2018 September 24
ابوبکر کا حضرت زہرا (س) کے گھر پر حملہ کرنے کا اقرار کرنا۔
مندرجات: ١٣٠٩ تاریخ اشاعت: ٢١ February ٢٠١٨ - ١٧:٣١ مشاہدات: 896
مضامین و مقالات » پبلک
ابوبکر کا حضرت زہرا (س) کے گھر پر حملہ کرنے کا اقرار کرنا۔

بیان شبہ:

عبد الرحمن دمشقيہ مصنف معاصر وہابی ناصبی نے ایک مقالہ بعنوان « قصة حرق عمر رضي الله عنه لبيت فاطمة رضي الله عنها »لکھا ہے کہ جو سایٹ «فيصل نور» میں بھی موجود ہے۔ اس نے ابن ابی شیبہ کی روایت کے بارے میں لکھا ہے کہ:

1. وددت أني لم أحرق بيت فاطمة... (قول أبي بكر). فيه عُلْوان بن داود البجلي (لسان الميزان، ج4، ص218، ترجمه رقم 1357- 5708 و ميزان الاعتدال، ج3، ص108، ترجمه رقم 5763) قال البخاري وأبو سعيد بن يونس وابن حجر والذهبي «منكر الحديث» وقال العُقيلي (الضعفاء للعُقيلي، ج3، ص420).

ابوبکر کی روایت میں داوود ابن عُلْوان بَجَلِی کا نام آیا ہے کہ بخاری، ابو سعيد ابن يونس، ابن حجر اور عقيلی نے اسکو منكر الحديث کہا ہے۔

اصل روايت منابع اہل سنت میں:

ابن زنجويہ نے کتاب الأموال، ابن قتيبہ دينوری نے کتاب الإمامۃ والسياسۃ، طبری نے اپنی تاريخ، ابن عبد ربہ نے کتاب العقد الفريد، مسعودی نے کتاب مروج الذهب، طبرانی نے کتاب المعجم الكبير، مقدسی نے کتاب الأحاديث المختاره، شمس الدين ذہبی نے کتاب تاريخ الإسلام میں ان تمام معتبر علماء نے ابوبکر کے اعتراف کرنے والی روایت کو بہت تھوڑے اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے۔ ہم اس روایت کے اصل متن کو تیسری صدی کے اہل سنت کے عالم ابن زنجویہ کی کتاب الاموال سے نقل کرتے ہیں:

أنا حميد أنا عثمان بن صالح، حدثني الليث بن سعد بن عبد الرحمن الفهمي، حدثني علوان، عن صالح بن كيسان، عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف، أن أباه عبد الرحمن بن عوف، دخل علي أبي بكر الصديق رحمة الله عليه في مرضه الذي قبض فيه ... فقال [أبو بكر] : « أجل إني لا آسي من الدنيا إلا علي ثَلاثٍ فَعَلْتُهُنَّ وَدِدْتُ أَنِّي تَرَكْتُهُنَّ، وثلاث تركتهن وددت أني فعلتهن، وثلاث وددت أني سألت عنهن رسول الله (ص)، أما اللاتي وددت أني تركتهن، فوددت أني لم أَكُنْ كَشَفْتُ بيتَ فاطِمَةَ عن شيء، وإن كانوا قد أَغْلَقُوا علي الحرب....

عبد الرحمن ابن عوف ، ابوبکر کی بیماری کے ایام میں اسکے پاس اسکی عیادت کرنے گیا اور اسے سلام کیا، باتوں باتوں میں ابوبکر نے اس سے ایسے کہا:

مجھے کسی شے پر کوئی افسوس نہیں ہے، مگر صرف تین چیزوں پر افسوس ہے کہ اے کاش میں تین چیزوں کو انجام نہ دیتا، اور اے کاش کہ تین چیزوں کو انجام دیتا، اور اے کاش کہ تین چیزوں کے بارے میں رسول خدا سے سوال پوچھ لیتا، اے کاش میں فاطمہ کے گھر کی حرمت شکنی نہ کرتا، اگرچہ اس گھر کا دروازہ مجھ سے جنگ کرنے کے لیے ہی بند کیا گیا ہوتا۔۔۔۔۔

الخرساني، أبو أحمد حميد بن مخلد بن قتيبة بن عبد الله المعروف بابن زنجويه (متوفي251هـ) الأموال، ج 1، ص 387؛

الدينوري، أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة (متوفي276هـ)، الإمامة والسياسة، ج 1، ص 21، تحقيق: خليل المنصور، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1418هـ - 1997م، با تحقيق شيري، ج1، ص36، و با تحقيق، زيني، ج1، ص24؛

الطبري، محمد بن جرير (متوفي 310هـ)، تاريخ الطبري، ج 2، ص 353، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت؛

الأندلسي، احمد بن محمد بن عبد ربه (متوفي: 328هـ)، العقد الفريد، ج 4، ص 254، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الثالثة، 1420هـ - 1999م؛

المسعودي، أبو الحسن علي بن الحسين بن علي (متوفي346هـ) مروج الذهب، ج 1، ص 290؛

الطبراني، سليمان بن أحمد بن أيوب أبو القاسم (متوفي360هـ)، المعجم الكبير، ج 1، ص 62، تحقيق: حمدي بن عبدالمجيد السلفي، ناشر: مكتبة الزهراء - الموصل، الطبعة: الثانية، 1404هـ - 1983م؛

العاصمي المكي، عبد الملك بن حسين بن عبد الملك الشافعي (متوفي1111هـ)، سمط النجوم العوالي في أنباء الأوائل والتوالي، ج 2، ص 465، تحقيق: عادل أحمد عبد الموجود- علي محمد معوض، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1419هـ- 1998م.

عبد الرحمن دمشقیہ کے شبہے کا جواب:

جواب اول: اسی روایت کا دوسری اسناد کے ساتھ نقل ہونا:

یہ روایت متعدد اسناد کے ساتھ نقل کی گئی ہے کہ ان میں سے صرف ایک سند میں «علوان ابن داوود» موجود ہے، شمس الدين ذہبی نے روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ:

رواه هكذا وأطول من هذا ابن وهب، عن الليث بن سعد، عن صالح بن كيسان، أخرجه كذلك ابن عائذ.

ابن وہب اور ابن عائذ نے اس روايت کو زیادہ تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفي748هـ)، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج 3، ص 118، تحقيق د. عمر عبد السلام تدمري، ناشر: دار الكتاب العربي - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولي، 1407هـ - 1987م.

اس سند میں کہیں بھی علوان ابن داوود کا نام نہیں آیا اور ليث ابن سعد نے بطور مستقيم اس روایت کو صالح ابن كيسان سے نقل کیا ہے۔

ابن عساكر نے بھی اسی روایت کو ایک دوسری سند کے ساتھ نقل کیا ہے:

أخبرنا أبو البركات عبد الله بن محمد بن الفضل الفراوي وأم المؤيد نازيين المعروفة بجمعة بنت أبي حرب محمد بن الفضل بن أبي حرب قالا أنا أبو القاسم الفضل بن أبي حرب الجرجاني أنبأ أبو بكر أحمد بن الحسن نا أبو العباس أحمد بن يعقوب نا الحسن بن مكرم بن حسان البزار أبو علي ببغداد حدثني أبو الهيثم خالد بن القاسم قال حدثنا ليث بن سعد عن صالح بن كيسان عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن أبيه.................................

اور روایت کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے کہ:

كذا رواه خالد بن القاسم المدائني عن الليث وأسقط منه علوان بن داود وقد وقع لي عاليا من حديث الليث وفيه ذكر علوان.

مدائنی نے اس روايت کو لیث سے نقل کیا ہے اور اس میں بھی علوان ابن داوود کا نام نہیں آیا اور وہ روایت کہ جسکو میں نے لیث سے نقل کیا ہے کہ جسکی سند میں علوان بھی ہے، وہ روایت بہت ہی مختصر سند کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔

ابن عساكر الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله (متوفي571هـ)، تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج 30، ص417 ـ 419، تحقيق محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1995.

بلاذری نے کتاب انساب الأشراف میں اسی روایت کو مندرجہ ذیل سند کے ساتھ نقل کیا ہے:

حدثني حفص بن عمر، ثنا الهيثم بن عدي عن يونس بن يزيد الأيلي عن الزهري أن عبد الرحمن بن عوف قال: دخلت علي أبي بكر في مرضه..........................

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفي279هـ) أنساب الأشراف، ج 3، ص 406 ، طبق برنامه الجامع الكبير.

روایت مستفیض کا متعدد اسناد کے ساتھ محکم و معتبر ہونا:

یہ روایت کم از کم تین متعدد اسناد کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ اگر مثال کے طور پر فرض بھی کر لیں کہ ان تینوں سندوں میں کوئی نہ کوئی علمی مسئلہ ہے تو پھر بھی ہم اس روایت کے حجت نہ ہونے کو قبول نہیں کر سکتے، کیونکہ اہل سنت کے علم رجال کے قواعد کے مطابق، اگر ایک روایت کی تین سے زیادہ اسناد ہوں اور وہ تمام کی تمام اسناد ضعیف بھی ہوں تو ، پھر بھی وہ اسناد ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں اور نتیجے کے طور وہ روایت صحیح و حجت ہو جاتی ہے۔

 جیسا کہ بدر الدين عينی (متوفي 855 ہجری) نے کتاب عمدة القاری میں محيی الدين نووی سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

وقال النووي في (شرح المهذب): إن الحديث إذا روي من طرق ومفرداتها ضعاف يحتج به، علي أنا نقول: قد شهد لمذهبنا عدة أحاديث من الصحابة بطرق مختلفة كثيرة يقوي بعضها بعضا، وإن كان كل واحد ضعيفا.

نووی نے کتاب شرح مہذب میں کہا ہے کہ: اگر ایک روایت متعدد سندوں کے ساتھ نقل ہو ، لیکن اسکے بعض راوی ضعیف ہوں، پھر بھی اس روایت کے ساتھ استدلال کیا جا سکتا ہے۔ اسکے علاوہ ہم کہتے ہیں کہ: کچھ روایات صحابہ اور دوسرے راویوں سے نقل ہوئی ہیں کہ وہ روایات ایک دوسرے کی تائید اور تقویت کرتی ہیں، اگرچہ ان روایات میں سے ہر ایک ضعیف ہی کیوں نہ ہوں۔

العيني، بدر الدين محمود بن أحمد (متوفي 855هـ)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج 3، ص 307، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

ابن تيميہ حرّانی ناصبی نے اپنی کتاب مجموع فتاوی میں لکھا ہے کہ:

تعدّد الطرق وكثرتها يقوي بعضها بعضا حتي قد يحصل العلم بها ولو كان الناقلون فجّارا فسّاقا فكيف إذا كانوا علماء عدولا ولكن كثر في حديثهم الغلط.

روایات کا متعدد اور کثیر واسطوں (اسناد) سے نقل ہونا، یہ ایک دوسرے کی تائید و قوی کرتے ہیں کہ اس سے اس روایت کے صحیح (معتبر) ہونے کا علم حاصل ہو جاتا ہے، اگرچہ وہ راوی فاسق اور فاجر بھی ہوں، تو پھر کیسے وہ روایات صحیح نہ ہوں کہ جنکو عالم و عادل راویوں نے نقل کیا ہو، لیکن انکی نقل کردہ احادیث میں خطائیں بہت زیادہ بھی ہوں۔

ابن تيميه الحراني، أحمد عبد الحليم أبو العباس (متوفي 728 هـ)، كتب ورسائل وفتاوي شيخ الإسلام ابن تيمية، ج 18، ص 26، تحقيق: عبد الرحمن بن محمد بن قاسم العاصمي النجدي، ناشر: مكتبة ابن تيمية، الطبعة: الثانية.

جب ایک روایت کی متعدد اسناد ہوں اور اسکے تمام راوی فاسق اور فاجر بھی ہوں، تو وہ اسناد ایک دوسرے کی تائید و محکم کرتی ہیں اور ان روایات میں نقل شدہ مطلب و بات صحیح و حجت ہو جاتی ہے، تو ابوبکر کے اقرار و اعتراف والی روایت کی اسناد میں صرف ایک راوی کو منکر الحدیث کہا گیا ہے تو ایسی روایت سو فیصد اور قطعی طور پر صحیح و حجت ہو گی۔

محمد ناصر البانی نے کتاب ارواء الغليل میں ایک روایت کی متعدد اسناد کو ذکر کرنے کے بعد کہا ہے کہ:

وجملة القول: أن الحديث طرقه كلها لا تخلو من ضعف ولكنه ضعف يسير إذ ليس في شئ منها من اتهم بكذب وإنما العلة الارسال أو سوء الحفظ ومن المقرر في « علم المصطلح » أن الطرق يقوي بعضها بعضا إذا لم يكن فيها متهم.

یعنی اس حدیث کی تمام اسناد ضعیف ہیں، اگرچہ وہ ضعف بھی معمولی سا ضعف ہے، کیونکہ ان اسناد میں کوئی راوی بھی کاذب و جھوٹا نہیں ہے اور ان اسناد کے ضعیف ہونے کی علت یا روایات کا مرسلہ ہونا ہے یا پھر راوی کا کم حافظہ ہونا ہے۔ علم رجال کے ثابت شدہ قواعد میں سے یہ ہے کہ جب روایت کی متعدد اسناد میں کسی راوی پر کوئی بھی تہمت نہ لگائی گئی ہو تو، وہ اسناد ایک دوسرے کو محکم و قوی کرتی ہیں۔

الباني، محمد ناصر، إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، ج 1، ص 160، تحقيق: إشراف: زهير الشاويش، ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية، 1405 - 1985 م.

نتیجے کے طور پر یہ روایات حتی اگر سند کے لحاظ سے ضعیف بھی ہوں تو پھر بھی وہ روایات صحیح، حجت اور قابل استدلال ہوں گی۔

جواب دوم: علمائے اہل سنت کی گواہی کے مطابق روایت کا صحیح ہونا:

1. تحسين سعيد ابن منصور (متوفي 227هـ.)

(تحسین ، یعنی ایک روایت کو علم حدیث کی رو سے حسن قرار دینا) ، حسن یعنی معتبر و صحیح ۔۔۔

سعيد ابن منصور تیسری صدی کا علم حدیث کا بزرگ عالم ہے، اس نے اپنی کتاب سنن میں اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ روایت حسن ہے۔

جلال الدين سيوطی نے کتاب جامع الأحاديث و کتاب مسند فاطمۃ اور متقی ہندی نے کتاب كنز العمّال میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ:

أَبو عبيد في كتاب الأَمْوَالِ، عق وخيثمة بن سليمان الطرابلسي في فضائل الصحابة، طب، كر، ص، وقال: إِنَّه حديث حسن إِلاَّ أَنَّهُ ليس فيه شيءٌ عن النبي.

اس روایت کو ابو عبيد نے كتاب الأموال، عقيلی، طرابلسی نے کتاب فضائل الصحابۃ، طبرانی نے کتاب معجم الكبير، ابن عساكر نے کتاب تاريخ مدينۃ دمشق اور سعيد ابن منصور نے اپنی کتاب سنن میں نقل کیا ہے اور سعيد ابن منصور نے کہا ہے کہ: یہ حدیث حسن ہے، مگر اس میں رسول خدا سے کوئی شے نقل نہیں کی گئی۔

السيوطي، جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفي911هـ)، جامع الاحاديث (الجامع الصغير وزوائده والجامع الكبير)، ج 13، ص 101 و ج 17، ص 48؛

السيوطي، جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفي911هـ) مسند فاطمه، ص34 و 35، ناشر: مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت، الطبعة الأولي.

الهندي، علاء الدين علي المتقي بن حسام الدين (متوفي975هـ)، كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال، ج 5، ص 252، تحقيق: محمود عمر الدمياطي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1419هـ - 1998م.

سیوطی اور متقی ہندی نے اپنی اپنی کتاب کے مقدمے میں جو کہا ہے، اسکے مطابق (ص) سے مراد سعید ابن منصور اپنی کتاب سنن میں ہے، جیسا کہ اس نے کہا ہے کہ:

(ص) لسعيد ابن منصور في سننه.

السيوطي، جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفي911هـ)، الشمائل الشريفة، ج 1، ص 16، تحقيق: حسن بن عبيد باحبيشي، ناشر: دار طائر العلم للنشر والتوزيع؛

القاسمي، محمد جمال الدين (متوفي1332هـ)، قواعد التحديث من فنون مصطلح الحديث، ج 1، ص 244، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1399هـ - 1979م؛

الهندي، علاء الدين علي المتقي بن حسام الدين (متوفي975هـ)، كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال، ج 1، ص 15، تحقيق: محمود عمر الدمياطي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1419هـ - 1998م.

سعيد ابن منصور کے بارے میں ذہبی نے لکھا ہے کہ:

سعيد بن منصور. ابن شعبة الحافظ الإمام شيخ الحرم... وكان ثقة صادقا من أوعية العلم... وقال أبو حاتم الرازي هو ثقة من المتقنين الأثبات ممن جمع وصنف.

سعيد ابن منصور، حافظ ، امام ، شيخ حرم تھا۔۔۔ وہ قابل اعتماد، عالم اور سچا انسان تھا، ابوحاتم رازی نے اسکو ثقہ اور بہت زبردست مصنف اور مؤلف قرار دیا ہے۔

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفي748هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 10، ص 586، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

اور ذہبی نے کتاب تذكرة الحفاظ میں کہا ہے کہ:

سعيد بن منصور بن شعبة الحافظ الإمام الحجة....

سعيد ابن منصور، حافظ ، امام اور حجت تھا۔

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفي748هـ)، تذكرة الحفاظ، ج 2، ص 416، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي.

تیسری صدی میں سعید ابن منصور جیسی علمی شخصیت کا اعتراف کرنا اور اسکا اس روایت کو ، حسن ، کہنا، یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ روایت زمانہ اسلام کی پہلی صدیوں میں موجود تھی اور اہل سنت کے بزرگان کی مورد قبول روایت بھی تھی۔

2 . تحسين ضياء المقدسی (متوفي 643 هـ)

مقدسی حنبلی ساتویں صدی کا علم حدیث اہل سنت کا بزرگ عالم ہے، اس نے بھی اس روایت کو ، حسن ، قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ:

قلت وهذا حديث حسن عن أبي بكر إلا أنه ليس فيه شيء من قول النبي (ص).

ابوبکر سے یہ روایت ، حسن ، ہے، اگرچہ اس میں رسول خدا کا کوئی کلام نقل نہیں کیا گیا۔

المقدسي الحنبلي، أبو عبد الله محمد بن عبد الواحد بن أحمد (متوفي643هـ)، الأحاديث المختارة، ج 1، ص 90، تحقيق عبد الملك بن عبد الله بن دهيش، ناشر: مكتبة النهضة الحديثة - مكة المكرمة، الطبعة: الأولي، 1410هـ.

مقدسی حنبلی کا علمی تعارف:

ذہبی نے اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

الضياء الإمام العالم الحافظ الحجة محدث الشام شيخ السنة ضياء الدين أبو عبد الله محمد بن عبد الواحد... الحنبلي صاحب التصانيف النافعة... وحصل أصولا كثيرة ونسخ وصنف وصحح ولين وجرح وعدل وكان المرجوع إليه في هذا الشأن.

رأيت جماعة من المحدثين ذكروه فأطنبوا في حقه ومدحوه بالحفظ والزهد سألت الزكي البرزالي عنه فقال: ثقة جبل حافظ دين قال بن النجار: حافظ متقن حجة عالم بالرجال ورع تقي ما رأيت مثله في نزاهته وعفته وحسن طريقته وقال الشرف بن النابلسي: ما رأيت مثل شيخنا الضياء.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شرف نابلسی نے مقدسی کے بارے میں کہا ہے کہ: میں نے اپنے استاد مقدسی کی مانند کسی کو نہیں دیکھا۔

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفي748هـ) تذكرة الحفاظ، ج 4، ص 1405، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي.

اسی طرح کے مطالب کو ابن رجب حنبلی ، جلال الدين سيوطی اور عكری حنبلی نے بھی نقل کیا ہے۔

إبن رجب الحنبلي، عبد الرحمن بن أحمد (متوفي795هـ)، ذيل طبقات الحنابلة، ج 1، ص 279.

السيوطي، جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفي911هـ)، طبقات الحفاظ، ج 1، ص 497، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1403هـ.

العكري الحنبلي، عبد الحي بن أحمد بن محمد (متوفي1089هـ)، شذرات الذهب في أخبار من ذهب، ج 5، ص 225، تحقيق: عبد القادر الأرنؤوط، محمود الأرناؤوط، ناشر: دار بن كثير - دمشق، الطبعة: الأولي، 1406هـ.

علمائے اہل سنت کی طرف سے مقدسی کی اس علمی مدح و تعریف کے بعد اس روایت کا معتبر ہونا، خود بخود ثابت اور واضح ہو جاتا ہے۔

جواب سوم: روايت کی سند کا صحیح ہونا:

اس مقام پر اسی روایت کی سند کے بارے میں بحث کی جائے گی اور پھر عبد الرحمن دمشقیہ اور اسکے ہمفکروں کے کلام، کو کہ جس میں اس نے علوان کے منکر الحدیث ہونے کی وجہ سے اس روایت کو ضعیف کہا تھا، کے بارے میں بحث کی جائے گی اور ثابت کیا جائے گا کہ:

اولاً: علوان کا ثقہ ہونا ثابت ہے۔

ثانياً: اسکو منکر الحدیث کہنا، صحیح نہیں ہے۔

ثالثاً: اگر فرض بھی کر لیں کہ علوان منکر الحدیث ہے، پھر بھی یہ روایت کے معتبر ہونے کو کوئی ضرر نہیں پہنچاتا۔

حميد ابن مخلد ابن قتيبۃ ابن عبد الله الأزدی (متوفي 248 يا 251 ہجری) کہ جو صاحب كتاب الأموال ہے۔ ابن حجر نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

حميد بن مخلد بن قتيبة بن عبد الله الأزدي أبو أحمد بن زنجويه وهو لقب أبيه ثقة ثبت له تصانيف.

حميد ابن مخلد ثقہ، علم میں راسخ ہے کہ اسکی بہت سے تصانیف ہیں۔

العسقلاني، ابن حجر، تقريب التهذيب، ج 1، ص 182، رقم: 1558.

عثمان ابن صالح ابن صفوان السہمی (متوفي 219 ہجری) کہ یہ کتاب بخاری، نسائی اور ابن ماجہ کے راویوں میں سے ہے۔

عثمان بن صالح بن صفوان السهمي مولاهم أبو يحيي المصري صدوق.

العسقلاني، ابن حجر، تقريب التهذيب، ج 1، ص 384، رقم4480.

الليث ابن سعد ابن عبد الرحمن الفہمی (متوفي175 ہجری) یہ کتاب بخاری اور مسلم و ….. کے راویوں میں سے ہے۔

الليث بن سعد بن عبد الرحمن الفهمي أبو الحارث المصري ثقة ثبت فقيه إمام مشهور.

العسقلاني، ابن حجر، تقريب التهذيب، ج 1، ص 464، رقم: 5684.

علوان ابن داوود کے بارے میں بعد میں تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔۔۔۔

صالح ابن كيسان (متوفي بعد از 130 يا 140 ہجری) ، یہ کتاب بخاری اور مسلم و ….. کے راویوں میں سے ہے۔

صالح بن كيسان المدني أبو محمد أو أبو الحارث مؤدب ولد عمر بن عبد العزيز ثقة ثبت فقيه.

العسقلاني، ابن حجر، تقريب التهذيب، ج 1، ص 273، رقم: 2884.

حميد ابن عبد الرحمن ابن عوف (متوفي 105 ہجری)، یہ کتاب بخاری اور مسلم و ….. کے راویوں میں سے ہے۔

حميد بن عبد الرحمن بن عوف الزهري المدني ثقة.

العسقلاني، ابن حجر، تقريب التهذيب، ج 1، ص 182، رقم: 1552.

عبد الرحمن ابن عوف: یہ صحابی ہے۔

کیا عُلْوَانَ ابن داوود منكر الحديث ہے ؟

اس روایت کی سند پر فقط ایک اشکال جو کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ علوان ابن داوود منکر الحدیث ہے۔

ذہبی اور ابن حجر عسقلانی نے اقرار ابوبکر والی روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے ہے:

قال البخاري: عُلْوَانُ بن دَاوُد، ويقال ابن صالح. منكر الحديث.

بخاری نے کہا ہے کہ: علوان ابن داوود منكر الحديث ہے۔

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفي748هـ) ميزان الاعتدال في نقد الرجال، ج 5، ص 135، تحقيق: الشيخ علي محمد معوض والشيخ عادل أحمد عبدالموجود، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1995م؛

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفي852 هـ) لسان الميزان، ج 4، ص 189، تحقيق: دائرة المعرف النظامية - الهند، ناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1406هـ - 1986م.

ان دونوں (ذہبی و ابن حجر) کے کلام پر چند اشکالات ہیں کہ جنکو ذیل میں ذکر کیا جا رہا ہے:

1- ابن حبان کا علوان کو ثقہ قرار دینا:

ابن حبّان اہل سنت کے علم رجال کا مایہ ناز عالم ہے، اس نے علم رجال کی اپنی بہترین کتاب الثقات میں علوان ابن داوود کو ذکر کیا ہے اور یہ علوان کے ثقہ ہونے پر بہترین دلیل ہے:

عُلْوان بن داود البِجِلّي من أهل الكوفة يروي عن مالك بن مِغْوَل روي عنه عمر بن عثمان الحِمْصي.

التميمي البستي، محمد بن حبان بن أحمد أبو حاتم (متوفي354 هـ)، الثقات، ج 8، ص 526، رقم: 14829، تحقيق السيد شرف الدين أحمد، ناشر: دار الفكر، الطبعة: الأولي، 1395هـ - 1975م.

الف: ابن حبان کا کسی راوی کو ثقہ قرار دینا، یہ مزی اور ابن حجر کا بھی مورد تائید ہے:

شعيب ارنؤوط محقق كتاب صحيح ابن حبان، نے ذہبی کے علمائے علم رجال کی اقسام کے بارے میں کلام کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:

من هنا برزت أهمية توثيق ابن حبان، ولأهميتها فقد اعتمد الحافظ المزي علي كتاب «الثقات» له، والتزم في «تهذيب الكمال» إذا كان الراوي ممن له ذكر في «الثقات» أن يقول: ذكره ابن حبان في «الثقات».

وتابعه الحافظ ابن حجر في «تهذيب التهذيب». ولكن بعضهم، مع هذا، نسب ابن حبان إلي التساهل، فقال: وهو واسع الخطو في باب التوثيق، يوثّق كثيراً ممن يستحق الجرح.

یہاں سے ابن حبان کی توثیقات کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے، حافظ مزی نے بھی اسکی کتاب الثقات پر اعتماد کیا ہے اور اسکی کتاب تہذیب الکمال میں یہ روش ہے کہ اگر ایک راوی کا نام کتاب الثقات میں ذکر ہوا ہو تو، یہ (مزی) بھی اسی وجہ سے اس راوی کو ثقہ قرار دیتا ہے۔

ابن حجر نے بھی کتاب تہذيب التہذيب میں مزی کی پيروی کی ہے، لیکن اسکے باوجود بھی بعض نے کہا ہے کہ ابن حبان راویوں کو ثقہ قرار دینے میں زیادہ دقت سے کام نہیں لیتا اور کہا ہے کہ: ابن حبان راویوں کو ثقہ قرار دینے میں بڑی فراخ دلی سے کام لیتا ہے، کیونکہ اس نے بہت سے ایسے راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے کہ جو جرح و مذمت کے اہل تھے۔

مقدمة ابن الصلاح، ص22، طبعة الدكتور نور الدين عتر .

ب: ذہبی نے ابن حبان کو ثقہ راویوں کی شناخت کے لیے سرچشمہ قرار دیا ہے:

ذہبی نے كتاب الموقظۃ میں کہا ہے کہ:

ويَنْبُوعُ معرفة الثقات: تاريخُ البخاريِّ، وابنِ أبي حاتم، وابنِ حِبَّان، وكتابُ تهذيب الكمال.

بخاری، ابن ابی حاتم، ابن حبان کی کتب اور كتاب تہذيب الكمال سے ثقہ راویوں کی شناخت کے چشمے پھوٹتے ہیں۔

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفي748هـ)، الموقظة في علم مصطلح الحديث، ج 1، ص 18، طبق برنامه المكتبة الشاملة.

ذہبی جیسے بزرگ عالم کا کلام ابن حبان کی علمی شخصیت کو جاننے کے لیے کافی ہے، حقیقت میں ذہبی کہہ رہا ہے کہ:

اگر تم ثقہ اور ضعیف راویوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہو کہ وہ کون کون ہیں، تو میں ذہبی تم کو ابن حبان کی طرف راہنمائی کرتا ہوں، کیونکہ تمام راویوں کے ثقہ اور ضعیف ہونے کا سرچشمہ ابن حبان ہے۔

ج: سيوطی، ابن حبان کے راویوں کو ثقہ قرار دینے میں زیادہ دقت سے کام نہ لینے کو قبول نہیں کرتا:

سيوطی نے بھی کتاب تدريب الراوی میں ابن حازم سے نقل کرتے ہوئے ، ابن حبان کے متساہل( زیادہ دقت نہ کرنے) ہونے کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ:

وما ذكر من تساهل ابن حبان ليس بصحيح؛ فإن غايته أنه يسمي الحسن صحيحاً فإن كانت نسبته إلي التساهل باعتبار وجدان الحسن في كتابه فهي مشاحة في الاصطلاح وإن كانت باعتبار خفة شروطه فإنه يخرج في الصحيح ما كان راويه ثقة غير مدلس.

جو کچھ بھی ابن حبان کے متساہل ہونے کے بارے میں کہا گیا ہے، وہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ زیادہ سے زیادہ جو بات کہی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ وہ روایت حسن کو، صحیح روایت قرار دیتا ہے، پس اگر اسکے تساہل سے مراد یہ ہو کہ اسکی کتاب (الثقات) میں حسن روایات موجود ہیں، تو یہ اشکال ابن حبان کے لفظ (حسن و صحیح) میں ہے، اور اگر اس پر یہ اشکال ہو کہ وہ ایک روایت کے صحیح ہونے کی شرائط کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا، تو پھر بھی اس پر کوئی اشکال نہیں ہے، اس لیے کہ اس نے اپنی کتاب صحیح ابن حبان میں غیر مدلس ثقہ راویوں سے روایت کو نقل کیا ہے۔

السيوطي، جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفي911هـ)، تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي، ج 1، ص 108، تحقيق: عبد الوهاب عبد اللطيف، ناشر: مكتبة الرياض الحديثة - الرياض.

د: سخاوی بھی ابن حبان کے متساہل ہونے کو ردّ کرتا ہے:

شمس الدين سخاوی نے لکھا ہے کہ:

مع أن شيخنا (ابن حجر) قد نازع في نسبته (ابن حبان) إلي التساهل من هذه الحيثية وعبارته إن كانت باعتبار وجدان الحسن في كتابه فهي مشاحة في الإصطلاح؛ لأنه يسميه صحيحا.

ہمارے استاد ابن حجر نے ابن حبان کے راویوں کو ثقہ قرار دینے میں زیادہ دقت نہ کرنے کو قبول نہیں کیا اور کہا ہے کہ: اگر اس (ابن حبان) کی کتاب میں روایات کے بارے میں لفظ ، حسن ، زیادہ نظر آتا ہے تو یہ در اصل میں علم حدیث کی اصطلاحات کو استعمال کرنے میں علماء کا آپس میں ایک قسم کا اختلاف ہونے کی وجہ سے ہے کہ اس نے اسکو صحیح قرار دیا ہے۔

السخاوي، شمس الدين محمد بن عبد الرحمن (متوفي902هـ)، فتح المغيث شرح ألفية الحديث، ج 1، ص 36، ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان، الطبعة: الأولي، 1403هـ.

اسی مطلب کو عبد الحیی لكھنوی نے کتاب الرفع و التكميل اور محمد جمال الدين قاسمی نے کتاب قواعد التحديث میں نقل كیا ہے:

اللكنوي الهندي، أبو الحسنات محمد عبد الحي (متوفي1304هـ)، الرفع والتكميل في الجرح والتعديل، ج 1، ص 338، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، ناشر: مكتب المطبوعات الإسلامية - حلب، الطبعة: الثالثة، 1407هـ.

القاسمي، محمد جمال الدين (متوفي1332 هـ)، قواعد التحديث من فنون مصطلح الحديث، ج 1، ص 250، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1399هـ - 1979م.

هـ: علمائے اہل سنت نے ابن حبان کو راویوں کو ثقہ قرار دینے میں بہت سختی کرنے اور احتیاط سے کام لینے والا شمار کیا ہے:

1. شمس الدين ذہبی:

ذہبی نے اپنی كتاب ميزان الإعتدال میں اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

ابن حبان ربما قصب (جرح) الثقة حتي كأنه لا يدري ما يخرج من رأسه.

ابن حبان کبھی کبھی ایک ثقہ راوی کو ایسے آرام سے ضعیف قرار دے دیتا ہے کہ شاید اسکو معلوم نہیں ہوتا کہ اسکے دماغ سے کیا خارج ہو رہا ہے اور اسکو سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے!!!

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ) ميزان الاعتدال في نقد الرجال، ج 1، ص 441، ترجمه افلج بن يزيد، تحقيق: الشيخ علي محمد معوض والشيخ عادل أحمد عبدالموجود، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1995م.

2. لكھنوی الہندی:

ابو الحسنات لكھنوی نے کتاب الرفع و التكميل میں لکھا ہے کہ:

وقد نسب بعضهم التساهل إلي ابن حبان وقالوا هو واسع الخطو في باب التوثيق، يوثّق كثيراً ممّن يستحق الجرح وهو قول ضعيف.

فإنّك قد عرفت سابقاً أنّ ابن حبان معدود ممن له تعنت وإسراف في جرح الرجال ومن هذا حاله لا يمكن أن يكون متساهلاً في تعديل الرجال وإنّما يقع التعارض كثيراً بين توثيقه وبين جرح غيره لكفاية ما لا يكفي في التوثيق عند غيره عنده.

بعض نے کہا ہے کہ: ابن حبان راویوں کو ثقہ قرار دینے میں زیادہ دقت سے کام نہیں لیتا اور کہا ہے کہ: ابن حبان راویوں کو ثقہ قرار دینے میں بڑی فراخ دلی سے کام لیتا ہے، کیونکہ اس نے بہت سے ایسے راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے کہ جو جرح و مذمت کے اہل تھے، حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے، کیونکہ پہلے بھی کہا ہے کہ ابن حبان ایسے علماء میں سے ہے کہ جو راویوں کی جرح و مذمت کرنے میں بہت مبالغے سے کام لیتے ہیں، پس جسکی یہ حالت ہو تو ممکن نہیں ہے کہ وہ راویوں کو عادل قرار دینے میں سہل انگاری سے کام لیتا ہو، البتہ اسکے ثقہ قرار دینے اور دوسرے علماء کے ثقہ قرار نہ دینے میں تعارض و اختلاف نظر موجود ہے، اسلیے کہ اسکے نزدیک اور دوسروں کے نزدیک ثقہ ہونے کی شرائط و اہلیت کی مقدار میں اختلاف اور فرق ہے۔

اللكنوي الهندي، أبو الحسنات محمد عبد الحي (متوفي1304هـ)، الرفع والتكميل في الجرح والتعديل، ج 1، ص 335، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، ناشر: مكتب المطبوعات الإسلامية - حلب، الطبعة: الثالثة، 1407هـ.

3. شعيب الأرنؤوط ( وہابی معاصر ):

شعيب أرنؤوط محقق كتاب صحيح ابن حبان نے اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

قد أشار الأئمة إلي تشدده وتعنته في الجرح.

بزرگ علماء نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ (ابن حبان) راویوں کی جرح و مذمت کرنے میں مبالغے سے کام لیتا تھا، (یعنی وہ اتنی آسانی سے کسی راوی کو ثقہ قرار نہیں دیتا تھا)

صحيح ابن حبان، ج 1، ص 36، با تحقيق شعيب الأرنؤوط.

2. بخاری کی طرف اس بات کی نسبت، ثابت نہیں ہے:

بخاری کی مختلف کتب جیسے التاريخ الكبير، الكنی، التاريخ الأوسط اور ضعفاء الصغير میں دقت اور غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کتاب میں بھی علوان ابن داوود کا ذکر تک نہیں ہوا کہ ہم بخاری کی طرف دی گئی نسبت کہ علوان منکر الحدیث ہے، کے صحیح ہونے کے بارے میں اطمینان حاصل کر سکیں۔ سب سے پہلے جس نے اس بات کو ذکر کیا، وہ عقیلی تھا کہ جس نے کتاب الضعفاء الكبير میں آدم ابن موسی سے اور اس نے بخاری سے نقل کیا ہے کہ:

حدثني آدم بن موسي قال سمعت البخاري قال علوان بن داود البجلي ويقال علوان بن صالح منكر الحديث.

آدم ابن موسی نے کہا ہے کہ میں نے بخاری کو کہتے ہوئے سنا تھا کہ: علوان ابن داوود بجلی کہ اسکو علوان ابن صالح بھی کہتے ہیں، وہ منکر الحدیث ہے، یعنی اسکی نقل کردہ روایات قابل قبول نہیں ہیں۔

العقيلي، أبو جعفر محمد بن عمر بن موسي (متوفي322هـ)، الضعفاء الكبير، ج 3، ص 419، تحقيق: عبد المعطي أمين قلعجي، ناشر: دار المكتبة العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1404هـ - 1984م.

یہاں پر اصلی اشکال یہ ہے کہ بخاری سے اس کلام کو نقل کرنے والے آدم ابن موسی کا نام، اہل سنت کی علم رجال والی کسی کتاب میں بالکل ذکر نہیں ہوا، یعنی وہ ایک مجہول شخص ہے، جیسا کہ محمد ناصر البانی نے کتاب ارواء الغليل میں ایک روایت کہ جسکی سند میں آدم ابن موسی بھی ہے، کو ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

لكن آدم بن موسي لم أجد له ترجمة الآن.

۔۔۔ آدم ابن موسی کہ جسکے بارے میں ابھی تک مجھے کوئی تفصیل اور ذکر نہیں ملا۔

الألباني، محمد ناصر (متوفي1420هـ)، إرواء الغليل، ج 5، ص 242، تحقيق: إشراف: زهير الشاويش، ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية، 1405 - 1985 م.

لہذا علوان کے منکر الحدیث ہونے والی بات کی بخاری کی طرف نسبت دینا، یہ بالکل قابل اثبات نہیں ہے۔

2. ہر منكر الحديث تو حدیث نقل کرنے میں ضعيف نہیں ہوتا:

یہ کہ ہر منکر الحدیث ضعیف ہو، یہ قابل قبول نہیں ہے، کیونکہ یہ لفظ بہت سے ثقہ راویوں کے لیے بھی بولا گیا ہے۔

ابن حجر عسقلانی نے کتاب لسان الميزان میں ترجمہ (زندگی نامہ) حسين ابن فضل البجلی میں کہا ہے کہ:

فلو كان كل من روي شيئاً منكراً استحق أن يذكر في الضعفاء لما سلم من المحدثين أحد .

جو بھی روایت منکر کو ذکر کرے تو اگر اسکے نام کو ضعیف راویوں میں ذکر کیا جائے تو، اس صورت میں تو محدثین میں سے کوئی بھی سالم و صحیح باقی نہیں بچے گا۔

لسان الميزان ، ج2 ، ص308 .

اور ذہبی نے کتاب ميزان الإعتدال میں ترجمہ احمد ابن عتاب المروزی میں کہا ہے کہ:

ما كل من روي المناكير يضعّف .

جو بھی روایت منکر کو نقل کرے تو اسکو ضعیف قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ميزان الإعتدال ، ج1 ، ص118 .

لہذا اب ذہبی اور ابن حجر سے پوچھنا چاہیے کہ تمہارے پاس اس دو طرح کے منافقانہ رویے کی کیا دلیل ہے ؟! ان دونوں اور ان جیسوں ناصبیوں کے پاس اس نفاق کی فقط اور فقط ایک ہی دلیل ہے اور بغض اہل بیت (ع) اور دفاع ناحق از خلفائے ناحق !

دار قطنی نے کتاب سؤالات الحاكم میں لکھا ہے کہ:

فسليمان بن بنت شرحبيل؟ قال: ثقة. قلت: أليس عنده مناكير؟ قال: يحدث بها عن قوم ضعفاء؛ فأما هو فهو ثقة.

میں نے حاکم نیشاپوری سے سلیمان ابن داوود کے بارے میں پوچھا تو اس نے جواب دیا: وہ ثقہ ہے ، میں نے کہا: کیا اسکے پاس منکر روایات نہیں ہیں ؟ اس نے جواب دیا: وہ منکر روایات کو ضعیف راویوں سے نقل کرتا ہے، لیکن وہ خود ثقہ ہے۔

الدار قطني البغدادي، علي بن عمر أبو الحسن (متوفي385هـ)، سؤالات الحاكم النيسابوري، ج 1، ص 217، رقم: 339، تحقيق: د. موفق بن عبدالله بن عبدالقادر، ناشر: مكتبة المعارف - الرياض، الطبعة: الأولي، 1404هـ - 1984م.

شمس الدين سخاوی نے لکھا ہے کہ:

وقد يطلق ذلك [منكر الحديث] علي الثقة إذا روي المناكير عن الضعفاء.

اگر  ایک ثقہ راوی منکر روايات کو ضعیف راویوں سے نقل کرے تو، اس پر لفظ منکر الحدیث بولا جاتا ہے۔

السخاوي، شمس الدين محمد بن عبد الرحمن (متوفي902هـ)، فتح المغيث شرح ألفية الحديث، ج 1، ص 373، ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان، الطبعة: الأولي، 1403هـ.

4. خود بخاری نے منكر الحديث راوی سے روايت کو نقل كیا ہے:

محمد ابن اسماعيل بخاری نے اہل سنت کی قرآن کے بعد صحیح ترین کتاب صحیح بخاری میں بہت سی روایات کو منکر الحدیث راویوں سے نقل کیا ہے۔ منکر الحدیث راوی اتنے زیادہ ہیں کہ اس تحریر میں ان سب کو ذکر نہیں کیا جا سکتا، لیکن پھر بھی نمونے کے طور پر چند اسماء کو ذکر کیا جا رہا ہے:

1. حسان ابن حسان :

ابن ابی حاتم نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

منكر الحديث .

اور ابن حجر نے کہا ہے کہ:

روي عنه البخاري .

(منکر الحدیث ہونے کے باوجود) بخاری نے اس سے روایات کو نقل کیا ہے۔

مقدمه فتح الباري ، ص394 .

2 . احمد ابن شبيب ابن سعيد الحبطی :

ابو الفتح الأزدی نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

منكر الحديث غير مرضي ، روي عنه البخاري .

منکر الحدیث ہے اور قابل قبول نہیں ہے !!! لیکن بخاری نے اس سے روایت کو نقل کیا ہے۔

مقدمه فتح الباري ، ص383 .

3 . عبد الرحمن ابن شريح المغافری :

ابن سعد نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

منكر الحديث .

طبقات ابن سعد ، ج7 ، ص516 .

لیکن اسکے باوجود بھی بخاری نے اس سے حدیث کو نقل کیا ہے۔

مقدمه فتح الباري ، ص416 .

4 . داود ابن حصين المدنی :

ساجی نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

منكر الحديث متهم برأي الخوارج ،

لیکن اسکے باوجود بھی بخاری نے اس سے حدیث کو نقل کیا ہے۔

مقدمه فتح الباري ، ص399 .

5۔ خالد ابن مخلد:

شمس الدين ذہبی نے کتاب المغني في الضعفاء میں لکھا ہے کہ:

خالد بن مخلد القطواني من شيوخ البخاري. صدوق إن شاء الله. قال أحمد بن حنبل: له أحاديث مناكير. وقال ابن سعد: منكر الحديث مفرط التشيع. وذكره ابن عدي في الكامل فَساقَ له عشرة أحاديث منكرة. وقال الجوزجاني: كان شتّاماً معلناً بسوء مذهبه. وقال أبو حاتم: يكتب حديثه ولا يحتج به.

خالد ابن مخلد قطوانی کہ جو بخاری کا استاد اور سچا انسان ہے، احمد ابن حنبل نے کہا ہے کہ: وہ منکر روایات کو نقل کرتا ہے،

 ابن سعد نے اسے منکر الحدیث اور غلو کرنے والا شیعہ کہا ہے،

ابن عدی نے كتاب الكامل في الضعفاء میں اس سے 10 منکر روایات کو ذکر کیا ہے،

 جوزجانی نے کہا ہے کہ: وہ سبّ و شتم کرنے والا اور اپنے باطل مذہب کی کھل کر تبلیغ کرتا تھا،

ابوحاتم نے کہا ہے کہ: خالد کی نقل کردہ احادیث کو لکھا تو جا سکتا ہے، لیکن انکو استدلال میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفي748هـ) المغني في الضعفاء، ج 1، ص 206، تحقيق: الدكتور نور الدين عتر.

ابن حجر نے کتاب تہذيب التہذيب میں لکھا ہے کہ:

(خ م كد ت س ق) البخاري ومسلم وأبي داود في مسند مالك والترمذي والنسائي وابن ماجة خالد بن مخلد القطواني أبو الهيثم البجلي مولاهم الكوفي... قال عبد الله بن أحمد عن أبيه، له أحاديث مناكير... وقال بن سعد: كان متشيعاً، منكر الحديث، مفرطا في التشيع وكتبوا عنه للضرورة.

بخاری، مسلم، ابو داوود نے کتاب مسند مالک، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے خالد ابن مخلد قطوانی سے روايات کو نقل كیا ہے۔

عبد الله ابن احمد حنبل نے والد سے نقل کیا ہے کہ: خالد ابن مخلد احادیث منکر و غیر قابل قبول کو نقل کرتا تھا،

ابن سعد نے کہا ہے کہ: خالد شیعہ تھا اور اپنے شیعہ ہونے میں غلو سے کام لیتا تھا اور وہ منکر الحدیث ہے، لیکن ضرورت کے مطابق اسکی روایات کو نقل کیا جاتا ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفي852هـ)، تهذيب التهذيب، ج 3، ص 101، رقم: 221، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الأولي، 1404 - 1984 م.

6- نعيم ابن حماد:

ابن حجر عسقلانی نے نعيم ابن حماد کے بارے میں لکھا ہے کہ:

وقرأت بخط الذهبي أن هذا الحديث لا أصل له ولا شاهد تفرد به نعيم وهو منكر الحديث علي إمامته. قلت نعيم من شيوخ البخاري.

میں ذہبی کی لکھی ہوئی تحریر کو پڑھا کہ اس نے لکھا تھا کہ: اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے اور کوئی دوسری حدیث بھی اسکے صحیح ہونے کی تائید بھی نہیں کرتی، کیونکہ اس روایت کو فقط نعیم نے نقل کیا ہے، وہ منکر الحدیث ہے، لیکن اسکے باوجود بھی وہ اہل سنت کے بزرگان میں سے شمار ہوتا ہے،

 میں ابن حجر کہتا ہوں کہ: نعیم، بخاری کے اساتذہ میں سے ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفي852هـ)، الأمالي المطلقة، ج 1، ص 147، تحقيق: حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي، ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الأولي، 1416 هـ -1995م.

اور ابن حجر نے کتاب النكت الظراف میں لکھا ہے کہ:

قرأت بخط الذهبي: لا أصل له ولا شاهد، ونعيم بن حماد منكر الحديث مع إمامته.

میں ذہبی کی لکھی ہوئی تحریر کو پڑھا کہ اس نے لکھا تھا کہ:  اس حدیث کے لیے کوئی دوسری حدیث بھی اسکے صحیح ہونے پر شاہد نہیں ہے اور نہ اس حدیث کی کوئی اصل ہے، نعیم امام و پیشوا ہونے کے باوجود منکر الحدیث ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفي852هـ)، النكت الظراف علي الأطراف، ج 10، ص 173، تحقيق: عبد الصمد شرف الدين، زهير الشاويش، ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت / لبنان، الطبعة: الثانية، 1403 هـ - 1983 م.

7- محمد ابن عبد الرحمن الطفاوی:

مزی نے محمد ابن عبد الرحمن طفاوی کے بارے میں لکھا ہے کہ:

(خ د ت س): محمد بن عبد الرحمن الطفاوي، أبو المنذر البَصْرِيّ... وَقَال أبو زُرْعَة: منكر الحديث.

بخاری، ابو داوود، ترمذی اور نسائی نے محمد ابن عبد الرحمن طفاوی سے روايت کو نقل کیا ہے، ابوزرعہ نے کہا کہ: وہ منکر الحدیث ہے۔

المزي، يوسف بن الزكي عبد الرحمن أبو الحجاج (متوفي742هـ)، تهذيب الكمال، ج 25، ص 652 ـ 653، تحقيق د. بشار عواد معروف، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الأولي، 1400هـ - 1980م.

(خ) سے مراد بخاری ، (د) سے مراد ابو داوود ، (ت) سے مراد ترمذی ، اور (س) سے مراد نسائی ہے۔

ابو وليد باجی (متوفي474  ہجری) نے لکھا ہے کہ:

محمد بن عبد الرحمن أبو المنذر الطفاوي، البصري، أخرج البخاري في الرقاب والبيوع عن علي بن المديني وأحمد بن المقدام.

عنه عن أيوب والأعمش وهشام بن عروة قال أبو حاتم الرازي: ليس به بأس، صدوق، صالح؛ إلا أنه يهم أحيانا. وقال أبو زرعة الرازي: هو منكر الحديث.

بخاری نے محمد ابن عبد الرحمن طفاوی سے بحث رقاب و بيع میں حديث کو نقل کیا ہے،

ابو حاتم رازی نے کہا ہے کہ: اس میں اشکال نہیں ہے، وہ سچا اور صالح انسان ہے، بعض اوقات وہم و خیال میں مبتلا ہو جاتا تھا،

 ابو زرعہ نے اسے منکر الحدیث کہا ہے۔

الباجي، سليمان بن خلف بن سعد أبو الوليد (متوفي474هـ)، التعديل والتجريح لمن خرج له البخاري في الجامع الصحيح، ج 2، ص 533، رقم: 533، تحقيق: د. أبو لبابة حسين، ناشر: دار اللواء للنشر والتوزيع - الرياض، الطبعة: الأولي، 1406هـ - 1986م.

8- حسان ابن حسان البصری:

ابن حجر نے حساب ابن حسان کے بارے میں لکھا ہے کہ:

(خ: البخاري) حسان بن حسان البصري أبو علي بن أبي عباد نزيل مكة روي عن شعبة وعبد الله بن بكر... .

وعنه البخاري وأبو زرعة وعلي بن الحسن الهسنجاني... قال أبو حاتم: منكر الحديث. وقال البخاري: كان المقري يثني عليه، توفي سنة 213.

بخاری نے اس سے روایت کو نقل کیا ہے، حسان مکہ میں رہتا تھا اور اس نے شعبہ و عبد الله ابن بكير سے روايت کو نقل کیا ہے، بخاری، ابو زرعہ اور علی ابن حسن ہسنجانی نے اس سے روايت کو نقل کیا ہے،

 ابو حاتم نے کہا ہے کہ: وہ منكر الحديث ہے، اور بخاری نے کہا ہے کہ: مقری نے اسکی تعریف کی ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفي852هـ)، تهذيب التهذيب، ج 2، ص 217، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الأولي، 1404 - 1984 م.

9- الحسن ابن بشر:

ذہبی نے حسن ابن بِشْر کے بارے میں لکھا ہے کہ:

(خ ت س) البخاري والترمذي والنسائي الحسن بن بشر بن سلم بن المسيب الهمداني البجلي أبو علي الكوفي روي عن أبي خيثمة الجعفي... .

وعنه البخاري وروي له الترمذي والنسائي بواسطة أبي زرعة...

وقال أحمد: أيضا روي عن زهير أشياء مناكير. وقال أبو حاتم: صدوق. وقال النسائي: ليس بالقوي. وقال: بن خراش: منكر الحديث.

بخاری، ترمذی اور نسائی نے اس سے روايت کو نقل کیا ہے۔

حسن ابن بشر ہمدانی نے ابو خيثمہ جعفی سے روايت نقل کی ہے، اور اس سے بخاری اور نسائی نے ابو زرعہ کے واسطے سے روايت کو نقل کیا ہے،

احمد نے کہا ہے کہ: حسن ابن بشر نے زہير سے  منکر روايات کو نقل کیا ہے،

ابو حاتم اسکو سچا جانتا ہے، نسائی نے کہا ہے کہ: وہ روایت نقل کرنے میں زیادہ ماہر نہیں ہ

ے اور ابن خراش نے اسکو منکر الحدیث کہا ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفي852هـ)، تهذيب التهذيب، ج 2، ص 223، رقم: 473، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الأولي، 1404 - 1984 م.

10- مفضل ابن فضالہ القتبانی المصری:

ابن حجر در نے مفضل ابن فضالہ کے بارے میں کہا ہے کہ:

وثقه يحيي بن معين وأبو زرعة والنسائي وآخرون وقال أبو حاتم وابن خراش: صدوق. وقال ابن سعد: منكر الحديث.

( قلت ) اتفق الأئمة علي الاحتجاج به وجميع ماله في البخاري حديثان.

يحيی ابن معين، ابو زرعہ، نسائی اور دوسروں نے اسے ثقہ قرار دیا ہے،

ابو حاتم اور ابن خراش نے اسکو سچا کہا ہے،

 لیکن ابن سعد نے اسکو منکر الحدیث کہا ہے۔

میں (ابن حجر) کہتا ہوں کہ: تمام علماء کا اتفاق ہے کہ اسکی روایات سے استدلال کیا جا سکتا ہے، اور بخاری نے اس سے فقط دو حدیث کو نقل کیا ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفي852 هـ) هدي الساري مقدمة فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 1، ص 445، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت - 1379هـ.

11- داوود ابن حُصين المدنی:

ابن حجر نے داوود ابن حُصين کے بارے میں کہا ہے کہ:

داود بن الحصين المدني وثقه ابن معين وابن سعد والعجلي وابن إسحاق وأحمد بن صالح المصري والنسائي... وقال الساجي: منكر الحديث متهم برأي الخوارج.

ابن معين، ابن سعد، عجلی، ابن اسحاق، احمد ابن صالح مصری اور نسائی نے اسکی توثیق کی ہے، لیکن ساجی اسکی احادیث کو منکر کہتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ خوارج میں سے تھا اور انہی کے عقائد کی پیروی کیا کرتا تھا۔

اسکے باوجود مزید لکھتا ہے کہ:

(قلت) روي له البخاري حديثا واحدا.

میں (ابن حجر) کہتا ہوں کہ بخاری نے ایک حدیث اس سے نقل کی ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفي852 هـ) هدي الساري مقدمة فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 1، ص 339، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت - 1379هـ.

12- اسماعيل ابن عبد الله:

ابن حجر عسقلانی نے اسماعيل ابن عبد الله ابن زراره کے بارے میں لکھا ہے کہ:

قلت: وقد ذكر إسماعيل بن عبد الله بن زرارة الرقي أيضا في شيوخ البخاري الحاكم وأبو إسحاق الحبال وأبو عبد الله بن مندة وأبو الوليد الباجي وابن خلفون في الكتاب المعلم برجال البخاري ومسلم وقال: قال الأزدي: منكر الحديث جداً وقد حمل عنه.

علمائے علم رجال جیسے حاكم نيشاپوری، ابو اسحاق حبال، ابن منده، باجی، اور ابن خلدون نے كتاب المعلّم برجال البخاري و مسلم، میں اسماعيل ابن عبد الله ابن زراره کو بخاری کا استاد شمار کیا ہے، لیکن ازدی نے کہا ہے کہ: وہ منکر الحدیث ہے اور اس سے روایت کو نقل کیا گیا ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفي852هـ)، تهذيب التهذيب، ج 1، ص 269، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الأولي، 1404 - 1984 م.

13+ 14- محمد ابن إبراہيم التيمی و زيد ابن ابی انيسہ:

زيعلی نے کتاب نصب الرايۃ میں لکھا ہے کہ:

وقد قال أحمد بن حنبل في محمد بن إبراهيم التيمي: يروي أحاديث منكرة وقد اتفق عليه البخاري ومسلم وإليه المرجع في حديث «إنّما الأعمال بالنيات» وكذلك قال في زيد بن أبي انيسة: في بعض حديثه إنكارة وهو ممن احتج به البخاري ومسلم وهما العمدة في ذلك....

احمد ابن حنبل نے کہا ہے کہ: محمد ابن ابراہيم تيمی نے منکر احاديث کو نقل کیا ہے، اور حالانکہ بخاری اور مسلم نے اس پر اتفاق کیا ہے اور معروف حدیث « انما الأعمال بالنيات » کا نقل کرنا، اسی کی طرف پلٹتا ہے۔

اسی طرح احمد ابن حنبل نے زيد ابن انيسہ کے بارے میں کہا ہے کہ: اسکی احادیث میں بعض احادیث منکر بھی ہیں، لیکن بخاری اور مسلم نے اسکی نقل کردہ احادیث سے استدلال کیا ہے اور اسی وجہ سے اسکی روایات صحیح شمار ہوتی ہیں۔

الزيلعي، عبد الله بن يوسف أبو محمد الحنفي (متوفي762هـ)، نصب الراية لأحاديث الهداية، ج 1، ص 179، تحقيق: محمد يوسف البنوري، ناشر: دار الحديث - مصر - 1357هـ.

علمائے اہل سنت کا ابوبکر کی پشمانی والی روایت کو تحریف کرنا:

قابل توجہ اور قابل ذکر ہے کہ اہل سنت کے بعض خائن علماء نے ابوبکر کی آبرو کو حفظ کرنے کی خاطر اسی روایت کو تحریف کر دیا ہے۔ ابو عبيد قاسم ابن سلام نے كتاب الأموال اور بكری اندلسی نے كتاب معجم ما استعجم میں لکھا ہے کہ:

أما إني ما آسي إلا علي ثلاث فعلتهن وثلاث لم أفعلهن وثلاث لم أسأل عنهن رسول الله (ص) وددت أني لم أفعل كذا لخلة ذكرها.

قال أبو عبيد: لا أريد ذكرها.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے کاش میں فلاں کام انجام نہ دیتا !!! اس سبب کی وجہ سے کہ جو اس نے ذکر کیا ہے ، ابو عبیدہ کہتا ہے کہ: میں اس سبب کو ذکر نہیں کرنا چاہتا کہ جو ابوبکر نے ذکر کیا ہے ( یعنی مجھے پتا ہے کہ ابوبکر نے کیا کام انجام دیا تھا، لیکن میں اسکو ابوبکر کے احترام کی خاطر ذکر نہیں کروں گا) ،

أبو عبيد القاسم بن سلام (متوفي224هـ )، كتاب الأموال، ج 1، ص 174، ناشر: دار الفكر. - بيروت. تحقيق: خليل محمد هراس، 1408هـ - 1988م؛

البكري الأندلسي، عبد الله بن عبد العزيز أبو عبيد (متوفي487هـ)، معجم ما استعجم من أسماء البلاد والمواضع، ج 3، ص 1076 ـ 1077، تحقيق: مصطفي السقا، ناشر: عالم الكتب - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1403هـ.

بھائی ابوبکر خود کہہ رہا ہے کہ میں نے وہ کام کیا تھا لیکن وہابی اور بعض سنی علماء کہتے ہیں کہ اے خلیفہ تم نے وہ کام نہیں کیا تھا !!!

اب انسانیت اور تاریخ کس کی بات مانے، خود ابوبکر کی یا بعض دین و ایمان فروش دنیا کے مارے مفتیوں کی ؟؟؟

اور حاكم نيشاپوری نے حضرت صدیقہ شہیدہ کے گھر پر حملے والی بحث کو مکمل طور پر روایت سے حذف ہی کر دیا ہے، تا کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری !!!

واقعا یہ اسلام اموی کے ساتھ وفادار اور اسلام محمدی کے ساتھ خیانت کار ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب أنبأ علي بن عبد العزيز ثنا أبو عبيد حدثني سعيد بن عفير حدثني علوان بن داود عن صالح بن كيسان عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن أبيه قال دخلت علي أبي بكر الصديق رضي الله عنه في مرضه الذي مات فيه أعوده فسمعته يقول وددت أني سألت النبي صلي الله عليه وسلم عن ميراث العمة والخالة فإن في نفسي منها حاجة.

النيسابوري، محمد بن عبد الله أبو عبد الله الحاكم (متوفي405 هـ)، المستدرك علي الصحيحين، ج 4، ص 381، ح7999، تحقيق: مصطفي عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1411هـ - 1990م.

اس روایت کی سند وہی ہے کہ جو دوسری کتب سے نقل کی گئی اور عبد الرحمن ابن عوف کی ابوبکر سے ملاقات والا واقعہ بھی ابوبکر کی زندگی کے آخری ایام میں ہی ہوا تھا، لیکن صد افسوس بلکہ ہزار ہا افسوس کہ ناپاک اور خائن قلموں اور ہاتھوں نے روایت کے الفاظ کو مکمل طور پر تحریف کر دیا ہے تا کہ ابوبکر کی آبرو پر کوئی آنچ یا دھبہ نہ لگنے پائے !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

اور اتفاق سے قدرت خداوند کا کرنا دیکھیں کہ روایت کے الفاظ کا کبھی حذف کرنا اور کبھی تبدیل کرنا، یہ بہترین اور واضح دلیل ہے کہ یہ روایت صحیح ہے، اور تاریخ اسلام میں ابوبکر نے حضرت زہرا (س) کے گھر پر عمر کے ذریعے سے حملہ کروایا اور شہید کروایا تھا،

کیونکہ اگر روایت ضعیف ہوتی یا یہ واقعہ جھوٹا ہوتا تو اس خیانت اور تحریف کی کیا ضرورت تھی، اس لیے کہ اگر روایت ضعیف ہوتی تو اہل سنت اور وہابی علماء نے تحریف و تبدیل کی بجائے، روایت کے ضیعف ہونے کو ثابت اور بیان کرنا تھا۔

نتيجہ:

پشمانی ابوبکر والی روایت میں سند کے لحاظ سے کوئی اشکال نہیں ہے اور علوان ابن داود کے منکر الحدیث ہونے والا اشکال بھی قابل اثبات نہیں ہے، کیونکہ 

اولاً: اہل سنت کے بعض علماء نے اس روایت کی سند کو صحیح قرار دیا ہے،

ثانياً: ابن حبان شافعی نے بھی علوان ابن داوود کو ثقہ قرار دیا ہے،

ثالثاً: علوان ابن داوود کا منکر الحدیث قابل اثبات نہیں ہے،

رابعاً: اگر فرض بھی کر لیں کہ علوان منکر الحدیث تھا، تو پھر بھی یہ اس روایت کے صحیح و معتبر ہونے کو ضرر نہیں پہنچاتا، اس لیے کہ منکر الحدیث کا لفظ بہت سے ثقہ راویوں اور حتی کتاب صحیح بخاری کے راویوں پر بھی بولا گيا ہے،

لہذا اس تفصیل کی روشنی میں ابوبکر کے حضرت زہرا (س) کے گھر پر حملہ کرنے اور عمر کے ذریعے سے انکو شہید کرنے والی یہ روایت اور دوسری روایات سند کے لحاظ سے بالکل صحیح اور معتبر ہیں۔

التماس دعا۔۔۔۔۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی