2019 August 26
ضامن آہو، عالم آل محمد، امام رضا (ع) کی ولادت با سعادت
مندرجات: ١٨١٦ تاریخ اشاعت: ١٦ July ٢٠١٩ - ١٨:١١ مشاہدات: 65
یاداشتیں » پبلک
جدید
ضامن آہو، عالم آل محمد، امام رضا (ع) کی ولادت با سعادت

 

ابو الحسن علی بن موسی الرضا، امام رضا علیہ السلام کے نام سے معروف، شیعہ اثنا عشریہ مکتب کے آٹھویں امام ہیں۔

عباسی خلیفہ مامون آپ کو مدینہ سے زبردستی خراسان لے آیا اور اپنی ولایت عہدی قبول کرنے پر مجبور کیا۔ امام (ع) نے مدینہ سے خراسان جاتے ہوئے نیشاپور کے مقام پر ایک حدیث ارشاد فرمائی جو حدیث سلسلۃ الذہب کے نام سے مشہور ہے۔

مامون نے اپنے خاص مقاصد کی خاطر مختلف ادیان و مذاہب کے اکابرین کے ساتھ آپ کے مناظرے کروائے جس کے نتیجے میں یہ سارے اکابرین آپ کی فضیلت کے معترف ہوئے۔ آپ 20 سال تک امامت کے عہدے پر فائز رہے۔

55 سال کی عمر میں مامون کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ آپ کا مرقد مبارک ایران کے مقدس شہر مشہد میں موجود ہے، جہاں سالانہ لاکھوں افراد پوری دنیا سے زیارت کا شرف پانے کیلئے آتے ہیں۔

نسب، کنیت، لقب:

علی ابن موسی ابن جعفر ابن محمد ابن علی ابن حسین ابن علی ابن ابی‌ طالب، آپ (ع) کی کنیت ابو الحسن اور سب سے زیادہ مشہور لقب " رضا " ہے۔

بعض کتب میں آیا ہے کہ آپ کو یہ لقب مأمون نے دیا تھا۔

مفید، الارشاد، ج 2 ص 261

ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج 4 ص 363

لیکن امام جواد (ع) سے منقول ایک حدیث میں آیا ہے کہ آپ کا یہ لقب خداوند کی طرف سے آپ کے والد ماجد حضرت امام کاظم (ع) کی طرف الہام کیا گیا تھا۔

صدوق، عیون اخبار الرضا، ج 1 ص 13

صابر، رضی اور وفی آپ کے دیگر القاب میں سے ہیں۔

امین، سید محسن، اعیان الشیعہ، ج 2 ص 545

اسی طرح آپ (ع) عالم آل محمد کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ امام کاظم (ع) اپنے دوسرے فرزندوں سے کہا کرتے تھے: تمہارا بھائی علی ابن موسی، عالم آل محمد ہے۔

طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ج 2 ص 64

انگشتری کا نقش:

امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کی انگشتری کے لیے ایک نقش منقول ہے:

 ما شاءَ اللہُ لا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہِ،

وہی ہوتا ہے جو خداوند چاہے، نہیں کوئی قوت سوائے خدائے بلند و برتر کے۔

کلینی، الکافی، ج 6، ص 474

ولادت اور شہادت:

آپ کی تاریخ پیدائش جمعرات یا جمعہ 11 ذی‌القعدہ سن 148 ہجری قمری نقل کی گئی ہے۔

فضل اللہ، تحلیلی از زندگانی امام رضا (ع)، ص 43

مرحوم کلینی نے آپ کی تاریخ پیدائش سن 148 ذکر کی ہے۔

کلینی، الکافی، ج 1 ص 486

اور اکثر علماء اور مورخین اس بات میں جناب کلینی کے ساتھ ہم عقیدہ ہیں۔

عاملی، الحیاۃ السیاسیۃ للامام الرضا، ص 168

آپ کی شہادت مورخین نے بروز جمعہ یا پیر، ماہ صفر کی آخری تاریخ سن 203 ہجری ذکر کی ہے۔

فضل اللہ، تحلیلی از زندگانی امام رضا (ع)، ص 43

کلینی کے مطابق آپ صفر کے مہینے میں سن 203 ہجری کو 55 سال کی عمر میں شہادت کے مقام پر فائز ہوئے ہیں۔

کلینی، الکافی، ج 1 ص 486

اکثر علماء اور مورخین کے مطابق آپ (ع) کی شہادت سن 203 ہجری قمری میں واقع ہوئی ہے۔

عاملی، الحیاۃ السیاسیۃ للامام الرضا، ص 169

طبرسی آپ (ع) کی شہادت کو ماہ صفر کی آخری تاریخ نقل کرتے ہیں۔

طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ج 2 ص 41

والدہ محترمہ:

امام رضا (ع) کی والدہ نجمہ خاتون تھیں کہ جو نوبہ کی رہنے والی ایک کنیز تھیں۔

جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ص 425

آپ کو تاریخی منابع میں مختلف ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب آپ امام کاظم (ع) کی ملکیت میں آ گئی تو امام نے آپ کا نام " تکتم " رکھا۔

صدوق، عیون اخبار الرضا، ج 1 ص 14

اور جب امام رضا (ع) کی ولادت ہوئی تو امام کاظم (ع) آپ کو "طاہرہ" کے نام سے یاد کرتے تھے۔

صدوق، عیون اخبار الرضا، ج 1 ص 15

شیخ صدوق کہتے ہیں کہ بعض مورخین نے امام رضا (ع) کی والدہ گرامی کو " سَکَن نوبیہ " کے نام سے یاد کیا ہے۔ اسی طرح آپ کو اروی، نجمہ اور سمانہ کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے، آپ کی کنیت " ام البنین " بھی تھی۔

صدوق، عیون اخبار الرضا، ج 1 ص 16

ایک حدیث میں آیا ہے کہ امام رضا (ع) کی مادر گرامی نجمہ، ایک پاک و پاکیزہ اور پرہیزگار کنیز تھی جسے امام کاظم (ع) کی والدہ حمیدہ نے خرید کر اپنے بیٹے کو دی تھی، جس کے بعد جب امام رضا (ع) کی ولادت ہوئی تو آپ کا نام "طاہرہ" رکھا گیا۔

صدوق، عیون اخبار الرضا، ج 1 ص 41

ازواج مطہر:

آپ کی ایک زوجہ کا نام سبیکہ تھا۔

طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ص 91

جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ ام المؤمنین ماریہ قبطیہ کے خاندان سے تھیں۔

کلینی، الکافی، ج 1 ص 492

قزوین میں امام رضا (ع) کے فرزند، حسین کا روضہ:

بعض دیگر منابع میں سبیکہ کے علاوہ ایک دوسری زوجہ کا بھی ذکر ملتا ہے، مامون عباسی نے امام رضا (ع) کو اپنی بیٹی ام حبیب سے شادی کی تجویز دی جسے امام (ع) نے قبول کر لیا۔ طبری نے اس واقعے کو سن 202 ہجری کے واقعات کے ضمن میں بیان کیا ہے۔

طبری، محمد بن جریر، التاریخ الطبري، ج 7 ص 149

اس کام کے ذریعے مامون زیادہ سے زیادہ امام رضا (ع) کے نزدیک ہونے چاہتا تھا تا کہ آپ کے گھر کے اندرونی حالات سے بھی با خبر رہ سکے۔

قرشی، باقر شریف، حیاۃ الامام علی بن موسی الرضا، ج 2 ص 408

سیوطی نے بھی امام رضا (ع) سے مامون کی بیٹی کی تزویج کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن اس کا نام ذکر نہيں کیا ہے۔

تاريخ الخلفاء، سیوطی، ص 307

اولاد:

امام رضا (ع) کی اولاد کی تعداد اور ان کے اسماء کے بارے میں مورخین کا اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض نے آپ کے پانچ بیٹے ذکر کیے ہیں: "محمد قانع، حسن، جعفر، ابراہیم، حسین اور ایک بیٹی ذکر کی ہے۔

فضل اللہ، محمد جواد، تحلیلی از زندگانی امام رضا (ع)، ص 44

سبط ابن جوزی نے آپ کے چار بیٹے: محمد تقی (ابو جعفر ثانی)، جعفر، ابو محمد حسن، ابراہیم، اور ایک بیٹی کا تذکرہ کیا ہے لیکن اس کا نام ذکر نہیں کیا ہے۔

سبط بن الجوزی، تذکرۃ الخواص، ص 123

کہا گیا ہے کہ امام رضا (ع) کا ایک بیٹا جو دو سال یا اس سے کم عمر میں وفات پا چکا تھا کہ جو ایران کے شہر قزوین میں مدفون ہیں، جو اس وقت امام زادہ حسین کے نام سے مشہور ہیں۔ ایک روایت کے مطابق سن 193 ہجری میں امام رضا (ع) نے قزوین کا سفر کیا تھا۔

جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ (ع)، ص 426

شیخ مفید، امام رضا (ع) کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ نے ابو جعفر محمد ابن علی التقی الجواد کہ جو آپ کے بعد نویں امام تھے، کے سوا کوئی اولاد نہيں چھوڑی، جنکی عمر سات سال اور چند مہینے تھی۔

شیخ مفید، الارشاد ، ج2، ص 271

ابن شہر آشوب اور امین الاسلام طبرسی، کی رائے بھی یہی ہے۔

فضل اللہ، محمد جواد، تحلیلی از زندگانی امام رضا (ع)، ص 44

بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ آپ کی ایک بیٹی بھی تھیں کہ جنکا نام فاطمہ تھا۔

قمی، شیخ عباس، منتہی الآمال، زندگانی حضرت امام رضا (ع)

امامت و ولایت:

امام رضا (ع) اپنے والد ماجد امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد 20 سال (183 - 203 ہجری قمری) تک امامت کے عہدے پر فائز رہے۔ آپ کی امامت کے ابتدائی دور میں ہارون الرشید خلافت پر قابض تھا، اس کے بعد اسکے بیٹے امین نے تین سال اور 25 دن حکومت کی جس کے بعد ابراہیم ابن مہدی عباسی المعروف ابن شکلہ نے 14 دن حکومت کی، جسکے بعد امین عباسی نے ایک بار پھر اقتدار سنبھال کر ایک سال اور سات مہینے حکومت کی۔ آپ (ع) کی امامت کے آخری 5 سال مامون عباسی کے دور خلافت میں گزرے ہیں۔

طبرسی، اعلام الوری ج 2 ص 41-42

دلائل امامت:

متعدد راویوں جیسے داود ابن کثیر الرقی، محمد ابن اسحاق ابن عمار، علی ابن یقطین، نعیم قابوسی، حسین ابن مختار، زیاد ابن مروان، ابو لبید یا ابو ایوب مخزومی، داؤد ابن سلیمان، نصر ابن قابوس، داود ابن زربی، یزید ابن سلیط اور محمد ابن سنان وغیرہ نے امام موسی کاظم علیہ السلام سے امام رضا (ع) کی امامت کے بارے میں احادیث نقل کی ہیں۔

شیخ مفید، الارشاد، ص 448

اس سلسلے میں بطور مثال بعض احادیث کا تذکرہ کرتے ہیں:

داود رقی کہتے ہیں میں نے امام موسی کاظم (ع) سے پوچھا: ... آپ کے بعد امام کون ہے ؟ امام کاظم (ع) نے اپنے فرزند علی ابن موسی (ع) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: میرے بعد یہ تمہارے امام ہیں۔

شیخ مفید، الارشاد ص 448

اس کے علاوہ رسول خدا (ص) سے متعدد احادیث نقل ہوئی ہیں کہ جن میں 12 ائمۂ معصومین کے اسماء گرامی ذکر ہوئے ہیں اور یہ احادیث امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام سمیت تمام ائمہ (ع) کی امامت و ولایت کی تائید کرتی ہیں۔

شیخ مفید، الاختصاص، ص 211 

صافی، شیخ لطف اللہ، منتخب الاثر باب ہشتم ص97

طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ج 2 ، ص 181 ، 182

عاملی، اثبات الہداة بالنصوص و المعجزات، ج 2 ص 285

جابر ابن عبد اللہ کہتے ہیں کہ سورہ نساء کی آیت 59:

اطیعوا الله واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم،

نازل ہوئی تو رسول خدا (ص) نے 12 ائمہ کے نام تفصیل سے بتائے جو اس آیت کے مطابق واجب الاطاعت اور اولو الامر ہیں۔

بحار الأنوار ج 23 ص 290

اثبات الھداة ج 3 ص 123

مناقب ابن شہر آشوب، ج 1 ص 283

امام علی (ع) سے روایت ہے کہ ام سلمہ کے گھر میں سورہ احزاب کی آیت 33:

انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیرا،

نازل ہوئی تو پیغمبر نے بارہ اماموں کے نام تفصیل سے بتائے کہ وہ اس آیت کے مصداق ہیں۔

مجلسی، بحار الأنوار، ج 36 ص 337

علی بن محمد خزاز قمى، كفاية الأثر في النص على الأئمة الإثنی عشر، ص157

ابن عباس سے مروی ہے کہ نعثل نامی یہودی نے رسول خدا (ص) کے جانشینوں کے نام پوچھے تو آپ (ص) نے بارہ اماموں کے نام تفصیل سے بتائے۔

سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة، ج2، ص387 – 392، باب 76

متعدد احادیث اور نصوص کے علاوہ امام رضا (ع) اپنے زمانے میں شیعوں کے درمیان مقبولیت عام رکھتے تھے اور علم و اخلاق میں اپنے خاندان کے افراد اور تمام امت کے افراد پر فوقیت اور برتری رکھتے تھے۔ یہ خصوصیات بھی آپ کی امامت پر دلیل بن سکتی ہیں۔

گو کہ امام موسی کاظم علیہ السلام کی حیات مبارکہ کے آخری ایام میں امامت کا مسئلہ کافی حد تک پیچیدہ ہو چکا تھا لیکن امام کاظم علیہ السلام کے اکثر اصحاب اور پیروکاروں نے امام رضا علیہ السلام کو امام کاظم (ع) کا جانشین اور آپ کے بعد امام تسلیم کر لیا تھا۔

امام رضا (ع) کے دور میں شیعوں کے اعتقادات:

امام کاظم (ع) کی شہادت کے بعد شیعوں کی اکثریت نے ساتویں امام کی وصیت اور دوسرے قرائن و شواہد کی بناء پر ان کے بیٹے علی بن موسی الرضا (ع) کو آٹھویں امام کے طور پر قبول کر لیا تھا۔ آپ (ع) کی امامت کو قبول کرنے والے شیعہ جن میں امام کاظم (ع) کے بزرگ اصحاب شامل تھے، قطعیہ کے نام سے مشہور تھے۔

نوبختی، فرق الشیعہ، ص 79

لیکن امام کاظم (ع) کے اصحاب میں سے ایک گروہ نے بعض دلائل کی بنیاد پر علی ابن موسی الرضا (ع) کی امامت کو قبول کرنے سے انکار کیا اور امام موسی کاظم (ع) کی امامت پر توقف کیا۔ ان کا عقیدہ تھا کہ موسی ابن جعفر (ع) آخری امام ہیں جنہوں نے کسی کو امام متعین نہیں کیا یا کم از کم ہمیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ یہ گروہ واقفیہ (یا واقفہ) کے نام سے جانا جاتا تھا۔

مدینہ میں آپ (ع) کا مقام و منزلت:

امام رضا (ع) نے اپنی امامت کے تقریبا 17 سال (183-200 یا 201 ہجری) مدینے میں گزارے، جہاں پر آپ (ع) لوگوں کے درمیان ایک ممتاز مقام کے حامل تھے۔ مأمون کے ساتھ اپنی ولایتعہدی کے بارے میں ہونے والی گفتگو میں امام (ع) خود اس بارے میں فرماتے ہیں:

میرے نزدیک اس ولایت عہدی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جس وقت میں مدینہ میں ہوتا تھا تو میرا حکم مشرق و مغرب میں نافذ تھا اور جب میں اپنی سواری پر مدینے کی گلی کوچوں سے گزرتا تو لوگوں کے نزدیک مجھ سے زیاده محبوب شخصیت کوئی نہیں تھی۔

كلينی، الكافى، ج 8 ص 151

مدینے میں آپ (ع) کی علمی مرجعیت کے بارے میں بھی خود امام (ع) فرماتے ہیں:

میں مسجد نبوی کے دروازے پر بیٹھتا تھا اور مدینے میں موجود صاحبان علم جب بھی کسی مسئلے میں پھنس جاتے تھے تو میری طرف رجوع کرتے تھے اور اپنے اپنے مسائل کو میری طرف ارجاع دیتے تھے اور میں ان سب کا جواب دیتا تھا۔

طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ج 2 ص 64

خراسان کا سفر:

روایت ہے کہ امام رضا (ع) کی مدینہ سے مرو کی طرف ہجرت سن 200 ہجری میں انجام پائی۔

صدوق، عیون اخبار الرضا، ج2، ص473

مسعودي، اثبات الوصيہ، ص391

رسول جعفریان نے لکھا ہے: امام رضا (ع) سن 201 کو مدینہ میں تھے اور اسی سال ماہ رمضان کے مہینے میں مرو پہنچ گئے۔

جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ (ع) ص 426

یعقوبی کے مطابق مامون کے حکم پر امام رضا (ع) کو مدینہ سے مرو بلایا گیا۔ امام (ع) کو مدینہ سے خراسان لانے کے لیے جانے والا شخص مامون کے وزیر فضل ابن سہل کا قریبی رشتہ دار، رجاء ابن ضحاک تھا۔ آپ کو بصرہ کے راستے سے مرو لایا گیا۔

یعقوبی، التاریخ الیعقوبي ج 2، ص 465

امام (ع) کی مرو منتقلی کے لیے مامون نے ایک خاص راستہ منتخب کیا تھا تا کہ آپ کو شیعہ اکثریتی علاقوں سے گزرنے نہ دیا جائے، کیونکہ وہ ان علاقوں میں لوگوں کے اجتماعات سے خوفزدہ تھا جو امام کے ان علاقوں میں پہنچنے پر متوقع تھا۔ اس نے حکم دیا تھا کہ امام (ع) کو کوفہ کے راستے سے نہیں بلکہ بصرہ، خوزستان اور فارس کے راستے سے نیشاپور لایا جائے۔

مطہری، مجموعہ آثار، ج 18، ص 124

کتاب " اطلسِ شیعہ " کے مطابق امام رضا (ع) کو "مرو" لانے کے لیے مقررہ راستہ کچھ یوں تھا:

مدینہ، نقرہ، ہوسجہ، نباج، حفر ابو موسی، بصرہ، اہواز، بہبہان، اصطخر، ابرقوہ، دہ شیر (فراشاہ)، یزد، خرانق، رباط پشت بام، نیشاپور، قدمگاہ، دہ سرخ، طوس، سرخس، مرو۔

جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ (ع)، ص 95

شیخ مفید کہتے ہیں: مامون نے خاندان ابو طالب (ع) کے بعض افراد کو مدینہ سے بلوایا کہ جن میں امام رضا (ع) بھی شامل تھے۔ وہ یعقوبی کے برعکس، لکھتے ہیں کہ:

مامون نے امام (ع) کی خراسان منتقلی کے لیے عیسی جلودی کو ایلچی کے طور پر مدینہ بھجوایا تھا اور کہتے ہیں کہ جلودی امام (ع) کو بصرہ کے راستے مامون کے پاس لے آیا۔ مامون نے آل ابی طالب کو ایک گھر میں جگہ دی اور امام رضا (ع) کو دوسرے گھر میں اور آپ کی تکریم و تعظیم کی۔

شیخ مفید، الارشاد، ص 455

حدیث سلسلۃ الذہب:

" اللَّه جَلَّ جَلَالُهُ یقُولُ لَا إِلَهَ‏ إِلَّا اللَّهُ‏ حِصْنِی‏ فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِی أَمِنَ مِنْ عَذَابِی قَالَ فَلَمَّا مَرَّتِ الرَّاحِلَةُ نَادَانَا بِشُرُوطِهَا وَ أَنَا مِنْ شُرُوطِهَا،

خداوند نے فرمایا ہے: کلمہ لَا إِلَہ إِلَّا اللَّہ، میرا مضبوط قلعہ ہے، پس جو بھی میرے اس قلعہ میں داخل ہو گا، وہ میرے عذاب سے محفوظ رہے گا، جب سواری چلنے لگی تو امام رضا (ع) نے فرمایا: البتہ اس کی کچھ شرائط ہیں اور میں ان شرائط میں سے ایک شرط ہوں۔

ابن بابویہ، کتاب التوحید، ص 49

اسحاق ابن راہویہ کہتے ہیں: جب امام رضا (ع) خراسان جاتے ہوئے نیشاپور کے مقام پر پہنچے تو مُحدِّثین کا ایک گروہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا:‌

اے فرزند پیغمبر ! آپ ہمارے شہر سے تشریف لے جا رہے ہیں، کیا ہمارے لیے کوئی حدیث بیان نہیں فرمائیں گے ؟

اس مطالبے کے بعد امام (ع) نے اپنا سر کجاوے سے باہر نکالا اور فرمایا:

میں نے اپنے والد گرامی موسی ابن جعفر (ع) سے، انہوں نے اپنے والد گرامی جعفر ابن محمّد (ع) سے، انہوں نے اپنے والد گرامی محمّد ابن علی (ع) سے، انہوں نے اپنے والد گرامی علی ابن الحسین (ع) سے، انہوں نے اپنے والد گرامی حسین ابن علی (ع) سے، انہوں نے اپنے والد گرامی امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب (ع) سے، انہوں نے رسول خدا (ص) سے، آپ (ص) نے جبرائیل سے سنا، جبرائیل کہتے ہیں پروردگار عزّ و جلّ فرماتے ہیں:

اللَّه جَلَّ جَلَالُهُ یقُولُ لَا إِلَهَ‏ إِلَّا اللَّهُ‏ حِصْنِی‏ فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِی أَمِنَ مِنْ عَذَابِی قَالَ فَلَمَّا مَرَّتِ الرَّاحِلَةُ نَادَانَا بِشُرُوطِهَا وَ أَنَا مِنْ شُرُوطِهَا،

خداوند نے فرمایا ہے: کلمہ لَا إِلَہ إِلَّا اللَّہ میرا مضبوط قلعہ ہے، پس جو بھی میرے اس قلعہ میں داخل ہو گا وہ میرے عذاب سے محفوظ رہے گا، جب سواری چلنے لگی تو امام رضا (ع) نے فرمایا: البتہ اس کی کچھ شرائط ہیں اور میں ان شرائط میں سے ایک شرط ہوں۔

صدوق، معانی الاخبار‏، ص 371

نیشاپور میں امام (ع) کا محدثین کی محفل میں اس حدیث کا بیان مدینے سے خراسان تک کے سفر کا اہم ترین اور مستند ترین واقعہ شمار کیا جاتا ہے۔

فضل اللہ، تحلیلی از زندگانی امام رضا (ع)، ص 133

مامون کی ولیعہدی:

امام رضا (ع) کا مرو میں قیام پذیر ہونے کے بعد مأمون نے امام رضا (ع) کے پاس اپنا قاصد بھیجا اور یہ پیغام دیا کہ میں خلافت سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہوں اور اسے آپ کے حوالے کرتا ہوں، لیکن امام (ع) نے اس کی شدید مخالفت کی۔ اس کے بعد مأمون نے آپ (ع) کو اپنی ولیعہدی کی تجویز دی تو امام نے اسے بھی ٹھکرایا۔ اس موقع پر مأمون نے تہدید آمیز لہجے میں کہا:

عمر ابن خطاب نے چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی جس میں سے ایک آپ کے دادا علی ابن ابی طالب تھے۔ عمر نے یہ شرط رکھی تھی کہ ان چھ افراد میں سے جس نے بھی مخالفت کی اس کی گردن اڑا دی جائے۔

آپ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ جو کچھ میں آپ سے طلب کر رہا ہوں اسے قبول کرو۔

اس وقت امام (ع) نے فرمایا: پس اگر ایسا ہے تو میں قبول کرتا ہوں لیکن اس شرط پر کہ میں کوئی حکم جاری نہیں کروں گا اور نہ ہی کسی کو کسی چیز سے منع کروں گا، نہ کسی چیز کے بارے میں کوئی فتوا دوں گا اور نہ کسی مقدمے کا فیصلہ سناؤں گا، نہ کسی کو کسی عہدے پر نصب کروں گا اور نہ کسی کو اس کے عہدے سے عزل کروں گا اور نہ کسی چیز کو اس کی جگہ سے ہٹاؤں گا۔ مأمون نے ان شرائط کو قبول کر لیا۔

شیخ مفید، الارشاد، ج 2 ص 259

مناظرے:

امام رضا (ع) کو مرو منتقل کرنے کے بعد مامون نے مختلف مکاتب فکر اور ادیان و مذاہب کے دانشوروں اور امام رضا (ع) کے درمیان مختلف مناظرات ترتیب دیئے جن میں زیادہ تر اعتقادی اور فقہی مسائل پر بحث و گتفگو ہوتی تھی۔ ان ہی میں سے بعض مناظرات کو ابو على، فضل ابن حسن ابن فضل طبرسى، جو امین الاسلام طبرسی کے نام سے معروف ہیں، نے کتاب " الاحتجاج " میں نقل کیا ہے۔

جعفریان، حیات فکرى و سیاسى ائمہ، ص 442

ان میں سے بعض احتجاجات اور مناظرات کی فہرست کچھ یوں ہے:

طبرسی، الاحتجاج، ج 2، ص 396 اور بعد کے صفحات

توحید اور عدل کے موضوع پر امام رضا (ع) کا مناظرہ

امامت کے موضوع پر امام رضا (ع) کا مناظرہ

سلیمان مروزی کے ساتھ امام رضا (ع) کا مناظرہ

ابی قرہ کے ساتھ امام رضا (ع) کا مناظرہ

جاثلیق کے ساتھ امام رضا (ع) کا مناظرہ

رأس الجالوت کے ساتھ امام رضا (ع) کا مناظرہ

زرتشتیوں کے ساتھ امام رضا (ع) کا مناظرہ

صابئین کے زعیم کے ساتھ امام رضا (ع) کا مناظرہ

مناظرات کے بارے میں تجزیہ و تحلیل:

مامون، امام رضا (ع) کو مختلف مکاتب فکر کے دانشوروں کے ساتھ بحث اور مناظرات میں الجھا کر لوگوں کے درمیان آئمۂ اہل بیت کے بارے میں قائم عمومی سوچ، جو انہيں علم لدنی کے مالک سمجھتے تھے، کو ختم کرنا چاہتا تھا۔

شیخ صدوق لکھتے ہیں: مامون مختلف مکاتب فکر اور ادیان و مذاہب کے بلند پایہ دانشوروں کو امام (ع) کے سامنے لایا کرتا تھا تا کہ ان کے ذریعے امام (ع) کے دلائل کو ناکارہ بنا دے۔

یہ سارے کام وہ امام (ع) کی علمی اور اجتماعی مقام و منزلت سے حسد کی وجہ سے انجام دیتا تھا لیکن نتیجہ اسکے برخلاف نکل آیا اور جو بھی امام کے سامنے آتا وہ آپ کے علم و فضل کا اقرار کرتا اور آپ کی طرف سے پیش کردہ دلائل کے سامنے لاجواب اور بے بس ہو کر انہیں تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا۔

عیون اخبار الرضا، ج1، ص 152

جب مامون کو اس بات کا علم ہوا کہ ان محفلوں اور مناظروں کا جاری رکھنا اس کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، تو اس نے امام (ع) کو محدود کرنا شروع کر دیا۔

ابا صلت سے روایت ہے کہ جب مامون کو اطلاع دی گئی کہ امام رضا (ع) نے کلامی اور اعتقادی مجالس تشکیل دینا شروع کی ہیں جسکی وجہ سے لوگ آپ کے شیدائی بن رہے ہیں تو اس نے محمد ابن عمرو طوسی کی ذمہ داری لگائی کہ وہ لوگوں کو امام (ع) کی مجالس سے دور رکھیں۔ اس کے بعد امام (ع) نے مامون کو بد دعا دی۔

جعفریان،حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ (ع) ص 442-443.

نماز عید:

امام رضا (ع) کو اپنا ولیعہد بنانے کے بعد (7 رمضان 201ہجری کو) عید کے موقع پر بظاہر اسی رمضان کی عید فطر مأمون نے امام رضا (ع) سے کہا کہ جا کر نماز عید پڑھائیں لیکن امام (ع) نے ولیعہدی کے لیے مقرر کردہ شرائط کا حوالہ دے کر مأمون سے کہا کہ:

مجھے اس کام سے معاف رکھو۔

مامون نے اصرار کیا چنانچہ امام (ع) کو قبول کرنا پڑا اور فرمایا: ٹھیک ہے تو میں پھر رسول خدا (ع) کی طرح نماز عید قائم کروں گا۔ مامون نے بھی امام کی شرط مان لی۔

لوگوں کو توقع تھی کہ امام رضا (ع) بھی دوسرے خلفاء کی طرح خاص قسم کی آداب و رسوم کے ساتھ نماز کے لیے نکلیں گے لیکن سب نے حیرت کے ساتھ دیکھا کہ امام (ع) ننگے پاؤں تکبیر کہتے ہوئے گھر سے باہر آئے، سرکاری اہلکار جو اس طرح کے مراسم کے لیے رائج لباس پہن کر آئے تھے، یہ حالت دیکھ کر اپنی سواریوں سے نیچے آئے اور سب نے اپنے جوتے اتار لیے اور روتے ہوئے اور اللہ اکبر کہتے ہوئے امام (ع) کے پیچھے پيجھے عید گاہ کی طرف روانہ ہوئے۔ امام (ع) ہر قدم پر تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ فضل ابن سہل نے مامون سے کہا: اگر امام رضا (ع) اسی حالت میں عید گاہ پہنچ جائیں تو لوگ انکے شیدائی بن جائیں گے۔ پس بہتر ہے کہ امام سے کہیں کہ وہ واپس آ جائیں۔ چنانچہ مامون نے اپنا ایک ایلچی روانہ کر کے امام (ع) سے واپس آنے کی خواہش کی۔ چنانچہ امام (ع) نے اپنے جوتے منگوائے اور اپنی سواری پر بیٹھ کر واپس چلے آئے۔

جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ (ع) ص 443

مسئلۂ شہادت امام رضا (ع):

تاریخی منابع میں امام رضا (ع) کی شہادت سے متعلق مختلف اقوال ذکر ہوئے ہیں:

چنانچہ تاریخ یعقوبی میں آیا ہے کہ مامون سن 202 میں عراق روانہ ہوا، اس سفر میں علی ابن موسی الرضا اور فضل ابن سہل بھی ان کے ساتھ تھے۔

یعقوبی، التاریخ الیعقوبي، ص 469

جب طوس پہنچے تو سن 203 ہجری کے اوائل میں امام رضا (ع) بیمار ہوئے اور صرف تین دن بعد " نوقان " نامی محلے میں وفات پائی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ علی ابن ہشام نے آپ کو زہریلا انار کھلا کر مسموم کیا اور مامون نے اس واقعے پر سخت بے چینی کا اظہار کیا۔

یعقوبی نے مزید لکھا ہے: مجھ سے ابو الحسن ابن ابی عباد نے کہا: میں نے دیکھا مامون سفید قبا پہنے، سر برہنہ، تابوت کے دستوں کے بیچ جا رہا تھا اور کہہ رہا تھا:

آپ کے بعد میں کس سے سکون پاؤںگا۔ مامون نے تین دن تک قبر کے پاس قیام کیا اور ہر روز ایک روٹی اور تھوڑا سا نمک اس کے پاس لایا جاتا تھا اور یہی اس کا کھانا تھا اور چوتھے روز وہاں سے واپس آیا۔

یعقوبی ،تاريخ اليعقوبي ج 2 ص 453

شیخ مفید روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ ابن بشیر نے کہا: مجھے مامون نے حکم دیا کہ اپنے ناخن نہ تراشوں تا کہ معمول سے زیادہ بڑھ جائیں اور اس کے بعد اس نے مجھے تمر ہندی (املی) جیسی چیز دے دی اور کہا کہ اسے اپنے ہاتھوں سے گوند لوں۔ اس کے بعد مامون امام رضا (ع) کے پاس گیا اور مجھے آواز دے کر بلوایا اور کہا کہ انار کا شربت نکالو۔ میں نے انار کو دبا کر شربت نکالا اور مامون نے وہی شربت امام (ع) کو پلایا اس کے دو روز بعد امام (ع) شہادت پا گئے۔

شیخ مفید، الارشاد، ص 464

شیخ صدوق نے اس سلسلے میں بعض روایات نقل کی ہیں کہ جن میں سے بعض میں ہے کہ زہریلے انگور جبکہ بعض میں زہریلے انار اور انگور دونوں کا ذکر ہے۔

شیخ صدوق، ج 2، ص 592 و 602

جعفر مرتضی عاملی نے امام رضا (ع) کے انتقال کے متعلق 6 نظریات بیان کیے ہیں۔

جعفر مرتضی عاملی، زندگی سیاسی هشتمین امام، ص 202-212

چوتھی صدی ہجری کے محدث اور رجال شناس ابن حبّان نے علی ابن موسی الرضا کے نام کے ذیل میں لکھا ہے:

علی ابن موسی الرضا اس زہر کے نتیجے میں وفات پا گئے جو مامون نے انہیں کھلایا تھا۔ یہ واقعہ روز شنبہ (ہفتہ) آخرِ صفر المظفر سن 203 ہجری کو پیش آیا تھا۔

ابن حبان، الثقات، ج 8، ص 456-457

جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ (ع) ص 460

شہادت کی پیشین گوئیاں اور زیارت کا ثواب:

رسول خدا (ص) نے فرمایا: بہت جلد میرے وجود کا ایک ٹکڑا خراسان میں دفن ہو گا، جس نے اس کی زیارت کی خداوند متعال جنت کو اس پر واجب اور جہنم کی آگ اس کے جسم پر حرام کرے گا۔

بحار الانوار، ج 49، ص 284، ح 3

صدوق، عیون اخبار الرضا، ج 2، ص 255

امام علی علیہ السلام نے فرمایا: بہت جلد میرا ایک فرزند خراسان میں مسموم کیا جائے گا جس کا نام، میرا نام ہے اور اس کے باپ کا نام موسی ابن جعفر (ع) ہے۔ جس نے غریب الوطنی میں اس کی زیارت کی، خداوند اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دے گا خواہ وہ ستاروں اور بارش کے قطروں اور درختوں کے پتوں جتنے ہی کیوں نہ ہوں۔

بحار الانوار، ج 49، ص 284، ح 11

عیون اخبار الرضا، ج 2، ص 258- 259

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: خداوند میرے بیٹے موسی کو ایک فرزند عطا کرے گا جو طوس میں مسموم کر کے شہید کیا جائے گا اور غریب الوطنی میں دفن کیا جائے گا۔ جو اس کے حق کو پہچانے اور اس کی زیارت کرے خداوند متعال اس کو ان لوگوں کا ثواب عطا کرے گا جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے انفاق کیا ہے اور خیرات دی ہے اور جہاد کیا ہے۔

بحار الانوار، ج 49، ص 286، ح 10

عیون اخبار الرضا، ج 2، ص 255

شہادت کے علل و اسباب:

مامون نے کیوں امام کو قتل کروایا ؟

اس حوالے سے مختلف علل و اسباب ذکر کیے گئے ہیں:

مختلف ادیان و مذاہب کے دانشوروں کے ساتھ ہونے والے مناظروں میں امام (ع) کی برتری اور فوقیت۔

جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ (ع) ص 443

امام رضا (ع) کی اقتداء میں نماز عید ادا کرنے کیلئے لوگوں کا جوق در جوق شرکت، اس واقعے سے مامون بہت خائف ہوا اور سجھ گیا تھا کہ امام رضا (ع) کو ولیعہد بنانا، اس کی حکومت کیلئے کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اس نے امام (ع) کی نگرانی کرنا شروع کی کہ کہیں اس کے خلاف کوئی اقدام نہ کرے۔

جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ص 444

دوسری طرف سے امام (ع) مامون سے کسی خوف و خطر کا احساس نہیں فرماتے تھے، اسی وجہ سے اکثر اوقات ایسے جوابات دے دیتے تھے کہ جو مامون کیلئے سخت ناگوار گزرتے تھے۔ یہ چیز مامون کو امام کے خلاف مزید بھڑکانے اور امام کے ساتھ مامون کی دشمنی کا باعث بنتی تھی اگرچہ مامون اس کا برملا اظہار نہیں کرتا تھا۔

جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ص 445

منقول ہے کہ مأمون ایک عسکری فتح کے بعد خوشی کا اظہار کر رہا تھا کہ امام (ع) نے فرمایا: اے امیر المؤمنین ! امت محمد اور اس چیز سے متعلق خدا سے ڈرو جسے خدا نے تیرے ذمے لگائی ہے، تم نے مسلمانوں کے امور کو ضائع کر دیا ہے....۔

عطاردی، مسند الامام الرضا، ص 84-85

امام رضا (ع) کی شہادت کے بعد مامون نے آپ کو " سناباد " نامی محلے میں واقع " حمید ابن قحطبۂ طائی " کے گھر (بقعۂ ہارونیہ) میں سپرد خاک کیا۔

شیخ مفید، الارشاد، ص 464

اس وقت حرم رضوی ایران کے شہر مشہد میں واقع ہے جہاں ایران اور دوسرے تمام ممالک سے سالانہ لاکھوں مسلمان زیارت کیلئے آتے ہیں۔

دخیل، ص 76 ، 77

امام رضا (ع) کی سیرت حسنہ:

عبادات میں آپ کی سیرت:

امام رضا (ع) کی عملی سیرت میں آیا ہے کہ آپ (ع) مختلف مکاتب فکر اور ادیان و مذاہب کے دانشوروں کے ساتھ ہونے والے گرما گرم مناظرات کے دوران بھی جیسے ہی اذان سنائی دیتی مناظرے کو متوقف فرماتے تھے اور جب مناظرے کو جاری رکھنے سے متعلق لوگ اصرار کرتے تو فرماتے:

نماز پڑھ کر دوبارہ واپس آتا ہوں۔

رات کی تاریکی میں عبادات کی انجام دہی اور آپ (ع) کی شب بیداری سے متعلق متعدد روایات نقل ہوئی ہیں:

دعبل خزاعی کو اپنا کرتہ (قمیض) ہدیہ کے طور پر دیتے وقت اس سے مخاطب ہو کر فرمایا: اس کرتے کی حفاظت کرو ! میں نے اس کرتے میں ہزار راتوں میں ہزار رکعت نماز اور ہزار ختم قرآن انجام دیئے ہیں۔

آپ کے طولانی سجدوں کے بارے میں بھی روایات نقل ہوئی ہیں:

صدوق، عیون اخبار الرضا، ج 1 ص 172

صدوق، عيون أخبار الرضا، ج 2 ص 184

 طوسی، الامالی، ص 359

 صدوق، عيون أخبار الرضا، ج 2 ص 17

اخلاق میں آپ کی سیرت:

لوگوں کے ساتھ آپ (ع) کی حسن معاشرت کے متعدد نمونے تاریخ میں نقل ہوئے ہیں۔ حتی مامون کی ولیعہدی قبول کرنے کے بعد بھی غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ محبت آمیز رویہ اختیار کرنا اور ان کو دسترخوان پر ساتھ بٹھانا روایات میں ملتا ہے۔

صدوق، عيون أخبار الرضا، ج 2 ص 159

اس سلسلے کی چند ایک مثالیں ہیں جیسے:

ابن شہر آشوب نقل کرتے ہیں کہ ایک دن امام (ع) حمام تشریف لے گئے اور وہاں پر موجود افراد میں سے ایک جو امام کو نہیں پہچانتا تھا، امام سے مالش کرنے کی درخواست کی جسے آپ نے قبول فرمایا اور مالش کرنا شروع کیا جب لوگوں نے یہ دیکھا تو اس شخص کیلئے آپ کی معرفی کی، جب وہ شخص اپنے کیے پر شرمندہ ہوا اور مغذرت خواہی کی تو امام نے اسے خاموش کرایا اور مالش جاری رکھی۔

ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج 4 ص 463

تربیتی امور میں آپ کی سیرت:

آپ (ع) کی سیرت میں بچوں کی تربیت کے حوالے سے خاندان کے کلیدی کردار پر بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ اسی تناظر میں صالح اور نیک بیوی سے شادی کی ضرورت، حمل کے ایام میں خصوصی توجہ، اچھے ناموں کا انتخاب، اور بچوں کے احترام وغیرہ پر تاکید ہوئی ہے۔

کلینی، الکافی، ج 5 ص 327

کلینی، الکافی، ج 6 ص 23

کلینی، الکافی، ج 6 ص 19

نوری، مستدرک الوسائل، ج 15 ص 170

اسی طرح رشتہ داروں کے ساتھ رفت و آمد اور ان کے ساتھ انس پیدا کرنا بھی آپ کی سیرت میں نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے منقول ہے کہ جب بھی امام کو فراغت حاصل ہوتی تو آپ اپنے رشتہ داروں، چھوٹے بڑے سب کو جمع کرتے اور ان کے ساتھ گفتگو میں مشغول ہوتے تھے۔

شيخ صدوق، عيون أخبار الرضا، ج 2 ص 159

قال الرضا (ع):

لَا تَدَعُوا الْعَمَلَ الصَّالِحَ وَ الِاجْتِھادَ فِي الْعِبَادَۃ اتِّكَالًا عَلَى حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ (ع‏) لَا تَدَعُوا حُبَّ آلِ مُحَمَّدٍ (ع) وَ التَّسْلِيمَ لِأَمْرِھمْ اتِّكَالًا عَلَى الْعِبَادَۃ فَإِنَّہ لَا يُقْبَلُ أَحَدُھمَا دُونَ الْآخَر،

آل‌ محمد (ص) کی دوستی کے بہانے نیک کاموں کی انجام دہی اور خدا کی عبادت میں سعی و تلاش سے دریغ مت کرو، اسی طرح اپنی عبادت پر مغرور ہو کر آل ‌محمد (ص) کی دوستی اور ان کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے پرہیز مت کرو، کیونکہ ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی دوسرے کے بغیر قابل قبول نہیں ہے۔

بحار الأنوار، ج 75 ص 348

تعلیم و تعلم میں آپ کی سیرت:

مدینے میں قیام کے دوران امام رضا (ع) مسجد نبوی میں تشریف فرما ہوتے اور مختلف سوالات اور مسائل میں جواب دینے سے عاجز آنے والے حضرات آپ سے رجوع کرتے تھے۔

طبرسی، اعلام الوری، ج 2 ص 64

" مرو " پہنچنے کی بعد بھی مناظرات کی شکل میں بہت سارے شبہات اور سوالوں کے جواب مرحمت فرماتے تھے۔ اس کے علاوہ امام (ع) نے اپنی اقامت گاہ اور مرو کی مسجد میں ایک حوزہ علمیہ بھی قائم کیا ہوا تھا لیکن جب آپ کی علمی محفل رونق پیدا کرنے لگی تو مامون نے انقلاب کے خوف سے ان محفلوں پر پابندی لگا دی جس پر آپ نے مامون کو بد دعا دی تھی۔

صدوق، عیون اخبار الرضا، ج 2 ص 172

طب اسلامی اور حفظان صحت کے اصولوں پر خصوصی توجہ دینا امام رضا (ع) کی احادیث میں نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان احادیث میں اسی موضوع سے مربوط مفاہیم کی تبیین کے ساتھ ساتھ پرہیز، مناسب خوراک، حفظان صحت کی رعایت اور مختلف بیماریوں کے علاج کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے۔

رسالہ ذہبیہ نامی کتاب طب الرضا کے نام سے آپ کی طرف منسوب ہے جس میں اس حوالے سے مختلف تجاویز پائی جاتی ہیں۔

امامت کی بحث میں تقیہ نہ کرنا:

امام رضا (ع) کے دور امامت میں کسی حد تقیہ کی خاص ضرورت محسوس نہیں کی جاتی تھی کیونکہ واقفیہ کی پیدائش جیسے واقعے نے شیعوں کو ایک سنگین خطرے سے دوچار کیا تھا۔ اس کے علاوہ فطحیہ فرقے کے بچے کھچے افراد بھی امام رضا (ع) کے دور امامت میں فعال تھے۔

ان شرایط کو مد نظر رکھتے ہوئے امام (ع) نے کسی حد تک تقیہ کی حکمت عملی اپنانے سے پرہیز کرتے ہوئے امامت کے مختلف پہلوؤں کو صراحت کے ساتھ بیان فرماتے تھے۔ مثلا امام کی اطاعت کا واجب ہونا، اگرچہ امام صادق (ع) کے دور سے دینی اور کلامی محافل میں بیان ہوتے تھے لیکن اس مسئلے میں ائمہ معصومین تقیہ کرتے تھے لیکن امام رضا (ع) جیسا کہ احادیث میں آیا ہے "ظالم و جابر حکمرانوں سے کسی خوف کا احساس کیے بغیر" اپنے آپ کو واجب الطاعۃ امام بیان و ثابت کرتے تھے۔

کلینی، الکافی، ج 1 ص 187

جیسا کہ علی ابن ابی حمزہ بطائنی جو کہ فرقہ واقفیہ کی بنیاد رکھنے والا تھا،‌ نے جب امام سے سوال کیا: آیا کیا آپ واجب الاطاعت امام ہیں ؟ تو امام نے فرمایا: ہاں،

رجال کشی، ص 463

اسی طرح ایک اور شخص جس نے یہی سوال دہراتے ہوئے کہا: آیا علی ابن ابی طالب کی طرح واجب الاطاعت ہو ؟ نیز آپ نے یہی جواب دیا، ہاں میں اسی طرح واجب الاطاعت ہوں۔

کلینی، الکافی، ج 1 ص 187

لیکن ساتھ ساتھ امام (ع) اپنے چاہنے والوں سے فرماتے تھے کہ تقوا اختیار کرو اور ہماری احادیث کو ہر کس و ناکس کے سامنے بیان کرنے سے پرہیز کرو۔

کلینی، الکافی، ص 2 ص 224

اسی طرح جب مأمون نے امام (ع) سے اسلام ناب محمدی کے بتانے کا مطالبہ کیا تو آپ نے توحید اور پیغمبر اسلام کی نبوت کے بعد امام علی (ع) کی جانشینی پھر آپ کے بعد آپ کی نسل سے گیارہ اماموں کی امامت پر تصریح فرماتے ہوئے فرمایا کہ:

امام القائم بامر المسلمین،

یعنی امام مسلمانوں کے امور کا اہتمام کرنے والا ہے۔

صدوق، عيون أخبار الرضا، ج 2 ص 122

اہل سنت کے ہاں امام رضا (ع) کا مقام:

اہل‌سنت کے بعض بزرگوں نے امام رضا (ع) کے نسب اور علم و فضل کی تعریف اور زیارت کیلئے حرم امام رضا (ع) جایا کرتے تھے۔

عسقلانی، تہذیب التہذیب، ج 7 ص 389

یافعی، مرآۃ الجنان، ج 2 ص 10

ابن حبان کہتے تھے کہ وہ کئی دفعہ مشہد میں علی ابن موسی کی زیارت کیلئے گیا اور آپ سے توسل کے نتیجے میں ان کی مشکلات برطرف ہوئی تھیں۔

ابن حبان، الثقات، ج 8 ص 457

اسی طرح ابن حجر عسقلانی نے نقل کیا ہے کہ ابوبکر ابن خزیمہ جو اہل حدیث کا امام ہے اور ابو علی ثقفی، اہل سنت کے دیگر بزرگان کے ساتھ امام رضا (ع) کی زیارت کے لیے گئے۔ راوی جس نے خود اس حکایت کو ابن حجر کیلئے بیان کیا ہے، کہتا ہے کہ:

ابوبکر ابن خزیمہ نے اس قدر اس روضے کی تعظیم کی اور وہاں پر راز و نیاز اور فروتنی کا اظہار کیا کہ ہم سب حیران ہو گئے۔

عسقلانی، تہذیب التہذیب، ج 7 ص 388

ابن نجار، امام رضا (ع) کے علمی کمالات اور دینی بصیرت کے حوالے سے کہتا ہے:

آپ (ع) علم اور فہم دین میں ایک ایسے مقام پر فائز تھے کہ 20 سال کی عمر میں مسجد نبوی میں بیٹھ کر فتوا دیا کرتے تھے۔

ابن النجار، ذیل تاریخ بغداد، ج 4 ص 135

عسقلانی، تہذیب التہذیب، ج 7 ص 387

التماس دعا۔۔۔۔۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی