2017 March 25
و ركبت السفينة
مندرجات: ٥٣ تاریخ اشاعت: ٢٤ July ٢٠١٦ - ١٩:٤٠ مشاہدات: 306
کتب خانہ » پبلک
و ركبت السفينة

کتاب کا نام: و ركبت السفينة
مصنف: مروان خليفات
ناشر: مركز الغدير للدراسات الإسلامية
چاپ: 1418 هـ.ق.

زبان: عربی
 
 
 

یہ کتاب "مروان خلیفات" نے ذریعے مکتب نورانی اھل بیت علیہ السلام سے ھدایت حاصل کر نے کے بعد تحریر کی ہے ۔

انہوں نے اس کتاب میں اھل سنت اور شیعوں کے اختلافی موضوعات پر بحث کی ہے اور شیعوں کے برحق عقیدہ کو ثابت کیا ہے۔

«مروان خليفات» مكتب اهل بيت عليهم السلام سے ھدایت کے بارے میں تحریر کر تے ہیں :

غروب کے وقت دیہات کے ایک راستے میں اپنے ایک شیعہ دوست کے ساتھ چہل قدمی کر رہا تھا، اور کوئی دن ایسا نہیں ہوتا تھا جب ہم لوگ دینی مسائل پر ایک دوسرے سے بحث نہ کرتے ہوں ۔اس وقت میری آرزو تھی کہ میرا دوست سنی ہو جائے اور میں نے پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ اس کو مذہب شافعی کا پیروکار بناوں گ۔وقت گزر گیا اور میں ایک دن دینی درسگاہ چلا گیا؛ بعض ہمارے اساتید شیعہ موضوع پر گفتگو کر تے تھے اور ان میں سے بعض شیعوں کو کافر شمار کرتے تھے۔ میں باوجودیکہ شافعی مذہب تھا لیکن عقیدتی مباحث میں آہستہ آہستہ سلفی اساتید سے متاثر ہو نے لگا تھا اور ایک طرف تو میں اس عقیدہ سلفیت سے مطمئن ہو گیا تھا، اس کے ساتھ ساتھ کلاس میں شیعوں کے خلاف جو الزامات لگائے جا تے تھے وہ بھی میں اپنے دوست سے بیان کرتا تھا، لیکن وہ پوری طاقت کے ساتھ جواب دیتا تھا۔

پھر میں ایک دن راستے میں ابوبکر اور عمر کے فضائل پر اس سے بات کر رہا تھا کہ اس نے بڑی فاتحانہ انداز میں میری بات کاٹ دی اور کہا:« رَزِیَّةُ الْخَمِیْسْ» ہائے "جمعرات کا المیہ"

 میں نے کہا خیریت تو ہے؟ تمہارے کہنے کا مطلب کیا ہے؟ میرے دوست نے کہا :ایک ایسا واقعہ ہے جو پیغمبر اکرم صلي الله عليه وآله وسلم کی وفات سے چند روز پہلے رونما ہوا ۔جب پیغمبر اکرم نے اپنے صحابیوں سے کہا قلم اور داوات لے آو تاکہ ایسا نوشتہ لکھ دوں کہ میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو۔ عمر نے کہا: پیغمبر پر بیماری کاغلبہ ہوگیا ہے یا وہ ہزیان بک رہے ہیں [معاذ اللہ] قرآن ہمارے لئے کافی ہے اورہمیں پیغمبر کے کلام کی ضرورت نہیں ہے۔

میں نے اپنے شیعہ دوست سے کہا کہ اب تمہاری حالت یہ ہوگئی ہے کہ اس کلام کی نسبت اس عمر کی طرف دیتے ہو؟ جس نے کبھی پیغمبر کے حکم کی نافرمانی نہیں کی؟

دوست نے مجھ سے کہا: یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی مل جائے گی۔

جب میں اس کے جواب سے ناامید ہو گیا اور مجھے شکست کا احساس ہو تو اور فورا میں نے کہا: اگر عمر نے یہ کہا بھی ہو تب بھی وہ صحابی رہیں گے، میں خدا سے طلب مغفرت کروں گا۔ اور یہ میں نے اتفاقی نہیں کہا تھا بلکہ اس عقیدہ کی بنیاد پر کہا تھا جو میرے دل و جان کی گہرائی میں اتر چکا تھا ۔میں نے اپنے دوست سے پوچھا اس واقعہ کو کس کتاب میں پڑھا ہے؟

میں ایسا شکست کھایا شخص تھا کہ جس نے اپنی شکست کا اعتراف نہ کیا ہو، لیکن درد کے سبب اندر سے میرا وجود ٹوٹ رہا تھا۔

میرے دوست نے کہا :اس کو میں نے " ثم اهتدیت " کتاب میں پڑھا کہ جس کا تعلق تمہارے علماء میں سے ایک سے ہے جو شیعہ ہو گئے ہیں ۔میں نے مضحکہ انداز میں کہا :کیا واقعا ہمارے علماء میں سے کوئی ایسا عالم ہے جو شیعہ ہو گیا ہو؟ میرے دوست نے کہا: جی ہاں، کتاب کے مصنف "تیجانی" صاحب نے یہ لکھا ہے کہ وہ کیسے شیعہ ہوئے اور شیعہ ہو نے کی دلیل کیا ہے۔ میں نے اپنے دوست سے بطور امانت وہ کتاب مانگی اور جیسے ہی وہ کتاب مجھے ملی میں نے فورا مطالعہ کرنا شروع کردیا؛ واقعہ «رزية الخميس» میرے ذہن میں تھا اس تک پہنچتے ہوئے میں ڈر رہا تھا ۔میں نے اہل بیت علیہم السلام کی امامت، صحابہ کی طرف سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ کی مخالفت اور «رزية الخميس» وغیرہ کو پڑھ ڈالا۔ مصنف نے تمام باتوں کو معتبر اور صحیح حوالے کے ساتھ ہماری کتابوں سے پیش کیا تھا۔ جب میں کتاب کو پڑھ رہا تھا تو سراپا حیرت تھا اور مجھے رہ رہ کر احساس ہو رہا تھا کہ میری ساری محنت برباد ہوگئی ہے میں شکست سے زمین پر ڈھیر ہوچکا تھا۔ میں نے اپنے آپ کو یہ تسلی دے کر مطمئن کرنا چاہا کہ یہ باتیں ہماری کتابوں مین موجود نہیں ہیں۔

دوسرے دن میں نے کوشش کی کہ وہ ساری روایتیں درسگاہ کے کتبخانے میں ڈھونڈ نکالوں جو اس کتاب میں ذکر ہوئی تھیں۔ میں نے «رزية الخميس»سے شروع کیا اور اس واقعہ کو صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے کئی معتبر اسناد کے ساتھ ڈھونڈ نکالا۔ اب میرے سامنے دو راستے تھے: یا یہ کہ عمر کی بات کو مان لوں اور نعوذ باللہ پیغمبر اکرم صلي الله عليه وآله پر ہذیان کی تہمت لگادوں، اس طرح عمر، اصل تہمت سے ہبری ہوجائیں گے۔ یا دوسرا راستہ یہ تھا کہ میں پیغمبر اکرم صلي الله عليه وآله کا دفاع کروں اور اس بات کا اعتراف کروں کہ عمر کی قیادت میں کچھ صحابہ، پیغمبر اکرم صلي الله عليه وآله کے حق میں ایسی بڑی غلطی کا شکار ہوئے تھے کہ پیغمبر نے ان کو اپنے یہاں سے نکال دیا تھا۔ اس صورت میں مجھے ان سب عقائد سے ہاتھ دھونا پڑتا جن پر مجھے فخر تھا اور اپنے دوست کے سامنے جن کا بارہا دفاع کر چکا تھا۔

میرے دوست نے مجھ سے اس کتاب کی باتوں کے بارے میں پوچھا، میرے دل پر خنجر چل رہے تھے لیکن میں نے کہا کہ ہاں صحیح ہے۔ ایک مدت تک میں حیران و سرگرداں تھا اور کبھی ادھر اور کبھی ادھر گویا جھول رہا تھا۔ میرے دوست نے مجھے « لَاَکون مع الصادقین» اور « فاسالوا اهل الذکر» اور تیجانی کی دوسری ساری کتابیں مجھے دے دیں۔ ان کتابوں نے میرے آنکھوں سے سارے پردے ہٹا دئے اور حقائق میرے سامنے آگئے اور میرا شک بڑھتا گیا۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ ان حقائق کے جواب میں اپنے علماء کی کتابیں پڑھ پڑھ کر ان شکوک کو ختم کرسکوں لیکن اس کا کوئی فائدہ نہ ہوسکا اور اس کے برخلاف مذہب اہل بیت علیہم السلام کے سلسلہ میں مجھے مزید اطمینان ہوتا گیا۔ میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں جن کے ذکر کرنے کا موقع نہیں ہے اور ان کتابوں نے میرے لئے حقیقت کو مجسم کرکے رکھ دیا، اس طرح سے کہ اس کے سامنے میری عقل حیران اور ناتواں ہوگئی۔ آخر کار حق و حقیقت میرے ذہن میں خورشید کی طرح روشن ہوگئے اور میں نے اپنی رضامندی اور اطمینان قلب کے ساتھ مکتب اہل بیت کو اختیار کرلیا۔

اب_ جب کہ میں یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوچکا ہوں مجھے اپنے عقائد پر بڑا یقین و اطمینان ہے۔ اور یہاں پہنچ کر مجھے یہ بات یاد آنے لگتی ہے کہ میں نے تو اپنے دوست اور اس کے خانوادے کو ہدایت دینے کی ٹھانی تھی اور کس طرح اس کے برخلاف ہوگیا کہ وہ میرا دوست میری ہدایت کا سبب بن گیا۔


 
 
 




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی