2021 October 21
کیا شیعہ اصحاب کے مرتد ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں؟ حقیقت کیا ہے ؟
مندرجات: ١٩٠٥ تاریخ اشاعت: ٢١ March ٢٠٢١ - ٢٣:٣٤ مشاہدات: 1045
یاداشتیں » پبلک
کیا شیعہ اصحاب کے مرتد ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں؟ حقیقت کیا ہے ؟

 

ارتداد صحابہ

اعتراض:

 شیعوں کا عقیدہ ہے کہ بعد وفات پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم –کچھ صحابہ کے علاوہ- سب مرتد ہوگئے اور دین سے خارج ہوگئے ۔ اگر ایسا ہے اور اکثر صحابہ کافر ہوگئے تو انہوں نے صحابہ کی اس کم تعداد کو نابود کیوں نہیں کیا اور واپس جاہلیت پر پلٹ کیوں نہیں گئے؟

تحلیل اور جائزہ

اس اعتراض کے جواب میں چند نکات بیان کریں گے:

پہلا نکتہ :

 شیعہ ہرگز صحابہ کو کافر نہیں کہتے بلکہ شیعہ جو کچھ بھی کہتے ہیں وہ صحیح بخاری و مسلم میں روایت ہوئی ہیں۔

انہوں نے صحیحین میں کم سے کم دس احادیث نقل کیے ہیں جن کے مطابق رسول اکرم ؐکی وفات کے بعد صحابہ کا ایک گروہ مرتد ہوکر عصر جاہلیت پر پلٹ گیے۔ منجملہ ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ پیغمبر ؐنے فرمایا: «یرد عليَ یوم القیامة رهط من أصحابي فیجلون عن الحوض فأقول یا ربّ أصحابي! فیقول: إنّك لا علم لك بما أحدثوا بعدك إنّهم ارتدّوا على أدبارهم القهقری؛ قیامت کے دن اصحاب کا ایک گروہ مجھ پر وارد ہونگے لیکن انہیں حوض سے دور کر دینگے۔ میں کہونگا، پروردگارا یہ میرے اصحاب ہیں۔ خطاب ہوگا: آپ کو  نہیں معلوم کہ انہوں نے آپ کے بعد کی کتنی بدعتیں کی ہیں؟ یہ مرتد ہوئے اور اپنے سابقہ حال پر پلٹ گیے۔[1]

اسی قسم کی اور بھی احادیث صحیح مسلم و بخاری میں روایت ہوئی ہیں[2] تو عقیدہ ارتداد صحابہ کو شیعوں سے نسبت دینے پر اتنا اصرار کیوں؟

پیغمبرؐ کی وفات کے بعد لوگ مرتد ہوئے اس بارے میں حضرت عائشہ کہتی ہیں: «لمّا قُبض یعني رسول الله (ص) ارتدّتِ العرب قاطبةً واشرأب النفاق وصار أصحاب محمّدٍ کلّهم معرّیً مُطیّرةً في حفشٍ؛ جب رسولخداؐ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وفات پائے سارے عرب مرتد اور منافق ہوگیے اور ایکدوسرے سے الگ اور  سیلاب کی مانند متفرق ہوگئے۔[3]

«ارتداد» کا لفظ قرآن میں صحابہ کے لیے استعمال ہوا ہے سورہ مائدہ آیت ۵۴ -حجۃ الوداع میں نازل ہوئی ہے-میں خداوند صحابہ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے:( يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ۔۔۔، اے ایمان والو ! تم میں سے جو بھی اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ بہت جلد ایسے لوگوں کو پیدا کرے گا۔)

یہ آیت پیغمبرؐ کی وفات سے ۲ ماہ پہلے نازل ہوئی ہے اور صحابہ کو براہ راست مخاطب قرار دیا ہے لہذا توجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کونسا واقعہ درپیش آنے والا ہے جس کی  وجہ سے خدا نے صحابہ کو پہلے سے ہوشیار کیا ہے۔؟ کیا  انہیں "ارتداد"  کا سامنا کرنا تھا؟! فاعتبروا یا أولی الأبصار!!

دوسرا نکتہ:

 شیعہ و اہل سنت احادیث میں لفظ" ارتداد" صحابہ کے لیے ذکر ہوا ہے اس لیے اس کا مفہوم سمجھنا چاہیں کہ ارتداد کی کونسی قسم مراد ہے؟ ارتداد سے مراد کلامی ارتداد ہے یا فقہی؟

ارتداد فقہی سے مراد یہ ہے کہ: انسان کسی فقہی احکام جیسی نماز، روزہ، حج وغیرہ جو کہ دینی ضروریات میں سے ہیں کا انکار کرتا ہے۔

ارتداد کلامی سے مراد یہ ہے کہ:انسان اصول دین میں سے کسی ایک اصل جیسے نبوت اور معاد کا انکار کرتا ہے۔شیعہ احادیث میں صحابہ کے لیے ارتداد کا لفظ استعمال ہوا ہے اس سے فقہی ارتداد مراد نہیں ہے بلکہ شیعہ عقیدہ کی بنا پر پیغمبرؐکا جانشین آپ  ہی کی طرح وسیع علم، عصمت اور مقام امامت کا حامل ہوتا ہے۔ تاکہ پیغمبرؐ کے بعد کی کمی پوری کی جاسکے۔ شیعہ عقیدہ کے مطابق یہ وہ منصب الہی ہے جس پر اللہ تعالی اپنی مرضی کے شخص کو جعل اور نصب  کرتا ہے جیسا کہ قرآن میں سورہ بقرہ آیت ۱۲۴ میں حضرت ابراہیم کے منصب امامت بارے ارشاد ہوتا ہے:( قالَ إِنِّي جاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِماماً؛ ارشاد ہوا : میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں)۔

 شیعہ عقیدہ کے مطابق جانشین پیغمبرؐ کا انتخاب اہل حلّ و عقد، شورای  اور لوگوں کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔بلکہ یہ وہ منصب الہی ہے جسے شیعہ و اہل سنت مصادر حدیث میں روایت شدہ درجنوں احادیث کے مطابق غدیر کے دن اللہ تعالی نے اپنے رسول کے ذریعے معین کیا۔ لیکن آپ کی وفات کے بعد صحابہ نے پیغمبرؐکی وصیت پر عمل نہیں کیا لہذا شیعہ روایات میں صحابہ کے لیے "ارتداد" کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ لہذا شیعوں کی نگاہ میں ارتداد سے یہ مراد ہے کہ پیغمبرؐکی وفات کے بعد صحابہ اپنے عہد و پیمان پر قائم نہ رہے اور حضرت علی کی امامت انتصابی کو چھوڑ کر امامت انتخابی کے پیچھے چل پڑے۔ اس ارتداد سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوئے بلکہ ولایت علیؑ سے ارتداد مراد ہے۔ اس لیے یہ اعتراض کہ اگر سارے صحابہ مرتد ہوگئے تھے تو اسلام کو نابود کیوں نہیں کیا ؟ بے ہودہ سوال ہے۔ کیونکہ ارتداد سے مراد اسلام سے خارج ہونا ہرگز نہیں ہے۔

لیکن اہل سنت احادیث میں ارتداد سے دائرہ اسلام سے خارج ہونا مراد ہے۔ جیسا کہ خلیفہ اول کا اصحاب ردّہ کے ساتھ سلوک سے یہی معلوم ہوتا ہے۔

صحاح ستّہ کے بعض شارحین نے اس مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اہل سنت روایات میں ارتدادسے مراد اسلام سے خارج ہونا ہے۔ مبارکفوری-جامع ترمذی کا شارح-لکھتے ہیں: احادیث میں ارتداد سے مراد، اصل اسلام سے خارج ہونا ہے۔[4]

اب سوال یہ ہے کہ وہابیت کی انگلی اعتراض کے لیے صرف شیعوں کی جانب کیوں اٹھتی ہے؟جنہوں نے ارتداد کا لفظ دائرہ اسلام سے خارج ہونے کے معنی میں لیا ہے وہ اس اعتراض کے لائق ہیں یا وہ جنہوں نے ارتداد سے حضرت علی کی ولایت سے ارتداد معنی لیا ہے وہ زیادہ اعتراض کے قابل ہیں؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ شیعہ جنہوں نے ارتداد کوصرف ارتداد از ولایت علی کہا ان پر انگلی اٹھائی گئی لیکن جنہوں نے ارتداد کی بدترین قسم کو صحابہ سے منسوب کیا لیکن وہابیوں نے ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا؟

تیسرا نکتہ:

 لیکن یہ کہ بعد وفات پیغمبرؐ صحابہ اس مشکل میں گرفتار کیوں ہوئے؟ ہم یہاں صرف اس نکتے کی طرف اشارہ کرینگے کہ بعض نامدار صحابہ خلافت کو منصب الہی نہیں سمجھتے تھے بلکہ دنیایی امر سمجھتے تھے اسی لیے اس بارے میں پیغمبرؐ کی نافرمانی کو جائز سمجھے۔ یہ وہ نکتہ ہے جسے ابن ابی الحدید معتزلی نے اپنے استاد ابوجعفر نقیب کے قول سے بیان کیا ہے۔

ابن ابی الحدید معتزلی – نہج البلاغہ کا شارح- خلافت امام علی سے متعلق احادیث کی کافی تعداد کونقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:  میں نے جب اپنے استاد ابوجعفر کے سامنے ان احادیث کو پڑھا اور ان سے کہا:کہ یہ احادیث حضرت علی کی خلافت کی واضح دلیل ہیں اور میرے خیال میں صحابہ نصّ پیغمبرؐکے خلاف اجماع نہیں کرسکتے۔ ان کے استاد نے کہا: صحابہ خلافت کو امر دینی نہیں مانتے تھے بلکہ جنگوں میں امیر، والی اور مدیر کے تعین  اور دنیایی سیاست کی طرح مانتے تھے اس لیے ان امور میں جو ان کی اپنی مصلحت ہوتی انجام دیتے  اور پیغمبرؐکی نافرمانی کا کوئی خوف نہیں ہوتا تھا۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ پیغمبرؐ نے ابوبکر و عمر کو اسامہ کے لشکر سے ملحق ہونے کا واضح حکم دیا لیکن انہوں نے  مدینہ میں رہنے میں مصلحت دیکھی تو آپ کی  حکم عدولی کی۔

اس کے بعد ابن ابی الحدید اپنے استاد کے  قول سے لکھتے ہیں کہ:  صحابہ کا خیال یہ تھا کہ عرب- مختلف بہانوں سے- علی کی پیروی نہیں کرینگے۔ ابن ابی الحدید بہانوں کی ایک لمبی چوڑی فہرست بیان  کرنے کے بعد لکھتے ہیں: اس لیے انہوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا کہ علی خلیفہ نہ بنے اور اس لیے خلافت علی بارے موجود پیغمبرؐکے واضح حکم کی توجیہ پیش کرتے ہوئے نافرمانی کی۔[5]

چوتھا نکتہ:

  شیعہ احادیث میں لفظ"ارتداد" کا ایک اور معنی بھی قابل توجہ ہے وہ یہ کہ وفات پیغمبرؐ کے بعد صحابہ کی کافی تعداد حضرت علی کی انتصابی خلافت کے قائل تھے اور انہیں پیغمبرؐکے بعد بلافصل خلیفہ اور امام مانتے تھے اور اس راہ میں مجاہدت بھی کی لیکن وفات پیغمبرؐ کے بعد پیش آمدہ شرائط کی وجہ سے دوبارہ لگام خلافت امام علی کے ہاتھ لگنے سے مایوس ہوچکے تھے۔ ان کے علاوہ صحابہ کی ایک قلیل تعداد ابھی بھی امیدوار تھے کہ شرائط امام علی کے حق میں پلٹ سکتی ہے۔ اگر ایسا فرض کیا جائے تو ارتداد صحابہ سے مراد یعنی خاندان  پیغمبرؐ کی جانب خلافت کی بازگشت سےنامیدی اور مایوسی ہے۔

نتیجہ

اہل سنت معتبر ترین مصادر حدیث یعنی صحیح بخاری و مسلم میں "ارتداد" صحابہ کے بارے میں احادیث نقل ہوئی ہیں۔اور یہ شیعہ کتب حدیث  سے مختص نہیں  ہے۔ اس کے علاوہ شیعہ احادیث میں "ارتداد" سے مراد دائرہ اسلام سے خارج ہو کر کافر بننا نہیں ہے بلکہ اس سے  یہ مراد ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کی وفات کے بعد صحابہ نے غدیر خمّ کے واقعے کے برخلاف حضرت علی  کو چھوڑ کر سقیفہ کے فیصلے کو قبول کیا۔ یا ارتداد سے مراد یہ ہے کہ حضرت علی کی جانب خلافت کی بازگشت سے صحابہ کی ناامیدی  اور مایوسی کو ارتداد کہا جاتا ہے۔لیکن اہل سنت احادیث میں ارتداد سے مراد اصل اسلام سے خارج ہونا ہے۔ اسی لیے اگر کسی پر اعتراض کرنا ہے تو وہابیوں پر کرنا چاہیے شیعوں پر نہیں۔

مزید مطالعہ کے لیے کتب

۱۵۰ جعلی صحابی ؛ علامه مرتضی عسکری؛

المراجعات؛ سید شرف الدین عاملی؛

الغدیر؛ علامه امینی؛                                             

تحریر ۔۔۔ استاد رستمی نژاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترجمہ اعجاز حیدر 


[1] ۔ صحیح البخاری، ج ،7ص 208

[2] ۔ملاحظہ ہو: صحیح مسلم، ج  ،1ص ۱۵۰

[3] ۔تاریخ مدینه دمشق، ج ،30ص 314؛ ر. ک: البدایة و النهایة، ج ،5ص300

[4] ۔. تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، ج ،9ص « .6المراد من الأحداث، الارتداد عن الإسلام.

[5] ۔ملاحظہ ہو: شرح نهج البلاغه، ج ،12ص 82-86





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی