2018 December 12
25 محرم الحرام شہادت سید الساجدین، زین العابدین امام سجاد (ع)
مندرجات: ١٧٧٠ تاریخ اشاعت: ٠٤ October ٢٠١٨ - ١٨:٠٥ مشاہدات: 358
مضامین و مقالات » پبلک
جدید
25 محرم الحرام شہادت سید الساجدین، زین العابدین امام سجاد (ع)

25 محرم الحرام شہادت سید الساجدین، زین العابدین امام سجاد (ع)

امام علی ‏بن ‏الحسين (عليہما السلام)، زين العابدين اور سجاد کے القاب سے مشہور ہيں اور روايت مشہور کے مطابق آپ (ع) کی ولادت شعبان المعظم سن 38 ہجری مدينہ منورہ ميں ہوئی۔ کربلا کے واقعے ميں آپ (ع) 22 يا 23 سال کے نوجوان تھے اور مسلم مؤرخين و سيرت نگاروں کے مطابق آپ (ع) عمر کے لحاظ سے اپنے بھائی علی اکبر عليہ السلام سے چھوٹے تھے۔ امام سجاد عليہ السلام کی حيات طيبہ کا سماجی، علمی، سياسی اور تہذيبی حوالوں سے جائزہ ليا جا سکتا ہے۔ امام سجاد عليہ السلام کی حيات طيبہ کا ايک نہايت اہم پہلو يہ ہے کہ آپ (ع) کربلا کے واقعے ميں اپنے والد ماجد سيد الشہداء امام حسين عليہ السلام کے ہمراہ تھے اور شہيدوں کی شہادت کے بعد اپنی پھوپھی ثانی زہرا سلام اللہ عليہا کے ہمراہ کربلا کے انقلاب اور عاشورا کی تحريک کا پيغام لے کر بنو اميہ کے ہاتھوں اسيری کی زندگی قبول کر لی اور اسيری کے ايام ميں عاشورا کا پيغام مؤثر ترين انداز سے دنيا والوں تک اور رہتی دنيا تک کے حريت پسندوں تک، پہنچايا۔

عاشورا کا قيام زندہ جاويد اسلامی تحريک ہے کہ جو محرم سن 61 ہجری کو انجام پائی۔ يہ تحريک دو مرحلوں پر مشتمل تھی:

پہلا مرحلہ تحريک کا آغاز، جہاد و جانبازی اور اسلامی کرامت کے دفاع کے لیے خون و جان کی قربانی دينے کا مرحلہ تھا جس ميں عدل کے قيام کی دعوت بھی دی گئی اور دين محمد (ص) کے احياء کے لیے اور سيرت نبوی و علوی کو زندہ کرنے کے لیے جان نثاری بھی کی گئی، پہلا مرحلہ رجب المرجب سن 60 ہجری سے شروع اور 10 محرم سن 61 ہجری پر مکمل ہوا جبکہ دوسرا مرحلہ اس قيام و انقلاب کو استحکام بخشنے، تحريک کا پيغام پہنچانے اور علمی و تہذيبی جدوجہد نيز اس قيام مقدس کے اہداف کی تشريح کا مرحلہ تھا۔ پہلے مرحلے کی قيادت امام سيد الشہداء عليہ السلام نے کی تھی تو دوسرے مرحلے کی قيادت سيد الساجدين امام زين العابدين عليہ السلام کو سونپ دی گئی۔

امامت شيعہ اور تحريک عاشورا کی قيادت امام سجاد عليہ السلام کو ايسے حال ميں سونپی گئی تھی کہ آل علی عليہ السلام کے اہم ترين افراد آپ (ع) کے ہمراہ اسير ہو کر امويوں کے دار الحکومت دمشق کی طرف منتقل کیے جا رہے تھے۔ آل علی (ع) پر ہر قسم کی تہمتوں اور بہتانوں کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر بھی بنی اميہ کے اذيت و آزار کا نشانہ بنے ہوئے تھے اور ان کے متعدد افراد امام حسين عليہ السلام کے اصحاب کے ہمراہ کربلا ميں شہادت پا چکے تھے اور بنی اميہ کے دغل باز حکمران موقع سے فائدہ اٹھا کر ہر قسم کا الزام لگانے ميں اپنے آپ کو مکمل طور پر آزاد سمجھ رہے تھے کيونکہ مسلمان جہاد کا جذبہ کھو چکے تھے اور ہر کوئی اپنی خيريت کو مناسب و بہتر سمجھتا تھا۔ اس زمانے ميں دينی اقدار تغير و تحريف کا شکار تھيں لوگوں کی دينی حميت و غیرت ختم ہو چکی تھی، دينی احکامات اموی نا اہلوں کے ہاتھوں کا بازيچہ بن چکے تھے، خرافات و توہمات کو رواج ديا جا چکا تھا، امويوں کی دہشت گردی اور تشدد و خوف و ہراس پھيلانے کے حربوں کے تحت مسلمانوں ميں شہادت و شجاعت کے جذبات جواب دے چکے تھے۔ اگر ايک طرف دينی احکام و تعليمات سے رو گردانی پر کوئی روک ٹوک نہ تھی تو دوسری طرف سے حکومت وقت پر تنقيد و اعتراض کی پاداش ميں شديد ترين سزائيں دی جاتی تھيں، لوگوں کو غير انسانی تشدد کا نشانہ بنايا جاتا تھا اور ان کا گھر بار لوٹ ليا جاتا تھا اور ان کے اموال و املاک کو اموی حکمرانوں کے حق ميں ضبط کيا جاتا تھا اور انہيں اسلامی معاشرے کی تمام مراعاتوں سے محروم کيا جاتا تھا اور اس سلسلے ميں آل ہاشم کو خاص طور پر نشانے پر رکھا گيا تھا۔

 ادھر آل اميہ کی عام پاليسی يہ تھی کہ وہ لوگوں کو خاندان وحی سے رابطہ کرنے سے روک ليتے تھے اور انہيں اہل بيت رسول (ص) کے خلاف اقدامات کرنے پر آمادہ کيا کرتے تھے وہ لوگوں کو اہل بيت عليہم السلام کی باتيں سننے تک سے روک ليتے تھے جيسا کہ يزيد کا دادا اور معاويہ کا باپ صخر ابن حرب ( ابو سفيان ) ابو جہل اور ابو لہب وغيرہ کے ساتھ مل کر بعثت کے بعد کے ايام ميں عوام کو رسول اکرم صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم کی باتيں سننے سے روک ليتے تھے اور ان سے کہتے تھے کہ آپ (ص) کی باتوں ميں سحر ہے، سنو گے تو سحر کا شکار ہو جاؤ گے۔

امام زين‏ العابدين عليہ السلام نے ايسے حالات ميں امامت کا عہدہ سنبھالا جبکہ صرف تين افراد آپ (ع) کے حقيقی پيروکار تھے اور آپ (ص) نے ايسے ہی حال ميں اپنی علمی و تہذيبی و تعليمی جدوجہد اور بزرگی علمی و ثقافتی شخصيات کی تربيت کا آغاز کيا اور ايک گہری اور مدبرانہ اور وسيع تحريک کے ذريعے امامت کا کردار ادا کرنا شروع کيا اور امام سجاد عليہ السلام کی يہی تعليمی و تربيتی تحريک امام محمد باقر اور امام جعفر صادق عليہما السلام کی عظيم علمی تحريک کی بنياد ثابت ہوئی۔ اسی بناء پر بعض مصنفين اور مؤلفين نے امام سجاد عليہ السلام کو " باعث الاسلام من جديد " یعنی نئے سرے سے اسلام کو متحرک اور فعال کرنے والے کا لقب ديا ہے۔

واقعے کے شاہد امام سجاد عليہ السلام کربلا ميں حسينی تحريک ميں شريک تھے اس ميں کسی کو کوئی اختلاف نہيں ہے ليکن تحريک حسينی کے آغاز کے ايام سے امام سجاد عليہ السلام کے معاشرتی اور سياسی کردار کے بارے ميں تاريخ ہميں کچھ زيادہ معلومات دينے سے قاصر نظر آ رہی ہے يعنی ہمارے پاس وسط رجب سے جب امام حسين عليہ السلام مدينہ منورہ سے مکہ معظمہ کی جانب روانہ ہوئے، مکہ ميں قيام کيا اور پھر کوفہ روانہ ہوئے اور 10 محرم سن 61 ہجری کو شہيد ہوئے ليکن امام سجاد عليہ السلام کے کردار کے بارے ميں تاريخ کچھ زيادہ اطلاعات ہم تک پہنچانے سے قاصر ہے اور تاريخ و سيرت اور سوانح نگاريوں ميں ہميں امام سجاد عليہ السلام شب عاشور دکھائی ديتے ہيں اور شب عاشورا امام سجاد عليہ السلام کا پہلا سياسی اور سماجی کردار ثبت ہو چکا ہے۔

امام سجاد عليہ السلام فرماتے ہيں: شب عاشور ميرے والد (سيد الشہداء فرزند رسول امام حسين ابن علی عليہ السلام) نے اپنے اصحاب کو بلوايا، ميں بيماری کی حالت ميں اپنے والد کی خدمت ميں حاضر ہوا تا کہ آپ (ع) کا کلام سن لوں، ميرے والد نے فرمايا:

ميں خداوند کی تعريف کرتا ہوں اور ہر خوشی اور ناخوشی ميں اس کا شکر ادا کرتا ہوں ... ميں اپنے اصحاب سے زيادہ با وفا اور بہتر اصحاب کو نہيں جانتا اور اپنے خاندان سے زيادہ مطيع و فرمانبردار اور اپنے قرابتداروں سے زيادہ صلہ رحمی کے پابند، قرابتدار نہيں جانتا۔ خداوند تم سب کو جزائے خير عنايت فرمائے۔ ميں جانتا ہوں کہ کل (روز عاشورا) ہمارا معاملہ ان کے ساتھ جنگ پر ختم ہو گا۔ ميں آپ سب کو اجازت ديتا ہوں اور اپنی بيعت تم سے اٹھا ديتا ہوں تا کہ تم فاصلہ طے کرنے اور خطرے سے دور ہونے کے لیے رات کی تاريکی کا فائدہ اٹھا سکو اور تم ميں سے ہر فرد ميرے خاندان کے ايک فرد کا ہاتھ پکڑ لے اور سب مختلف شہروں ميں منتشر ہو جاؤ تا کہ خداوند اپنی فراخی تمہارے لیے مقرر فرمائے کيونکہ يہ لوگ صرف مجھ سے سروکار رکھتے ہيں اور اگر مجھے اپنے نرغے ميں پائيں تو تم سے کوئی کام نہ رکھيں گے۔ اس رات امام سجاد عليہ السلام بيمار بھی تھے اور يہ حقائق بھی ديکھ رہے تھے چنانچہ آپ (ع) کے لیے وہ رات بہت عجيب و غريب رات تھی۔ آپ (ع) نے اس رات امام حسين عليہ السلام کی روح کی عظمت اور امام حسين عليہ السلام کے ساتھيوں کی شجاعت اور وفاداری کے اعلی ترين مراتب و مدارج کا مشاہدہ فرمايا جبکہ آپ (ع) اپنے آپ کو بعد کے ايام کے لیے تيار کر رہے تھے۔ حضرت علی ابن حسين عليھما السلام سے روايت ہے کہ آپ فرماتے ہيں :

جس شام کی صبح کو ميرے بابا شہيد کر دئیے گئے اسی شب ميں بيٹھا تھا اور ميری پھوپھی زينب ميری تيمار داری کر رہی تھيں۔ اسی اثنا ميں ميرے بابا اصحاب سے جدا ہو کر اپنے خيمے ميں آئے۔ آپ کے خيمے ميں جناب ابوذر کے غلام جَون بھی تھے جو آپ (ع) کی تلوار کو صيقل دے رہے تھے اور اس کی دھار سدھار رہے تھے جبکہ ميرے بابا يہ اشعار پڑھ رہے تھے :

يا دهر افٍّ لک من خليل کَمْ لَکَ في الاشراق و الأَصيلمن طالبٍ و صاحبٍ قتيل و الدّهر لا يقَنُع بالبدي لو انّما الأمر الي الجليل و کلُّ حيٍّ سالکُ سبيلا ،

اے دنيا اور اے زمانے ! اف ہے تيری دوستی پر کہ تو اپنے بہت سے دوستوں کو صبح و شام موت کے سپرد کرتے ہو اور مارتے ہوئے کسی کا عوض بھی قبول نہيں کرتی اور بے شک امور سارے کے سارے خدائے جليل کے دست قدرت ميں ہيں اور شک نہيں ہے کہ ہر ذی روح کو اس دنيا سے جانا ہے۔

بحار الانوار ج 45 ص 2

سيد الشہداء عليہ السلام شعر اور شمشير کيا امتزاج ہے اور کيا راوی ہيں اس نہايت لطيف و ظريف واقعے کے، امام سجاد عليہ السلام، تقريبا تمام مؤرخين کا اتفاق ہے کہ امام سجاد عليہ السلام کربلا ميں بيمار تھے اور يہ بيماری امت کے لیے خداوند کی ايک مصلحت تھی اور مقصد يہ تھا کہ حجت خداوندی روئے زمين پر باقی رہے اور اس کے کوئی گزند نہ پہنچے اور اللہ عز و جل کی ولايت اور رسول اللہ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم کی وصايت و ولايت کا سلسلہ منقطع نہ ہو چنانچہ امام سجاد عليہ السلام اسی بيماری کی وجہ سے ميدان جنگ ميں حاضر نہيں ہوئے، امام سجاد عليہ السلام اور امام باقر عليہ السلام آل محمد (ص) کے مردوں ميں سے دو ہی تھے جو زندہ رہے اور ہدايت امت کا پرچم سنبھالے رہے۔ امام محمد باقر عليہ السلام اس وقت 4 سال يا اس سے بھی کم عمر کے تھے۔

حضرت علی ابن الحسین (ع) کے دو مشہور لقب:

آپ کے دو مشہور لقب ہیں سجاد اور زین العابدین ، آپ کی ولادت با سعادت مدینہ منورہ میں سن 38 ہجری کو ہوئی، آپ کا اس وقت بچپن تھا جس وقت آپ کے جد امیر المومنین علی علیہ السلام پر مصائب پڑے اور آپ کے چچا امام حسن علیہ السلام کے ساتھ سازش کی گئی جس کے بعد آپ کو معاویہ سے صلح کرنا پڑی۔

اور جس وقت واقعہ کربلا نمودار ہوا اس وقت آپ کی جوانی کا عالم تھا آپ تمام مصائب کربلا میں شریک تھے یہاں تک کہ آپ کو اسیر کر کے شام لے جایا گیا لیکن آپ اور آپ کی پھوپھی جناب زینب سلام اللہ علیہا نے یزید کے مقصد کو ناکام بنا دیا کیونکہ یزید لوگوں کو یہ بتانا چاہتا تھا کہ ایک خارجی نے حکومت وقت پر خروج کیا تھا لہٰذا اس کے ساتھ یہ سب کچھ کیا گیا لیکن جناب سید سجاد اور جناب زینب سلام اللہ علیہما کے خطبوں کی وجہ سے یزید کا سارا ہدف خاک میں دفن ہو گیا۔

چنانچہ امام علیہ السلام کی زندگی میں واقعہ کربلا کے بعد جب مدینہ والوں نے یزیدی ظلم و جور کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تو واقعہ حرہ پیش آیا کہ جس میں یزید نے اپنی فوج کے لیے اہل مدینہ کے مال و دولت اور ناموس کو حلال کر دیا تھا اور انھوں نے ظلم و بربریت کا وہ درد ناک کھیل کھیلا کہ تاریخ شرمندہ ہے، اس واقعہ میں مروان ابن حکم جیسے آپ کے دشمن کو بھی سوائے آپ کے در دولت کے علاوہ کہیں پناہ نہ ملی۔

اور ان لوگوں کو اس وجہ سے امام علیہ السلام نے اپنے گھر میں پناہ دی تھی تا کہ تاریخ اور لوگوں کے لیے ایک عظیم درس مل جائے کہ الٰہی امام کا کردار کیسا ہوتا ہے۔ امام علیہ السلام نے حکومت وقت کے ظلم اور اہل بیت علیہم السلام کی مظلومیت کو اپنی دعاؤں میں بیان کرنا شروع کیا اور ان دعاؤں میں لوگوں کو تعلیم دینا شروع کیں، چنانچہ امام علیہ السلام کی یہ دعائیں مؤمنین میں رائج ہوتی چلیں گئیں۔ ان دعاؤں میں حاکم وقت کی حقیقت اور اس کے ظلم و جور کی طرف اشارہ کیا گیا تھا اور لوگوں کے ذہن کو ان سازشوں کی طرف متوجہ کیا کہ حکومت وقت تعلیمات دین کو ختم کرنا چاہتی ہے اور مقام اولیاء اللہ و اصفیاء اللہ پر قبضہ کرنا چاہتی ہے نیز حلال و حرام میں تحریف کرنا چاہتی ہے اور سنت رسول کو نابود کرنا چاہتی ہے۔

چنانچہ امام سجاد علیہ السلام نے ان سخت حالات کا مقابلہ اپنی دعاؤں کے ذریعہ کیا ، امام (ع) کی ان دعاوٴں کے مجموعہ کو صحیفہ سجادیہ کہا جاتا ہے، امام کی یہ عظیم میراث ہمارے لیے بلکہ ہر زمانے کے لیے حقیقت کو واضح کر دیتی ہے۔

امام سجاد علیہ السلام کی عظیم میراث میں سے ایک حقوق نامی رسالہ بھی ہے جس میں تمام خاص و عام حقوق بیان کیے گئے ہیں۔ جس کے مطالعہ کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ عوام الناس کے حقوق کیا ہیں اور خداوند کے حقوق کیا کیا ہیں، انسان کو اپنے اعضاء و جوارح پر کیا حق ہے اور کیا حق نہیں ہے۔ امام سجاد علیہ السلام کی شہادت سن 95 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

روز عاشورا امام زین العابدین (ع) پر غشی کا طاری ہونا:

اگر امام حسین علیہ السلام اپنی زندگی میں امام زین العابدین علیہ السلام کو اپنا وصی نہ بنا گئے ہوتے تو زمین و آسمان باقی نہ رہتے۔ یہ ضروری ہے کہ حجت ِخدا ہر وقت رہے۔ خلق سے پہلے بھی حجت خدا، بعد میں بھی ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ بھی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ولی اُٹھتا نہیں جب تک کہ دوسرے کو اپنا قائم مقام نہ بنا لے۔ آئمہ طاہرین میں یہی رہا۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام قید خانے میں ہیں اور زہر دے دیا گیا ہے اور آپ کی حالت بس قریب المرگ پہنچ چکی ہے۔ تیسرے دن آپ زمین سے اُٹھ نہیں سکتے تھے۔ لیٹ کر ہی اشاروں سے نمازیں ادا ہو رہی ہیں۔ ایک غلام تھا جو مقرر کیا گیا تھا کہ دروازہ اس وقت تک نہ کھولنا جب تک یہ مر نہ جائیں۔ یہ کھڑا ہوا ہے دروازے پر یہ تیسرے دن کا واقعہ ہے۔ اس کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ ایک نوجوان یکایک میرے سامنے آیا۔ وہ اتنا حسین تھا کہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے چودہویں رات کا چاند ہو۔ اُس نے حکم دیا کہ دروازہ کھول دو۔ میں نے کہا کہ بادشاہ کا حکم نہیں ہے۔

اُس نے کہا کہ ہٹتا کیوں نہیں۔ میرا باپ دنیا سے جا رہا ہے، میں اُس کی آخری زیارت کیلئے حاضر ہوا ہوں۔ چنانچہ غلام ایک طرف ہٹا۔ وہ جوان آگے ہوا، دروازہ خود بخود کھلا۔ وہ داخل ہوا اور دروازہ پھر بند ہو گیا۔ اس کو دیکھتے ہی امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے ہاتھ اُٹھا دئیے اور سینے سے لگا لیا۔ یہ کیوں ؟ یہ اس لیے کہ زمین حجت ِخدا سے خالی نہ رہ جائے۔

امام حسین علیہ السلام بھی آئے اپنے فرزند بیمار کے پاس۔ امام زین العابدین پر عالمِ غشی طاری ہے۔ آپ کو کچھ پتا نہیں کہ کیا ہو چکا۔ صبح سے اب تک آپ اس وقت آئے ہیں جب علی اصغر کو بھی دفن کر چکے۔ آخری رخصت کیلئے بیبیوں کے خیمے میں آئے ہیں اور آواز دی کہ میرا آخری سلام قبول کر لو۔ چنانچہ زینب نے پاس بلا لیا۔ بھائی سے لپٹ گئیں۔ بھیا ! کیا میرے سر سے چادر اُترنے کا وقت آ گیا ؟ کیا میرے بازوؤں کے بندھنے کا وقت آ گیا ؟ امام حسین (ع) نے آپ (ع) کو تسلیاں دیں۔ آپ نے فرمایا: بہن ! اتنی مضطرب نہ ہو۔ اگر تم اتنی مضطرب ہو جاؤ گی تو ان بیبیوں کو شام تک کون لے جائے گا ؟ تمہیں سنبھالنا ہے، خدا کے بعد یہ بیبیاں تمہارے حوالے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے بچے تمہارے حوالے ہیں۔ آپ نے وصیتیں کیں۔ اس کے بعد فرماتے ہیں: بہن ! ذرا مجھے میرے بیمار بیٹے تک پہنچا دو۔

جنابِ زینب امام زین العابدین علیہ السلام کے خیمے میں لے گئیں۔ خداوند کسی باپ کو بیٹے کی یہ حالت نہ دکھائے۔ عالمِ غشی میں پڑے ہیں۔ صبح سے بخار کی جو شدت ہوئی ہے تو آنکھ نہیں کھول سکے، امام زین العابدین علیہ السلام امام حسین کے پاس بیٹھ گئے، بیٹے کی شکل دیکھی۔ حالت ملاحظہ کی، آوازدی: بیٹا زین العابدین ! باپ کو آخری مرتبہ دیکھ لو۔ اب میں بھی جا رہا ہوں۔ امام زین العابدین کی آنکھ نہ کھلی۔ شانے پر ہاتھ رکھا۔ شانہ ہلایا، آنکھ نہ کھلی۔ آواز دی، آنکھ نہ کھلی۔ ایک مرتبہ نبض پر ہاتھ رکھا، بخار کی شدت معلوم ہوئی۔ انجام یاد آ گیا کہ تھوڑی دیر کے بعد کیا ہونے والا ہے ؟ آخر باپ کا دل تھا، مولا حسین رونے لگے۔ گرم گرم آنسو جو بیمار امام کے چہرے مبارک پر پڑے، آپ نے آنکھیں کھول دیں۔ دیکھا کہ ایک شخص سر سے پاؤں تک خون میں ڈوبا ہوا سامنے بیٹھا ہوا ہے۔ یہ دیکھ کر عابد ِ بیمار پریشان ہو گئے۔

امام حسین (ع) نے فوراً کہا: بیٹا ! گھبراؤ نہیں اور کوئی نہیں ، تمہارا مظلوم باپ ہے۔ امام زین العابدین علیہ السلام کو خیال آیا کہ میرے باپ کے اتنے دوست اور رفقاء تھے، یہ کس طرح زخمی ہو گئے؟ آپ پوچھتے ہیں: بابا ! حبیب ابن مظاہر کہاں گئے ؟ فرمایا: بیٹا ! وہ مارے گئے۔ کہا مسلم ابن عوسجہ کیا ہوئے ؟ کہا کہ وہ بھی مارے گئے۔ اس کے بعد پوچھا : پھر میرے بہادر اور جری چچا عباس علمدار کیا ہوئے ؟ فرمایا: دریا کے کنارے بازو کٹائے سو رہے ہیں۔ عرض کرتے ہیں: بابا ! پھر بھائی علی اکبر کہاں ہیں ؟ فرماتے ہیں: بیٹا ! کس کس کا پوچھو گے ؟ وہ بھی نہیں، صرف میں رہ گیا اور تم رہ گئے ہو۔

میں اس لیے آیا ہوں کہ تمہیں آخری وصیت کروں اور اسرار ِامامت سپرد کر دوں۔ اس کے بعد کچھ فرمایا کہ جس کا تعلق اسرارِ امامت سے تھا اور ایک مرتبہ اُٹھے کہ بیٹا میں جا رہا ہوں۔ اب نہیں آؤں گا۔ دیکھو ! ماں بہنوں کا ساتھ ہے بازاروں میں جانا ہے دربار میں جانا ہے، جلال میں نہ آ جانا۔

امام سجاد (ع) اور واقعۂ کربلا:

امام سجاد (ع) واقعۂ کربلا میں اپنے والد امام حسین (ع) اور اولاد و اصحاب کی شہادت کے دن، شدید بیماری میں مبتلا تھے اور بیماری کی شدت اس قدر تھی کہ جب بھی یزیدی سپاہی آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کرتے، ان ہی میں سے بعض کہہ دیتے تھے کہ اس نوجوان کے لیے یہی بیماری کافی ہے جس میں وہ مبتلا ہے۔

شیخ مفید، الارشاد، ج 2، ص 113

طبرسی، اعلام الوری،ج 1، ص 469

اسیری کے ایام:

عاشورا سن 61 کے بعد، جب لشکر یزید نے اہل بیت کو اسیر کر کے کوفہ منتقل کیا، تو ان میں سے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے علاوہ امام سجاد (ع) نے بھی اپنے خطبوں کے ذریعے حقائق واضح کیے اور حالات کی تشریح کی اور اپنا تعارف کراتے ہوئے یزید کے کارندوں کے جرائم کو آشکار کر دیا اور اہل کوفہ پر ملامت کی۔

مازندرانی، ابن شهر آشوب، مناقب آل ابیطالب، ج 3، ص 261

طبرسی، الاحتجاج، مشهد، ج 2، ص 305

شیخ عباس قمی، منتهی الامال،ج 1، ص 733

سید بن طاووس، اللہوف ، ص 220-222

طبرسی، الاحتجاج، ج 2، ص 306

شیخ عباس قمی، منتہی الامال، ج 1، ص 733

امام سجاد (ع) نے کوفیوں سے خطاب کرنے کے بعد ابن زیاد کی مجلس میں بھی موقع پا کر چند مختصر جملوں کے ذریعے اس مجلس کے حاضرین کو متاثر کیا۔ اس مجلس میں ابن زیاد نے امام سجاد (ع) کے قتل کا حکم جاری کیا لیکن حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے درمیان میں آ کر ابن زياد کے خواب کو سچا نہيں ہونے دیا۔

مجلسی، بحار الانوار ، ج 45، ص 117

سید بن طاووس، اللہوف، ص 228

اس کے بعد جب یزیدی لشکر اہل بیت (ع) کو خارجی اسیروں کے عنوان سے شام لے گیا تو بھی امام سجاد علیہ السلام نے اپنے خطبوں کے ذریعے امویوں کا حقیقی چہرہ بے نقاب کرنے کی کامیاب کوشش کی۔

جب اسیران آل رسول (ص) کو پہلی بار مجلس یزید میں لے جایا گیا تو امام سجاد (ع) کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ امام (ع) نے یزید سے مخاطب ہو کر فرمایا:

تجھے خدا کی قسم دلاتا ہوں تو کیا سمجھتا ہے اگر رسول اللہ (ص) ہمیں اس حال میں دیکھیں ! ؟ یزید نے حکم دیا کہ اسیروں کے ہاتھ پاؤں سے رسیاں کھول دی جائیں۔

سید بن طاووس، اللہوف ، ص 248

ابن سعد، الطبقات الکبری، ج 10، ص 448

حلّی، مثیر الاحزان، ص 78

ابو مخنف، مقتل الحسین، ص 240

ابن سعد، الطبقات الکبری، ج 10، ص 448

امام زین العابدین (ع) اور فقراء مدینہ کی کفالت:

ابن طلحہ شافعی نے لکھا ہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فقراء مدینہ کے 199 گھروں کی کفالت فرماتے تھے اور سارا سامان ان کے گھر پہنچایا کرتے تھے کہ جنہیں آپ نے یہ بھی معلوم نہ ہونے دیا تھا کہ یہ سامان خورد و نوش رات کو کون دے جاتا ہے۔ آپ کی عادت یہ تھی کہ بوریاں پشت پر لاد کر گھروں میں روٹی اور آٹا وغیرہ پہنچاتے تھے اور یہ سلسلہ تا بحیات جاری رہا۔

بعض معززین کا کہنا ہے کہ ہم نے اہل مدینہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ امام زین العابدین کی زندگی تک ہم خفیہ غذائی رسد سے محروم نہیں ہوئے۔

مطالب السؤل ص 265

نور الابصار ص 126

ابو حمزہ ثمالی سے مروی ہے کہ علی ابن الحسین (ع) راتوں کو کھانے پینے کی چیزوں کو اپنے کندھے پر رکھ کر اندھیرے میں خفیہ طور پر غربا اور مساکین کو پہنچا دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے:

جو صدقہ اندھیرے میں دیا جائے وہ غضب پروردگار کی آگ کو بجھا دیتا ہے۔

ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج 4، ص 393

محمد ابن اسحاق کہتا ہے: کچھ لوگ مدینہ کے نواح میں زندگی بسر کرتے تھے اور انہیں معلوم نہ تھا کہ ان کے اخراجات کہاں سے پورے کیے جاتے ہیں، علی ابن الحسین (ع) کی وفات کے ساتھ ہی انہيں راتوں کو ملنے والی غذائی امداد کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔

ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج 4، ص 393

راتوں کو روٹی کے تھیلے اپنی پشت پر رکھتے تھے اور محتاجوں کے گھروں کا رخ کرتے تھے اور کہتے تھے:

 راز داری میں صدقہ غضب پروردگار کی آگ کو بجھا دیتا ہے،

ان تھیلوں کو لادنے کی وجہ سے آپ کی کمر مبارک پر نشان پڑ گئے تھے اور جب آپ کا وصال ہوا تو آپ کو غسل دیتے ہوئے وہ نشانات آپ کے بدن پر دیکھے گئے۔

ابو نعیم اصفہانی، حلیة الاولیاء ج 3 ص 136

کشف الغمه ج 2 ص 77

مناقب آل ابی طالب ج 4 ص 154

صفة الصفوة ج 2 ص 154

خصال شیخ صدوق ص 616

علل الشرایع ص 231

بحار الانوار ج 45 ص 90

شہیدی، زندگانی علی بن الحسین (ع)، صص 147-148

ابن سعد روایت کرتا ہے کہ: جب کوئی محتاج آپ کے پاس حاضر ہوتا تو آپ فرماتے:

صدقہ سائل تک پہنچنے سے پہلے خداوند تک پہنچ جاتا ہے۔

طبقات ابن سعد ج 5 ص 160

شهیدی، زندگانی علی بن الحسین (ع)، ص 148

آپ کا ایک چچا زاد بھائی ضرورتمند تھا اور آپ راتوں کو شناخت کرائے بغیر آپ کو چند دینار پہنچا دیتے تھے اور وہ شخص کہتا تھا:

علی ابن الحسین قرابت کا حق ادا نہیں کرتے خدا انہیں اپنے اس عمل کا بدلہ دے۔ امام (ع) اس کی باتیں سن کر صبر و بردباری سے کام لیتے تھے اور اس کی ضرورت پوری کرتے وقت اپنی شناخت نہیں کراتے تھے۔ جب امام (ع) کا انتقال ہوا تو وہ احسان اس مرد سے منقطع ہوا اور وہ سمجھ گیا کہ وہ نیک انسان امام علی ابن الحسین (ع) ہی تھے، چنانچہ آپ کے مزار پر حاضر ہوا اور زار و قطار رویا۔

کشف الغمه ج 2 ص .107

ابو نعیم اصفہانی، حلیة الاولیاء ج 3 ص 140

شہیدی، زندگانی علی بن الحسین (ع)، ص 148

ابو نعیم نے بھی لکھا ہے کہ: امام سجاد (ع) نے دو بار اپنا پورا مال محتاجوں کے درمیان بانٹ دیا اور فرمایا:

خداوند مؤمن گنہگار شخص کو دوست رکھتا ہے جو توبہ کرے۔

حلیة الاولیاء ج3 ص 136

تاریخ طبری ج 3 ص 2482

طبقات ابن سعد ج5 ص162

شہیدی، زندگانی علی بن الحسین (ع)، ص 148

ابو نعیم ہی لکھتے ہیں: بعض لوگ آپ کو بخیل سمجھتے تھے لیکن جب دنیا سے رحلت کر گئے تو سمجھ گئے کہ ایک سو خاندانوں کی کفالت کرتے رہے تھے۔

صفة الصفوة ج 2 ص 54

حلیة الاولیاء ج 3 ص 136

طبقات ابن سعد ج 5 ص 164

شهیدی، زندگانی علی بن الحسین (ع)، ص 148

جب کوئی سائل آپ کے پاس آتا تو آپ فرماتے تھے:

آفرین ہے اس شخص پر جو میرا سفر خرچ آخرت میں منتقل کر رہا ہے۔

کشف الغمه ج 2 ص 77

مناقب آل ابی طالب ج 4 ص 154

حلیة الاولیاء ج 3 ص 136

بحار الانوار ج 45 ص 137

شهیدی، زندگانی علی بن الحسین (ع)، ص 148

طاغوت کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں کی حمایت:

شام کے شاہی دربار ميں امام سجاد اور سيدہ زينب سلام اللہ عليہما کے خطبوں اور مناظروں کے بعد شام کے لوگ يزيد اور اموی خاندان کے حقائق سے آگاہ ہوئے اور يزيد کو اپنی جان اور حکومت کا شديد خطرہ لاحق ہوا، جس کو بعد وہ عبيد اللہ ابن مرجانہ کو قصور وار ٹہرانے لگا۔

يزيد نے علی بن الحسين (ع) سے کہا: خدا ابن مرجانہ پر لعنت کرے ! جان ليں کہ خدا کی قسم ! اگر ميں آپ (ع) کے والد سے ملتا تو وہ جو بھی چاہتے ميں فراہم کرتا اور ان کے قتل کا سد باب کرتا خواہ اس راہ ميں مجھے اپنے بعض بچوں کی قربانی کيوں نہ دينی پڑتی، پر خدا نے کچھ ايسا ہی مقدر کيا تھا جو آپ نے ديکھا۔

علامہ محمد باقر مجلسي بحار الانوار ج 45 ص 145

تاہم يہ عوام کو دھوکہ دينے کی ايک کوشش تھی ورنہ اسيران آل محمد (ص) شام ميں کيوں ہوتے ؟ اور انہيں شام ميں کئی دن تک قيد کيوں کيا جاتا ؟ ان کے لیے دربار ميں مجلس جشن کيوں بپا کی جاتی اور انہيں طعنے کيوں ديئے جاتے ؟ اور بالآخر يہ کہ عبيد اللہ ابن مرجانہ اس کے بعد بھی کوفہ کا گورنر کيونکر رہ سکتا تھا ؟ اور يزيد اس کو شام بلوا کر اس کو کثير تحائف کيوں ديتا اور اس کو اپنے گھر ميں اپنے خاص فرد کے عنوان سے جگہ کيوں ديتا اور عيش و عشرت کی خاص محافل ميں اس کو شرکت کی دعوت کيوں ديتا ؟!

نتيجہ يہی ہے کہ يزيد نے شام ميں عوامی بغاوت کا سد باب کرنے اور عوام کی مزيد آگہی کا راستہ روکنے کے لیے اہل بيت (ع) کو مدينہ روانہ کيا۔

امام سجاد (ع) کی کار کردگی نے امويوں کا  چہرہ بے نقاب کر ديا تھا جو اسلام کے نام پر حکومت کر رہے تھے اور امت ان کو پہچان ہو چکی تھی کہ جسکے بعد اموی ملوکيت کے خلاف خونی تحريکوں کا آغاز ہوا۔

در حقيقت کربلا ميں سيد الشہداء عليہ السلام کی عظيم تحريک کو اسيران آل محمد (ع) کی تبلیغی تحريک نے زندہ و جاويد کر ديا تھا اور مسلمانوں ميں رزم و شجاعت اور ايثار کے جذبات کا ابھرنا اس کا فطری رد عمل تھا۔ اسلام پسندی اور طاغوت کے خلاف جہاد کے احساسات کو فروغ ملا اور عوام نے مختلف تحريکوں کے ذريعے آل ابی سفيان کی بادشاہت کی بساط لپيٹنے کی کوشش کی جس کا قليل المدتی نتيجہ بہت تھوڑے عرصے ميں آل ابی سفيان کے زوال کی صورت ميں ظہور پذير ہوا اور مروان امت مسلمہ پر مسلط ہوا۔

آل اميہ کے خلاف اٹھنے والی تحريکوں ميں قيام توابين، قيام مختار اور قيام مدينہ خاص طور پر قابل ذکر ہيں۔ اول الذکر دو تحريکوں نے امويوں کو شام تک محدود کر ديا تھا، ان کو امام سجاد عليہ السلام کی اخلاقی حمايت حاصل تھی، امام سجاد (ع) کی تعليمات ہی کے نتيجے ميں ہی واقعۂ کربلا کے نصف صدی بعد امام (ع) کے فرزند زيد ابن علی ابن الحسين (ع) کی تحريک نے امويوں کو سنجيدہ خطرات سے دوچار کيا۔ اس تحريک ميں اہل سنت کے امام ابو حنيفہ بھی شريک تھے۔

امام سجاد (ع) کی با مقصد اور اثر گذار سوگواری:

امام سجاد (ع) شہدائے کربلا کی ياد زندہ رکھنے کے لیے مختلف مواقع پر اپنے عزيزوں کے لیے گريہ و بکاء کرتے تھے۔ امام (ع) کے آنسو لوگوں کے جذبات کو متحرک کر ديتے تھے اور سننے اور ديکھنے والوں کے ذہنوں ميں شہدائے کربلا کی مظلوميت کا خاکہ بنا ديتے تھے۔ تحريک عاشورا کو جاری و ساری رکھنے ميں ان اشکوں کا بہت اہم کردار تھا اور آج بھی امام سجاد (ع) کی سنت پر عمل پيرا ہو کر مسلمانان عالم اس تحريک کو جاری رکھ رہے ہيں اور عزا داری اور سوگواری آج بھی کروڑوں شيدائی عزاداروں کے جذبات و احساسات کو حضرت ابا عبد اللہ الحسين عليہ السلام کی راہ و روش اور مقدس مشن سے جوڑنے کے سلسلے ميں اہم ترين سبب سمجھی جاتی ہے۔

پوچھا جاتا تھا کہ آپ (ع) کب تک عزادار رہيں گے تو آپ فرماتے تھے:

مجھ پر ملامت نہ کرو، حضرت يعقوب ابن اسحق ابن ابراہيم (ع) پيغمبر تھے جن کے والد اور دادا بھی پيغمبر تھے، ان کے بارہ بيٹے تھے جن ميں سے ايک کو خداوند نے کچھ عرصے کے لیے ان کی نظروں سے اوجھل کر ديا، اس وقتی جدائی کے غم سے يعقوب (ع) کے سر کے بال سفيد ہوئے، کمر خميدہ ہوئی اور ان کی آنکھوں کی روشنی شدت گريہ کی وجہ سے ختم ہوئی جبکہ ان کا بيٹا اسی دنيا ميں زندہ تھا، جبکہ ميں نے اپنی آنکھوں سے اپنے والد، بھائيوں اور خاندان کے 17 افراد کو مظلومانہ قتل ہوتے ہوئے اور زمين پر گرتے ہوئے ديکھا ہے، پس ميرا غم و اندوہ کيونکر ختم ہو گا اور ميرا گريہ کيونکر رکے گا۔

اللہوف سيد بن طاووس، ص 380

امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کا واقعہ:

امام سجاد علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی تو پورا مدینہ امام علیہ السلام کے سوگ میں عزادار ہو گیا، مرد و زن، گورا کالا اور چھوٹا بڑا سب امام کے غم میں گریاں تھے اور زمین و آسمان سے غم کے آثار نمایاں تھے۔

امام علی ابن الحسين عليہ السلام جو سجاد ، زين العابدين ، اور سيد الساجدين ، جیسے القاب سے مشہور تھے، کربلا میں آئے تو 22 سالہ نوجوان تھے۔

11 محرم کو عمر ابن سعد ملعون نے اپنے مقتولین کی لاشیں اکٹھی کروائیں اور ان پر نماز پڑھی اور انہیں دفنا دیا مگر امام حسین علیہ السلام اور اصحاب و خاندان کے شہداء کے جنازے دشت کربلا میں پڑے رہے۔  عمر سعد نے کوفہ کی طرف حرکت کا حکم دیا۔  عرب اور کوفے کے قبیلوں کے افراد نے ابن زیاد کی قربت اور خداوند کی لعنت حاصل کرنے کے لیے شہداء کے مطہر سروں کو آپس میں تقسیم کر کے نیزوں پر سجایا اور کوفہ جانے کے لیے تیار ہوئے اور حرم رسول اللہ (ص) کی خواتین، بچوں اور بچیوں کو بے چادر، اونٹوں پر سوار کیا گیا اور کفار کے اسیروں کی طرح انہیں کوفہ کی جانب لے گئے۔

جب یہ اسراء کوفے کے نزدیک پہنچے تو وہاں کے لوگ اسیروں کا تماشا دیکھنے کے لیے اکٹھے ہو گئے۔ ایک کوفی خاتون جو اپنے گھر کی چھت سے اسیروں کے کارواں کا تماشا دیکھ رہی تھی، نے اسراء سے پوچھا: تم کس قوم کے اسیر ہو ؟

جواب ملا : ہم اسیران آل محمد (ع) ہیں۔

چنانچہ وہ خاتون جلدی سے نیچے اتر آئی اور بیبیوں کے لیے چادریں، مقنعے اور لباس لے کر آئی۔

اب ذرا تصور کریں کہ امام سجاد علیہ السلام کا حال کیا رہا ہو گا ؟

ایک طرف سے بیماری کی وجہ سے نقاہت جسم مبارک پر طاری تھی، دوسری طرف سے اہل خاندان، بھائیوں، چچا زاد بھائیوں، رشتہ داروں، چچاؤں اور بابا کی شہادت سے دل ٹکڑے ٹکرے تھا اور پھر ان کے قلم شدہ سر آپ (ع) کے سامنے نیزوں پر جا رہے تھے مگر ان سب غموں اور دکھوں سے بڑا اور تکلیف دہ غم یہ تھا کہ آپ اس کے باوجود کہ امام تھے اور غیرت الہی کا مظہر تامّ و تمام تھے، آپ کے خاندان کی سیدانیاں بے مقنعہ و چادر آپ (ع) کے ہمراہ اسیر ہو کر جا رہی تھیں جبکہ چاروں طرف سے نامحرموں اور دشمنوں کی نظریں ٹکی ہوئی تھیں...

دار الامارہ میں اسیران آل محمد کے داخلے سے قبل، امام حسين (ع) کا سر مطہر ابن زياد کے سامنے لایا گیا۔ ابن مرجانہ کے ہاتھ میں خیزران کی ایک چھڑی تھی جس سے امام کے لب و دندان پر وہ بے ادبی کرنے لگا۔

یہ بے ادبی اور جسارت حاضرین کے اعتراض و تنقید کا باعث بنی۔ رسول اللہ (ص) کے صحابی اور جنگ صفین میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے ساتھ جہاد کرنے والے بزرگ صحابی زيد ابن ارقم جو اس وقت بہت بوڑھے ہو چکے تھے، نے عبيد اللہ سے خطاب کر کے تنبیہ کی:

اپنی چھڑی اٹھا لو ! خدا کی قسم میں نے پيغمبر اکرم (ص) کو دیکھا کہ جن لبوں اور دانتوں کو تم چھڑی مار رہے ہو، آپ (ص) ان کے بوسے لیا کرتے تھے۔ ابن ارقم یہ کہہ کر رونے لگے۔

یزید کے گورنر نے کہا: اگر تم پاگل اور عقل باختہ بوڑھے نہ ہوتے تو ابھی اسی وقت تمہارا سر قلم کر دیتا۔

ابن ارقم اسی وقت اٹھے اور دار الامارہ سے باہر نکلتے ہوئے کہا: اے عرب ! آج سے تم سب غلام بن گئے۔ تم نے فرزند فاطمہ (س) کو قتل کیا اور ابن مرجانہ کو اپنا امیر تسلیم کیا ! خدا کی قسم ! یہ شخص تمہارے نیک اور صالح افراد کو قتل کرے گا اور تمہارے جرائم پیشہ افراد سے کام لے گا۔

اسی مجمع میں رسول خدا (ص) کے ایک اور صحابی انس ابن مالک بھی موجود تھے جو امام حسین علیہ السلام کا سر دیکھ کر اور عبید اللہ کی جسارت کا مشاہدہ کر کے روئے اور کہا:

یہ رسول اللہ کے ساتھ بہت زیادہ شباہت رکھتے ہیں۔

اس کے بعد اسراء کو ابن زیاد کے دربار میں لایا گیا، ابن مرجانہ نے امام سجاد (ع) کو دیکھا تو کہا: تم کون ہو ؟

فرمایا: علی ابن الحسين،

اس ملعون نے کہا: کیا علی ابن الحسین کو خدا نے کربلا میں نہیں مارا ؟

امام نے فرمایا: میرے ایک بھائی کا نام بھی علی تھا کہ جنکو تمہارے لوگوں نے قتل کر ڈالا ہے۔

ابن زياد نے کہا: خدا نے مارا ہے اسے۔

امام نے فرمایا: اللہ یتوفی الانفس حین موتھا،

خدا موت کے وقت انسانوں کی روح اپنے قبضے میں لے لیتا ہے،

سورہ زمر آیت 42

ابن زياد نے غصے میں کہا: میرے جواب میں دلیری دکھاتے ہو ؟ اپنے جلادوں کو حکم دیا کہ ان کا کلام قطع کر دیں اور ان کا سر قلم کر دیں۔

اسی وقت حضرت زينب (س) نے فرمایا: اے پسر زياد ! تم نے جتنا ہمارا خون بہایا اتنا بس ہے اور امام سجاد کو جناب زینب نے اپنی آغوش میں لیا اور فرمایا: واللہ میں ان سے جدا نہ ہونگی۔ اگر تم انہیں مارنا چاہتے ہو تو مجھے بھی قتل کر دو۔

ابن زياد نے ان کی طرف دیکھا اور کہا: عجبا كہ یہ عورت اپنے بھتیجے کے ہمراہ قتل ہونا چاہتی ہے ! چھوڑو اس کو کیونکہ  یہ اپنی بیماری سے ہی مر جائے گا۔۔۔۔۔۔

امام سجاد (ع) نے اس کے بعد سفر شام کی مشقتیں، اسيری کے دکھ درد اور دربار یزید کے عذاب کو برداشت کیا… اور اپنی مبارک زندگی کے آخری ایام تک کربلا اور کوفہ و شام کے مصائب کو یاد کرتے تھے اور گریہ فرماتے تھے 

روايت ہے کہ مدینہ میں ایک باطل گو مسخرہ رہتا تھا جو اپنی بذلہ گوئی اور مذاق کے ذریعے لوگوں کو ہنسایا کرتا تھا۔ اس نے ایک روز کہا:

 علی ابن الحسين نے مجھے تھکا کر رکھ دیا ہے اور میں عاجز آ گیا ہوں کیونکہ میں نے جتنی بھی کوشش کی انہیں نہ ہنسا سکا۔

امام سجاد (ع) محرم الحرام سن 94 يا 95 ہجری، کو 57 سال کی عمر میں اموی بادشاہ عبد الملک ابن مروان کے حکم پر اس کے ایک ملعون بیٹے کے ہاتھوں مسموم ہوئے اور بستر شہادت پر لیٹ گئے۔

امام سجاد علیہ السلام نے بیماری کے عالم میں اپنی اولاد کو جمع کیا اور اپنے فرزند محمد ابن علی کہ وہ بھی کربلا کی مصیبتوں میں موجود تھے جبکہ اس وقت آپ کی عمر صرف 4 سال تھی، کو اپنا وصی مقرر کیا اور انہیں باقر نام دیا اور اپنی دیگر اولاد کی ذمہ داری آپ کے سپرد کی اور انہیں نصیحت و وصیت کی۔

اس کے بعد امام باقر علیہ السلام کو اپنے سینے سے لگایا اور فرمایا:

میں تمہیں وہی وصیت کرتا ہوں جو میرے بابا نے مجھے اپنی شہادت کے دن وصیت کی تھی اور کہا تھا کہ انہیں ان کے والد گرامی نے وصیت کی تھی اپنی شہادت کے وقت اور وہ یہ ہے کہ:

 ہرگز اس شخص پر ظلم مت کرنا جس کا خدا کے علاوہ کوئی دوسرا یار و مدد گار نہ ہو۔

امام سجاد (ع) کا قاتل:

حضرت علی ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب (ع) ولید ابن عبد الملک کی بادشاہی کے زمانے میں شہید ہوئے۔ چنانچہ عمر ابن عبد العزیز بادشاہ بنا تو کہا: ولید ایک جابر و ظالم شخص تھا جس نے خدا کی زمین کو ظلم و جور سے بھر دیا تھا۔ اس شخص کے دور میں پیروان آل محمد (ص)، خاندان رسالت اور بالخصوص امام سجاد (ع) کے ساتھ مروانیوں اور امویوں کا رویہ بہت ظالمانہ اور سفاکانہ تھا۔

گو کہ مدینہ کا والی ہشام ابن اسماعیل مروان کے زمانے سے مدینہ منورہ پر مسلط تھا لیکن ولید کے دور میں اس کا رویہ بہت ظالمانہ تھا اور اس نے امام سجاد (ع) کے ساتھ شدت آمیز برتاؤ روا رکھا۔ اس نے اہل مدینہ پر اتنے مظالم ڈھائے کہ ولید ابن عبد الملک نے اس کو منصب سے ہٹا دیا اور اپنے باپ مروان کے گھر کے دروازے کے ساتھ رکھا تا کہ لوگ اس سے اپنا بدلہ لے سکیں۔ یہ شخص خود کہا کرتا تھا کہ امام سجاد (ع) سے خوفزدہ ہے اور اس کو ڈر تھا کہ امام سجاد (ع) اس کی شکایت کریں گے، امام سجاد (ع) اپنے اصحاب کے ہمراہ مروان کے گھر کے سامنے سے گزرے جہاں ہشام ابن اسماعیل کی شکایتیں ہو رہی تھیں لیکن امام اور آپ کے ساتھیوں نے ایک گرے ہوئے منکوب شخص کی کسی سے کوئی شکایت نہیں کی اور ہشام چلّا اٹھا کہ:

الله اعلم حیث یجعل رسالته،

خدا خود ہی جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کس خاندان میں قرار دے۔

بلکہ روایت میں ہے کہ امام سجاد (ع) نے معزول مروانی گورنر کو اس کے تمام مظالم اور جرائم بھلا کر پیغام بھیجا کہ اگر تم تنگدست ہو تو ہم تمہاری مدد کے لیے تیار ہیں۔

مؤرخین کے درمیان اختلاف ہے بعض کا کہنا ہے کہ امام سجاد (ع) ولید ابن عبد الملک کے ہاتھوں مسموم ہوئے اور بعض دوسرے کہتے ہیں کہ آپ کو ولید کے بھائی ہشام ابن عبد الملک نے مسموم کیا لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ خواہ ہشام ہی امام کا قاتل کیوں نہ ہو، وہ یہ کام ولید کی اجازت کے بغیر نہیں کر سکتا تھا چنانچہ ولید ابن عبد الملک ابن مروان ابن العاص رو سیاہ ہی امام سجاد (ع) کا قاتل ہے۔

بحار الانوار،‌ج 46، ص 152، حدیث 12 و ص 153 و 154

مدینہ منورہ کے عوام اور امام سجاد (ع) کی شہادت کا سوگ:

امام سجاد (ع) کو شدید دور کا سامنا تھا لیکن آپ نے 35 سالہ انسانی اور الہی سیرت و روش کے ذریعے لوگوں کو اپنا مجذوب بنا رکھا تھا اور امامت کی خوبصورت تصویر ان کی نظروں کے سامنے رکھی تھی چنانچہ آپ کی شہادت کی خبر جنگل کی آگ کی مانند پورے شہر مدینہ میں پھیل گئی اور لوگ جنازے میں شرکت کے لیے جمع ہو گئے۔

سعید ابن مسیب روایت کرتے ہیں کہ جب امام سجاد (ع) شہید ہو گئے تو مدینہ کے تمام باشندے نیک انسانوں سے لے کر بد کردار انسانوں تک، سب آپ کے جنازے میں شریک ہوئے، سب آپ کی تعریف و تمجید کر رہے تھے اور اشکوں کے سیلاب رواں تھے، امام کے جنازے میں سب نے شرکت کی حتی کہ مسجد النبی (ص) میں ایک شخص بھی نہیں رہا تھا کہ جو اس جنازے میں شریک نہ ہوا ہو۔

بحار الانوار، ‌ج 46، ص 150

امام سجاد (ع) کا ایک اونٹ تھا جو 22 مرتبہ آپ کے ہمراہ سفر حج پر گیا تھا اور حتی کہ امام نے ایک بار بھی اس کو تازیانہ نہیں مارا تھا۔ امام نے اپنی شہادت کی شب سفارش کی کہ اونٹ کا خیال رکھا جائے۔ جب امام سجاد (ع) نے شہادت پائی تو اونٹ اٹھ کر سیدھا امام کی قبر مطہر پر پہنچا اور قبر پر گر گیا جبکہ اپنی گردن زمین پر مار رہا تھا اور اس کی آنکھوں سے اشک رواں تھے۔ امام محمد باقر (ع) اطلاع پا کر اپنے والد کی قبر پر پہنچے اور اونٹ سے کہا: آرام ہو جاؤ یا پر سکوں ہو جاؤ، اٹھو خدا تجھ کو مبارک قرار دے۔

اونٹ پر سکوں ہو گیا اور اٹھ کر چلا گیا لیکن تھوڑی دیر بعد واپس لوٹا اور اپنی پہلے والی حرکتیں دہرایں اور امام باقر (ع) نے آ کر اس کو لوٹا دیا لیکن تیسری مرتبہ وہ پھر بھی قبر پر پہنچا تو امام باقر (ع) نے فرمایا:

اونٹ کو اپنے حال پر چھوڑ دو کیونکہ وہ جانتا ہے کہ عنقریب مر جائے گا۔

روایت میں ہے کہ امام سجاد (ع) کی شہادت کے تین دن مکمل نہیں ہوئے تھے کہ اونٹ بھی دنیا سے رخصت ہو گیا۔

بحار الانوار، ‌ج 46، ص147 و 148، حدیث 2 و 3 و 4 به نقل از بصائر الدرجات و اختصاص

اصول کافی ج 1، ص 467، حدیث 2 و 3 و4

آپ کی شہادت اموی حاکم ولید ابن عبد الملک کے زہر دینے سے ہوئی۔

علی بن یوسف حلی ،العدد القویہ316

محمد بن جریر طبری،دلائل الامامہ،ص192

ابن شہر آشوب، مناقب علی بن ابی طالب ج 3 ص 311

شہادت کے وقت عمر مبارک مشہور قول کے مطابق57 سال تھی۔

ابن شہر آشوب، مناقب علی بن ابی طالب ج 3 ص 311

محمد طبری،دلائل الامامہ 191

کلینی،الکافی ج 1 ص 466

شیخ مفید ،الارشاد، ج 2 ص 137

شیخ طبرسی،اعلام الوری ج 1 480

علی بن یوسف حلی ،العدد القویہ ص 316

آپ نے امام علی علیہ السلام، امام حسن مجتبی علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی حیات اور ادوار امامت کا ادراک کیا ہے اور معاویہ ملعون کی طرف سے عراق اور دوسرے علاقوں کے شیعیان آل رسول (ص) کو تنگ کرنے اور ان پر دباؤ بڑھانے کی سازشوں کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں۔

اہل سنت کی تاریخی روایات کے راوی محمد ابن عمر الواقدی، نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے:

علی بن الحسین (زین العابدین) نے 58 سال کی عمر میں وفات پائی اور اس کے بعد لکھا ہے:

اس لحاظ سے امام سجاد (ع) 23 یا 24 سال کی عمر میں کربلا کے مقام پر اپنے والد امام حسین (ع) کی خدمت میں حاضر تھے۔

ابن ‌سعد، طبقات الکبری، ج 5، ص 222

ابن منظور، مختصر تاریخ دمشق، ج 17، ص 256

اربلی، کشف الغمہ، ج 2، ص 191

امام سجاد (ع) سن 94 یا 95 ہجری میں اس زہر کے ذریعے جام شہادت نوش کر گئے جو ولید ابن عبد الملک ملعون کے حکم پر انہيں کھلایا گیا تھا۔ آپ (ع) کو جنت البقیع میں چچا امام حسن مجتبی (ع) کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔

شبراوی، الاتحاف بحب الاشراف، ص 143

ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج 4، ص 386 و 391

مزی، تہذیب الکمال، ج 13، ص 238

س‍ی‍وطی، الطبقات الحفّاظ، ص 37

ابن خ‍ل‍ک‍ان، ‌وفیات الاعیان، ج 3، ص 269

مسعودی، مروج الذہب، ج 3 ص 123

جس طرح آپکی جائے پیدائش مدینہ منورہ کے متعلق کسی نے اختلاف نہیں کیا اسی طرح مقام دفن مدینہ ہونے کے متعلق بھی کسی نے اختلاف نہیں کیا ہے۔

امام سجاد (ع) کے دور میں شروع ہونے والی تحریکیں:

امام سجاد علیہ السلام کے زمانے میں اور کربلا کے واقعے کے بعد مختلف تحریکیں اٹھیں جن میں سے اہم ترین کچھ یوں ہیں:

واقعۂ حَرَہ:

کربلا کا واقعہ رونما ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد مدینہ کے عوام نے اموی حکومت اور یزید ابن معاویہ کے خلاف قیام کر کے حرہ کی تحریک کا آغاز کیا۔ اس تحریک کی قیادت جنگ احد میں جام شہادت نوش کرنے والے حنظلہ غسیل الملائکہ کے بیٹے عبد اللہ ابن حنظلہ کر رہے تھے اور اس قیام کا نصب العین اموی سلطنت اور یزید ابن معاویہ اور اس کی غیر دینی اور غیر اسلامی روش کی مخالفت اور اس کے خلاف جدوجہد، تھا۔

امام سجاد (ع) اور دوسرے ہاشمیوں کی رائے اس قیام سے سازگار نہ تھی چنانچہ امام (ع) اپنے خاندان کے ہمراہ مدینہ سے باہر نکل گئے۔ امام زین العابدین (ع) کی نظر میں یہ قیام نہ صرف ایک شیعہ قیام نہ تھا بلکہ در حقیقت آل زبیر کی پالیسیوں سے مطابقت رکھتا تھا، اور آل زبیر کی قیادت اس وقت عبد اللہ ابن زبیر ناصبی کر رہا تھا اور عبد اللہ ابن زبیر وہ شخص تھا جس نے جنگ جمل کے اسباب فراہم کیے تھے۔ یہ قیام یزید کے بھجوائے گئے کمانڈر مسلم ابن عقبہ نے کچل ڈالا جس نے اپنے مظالم کی بناء پر مسرف کا لقب پایا تھا۔

رمخشری، ربیع الابرار، ج1، ص353

طبری، تاریخ الطبری، ج5، ص245

دینوری، الامامه و السیاسه، ج1، ص208

حرہ کے واقعے میں یزیدی لشکر کے حملے میں مسلم ابن عقبہ نے 700 عمائدین سمیت اہل مدینہ کے دس ہزار افراد کو قتل کیا۔

خلیفة بن خیاط، تاریخ خلیفة بن خیاط، قسم1، ص291

ابن قتیبہ لکھتا ہے کہ یزید کے کمانڈر مسلم ابن عقبہ نے صحابہ میں سے 70 افراد کو قتل کر کے ان کے سر تن سے جدا کر دیئے۔

دینوری، ابو محمد ابن قتیبة الامامة والسیاسة، ج 1، ص 213 212٫

مسلم ابن عقبہ نے اہل مدینہ کے جان و مال کو غارت کرنے کے بعد یزید کے براہ راست حکم پر تین دن تک مدنی عوام کی ناموس کو اپنی سپاہ کے لیے مباح کر دیا اور ایک ہزار کنواری لڑکیوں کی بکارت زائل ہوئی اور حرہ کے بعد ہزاروں عورتوں نے بنا شوہر کے زنا کے بچوں کو جنم دیا جن کو اولاد الحرہ کا نام دیا گیا۔

ایک قول کے مطابق 10 ہزار کنواری لڑکیوں کو زيادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے بعد اہلیان مدینہ نے آزاد مسلمانوں کے طور پر نہيں بلکہ عبد یزید (یزید کے بندوں) کے طور پر یزید کی بیعت کی اور جس نے بیعت سے انکار کیا مسرف نے اسے سپرد شمشیر کیا۔ سوائے علی ابن عبد اللہ ابن عباس کے جس کو مسرف کی فوج میں موجود اپنے رشتہ داروں نے بچا لیا۔

مسعودی، ابو الحسن على، مروج الذهب، ج1، ص 328٫

تحریک حرہ کے فعال کارکنوں نے مسرف کی چڑھائی سے قبل ایک ہزار امویوں یا امویوں کے خواہوں کو مدینہ سے نکال باہر کیا تو بعض اموی خاندانوں نے امام سجاد (ع) کے گھر میں پناہ لی اور جب مسرف کے فوجیوں نے شہر میں لوٹ مار کا آغاز کیا تو امام (ع) کا گھر مدنی مظلومین کے لیے پر امن ٹھکانے میں تبدیل ہوا تھا اور حتی کہ مسرف کی واپسی تک 100 کے قریب خواتین اور بچے آپ کے گھر میں تھے اور ان کی ضروریات پوری ہوتی رہیں۔

طبرى‏، أبو جعفر محمد بن جریر، تاریخ طبرى ج 2، ص 482٫

توابین کا قیام:

توابین کی تحریک واقعۂ کربلا کے بعد اٹھنے والی تحریکوں میں سے ایک تحریک تھی جس کی قیادت سلیمان ابن صرد خزاعی سمیت شیعیان کوفہ کے چند سرکردہ بزرگ کر رہے تھے۔ توابین کی تحریک کا نصب العین یہ تھا کہ بنو امیہ پر فتح پانے کی صورت میں مسلمانوں کی امامت و قیادت کو اہل بیت (ع) کے سپرد کریں گے اور فاطمہ سلام اللہ علیہا کی نسل سے اس وقت علی بن الحسین (ع) کے سوا کوئی بھی نہ تھا جس کو امامت مسلمین سونپی جا سکے۔ تاہم امام علی ابن الحسین (ع) اور توابین کے درمیان کوئی باقاعدہ سیاسی ربط و تعلق نہ تھا۔

جعفری، تشیع در مسیر تاریخ، ص286

امیر مختار کا قیام:

مختار ابن ابی عبید ثقفی کا قیام، یزید اور امویوں کی حکمرانی کے خلاف واقعۂ عاشورا کے بعد تیسری بڑی تحریک کا نام ہے جو واقعۂ حرہ اور قیام توابین کے بعد شروع ہوئی۔ اس تحریک کے امام سجاد (ع) کے ساتھ تعلق کے بارے میں بعض ابہامات پائے جاتے ہیں۔ یہ تعلق نہ صرف سیاسی تفکرات کے لحاظ سے بلکہ محمد ابن حنفیہ کی پیروی کے حوالے سے، اعتقادی لحاظ سے بھی مبہم اور اس کے بارے میں کوئی یقینی موقف اپنانا مشکل ہے۔

روایت میں ہے کہ جب مختار نے کوفہ کے بعض شیعیان اہل بیت (ع) کی حمایت حاصل کرنے کے بعد امام سجاد علیہ السلام کے ساتھ رابطہ کیا مگر امام (ع) نے خیر مقدم نہیں کیا۔

طوسی، رجال الکشی، ص126

طوسی، اختیار معرفة الرجال، ص 126

امام سجاد (ع) کے علمی آثار اور کاوشیں:

حدیث امام سجاد (ع) کی التجا بدرگاہ پروردگار:

اللهم اجعلني أهابهما هيبة السلطان العسوف، وأبرهما بر الام الرؤف، واجعل طاعتي لوالدي وبري بهما أقر لعيني من رقدة الوسنان، وأثلج لصدري من شربة الظمأن حتى أوثر على هواي هواهما، وأقدم على رضاي رضاهما، وأستكثر برهما بي وإن قل، وأستقل بري بهما وإن كثر۔

بار پروردگارا ! مجھے یوں قرار دے کہ والدین سے اس طرح ڈروں جس طرح کہ کسی جابر بادشاہ سے ڈرا جاتا ہے اور اس طرح ان کے حال پر شفیق و مہربان رہوں کہ جسطرح شفیق ماں اپنی اولاد پر شفقت کرتی ہے اور ان کی فرما نبرداری اور ان سے حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کو میری آنکھوں کے لیے، چشم خواب آلود میں نیند کے خمار سے زیادہ، کیف افزا اور میرے قلب و روح کے لیے، پیاسے شخص کے لیے ٹھنڈے پانی سے زیادہ، دل انگیز قرار دے، حتی کہ میں ان کی خواہش کو اپنی خواہشات پر فوقیت دوں اور ان کی خوشنودی کو اپنی خوشی پر مقدم رکھوں اور جو احسان وہ مجھ پر کریں اس کو زیادہ سمجھوں خواہ وہ کم ہی کیوں نہ ہو اور ان کے ساتھ اپنی نیکی کو کم سمجھوں خواہ وہ زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔

صحیفہ سجادیہ، دعای 24، ص 152

صحیفہ سجادیہ اور رسالۃ الحقوق امام سجاد (ع) کی کاوشوں میں سے ہیں۔

شہیدی، علی بن الحسین، ص191-169

صحیفہ سجادیہ، امام سجاد (ع) کی دعاؤں پر مشتمل کتاب ہے جو صحیفہ کاملہ، اخت القرآن، انجیل اہل بیت اور زبور آل محمد کے نام سے مشہور ہے۔

رسالۃ الحقوق بھی امام سجاد علیہ السلام سے منسوب رسالہ ہے جو مشہور روایت کے مطابق 50 حقوق پر مشتمل ہے اور زندگی میں ان کو ملحوظ رکھنا ہر انسان پر لازم ہے۔ پڑوسیوں کا حق، دوست کا حق، قرآن کا حق، والدین کا حق اور اولاد کا حق، ان حقوں میں شامل ہیں۔

شهیدی، علی بن الحسین، ص170-169

امام سجاد (ع) کے قریبی اصحاب:

ایک روایت کے ضمن میں منقول ہے کہ امام سجاد (ع) کو صرف چند افراد کی معیت حاصل تھی:

سعید ابن جبیر، سعید ابن مسیب، محمد ابن جبیر ابن مطعم، یحیی ابن ام طویل، ابو خالد کابلی۔

طوسی، اختیار معرفة الرجال، ص 115

طوسی، اختیار معرفة الرجال، ص 123

شیخ طوسی، نے امام سجاد (ع) کے اصحاب کی مجموعی تعداد 173 بیان کی ہے۔

طوسی، اختیار معرفة الرجال، ص 115

امام سجاد (ع) شیعیان اہل بیت (ع) کی قلت کا شکوہ کرتے تھے اور فرماتے تھے مکہ اور مدینہ میں ہمارے حقیقی پیروکاروں کی تعداد 20 افراد سے بھی کم ہے۔

ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، ج 4، ص 104

مجلسی، بحار الانوار، ج 46، ص 143

کتاب الغارات، ص 573

يا اَبَا الْحَسَنِ يا عَلِىَّ بْنَ الْحُسَيْنِ يا زَيْنَ الْعابِدينَ يَا بْنَ رَسُولِ اللّهِ يا حُجَّةَ اللّهِ عَلى خَلْقِهِ يا سَيِّدَنا وَمَوْلينا اِنّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِكَ اِلَى اللّهِ وَقَدَّمْناكَ بَيْنَ يَدَىْ حاجاتِنا يا وَجيهاً عِنْدَ اللّهِ اِشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللّهِ ۔۔۔۔۔

التماس دعا۔۔۔۔۔

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی