2017 September 24
8 شوال ، مظلومیت آئمہ اہل بیت معصومین (ع) کا دن
مندرجات: ٨٣٠ تاریخ اشاعت: ٠٢ July ٢٠١٧ - ١٣:٥٢ مشاہدات: 404
یاداشتیں » پبلک
8 شوال ، مظلومیت آئمہ اہل بیت معصومین (ع) کا دن

8 شوال ، مظلومیت آئمہ  اہل بیت معصومین (ع) کا دن

بقیع کے لفظی معنی درختوں کا باغ ہے اور تقدس کی خاطر اس کو جنت البقیع کہا جاتا ہے یہ مدینہ میں ایک قبرستان ہے جس کی ابتدا 3 شعبان 3 ہجری کو عثمان بن مزون کے دفن سے ہوئی، اس کے بعد یہاں آنحضرت (ص) کے فرزند حضرت ابراہیم کی تدفین ہوئی ۔ آنحضرت (ص) کے دوسرے رشتہ دار صفیہ ، عاتکہ اور فاطمہ بنت اسد (ع) ( والدہ امیر المومنین ع) بھی یہاں دفن ہیں۔ عثمان ابن عفان جنت البقیع سے ملحق باہر دفن ہوا تھا لیکن بعد میں معاویہ نے اس کی توسیع کرا کے اس کی قبر کو بھی بقیع کا حصہ بنا دیا۔ بقیع میں دفن ہونے والوں کو آنحضرت خصوصی دعا میں یاد کرتے تھے اس طرح بقیع کا قبرستان مسلمانوں کے لیے ایک تاریخی امتیاز و تقدس کا مقام شمار ہوتا تھا۔

ساتویں صدی ہجری میں عمر بن جبیر نے اپنے مدینہ کے سفر نامہ میں جنت البقیع میں مختلف قبور پر تعمیر شدہ قبوں اور گنبدوں کا ذکر کیا ہے، جس میں حضرت ابراہیم (ع) ( فرزند آنحضرت(ص)) عقیل ابن ابی طالب (ع)، عبد اﷲ بن جعفر طیار (ع)، امہات المؤمنین، عباس ابن عبد المطلب (ع) کی قبور شامل ہیں۔ قبرستان کے دوسرے حصے میں حضرت امام حسن (ع) کی قبر اور عباس ابن عبد المطلب کی قبر کے پیچھے ایک حجرہ ، موسوم بہ بیت الحزن ہے جہاں جناب سیدہ جا کر اپنے والد کو روتی تھیں۔

تقریباً ایک سو سال بعد ابن بطوطہ نے بھی اپنے سفر نامہ میں بقیع کا جو خاکہ بنایا ہے وہ اس سے کچھ مختلف نہیں تھا۔ سلطنت عثمانی نے بھی مکہ اور مدینہ کی رونق میں اضافہ کیا اور مقامات مقدسہ کے فن تعمیر اور زیبائش میں اضافہ کیا اور سن 1878 کے دوران دو انگریزی سیاحوں نے بیس بدل کر ان مقامات کا دورہ کیا اور مدینہ کو استنبول کے مشابہ ایک خوبصورت شہر قرار دیا۔ اس طرح گزشتہ 12 سو سال کے دوران جنت البقیع کا قبرستان ایک قابل احترام جگہ بنا رہا جو وقتاً فوقتاً تعمیر اور مرمت کے مرحلوں سے گزرتا رہا۔

جنت البقیع کے انہدام کے تاریخی عوامل:

وہابیت کی ابتدا  اور فروغ:

13 ویں صدی ہجری کے اوائل میں حجاز کے سیاسی حالات، نے پلٹا کھایا اور جنت البقیع بھی ان کی زد سے محفوظ نہ رہ سکی، اس کی بنیادی وجہ وہابیت ہے۔ وہابیت کا پس منظر کیا ہے؟ اس کی ابتدا نجد میں ہوئی، اس وقت جزیرہ نما عرب میں دو طاقتیں تھیں ایک نجد میں اور دوسری حجاز میں، شمال میں ترکی کی سطلنت عثمانیہ قائم تھی جس میں شام، عراق، اردن اور فلسطین بھی شامل تھے۔

1115 ہجری کو نخد میں محمد بن عبد الوہاب نامی شخص پیدا ہوا، وہ مدینہ منورہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بصرہ، بغداد، ہمدان اور قم گیا اور حصول علم کے ساتھ ساتھ درس و تدریس میں مصروف رہا، پہلے اس نے حنبلی نظریات کو قبول کیا پھر حنبلی بیعت سے آزاد ہو کر احادیث میں اس نے خود استنباط ( یعنی تفسیر بالرائے ) کا دعویٰ کر دیا۔ نتیجتاً اس کو مخالفانہ نظریات کے پرچار کی پاداش میں بستی سے نکال دیا گیا ۔ اس وقت نجد میں محمد بن سعود نامی شخص کے زیر اثر قبیلوں کا دار و مدار ہمسایہ بستیوں میں لوٹ مار کرنا اور اپنے علاقہ کی حدود بڑھانا تھا۔ محمد بن سعود نے محمد بن عبد الوہاب کو اپنے قبیلے میں پناہ دی اور دونوں کے درمیان وہابیت کے فروغ اور پرچار کرنے کا معاہدہ ہوا۔ محمد بن عبد الوہاب نے جاہل عربوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے وہابیت کے نام جو عقیدہ اپنایا اس کی رو سے اسلام میں قبر پرستی شرک ہے۔ قبور پر سائبان چھت ، قبہ، گنبد بنانا ناجائز ہی نہیں بلکہ کفر ہے اور زیارت قبور کے لیے جانا ناجائز ہے۔ معاہدہ کی رو سے محمد بن عبد الوہاب لوگوں کو وہابیت کی طرف مائل کرتا اور ان کو ابن سعود کی حمایت پر تیار کرتا اور یہ لوگ ابن سعود کی سرکردگی میں ہمسایہ علاقوں پر حملہ کرتے۔ اس طرح ابن سعود نے حجاز کے وسیع علاقہ پر قبضہ جما لیا اور محمد بن عبد الوہاب کو اپنا قاضی مقرر کیا۔ خود محمد بن سعود نے بھی وہابی نظریات کو قبول کر لیا اور اس طرح وہابیت کو حجاز میں سرکاری مذہب کا درجہ مل گیا۔ محمد بن سعود کے انتقال پر ان کے بھائی عبد العزیز بن سعود نے بھی وہ معاہدہ بر قرار رکھا اور اس طرح لشکر کشی جاری رہی۔

قرآن کے سورہ حج کی 32 ویں آیت میں شعائر ﷲ کی تعظیم سے متعلق صریح احکام موجود ہیں ۔ ان تمام دلائل کے باوجود بفرض محال عقیدہ وہابیت کو قابل قبول سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ گزشتہ 14 صدیوں میں سارے عالم اسلام میں جہاں جہاں قبور کی زیارت، احترام، تعمیر مرمت اور دیکھ بھال کی گئی وہ تمام اعمال شرک، کفر اور بدعت کے زمرے میں شمار ہوں گے۔ یعنی یہ کریڈٹ محمد بن عبد الوہاب کو جائیگا کہ 14 سو سال میں پہلی دفعہ اس نے اس بدعت کی نشاندہی کی ، ایک اور قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ محمد بن عبد الوہاب نے ان نظریات کو اپنے والد کے نام کی نسبت سے وہابیت کا نام دیا جبکہ ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ البتہ خود ان کے اپنے نام یعنی محمد کی نسبت سے یہ عقیدہ محمدیہ کہلاتا تھا۔ ظاہر ہے کہ ایسا کرنے سے ان کا مقصد ہی فوت ہو جاتا۔

ایک اور اہم نکتہ قابل ِغور ہے کہ 19 ویں اور 20 ویں صدی میں اسلامی دنیا میں ایک ہلچل مچی رہی یہ ایک اتفاق ہے کہ عین اسی زمانے میں جب حجاز میں وہابیت جڑ پکڑ رہی تھی دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی احیائے اسلام کے نام پر اور تحریکیں بھی کار فرما تھیں، بطور مثال سوڈان میں مہدویت، لبیا میں سنوسی، نائیجریا میں فلافی، انڈونیشیا میں پادری اور ہندوستان میں احمدیہ یا قادیانیت قابل ذکر ہیں۔ بظاہر احیائے اسلام کے نام پر یہ تحریکیں اسلام سے مرکز گریزی میں زیادہ مصروف تھیں۔ بجائے اس کے کہ ہم اس مسئلہ کو اسلام کے خلاف یہودیوں کی سازش کہہ کر ختم کر دیں ضروری ہے کہ اس معاملہ میں تحقیق کریں اور ان تحریکوں کے منبع اور مقاصد تک پہنچیں۔

اکسفورڈ انسائیکلو پیڈیا آف ماڈرن اسلامک ورلڈ ص: 13

مسلم ممالک میں فکری انتشار اور بد نظمیوں کے حوالے سے حکومت برطانیہ کے ایک جاسوس ہمفری کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ وہابیت کے پھیلاؤ اور تبلیغ کے سلسلہ میں اس کی کاروائیاں سر فہرست ہیں جو ' 'ہمفری کے اعترافات ' ' کی صورت میں قلمبند ہیں۔ ان اعترافات میں شیخ محمد بن عبد الوہاب کے ہمفری سے روابط کا تفصیلی ذکر ہے کہ کس طرح اس نے شیخ محمد کو اسلامی عقائد سے منحرف کیا۔ ساتھ ساتھ وہ برطانوی وزارتِ نو آبادیات کو عراق کے واقعات سے بھی آگاہ کرتا رہا اور وہاں کے لیے ایک 6 نکاتی لائحہ عمل مرتب کیا۔ ان دستاویزات کی استناد سے قطع نظر یہ بات قابل غور ہے کہ اغیار کس طرح ہماری اندرونی خلفشار سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ جنگ عظیم دوم کے دوران یہ دستاویزات جرمنوں کے ہاتھ لگیں تو انہوں نے برطانیہ کے خلاف پروپگنڈے کے لیے جرمنی رسالہ اسپیگل میں شائع کیا بعد میں ایک فرانسیسی رسالے ان کو شایع کر دیا۔ ایک لبنانی دانشور نے ان یاد داشتوں کے عربی ترجمہ کو رفاہ عام کی غرض سے چھاپ دیا۔

عرب عجم کشمکش اور تحریکِ خلافت:

حجاز میں وہابیت کی تحریک کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی افرا تفری میں مغربی طاقتوں نے ایک نیا فتنہ کھڑا کر دیا۔ عربوں اور عجمیوں کے اختلافات سے فائدہ اٹھا کر برطانیہ اور فرانس نے سن 1916 اور 1918 کے درمیان کرنل لارنس ( جو عام طور پر لارنس آف عریبیا کہلاتا ہے) کی قیادت میں شام اور عراق کے عربوں کو ترکی کی سلطنت عثمانیہ کے خلاف صف آراء کر دیا مگر جنگ کے اختتام پر کہ جو عرب انقلاب سے موسوم ہوئی، برطانیہ اور فرانس نے عربوں کو دھوکہ دیکر شام، عراق، فلسطین اور اردن کو باہم تقسیم کر لیا، عراق، فلسطین اور اردن برطانیہ کے تسلط یا نگرانی میں دیدیئے گئے اور شام پر فرانس کو غلبہ مل گیا۔ یمن اور نجد نیم آزاد حکومتیں بن گئیں۔ حجاز میں جس کا نجد کے ساتھ دیرینہ جھگڑا چل رہا تھا شریف حسین ایک چھوٹی سی مملکت کا حکمران تھا۔ جب عبد العزیز ابن سعود کو اطمینان ہو گیا کہ برطانیہ کی طرف سے کوئی مزاحمت نہ ہو گی تو نجدیوں نے حجاز پر حملہ کر دیا اور سارے جزیرۃ العرب کو اپنے خاندانی حوالے سے سعودی عرب کا نام دیدیا، جو اب تک رائج ہے۔ وہابیت کے فروغ میں نجدیوں کی یہ کامیابی ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی کیونکہ ان کی عالم اسلام کے مرکز مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ تک رسائی آسان ہو گئی تھی۔

اب ترکی میں ایک نئی سیاسی صورت حال پیدا ہوئی ۔ سن 1934 میں ترکی رہنما مصطفی کمال اتاتر ک نے عربوں کے معاندانہ رویوں سے تنگ آ کر اور اپنی سلطنتی مصالح کے تحت سلطان محمد کی معزولی کے ساتھ عہدہ خلافت کو بھی ختم کر دیا۔ گو کہ ترک حکمرانوں کے لیے ایک رسمی عہدہ تھا لیکن یہ عالم اسلام کے اتحاد اور آفاقیت کی علامت تھا اور قرن اول کی خلافتوں سے اپنی تسلسل باقی رکھا تھا۔ مسلمانان ہند کے لیے جن کو ترکی میں خلافت سے ایک ذہنی ہم آہنگی تھی ترک حکومت کا یہ فیصلہ ناگوار گزرا اور ترکی میں خلافت کے احیا کے لیے تحریک خلافت کا آغاز کیا۔ لیکن جب اس مہم میں ناکام رہے تو خلافت کمیٹی نے اپنی توجہ حجاز پر مرکوز کر دی جہاں اب عبد العزیز ابن سعود کی حکومت تھی۔

اکتوبر 1924 کو مولانا محمد علی جوہر کی سربراہی میں تحریک خلافت کمیٹی کی جانب سے سلطان عبد العزیز ابن سعود کو ایک تار (پیغام) بھیجا گیا جس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ چونکہ حجاز دنیائے اسلام کا مرجع ہے وہاں کوئی انفرادی شاہی قائم نہیں ہو سکتی بلکہ ایسی جمہوریت قائم ہو جو غیر مسلم اغیار کے اثر سے پاک ہو۔ اس کے جواب میں سلطان ابن سعود نے لکھا کہ حجاز کی حکومت حجازیوں کا حق ہے لیکن عالم اسلام کے جو حقوق حجاز سے متعلق ہیں ان کے لحاظ سے حجاز عالم اسلامی کا ہے اور اس ضمن میں یقین دلایا کہ آخری فیصلہ دنیائے اسلام کے ہاتھ میں ہو گا۔ یہ تو تاریخ ہی ثابت کریگی کہ اس وعدہ میں کتنی صداقت تھی۔

انہدام جنت البقیع:

عالمِ اسلام میں افراتفری کے متذکرہ تاریخی عوامل نے عبد العزیز ابن سعود کو حجاز پر پیش قدمی کا موقع فراہم کر دیا اور تمام یقین دہانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے جنوری 1936 میں سلطان ابن سعود نے حجاز پر اپنی حاکمیت کا اعلان کر دیا۔ وہابیت جو اب ریاستی مذہب بن گئی تھی بزور شمشیر اہل حجاز پر تھوپی جا رہی تھی سعودی حملہ آور جب مدینہ طیبہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے جنت البقیع اور ہر وہ مسجد جو ان کے راستے میں آئی منہدم کر دی اور سوائے روضہ نبوی کے کسی قبر پر قبہ باقی نہ رہا۔ آثار ڈھائے گئے اکثر قبروں کی تعویز اور سب کی لوحیں (تختیاں) توڑ دی گئیں ۔ انہدام جنت البقیع کی خبر سے عالم اسلام میں رنج و غم کی ایک لہر پھیل گئی ساری دنیا کے مسلمانوں نے احتجاجی جلسے کیے اور قرار دادیں پاس کیں جس میں سعودی جرائم کی تفصیل دی گئی۔ آنے والے سالوں میں عراق، شام اور مصر سے حج اور دیگر امور کے لیے آنے والوں پر پابندی لگا دی گئی کہ وہ وہابیت قبول کریں گے ورنہ ان کو نکال دیا جائیگا۔ ہزاروں مسلماں وہابیوں کے مظالم سے تنگ آ کر مکہ اور مدینہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ مسلمانوں کے مسلسل احتجاج پر سعودی حکمرانوں نے مزارات کی مرمت کی یقین دہانی کی، یہ وعدہ آج تک پورا نہ ہو سکا۔ اس ضمن میں تحریک خلافت کمیٹی کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی۔ مسلکی اختلافات کی وجہ سے خلافت کمیٹی کوئی مضبوط موقف نہیں اختیار کر سکی اور یوں یہ کمیٹی پاش پاش ہو گئی اور یہ معاملہ ختم ہو گیا۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جنت البقیع کے مزارات کی تعمیر کی تحریک کو جس میں ابتداً شیعہ سنی سب برابر کے شریک تھے وقت گزرنے کے ساتھ گزشتہ 7 دہائیوں یعنی 70 سال میں میں ہمارے سنی بھائیوں نے بھلا دیا اور بالآخر یہ صرف اہل تشیع کی ذمہ داری بن کر رہ گیا ہے، اور یوں گزشتہ 70 سال سے ہر سال 8 شوال کو ہم یوم انہدام جنت البقیع منا کر اہلیبت (ع) سے مؤدت کا فریضہ اور اجر رسالت کو عملی طور پر ادا کرتے ہیں۔

ہماری ذمہ داریاں :

جنت البقیع اور عالم اسلام کے حوالے سے ہمیں ایک منظم مہم چلانی ہو گی۔ دنیائے عرب میں مراکش سے عراق تک اور عجم میں ترکی سے انڈونیشیا تک کونسی مملکت ہے جہاں بزرگان دین، سیاستدان اور عامۃ المسلمین کے مزارات مرجع خلائق نہیں ہیں۔ بقیع کوئی عام قبرستان نہیں ہے بلکہ یہاں بلا اختلاف فرقہ ہر مسلمان کے لیے قابل احترام شخصیتیں دفن ہیں۔

انہدام جنت البقیع کے واقعہ کے باوجود، حضرت سرور کائنات کے روضہ کا وجود خود ایک معجزہ ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ جنت البقیع کا انہدام کوئی فقہی مسئلہ نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی حکمت عملی تھی جس کی بنیاد خانوادہ اہلیبت (ع) سے دیرینہ بغض و عداوت تھی۔

دنیا میں تمام متمدن اقوام اپنے آباء و اجداد کے آثار کی حفاظت کے انتظامات کرتے ہیں۔ مصر میں اسوان ڈیم بنایا گیا تو اس سے متاثر ہونے والے آثار قدیمہ کے کھنڈرات کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے یونیسکو نے کثیر رقم خر چ کی۔ افغانستان کے شہر بامیان میں گوتم بدھ کے مجسموں کی توڑ پھوڑ پر ساری دنیا بشمول توحید پرستوں نے اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا ۔ لیکن ہمارے آزاد میڈیا کے لیے انہدام جنت البقیع کوئی قابل توجہ مسئلہ نہیں ہے۔ آثار قدیمہ کی حفاظت حقوق انسانی کے زمرے میں آتی ہے ہمیں سر نامہ کلام کی آیت: ' ' اُدع الیٰ سبیل ربک ' ' کے رہنما اصول پر عمل کرتے ہوئے جذبات سے بالاتر ہو کر جنت البقیع کی بحالی کے لیے قابلِ عمل پالیسی اختیار کرنا ہو گی جس کے چند بنیادی خطوط یہ ہیں۔

1- بین الاقوامی تنظیم مثلاً یونیسکو ، عرب لیگ، موتمر عالم اسلامی ، تنظیم اسلامی کانفرنس (OIC ) اور عالمی انسانی حقوق کمیشن کو متوجہ کیا جائے۔

2- اخبارات میں آئے دن اسلام کے حوالے سے جدیدیت گشادہ دلی اور صبر و تحمل کی پالسی اپنانے کی تلقین کی جاتی ہے اس پر عمل بھی کیا جائے۔

3- ماضی کے سیاسی سماجی اور جنگی جرائم پر مواخذہ اعتراف اور معافی اب ایک بین الاقوامی ' ' طریقہ تلافی ' ' کے طور پر قابل قبول اصول بن گیا ہے اس اصول کا اطلاق انہدام جنت البقیع کے مرتکبین پر بھی کیا جائے۔

4- ان تمام امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے تمام عقیدہ کے سنجیدہ اور انصاف پسند مسلمان بھائیوں کے تعاون سے سعودی حکمرانوں سے درخواست کیجائے کہ وہ ان مزارات کو خود بنا دیں یا پھر عالم اسلام کو اس کی اجازت دیدیں۔

انہدام جنت البقیع میں آل سعود کا کردار و اہداف:

جنت البقیع مدینہ منورہ میں واقع ہے ،وہ قبرستان ہے کہ جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اجداد ، اہل بیت علیہم السلام ، امہات المومنین، جلیل القدر اصحاب، تابعین اور دوسرے اہم افراد کی قبریں ہیں کہ جنہیں آٹھ شوال 1344 ہجری قمری کو آل سعود نے منہدم کر دیا اور افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ اسلامی تعلیمات کے نام پر کیا گیا، یہ عالم اسلام خصوصاً شیعہ و سنی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء، دانشور اور اہل قلم کی ذمہ داری ہے کہ ان قبور کی تعمیر نو کے لیے ایک بین الاقوامی تحریک کی داغ بیل ڈالیں تا کہ یہ روحانی اور معنوی اور آثار قدیمہ سے تعلق رکھنے والے اس عظیم نوعیت کے قبرستان کی کہ جس کی فضیلت میں روایات موجود ہیں ، حفاظت اور تعمیر نو کے ساتھ یہاں مدفون شخصیات اور مقدس ہستیوں کی خدمات کا ادنیٰ سا حق ادا کیا جا سکے۔ 8 شوال تاریخ جہان اسلام کا وہ غم انگیز دن ہے جب 1344 ہجری قمری کو وہابی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے جنت البقیع کے تاریخی قبرستان کو منہدم و مسمار کر دیا تھا۔ یہ دن تاریخ اسلام میں یوم الہدم کے نام سے معروف ہے، وہ دن کہ جب بقیع نامی تاریخی اور اسلامی شخصیات کے مدفن اور مزاروں کو مسمار کر اسے خاک کے ساتھ یکساں کر دیا گیا تھا۔

قبرستان جنت البقیع میں مدفون شخصیات:

مؤرخین کے مطابق بقیع وہ زمین ہے کہ جس میں رسول اکرم (ص) کے بعد ان کے بہترین صحابہ کرام دفن ہوئے اور جیسا کہ نقل کیا گیا ہے کہ یہاں دس ہزار سے زیادہ اصحاب رسول مدفون ہیں کہ جن میں سے ان کے اہل بیت (ع)، امہات المؤمنین، آنحضرت کے فرزند ابراہیم، چچا عباس، پھوپھی صفیہ بنت عبد المطلب، آنحضرت کے نواسے امام حسن علیہ السلام، اکابرین امت اور تابعین شامل ہیں، یوں تاریخ کے ساتھ ساتھ بقیع کا شمار شہر مدینہ کے ان مزاروں میں ہونے لگا کہ جہاں حجاج کرام بیت اللہ حرام اور رسول اللہ کے روضہ مبارکہ کی زیارت اور وہاں نماز ادا کرنے والے زائرین اپنی زیارت کے فوراً بعد حاضری دینے کی تڑپ رکھتے تھے۔

نقل کیا گیا ہے کہ آنحضرت (ص) نے وہاں کی زیارت اور وہاں مدفون افراد پر سلام کیا اور استغفار کی دعا کی۔ تین ناموں کی شہرت رکھنے والے اس قبرستان، بقیع، بقیع الغرقد یا جنت البقیع کی تاریخ، قبل از اسلام سے مربوط ہے لیکن تاریخی کتابیں اس قبرستان کی تاریخ پر روشنی ڈالنے سے قاصر ہیں لیکن اس کے باوجود جو چیز مسلم حیثیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ بقیع ، ہجرت کے بعد شہر مدینہ کے مسلمانوں کے لیے دفن ہونے کا واحد قبرستان تھا، شہر مدینہ کے لوگ وہاں مسلمانوں کی آمد سے قبل اپنے مردوں کو دو قبرستانوں بنی حرام اور بنی سالم میں دفن کیا کرتے تھے۔

جنت البقیع 495 ہجری قمری یعنی پانچویں صدی ہجری کے آواخر سے صاحب گنبد و بارگاہ تھا۔ حجاز میں شریف مکہ کی شکست کے بعد محمد بن عبد الوہاب کے پیروکاروں نے مقدس ہستیوں کی قبریں مسمار کر دیں تو عالم اسلام میں بے چینی پھیل گئی، جب وہابیوں کا مکہ اور مدینہ پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے دین کی تجارت شروع کی اور مسلم دنیا کے بڑے بڑے علماء جو حج کے لیے آتے، ان کے توحید خالص کی دکان سے استفادہ کرتے اور ان کی فقہ کا سودا مفت اپنے وطن لے جاتے ، وہابیت اور آل سعود کے پروگراموں میں سے ایک پروگرام یہ بھی ہے کہ تمام دنیا اور اسلامی ممالک کے خائن اور ایجینٹ مؤلفین کے قلم کو ریالوں اور ڈالروں کے بدلے خرید لیا جائے، اسی طرح انہوں نے حج کے موقع کا خاص فائدہ اٹھایا جب کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے ساتھ عظیم مسلم علماء جو بھی فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ میں جمع ہوتے ہیں ، اس موقع پر یہ لوگ ان علماء سے روابط پیدا کر کے ان کو ہر ممکن طریقے سے اپنا ہمنوا بناتے ہیں اور ان کے ذریعے سے اپنا نصاب ساری دنیا میں مشہور کرتے ہیں۔ جب ایک مفتی اپنا عقیدہ تبدیل کرتا ہے تو اس کے ذیل کے علماء بھی اس کی تقلید کرتے ہیں ، اسطرح مکر و حیلے و ریالوں سے یہ مسلک ساری اسلامی دنیا میں عام ہو گیا ہے۔

ایک مفتی کا عقیدہ تبدیل کر کے اس کے زیر اثر سارے علاقے کے لوگوں کے عقیدے تبدیل کرنا آسان ہو جاتا  ہے اور آل سعود نے یہی ٹکنیک اپنا رکھی ہے، آل سعود اسلامی امت کے الہی مقدسات کی توہین ، ان کے عقائد کی تصنیف ، نیز مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی غرض سے اس باطل فرقہ کو اسلامی ممالک میں پھیلانے کی مذموم کوشش کر رہی ہے اور اس باطل فرقہ کا مقصد مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کر اسلامی عقائد کو نابود کرنا اور استعماری طاقتوں کے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے۔

سعودی عرب پر آل سعود کی حکومت وہابیت کی سرپرستی اور طاغوت کی نوکری کی بدولت قائم ہے۔ جبکہ تکفیریت ، دہشتگردی اور ریال، وہابیت کا لازمہ ہیں، یعنی اگر تکفیریت ، دہشت گردی اور ریالوں کو نکال دیا جائے تو وہابیت کی حقیقت اور شناخت ہی ختم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی حکومت نے اپنے آپ کو قائم رکھنے کے لئے وہابیت یعنی تکفیریت اور دہشت گردی کو تحفظ فراہم کرتی ہے ۔ پس جب تک آل سعود تکفیریت اور دہشت گری کی سرپرستی نہ کرے اس کی حکومت کو خطرہ ہے ۔ اس لیے آل سعود اپنی حکومت کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی جنایت کے مرتکب ہونے کے لیے ہر وقت اور ہر جگہ تیار رہتے ہیں ۔ اس طرح طاغوت کی نوکری کا تقاضا ہے کہ وہ دینی ملی اور قومی غیرت کو الوداع کہہ کر دشمنی اور وطن ستیزی کو قبول کیے رہیں ۔ آل سعود کی تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوئی کہ ہمیشہ آل سعود نے تکفیریت اور دہشت گردی کو جنم دے کر فروغ پایا وہاں ۔ وقت کے طاغوت کی نوکری کا بھی حق ادا کیا اور دین مقدس اسلام کی پشت میں منافقت اور تفرقے کا چھرا گھونپا ہے ۔ اس کی علت وہ دو معاہدے ہیں جو آل سعود نے اپنی حکومت کی بقاء کی خاطر کیے ہیں ۔ ایک وہابیت کے بانی محمد بن عبد الوہاب کے ساتھ، دوسرا بوڑھے استعمار برطانیہ کے ساتھ۔، اس معاہدے کی تفصیل یہ ہے:

معاہدہ آل سعود اور محمد بن عبد الوہاب کے درمیان:

محمد بن عبد الوہاب نے 1160 ہجری میں آل سعود سے تعلق رکھنے والے درعیہ شہر کے حاکم ابن سعود کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس میں طے پایا کہ نجد اور اس کے تمام دیہاتی علاقے آل سعود کے زیر تسلط رہیں گے اور محمد بن عبد الوہاب نے حکومتی ٹیکسیز سے زیادہ جمع ہونے والے جنگی غنائم، ابن سعود کو دینے کا وعدہ کیا ۔ جس کے مقابلے میں ابن سعود ، ابن عبد الوہاب کو اپنے نظریات منتشر کرنے کی مکمل آزادی دیگا ۔ ابن سعود نے جنگ فی سبیل اللہ کے نام پر محمد بن عبد الوہاب کی بیعت کی اور کہا کہ توحید کی مخالفت کرنے والے افراد کے خلاف جنگ اور وہ کام جس کا تو نے حکم دے رکھا ہے، اس پر رضا مندی کی بشارت دیتا ہوں لیکن دو شرائط کی بنیاد پر:

اگر ہم تمہاری حمایت و مدد کریں اور خداوند ہمیں کامیابی عطا کرے تو میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں تم ہمیں ترک نہ کر دو اور ہماری جگہ کسی اور کے ساتھ معاہدہ نہ کر لو، ؟! محمدبن عبد الوہاب نے ایسا نہ کرنے کا وعدہ کیا ۔

اگر ہم درعیہ شہر کے لوگوں پر ٹیکس لاگو کریں تو مجھے خوف ہے کہیں تم انہیں منع نہ کر دو ؟! محمد بن عبد الوہاب نے کہا کہ ایسا بھی نہیں کرونگا۔

محمد بن عبد الوہاب کی شخصیت:

محمد بن عبد الوہاب 1111 یا 1115 ہجری میں پیدا ہوا اور 1207 میں فوت ہوا ، نوّے سال سے زیاد زندہ رہا، عینیہ کے علاقے نجد میں جوان ہوا اور حنبلی علماء سے تعلیم حاصل کی پھر مدینہ چلا گیا۔ احمد امین کہتا ہے کہ وہ چار سال بصرہ میں مقیم رہا ، اس طرح پانچ سال بغداد، ایک سال کردستان، دو سال ہمدان، اور اس کے بعد اصفہان میں رہا اور اپنی ایجاد کردہ بدعتیں لوگوں تک پہنچاتا رہا ، اس کے بھائی شیخ سلیمان نے اس کی ایجاد کردہ بدعتوں  اور باطل اعتقادات کی رد میں کتاب تالیف کی جس کا نام الصواعق الالھیہ فی الرد علی الوہابیہ، رکھا۔ محمد بن عبد الوہاب پیغمبری کا دعویٰ کرنے والے افراد جیسے مسیلمہ کذاب، طلیحہ اسدی وغیرہ کی تعلیمات کے مطالعہ کا شوق رکھتا تھا ۔ چنانچہ اس کے ہم عصر مرزا ابو طالب اصفہانی نے اظہار کیا ہے کہ محمد بن عبد الوہاب نبوت اور اپنے اوپر وحی کے نزول کا مدعی ہے ۔

بعض محقیقین کا کہنا ہے کہ:

اگر محمد بن عبد الوہاب ، ابن تیمیہ کے افکار کو ترویج نہ دیتا تو ابن تیمیہ اور اس کے شاگرد ابن قیم کی موت کے بعد یہ افکار ختم ہو جاتے اور زمین پر وہابیت کا وجود نہ ہوتا ۔ ابن سعود نے ابن عبد الوہاب کی بیٹی سے اپنے بیٹے عبد العزیز کے ساتھ شادی کی، ان کے درمیان روابط زیادہ گہرے ہو گئے اور وہی معاہدہ ابھی تک دونوں خاندانوں کے درمیان جاری و ساری ہے۔ جب محمد بن عبد الوہاب نے اس معاہدے کی بدولت اپنے آپ کو قدرت مند محسوس کیا تو اپنے انصار و پیروکاروں کو اکٹھا کیا اور انہیں جہاد کا شوق دلایا اور ہمسایہ مسلمان شہروں کو خط لکھا کہ اس کے نظریات کو تسلیم کریں اور اس کی فرمانبرداری کو قبول کریں۔

وہ چوپاؤں، نقدی اور اجناس کا دسواں حصہ وصول کرتا تھا اور مخالفت کرنے والوں پر حملہ کر دیتا تھا۔ بہت سے لوگوں کو قتل اور اموال کو غارت اور عورتوں اور بچوں کو اسیر بنا لیتا تھا۔ اس کا نعرہ یہ تھا کہ وہابیت کو قبول کرو ورنہ مارے جاؤ گے، تمہاری عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہو جائیں گے۔

آل سعود کا برطانیہ کے ساتھ معاہدہ:

 آل سعود کی حکومت کی بقاء کے لیے بوڑھے استعمار کے ساتھ ایک شرمناک معاہدہ طے پایا ۔ 1328 ہجری میں عبد العزیز ابن سعود نے کویت میں انگریزوں کے نمائندے ویلیم سے ملاقات کی ، تیسری ملاقات کے بعد عبد العزیز ابن سعود نے امت مسلمہ کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہوئے برطانیہ کو تجویز پیش کی کہ نجد اور اصاء دولت عثمانیہ سے چھیننے کا بہترین موقع یہی ہے ۔ اس طرح ایک ذلیلانہ معاہدہ طے پایا کہ انگلستان اصاء اور نجد میں حاکم ریاض کے موقف کی حمایت کرے گا اور اسی طرح دولت عثمانیہ کی طرف سے بحری اور بری ممکنہ حملوں کی صورت میں اس کی دوسری حامی حکومتوں کے ساتھ ملکر عبد العزیز کی مدد کریگا اور منطقہ میں آل سعود کی حکومت کے بقاء اور دوام کے لیے کوشاں رہے گا۔ عبد العزیز نے بھی نوکر ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے وعدہ کیا کہ برطانیہ حکومت کے ذمہ داروں کے ساتھ مشورت کیے بغیر کسی بھی حکومت سے رابطہ نہیں کرے گا ، ابن سعود اس بات کا پابند ہے کہ کسی بھی ریاست اور حکومت کے ساتھ معاہدہ ، رابطہ اور تعلق برقرار نہیں کرے گا ۔ ابن سعود ، امیر نجد حق نہیں رکھتا کہ حکومت برطانیہ کی اجازت کے بغیر سرزمین نجد کے کسی حصے کے بارے میں دوسروں کے ساتھ معاہدہ کرے ، اسے اجارہ یا رھن و گروی کے طور پر رکھے، کسی اور استعمال کے لیے دے ، کسی اور حکومت کو یا اس کے کسی ماتحت فرد کو ہدیہ کے طور پر عطا کرے ۔

ابن سعود اپنے باپ کی طرح اس بات کا پابند ہو گا کہ سرزمین کویت، بحرین ، قطر، عمان اور ان کے ساحلی علاقوں کے شیوخ کی زمینوں میں اسی طرح برطانیہ کے حمایت یافتہ اور اس کے ساتھ ہم پیمان شیوخ کی زمینوں میں ہر قسم کی مداخلت اور تجاوز سے اجتناب کرے گا۔

عبد اللہ بن العزیز کا کردار:

وہابیت کو خوش کرنے لیے ابن عبد العزیز نے مکہ ، جدّہ اور مدینہ سے اسلامی آثار کو ختم کرنے کی ٹھان لی۔ مکہ میں موجود حضرت عبد المطلب علیہ السلام ، ابو طالب علیہ السلام ، ام المؤمنین خدیجہ علیہا السلام کے علاوہ  مقام ولادت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت زہراء علیہا السلام کے روضہ مبارکہ کو مسمار کر دیا ، بلکہ تمام زیارت گاہوں، مقدس مقامات اور گنبدوں کو گرا دیا ، جب مدینہ کا محاصرہ کیا تو مسجد حضرت حمزہ علیہ السلام اور مدینہ سے باہر ان کی زیارتگاہوں کو گرا دیا۔

علی وردی کہتا ہے کہ بقیع مدینہ میں پیغمبر اکرم (ص) کے زمانے اور اس کے بعد قبرستان تھا کہ جہاں حضرت عباس ، عثمان، امہات المومنین، بہت سے صحابہ اور تابعین کے علاوہ آئمہ اہل بیت علیھم السلام میں چار امام ( امام حسنؑ، امام زین العابدینؑ، امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ ) مدفون تھے کہ شیعوں نے ان چار آئمہ کی قبور پر ایران ، عراق میں موجود باقی معروف آئمہ کی طرح خوبصورت ضریح تعمیر کر رکھی تھی، جنہیں وہابیوں نے مسمار کر دیا ۔ لیکن صاحبان عقل و خرد کیلئے لمحئہ فکریہ یہ ہے کہ اسی سعودی عرب میں یہودی باقیات قلعہ خیبر آج بھی مغربی اور یہودی سیاحوں کی توجہ کا مرکز، بڑی شان و شوکت سے موجود ہے جو آل سعود اور وہابیت کی آل یھود کے ساتھ دوستی اور عقیدت کا منہ بولتا ثبوت ہے ، آج بھی امریکہ اور اس کے ناجائز بیٹے (اسرائیل) کی خوشنودی کی خاطر آل سعود خادمین حرمین شریفین  کی ڈھال کو استعمال کرتے ہوئے شام، عراق، بحرین اور یمن کے مظلوم مسلمانوں کو بے دریغ قتل کر رہا ہے اور خصوصاً اہل یمن کے غیور مسلمان ان کی سفاکی کا نشانہ بن رہے ہیں اور مشرق وسطی میں طاغوت کے مفادات کے تحٖفظ کے لیے فرزندان توحید کے خون کا پیاسا ہو چکا ہے۔ اب علماء کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آل سعود کے قبیح چہرے پر موجود منافقت کے نقاب کو نوچ کر دنیا کے سامنے اس کی حقیقت کو عیاں کریں۔

یہ عالم اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ کا مختصر سا ورق ہے کہ جو تاریخی دستاویزات و اسناد کی روشنی میں آل سعود اور فرقہ وہابیت کے سیاہ کارناموں کی ایک زندہ اور حقیقی مثال ہے اور دور حاضر کا مسمار قبرستان بقیع آج کے مسلمانوں سے اس بات کا سوال کر رہا ہے کہ وہ اس تاریخی بے حرمتی پر خاموش کیوں ہیں !!!

اظہار افسوس:

افسوس کہ گذشتہ صدی میں 1344 ہجری قمری 8 شوال المکرم کو آل سعود نے بنی امیہ و بنی عباس کے قدم سے قدم ملاتے ہوئے خاندان نبوت و عصمت کے لعل و گوہر کی قبروں کو ویران کر کے، اپنے اس عناد و کینے کا ثبوت دیا جو صدیوں سے ان کے سینوں میں پنہان تھا۔

آج آل محمد (ص) کی قبریں بے سقف و دیوار ہیں جبکہ ان کے صدقے میں ملنے والی نعمتوں سے یہ یہودی نما سعودی اپنے محلوں میں مزے اڑا رہے ہیں۔ اس چوری کے بعد سینہ زوری کا یہ عالم ہے کہ چند ضمیر و قلم فروش مفتی اپنے بے بنیاد فتووں کی اساس ان جعلی روایات کو قرار دیتے ہیں جو بنی امیہ کے دور حکومت شام  میں بنی، بکی اور خریدی گئی، حسبنا کتاب اللہ، کی دعویدار قوم آج قرآن کے صریحی احکام کو چھوڑ کر اپنی کالے کرتوتوں کا جواز نقلی حدیثوں کی آغوش میں تلاش کر رہی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ان مقدس ہستیوں کے مزاروں کو مسمار کر دینے کے بعد اب اس مملکت سے چھپنے والی کتابوں میں ، بقیع میں دفن ان بزرگان اسلام کے نام کا بھی ذکر نہیں ہوتا ، مبادا کوئی یہ نہ پوچھ لے کہ پھر ان کے روضے کہاں گئے!!!

نتیجہ:

آج آل سعود کی کج فکری کے نتیجے میں یہ عظیم بارگاہ اور بلند و بالا گمبد منہدم کر دیا گیا  اور ہمارے آئمہ کی قبریں زیر آسمان ہیں اور ان پر کوئی سایہ بھی نہیں رہا !!!

یوم انہدام جنت البقیع:

شوال 1345 ہجری بمطابق 1926 عیسوی تاریخ اسلام کا سیاہ ترین دن ہے، جب حجاز مقدس کے غاصب حکمران عبد العزیز بن سعود نے جنت البقیع (مدینہ منورہ) اور جنت المعلی (مکہ معظمہ) میں اجداد رسول، اولاد رسول ، خانوادہ رسول ، امہاة المومنین ، اصحاب کرام اور بزرگان دین کے مزارات کو منہدم کرا دیا، جنت البقیع اور جنت المعلی صرف قبرستان نہیں بلکہ محسن اسلام کی عظیم یادگاروں کا مجموعہ تھے۔

سعودی حکومت کے بانی ابن سعود کی اس اسلام سوز حرکت جس پر مسلمانان عالم آج تک خون کے آنسو رو رہے ہیں اور ہر سال 8 شوال کو یوم انہدام جنت البقیع منا کر اس المناک سانحہ کے خلاف احتجاج کیا جاتا ہے یہ اسی احتجاجات کا نتیجہ ہے کہ جس کے باعث روضہ رسول نجدیوں کی چیرہ دستیوں سے محفوظ چلا آ رہا ہے ورنہ اسے بھی سعودی حکومت بیدردی اور سفاکی کے ساتھ بلڈوزر کے ذریعے منہدم کرا کے زمین بوس کر دیتی۔ نفس کے غلام استعمار کے ایجنٹ اور سرزمین سعودیہ کو سرزمین اسلام کی بجائے اپنی ذاتی ملکیت سمجھنے والے غاصب سعودی حکمران محسنین اسلام کی نشانیوں کو ویران و تاراج کر کے اپنے محلات میں سونے چاندی کے ظروف و فانوس سے تزئین و آرائش کیے ہوئے ہیں۔

سر بفلک عیش کدوں میں ضمر و دولت کی فراوانی ان سعودی شہزادوں کے لیے ہے، ہم حیران ہیں کہ اسلامی حکومتیں اس نجدی حکومت سے خائف کیوں ہیں ؟ احتجاج کیوں نہیں کرتیں؟ در اصل اس روح فرسا واقعہ میں ایک گھناؤنی سازش ہے۔ اس بہانے سے نہ صرف اسلاف کی حرمت پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے بلکہ ان مدفون عظیم المرتبت شخصیتوں سے ناطہ توڑنے اور منہ موڑنے کی عملاً منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ آج تجرباتی طور پر ابتداء میں جنت البقیع کو تختہ مشق بنایا گیا ہے ۔ پھر مکہ معظمہ کی عظیم قبلہ گاہ اور نجف و کربلا کے مقدس مقامات جو مسلمانوں کی توجہ کا مرکز ہیں ، ظلم کی آندھیوں میں اڑا دینے کی جسارت کی جا سکتی ہے۔

آمریت کے ان شہنشاہوں اور انسانیت کے ان مسخروں سے ہم یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر تمہیں عیاشی سے فرصت ملے تو ہماری اس بات کا جواب دو کہ:

یہ لاکھوں حجاج کرام جو ہر سال سعودی عرب میں جب آتے ہیں تو ان میں سے کتنے ہیں جو تمہاری آمریت سے مرعوب ہو کر تمہاری قبروں پر فاتحہ پڑھتے ہیں؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے۔ تو اب ذرا جنت البقیع میں جا کے دیکھ لو کہ جہاں باوجود تمہارے پہرے داروں کے اتنی رکاوٹوں کے، محمد عربی کے پروانے اور آل محمد ؑ کے یہ دیوانے ، کس طرح بیتاب نظر آتے ہیں اور کس وجدانی کیفیت میں ان قبروں پہ اپنے آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ۔ گویا تم نے اپنی حیثیت بھی دیکھ لی اور جن کے نشان کو تم نے مٹانا چاہا ، ان کی شان بھی دیکھ لی۔ اب بتاؤ ! یہ حکومت ان کی ہے یا تمہاری ہے ؟ یہ سلطنت ان کی ہے یا تمہاری ہے ؟ یہ جاہ و جلال ان کا ہے یا تمہارا ہے ؟ دلوں پر اب بھی حکمرانی تمہاری ہے یا آل رسول (ع) کی ہے ؟

سال میں کئی مرتبہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے تو ہماری حکومت کے بہت سے مرکزی و صوبائی وڈیروں ، ایم این اے و ایم پی اے کے لاؤ لشکر جو عوام کے خرچے پر سعودی عرب کے محلات کا طواف کرتے ہیں مگر کبھی بھی انہیں توفیق نہیں ہوئی کہ امت مسلمہ کا یہ احتجاج سعودی ایوانوں تک پہنچائیں۔

آج اس درد ناک اور ظلم بھرے سانحے کو 80 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، ہر سال دنیا بھر کے خوش عقیدہ و باضمیر مسلمان ہر سال اپنی اسلام دوستی کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی حکمرانوں کی توجہ مسمار و برباد کردہ مزارات مقدسہ کی تعمیر نو کی جانب مبذول کراتے ہیں، لیکن بے دین سعودی حکمرانوں نے کبھی بھی اس اجتماعی روحانی کرب کو محسوس نہیں کیا۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے مسلمان اس عظیم سانحہ کو فراموش کرتے جا رہے ہیں بڑی افسوس ناک صورتحال ہے کہ افغانستان میں چند بتوں کے انہدام پر مسلم ممالک نے بھی شدید احتجاج کیا، لیکن خانوادہ رسول اور اصحاب رسول کے مزارات کے انہدام پر کوئی لب کشائی پر تیار نہیں، 8 شوال کو ملت شیعہ کا ہر فرد سوگوار ہوتا ہے یہ دن ہمیں ہر سال سعودی حکمرانوں کے ظلم کی یاد دلاتا ہے ۔ لیکن اس دن کو اس طرح نہیں منایا جاتا جیسے اس کے منانے کا حق ہے۔ عام مسلمانوں سے ہٹ کر خود ملت جعفریہ بھی اس عظیم سانحہ کو فراموش کرتی جا رہی ہے چند افراد کے احتجاج سے ملت اپنی اجتماعی ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ 8 شوال کو ملت قومی دن قرار دے اور باضمیر برادران اہلسنت کے ساتھ مل کر اس عظیم سانحہ پر ایسا بھرپور احتجاج کرے کہ نجدی حکمران جنت البقیع اور جنت المعلی کے مزارات دوبارہ تعمیر کرنے پر مجبور ہو جائیں ۔ آج مسلمانوں کی بے عملی کا ہی نتیجہ ہے کہ حکمران انہیں جب چاہتے ہیں اسلام کا مقدس نام لے کر اسلام اور اسلامی شعائر کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرتے۔

جنت البقیع اور اس میں د فن اسلامی شخصیات

قافلہ بشریت نے ہر زمانے میں اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ مظلوم کے سر کو تن سے جدا کر دینے کے بعد بھی ارباب ظلم کو چین نہیں ملتا بلکہ انکا سارا ہم و غم یہ ہوتا ہے کہ دنیا سے مظلوم اور مظلومیت کا تذکرہ بھی ختم ہو جائے ، اس سعی میں کبھی ورثاء کو ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی مظلومیت کا چرچہ کرنے والوں کی مشکیں کسی جاتی ہیں، مگر اپنے ناپاک ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آخری چارہ کار کے طور پر مظلوم کی نشانی یعنی تعویذ قبر کو بھی مٹا دیا جاتا ہے ، تا کہ نہ علامت باقی رہیگی اور نہ ہی زمانہ ، ظلم و ستم کو یاد کرے گا ۔ یہ سلسلہ روز ازل سے جاری و ساری ہے ، مگر جس جوش و خروش سے اس ظالمانہ روش کو اختیار کیا گیا اسی شدت سے مظلومیت میں نکھار پیدا ہوتا گیا اور پھر سلسلہ مظالم کی یہ آخری کڑی ہی ظالم کے تابوت کی آخری کیل ثابت ہوئی جس کے بعد ظلم و ظالم دونوں ہی فنا ہو گئے ، اس کی جیتی جاگتی مثال کربلا ہے جہاں متعدد دفعہ سلاطین جور نے سید الشھداء حضرت امام حسین (ع) کے مزار کو مسمار کرنا چاہا مگر آج بھی اس عظیم بارگاہ کی رفعت باقی ہے جبکہ اس سیاہ کاری کے ذمہ داروں کا نام تک صفحہ ہستی سے پوری طرح مٹ چکا ہے ۔

هُوَ الَّذي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى وَدينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ،

سوره توبہ آيت 33

چنانچہ سعودی عرب کے وزارت اسلامی: امور اوقاف و دعوت و ارشاد کی جانب سے حجاج کرام کے لیے چھپنے اور ان کے درمیان مفت تقسیم ہونے والے کتابچہ 'رہنمائے حج و عمرہ و زیارات مسجد نبوی ' (مصنف : متعدد علماء کرام ، اردو ترجمہ شیخ محمد لقمان سلفی 1419 ہجری )کی عبارت ملاحظہ ہو :

 اہل بقیع : حضرت عثمان ، شہدائے احد اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہم کی قبروں کی زیارت بھی مسنون ہے... مدینہ منورہ میں کوئی دوسری جگہ یا مسجد نہیں ہے کہ جس کی زیارت مشروع ہو اس لیے اپنے آپ کو تکلیف میں نہ ڈالو اور نہ ہی کوئی ایسا کام کرو جس کا کوئی اجر نہ ملے بلکہ الٹا گناہ کا خطرہ ہے۔

رہنمائے حج و عمرہ و زیارات مسجد نبوی، ص 27

جہالت و کنیے بھری عبارت نے ملاحظہ کی ہے، یہ بنی کی نسل مسلمانوں کی راہنمائی جنت کی طرف کر رہے ہیں یا جہنم کی طرف !!!

یعنی اس کتاب کے لکھنے والے وہابی علماء کی نگاہ میں بقیع میں جناب عثمان، شہداء احد اور حضرت حمزہ کی قبروں کے علاوہ کوئی اور زیارت گاہ نہیں ہے، جبکہ تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنے والا ایک معمولی سا طالب علم بھی یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ اس قبرستان میں آسمان علم و عرفان کے ایسے آفتاب و ماہتاب دفن ہیں، جنکی ضیاء سے آج تک کائنات منور و ضوفشاں ہے، لیکن جو اس دنیا میں باطنی اور دل کے اندھے ہوں تو اس میں انبیاء اور قرآن کا کیا قصور ہے ؟؟؟

وَمَن كَانَ فِي هَٰذِهِ أَعْمَىٰ فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَىٰ وَأَضَلُّ سَبِيلًا،

سورہ بنی اسرائیل آیت 72

اب ایسے وقت میں جبکہ وہابی میڈیا یہ کوشش کر رہی ہے کہ جنت البقیع میں مدفون، بزرگانِ اسلام کے نام کو بھی مٹا دیا جائے ، ضروری ہے کہ تمام مسلمانوں کی خدمت میں مظلوموں کا تذکرہ کیا جائے تا کہ دشمن اپنی سازش میں کامیاب نہ ہونے پائے نیز یہ بھی واضح ہو جائے کہ اسلام کی وہ کون سی مایۂ ناز و افتخار آفرین ہستیاں ہیں جن کے مزاروں کو وہابیوں کی کم عقلی و کج روی نے ویران کر دیا ہے۔

لیکن اس سے پہلے ایک بات قابل ذکر ہے کہ یہ قبرستان پہلے ایک باغ تھا ۔ عربی زبان میں اس جگہ کا نام ' البقیع الغرقد ' ہے، بقیع یعنی مختلف درختوں کا باغ اور غرقد ایک مخصوص قسم کے درخت کا نام ہے چونکہ اس باغ میں ایسے درخت زیادہ تھے اس وجہ سے اسے بقیع غرقد کہتے تھے، اس باغ میں چاروں طرف لوگوں کے گھر تھے جن میں سے ایک گھر جناب ابو طالب کے فرزند جناب عقیل کا بھی تھا جسے 'دار عقیل ' کہتے تھے بعد میں جب لوگوں نے اپنے مرحومین کو اس باغ میں اپنے گھروں کے اندر دفن کرنا شروع کیا تو 'دار عقیل ' پیغمبر اسلام (ص) کے خاندان کا قبرستان بنا اور 'مقبرہ بنی ہاشم ' کہلایا۔ رفتہ رفتہ پورے باغ سے درخت کٹتے گئے اور قبرستان بنتا گیا ۔

مقبرہ ٔبنی ہاشم ، جو ایک ذاتی ملکیت ہے ، اسی میں آئمہ اطہار کے مزار تھے، جن کو وہابیوں نے منہدم کر دیا تھا۔

معالم مکہ والمدینہ ص 441

افسوس تو اس وقت ہوتا ہے جب اس تاریخی حقیقت کے مقابلے میں انہدام بقیع کے بعد سعودی عرب سے چھپنے والے رسالہ ام القری، (شمارہ جمادی الثانیہ 1345 ھ ) میں اس ظالم فرقے کے مفتی و قاضی ابن بلیہد کا یہ بیان نظروں سے گزرتا ہے کہ:

بقیع موقوفہ ہے اور قبروں پر بنی ہوئی عمارتیں قبرستان کی زمین سے استفادہ کرنے سے روکتی ہیں ۔

نہ جانے کس شریعت نے صاحبان ملکیت کی زمین میں بیجا دخالت اور اسے موقوفہ قرار دینے کا حق اس زر خرید دین فروش مفتی کو دیا ہے ؟

اس مقدس قبرستان میں دفن ہونے والے عمائد اسلام کے تذکرے سے قبل یہ بتا دینا ضروری ہے کہ بقیع کا احترام ، فریقین کے نزدیک ثابت ہے اور تمام کلمہ گویان اس کا احترام کرتے ہیں اس سلسلے میں فقط ایک روایت کافی ہے:

وروى الطبرانی فی الکبیر ومحمد بن سنجر فی مسنده وابن شبّة فی أخبار المدینة روی ابن النجار عن أبی عاصم قال: حدثتنی أم قیس بنت محصن قالت: أخذ رسول اللّه صلی اللّه علیه و سلم بیدی فی سکة المدینة حتی انتهی إلی بقیع الغرقد، فقال: «یا أم قیس» قلت: لبیک و سعدیک یا رسول اللّه. قال: «ترین هذه المقبرة؟» قلت: نعم، قال: «یبعث منها یوم القیامة سبعون ألفا علی صورة القمر لیلة البدر یدخلون الجنة بغیر حساب،

ام قیس بنت محصن کا بیان ہے کہ ایک دفعہ میں پیغمبر (ص) کے ہمراہ بقیع پہنچی تو آپ (ص) نے فرمایا : اس قبرستان سے ستر ہزار افراد محشور ہوں گے جو حساب و کتاب کے بغیر جنت میں جائیں گے ، نیز ان کے چہرے چودہویں کے چاند کی مانند دمک رہے ہوں گے۔

صحیح بخاری ج 4 ح 4 

سنن نسائی ج 4 ح 91

سنن ابن ماجہ ج 1 ص 493

هیثمی فی مجمع الزوائد 4/ 13، و عزاه للطبرانی فی الکبیر. و قال: فیه من لم أعرفه.

و قال صلی اللّه علیه و سلم: «إن مقبرة البقیع تضی‌ء لأهل السماء کما تضی‌ء الشمس و القمر لأهل الدنیا».

رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے کہ: قبرستان بقیع اہل آسمان کے لیے ایسے چمکتا ہے کہ جیسے چاند اور سورج اہل دنیا کے لیے چمکتے ہیں۔

و عنه صلی اللّه علیه و سلم أنه قال: «من دفناه فی مقبرتنا هذه شفعنا له،

رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے کہ: جو بھی ہمارے اس ( بقیع) مقبرے میں دفن ہو گا، ہم اسکی شفاعت کریں گے۔

ابن النجار فی الدرة الثمینة 2/ 402.

و عن عائشة رضی اللّه عنها قالت: کان رسول اللّه صلی اللّه علیه و سلم کلما کانت لیلتی منه یخرج من آخر اللیل إلی البقیع فیقول: «السلام علیکم دار قوم مؤمنین، و أتاکم ما توعدون، و إنا إن شاء اللّه بکم لاحقون»

رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے کہ: رسول خدا (ص) رات کے آخری حصے میں بقیع کی طرف آئے اور اہل بقیع کو مخاطب ہو کر کہا: سلام ہو آپ پر اے مؤمنین کی جماعت، جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا، تم کو عطا کیا گیا ہے، ہم بھی اگر خداوند نے چاہا تو تمہارے پاس ضرور آئیں گے۔  

 صحیح مسلم ج 2 ص 669،

أحمد فی مسنده ج 6 ص 180،

ابن ماجه( حدیث نمبر 1546)، النسائی( حدیث نمبر 2038)،

ابن حبان( حدیث نمبر 3172)، عبد الرزاق مصنفه( حدیث نمبر 6722)،

البیهقی فی السنن ج 4ص 79

ایسے با فضیلت قبرستان میں عالم اسلام کی ایسی عظیم الشان شخصیتیں آرام کر رہی ہیں جن کی عظمت و منزلت کو تمام مسلمان ،متفقہ طور پر قبول کرتے ہیں ۔

آیئے دیکھیں کہ وہ شخصیتیں کون کون سی ہیں :

( 1 ) امام حسن (ع) :

آپ پیغمبر اکرم (ص) کے نواسے اور حضرت علی و فاطمہ علیہما السلام کے بڑے صاحب زادے ہیں ۔ منصب امامت کے اعتبار سے دوسرے امام اور عصمت کے لحاظ سے چوتھے معصوم ہیں، آپ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسین (ع) نے آپ کو پیغمبر اسلام (ص) کے پہلو میں دفن کرنا چاہا مگر جب عائشہ کے حکم پر  ایک سرکش گروہ نے راستہ روکا اور تیر برسائے تو امام حسین نے آپ کو بقیع میں دادی کی قبر کے پاس دفن کیا ۔

اس سلسلہ میں ابن عبد البر سے روایت ہے کہ: جب یہ خبر ابو ہریرہ کو ملی تو کہا :

و اللہ ما ھو الا ظلم ، یمنع الحسن ان یدفن مع ابیہ؟ واللہ انہ لابن رسول اللہ (ص)،

خدا کی قسم یہ سرا سر ظلم ہے کہ حسن کو باپ کے پہلو میں دفن ہونے سے روکا گیا جب کہ خدا کی قسم وہ رسالت مآب صلعم کے فرزند تھے۔

وفاء الوفاء ج 4 ص 909

آپ کے مزار کے سلسلہ میں ساتویں ہجری قمری کا سیاح ابن بطوطہ اپنے سفر نامے میں لکھتا ہے کہ:

بقیع میں رسول اسلام (ص) کے چچا عباس ابن عبد المطلب اور ابو طالب کے پوتے حسن بن علی کی قبریں ہیں جن کے اوپر سونے کا قبہ ہے جو بقیع کے باہر ہی سے دکھائی دیتا ہے۔ دونوں کی قبریں زمین سے بلند ہیں اور نقش و نگار سے مزین ہیں۔

رحلة ابن بطوطہ ج 1 ص 441

ایک اور سنی سیاح رفعت پاشا نے بھی نقل کیا ہے کہ:

عباس اور حسن کی قبریں ایک ہی قبہ میں ہیں اور یہ بقیع کا سب سے بلند قبہ ہے۔

مرآة الحرمین ج1 ص 426

بتنونی نے لکھا ہے کہ : امام حسن (ع) کی ضریح چاندی کی ہے اور اس پر فارسی میں نقوش ہیں۔

گنجینہ ہای ویران ص 127

مگر آج آل سعود کی کج فکری کے نتیجے میں یہ عظیم بارگاہ اور بلند و بالا قبہ منہدم کر دیا گیا ہے اور اس امام ہمام کی قبر مطہر زیر آسمان ہے۔

(2) امام سجاد (ع) :

آپ کا نام علی ہے اور امام حسین کے بیٹے نیز عالم تشیع کے چوتھے امام ہیں ۔ آپ کی ولادت 38 ھ میں ہوئی آپ کے زمانے کا مشہور سنی محدث و فقیہ محمد بن مسلم زہری آپ کے بارے میں کہتا ہے کہ:

ما رایت قرشیا اورع منہ و لا افضل ما رایت افقہ منہ علی ابن الحسین اعظم الناس علیّ منة،

میں نے قریش میں سے کسی کو آپ سے بڑھکر پرہیزگار اور بلند مرتبہ نہیں دیکھا۔ دنیا میں سب سے زیادہ میری گردن پر جس کا حق ہے وہ علی بن حسین کی ذات ہے۔

البدایة والنھایة ج 9 ص122

آپ کی شہادت 94 ھ میں 25 محرم الحرام کو ہوئی اور بقیع میں چچا امام حسن (ع) کے پہلو میں دفن کیا گیا ۔

رفعت پاشا نے اپنے سفر نامے میں ذکر کیا ہے کہ امام حسن کے پہلو میں ایک اور قبر ہے جو امام سجاد کی ہے جس کے اوپر قبہ ہے۔ مگر افسوس 1344ھ میں تعصب کی آندھی نے غرباء کے اس آشیانے کو بھی نہ چھوڑا اور آج اس عظیم امام اور اسوہ اخلاق کی قبر ویران ہے ۔

( 3 ) حضرت امام محمد باقر (ع) :

آپ رسالت مآب (ص) کے پانچویں جانشین و وصی اور امام سجاد (ع) کے بیٹے ہیں نیز امام حسن (ع) کے نواسے اور امام حسین (ع) کے پوتے ہیں ۔ 56 ھ میں ولادت اور 114 ہجری میں شہادت ہوئی ۔ واقعہ کربلا میں آپ کا سن مبارک چار سال تھا۔

ابن حجر یثمی الصواعق المحرقہ کے مصنف کا بیا ن ہے کہ:

امام محمد باقر سے علم و معار ف ، حقائق احکام ، حکمت اور لطائف کے ایسے چشمے پھوٹے جن کا انکار بے بصیرت یا بد سیرت و بے بہرہ انسان ہی کر سکتا ہے ۔ اسی وجہ سے یہ کہا گیا ہے کہ آپ علم کو شگافتہ کر کے اسے جمع کرنے والے ہیں، یہی نہیں بلکہ آپ ہی پرچم علم کے آشکار و بلند کرنے والے ہیں۔

الصواعق المحرقة ص 118

اسی طرح عبد اللہ ابن عطاء کا بیان ہے کہ میں نے علم و فقہ کے مشہور عالم حکم بن عتبہ (سنی عالم دین ) کو امام محمد باقر کے سامنے اس طرح زانوئے ادب تہ کر کے آپ سے علمی استفادہ کرتے ہوئے دیکھا جیسے کوئی بچہ کسی بہت عظیم استاد کے سامنے بیٹھا ہو۔

تذکرة الخواص ص 337

آپ کی عظمت کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت رسول اکرم (ص) نے جناب جابر بن عبد اللہ انصاری جیسے جلیل القدر صحابی سے فرمایا تھا کہ:

فان ادرکتہ یا جابر فاقرأہ منی السلام،

اے جابر اگر باقر سے ملاقات ہو تو میری طرف سے سلام کہنا۔

تذکرة الخواص ص 303

اسی وجہ سے جناب جابر آپ کی دست بوسی میں افتخار محسوس کرتے تھے اور اکثر و بیشتر مسجد النبوی میں بیٹھ کر رسالت پناہ کی طرف سے سلام پہنچانے کی فرمایش کا تذکرہ کرتے تھے۔

تذکرة الخواص ص 303

عالم اسلام بتائے کہ ایسی عظیم شخصیت کی قبر کو ویران کر کے آل سعود نے کیا کسی ایک فرقہ کی دل شکنی کی ہے یا تمام مسلمانوں کو تکلیف پہنچائی ہے ؟

(4) امام جعفر صادق (ع) :

آپ امام محمد باقر (ع) کے فرزند ارجمند اور شیعوں کے چھٹے امام ہیں۔ 83 ھ میں ولادت اور 148 ہجری میں شہادت ہوئی۔ آپ کے بارے میں حنفی فرقہ کے پیشوا ابو حنیفہ کا بیان ہے کہ:

میں نے نہیں دیکھا کہ کسی کے پاس امام جعفر صادق سے زیادہ علم ہو۔

تذکرة الحفاظ ج 1ص 166

اسی طرح مالکی فرقہ کے امام مالک کہتے ہیں کہ :

کسی کو علم و عبادت و تقوی میں امام جعفر صادق سے بڑھ کر نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا ہے اور نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے ذہن میں یہ بات آ سکتی ہے۔

الامام الصادق والمذاھب الاربعہ ج 1 ص 53

نیز آٹھویں قرن میں لکھی جانے والی کتاب ' الصواعق المحرقۃ ' کے مصنف نے لکھا ہے کہ : (امام ) صادق سے اس قدر علوم صادر ہوئے کہ لوگوں کے زبان زد ہو گیا تھا، یہی نہیں بلکہ بقیہ فرقوں کے پیشوا جیسے یحیی بن سعید ، مالک، سفیان ثوری ، ابو حنیفہ ...وغیرہ آپ سے نقل روایت کرتے تھے۔

الصواعق المحرقہ ص 118

مشہور مؤرخ ابن خلکان رقمطراز ہیں کہ:

و کان تلمیذہ ابو موسیٰ جابر بن حیان۔

مشور زمانہ شخصیت اور علم الجبرا کے موجد جابر بن حیان آپ کے شاگرد تھے۔

وفیات الاعیان ج 1 ص 327

مسلمانوں کی اس عظیم ہستی کے مزار پر ایک عظیم الشان روضہ و قبہ تھا مگر افسوس ایک عقل و خرد سے عاری گروہ کی سر کشی کے نتیجے میں اس وارث پیغمبر کی لحد آج ویران ہے ۔

(5) جناب فاطمہ بنت اسد (س) :

آپ حضرت علی علیہ السلام  کی والدہ ہیں اور آپ ہی نے رسول خدا (ص) کی والدہ کے انتقال کے بعد آنحضرت کی پرورش فرمائی تھی رسول خدا (ص) کو آپ سے بے حد انسیت و محبت تھی اور اپ بھی اپنی اولاد سے زیادہ رسالت مآب کا خیال رکھتی تھیں ۔ ہجرت کے وقت حضرت علی علیہ السلام  کے ہمراہ مکہ تشریف لائیں اور آخر عمر تک وہیں رہیں۔ آپ کے انتقال پر رسالت مآب (ص) کو بہت زیادہ صدمہ ہوا تھا اور آپ نے کفن کے لیے اپنا کرتا عنایت فرمایا تھا نیز دفن سے قبل چند لمحوں کے لیے قبر میں لیٹے تھے اور قرآن کی تلاوت فرمائی تھی ، نماز میت پڑھنے کے بعد آپ نے فرمایا تھا : کسی بھی انسان کو فشار قبر سے نجات نہیں ہے سوائے فاطمہ بنت اسد کے ، نیز آپ نے قبر دیکھ کر فرمایا تھا ' جزاک اللہ من ام و ربیبة خیرا ، فنعم الام و نعم الربیبة کنت لی۔

خداوند آپکو جزائے خیر دے، آپ میرے لیے اور اپنی اولاد کے لیے اچھی ماں اور اچھی تربیت کرنے والی تھیں۔

معالم مکہ والمدینہ ص 428

آپ کا رسول مقبول (ص) نے اتنا احترام فرمایا مگر آنحضرت (ص) کی امت نے آپ کی توہین میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی ، یہاں تک کہ آپ کی قبر بھی ویران کر دی ۔ جس قبر میں رسول (ص) نے لیٹ کر آپ کو فشار قبر سے بچایا تھا اور قرآن کی تلاوت فرمائی تھی ، اس پر بلڈوزر چلایا گیا اور تعویذ قبر کو بھی مٹا دیا گیا ۔

( 6 ) جناب عباس ابن عبد المطلب (ع) :

آپ رسول اسلام (ص) کے چچا اور مکہ کے شرفا و بزرگان میں سے تھے ، آپ کا شمار حضرت پیغمبر (ص) کے مدافعان و حامیان ، نیز آپ (ص) کے بعد حضرت امیر المؤمنین علی (ع) کے وفاداروں اور جاں نثاروں میں ہوتا ہے ۔ عام الفیل سے تین سال قبل ولادت ہوئی اور 33 ھ میں انتقال ہوا آپ عالم اسلام کی متفق فیہ شخصیت ہیں ۔ ماضی کے سیاحوں نے آپ کے روضہ اور قبہ کا تذکرہ کیا ہے۔

رحلة ابن بطوطہ ج 1 ص 143

مرآة الحرمین ج 1 ص 426

المرحلة الحجازیہ و وفاء الوفاء ج 3 ص 123

مگر افسوس کہ آپ کے قبہ کو منہدم کر دیا گیا اور قبر ویران ہو گئی۔

( 7 ) جناب عقیل بن ابی طالب (ع) :

آپ حضرت علی (ع) کے بڑے بھائی تھے اور نبی کریم (ص) آپ کو بہت چاہتے تھے۔ عرب کے مشہور علم انساب جاننے والے تھے اور آپ ہی نے حضرت امیر کا عقد جناب ام البنین سے کرایا تھا ۔ انتقال کے بعد آپ کو آپ کے گھر (دار عقیل ) میں دفن کیا گیا، انہدام سے قبل آپ کی قبر بھی سطح زمین سے بلند تھی مگر انہدام نے اب آپ کی قبر کا نشان مٹا دیا گیا ہے۔

معالم مکہ والمدینہ ص 441

 (8) جناب عبد اللہ ابن جعفر (ع) :

آپ جناب جعفر طیار ذو الجناحین کے بڑے صاحبزادے اور امام علی کے داماد (جناب زینب سلام اللہ علیھا کے شوہر ) تھے آپ نے دو بیٹوں محمد اور عون کو کربلا اس لیے بھیجا تھا تا کہ امام حسین پر اپنی جان نثار کر سکیں آپ کا انتقال 80 ھ میں ہوا اور بقیع میں چچا عقیل کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

ابن بطوطہ کے سفر نامہ میں آپ کی قبر کا ذکر ہے۔

رحلة ابن بطوطہ ج 1 ص 144

سنی عالم سمہودی نے لکھا ہے کہ : چونکہ آپ بہت سخی تھے اس وجہ سے خداوند کریم نے آ پ کی قبر کو لوگوں کی دعائیں قبول ہونے کی جگہ قرار دیا ہے۔

معالم مکہ والمدینہ ص 441

مگر صد حیف ! آج جناب زینب (س) کے شوہر نامدار کی نشان قبر بھی باقی نہیں ہے ۔

(9) جناب ام البنین (س) :

آپ حضرت علی (ع) کی زوجہ اور حضرت ابو الفضل عباس (ع) کی والدہ ہیں ، صاحب ' معالم مکہ و المدینہ ' کے مطابق آپ کا نام فاطمہ تھا، مگر صرف اس وجہ سے آپ نے اپنا نام بدل دیا کہ مبادا حضرات حسن و حسین کو شہزادی کونین (س) نہ یاد آ جائیں اور تکلیف پہنچے۔

معالم مکہ والمدینہ ص 440

آپ ان دو شہزادوں سے بے پناہ محبت کرتی تھیں ۔ واقعہ کربلا میں آپ کے چار بیٹوں نے امام حسین پر اپنی جان نثار کی ہے ۔ انتقال کے بعد آپکو بقیع میں رسالت مآب کی پھوپھیوں کے ساتھ دفن کیا گیا ، یہ قبر موجودہ قبرستان کی بائیں جانب والی دیوار سے متصل ہے اور زائریں یہاں کثیر تعداد میں آتے ہیں ۔

( 10 ) صفیہ بنت عبد المطلب :

رسول اسلام (ص) کی پھوپھی اور عوام بن خولد کی زوجہ تھیں ، آپ ایک با شہامت اور شجاع خاتون تھیں ایک جنگ میں جب بنی قریظہ کا ایک یہودی ، مسلمان خواتین کے تجسس میں، خیموں میں گھس آیا تو آپ نے حسان بن ثابت سے اس کو قتل کرنے کے لیے کہا، مگر جب انکی ہمت نہ پڑی تو آپ خود بہ نفس نفیس اٹھیں اور حملہ کر کے اسے قتل کر دیا ۔ آپ کا انتقال 20 ھ میں ہوا آپ کو بقیع میں مغیرہ بن شعبہ کے گھر کے پاس دفن کیا گیا۔ پہلے یہ جگہ بقیع العمات کے نام سے مشہور تھی۔ مؤرخین اور سیاحو ں کے نقل سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے تعویذ قبر واضح تھی، مگر اب فقط نشان قبر باقی بچا ہے ۔

رحلة ابن بطوطہ ج 1 ص 144

(11) جناب حلیمہ سعدیہ :

آپ رسول اسلام (ص) کی رضاعی ماں تھیں آپ کا تعلق قبیلہ سعد بن بکر سے تھا انتقال مدینہ میں ہوا اور بقیع کے شمال مشرقی سرے پر دفن ہوئیں ۔ آپ کی قبر پر ایک عالی شان قبہ تھا رسالت مآب (ص) اکثر و بیشتر یہاں آ کر آپ کی زیارت فرماتے تھے۔

معالم مکہ والمدینہ ص 443

مگر افسوس ! سازش و تعصب کے مرموز ہاتھوں نے سید المرسلین (ص) کی اس محبوب زیارت گاہ کو بھی نہ چھوڑا اور قبہ زمین بوس کر کے قبر کا نشان مٹا دیا گیا۔

(12) جناب ابراہیم ابن رسول اللہ (ص):

آپ کی ولادت ساتویں ہجری قمری میں مدینہ منورہ میں ہوئی مگر سولہ سترہ ماہ بعد ہی آپ کا انتقال ہو گیا اس موقع پر رسول خدا (ص) نے فرمایا تھا:

ادفنوہ فی البقیع فان لہ مرضعا فی الجنة تتم رضاعہ۔

اس کو بقیع میں دفن کرو بے شک اس کی دودھ پلانے والی جنت میں موجود ہے جو اس کی رضاعت کی مدت کو مکمل کرے گی۔

معالم مکہ والمدینہ ص 443

آپ کے دفن ہونے کے بعد بقیع کے تمام درختوں کو کاٹ دیا گیا اور اس کے بعد ہر قبیلے نے اپنی جگہ مخصوص کر دی جس سے یہ باغ قبرستان بن گیا ۔

ابن بطوطہ کے مطابق جناب ابراہیم کی قبر پر سفید گنبد تھا۔

رحلة ابن بطوطہ ج 1 ص 144

اسی طرح رفعت پاشا نے بھی قبر پر قبہ کا تذکرہ کیا ہے۔

مرآة الحرمین ج 1 ص 426

مگر افسوس آل سعود کے مظالم کا نتیجہ یہ ہے کہ آج فقط قبر کا نشان باقی رہ گیا ہے ۔

(13) جناب عثمان بن مظعون:

آپ رسالت مآب (ص) کے باوفا و با عظمت صحابی تھے۔ آپ نے اس وقت اسلام قبول کیا تھا جب فقط 13 آدمی مسلمان تھے۔ اس طرح آپ کائنات کے چودہویں مسلمان تھے۔ آپ نے پہلی ہجرت میں اپنے صاحبزادے کے ساتھ شرکت فرمائی پھر اس کے بعد مدینہ منورہ بھی ہجرت کر کے آئے ۔ جنگ بدر میں بھی شریک تھے ، عبادت میں بھی بے نظیر تھے آپ کا انتقال 2 ھ ق میں ہوا اس طرح آپ پہلے مہاجر ہیں جسکا انتقال مدینہ میں ہوا ۔

عائشہ سے منقول روایت کے مطابق حضرت رسول اسلام (ص) نے آپ کے انتقال کے بعد آپ کی میت کا بوسہ لیا ،نیز آپ (ص) شدت سے گریہ فرما رہے تھے۔

معالم مکہ والمدینہ ص 422

آنحضرت (ص) نے جناب عثمان کی قبر پر ایک پتھر نصب کیا تھا تا کہ علامت رہے مگر مروان بن حکم نے اپنی مدینہ کی حکومت کے زمانے میں اس کو اکھاڑ کر پھینک دیا تھا جس پر بنی امیہ نے اس کی بڑی مذمت کی تھی۔

معالم مکہ والمدینہ ص 443

( 14 ) جناب اسماعیل بن صادق :

آپ امام صادق (ع) کے بڑے صاحبزادے تھے اور آنحضرت کی زندگی ہی میں آپ کا انتقال ہو گیا تھا ۔ سمہودی نے لکھا ہے کہ آپ کی قبر زمین سے کافی بلند تھی۔

معالم مکہ والمدینہ ص 445

اسی طرح مطری نے ذکر کیا ہے کہ جناب اسمعٰیل کی قبر اور اس کے شمال کا حصہ (امام) سجاد کا گھر تھا جس کے بعض حصے میں مسجد بنائی گئی تھی۔ جس کا نام مسجد زین العابدین تھا۔

معالم مکہ والمدینہ ص 426

مرأة الحرمین کے مؤلف نے بھی جناب اسمعٰیل کی قبر پر قبہ کا تذکرہ کیا ہے، 1395 ھ ق میں جب سعودی حکومت نے مدینہ کی شاہراہوں کو وسیع کرنا شروع کیا تو آپ کی قبر کھود ڈالی مگر جب اندر سے سالم بدن برآمد ہوا تو اسے بقیع میں شہداء احد کے قریب دفن کیا گیا۔

معالم مکہ والمدینہ ص 445

(15) جناب ابو سعید حذری :

رسول خدا (ص) کے جاں نثار اور حضرت علی (ع) کے عاشق و پیرو تھے ۔ مدینہ میں انتقال ہوا اور حسب وصیت بقیع میں دفن ہوئے ۔ رفعت پاشا نے اپنے سفر نامہ میں لکھا ہے کہ آپ کی قبر کا شمار معروف قبروں میں ہوتا ہے۔

مرآة الحرمین ج 1 ص 426

امام رضا (ع) نے مامون رشید کو اسلام کی حقیقت سے متعلق جو خط لکھا تھا اسمیں جناب ابو سعید حذری کو ثابت قدم اور با ایمان قرار دیتے ہوئے آپ کے لیے رضی اللہ عنھم و رضوان اللہ علیھم کے الفاظ استعمال فرمائے تھے۔

عیون اخبار الرضا ص 126باب 35 حدیث 1

 (16) جناب عبد اللہ بن مسعود :

آپ بزرگ صحابی اور قرآن مجید کے مشہور قاری تھے آپ حضرت علی کے مخلصین و جاں نثاروں میں سے تھے آپ کو عمر کے زمانے میں نبی اکرم (ص) سے احادیث نقل کرنے کے جرم میں زندانی کیا گیا جسکی وجہ سے آپ کو اچھا خاصا زمانہ زندان میں گزارنا پڑا۔

سیرہ پیشوایان ص 324

آپکا انتقال 33 ھ ق میں ہوا تھا آپ نے وصیت فرمائی تھی کہ جناب عثمان بن مظعون کے پہلو میں دفن کیا جائے اور کہا تھا کہ :

فانہ کان فقیھا،

بے شک عثمان ابن مظعون فقیہ تھے۔

رفعت پاشا کے سفر نامہ میں آپ کی قبر کا تذکرہ ہوا ہے ۔

 قبرستان جنت البقیع میں ازواج پیغمبر (ص) کی قبریں :

بقیع میں مندرجہ ذیل ازواج کی قبریں ہیں:

(17) زینب بنت خزیمہ (وفات 4 ھ)

(18) ریحانہ بنت زید (وفات 8 ھ)

(19) ماریۂ قبطیہ (وفات 16 ھ)

(20) زینب بنت جحش (وفات 20 ھ)

(21) ام حبیبہ (وفات 42 ھ یا  43 ھ)

(22) حفصہ بنت عمر (وفات 45 ھ)

(23) سودہ بنت زمعہ (وفات 50 ھ)

(24) صفیہ بنت حی (وفات 50 ھ)

(25) جویریہ بنت حارث (وفات 50 ھ)

(26) ام سلمہ (وفات 61 ھ)

یہ قبریں جناب عقیل کی قبر کے قریب ہیں ،ابن بطوطہ کے سفر نامہ میں روضہ کا تذکرہ ہے۔

رحلة ابن بطوطہ ج 1 ص 144

مگر اب روضہ کہاں ؟ !

(27) ام کلثوم، زینب:

آپ تینوں کی پرورش جناب رسالتمآب (ص) اور حضرت خدیجہ نے فرمائی تھی ،اسی وجہ سے بعض مؤرخین نے آپ کی قبروں کو قبور بنات رسول اللہ کے نام سے یاد کیا ہے ، رفعت پاشا نے بھی اسی اشتباہ کی وجہ سے ان سب کو اولاد پیغمبر (ص) قرار دیا ہے وہ لکھتا ہے:

اکثر لوگوں کی قبروں کو پہچاننا مشکل ہے البتہ بعض بزرگان کی قبروں پر قبہ بنا ہوا ہے ، ان قبہ دار قبروں میں جناب ابراہیم ، ام کلثوم، رقیہ، زینب، وغیرہ اولاد پیغمبر کی قبریں ہیں۔

مرآة الحرمین ج1 ص 426

یوں تو میدان احد میں شہید ہونے والے فقط ستر افراد تھے، مگر بعض شدید زخموں کی وجہ سے مدینہ میں آ کر شہید ہوئے۔ ان شہداء کو بقیع میں ایک ہی جگہ دفن کیا گیا جو جناب ابراہیم کی قبر سے تقریبا 20 میٹر کے فاصلے پر ہے اب فقط ان شہداء کی قبروں کا نشان باقی رہ گیا ہے ۔

(28) واقعہ حرہ کے شہداء :

کربلا میں امام حسین کی شہادت کے بعد مدینے میں ایک ایسی بغاوت کی آندھی اٹھی جس سے یہ محسوس ہو رہا تھا کہ بنی امیہ کے خلاف پورا عالم اسلام اٹھ کھڑا ہو گا اور خلافت تبدیل ہو جائیگی مگر اہل مدینہ کو خاموش کرنے کے لیے یزید نے مسلم بن عقبہ کی سپہ سالاری میں ایک ایسا لشکر بھیجا جس نے مدینہ میں گھس کر وہ ظلم ڈھائے جن کے بیان سے زبان و قلم قاصر ہیں ۔ اس واقعہ میں شہید ہونے والوں کو بقیع میں ایک ساتھ دفن کیا گیا اس جگہ پہلے ایک چہار دیواری اور چھت تھی مگر اب چھت کو ختم کر کے فقط چھوٹی چھوٹی دیواریں چھوڑ دی گئی ہیں ۔

(29) جناب محمد بن حنفیہ :

آپ حضرت امیر کے بہادر صاحبزادے تھے۔ آپ کو آپ کی ماں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے امام حسین کا وہ مشہور خط جسمیں آپ نے کربلا کی طرف سفر کا سبب بیان فرمایا ہے، آپ ہی کے نام لکھا گیا ہے ۔ آپ کا انتقال 83 ھ میں ہوا اور بقیع میں دفن کیا گیا ۔

بحار الانوار ج 44 ص 329

(30) جناب جابر بن عبد اللہ انصاری :

آپ رسول خدا (ص) اور حضرت امیر (ع) کے جلیل القدر صحابی تھے آنحضرت (ص) کی ہجرت سے پندرہ سال قبل ،مدینہ میں پیدا ہوئے اور آپ (ص) کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے اسلام لا چکے تھے ۔ آنحضرت (ص) نے امام محمد باقر تک سلام پہنچانے کا ذمہ آپ ہی کو دیا تھا۔ آپ نے ہمیشہ اہل بیت کی محبت کا دم بھرا۔ امام حسین کی شہادت کے بعد کربلا کا پہلا زائر بننے کا شرف آپ ہی کو ملا مگر حجاج بن یوسف ثقفی نے محمد و آل محمد کی محبت کے جرم میں بدن کو جلوا ڈالا تھا۔ آپ کا انتقال  77ھ میں ہوا اور بقیع میں دفن ہوئے۔

  سوگنامہ آل محمد (ص) ص 507

( 35 )  حضرت مقداد :

حضرت رسول خدا (ص) اور حضرت علی (ع) کے نہایت ہی معتبر صحابی تھے۔ آخری لمحہ تک حضرت امیر کی امامت پر باقی رہے اور آپ کی طرف سے دفاع بھی کرتے رہے۔ امام محمد باقر کی روایت کے مطابق آپ کا شمار ان جلیل القدر اصحاب میں ہوتا ہے جو پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد ثابت قدم اور با ایمان رہے۔

معجم رجال الحدیث ج  18 ص 315

یہ تھا بقیع میں دفن ہونے والے بعض ایسے بزرگان کا تذکرہ جن کے ذکر سے سعودی حکومت گریزاں ہے اور ان کے آثار کو مٹا کر ان کا نام بھی مٹا دینا چاہتی ہے، کیوںکہ ان میں سے اکثر افراد ایسے ہیں جو زندگی بھر محمد و آل محمد کی محبت کا دم بھرتے رہے اور سعادت اخروی لے کر اس دنیا سے گئے ۔ ان بزرگان اور عمائد اسلام کی تاریخ اور سوانح حیات خود ایک مستقل بحث ہے جس کی گنجائش یہاں نہیں ہے۔

تاریخ قبرستان جنت البقیع:

8 شوال تاریخ جہان اسلام کا وہ غم انگیز دن ہے کہ جب چھیاسی سال قبل 1344 ہجری کو وہابی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے جنت البقیع کے تاریخی قبرستان کو منہدم و مسمار کر دیا تھا۔ یہ دن تاریخ اسلام میں 'یوم الہدم ' کے نام سے معروف ہے ، یعنی وہ دن کہ جب بقیع نامی تاریخی اور اسلامی شخصیات کے مدفن اور مزاروں کو گرا کر اُسے خا ک میں ملا دیا۔

جدّہ کے معروف عرب کالم نویس منال حمیدان نے لکھا ہے کہ :

بقیع وہ زمین ہے کہ جس میں رسول اکرم (ص) کے بعد اُن کے بہترین صحابہ کرام دفن ہوئے اور جیسا کہ نقل کیا گیا ہے کہ یہاں دس ہزار سے زیاد اصحاب رسول مدفون ہیں کہ جن میں اُن کے اہل بیت ، اُمّہات المومنین.....، فرزند ابراہیم، چچا عباس بن المطلب ، پھوپھی صفیہ بنت عبد المطّلب ، اُن کے نواسے حسن، اکابرین اُمت اور تابعین شامل ہیں۔ یوں تاریخ کے ساتھ ساتھ بقیع کا شمار شہر مدینہ کے اُن مزاروں میں ہونے لگا کہ جہاں حجاج بیت اللہ الحرام اور رسول اللہ (ص) کے روضہ مبارکہ کی زیارت اور وہاں نماز ادا کرنے والے زائرین اپنی زیارت کے فوراً بعد حاضری دینے کی تڑپ رکھتے تھے۔

نقل کیا گیا ہے کہ آنحضرت (ص) نے وہاں کی زیارت کی اور وہاں مدفون افراد پر سلام کیا اور استغفار کی دعا کی۔

الشرق الاوسط؛15/ ذی الحجہ 1426 ہجری، شمارہ 9909

تین ناموں کی شہرت رکھنے والے اِس قبرستان بقیع، بقیع الغرقد یا جنت البقیع کی تاریخ، قبل از اسلام زمانے سے مربوط ہے لیکن تاریخی کتابیں اِس قبرستان کی تاریخ پر روشنی ڈالنے سے قاصر ہیں لیکن اِس سب کے باوجود جو چیز مسلّم حیثیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ بقیع، ہجرت کے بعد شہر مدینہ کے مسلمانوں کیلئے دفن ہونے کا واحد قبرستان تھا۔ شہر مدینہ کے لوگ وہاں مسلمانوں کی آمد سے قبل اپنے مردوں کو دو قبرستانوں بنی حرام اور بنی سالم میں دفن کیا کرتے تھے۔

محمدصادق نجمی؛تاریخ حرم آئمہ بقیع ،صفحہ 61

علامہ سید محمد امین اِس بارے میں لکھتے ہیں کہ:

بقیع میں رسول اللہ (ص) کے چچا حضرت عباس بن المطّلب (ع) بھی مدفون تھے ، اِسی طرح حضرت ختمی مرتبت (ص) کے والد امجد حضرت عبد اللہ (ع)، اُمّہات المؤمنین، عثمان بن عفان، اسماعیل بن جعفر الصادق (ع) اور مذہب مالکی کے پیشوا، امام ابو عبد اللہ مالک بن انس الاصبحی (متوفی 179 ہجری ) کی قبور کو بھی ویران کیا گیا ہے۔

کشف الارتیاب؛ص 55

عثمان بن عفان کے قتل کے بعد جب اُنہیں بقیع میں دفن ہونے سے روکا گیا تو اُنہیں بقیع سے باہر مشرقی حصے میں حش کوکب نامی یہودیوں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا لیکن معاویہ ابن ابی سفیان کے زمانے میں جب مروان بن حکم مدینے کا والی بنا تو اُس نے حش کوکب اور بقیع کی درمیانی دیوار کو ہٹا کر اُن کی قبر کو اِسی قبرستان میں داخل کر دیا اور پتھر کا وہ ٹکڑا کہ جسے خود رسو ل اکرم (ص) نے اپنے ہاتھوں سے حضرت عثمان بن مظعون کی قبر پر رکھا تھا، اُٹھا کر عثمان بن عفان کی قبر پر رکھتے ہوئے کہا:

و اللّٰہ لا یکون علی قبر عثمان بن مظعون حجرٌ یعرف بہ۔

خدا کی قسم ! عثمان بن مظعون کی قبر پر کوئی نام و نشان نہ ہو کہ وہ اُس کے ذریعے سے پہچانی جائے۔

اُسد الغابۃ،جلد 3،صفحہ 378

تاریخ المدینہ ابن زبالہ نقل از وفاء الوفاء ، جلد3، صفحہ 894

اُمّہات المومنین میں حضرت زینب بنت خزیمہ، حضرت ریحانہ بنت زبیر، حضرت ماریہ قبطیہ، حضرت زینب بنت جحش، اُم ّ حبیبہ بنت ابی سفیان، حضرت سودہ اور عائشہ بنت ابی بکر مدفون ہیں۔ اِس کے علاوہ حضرت ختمی مرتبت (ص) کے فرزند ابراہیم (ع) ، حضرت علی (ع)  کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ بنت اسد (س)، حضرت اُمّ البنین (س)، حلیمہ سعدیہ (س) ، حضرت عاتکہ، عبد اللہ بن جعفر، محمد بن حنفیہ اور عقیل بن ابی طالب (ع)، نافع مولائے عبد اللہ بن عمر شیخ القراء السبعہ (متوفی 169 ہجری) کی قبور بھی وہاں موجود ہیں۔

البقیع، یوسف الہاجری، صفحہ 37

مرآۃ الحرمین ، ابراہیم رفعت پاشا،صفحہ 427

آثار اسلامی مکہ ومدینہ؛صفحہ 99

تاریخ المعالم المدنیۃ المنوّرۃ ، سید احمد آل یاسین، صفحہ 245

طبقات القرای ، جلد 2،صفحہ 330

تہذیب التھذیب، جلد 10 ،صفحہ 407

اِس کے علاوہ یہاں مقداد بن الاسود، مالک بن حارث، مالک اشتر نخعی، خالد بن سعید، خزیمہ ذو الشہادتین، زید بن حارثہ، سعد بن عبادہ، جابر بن عبد اللہ انصاری، حسّان بن ثابت، قیس بن سعد بن عبادہ، اسعد بن زارہ، عبد اللہ بن مسعود اور معاذ بن جبل سمیت دوسرے جلیل القدر صحابہ کرام بھی یہیں مدفون ہیں۔

مستدرک حاکم، جلد 2،صفحہ 318

سیرہ ابن ہشام  جلد3 ،صفحہ 295

مؤرّخین اور معروف سیاحوں کے نزدیک قبرستان بقیع کی تاریخ:

جنت البقیع 495 ہجری یعنی پانچویں صدی ہجری کے اواخر سے صاحب ِگنبد و بارگاہ تھا۔ معروف اہل سنّت اندلسی مؤرّخ، سیاح، مصنف اور شاعر ابو الحسین محمد بن احمد بن جبیر جو ساتویں صدی ہجری میں حجاز کے اپنے سفر نامہ (تدوین شدہ 875 ہجری) میں لکھتے ہیں کہ:

وہ سربفلک گنبد موجود بقیع کے ساتھ ہی واقع ہے۔

رحلہ ابن جبیر، مطبوع دار الکتاب اللُّبْنَانیہ،صفحہ 153

ابن جبیر کے سفر کے ڈیڑھ سو سال بعد آٹھویں صدی ہجری میں ابن بطولہ نے شہر مدینہ کا سفر کیا اور اپنے مشاہدات کو یوں رقم کیا:

حرم آئمہ بقیع (آئمہ اربعہ علیہم السلام) میں موجود قبور پر دراصل ایک ایسا گنبد ہے جو سر بفلک ہے اور جو اپنے استحکام کی نظر سے فن تعمیر کا بہترین اور حیرت انگیز شاہکار ہے۔

رحلہ ابن بطولہ، صفحہ 89

قرن معاصر کے معروف سفر نامہ مرآۃ الحرمین کے مصنف ابراہیم رفعت پاشا جو 1318 ہجری،  1320 ہجری،  1321 ہجری اور  1325 ہجری میں مصری حجاج کے قافلے کے امیر محافظ محمل کی حیثیت سے اپنے پہلے سفر حج اور اُس کے بعد امیر الحجاج کی حیثیت سے اپنے بعد کے سفر حج کے چار سفروں کو مرآۃ الحرمین نامی سفر نامہ میں مفصل طور پر جنت البقیع کے منہدم کیے جانے سے اُنیس سال قبل لکھتے ہیں کہ:

عباس بن عبد المطّلب (ع)، حسن بن علی اور تین آئمہ امام علی بن الحسین، امام محمد بن علی اور امام جعفر بن محمد علیہم السلام ایک ہی گنبد کے نیچے مدفون ہیں، جن کا گنبد دوسروں سے بہت زیادہ اونچا ہے۔

مرآۃ الحرمین، جلد 1، صفحہ 426، طبع مصر،

جابری انصاری ، کتاب ِتاریخ اصفہان میں 1344 ہجری کے واقعات کے ضمن میں وہابیوں کے ملک حجاز پر حملہ کرنے اور وہاں موجود اہم اسلامی شخصیات کی قبور اور مزارات کو منہدم کرنے کے بار ے میں لکھتے ہیں کہ:

حاجی امیر السلطنت کی جانب سے حکم دئیے جانے کے نتیجے میں 1312 ہجری میں دو سال کی مدت میں بنائی جانے والی ضریح کو وہاں (موجود آئمہ بقیع کی قبور) سے اُکھیڑ لیا گیا اور جب وہابیوں نے چاہا کہ وہ قبرستان بقیع کو منہدم و مسمار کرنے کے بعد حضرت ختمی مرتبت (ص) کے حرم میں داخل ہوں تو اُن میں سے ایک نے یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیّ....

اَے ایمان والو! نبی کے گھر میں داخل نہ ہو...،

کی آیت کی تلاوت کی تو وہ اِس جسارت کو انجام دینے سے رُک گئے.....۔

تاریخ اصفہان، صفحہ 392

میرزا محمد حسین فراہانی نے 1302 ہجری میں اپنے سفر حج میں بقیع اور اُس میں موجود آئمہ اربعہ کی زیارت کا احوال کچھ یوں درج کیا ہے کہ:

قبرستان بقیع ایک بہت بڑا قبرستان ہے جو شہر مدینہ کے مشرق میں دروازہ سور سے متصل ہے..... یہ قبرستان حج کے موسم میں حاجیوں کیلئے ہر دن مغرب کے وقت تک کھلا رہتا ہے اور جو بھی اِس کی زیارت کرنا چاہے وہ اِس میں جا سکتا ہے لیکن حج کے علاوہ یہ جمعرات کے زوال سے جمعہ کے غروب تک کھلا رہتا ہے۔

آئمہ اثنیٰ عشر کے چار امام (ع) ایک بڑے سے بقعہ (بارگاہ) میں جو ہشت ضلعی شکل میں بنایا گیا ہے، مدفون ہیں.... اِس بقعہ کی تعمیر کی صحیح تاریخ کا علم نہیں لیکن محمد علی پاشا مصری نے 1234 ہجری میں سلطان محمود خان عثمانی کے حکم کے مطابق اِسے تعمیر کرایا ہے اور اِس کے بعد سے تمام عثمانی سلاطین کی جانب سے یہ بقعہ اور اِس قبرستان میں واقع دیگر تمام بقعہ جات ہر سال مرمت و تعمیر کیے جاتے رہے ہیں۔

یہاں کچھ مقامات مشہور ہیں جو حضرت فاطمہ صدیقہ طاہرہ (س) کی قبر کے نام سے معروف ہیں، اُن میں سے ایک بقیع میں موجود حجرہ ہے جسے بیت الاحزان کہا جاتا ہے اور اِسی وجہ سے یہاں آنے والے حجاج اور زائرین حضرت فاطمہ زہرا (س)کی زیارت پڑھتے ہیں۔ یہاں موجود قبر کے سامنے سونے اور چاندی کے تاروں سے مزین ایک پردے کو گنبد کے چاروں طرف ڈالا ہوا ہے اور اُس پر یہ عبارت درج ہے:

سلطان احمد بن سلطان محمد بن سلطان ابراہیم (سنۃ اِحدي و ثلاثین و مأۃ بعد الف 1131 ہجری،

سفر نامہ فراہانی ، صفحہ 281،

حاجی فرہاد میرزا 1296 ہجری میں اپنے سفر حج کے مشاہدات کو اپنے سفر نامہ ہَدْیَۃُ السَّبِیْل میں لکھتے ہیں کہ:

میں باب ِ جبرئیل (ع) سے باہر آ کر آئمہ بقیع کی زیارت سے مشرف ہوا.... متولّی نے ضریح کا دروازہ کھولا اور میں اندر گیا اور ضریح کے گرد چکر لگایا، وہاں پیر کی طرف کی جگہ بہت چھوٹی ہے کہ جہاں صندوق (قبر) اور ضریح کا درمیانی فاصلہ نصف ذراع سے بھی کم ہے۔

ہَدْیَۃُ السَّبِیْل؛صفحہ 127

نائب الصدر شیرازی 1305 ہجری میں اپنے سفر حج کے مشاہدات کو اپنے سفر نامہ تُحْفَۃُ الْحَرِمَیْنِ میں لکھتے ہیں:

وادی بقیع داہنے ہاتھ پر واقع ہے جو ایک سر پوشیدہ مسجد ہے کہ جس کے صدر دروازے پر یہ عبارت درج ہے:

ھٰذَا مَسْجِدُ اُبَی بْنِ کَعْب وَ صَلّیٰ فِیْہِ النَّبِیُّ غَیْرَ مَرَّۃ ،

یہ مسجد اُبی بن کعب ہے کہ جس میں رسول اللہ (ص) نے کئی مرتبہ نماز پڑھی ہے۔

یہاں امام حسن (ع) ،امام زین العابدین (ع) ،امام باقر (ع) اور امام صادق (ع) کی قبور مطہرہ ایک ضریح میں دن دفن ہیں، اُس کے سامنے ایک پردے دار ضریح ہے کہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں حضرت فاطمہ زہرا (س) مدفون ہیں۔

تُحْفَۃُ الْحَرِمَیْنِ، صفحہ 227

معروف مدینہ شناس، مؤرّخ، محدث، رجال شناس اور ادیب شافعی ابو عبد اللہ محب الدین محمد ابن نجار کہتا ہے کہ:

وَ عَلَیْھَا بَابَانِ یَفْتَحُ اَحَدُھُمَا فِی کُلِّ یَوْم لِلزِّیَارَۃِ،

قبرستان بقیع کے دو دروازے تھے کہ جن میں سے ایک دروازہ ہر دن زائرین کیلئے کھولا جاتا تھا۔

اخبار مدینۃ الرسول، مکتبۃ دار الثقافۃ ،مکۃ مکرمۃ،صفحہ 153

قبرستان بقیع کی تعمیر، ضریح اور حرم کی منظر کشی:

قبرستان بقیع اپنی تاریخ میں تین مرتبہ تعمیر کیا گیا ہے۔ معروف سیاح اور مؤرّخ ابن جبیر اپنے سفر نامہ میں لکھتے ہیں کہ:

بقیع پہلی مرتبہ 510 ہجری میں اَلْمُسْتَنْصَر بِاللّٰہِ اور تیسری مرتبہ تیرہویں صدی کے اواخر میں سلطان محمود غزنوی کے ذریعے سے تعمیر کیا گیا ہے۔ یہاں موجود کُتبوں پر درج عبارتیں کہ جن کو سیاحوں نے اپنے اپنے سفر ناموں میں بیان کیا ہے، اِسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں۔

رحلہ ابن جبیر، مطبوع دار الکتاب اللُّبْنَانیہ، صفحہ 173

ایک حقیقت!

ایک نکتے کی جانب اشارہ ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ آئمہ بقیع پر حرم و بارگاہ کی تعمیر 519 ہجری سے قبل ہوئی تھی اور اُس کی اصلاح اور مرمت کا کام بعد میں انجام دیا گیا تھا۔

مشہور مؤرّخ سمہودی ابن جبیر کی بات کے برخلاف کہتا ہے کہ:

519 ہجری میں تعمیر شدہ بارگاہوں گنبد کے وجود میں آنے کے پچاس سال بعد اِس حرم کی پہلی تعمیر عباسی خلیفہ مسترشد باللہ کے حکم سے ہوئی ۔ حضرت عباس بن عبد المطّلب (ع) کی قبر کے پاس طاق میں موجود ایک چھوٹے سے کُتبے پر یہ عبارت درج ہے:

اِنَّ الْأمْرَ بِعملہ المُسْتَرشِد باللّٰہ تسع و عشرۃ و خمسمأۃ ۔

وفاء الوفاء  جلد 3  ، صفحہ 916

یہاں ایک اور نکتے کی جانب اشارہ ضروری ہے اور وہ یہ اِس حرم کی اصل عمارت اِس تاریخ سے قبل ہے کہ جسے سمہودی نے بیان کیا ہے اور حرم کی تعمیر کا اُس کا حکم اُس کی مرمت اور اصلاح کیلئے تھا۔ دوسری بات یہ کہ مسترشد باللہ اُنتیسواں (29) عباسی خلیفہ ہے جو 512 ہجری میں اپنے باپ مستظہر باللہ کے بعد خلافت کو حاصل کرتا ہے اور 529 ہجر ی میں قتل کر دیا گیا۔

حرم آئمہ بقیع کی دوسری تعمیر و مرمت عباسی خلیفہ مستنصر باللّٰہ کے حکم سے 623 ہجری اور 640 ہجری کے درمیانی عرصے میں انجام پائی ۔ سمہودی اِس بارے میں لکھتا ہے کہ:

حرم بقیع میں موجود محراب کے اوپر لگے ہوئے چھوٹے سے کُتبے پر یہ عبارت درج ہے:

اَمر بعملہ المنصور المستنصر باللّٰہ،

وفاء الوفاء  جلد 3  ،صفحہ 916

اِس حرم کی تیسری تعمیر تیرہوں صدی کے اوائل میں عثمانی خلیفہ سلطان محمود غزنوی کے حکم سے ہوئی:

فرہاد میزرا 1293 ہجری میں حج کی سعادت کے حاصل ہونے کے بعد بقیع کا حال کچھ یوں بیان کرتا ہے کہ:

بقیع میں بقعہ مبارکہ کی تعمیر نو سلطان محمود خان کے حکم سے ایک ہزار دو سو ہجری میں ہوئی، وہ سلطان محمد ثانی ہے جو تیسوواں عثمانی خلیفہ ہے۔ سلطان محمود چوبیس سال کی عمر میں 1223 ہجری میں خلافت کو پہنچا اور 1255 ہجری میں انتقال کر گیا۔

نامہ فرہاد میرزا، چاپ مطبوعات علمی  ،تہران،صفحہ 141

قاموس الاعلام ترکی ، جلد 6، صفحہ 225

معروف سیاح اور مؤرّخ ابن جبیر اپنے سفر نامہ میں لکھتے ہیں کہ: قبرستان بقیع کے دو دروازے ہیں کہ جن میں سے ایک ہمیشہ بند رہتا ہے اور دوسرا دروازہ صبح سے مغرب تک زائرین کیلئے کھلا رہتا ہے۔ حرم بقیع ہشت ضلعی ہے اور اِس کی دوسری خصوصیت اِس میں محراب کا ہونا ہے نیز اِس حرم کے بہت سے خادم تھے۔ دوسرے تمام حرموں کی مانند حرم آئمہ بقیع (ع) میں بھی ضریح ، روپوش، بڑے فانوس، شمعدان اور قالین موجود تھے۔

رحلہ ابن جبیر، مطبوع دار الکتاب اللُّبْنَانیہ،صفحہ 173

محمد لبیب مصری (بتنونی) 1327 ہجری میں حجاز کے اپنے سفر نامہ رحلہ بتنونی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:

و مقصورۃ سیِّدنا الحسن فیھا فخیمۃ جدّاً و ھی من النّحاس المنقوش بالکتابۃ الفارسیّۃ و أظنّ أنَّھا من عمل الشّیعۃ الأعاجم،

وہاں قُبَّہُ البین نامی ایک معروف گنبد موجود ہے کہ جس میں ایک حجر ہ موجود ہے اور اُس میں ایک گڑھا ہے کہ جس کے بارے میں یہ بات شہرت رکھتی ہے کہ یہاں آنحضرت (ص) کا دندانِ مبارک گرا تھا، اِس کے علاوہ امام حسن ابن علی (ع) کی قبر ایک اور قبہ (بارگاہ) کے نیچے واقع ہے کہ جسے تانبے کی دھات سے بنایا گیا ہے اور اُس پر فارسی رسم الخط کی کوئی عبارت درج ہے کہ جس کے بارے میں میرا خیال ہے کہ یہ عجمی اہل تشیع کی جانب سے لکھی گئی ہے۔

رحلہ بتنونی، مطبوعہ مصر، صفحہ 237

پہلی ضریح:

بتنونی اِس بیان کی روشنی میں واضح ہو جاتا ہے کہ یہ پہلی ضریح ہے کہ جسے ایرانیوں نے بنایا ہے۔ اگر یہ تقریبی گمان و خیال واقعیت رکھتے ہوں تو اِس ضریح کی تقریبی ساخت کی تاریخ اور اِن کے بانیوں کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آئمہ بقیع کے بقعہ جات کی تعمیر کے ساتھ ساتھ یہ ضریح پانچویں صدی ہجری کے دوسرے نصف میں مجد الملک براوستانی کے حکم سے بنائی گئی ہے۔

دوسری ضریح:

سید اسماعیل مرندی اپنی کتاب توصیف ِ مدینہ کہ جسے اُنہوں نے 1255 ہجر ی میں تالیف کیا ہے، میں لکھتے ہیں کہ:

یہ پانچوں مطہر تن ایک ضریح میں دفن ہیں جو لکڑی کی جالی دار ضریح ہے اور عباس بن المطّلب (ع) اِسی ضریح میں اِن کے سرہانے بالکل جدا دفن ہیں۔

یہ صرف وہ جسارتیں ہیں کہ جن کو صر ف بقیع کے مسمار کیے جانے کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے جبکہ آل سعود نے وہابی فرقے کی تعلیمات کے مطابق مکہ، مدینہ، طائف اور دیگر بلاد ِاسلامی کے تمام تاریخی آثار و مزارات اور بارگاہوں کو نابود کیا ہے کہ جن کا تعلق شیعہ و سنی مکاتب ِ فکر سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات سے ہے! فرقہ وہابیت کی تعلیمات سے آگاہی اور اُن کے شبہات کا جواب دینے کیلئے ایک الگ کتاب لکھنے کی ضرورت ہے۔

انہدام جنت البقیع اہل بیت اطہار (ع)  پر ایک اور بڑا ظلم:

آٹھ شوال کو آل سعود کے حکم اور درباری و متعصب وہابی مفتیوں کے کہنے پر مدینہ منورہ میں واقع جنت البقیع میں شہزادی کونین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا اور چار آئمہ معصومین کے روضہ کو منہدم کر دیا گیا۔ آل سعود کے سعودی حکام نے جب مکہ و مدینہ کے اطراف میں اپنا پورا تسلط جما لیا تو انھوں نے اہلبیت علیھم السلام سے اپنی دشمنی کے اظہار کے لیے جنت البقیع میں واقع ام الآئمہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا اور چار آئمہ معصومین علیھم السلام کے روضہ اطہر کو منہدم کرنے کا ناپاک منصوبہ بنایا۔ اس کے لیے انھوں نے قاضی القضاۃ سلیمان بن بلیہد کو مدینہ روانہ کیا تا کہ وہ وہاں کے مفتیوں سے اپنی مرضی کے فتاوے حاصل کرے اور جنت البقیع کو شہید کرنے کا راستہ ہموار کرے درباری اور اہلبیت اطہار (ع) سے بغض و دشمنی کی آگ میں جلنے والے مفتیوں نے جنت البقیع کو منہدم کرنے کا فتوی دے دیا۔ اور یوں آل سعودی کے سرکاری کارندوں نے سرکار دو عالم کی دختر گرامی حضرت فاطمہ زہر اسلام اللہ علیھا اور ان کے چار معصوم فرزندوں کا روضہ اطہر منہدم کر دیا ۔ اس دلخراش واقعہ کے بعد عالم اسلام میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی اور روضہ اطہر کی دوبارہ تعمیر کی بین الاقوامی سطح پر تحریک چلائی گئی مگر وہابیوں نے جنہيں سامراجی طاقتوں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے ابھی تک عالم اسلام کے اس مطالبہ کو ماننے سے انکار کر رکھا ہے ۔جنت البقیع کے انہدام کے بعد تمام شیعہ سنی علماء اور عمائدین نے مل کر تحریک چلائی تھی اور سعودی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ روضہ اطہر کی دوبارہ تعمیر کرائے مگر یہ حکومت جس پر شدت پسند وہابیوں کا غلبہ ہے ابھی تک روضہ مبارکہ کی تعمیر میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے ۔ ایران کی حکومت نے بھی بارہا سعودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جنت البقیع کے روضے کی دوبارہ تعمیر کرائے اور اس سلسلے ميں تہران بھی ہر طرح کا تعاون کرنے کو تیار ہے آٹھ شوال کو ہر سال اہل بیت رسول صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چاہنے والے پوری دنیا میں مجالس غم اور احتجاجی جلسے کر کے جنت البقیع کے انہدام جیسے انتہائی سفاکانہ اقدام کی مذمت کرتے ہوئے مذکورہ جگہ پر روضے کی دوبارہ تعمیر کا مطالبہ کرتے ہيں ۔ آٹھ شوال کی تاریخ ہر سال اہل بیت رسول صل اللہ علیہ وآلہ سے آل سعود اور وہابی مفتیوں کی دشمنی کی یاد پوری دنیا کے سامنے تازہ کر دیتی ہے۔

یہ عالم اسلام کی چودہ سوسالہ تاریخ کا ایک مختصر سا ورق ہے کہ جو تاریخی اسناد و دستاویزات کی روشنی میں آل سعود اور فرقہ وہابیت کے سیاہ کارناموں کی ایک زندہ اور حقیقی مثال ہے اور دورِ حاضر کا مسمار قبرستان بقیع آج کے مسلمانوں سے اِس بات کا سوال رہا ہے کہ وہ اِس تاریخی بے حرمتی پر کیوں خاموش ہیں ؟

زیارت آئمہ بقیع (ع)

السَّلامُ عَلَیْکُمْ اَئِمَّهَ الْهُدى * السَّلامُ عَلَیْکُمْ اَهْلَ التَّقْوى * السَّلامُ عَلَیْکُمُ ] أیُّها الْحُجَجَ عَلى اَهْلِ الدُّنْیا * السَّلامُ عَلَیْکُمْ اَیُّهَا الْقُوّامُ فِی الْبَرِیَّهِ بِالْقِسْطِ السَّلامُ عَلَیْکُمْ اَهْلَ الصَّفْوَهِ * السَّلامُ عَلَیْکُمْ آلَ رَسُولِ اللّهِ * السَّلامُ عَلَیْکُمْ اَهْلَ النَّجْوى

* اَشْهَدُ اَنَّکُمْ قَدْ بَلَّغْتُمْ وَنَصَحْتُمْ وَصَبَرْتُمْ فی ذاتِ اللّهِ وَکُذِّبْتُمْ وَاُسیءَ اِلَیْکُمْ فَغَفَرْتُمْ * وَاَشْهَدُ اَنَّکُمُ الاْئِمَّهُ الرّاشِدُونَ الْمَهْدِیُّونَوَاَنَّ طاعَتَکُمْ مَفْرُوضَهٌ * وَاَنَّ قَوْلَکُمْ الصِّدْقُ *

وَاَنَّکُمْ دَعَوْتُمْ فَلَمْ تُجابُوا وَاَمَرْتُمْ فَلَمْ تُطاعُوا * وَاَنَّکُمْ دَعائِمُ الدّینِ وَاَرْکانُ الاْرْضِ

* لَمْ تَزالُوا بِعَیْنِ اللّهِ یَنْسَخُکُمْ مِنْ اَصْلابِ کُلِّ مُطَهَّر وَیَنْقُلُکُمْ مِنْ اَرْحامِ الْمُطَهَّراتِ

* لَمْ تُدَنِّسکُمُ الْجاهِلِیَّهُ الْجُهَلاءُ وَلَمْ تُشْرِکْ فیکُمْ فِتَنُ الاْهْواءِ * طِبْتُمْ وَطابَ مَنْبَتُکُمْ * مَنَّ بِکُمْ عَلَیْنا دَیّانُ الدّینِ فَجَعَلَکُمْ فی بُیُوت اَذِنَ اللّهُ اَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فیهَا اسْمُهُ * وَجَعَلَ صَلَواتِنا عَلَیْکُمْ رَحْمَهً لَنا وَکَفّارَهً لِذُنُوبِنا * إذْ اخْتارَکُمُ

اللّهُ لَنا * وَطَیَّبَ خَلْقَنا بِما مَنَّ عَلَیْنا مِنْ وِلایَتِکُمْ * وَکُنّا عِنْدَهُ مُسَمِّینَ بِعِلْمِکُمْ مُعْتَرِفینَ بَتَصْدِیقِنا اِیّاکُمْ * وَهذا مَقامُ مَنْ اَسْرَفَ وَاَخْطَأَ * وَاسْتَکانَ وَاَقَرَّ بِما جَنى

* وَرَجَا بِمَقامِهِ الْخَلاصَ * وَاَنْ یَسْتَنْقِذَهُ بِکُمْ مُسْتَنْقِذُ الْهَلْکى مِنَ الرَّدى * فَـکُونُوا

لی شُفَعاءَ * فَقَدْ وَفَدْتُ اِلَیْکُمْ اِذْ رَغِبَ عَنْکُمْ اَهْلُ الدُّنْیا * وَاتَّخَذُوا آیاتِ اللّهِ هُزُواً وَاسْتَکْبَرُوا عَنْها *یا مَنْ هُوَ قائِمٌ لا یَسْهُو * وَدائِمٌ لا یَلْهُو وَمُحیطٌ بِکُلِّ شَیْء

* لَکَ الْمَنُّ بِما وَفَّقْتَنی وَعَرّفتَنی بِما اَقَمْتَنی عَلَیْهِ * اِذْ صَدَّ عَنْهُ عِبادُکَ * وَجَهِلُوا مَعْرِفَتَهُ *وَاسْتَخَفُّوا بِحَقِّهِ وَمالُوا اِلى سِواهُ * فَکانَتِ الْمِنَّهُ مِنْکَ عَلَیَّ مَعَ اَقْوام خَصَصْتَهُمْ بِما خَصَصْتَنی بِهِ * فَلَکَ الْحَمْدُ إذْ کُنْتُ عِنْدَکَ فی مَقامی هذا مَذکُوراً مَکْتُوباً فَلا تَحْرِمْنی ما رَجَوْتُ * وَلا تُخَیِّبْنی مِمّا دَعَوْتُ *بِحُرْمَهِ مُحَمَّد وَآلِهِ الطّاهِرینَ وَصَلَّى اللّهُ عَلَى مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد.

السَّلامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَهُ اللّهِ وَبَرَکاتُهُ * اَسْتَوْدِعُکُمُ اللّهَ وَاَقْرَأُ عَلَیْکُمُ السَّلامَ * آمَنّا

بِاللّهِ وَبِالرَّسُولِ وَبِما جِئْتُمْ بِهِ وَدَلَلْتُمْ عَلَیْهِ * اللّهُمَّ فَاکْتُبْنا مَعَ الشّاهِدینَ.

التماس دعا.....

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی