑی سے بنا تھا۔[6]

۳-بہت ساری روایات میں اس دور کے دروازوں کو  « إغلاق الباب» اور «ردّ الباب» جیسی عبارات سے بیان کیا گیا ہے اور یہ پردوں کے لیے استعمال نہیں کی جاتیں بلکہ اس قسم کی عبارت  حقیقی دروازوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔حضر ت عائشہ کی ایک روایت کے مطابق  ایک رات  رسول خدؐ آہستہ بستر سے اٹھے «فانتعل رویداً و أخذرداءه رویداً ثمّ فتح الباب رویداً ثمّ خرج و أجافه رویداً ؛  آپ نے آہستہ سے دروازہ  کھولا اور پھر بند کیا»[7] واضح ہے کہ اس قسم کے جملات  کا پردوں  کے لیے  استعمال درست نہیں ہے۔

4-اسی طرح بعض احادیث  جو اس دور کی حالت بیان کرتی ہیں ان  میں اس قسم کے جملات  «دقّ الباب»، «قرع الباب» و «ضرب الباب» کاذکر ہوا ہے جنہیں پردوں سے نسبت دینا درست نہیں ہے۔

ایک روایت کے مطابق رسول خداؐ کچھ لوگوں کے ساتھ  «ابوالهیثم بن التیهان» کے گھر گئے  اوردروازہ کھٹکھٹائے اندر سے کسی خاتون نے پوچھا: کون ہے؟ حضرت عمر نے جواب دیا: یہ رسول اللہ ؐہیں۔[8]

۵-اس قسم کے جملے«الإجابة من وراء البا ب، دروازے کے پیچھے سے جواب دینا»؛[9]«وضَع الید علی الباب فدفَعه، دروازے کو ہاتھ سے دھکیلنا اور کھولنا»[10]«الباب المقفّل، تالا لگا ہوا دروازہ »[11]ایسے الفاظ ہیں  جو ان احادیث میں نقل ہوئے ہیں اور پردوں سے  متعلق نہیں ہیں ۔

۶-احادیث سے استفادہ ہوتا ہے کہ اس دور میں نہ صرف  مکہ و مدینہ میں گھروں کے دروازے تھےبلکہ ان دروازوں کےتالے  اور چابی  بھی تھے۔ «دکین بن سعید المزنی» کہتا ہے پیغمبرؐ کے پاس گئے اور ان سے کھانا مانگا :آپؐ نے فرمایا: اے عمر جاو اور انہیں کھانا دو۔   اس کے بعد یہ شخص کہتا ہے: فارتقی بنا إلی علیة فأخذ المفتاح من حجزته، ففتح؛ آپ (عمر)  ہمارے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے گھر کی سمت چل پڑے انہوں نے چابی نکالی اور دروازہ کھولا »[12]

ثقۃ الاسلام کلینی کی روایت کے مطابق جب قریش نے رسول خدا کے قتل کا ارادہ کیا تو ابوطالب نے اپنے بیٹے علی سے کہا: بیٹا اپنے چچا ابولہب کے پاس جاو اور دروازے پر دستک  دو، اگر دروازہ کھولا تو داخل ہوجاو اگر نہیں کھولا تو دروازہ توڑ کے اندر  جاو اور کہو: کہ میرے والد نے پیغام بھیجا ہے کہ جس شخص کا چچا زندہ ہے وہ ذلیل و خوار نہیں ہوگا۔[13]

اس قسم کے جملے:«دروازے پر دستک اور دروازہ توڑنا»  اس بات پر بخوبی دلالت کرتے ہیں کہ یہ صرف پردہ اور کپڑوں کے لیے  نہیں کہا جاتا۔

تیسرا نکتہ: اگ فرض کریں کہ اس زمانے میں گھروں کے دروازے نہیں تھے تو تاریخ کا کیا کریں گے؟ کیونکہ تاریخ  نے  حضرت زہرا کے گھر پر حملہ اور گھر جلانے کی دھمکی یہاں تک کہ آپ کو مارنے اور زخمی کرنے کوبخوبی نقل کیا ہے۔[14]یہاں دو نمونے بیان کریں گے:

بلاذری(م۲۷۰) اہل سنت دانشور لکھتے ہیں:  حضرت ابوبکر نے حضرت علی سے بیعت لینے کے لیے کسی کو بھیجا لیکن حضرت علی نے بیعت سے انکار کیا۔ بلاذری لکھتے ہیں: «فجاء عمر و معه فتیلة فتلقته فاطمة علی الباب. فقالت فاطمة: یابن الخطّاب! أتُراک محرّقاً علی بابي؟ قال: نعم و ذلک أقوی فیما جاء به أبوکِ؛ اس  وقت عمر(فتیلہ، آگ بڑھکانے والی چیز) لے کر آئے اور گھر کے سامنے حضرت زہرا سے ملاقات ہوئی۔ حضرت زہرا نے فرمایا: اے فرزند خطاب ہمارا گھر جلانے آئے ہو؟ عمر نے جواب دیا: ہاں: کیونکہ یہ کام اس چیز کے لیے مددگار ہے جس کے لیے آپ کے والد مبعوث ہوئے۔»[15]

ابن حجر عسقلانی نے لسان المیزان میں لکھا ہے: «إنّ عمر رفس فاطمة حتّی أسقطت بمحسن؛ حضرت عمر نے حضرت فاطمہ کو  اس طرح مارا کہ آپ کا فرزند محسن سقط ہوگیا»[16]

ایک اور نکتہ جو  اس بات کو ثابت کرنے کے لیےبیان کیا جاسکتا ہے وہ خلیفہ اول کا کلام ہے جو وقت وفات آپ نے کہا تھا۔طبری کی روایات کے مطابق  حضرت ابوبکر نے وقت وفات کہا: کاش زبردستی حضرت زہرا کے گھر میں نہیں گھستے اگرچہ انہوں نے گھر کے دروازے کو جنگ کے لیے ہی بند کیا ہوتا۔[17]اس سے واضح ہوتا ہے کہ اگر گھر کا دروازہ نہ ہوتا تو خلیفہ اول نے اس طرح کیوں کہا؟

نتیجہ:

یہ دعوا کہ صدر اسلام میں گھروں کے دروازے ہی  نہیں تھے لہذاحضرت زہرا کے گھر پر حملہ کرنے والےآپ کے دروازے کو آگ  لگاتے اور آپ کو دیوار و در کے درمیان قرار دیتے، یہ ایک بے ہودہ اعتراض ہے۔ کیونکہ تمام تاریخی شواہد اور قرائن حکایت کرتے ہیں کہ  اس زمانے میں کھجور اور،جونیپر  درخت کی لکڑی کے دروازے  رائج تھے۔ تاریخی اسناد کے مطابق اس زمانے میں نہ صرف گھروں کے دروازے تھے بلکہ تالا اور چابی بھی رائج تھے اس کے علاوہ حضرت زہرا کے گھر پر حملہ اور آ پکا   ضرب و جرح  ایسی چیز نہیں ہے  جسے ایک معمولی اعتراض کے ذریعے تاریخ کے صفحات سے مٹایا جا سکے ۔

مزید مطالعہ کے لیے مصادر

مأساة الزهراء( س)؛ سید جعفر مرتضی عاملی؛

الغدیر؛ علامه امینی؛

شبهات فاطمیه ؛ سید مجتبی عصیری .

 


 

[1][1] ۔ اعلام الوری، ج ،1ص 136به بعد، بحارالانوار، ج ، 19ص 8 کے بعد

[2] ۔ مأساۀ الزهراء، ج 2ص440-442

[3] ۔ صحیح البخاری، ج ،4ص 196

[4] ۔juniper

[5] ۔ teak tree

[6] ۔ ادب المفرد، ص 168؛ وفاءالوفاء، ج ،2ص .11۰

[7] . مسند احمد، ج ،6ص 221

[8] ۔مسند ابی یعلی، ج ،1ص 80؛ کنزل العمال، ج ،7ص « .194فقرعنا الباب فقالت المرأة: من هذا؟ فقال عمر: ہذارسول الله (ص).

[9] .ملاحظه هو: الهدایة الكبرى، ص 407؛ مأساۀ الزهراء، ج318 ،1؛ ج ،2ص .180-188

[10] . لكافي، ج ،5ص 528؛ مأساۀ الزهراء، ج ،2ص 264

[11] .ملاحظه هو: لصراط المستقیم، ج ،3ص 113؛ مأساۀ الزهراء، ج ،2ص 273

[12] . مسند احمد، ج ،4ص 174؛ سنن ابی داود، ج ،2ص527

[13] ۔الکافی، ج ،8ص 227

[14] ۔جن مصادر میں یہ واقعہ نقل ہوا ہے اس بارے گذشتہ اعتراض(حضرت علی کا حضرت زہرا  کی دفاع نہ کرنے) میں ان مصادر کو بیان کیا گیا ہے۔

[15] . انساب الاشراف، ج ،1ص 586

[16] ۔ لسان المیزان، ج ،1ص 268

[17] .تاریخ الامم والملوک ، ج ، 2ص .353یہ عبارت کچھ اس طرح ہے: وددت أنّي لم أکان أکشف بیت فاطمة وإن کان أعلن علی الحرب





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی