2017 May 1
قیام عاشورا اور ہدف امام حسین(ع)
مندرجات: ٤١٦ تاریخ اشاعت: ١٥ November ٢٠١٦ - ١١:٥٤ مشاہدات: 352
مضامین و مقالات » پبلک
قیام عاشورا اور ہدف امام حسین(ع)

 

علماء اور شیعہ محققین نے روایات اہل بیت(ع) اور تاریخی و کلامی تجزیہ و تحلیل کی روشنی میں امام حسین(ع) کے قیام کے اہداف کے بارے میں مفصل بحث کی ہے اور حتی اس بارے میں بہت سی کتب کو بھی تحریر کیا ہے۔

 ہم اپنی اس تحریر میں مختصر طور پر دو لحاظ سے امام حسین(ع) کے اہداف کو بیان کریں گے:

1- امام حسین(ع) کے خطبات اور اہل بیت(ع) کی روایات کی روشنی میں قیام کےاہداف کو بیان کرنا:

2- علماء کی نگاہ کے مطابق امام حسین(ع) کے اہداف کو بیان کرنا:

 ہدف اول: امر بہ معروف ونہی از منکر:

وہ ہدف جو امام حسین(ع) کے خطبات میں امام کے قیام کرنے سے واضح طور بیان ہوا ہے، وہ امر بہ معروف اور نہی از منکر کرنا ہے۔ یہ ہدف امام حسین(ع) کے اس خط کہ جو آپ نے اپنے بھائی محمد حنفیہ کو لکھا اس میں اور امام حسین(ع) کے بعض خطبوں میں بیان ہوا اور سمجھا جا سکتا ہے۔

امام حسین(ع) کا محمد حنفیہ کے نام خط:

امام حسین(ع) نے اپنے خط میں بہت واضح اور بے پردہ شفاف طور پر اپنے ہدف کو بیان کیا ہے تا کہ قیامت تک کے آنے والے انسان اس کو جان لیں کہ امام حسین(ع) نے یہ عظیم قیام کیوں کیا تھا:

أَنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشِراً وَ لَا بَطِراً وَ لَا مُفْسِداً وَ لَا ظَالِماً وَ إِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي ص أُرِيدُ أَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَ أَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَ أَسِيرَ بِسِيرَةِ جَدِّي وَ أَبِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عليه السلام.

میں طغیانی و سرکشی، عداوت، فساد کرنے اور ظلم کرنے کے لیے مدینہ سے نہیں نکلا، میں فقط اور فقط اپنے نانا کی امت کی اصلاح کرنے کے لیے نکلا ہوں، میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں اور میں اپنے نانا اور اپنے والد علی ابن ابی طالب(ع) کی سیرت پر عمل کرنا چاہتا ہوں۔

مجلسي، محمد باقر، بحارالأنوار ج  44 ، ص  329 ؛ 

ابن اعثم، الفتوح ، ج 5 ، ص 21، ناشر : دار الاضواء، بيروت،

امام حسین(ع) نے اپنے اس خط میں اپنے قیام کے بارے میں ہر طرح کی غلط سوچ اور باطل گمان کو نفی کیا ہے اور بہت ہی سادے و آسان الفاظ میں واضح کیا ہے کہ میرے قیام کاہدف اور مقصد امت محمدی کی اصلاح اور امت کو امر بہ معروف و نہی از منکر کرنا ہے۔ وہ امت کہ جس میں بنی امیہ نے احکام اسلامی اور شریعت محمدی میں اپنی مرضی سے ردّ و بدل کر کے تباہ کر دیا تھا اور آرام آرام سے اسلام کو یھودیت اور مسیحیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

امام حسین (ع) کا البیضہ میں خطبہ دینا:

 جب امام حسین (ع) کا البیضہ کے مقام پر حرّ کے لشکر سے سامنا ہوا تو وہاں پر امام حسین(ع) نے خطبہ دیا کہ جس سے واضح طور پر امام حسین(ع) کے قیام کا ہدف سمجھا جا سکتا ہے:

إنّ الحسين خطب أصحابه و أصحاب الحر بالبيضة فحمد الله و أثنى عليه ثم قال: ايها الناس ان رسول الله صلى‏ الله‏ عليه ‏و ‏آله و سلم قال :

مَنْ رَأى سُلْطانا جائِرا مُسْتَحِلاً لِحُرُمِ اللّهِ ناكِثا لِعَهْدِ اللّهِ، مُخالِفا لِسُنَّةِ رَسُولِ اللّهِ، يَعْمَلُ فى عِبادِ اللّهِ بِالاْثْمِ وَ الْعُدْوانِ، فَلَمْ يُغَيِّرْ عَلَيْهِ بِفِعْلٍ وَ لا قَوْلٍ، كانَ حَقّا عَلَى اللّهِ اَنْ يُدْخِلَهُ مَدْخَلَهُ .....

امام حسین(ع) نے البیضه کے مقام پر اپنے اور حرّ کے اصحاب کے لیے خطبہ دیا: خداوند کی حمد و تعریف کے بعد فرمایا: اے لوگو، رسول خدا(ص) نے فرمایا ہے کہ : جو بھی دیکھے کہ ایک ظالم و ستم گر حکمران نے خداوند کے حرام کو حلال کیا ہے، اس نے عھد و پیمان خداوند کو توڑا ہے اور سنت رسول خدا (ص) کی مخالفت کرتا ہے اور لوگوں میں گناہ اور ستم کے ساتھ عمل کرتا ہے، اور وہ شخص اپنی زبان یا ہاتھ سے اس صورتحال کو بدلنے کی کوشش نہ کرے تو خداوند کا حق ہے کہ اس شخص کو اس جگہ لے جائے جہاں پر اس ظالم حکمران کو لے کر جائے گا۔

تاريخ الطبري، ج 4، ص 304 - 305،

 الكامل في التاريخ، ج 4، ص 48،  

كتاب الفتوح، ج 5، ص 81.

یہ خطبہ امام حسین(ع) کے ہدف کو بیان کر رہا ہے کہ ہدف وہی امر بہ معروف اور نہی از منکر کرنا ہے۔ امام حسین(ع) کے اس خطبے میں تھوڑا غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ فقط یہ کہ امام حسین(ع) نے اپنے ہدف کو لوگوں کے لیے بیان کیا ہے بلکہ دوسروں کو بھی باطل کے خلاف قیام کرنے اور امر بہ معروف و نہی از منکر کرنے کی تشویق کی ہے اور اس عظیم فریضے کے بارے میں سستی اور کوتاہی کرنے کے خطر ناک نتائج سے آگاہ اور بیان بھی کیا ہے۔

امام حسین(ع) کا اپنے  اصحاب کے لیے خطبہ دینا:

جب امام حسین(ع) کا عمر ابن سعد ملعون کے لشکر سے سامنا ہوا تو، امام نے بہت ہی بہترین خطبہ دیا اور اس خطبے میں اپنے قیام کے بلند و عالی ہدف کو بیان کیا:

طبرانی عالم مشھور اہل سنت نے لکھا ہے کہ:

لَمَّا نَزَلَ الْقَوْمُ بِالْحُسَيْنِ وَ أَيْقَنَ أَنَّهُمْ قَاتِلُوهُ قَالَ لِأَصْحَابِهِ قَدْ نَزَلَ مَا تَرَوْنَ مِنَ الْأَمْرِ وَ إِنَّ الدُّنْيَا قَدْ تَغَيَّرَتْ وَ تَنَكَّرَتْ وَ أَدْبَرَ مَعْرُوفُهَا وَ اسْتَمَرَّتْ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا كَصُبَابَةِ الْإِنَاءِ وَ إِلَّا خَسِيسُ عَيْشٍ كَالْمَرْعَى الْوَبِيلِ أَلَا تَرَوْنَ الْحَقَّ لَا يُعْمَلُ بِهِ وَ الْبَاطِلَ لَا يُتَنَاهَى عَنْهُ لِيَرْغَبَ الْمُؤْمِنُ فِي لِقَاءِ اللَّهِ ....

بے شک دنیا نے اپنے چہرے کو تبدیل کر لیا ہے اور مکروہ چہرے کو ظاہر کر لیا ہے، دینا میں نیکی ختم ہو رہی ہے اور برتن میں جیسے تھوڑی سی رطوبت بچ جاتی ہے، ویسے ہی اب نیکی کا فقط نام باقی رہ گیا ہے اور دنیا ایسی چرا گاہ کی طرح ہو گئی ہے کہ جس میں فقط جراثیموں کا مارا ہوا اور بے فائدہ گھاس رہ گیا ہو، دنیا کی حالت بھی بالکل ایسے ہی ہو گئی ہے۔

کیا تم لوگ نہیں دیکھ رہے کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا اور باطل سے دوری نہیں کی جا رہی، اس حالت میں تو مؤمن کو خداوند سے ملاقات و شھادت کے لیے مشتاق ہونا چاہیے۔

المعجم الكبير، ج 3، ص 115،

 مجمع الزوائد، ج 9، ص 192، 

 تاريخ مدينة دمشق، ج 14، ص 217 - 218، 

سير أعلام النبلاء، ج 3، ص 310، 

تاريخ الإسلام، ج 5، ص 12. 

المناقب ج : 4 ص : 68، 

بحارالأنوار ج : 44 ص : 192.

اس خطبے میں بھی امام حسین(ع) نے واضح طور پر اپنے قیام کے ہدف اور مقصد کو بیان کیا ہے وہ یہ کہ کیونکہ جو اسلامی مملکت کا حاکم ہونے کا دعوی کر رہا ہے وہ خود ہی حق پر عمل نہیں کر رہا۔ یہاں پر حق سے مراد امر بہ معروف و نہی از منکر کرنا ہے۔ پس امام حسین(ع) اپنے قیام کرنے کے ہدف کو امر بہ معروف اور نہی از منکر بیان کر رہے ہیں۔ 

ہدف دوم: سنت رسول خدا(ص) کو زندہ کرنا اور بدعت سے مقابلہ کرنا:

بنی امیہ کے دور میں اسلامی معاشرہ جس درد ناک المیہ اور بڑی مصیبت میں مبتلا تھا، وہ معاشرے میں بدعتوں کا رائج ہو جانا اور سنتوں کا ختم ہو جانا تھا۔ امام حسین(ع) خدا کے شرعی خلیفہ اور امت کے لیے ہادی ہونے کی وجہ سے اپنے لیے واجب اور ضروری جانتے تھے کہ وہ معاشرے میں رائج بدعتوں سے مقابلہ کریں اور سنت نبوی کو لوگوں کے درمیان زندہ کریں، جیسا کہ آپ کے کلام سے بھی واضح ہے کہ:

امام حسین(ع) نے شہر بصرہ کے بزرگان کو خط لکھا کہ:

و أنا أدعوكم إلى كتاب الله و سنة نبيه فإن السنة قد أميتت و إن البدعة قد أحييت و إن تسمعوا قولي و تطيعوا أمري أهدكم سبيل الرشاد.

میں آپ سب کو قرآن کریم اور رسول خدا(ص) کی سنت کی طرف دعوت دیتا ہوں کیونکہ بے شک سنت بالکل ختم اور مر چکی ہے اور بدعت زندہ ہو چکی ہے اور اگر تم لوگ میری بات کو سنو اور میری اطاعت کرو تو میں تم کو صراط مستقیم کی طرف لے جاؤں گا۔

أبي جعفر محمد بن جرير الطبري الوفاة: 310 ، تاريخ الطبري ج3، ص 280، ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت؛ أنساب الأشراف ج 1ص 275.

 امام حسین(ع) کا جب حرّ کے لشکر سے سامنا ہوا تھا تو بھی آپ نے اسی مطلب پر تاکید کی تھی کہ:

ألا إَنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ قَدْ لَزِمُوا طَاعَةَ الشَّيْطَانِ وَ تَركوا  طَاعَةِ الرَّحْمَنِ وَ أَظْهَرُوا الْفَسَادَ وَ عَطَّلُوا الْحُدُودَ وَ اسْتَأْثَرُوا بِالْفَيْ‏ءِ وَ أَحَلُّوا حَرَامَ اللَّهِ وَ حَرَّمُوا حَلَالَهُ و أنا أحَقُّ مَنْ غَيَّر.

آگاہ ہو جاؤ کہ انھوں (بنی امیہ) نے شیطان کی پیروی شروع کر دی ہے اور خداوند کی اطاعت کو چھوڑ دیا ہے، واضح طور پر فتنہ اور فساد کرتے ہیں، احکام اور حدود الہی پر عمل نہیں کرتے،فئ کہ تمام امت کا حق ہے اس کو انھوں نے اپنے لیے مختص کر لیا ہے، خداوند کے حرام کو حلال اور خداوند کے حلال کو حرام کر دیا ہے، میں اس تمام صورت حال کو بدلنے کے لیے دوسروں کی نسبت مناسب تر ہوں۔

تاريخ الطبري، ج 4، ص 304 - 305،

 الكامل في التاريخ، ج 4، ص 48، 

 كتاب الفتوح، ج 5، ص 81.

امام حسین(ع) نے جب اپنے بھائی محمد حنفیہ کو خط لکھا تو اس میں بھی امام نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ:

 وَ أَسِيرَ بِسِيرَةِ جَدِّي وَ أَبِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عليه السلام.

 ( اپنے اس قیام سے) میں اپنے نانا رسول خدا(ص) اور اپنے والد علی ابن ابی طالب(ع) کی سیرت پر عمل کرنا چاہتا ہوں۔

 مجلسي، محمد باقر، بحارالأنوار ج  44 ، ص  329 ؛

 ابن اعثم، الفتوح ، ج 5 ،ص 21، ناشر : دار الاضواء، بيروت،

 جیسا کہ آپ نے دیکھا امام حسین(ع) اپنے قیام کے سبب کو بیان کر رہے ہیں کہ معاشرے میں بدعتیں زندہ اور سنتیں مر اور ختم ہو چکی ہیں اور میں بہ عنوان ہادی امت بدعتوں کو ختم اور سنتوں کو زندہ کرنا چاہتا ہوں اور اس راہ میں، میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کروں گا۔

ہدف سوم: ظلم کا مقابلہ ا ور خاتمہ کرنا:

امام حسین(ع) کے قیام کا بنیادی مقصد بنی امیہ اور ہر طرح کے ظلم کا مقابلہ کرنا اور اس کو ختم کرنا تھا، اس طرح کہ امام حسین(ع) نے مدینہ سے لے کر کربلاء تک جگہ جگہ اپنے اس ھدف اور مقصد پر تاکید کی ہے:

امام حسین(ع) نے عمر ابن سعد ملعون کے لشکر کے سامنے اس ہدف کی طرف واضح طور پر اشارہ کیا ہے:

 وَ إِنِّي لَا أَرَى الْمَوْتَ إِلَّا سَعَادَةً وَ الْحَيَاةَ مَعَ الظَّالِمِينَ إِلَّا بَرَماً.

بے شک میں اس طرح کی موت کو سعادت و خوشبختی سمجھتا ہوں اور ظالمین کے ساتھ زندگی گزارنے کو اپنے لیے ہلاکت اور عار سمجھتا ہوں۔

المعجم الكبير، ج 3، ص 115،

 مجمع الزوائد، ج 9، ص 192، 

تاريخ مدينة دمشق، ج 14، ص 217 - 218، 

سير أعلام النبلاء، ج 3، ص 310،

 تاريخ الإسلام، ج 5، ص 12. 

المناقب ج : 4 ص : 68، 

بحارالأنوار ج : 44 ص : 192.

امام حسين (ع) نے جو خط اہل کوفہ کے نام لکھا تھا اس میں بھی اپنے قیام کے ایک ہدف کو ظلم کے ساتھ مقابلہ کرنا بیان کیا تھا:

ألا و إن الدعي ابن الدعي قد تركني بين السلة و الذلة و هيهات له ذلك مني ! هيهات منا الذلة ! أبى الله ذلك لنا و رسوله و المؤمنون. و حجور طهرت و جدود طابت ، أن يؤثر طاعة اللئام على مصارع الكرام ، الأواني زاحف بهذه الأسرة على قلة العدد ، و كثرة العدو ، و خذلة الناصر.

سب آگاہ ہو جاؤ کہ اس(ابن زیاد) حرام زادے فرزند حرام زادے نے مجھے دو چیزوں کے درمیان لا کر کھڑا کر دیا ہے، یا شمشیر کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہو جاؤں یا ذلت کا لباس پہن کر یزید کی بیعت کر لوں، حالانکہ ذلت ہم اہل بیت(ع) سے بہت ہی دور ہے، اسی لیے خداوند، رسول خدا (ص)، مؤمنین اور پاک و مطھر آغوش کہ جس میں ہماری پرورش ہوئی ہے اور غیرت مند پاک مرد ہمیں اس طرح کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم ذلیل اور پست انسانوں کی بیعت کو عزت کے ساتھ مرنے پر ترجیح دیں، تم یہ جان لو کہ میں انصار اور اصحاب کم ہونے کے با وجود بھی تم سے حق کے لیے جنگ کروں گا۔

الشيخ الطبرسي، الاحتجاج، ج 2 ص 24، 25، تحقيق: السيد محمد باقر الخرسان،‌ ناشر :دار النعمان للطباعة و النشر، النجف الأشرف،‌

یہ تمام بیانات واضح کرتے ہیں کہ بنی امیہ کے ظلم کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا یہ امام حسین (ع) کے قیام کے بنیادی ترین اور مہم ترین اہداف میں سے تھا، اتنا مہم کہ جس کے حصول کے لیے امام حسین (ع) نے اپنے اہل بیت اور حتی اپنی جان تک قربان کر دی۔

ہدف چهارم: راہ خداوند میں شھید ہونے کا شوق:

 بعض روایات میں اشارہ ہوا ہے کہ امام حسین(ع) کا اپنے اس قیام سے دوسرے اہداف کے ساتھ ساتھ، ایک ہدف راہ خداوند میں شھید ہونا تھا۔ بعض شیعہ محققین نے بھی اس نظر کو قبول کیا ہے اور اس پر استدلال بھی کیا ہے، اب ہم دو روایات کو ذکر کرنے کے بعد محققین کے اقوال کو بیان کریں گے:

روایت اول:

مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام  قَالَ‏ إِنَّ الْوَصِيَّةَ نَزَلَتْ مِنَ السَّمَاءِ عَلَى مُحَمَّدٍ(ص) كِتَاباً لَمْ يُنْزَلْ عَلَى مُحَمَّدٍ (ص) كِتَابٌ مَخْتُومٌ إِلَّا الْوَصِيَّةُ فَقَالَ جَبْرَئِيلُ(ع) يَا مُحَمَّدُ هَذِهِ وَصِيَّتُكَ فِي أُمَّتِكَ عِنْدَ أَهْلِ بَيْتِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی الله عليه و آله و سلم أَيُّ أَهْلِ بَيْتِي يَا جَبْرَئِيلُ قَالَ نَجِيبُ اللَّهِ مِنْهُمْ وَ ذُرِّيَّتُهُ لِيَرِثَكَ عِلْمَ النُّبُوَّةِ كَمَا وَرِثَهُ إِبْرَاهِيمُ (ع) وَ مِيرَاثُهُ لِعَلِيٍّ وَ ذُرِّيَّتِكَ مِنْ صُلْبِهِ فَقَالَ وَ كَانَ عَلَيْهَا خَوَاتِيمُ قَالَ فَفَتَحَ عَلِيٌّ عليها السلام الْخَاتَمَ الْأَوَّلَ وَ مَضَى لِمَا فِيهَا ثُمَّ فَتَحَ الْحَسَنُ عليه السلام الْخَاتَمَ الثَّانِيَ وَ مَضَى لِمَا أُمِرَ بِهِ فِيهَا فَلَمَّا تُوُفِّيَ الْحَسَنُ وَ مَضَى فَتَحَ الْحُسَيْنُ عليه السلام الْخَاتَمَ الثَّالِثَ فَوَجَدَ فِيهَا أَنْ قَاتِلْ فَاقْتُلْ وَ تُقْتَلُ وَ اخْرُجْ بِأَقْوَامٍ لِلشَّهَادَةِ لَا شَهَادَةَ لَهُمْ إِلَّا مَعَكَ قَالَ فَفَعَلَ عليه السلام فَلَمَّا مَضَى دَفَعَهَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَبْلَ ذَلِكَ فَفَتَحَ الْخَاتَمَ الرَّابِعَ فَوَجَدَ فِيهَا أَنِ اصْمُتْ وَ أَطْرِقْ لِمَا حُجِبَ الْعِلْمُ فَلَمَّا تُوُفِّيَ وَ مَضَى دَفَعَهَا إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ (ع) فَفَتَحَ الْخَاتَمَ الْخَامِسَ فَوَجَدَ فِيهَا أَنْ فَسِّرْ كِتَابَ اللَّهِ وَ صَدِّقْ أَبَاكَ وَ وَرِّثِ ابْنَكَ وَ اصْطَنِعِ الْأُمَّةَ وَ قُمْ بِحَقِّ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ قُلِ الْحَقَّ فِي الْخَوْفِ وَ الْأَمْنِ وَ لَا تَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَفَعَلَ ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى الَّذِي يَلِيهِ قَالَ قُلْتُ لَهُ جُعِلْتُ فِدَاكَ فَأَنْتَ هُوَ قَالَ فَقَالَ مَا بِي إِلَّا أَنْ تَذْهَبَ يَا مُعَاذُ فَتَرْوِيَ عَلَيَّ قَالَ فَقُلْتُ أَسْأَلُ اللَّهَ الَّذِي رَزَقَكَ مِنْ آبَائِكَ هَذِهِ الْمَنْزِلَةَ أَنْ يَرْزُقَكَ مِنْ عَقِبِكَ مِثْلَهَا قَبْلَ الْمَمَاتِ قَالَ قَدْ فَعَلَ اللَّهُ ذَلِكَ يَا مُعَاذُ قَالَ فَقُلْتُ فَمَنْ هُوَ جُعِلْتُ فِدَاكَ قَالَ هَذَا الرَّاقِدُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْعَبْدِ الصَّالِحِ وَ هُوَ رَاقِدٌ ۔

حضرت امام صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ:

آئمہ کو معین کرنے کا وظیفہ یہ خداوند کی طرف سے حضرت محمد(ص) کو دیا گیا، جو کتاب بھی سر بہ مہر آسمان سے نازل ہوئی اس میں مسئلہ امامت کو کہ جو جبرائیل لے کر نازل ہوا تھا، خداوند نے رسول خدا(ص) سے کہا کہ یہ دستور العمل ہے کہ جو تیرے خاندان میں باقی رہے گا۔ رسول خدا (ص) نے فرمایا کون سا میرا خاندان ؟ جبرائیل نے کہا کہ وہ خاندان کہ جس کو خداوند نے انتخاب کیا ہے کہ جو نبوت کے علم کے وارث ہوں گے جس طرح کہ حضرت ابراھیم(ع) وارث بنا تھا۔ یہ میراث حضرت علی اور ان کے فرزندان کو ملے گی۔ اس کتاب پر کچھ مہریں لگی ہوئیں تھیں، حضرت علی(ع) نے پہلی مہر کو کھولا اور جو کچھ اس میں لکھا ہوا تھا اس پر عمل کیا۔ حضرت علی(ع) کی شھادت کے بعد امام حسن(ع) نے دوسری مہر کو کھولا اور جو کچھ اس میں لکھا ہوا تھا اس پر عمل کیا۔ امام حسن(ع) کی شھادت کے بعد جب امام حسین(ع) نے تیسری مہر کو کھولا تو دیکھا کہ اس میں لکھا ہے کہ جنگ کرو دشمنوں کو قتل کرو اور تم بھی قتل کیے جاؤ گے اور کچھ لوگوں کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤ کہ وہ بھی تمہارے ساتھ شھید ہوں گے۔ ان کے بعد امام سجاد (ع) نے چوتھی مہر کو کھولا دیکھا کہ اس میں لکھا تھا کہ خاموشی اختیار کرو اور سر کو نہ اٹھانا کہ تمہارے دور میں علم اور معرفت پردے میں پنھان رہے گا۔ امام سجاد(ع) کے بعد وہ کتاب امام محمد باقر(ع)کے پاس آئی تو انھوں نے اپنی مہر کو کھولا دیکھا کہ اس میں لکھا تھا کہ قرآن کی تفسیر کرو اور اپنے والد کی تصدیق کرو اور اس کو اپنے بیٹے کے سپرد کر دو اور لوگوں سے اچھا سلوک کرو اور خداوند کے حق کے لیے قیام کرو، حق کو واضح طور پر بیان کرو تم محفوظ رہو گے خداوند کے علاوہ کسی دوسرے سے نہ ڈرو۔ امام باقر (ع) نے تمام کاموں کو انجام دیا اور اس کتاب کو اپنے جانشین کو دے دیا۔

میں نے عرض کیا: کیا آپ وہی جانشین نہیں ہیں ؟ امام صادق(ع) نے فرمایا: ہاں، جاؤ اور میری طرف سے اس روایت کو لوگوں کے لیے نقل کرو۔ میں نے عرض کیا: خداوند نے آپ کو یہ مقام اپنے آباء اور اجداد سے عطا کیا ہے، میں خدا سے چاہتا ہوں کہ آپ کو خداوند آپکی زندگی میں ہی ایک بیٹا عطا کرے کہ جو مقام امامت کے لیے صلاحیت رکھتا ہو۔ 

امام نے فرمایا کہ خداوند نے لطف اور کرم کیا ہے، میں نے کہا: آپ کی اولاد میں سے کون سا بیٹا ہے ؟ امام نے فرمایا: یہی کہ جو سویا ہوا ہے، امام نے حضرت موسی ابن جعفر(ع) کی طرف اشارہ کیا کہ جو اس وقت سو رہے تھے۔

الكافي (ط - الإسلامية) ؛ ج‏1 ؛ ص279

روایت دوم:

وَ رَوَيْتُ مِنْ كِتَابِ أَصْلِ الْأَحْمَدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عُمَرَ بْنِ بُرَيْدَةَ الثِّقَةِ وَ عَلَى الْأَصْلِ أَنَّهُ كَانَ لِمُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الْقُمِّيِّ بِالْإِسْنَادِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ‏ سَارَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَنَفِيَّةِ إِلَى‏ الْحُسَيْنِ ع فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي أَرَادَ الْخُرُوجَ صَبِيحَتَهَا عَنْ مَكَّةَ فَقَالَ يَا أَخِي إِنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ مَنْ قَدْ عَرَفْتَ غَدْرَهُمْ بِأَبِيكَ وَ أَخِيكَ وَ قَدْ خِفْتُ أَنْ يَكُونَ حالُكَ كَحَالِ مَنْ مَضَى فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُقِيمَ فَإِنَّكَ أَعَزُّ مَنْ فِي الْحَرَمِ وَ أَمْنَعُهُ فَقَالَ يَا أَخِي قَدْ خِفْتُ أَنْ يَغْتَالَنِي يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ فِي الْحَرَمِ فَأَكُونَ الَّذِي يُسْتَبَاحُ بِهِ حُرْمَةُ هَذَا الْبَيْتِ فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ فَإِنْ خِفْتَ ذَلِكَ فَصِرْ إِلَى الْيَمَنِ أَوْ بَعْضِ نَوَاحِي الْبَرِّ فَإِنَّكَ أَمْنَعُ النَّاسِ بِهِ وَ لَا يَقْدِرُ عَلَيْكَ فَقَالَ أَنْظُرُ فِيمَا قُلْتَ فَلَمَّا كَانَ فِي السَّحَرِ ارْتَحَلَ الْحُسَيْنُ ع فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ الْحَنَفِيَّةِ فَأَتَاهُ فَأَخَذَ زِمَامَ نَاقَتِهِ الَّتِي رَكِبَهَا فَقَالَ لَهُ يَا أَخِي أَ لَمْ تَعِدْنِي النَّظَرَ فِيمَا سَأَلْتُكَ قَالَ بَلَى قَالَ فَمَا حَدَاكَ عَلَى الْخُرُوجِ عَاجِلًا فَقَالَ أَتَانِي رَسُولُ‏ اللَّهِ ص بَعْدَ مَا فَارَقْتُكَ فَقَالَ يَا حُسَيْنُ ع اخْرُجْ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ شَاءَ أَنْ‏ يَرَاكَ‏ قَتِيلًا فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ‏ فَمَا مَعْنَى حَمْلِكَ هَؤُلَاءِ النِّسَاءَ مَعَكَ وَ أَنْتَ تَخْرُجُ عَلَى مِثْلِ هَذِهِ الْحَالِ قَالَ فَقَالَ لَهُ قَدْ قَالَ لِي إِنَّ اللَّهَ قَدْ شَاءَ أَنْ يَرَاهُنَّ سَبَايَا وَ سَلَّمَ عَلَيْهِ وَ مَضَی ۔

 امام جعفر صادق (ع) سے روايت نقل ہوئی ہے کہ: اس رات کہ امام حسین(ع) نے جس کی صبح مکہ سے نکلنے کا ارادہ کیا، محمد ابن حنفیہ امام کے پاس آئے اور کہا: اے بھائی جان آپ کوفہ کے لوگوں کی عہد شکنی کہ جو انھوں نے آپ کے والد اور بھائی کی، اس کو مجھ سے بہتر جانتے ہیں، مجھے ڈر ہے کہ وہ آپ سے بھی وہی سلوک نہ کریں۔ اگر آپ مناسب سمجھتے ہیں تو مکہ میں ہی رہ جائیں کیونکہ مکے میں آپ کا مقام سب سے بالا تر اور با عزت تر ہے۔

امام حسین(ع) نے فرمایا: اے بھائی، میں اس سے ڈرتا ہوں کہ یزید ابن معاویہ مکے میں کہ جو حرم امن الہی ہے، مجھے غفلت کی حالت میں قتل نہ کر دے اور میرے ذریعے سے خانہ کعبہ کی حرمت پامال نہ ہو جائے۔

محمد ابن حنفیہ نے کہا کہ اگر آپ کو اس کا ڈر ہے تو آپ یمن یا کہیں بھی ادھر ادھر چلے جائیں کیونکہ اس سے آپ کا احترام محفوظ رہے گا اور آپ کسی کے ہاتھ بھی نہیں لگیں گے۔ امام حسین(ع) نے فرمایا کہ میں اس بارے میں سوچوں گا۔ جب صبح ہوئی تو امام حسین(ع) مکہ سے کوفہ کی طرف چل پڑے، جب یہ محمد ابن حنفیہ کو پتا چلا تو وہ امام حسین(ع) کے پاس آیا اور امام کے گھوڑے کی لگام پکڑ کر کہا کہ اے بھائی کیا آپ نے مجھے اس سفر کے بارے میں سوچنے کا وعدہ نہیں دیا تھا ؟ امام نے فرمایا کہ ہاں وعدہ تو دیا تھا، اس نے کہا تو پھر آپ اتنی جلدی کیوں مکے سے کوفے کی طرف چل پڑے ہیں !؟ امام نے فرمایا میں نے کل رات اپنے نانا رسول خدا(ص) کو خواب میں دیکھا ہے کہ انھوں نے مجھے فرمایا ہے کہ:

يا حسين اخرج فان اللَّه قد شاء ان يراك قتيلا.

یعنی اے حسین مکہ سے نکل پڑو کہ خداوند آپ کو اپنی راہ میں شھید ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ سن کر محمد ابن حنفیہ نے کہا:

إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ‏.

اور پھر کہا کہ ان عورتوں اور بچوں کو کیوں اپنے ساتھ لے کر جا رہے ہیں !؟ امام نے فرمایا کہ نانا نے مجھے فرمایا ہے کہ:

ان اللَّه قد شاء ان يراهن سبايا.

یعنی خداوند ان کو اپنی راہ میں اسیر ہوتا دیکھنا چاہتا ہے، یہ سن کر محمد ابن حنفیہ امام حسین(ع) کو خدا حافظی کر کے چلا گیا۔

اللهوف على قتلى الطفوف ص63

علماء کے نظریات:

مذکورہ بالا روایات کی روشنی میں بعض شیعہ محققین نے امام حسین(ع) کا اپنے قیام سے ہدف خداوند کی راہ میں شھید ہونا کہا ہے کہ اس بارے میں ہم مختصر طور پر بیان کرتے ہیں:

هبة الدین الشهرستانی:

جناب شھرستانی نے اپنی کتاب " نھضۃ الحسین(ع) " کے صفحہ 31 پر لکھا ہے کہ:

فالحسين وجد نفسه مقتولا اذا لم يبايع، و مقتولا اذا بايع، لکنه اذا بايع، اشتری مع قتله قتل جده و آثار جده، اما اذا لم يبايع، فانما هی قتلة واحده تحيی بها الامة و شعائر الدين و الشرافة الخالدة۔

پس جب امام حسین نے صورت حال کو دیکھا کہ اگر بیعت کریں یا نہ کریں ہر حال میں قتل کر دیئے جائیں گے لیکن اگر بیعت کریں اور پھر بھی قتل کر دیئے جائیں تو اس صورت میں امام حسین نے خود کو بھی قتل کیا ہے اور اپنے نانا کو اور ان کے آثار کو بھی قتل کر دیا ہے، اس لیے اگر بیعت نہ کریں اور قتل کر دیئے جایئں تو اس صورت میں یہ ایک ایسا قتل ہو گا کہ جس سے غافل امت بیدار اور دین اسلام زندہ ہو جائے گا اور امام حسین کو بھی دنیا ہمیشہ ایک غیرت مند اور انقلابی انسان کے طور پر یاد کرے گی۔

علامہ شرف الدین موسوی:

علامہ شرف الدین موسوی نے اپنی کتاب المجالس الفاخره میں اس نظرئیے پر 53 دلیلیں ذکر کی ہیں:

وہ اپنی کتاب المجالس الفاخره کے صفحہ 96 پر لکھتے ہیں کہ:

و ما قصد كربلاء إلا لتحمل ذلك البلاء عهد معهود عن أخيه ، عن أبيه ، عن جده ، عن الله عز و جل ، و يرشدك إلى ذلك - مضافا إلى أخبارنا المتواترة من طريق العترة الطاهرة - دلائل أقواله ، و قرائن أفعاله ، فإنها نص فيما قلناه۔

 اور امام حسین (ع) اس حالت میں کربلاء گئے کہ خداوند، رسول خدا، حضرت علی اور ان کے بھائی امام حسن نے ان کو بتایا ہوا تھا کہ آپ پر کربلاء کی سر زمین پر کیا کیا مصائب آیئں گے، ہماری اس بات کو اس بارے میں متواتر روایات کے علاوہ خود امام حسین کے اقوال اور افعال بھی ثابت کرتے ہیں کہ جو اس بارے میں نص کے طور پر موجود ہیں۔

پھر اس کے بعد علامہ شرف الدین تقریبا 53 دلیلیں اس نظر کی تائید میں ذکر کرتے ہیں، اپنی اسی کتاب کے صفحہ 108 پر لکھتے ہیں کہ:

 كان على يقين مما انتهت إليه حاله ، و أنه ما خرج إلا ليبذل في سبيل الله نفسه و جميع ما ملكته يده ، و يضحي في إحياء دين الله أولاده و إخوته ، و أبناء أخيه ، و بني عمومته و خاصة أوليائه ، و العقائل الطاهرات من نسائه.

اور امام حسین پر جو مصائب آئے ان کا امام حسین کو پہلے سے ہی یقین تھا، انھوں نے قیام اسی لیے کیا تھا کہ اپنی جان کو اور جو کچھ ان کے پاس ہے سب کو خدا کی راہ میں قربان کر دیں اور خداوند کے دین کو زندہ اور باقی رکھنے کے لیے اپنے بھائیوں، بیٹوں، اپنے بھائی کے بیٹوں، اپنے چچا کے بیٹوں، اپنے با وفا اصحاب اور اپنے اہل بیت کی پاک و مطہر خواتین کو بھی اس راہ میں قربان کر دیں۔

آیت الله صافی گلپایگانی:

آیت الله صافی گلپایگانی زمانہ حاضر کے جامع الشرائط مراجع تقلید میں سے ہیں، انھوں نے بھی اپنی کتاب " شھید آگاہ " میں اسی نظریہ شھادت کی تاکید کی ہے اور اس نظرئیے پر 33 دلائل بھی ذکر کیے ہیں۔

وہ اپنی کتاب میں ایک دلیل میں اس طرح بیان کرتے ہیں کہ:

جو صحیح اور متواتر روایات سے استفادہ ہوتا ہے، یہ ہے کہ امام حسین(ع) راہ خدا میں قیام کرنا اور شھید ہونا چاہتے تھے، ان کی شھادت محبوب اور مطلوب خداوند تھی، اور خداوند کے حکم سے اپنے آپ کو شھادت کے لیے پیش کرنا یہ کوئی نئی اور عجیب بات نہیں ہے اس لیے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ امام حسین(ع) عراق میں اپنے اور اپنے اصحاب و اہل و عیال کے شھید ہونے کے علم کے با وجود جائیں اور اپنی طاقت اور قوت سے یزید کی بیعت سے انکار کریں، یعنی امام حسین(ع) کو خداوند نے یزید لعین کے خلاف قیام کرنے اور اسکی حکومت کے باطل ہونے کے اعلان کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ بھی حکم دیا تھا کہ بیعت کے انکار کو سب پر واضح کر دے تا کہ وہ بھی جان لیں کہ یزید کی حکومت باطل پر تھی، اصل میں خداوند کا امام حسین(ع) کو شھید ہونے کے حکم دینے کا مطلب یہ تھا کہ امام راہ خدا میں صبر و استقامت کریں اور ہر گز یزید کی بیعت نہ کریں، اگر دقت کی جائے تو یہ اپنے آپ کو قتل ہونے کے لیے دشمن کے سامنے پیش کرنا نہیں ہے اگرچہ اگر خداوند کا حکم تو ایسا کرنا بھی جائز ہوتا ہے، بلکہ خداوند کے حکم کا یہ معنی ہے کہ راہ خدا میں دین خدا کے لیے ایسا قدم اٹھانا ہے کہ جس کا نتیجہ راہ خدا میں دین خدا کے لیے شھید ہونا ہے، کہ شھادت کے آثار کو ملاحظہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ بات بالکل عقل اور شریعت کے خلاف نہیں ہے۔

  آيت الله صافی گلپايگانی، شهيد آگاه، ص 22

ہدف پنجم: اسلامی حکومت کی بنیاد رکھنا:

بعض بزرگان شیعہ جیسے سید مرتضی (رح) کا یہ نظریہ ہے کہ امام حسین(ع) کے قیام کا ہدف حکومت اسلامی کی بنیاد رکھنا تھا اسی لیے امام کوفہ کی طرف جا رہے تھے، اسی نظرئیے کو سید مرتضی (رح) کے استاد شیخ مفید (رح) کے کلمات سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

سید مرتضی نے ایک سوال کہ جب امام حسین (ع) کو علم تھا کہ شھید ہو جائیں گے تو پھر بھی کیوں قیام کیا اور کربلاء گئے، کے جواب میں لکھا ہے کہ:

الجواب قلنا قد علمنا أن الإمام متى غلب فی ظنه أنه يصل إلى حقه و القيام بما فوض إليه بضرب من الفعل وجب عليه ذلک و إن کان فيه ضرب من المشقة يتحمل مثلها تحملها و سيدنا أبو عبد الله(ع) لم يسر طالبا للکوفة إلا بعد توثق من القوم و عهود و عقود و بعد أن کاتبوه....

جواب یہ ہے کہ ہم نے کہا ہے کہ امام معصوم کو جب بھی گمان غالب( یقین کے نزدیک ہونا) حاصل ہو جائے کہ اگر وہ یہ کام کریں گے تو ان کو اپنا حق مل جائے گا تو اس امام پر واجب ہے کہ اپنے حق کے لیے قیام کریں اگرچہ اس راہ میں امام کو سختیوں اور مصائب کا کہ جو قابل تحمل اور برداشت ہوں، کا سامنا کرنا پ‍ڑے۔ امام حسین (ع) نے بھی اھل کوفہ کی طرف سے خط لکھنے اور نصرت کا وعدہ دینے کی وجہ سے ہی کوفہ جانے کا ارادہ کیا تھا۔

تنزيه الانبياء ص175-177

 آقای صالحی نجف آبادی کہ جو زمانہ حاضر کے محققین میں سے ہیں، انھوں نے اس نظریئے کی تائید کی ہے اور اس نظریئے کو اپنی کتاب " شھید جاوید " میں بھی بیان کیا ہے۔ البتہ انھوں نے امام حسین (ع) کے اھداف کو مراحل کی صورت میں ذکر کیا ہے کہ انھوں نے پہلے مرحلے پر قیام کے ہدف کو اسلامی حکومت کی بنیاد رکھنا کہا ہے اور آخری مرحلے پر امام حسین (ع) کا راہ خداوند میں شھید ہونا کہا ہے۔ 

التماس دعا





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی