2018 December 17
بیت وحی پر ظالمانہ حملے کے ثبوت اور شہادت حضرت زہرا (س)
مندرجات: ١٣٠٨ تاریخ اشاعت: ١٨ February ٢٠١٨ - ١٤:٤٣ مشاہدات: 834
مضامین و مقالات » پبلک
بیت وحی پر ظالمانہ حملے کے ثبوت اور شہادت حضرت زہرا (س)

کتب و منابع اہل سنت:

اہل سنت کی معتبر کتب میں بہت سی روایات موجود ہیں کہ جو ثابت کرتی ہیں کہ ابوبکر نے اہل بیت (ع) کے بعض دشمنوں کے ساتھ مل کر ، بیت وحی پر حملہ کیا تھا اور اس مقدس گھر کو آگ لگائی تھی، حالانکہ اس وقت حضرت فاطمہ زہرا (س) اپنے بیٹوں اور رسول خدا (ص) کے نواسوں کے ساتھ اپنے گھر میں موجود تھیں۔

یہاں پر اہل سنت کے علماء سے نقل شدہ چند روایات کو ذکر کیا جا رہا ہے اور ان میں سے فقط چار روایات کی سند کے بارے میں بھی تفصیل سے بحث کی جائے گی۔ ان روایات میں سے ایک روایت وہ بھی ہے کہ جس میں ابوبکر نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اپنے کیے پر پشمانی اور شرمندگی کا اظہار بھی کیا تھا۔

1 . امام جوينی (متوفی 730 ہجری) :

عالم اہل سنت جوینی کی روایت میں کیونکہ صدیقہ طاہرہ کے مقتول ہونے کے بارے صراحت کی گئی ہے، اسی لیے سب سے پہلے اسی روایت کو ذکر کیا جا رہا ہے۔

جوینی ، کہ جو شمس الدین ذہبی کا بھی استاد ہے، اس نے رسول خدا (ص) سے ایسے روایت کو نقل کیا ہے کہ:

ایک دن رسول خدا بیٹھے ہوئے تھے کہ حسن ابن علی انکے پاس آئے، رسول خدا کی نگاہ جونہی اپنے نواسے حسن پر پڑی، آنکھوں سے اشک جاری ہو گئے، پھر حسين ابن علی رسول خدا کے پاس آئے، رسول خدا نے دوبارہ گریہ کرنا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد جناب فاطمہ اور حضرت امیر بھی وہاں آئے تو رسول خدا نے ان دونوں کو بھی دیکھتے ہی اشک بہانا شروع کر دیا۔ جب رسول خدا سے حضرت فاطمہ پر گریہ کرنے کے سبب کو پوچھا گیا تو آپ (ص) نے فرمایا کہ:

وَ أَنِّي لَمَّا رَأَيْتُهَا ذَكَرْتُ مَا يُصْنَعُ بِهَا بَعْدِي كَأَنِّي بِهَا وَ قَدْ دَخَلَ الذُّلُّ في بَيْتَهَا وَ انْتُهِكَتْ حُرْمَتُهَا وَ غُصِبَتْ حَقَّهَا وَ مُنِعَتْ إِرْثَهَا وَ كُسِرَ جَنْبُهَا [وَ كُسِرَتْ جَنْبَتُهَا] وَ أَسْقَطَتْ جَنِينَهَا وَ هِيَ تُنَادِي يَا مُحَمَّدَاهْ فَلَا تُجَابُ وَ تَسْتَغِيثُ فَلَا تُغَاثُ ... فَتَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَلْحَقُنِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فَتَقْدَمُ عَلَيَّ مَحْزُونَةً مَكْرُوبَةً مَغْمُومَةً مَغْصُوبَةً مَقْتُولَة،

فَأَقُولُ عِنْدَ ذَلِكَ اللَّهُمَّ الْعَنْ مَنْ ظَلَمَهَا وَ عَاقِبْ مَنْ غَصَبَهَا وَ ذَلِّلْ مَنْ أَذَلَّهَا وَ خَلِّدْ فِي نَارِكَ مَنْ ضَرَبَ جَنْبَهَا حَتَّي أَلْقَتْ وَلَدَهَا فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ ذَلِكَ آمِين .

جب میں نے فاطمہ کو دیکھا تو مجھے ایک دم سے وہ تمام مظالم یاد آ گئے کہ جو میرے بعد اس پر ڈھائے جائیں گے۔ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ ذلت اسکے گھر میں داخل ہوئی ہے، اسکی حرمت کو پامال کیا گیا ہے، اسکے حق کو غصب کیا گیا ہے،اسکی میراث کو اس سے دور کیا گیا ہے، اسکے پہلو کو زخمی اور اسکے بچے کو سقط کیا گیا ہے، جبکہ وہ بار بار ندا اور فریاد کر رہی ہو گی: وا محمداه ! ،

لیکن کوئی بھی اسکی فریاد سننے والا نہیں ہو گا، وہ مدد کے لیے پکار رہی ہو گی، لیکن کوئی بھی اسکی مدد نہیں کرے گا۔

وہ میرے خاندان میں سے سب سے پہلے مجھ سے آ کر ملے گی، اس حال میں میرے پاس آئے گی کہ وہ بہت محزون، غمگین اور شہید کی گئی ہو گی۔

یہ دیکھ کر میں کہوں گا کہ: خداوندا جس نے بھی اس پر ظلم کیا ہے، اس پر لعنت فرما، عذاب کر اس کو کہ جس نے اسکے حق کو غصب کیا ہے، ذلیل و خوار کر اسکو کہ جس نے اسے ذلیل کیا ہے اور جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رکھ ، جس نے اسکے پہلو کو زخمی کر کے اسکے بچے کو سقط کیا ہے۔ رسول خدا کی اس لعنت و نفرین کو سن کر ملائکہ آمین کہیں گے۔

فرائد السمطين ج2 ، ص 34 و 35

ذہبی نے اپنے استاد امام الحرمین جوینی کے حالات کے بارے میں کہا ہے کہ:

وسمعت من الامام المحدث الاوحد الاكمل فخر الاسلام صدر الدين ابراهيم بن محمد بن المؤيد بن حمويه الخراساني الجويني ... وكان شديد الاعتناء بالرواية وتحصيل الاجزاء حسن القراءة مليح الشكل مهيبا دينا صالحا .

اور میں نے بے نظیر امام، محدث کامل، فخر اسلام صدر الدين ابراہيم ابن محمد ابن المويد ابن حمويہ الخراسانی الجوينی سے روايت کو  سنا تھا ۔۔۔۔۔ وہ روایات اور احادیث کی کتب کو بہت زیادہ اہمیت دیا کرتے تھے، وہ خوبصورت چہرے اور اچھی آواز کے مالک تھے کہ جو با ہیبت، دین دار اور ایک صالح انسان تھے۔

تذكرة الحفاظ ج 4 ، ص 1505- 1506 ، رقم 24 .

2. ابن ابی شيبہ (متوفی 239 ہجری) :

عالم اہل سنت ابن ابی شیبہ ، محمد ابن اسماعیل بخاری کا استاد ہے، اس نے اپنی کتاب المصنف میں لکھا ہے کہ:

أنه حين بويع لأبي بكر بعد رسول الله ( ص ) كان علي والزبير يدخلان علي فاطمة بنت رسول الله ( ص ) فيشاورونها ويرتجعون في أمرهم ، فلما بلغ ذلك عمر بن الخطاب خرج حتي دخل علي فاطمة فقال : يا بنت رسول الله ( ص ) ! والله ما من أحد أحب إلينا من أبيك ، وما من أحد أحب إلينا بعد أبيك منك ، وأيم الله ما ذاك بمانعي إن اجتمع هؤلاء النفر عندك ، إن أمرتهم أن يحرق عليهم البيت ، قال : فلما خرج عمر جاؤوها فقالت : تعلمون أن عمر قد جاءني وقد حلف بالله لئن عدتم ليحرقن عليكم البيت وأيم الله ليمضين لما حلف عليه ....

جب مدینہ کے لوگوں نے ابوبکر کی بیعت کر لی، علی اور زبیر کے فاطمہ کے گھر میں اسی بارے میں گفتگو اور مشورہ کرنے کے بارے میں جب عمر ابن خطاب کو پتا چلا تو وہ فاطمہ کے گھر آیا اور کہا: اے بنت رسول اللہ ! ہمارے لیے محبوب ترین انسان تمہارے والد ہیں اور انکے بعد خود تم !!! لیکن خدا کی قسم یہ محبت مجھے اس کام سے منع نہیں کرے گی کہ تمہارے گھر میں جمع ہونے والوں کی وجہ سے ، میں حکم دوں کہ اس گھر کو آگ لگا دیں۔ [یعنی میں آپکے رسول خدا کی بیٹی ہونے کے باوجود بھی، اس گھر کو آگ لگا دوں گا]

عمر یہ کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔ جب علی ، زبیر کے ساتھ اپنے گھر واپس آئے تو بنت رسول خدا نے علی اور زبیر کو بتایا کہ: عمر میرے پاس آیا تھا اور اس نے قسم کھائی ہے کہ اگر آپ لوگ دوبارہ اس گھر میں اکٹھے ہوئے تو میں اس گھر کو آگ لگا دوں گا، (حضرت زہرا نے کہا) خدا کی قسم ! وہ اپنی قسم پر عمل کر کے ہی رہے گا !

المصنف ، ج8 ، ص 572

ابن ابی شيبہ نے اس روایت کی سند کو ایسے نقل کیا ہے:

حدثنا محمد بن بشر نا عبيد الله بن عمر حدثنا زيد بن أسلم عن أبيه أسلم،

بحث سندی:

محمد ابن بشیر:

مزی نے کتاب تہذيب الكمال میں اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

قال عثمان بن سعيد الدارمي ، عن يحيي بن معين : ثقة .

و قال أبو عبيد الآجري : سألت أبا داود عن سماع محمد بن بشر من سعيد بن أبي عروبة فقال : هو أحفظ من كان بالكوفة،

ابو عبيد کہتا ہے کہ: میں نے داود سے محمد ابن بشير عن سعيد ابن ابی عروبہ کی نقل کردہ روایت کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا: وہ قوت حافظہ کے لحاظ سے تمام اہل کوفہ سے برتر ہے۔

تهذيب الكمال ، ج24 ، ص533

اور ابن حجر نے کتاب تہذيب التہذيب میں محمد ابن بشیر کے بارے میں بھی لکھا ہے کہ:

و كان ثقة ، كثير الحديث .

و قال النسائي ، و ابن قانع : ثقة .

و قال ابن شاهين في " الثقات " : قال عثمان بن أبي شيبة : محمد بن بشر ثقة ثبت .

تهذيب التهذيب ، ج9 ، ص 74

عبيد الله ابن عمر ابن حفص ابن عاصم ابن عمر ابن الخطاب :

مزی نے کتاب تہذيب الكمال میں اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

و قال أبو حاتم : سألت أحمد بن حنبل عن مالك ، و عبيد الله بن عمر ، و أيوب أيهم أثبت في نافع ؟ فقال : عبيد الله أثبتهم وأحفظهم وأكثرهم رواية .

و قال عبد الله بن أحمد بن حنبل : قال يحيي بن معين : عبيد الله بن عمر من الثقات .

و قال أبو زرعة ، و أبو حاتم : ثقة .

و قال النسائي : ثقة ثبت .

و قال أبو بكر بن منجويه : كان من سادات أهل المدينة و أشراف قريش فضلا و علما و عبادة و شرفا و حفظا و إتقانا .

تهذيب الكلمال ، ج19 ، ص127 .

اور ابن حجر نے تہذيب التہذيب میں اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

قال ابن منجويه : كان من سادات أهل المدينة و أشراف قريش : فضلا و علما و عبادة و شرفا و حفظا و إتقانا . )

و قال أحمد بن صالح : ثقة ثبت مأمون ، ليس أحد أثبت في حديث نافع منه .

تهذيب التهذيب ، ج7 ، ص 40 .

زيد ابن اسلم القرشی العدوی :

یہ کتاب صحیح بخاری، صحیح مسلم اور اہل سنت کی دوسری کتب صحاح ستہ کے راویوں میں سے ایک راوی ہے۔ اسی وجہ سے اس شخص کے ثقہ ہونے میں کسی قسم کا شک و تردید نہیں ہے۔

مزی نے کتاب تہذيب الكمال میں اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

و قال عبد الله بن أحمد بن حنبل عن أبيه ، و أبو زرعة ، و أبو حاتم ، و محمد بن سعد ، و النسائي ، و ابن خراش : ثقة .

و قال يعقوب بن شيبة : ثقة من أهل الفقه والعلم ، و كان عالما بتفسير القرآن ، له كتاب فيه تفسير القرآن .

تهذيب الكمال ، ج10 ، ص17 .

اسلم القرشی العدوی ، ابو خالد و يقال ابو زيد ، المدنی ، مولی عمر ابن الخطاب :

یہ بھی کتاب صحیح بخاری، صحیح مسلم اور اہل سنت کی دوسری کتب صحاح ستہ کے راویوں میں سے ایک راوی اور صحابی بھی ہے، اور کیونکہ اہل سنت کے نزدیک تمام صحابہ عادل ہیں، اسی وجہ سے اس راوی کے ثقہ ہونے میں شک نہیں کیا جا سکتا۔

مزی نے کتاب تہذيب الكمال میں اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

أدرك زمان النبي صلي الله عليه وسلم .

و قال العجلي : مديني ثقة من كبار التابعين . و قال أبو زرعة : ثقة .

تهذيب الكمال ، ج2 ، ص530

اوپر ذکر کی گئی روایت کے راویوں کے بارے میں علم رجال کی روشنی میں ثقہ ثابت ہونے کے بعد نتیجے کے طور پر یہ روایت صحیح ہو گی۔

3 . علامہ بلاذری (متوفی 270 ہجری) :

إن أبابكر آرسل إلي علي يريد البيعة ، فلم يبايع ، فجاء عمر و معه فتيلة . فتلقته فاطمة علي الباب فقالت فاطمة : يابن الخطاب ! أتراك محرّقا عليّ بابي ؟! قال : نعم ، و ذلك أقوي فيما جاء به أبوك .

ابوبکر نے کچھ لوگوں کو علی سے بیعت لینے کے لیے بھیجا، جب علی نے ابوبکر کی بیعت نہ کی تو اس نے عمر کو حکم دیا کہ جاؤ اور علی کو میرے پاس لے کر آؤ۔ عمر ہاتھ میں آگ جلتی مشعل لے کر فاطمہ کے گھر کی طرف گیا۔ فاطمہ گھر کے دروازے کے پیچھے آئی اور کہا: اے خطّاب کے بیٹے ! کیا تو میرے گھر کے دروازے کو آگ لگانا چاہتا ہے ؟ عمر نے کہا: ہاں ! میرا یہ کام جو کچھ (شریعت) تمہارے والد لے کر آئے تھے، اسکو محکم تر کرے گا۔

انساب الاشراف، بلاذري، ج1، ص586

یہ کونسی شریعت اور خلافت تھی کہ جو رسول خدا (ص) کے گھر کو آگ لگانے سے محکم اور استوار ہوتی ہے اور کیا خود رسول خدا نے اسی دین اور شریعت کو محکم اور استوار کرنے کے لیے کفار اور مشرکین کے گھروں کو بھی آگ لگائی تھی ؟؟؟ !!!

بحث سندی:

بلاذری نے اس روایت کو اس سند کے ساتھ نقل کیا ہے:

المدائني، عن مسلمة بن محارب، عن سليمان التيمي وعن ابن عون: أن أبابكر ...

مدائنی:

ذہبی نے اسکے بارے میں لکھا ہے:

المدائني * العلامة الحافظ الصادق أبو الحسن علي بن محمد بن عبد الله بن أبي سيف المدائني الاخباري . نزل بغداد ، وصنف التصانيف ، وكان عجبا في معرفة السير والمغازي والأنساب وأيام العرب ، مصدقا فيما ينقله ، عالي الاسناد .

ذہبی نے یحیی ابن معین سے نقل کرتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ:

قال يحيي : ثقة ثقة ثقة .( قال احمد بن أبي خثيمة) سألت أبي : من هذا ؟ قال : هذا المدائني .

يحيی ابن مَعين نے اسکے بارے میں تین بار کہا ہے: وہ ثقہ ہے، وہ ثقہ ہے، وہ ثقہ ہے، یعنی اسکی نقل کردہ روایات قابل اعتماد ہیں۔  

احمد ابن ابی خثيمہ نے کہا ہے کہ:

میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ اس شخص کا کیا نام ہے کہ جسکے بارے میں یحیی ابن معین نے اس مطلب کو ذکر کیا ہے، میرے والد نے کہا: اسکا نام مدائنی ہے۔

اور اس نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ:

وكان عالما بالفتوح والمغازي والشعر ، صدوقا في ذلك .

سير أعلام النبلاء - الذهبي - ج 10 - ص 401

ابو الحسن مدائنی عالم اہل سنت کہ جو تاریخ، جنگوں، غزوات اور اشعار کے بارے میں علم رکھنے والا انسان تھا۔ لہذا ان تمام امور میں وہ اپنے زمانے کا صادق اور عالم شمار ہوتا تھا۔

اور ابن حجر نے بھی اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

قال أبو قلابة: حدثت أبا عاصم النبيل بحديث فقال عمن هذا قلت: ليس له إسناد ولكن حدثنيه أبو الحسن المدائني قال لي سبحان الله أبو الحسن أستاذ . ( إسناد )

ابو قلابۃ کہتا ہے کہ: میں نے اس حدیث کو ابا عاصم النبيل کے لیے پڑھا تو اس نے کہا کہ تم نے اس حدیث کو کس سے سنا ہے ؟ ابو قلابہ نے کہا کہ اس حدیث کی سند تو میرے پاس نہیں ہے، لیکن اس حدیث کو میرے لیے ابو الحسن مدائنی نے نقل کیا ہے اور میں نے اس سے سنا ہے، ابا عاصم نے کہا: اس خدا کی ذات پاک ہے، ابو الحسن مدائنی علم حدیث کے استاد ہیں۔

لسان الميزان، ج 5 ، ص 82 ، ذيل ترجمه علي بن محمد ، أبوالحسن المدائني الاخباري ، رقم 5945.

بعض کتب میں لفظ استاد کی جگہ، لفظ اسناد ذکر ہوا ہے۔ اس صورت میں عبارت کا معنی ایسے ہو گا:

 اس حدیث کی خود ابو الحسن مدائنی سند ہیں اور انکا اس حدی‍ث کو نقل کرنا ہی کافی ہے۔

ابو جعفر طبری نے کہا ہے کہ:

وقال أبو جعفر الطبري كان عالماً بأيام الناس صدوقاً في ذلك۔

مدائنی علم تاریخ کا عالم اور تاریخ کو نقل کرنے میں بہت سچا انسان تھا۔

لسان الميزان، ج 5 ، ص 82 ، ذيل ترجمه علي بن محمد ، أبوالحسن المدائني الاخباري ، رقم 5945.

مسلمۃ ابن محارب :

ابن حبان نے اسکو اپنی كتاب الثقات میں ثقہ قرار دیا ہے، اسی وجہ سے اس راوی کے مجہول ہونے کا فرض، بالکل غلط ہو گا۔

الثقات ـ ابن حبان ـ ج7، ص 490 .

سليمان التِيْمی :

مزی نے کتاب تہذيب الكمال میں لکھا ہے کہ:

قال الربيع بن يحيي عن شعبة ما رأيت أحدا أصدق من سليمان التيمي كان إذا حدث عن النبي صلي الله عليه وسلم تغير لونه.

ربیع ابن یحیی نے شعبۃ ابن حجاج سے نقل کیا ہے کہ وہ کہا کرتا تھا کہ: میں نے کسی کو سلیمان التیمی سے زیادہ سچا نہیں دیکھا، وہ جب بھی رسول خدا سے حدیث کو نقل کرتا تھا تو اسکے چہرے کا رنگ تبدیل ہو جاتا تھا۔

تهذيب الكمال ج 12، ص8 ، ترجمه سليمان بن طرخان التيمي ،أبو المعتمر البصري ، رقم 2531و الجرح والتعديل: ج4 ، ص 124 ترجمة سليمان التيمي ، رقم 539 .

ابو بحر البکراوی نے سلیمان کے بارے میں کہا ہے کہ:

قال أبو بحر البكراوي عن شعبة شك ابن عون وسليمان التيمي يقين.

ابو بحر البكراوی نے شعبۃ ابن حجاج سے نقل کیا ہے کہ وہ کہا کرتا تھا کہ ابن عون، شک ہے اور سلیمان التیمی ، یقین ہے۔

تهذيب التهذيب ج 4، ص 176، ترجمه سليمان بن طرخان التيمي ، رقم 341 ؛ تهذيب الكمال ج 12، ص8 ، ترجمه سليمان بن طرخان التيمي ،أبو المعتمر البصري ، رقم 2531.

احمد ابن حنبل کے بیٹے عبد اللہ نے کہا ہے کہ:

وقال عبدالله بن احمد عن أبيه ثقة.

عبد الله ابن احمد ابن حنبل نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ وہ کہا کرتا تھا کہ: سلیمان التیمی ایک ثقہ اور قابل اعتماد انسان ہے۔

تهذيب التهذيب ج 4، ص 176، ترجمه سليمان بن طرخان التيمي ، رقم 341

يحيی ابن معين اور نَسائی نے سلیمان کے بارے میں لکھا ہے کہ:

قال ابن معين والنسائي ثقة.

يحيی ابن معين اور نَسائی نے بھی اسے ثقہ اور مورد اطمینان قرار دیا ہے۔

تهذيب التهذيب ج 4، ص 176، ترجمه سليمان بن طرخان التيمي ، رقم 341؛ تهذيب الكمال ج 12، ص8 ، ترجمه سليمان بن طرخان التيمي ،أبو المعتمر البصري ، رقم 2531.

عجلی نے بھی سلیمان کے بارے میں کہا ہے کہ:

قال العجلي تابعي ثقة فكان من خيار أهل البصرة.

معرفة الثقات ج 1، ص 430، ترجمه سليمان بن طرخان التيمي ، رقم 670 ؛

تهذيب التهذيب ج 4، ص 176، ترجمه سليمان بن طرخان التيمي ، رقم 341؛

تهذيب الكمال ج 12، ص8 ، ترجمه سليمان بن طرخان التيمي ،أبو المعتمر البصري ، رقم 2531.

عالم اہل سنت عجلی نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ: وہ تابعی اور قابل اعتماد ہے اور اہل بصرہ کے بہترین افراد میں سے ہے۔

محمد ابن سعد صاحب كتاب الطبقات الكبری نے سليمان التيمی کے بارے میں کہا ہے کہ:

كان ثقة كثير الحديث وكان من العباد المجتهدين وكان يصلي الليل كله يصلي الغداة بوضوء عشاء الآخرة.

وہ ایک مورد اعتماد فرد ہے، اور اس نے بہت سی احادیث کو نقل کیا ہے، وہ مجتہد اور عبادت گذار بندہ تھا، وہ ساری رات نماز پڑھا کرتا تھا اور وہ صبح کی نماز کو گذشتہ رات نماز عشاء کے لیے کیے گئے وضو کے ساتھ پڑھتا تھا۔ (یعنی ساری رات باوضو رہتا تھا)

الطبقات الكبري ـ ابن سعد ـ ج7 ، ص 188، ترجمه سليمان التيمي ، رقم 3198، چاپ دار الكتب العلمية ـ بيروت.

قال الثوري حفاظ البصرة ثلاثة فذكره فيهم.

ثوری نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ شہر بصرہ میں احادیث کے تین ہی حافظ ہیں ( یعنی جنکی قوت حافظہ بہت قوی تھی)، ثوری نے ان تین میں سے ایک اسی سليمان التيمی کو ذکر کیا ہے۔

تهذيب التهذيب ج 4، ص 176، ترجمه سليمان بن طرخان التيمي ، رقم 341

و تهذيب الكمال ج 12، ص9 ، ترجمه سليمان بن طرخان التيمي ،أبو المعتمر البصري ، رقم 2531

و الجرح والتعديل: ج4 ، ص 124، ترجمة سليمان التيمي ، رقم 539.

ابن مدینی نے بھی سلیمان تیمی کے بارے میں بیان کیا ہے کہ:

قال ابن المديني عن يحيي ما جلست إلي رجل اخوف لله منه.

علی ابن المدينی نے يحيی ابن سعيد قطان  سے نقل کیا ہے کہ وہ کہا کرتا تھا کہ: میں کسی شخص کے پاس نہیں بیٹھا، مگر یہ کہ ان سب میں سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا سلیمان التیمی ہے۔ یعنی سلیمان التیمی بہت زیادہ متقی اور خدا خوف بندہ تھا۔

تهذيب التهذيب ج 4، ص 176، ترجمه سليمان بن طرخان التيمي ، رقم 341

و تهذيب الكمال ج 12، ص9 ، ترجمه سليمان بن طرخان التيمي ، أبو المعتمر البصري ، رقم 2531.

محمد ابن علی الوراق بھی سلیمان تیمی کے بارے میں بیان کرتا ہے کہ:

قال محمد بن علي الوراق عن أحمد بن حنبل كان يحيي بن سعيد يثني علي التيمي وكان عنده عن أنس أربعة عشر حديثا ولم يكن يذكر اخباره.

محمد ابن علی الوراق نے احمد ابن حنبل سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتا تھا کہ: يحيی ابن سعيد قطان)، سليمان التيمی کی مدح و تعریف کیا کرتا تھا اور کہتا تھا کہ انس ابن مالک کی 14 روایات سلیمان کے پاس تھیں، لیکن پھر بھی یحیی نے ان روایات کو ذکر نہیں کیا تھا۔

تهذيب التهذيب ج 4، ص 176، ترجمه سليمان بن طرخان التيمي ، رقم 341؛

تهذيب الكمال ج 12، ص11 ، ترجمه سليمان بن طرخان التيمي ،أبو المعتمر البصري ، رقم 2531.

ابن حبان نے اپنی كتاب الثقات میں کہا ہے کہ:

كان من عباد أهل البصرة وصالحيهم ثقة واتقانا وحفظا وسنة.

سلیمان التیمی اہل بصرہ کے عبادت گذار اور صالحان میں سے تھا، وہ ایک مورد اعتماد، اہل دقت ، حافظان حدیث میں سے اور سنت کو بہت زیادہ اہمیت دینے والا تھا۔

الثقات ج4، ص 300، ترجمه سليمان بن طرخان و تهذيب التهذيب ج 4، ص 177، ترجمه سليمان بن طرخان التيمي ، رقم 341 .

عبد الله ابن عون :

بعض نے اشکال کیا ہے کہ روایت اس مقام پر مقطوع ہے، کیونکہ اس نے صحابہ سے روایت کو نقل نہیں کیا، حالانکہ عالم بزرگ اہل سنت صفدی نے ابن عون کے بارے میں کہا ہے کہ:

كان يمكنه السماع من طائفةٍ من الصحابة.

اس (ابن عون) نے روایات کو صحابہ سے سنا تھا۔

الوافي بالوفيات ج 17، ص 390، ذيل ترجمه الحافظ المُزَني عبدالله بن عون بن أرطبان أبوعون المزني ، رقم 320.

بلکہ اس سے بھی بالا تر یہ کہ بعض روایات موجود ہیں کہ جو دلالت کرتی ہیں کہ ابن عون خود بھی صحابی تھا۔ جسیا کہ ابن سعد نے کتاب الطبقات الكبری میں نقل کیا ہے کہ:

أخبرنا بكار بن محمد قال : كان بن عون يتمني أن يري النبي ، صلي الله عليه وسلم ، فلم يره إلا قبل وفاته بيسير فسر بذلك سرورا شديدا ...

ابن عون بہت زیادہ چاہتا تھا کہ رسول خدا کی زیارت کرے، آخر کار اس کو یہ توفیق نصیب ہوئی کہ اس نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ان حضرت کی زیارت کر لی اور وہ اس وجہ سے بہت خوش تھا۔۔۔۔۔

الطبقات الكبري ج7 ، ص 198، ذيل ترجمه عبدالله بن عون بن أرطبان ، رقم : 3232 ، چاپ دارالكتب العلمية (بيروت - لبنان)

حتی اگر فرض بھی کر لیں کہ ابن عون تابعی تھا، پھر بھی اس کا روایت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، کیونکہ اہل سنت کے علم رجال کے باپ شعبہ ابن حجاج نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

شك ابن عون أحب إلي من يقين غيره.

میرے لیے ابن عون کا شک، دوسروں کے یقین سے بہتر ہے۔

مقدمة الجرح والتعديل: 145.

اور علی ابن مدينی عالم بزرگ علم رجال اہل سنت نے کہا ہے کہ:

قال علي بن المديني: جمع لابن عون من الاسناد ما لم يجمع لاحد من أصحابه. سمع بالمدينة من القاسم وسالم، وبالبصرة من الحسن وابن سيرين، وبالكوفة من الشعبي وإبراهيم، وبمكة من عطاء ومجاهد، وبالشام من رجاء بن حيوة ومكحول.

ابن عون کے پاس اس قدر مستند روایات موجود ہیں کہ اسکے اصحاب میں سے کسی کے پاس بھی اس قدر مستند روایات موجود نہیں ہیں۔ اسکے اساتذہ شہر مدینہ میں قاسم و سالم، شہر بصرہ میں حسن بصری و ابن سيرين، کوفہ میں عامر شعبی و ابراہیم، مکہ میں عطاء و مجاہد اور شام میں رجاء ابن حیوہ و مکحول تھے۔

مزی نے کتاب تہذيب الكمال میں لکھا ہے کہ:

قال علي: وهذا قبل أن يحدث ابن عون، ولو كان ابن عون قد حدث ما قدم عليه عندي أحدا.

ابن عون کے کرسی تدریس پر بیٹھنے سے پہلے علی ابن مدائنی کہتا تھا کہ: اگر ابن عون احادیث کو نقل کرنا شروع کرے تو میں کسی کو بھی اس پر ترجیح نہیں دوں گا۔ یعنی فقط اس سے ہی حدیث کو نقل کروں گا۔

تهذيب الكمال ج 15 ، ص 397 ، ذيل ترجمه عبدالله بن عون بن أرطبان ، رقم : 3469.

قال إسماعيل بن عمرو البجلي، عن سفيان الثوري: ما رأيت أربعة اجتمعوا في مصر مثل أربعة اجتمعوا بالبصرة: أيوب، ويونس وسليمان التيمي، وعبد الله بن عون.

اسماعيل ابن عمرو بجلی نے سفيان ثوری سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ان چار اشخاص کو کہ جنکو میں نے مصر میں دیکھا تھا، وہ علم و فضیلت میں، ان چار اشخاص کے برابر نہیں ہو سکتے کہ جنکو میں نے بصرہ میں دیکھا تھا۔

تهذيب الكمال ج 15 ، ص 398 ، ذيل ترجمه عبدالله بن عون بن أرطبان ، رقم : 3469.

وقال محمد بن سلام الجمحي: سمعت وهيبا يقول: دار أمر البصرة علي أربعة، فذكر هؤلاء.

وقال أحمد بن عبدالله العجلي : أهل البصرة يفخرون بأربعة، فذكرهم.

احمد ابن عبد الله عجلی نے کہا ہے کہ: اہل بصرہ چار اشخاص پر افتخار کیا کرتے تھے، پھر اس نے ان چاروں کے ناموں کو ذکر کیا۔

معرفة الثقات ج 2 ، ص 50 ، ذيل ترجمه عبدالله بن أرطبان ، رقم 934، چاپ : المكتبة الدار- المدينة المنورة .

وقال الاصمعي، عن شعبة: ما رأيت أحدا بالكوفة إلا وهؤلاء الاربعة أفضل منه ، فذكرهم .

اصمعی نے شعبہ سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ: میں نے کوفہ میں کسی کو بھی ان چاروں سے بالا و برتر نہیں دیکھا، پھر اس نے ان چاروں کے ناموں کو ذکر کیا۔

تهذيب الكمال ج 15 ، ص 398 ، ذيل ترجمه عبدالله بن عون بن أرطبان ، رقم : 3469.

قال محمد بن أحمد بن البراء: قال علي بن المديني، وذكر هشام بن حسان وخالد الحذاء وعاصم الاحول وسلمة بن علقمة وعبد الله بن عون و أيوب، فقال: ليس في القوم مثل ابن عون و أيوب .

محمد ابن احمد ابن البراء کہتا ہے کہ جب علی ابن المدينی ہشام ابن حسان ، خالد الحذاء ، عاصم الاحول ، سلمۃ ابن علقمۃ ، عبد الله ابن عون اور ايوب کے بارے میں بات کر رہا تھا تو اس نے کہا: علمائے حدیث میں کوئی بھی ابن عون اور ایوب کی طرح نہیں ہے۔

الجرح والتعديل: ج5 ، ص131 ، باب العين ، ذيل ترجمه عبدالله بن عون البصري ، رقم : 605.

وقال أبو داود الطيالسي ، عن شعبة: ما رأيت مثل أيوب ويونس وابن عون .

ابو داود طيالسی نے شعبۃ سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ: شعبہ نے کہا کہ میں نے ابھی تک کسی کو بھی ایوب، یونس اور ابن عون کی طرح نہیں دیکھا۔

الجرح والتعديل: ج5 ، ص133، باب الالف ، ذيل ترجمه أيوب بن أبي تميمة ، رقم : 4 ؛ الجرح والتعديل: ج5 ، باب العين ، ص 145.

قال حفص بن عمرو الربالي ، عن معاذ بن معاذ: سمعت هشام بن حسان يقول: حدثني من لم تر عيناي مثله - فقلت في نفسي: اليوم يستبين فضل الحسن وابن سيرين - قال: فأشار بيده إلي ابن عون وهو جالس.

حفص ابن عمرو ربالی نے معاذ ابن معاذ سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ: میں نے ہشام ابن حسان سے سنا ہے کہ وہ کہتا تھا کہ میں نے کسی ایسے سے حدیث کو سنا ہے کہ میری آنکھوں نے علم و فضیلت میں اس جیسا نہیں دیکھا تھا، میں نے اپنے آپ سے کہا کہ آج تو حسن بصری اور ابن سیرین کے فضائل زندہ و ظاہر ہو گئے ہیں، میں اسی خیال میں تھا کہ اچانک ہشام ابن حسان نے اپنی انگلی سے وہاں پر بیٹھے ہوئے، ابن عون کی طرف اشارہ کیا۔

تهذيب الكمال ج 15 ، ص 399 ، ذيل ترجمه عبدالله بن عون بن أرطبان ، رقم : 3469.

قال الربالي: فذكرته للخليل بن شيبان ، فقال: سمعت عمر بن حبيب يقول: سمعت عثمان البتي يقول: ما رأت عيناي مثل ابن عون.

ربالی کہتا ہے کہ: میں نے اس بات کو خلیل ابن شیبان کے لیے نقل کیا، اس نے کہا کہ میں نے بھی اسکو عمر ابن حبیب سے سنا تھا کہ اس نے کہا کہ عثمان بتی کہتا تھا کہ: میری آنکھوں نے فضیلت اور برتری میں کسی کو ابن عون کی مانند نہیں دیکھا۔

تهذيب الكمال ج 15 ، ص 399 ، ذيل ترجمه عبد الله بن عون بن أرطبان ، رقم : 3469.

قال نعيم بن حماد، عن ابن المبارك: ما رأيت أحد ذكر لي قبل أن ألقاه ثم لقيته، إلا وهو علي دون ما ذكر لي إلا حيوة، وابن عون، وسفيان، فأما ابن عون: فلوددت أني لزمته حتي أموت أو يموت .

نعيم ابن حماد نے عبد الله ابن مبارک سے نقل کیا ہے کہ: جس کسی کے بھی حالات زندگی کو میرے لیے نقل کیا جاتا تھا، اس سے ملاقات کے بعد معلوم ہوتا تھا کہ وہ اتنی فضیلت کا مالک بھی نہیں ہے کہ جتنا میرے لیے بیان کیا گیا ہے، مگر حیوۃ ، ابن عون اور سفیان۔ ابن عون اس قدر با فضیلت تھا کہ میں چاہتا تھا کہ اس وقت تک اس سے علم حاصل کروں یہاں تک کہ یا میں دنیا سے چلا جاؤں یا وہ۔

تهذيب الكمال ج 15 ، ص 400 ، ذيل ترجمه عبدالله بن عون بن أرطبان ، رقم : 3469.

قال ابن المبارك: ما رأيت أحدا أفضل من ابن عون .

عبد الله ابن مبارک نے کہا ہے کہ: میں نے کسی کو بھی ابن عون سے افضل نہیں دیکھا۔

تاريخ البخاري الكبير: ج5 ، ص 163 ، ذيل ترجمة عبدالله بن عون بن أرطبان ، رقم : 512.

ابن حبان کہتا ہے کہ:

من سادات أهل زمانه عبادة وفضلا وورعا ونسكا وصلابة في السنة، وشدة علي أهل البدع ،

(ابن عون) اپنے زمانے میں موجود لوگوں کی نسبت عبادت، فضیلت، شبہات سے دوری، اخلاق، سنت نبوی پر عمل کرنے اور بدعت گزاروں کا مقابلہ کرنے کے لحاظ سے، بزرگان میں سے تھا۔

الثقات: ج7 ، ص3.

پس نتیجہ یہ ہوا کہ:

اولاً : علمائے اہل سنت نے واضح طور پر کہا کہ وہ صحابی تھا اور اس نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں رسول خدا (ص) کی زیارت کی تھی، لہذا وہ حضرت صدیقہ شہیدہ (س) کے گھر پر حملے کے وقت وہاں موجود تھا اور اس ماجرے کا چشم دید گواہ تھا۔

ثانياً : اگر فرض بھی کریں کہ یہ روایت منقطع ہو اور خود ابن عون کا کلام ہو، پھر بھی ہمارا دعوی ثابت کرنے کے لیے کافی ہے، کیونکہ اتنی علمی فضیلت والی شخصیت جیسے ابن عون کا اعتراف کرنا، خود ہمارے لیے بہترین دلیل ہے۔

4 . ابن قتيبہ دينوری (متوفی 276 ہجری) :

وإن أبا بكر رضي الله عنه تفقد قوما تخلفوا عن بيعته عند علي كرم الله وجهه ، فبعث إليهم عمر ، فجاء فناداهم وهم في دار علي ، فأبوا أن يخرجوا فدعا بالحطب وقال : والذي نفسه عمر بيده . لتخرجن أو لأحرقنها علي من فيها ، فقيل له : يا أبا حفص ، إن فيها فاطمة ؟ فقال : وإن

في رواية أن عمر جاء إلي بيت فاطمة في رجال من الأنصار ونفر قليل من المهاجرين .

ابوبکر نے ، ان لوگوں کہ جہنوں نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی تھی، وہی کہ جو علی کے پاس جمع ہوئے تھے، عمر کو ان لوگوں کے پاس بھیجا، عمر نے انکو بلند آواز سے پکارا، لیکن انھوں نے اسکی کوئی پروا نہیں کی اور گھر سے باہر نہ نکلے۔ عمر نے ایندھن منگوایا اور کہا: اس خدا کی قسم کہ جسکے قبضہ قدرت میں عمر کی جان ہے، گھر سے باہر آؤ، ورنہ میں اس گھر کو سب گھر والوں سمیت آگ لگا دوں گا۔ عمر کو کہا گیا کہ اے ابا حفص ! اس گھر میں اس وقت فاطمہ بھی موجود ہیں، عمر نے کہا: ہوتی ہے تو ہوتی رہے !!!

الامامة والسياسة - ابن قتيبة الدينوري ، تحقيق الشيري - ج 1 - ص 30 .

ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ: عمر بہت سے انصار اور مہاجرین کے افراد کے ساتھ حضرت فاطمہ زہرا کے دروازے پر آیا تھا۔

ابن قتيبہ نے مزید اضافے کے ساتھ بیان کیا ہے کہ:

فاطمہ نے جب گھر پر حملہ کرنے والوں کی آواز کو سنا تو بلند آواز سے فریاد کی:

يا ابت يا رسول الله (صلي الله عليه وآله وسلم) ماذا لقينا بعدك من ابن الخطاب و ابن ابي قحافه ....

اے میرے بابا ! اے رسول خدا آپکے بعد ہمیں ابن خطاب (عمر) اور ابن ابی قحافہ (ابوبکر) سے کیا کیا ظلم سہنے کو ملے۔۔۔۔۔

الامامة و السياسة، ابن قتيبه، ج1، ص 30 .

کتاب الإمامۃ والسياسۃ کا ابن قتیبہ سے ہی منسوب ہونا:

بعض بے دین اور بے انصاف وہابیوں نے ابن قتیبہ کے کتاب الإمامۃ والسياسۃ کا مصنف ہونے پر اشکال کیا ہے اور اس کتاب میں مذکورہ روایات اور حقائق کا علمی جواب نہ ہونے کی وجہ سے چاہا ہے کہ اس اشکال کے ذریعے سے اس کتاب کو قابل متنازعہ بنایا جائے۔ انکے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ:

اولاً : یہ کتاب مصر اور دوسرے اسلامی ممالک ابن قتیبہ کے نام سے بار بار شائع ہوئی ہے اور حتی اسی کتاب کے بہت سے خطی و دستی نسخے اسی مؤلف کے نام سے مصر، پیرس، لندن، ترکی اور ہندوستان کے کتاب خانوں میں بھی موجود ہیں۔

ثانياً : اہل سنت کے بہت سے گذشتہ اور ہمعصر علماء نے ابن قتیبہ کے کتاب الإمامۃ والسياسۃ کے مصنف ہونے پر تصریح کی ہے اور اس کتاب میں مذکورہ تاریخی روایات کو اپنی اپنی کتب میں ذکر کیا ہے۔ ہم یہاں پر مختصر طور پر اہل سنت کے چند علماء کے اسماء کو ذکر کرتے ہیں:

1. ابن حجر ہيثمی نے كتاب تطہير الجنان و اللسان .

تطهير الجنان و اللسان ، ابن حجر هيثمي ، ص72 .

2 . ابن عربی متوفی 543 ہجری نے كتاب العواصم من القواصم:

میں بعض مطالب نقل کرنے کے ضمن میں اس کتاب کے ابن قتیبہ سے منسوب ہونے کے صحیح ہونے کا اقرار کیا ہے۔

العواصم من القواصم، ابن عربي، ص248.

3 . نجم الدين عمر ابن محمد مكی:

کہ جو ابن فہد کے نام سے بھی معروف ہیں، نے كتاب اتحاف الوري باخبار ام القري میں سن 93 ہجری کے واقعات کو ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

و قال ابو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة في كتاب الامامة و السياسة...»

اتحاف الوري باخبار ام القري، ابن فهد، حوادث سال 93 ه .ق .

4 . قاضی ابو عبد الله تنوزی:

کہ جو ابن شباط کے نام سے بھی معروف ہے، نے كتاب الصلۃ السمطيہ میں بھی اس کتاب کے ابن قتیبہ سے منسوب ہونے کے صحیح ہونے کا ذکر کیا ہے۔

الصلة السمطيه، ابن شباط، فصل دوم، باب 34 .

5 . تقی الدين فاسی مكی نے كتاب العقد الثمين میں:

العقد الثمين ، تقي الدين فاسي مكي ، ج6 ، ص72.

6 . شاه سلامۃ الله نے كتاب معركۃ آراء میں:

معركة الآراء ، شاه سلامة الله ، ص126 .

7 . جرجی زيدان نے كتاب تاريخ آداب اللغۃالعربيۃ میں لکھا ہے کہ:

الامامة و السياسة، هو تاريخ الخلافة و شروطها بالنظر الي طلابها من وفاة النبي الي عهد الامين و المأمون، طبع بمصر سنة 1900 و منه نسخ خطية في مكتبات باريس و لندن .

تاريخ آداب اللغة العربية، جرجي زيدان، ج2، ص171.

8 . فريد وجدی نے كتاب دايرة المعارف القرن العشرين میں لکھا ہے کہ:

اورد العلامة الدينوري في كتابه الامامة و السياسة...

۔۔۔۔۔ کو علامہ دینوری نے اپنی کتاب الامامۃ و السیاسۃ میں ذکر کیا ہے۔۔۔۔۔

دايرة المعارف القرن العشرين، فريد وجدي، ج2، ص754.

ایک دوسری جگہ پر لکھا ہے کہ:

... كتاب الامامة و السياسة لابي محمد عبدالله بن مسلم الدينوري المتوفي سنة 270 هج .

دايرة المعارف القرن العشرين، فريد وجدي، ج2، ص749 .

ثالثاً : اہل سنت کے بعض بزرگ علماء نے کتاب الامامۃ و السياسۃ کے ابن قتیبہ سے منسوب ہونے کے صحیح ہونے کا اعتراف کرنے کے باوجود اور اس کتاب میں مذکورہ تلخ تاریخی حقائق ، کہ جو بلا فاصلہ رسول خدا (ص) کی شہادت کے بعد پیش آئے تھے ، کی تائید کرتے ہوئے، ابن قتیبہ پر اعتراض کیا ہے کہ اس نے پردے پوشی اور تاریخی حقائق کو سنسر و تحریف کرنے کے وظیفے پر کیوں عمل نہیں کیا !!! حالانکہ اسکو بھی دوسروں کی طرح ان تاریخی حقائق کو نقل نہیں کرنا چاہیے تھا !!!

ابن عربی ناصبی نے كتاب العواصم من القواصم میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے:

و من اشد شيئ علي الناس جاهل عاقل او مبتدع محتال. فاما الجاهل فهو ابن قتيبة فلم يبق و لم يذر للصحابة رسماً في كتاب الامامة و السياسة ان صحّ عنه جميع ما فيه .

ایک معاشرے کے لوگوں پر تلخ ترین اور ناگوار ترین چیزوں میں سے، ایک جاہل عالم اور دوسرا بدعت گذار، مکار انسان ہے، جاہل عالم جیسے ابن قتیبہ ہے کہ جس نے اپنی کتاب الامامۃ و السياسۃ میں صحابہ کے بارے میں رسم عیب پوشی کا خیال نہیں رکھا، البتہ اگر اس کتاب میں مذکور تمام مطالب کی نسبت اسکی طرف صحیح ہو تو۔

العواصم من القواصم ، ابن عربي ، ص248 .

البتہ قابل ذکر و توجہ ہے کہ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ مؤرخین، مفسرین اور محدثین پر واجب ہے کہ صحابہ کے عیوب و نقائص والی تمام روایات کے بارے میں کسی قسم کی رائے کا اظہار نہ کریں، بلکہ ان روایات کو یا تو تحریف کریں یا پھر پردے پوشی کی قدیمی اور تاریخی رسم کا خیال کرتے ہوئے ، بالکل ایسی روایات کو اپنی اپنی کتب میں ذکر نہ کریں۔

ابن حجر ہيثمی نے لکھا ہے کہ:

صرح ائمتنا و غيرهم في الاصول بأنه يجب الامساك عمّا شجر بين الصحابة.

ہمارے آئمہ اور دوسرے فرقوں کے علماء نے صراحت سے بیان کیا ہے کہ سب پر واجب ہے کہ صحابہ کے آپس میں اختلافات اور لڑائی جھگڑوں وغیرہ کو ذکر کرنے سے اجتناب کریں۔

جب صحابہ کے ذاتی اختلافات کو نقل نہ کرنا واجب ہو تو، انکی نگاہ میں رسول خدا (ص) کی شہادت کے بعد حضرت علی (ع) ، صدیقہ شہیدہ (س) اور تمام اہل بیت (ع) پر صحابہ کی طرف سے ہونے والے تمام مظالم کو نقل نہ کرنا، بطریق اولی واجب ہو گا۔

ابن حجر ہيثمی نے پھر ابن قتيبہ اور اسکی كتاب کے بارے میں ایسے اظہار نظر کی ہے کہ:

... مع تأليف صدرت من بعض المحدثين كابن قتيبه مع جلالته القاضيه بأنه كان ينبغي له ان لايذكر تلك الظواهر، فإن أبي الاّ أن يذكرها فليبين جريانها علي قواعد اهل السنة...

بعض بزرگ محدثین کی لکھی گئی تالیفات جیسے ابن قتبیہ کی کتب کو دیکھتے ہوئے، معلوم ہوتا ہے کہ بہتر یہ تھا کہ وہ تاریخی واقعات کی تمام تفاصیل کو نقل نہ کرتا اور اگر اسکی رائے میں ان حوادث کو نقل کرنا ضروری تھا، تو حتمی طور پر اس پر لازم تھا کہ مذہب اہل سنت کے مطابق،  ان حوادث کی تاویل اور توجیہ کرتا۔

الصواعق المحرقة ، ص93 .

ابن حجر تو سکوت اور نقل نہ کرنے کو کافی نہیں جان رہا، بلکہ تاکید کر رہا ہے کہ ان تمام واقعات کو تحریف اور تاویل کیا جانا چاہیے تھا !!!

کیا آپکو ابن حجر کے اس کلام سے تاریخ اسلام میں تحریف کرنے کے جائز ہونے کے علاوہ کوئی دوسری بات سمجھ میں آتی ہے ؟؟؟

5 . محمد ابن جرير طبری (متوفی 310 ہجری) :

عن زياد بن كليب قال: أتي عمر بن الخطاب منزل عليّ وفيه طلحة والزبير ورجال من المهاجرين فقال: واللّه لأحرقنّ عليكم أو لتخرجنّ إلي البيعة»، فخرج عليه الزبير مصلتاً بالسيف فعثر فسقط السيف من يده فوثبوا عليه فأخذوه.

عمر ابن خطاب علی کے گھر کی طرف آیا کہ جہاں پر طلحہ، زبیر اور مہاجرین کا ایک گروہ جمع تھا۔ عمر نے ان سے کہا: خدا کی قسم اگر تم لوگوں نے بیعت نہ کی تو میں اس گھر کو آگ لگا دوں گا۔ زبیر ہاتھ میں شمشیر لیے گھر سے باہر آیا، اچانک اس کا پاؤں پھسلا اور شمشیر اسکے ہاتھ سے گر گئی، اسی وقت کچھ لوگوں نے اس پر حملہ کر کے شمشیر اسکے ہاتھ سے چھین لی۔

تاريخ الطبري ، ج2 ، ص443.

بحث سندی:

طبری نے اس روايت کو اس سند کے ساتھ نقل کیا ہے:

حدثنا ابن حميد ، قال : حدثنا جرير ،عن مغيرة ، عن زياد بن كليب .

حميد ابن محمد:

مزی نے کتاب تہذيب الكمال میں اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

و قال عبد الله بن أحمد بن حنبل : سمعت أبي يقول : لا يزال بالري علم ما دام محمد بن حميد حيا .

عبد الله ابن احمد ابن حنبل نے کہا ہے کہ: میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ: جب تک محمد ابن حمید زندہ تھا، علم شہر ری میں باقی تھا۔

قال عبد الله : حيث قدم علينا محمد بن حميد كان أبي بالعسكر فلما خرج قدم أبي و جعل أصحابه يسألونه عن ابن حميد ، فقال لي : مالهؤلاء يسألوني عن ابن حميد .

قلت : قدم ها هنا فحدثهم بأحاديث لا يعرفونها . قال لي : كتبت عنه ؟ قلت : نعم كتبت عنه جزءا . قال : اعرض علي ، فعرضتها عليه ، فقال : أما حديثه عن ابن المبارك و جرير فهو صحيح ، و أما حديثه عن أهل الري فهو أعلم .

عبد الله ابن احمد ابن حنبل نے یہ بھی کہا ہے کہ: جب محمد ابن حمید ہمارے پاس آیا، تو میرے والد ایک جنگی چھاؤنی میں تھے، اور جب وہ واپس چلا گیا تو میرے والد شہر میں واپس آ گئے، تو انکے شاگردوں نے ان سے ابن حمید کے بارے میں سوال کیا تو میرے والد نے کہا: کیا ہوا ہے کہ وہ ابن حمید کے بارے میں مجھ سے سوال کر رہے ہیں ؟

میں (عبد اللہ) نے کہا: وہ یہاں آیا تھا اور انکے لیے ایسی روایات نقل کر رہا تھا کہ جو انھوں نے کبھی بھی نہیں سنی تھی، میرے والد نے کہا کہ: کیا تم نے ان سے کسی چیز کو لکھا ہے ؟ میں نے جواب دیا: ہاں، میں نے ان سے ایک کاپی پر روایات لکھی ہیں، اس نے کہا: وہ کاپی لاؤ تا کہ میں اسکو دیکھوں، اور جب اس نے دیکھا تو کہا:

اسکی ابن مبارک اور جریر سے نقل کردہ روایت صحیح ہے، اور اسکا اہل ری سے روایت نقل کرنا، وہ خود اس بارے میں بہتر جانتا ہے، (یعنی مجھے اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے)

و قال أبو قريش محمد بن جمعة بن خلف الحافظ : قلت لمحمد بن يحيي الذهلي : ما تقول في محمد بن حميد ؟ قال : ألا تراني هو ذا أحدث عنه .

ابو قريش کہتا ہے کہ میں نے محمد ابن يحيی ذہلی سے کہا کہ تمہاری ابن حمید کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ اس نے جواب دیا: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ میں نے اس سے روایت کو نقل کیا ہے ؟

قال : و كنت في مجلس أبي بكر الصاغاني محمد بن إسحاق ، فقال : حدثنا محمد بن حميد . فقلت : تحدث عن ابن حميد ؟ فقال : و ما لي لا أحدث عنه و قد حدث عنه أحمد بن حنبل و يحيي بن معين .

۔۔۔۔۔ میں ابوبکر صاغانی محمد ابن اسحاق کی محفل میں تھا، پس اس نے کہا: محمد ابن حمید نے ہمارے لیے روایت نقل کی کہ۔۔۔۔۔ ، میں نے اس سے کہا: کیا تم ابن حمید سے روایت کو نقل کرتے ہو ؟ اس نے کہا: جب احمد ابن حنبل اور يحيی ابن معين نے اس سے روایت کو نقل کیا ہے تو میں کیوں نہ کروں ؟

و قال أبو بكر بن أبي خيثمة : سئل يحيي بن معين عن محمد بن حميد الرازي فقال : ثقة . ليس به بأس ، رازي كيس .

یحیی ابن معین سے اسکے بارے میں سوال ہوا تو اس نے جواب میں کہا کہ: وہ مورد اطمینان ہے، اس میں کوئی اشکال نہیں ہے، وہ بہت ذہین اور اہل ری ہے۔

و قال أبو العباس بن سعيد : سمعت جعفر بن أبي عثمان الطيالسي يقول : ابن حميد ثقة ، كتب عنه يحيي و روي عنه من يقول فيه هو أكبر منهم .

۔۔۔۔۔ میں نے جعفر ابن عثمان طيالسی کو کہتے ہوئے سنا تھا کہ: ابن حمید ثقہ ہے، یحیی نے اس سے روایت کو نقل کیا ہے اور مشہور راویوں نے بھی اس سے روایت کو نقل کیا ہے۔ ان راویوں میں وہ (احمد ابن حنبل) سب سے بڑا ہے۔

تهذيب الكمال ، ج25 ، ص100 .

جرير ابن عبد الحميد ابن قرط الضبی :

وہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے راویوں میں سے ہے اور اسکے ثقہ ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔

مزی نے کتاب تہذيب الكمال میں اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

و قال محمد بن سعد : كان ثقة كثير العلم ، يرحل إليه .

و قال محمد بن عبد الله بن عمار الموصلي : حجة كانت كتبه صحاحا .

محمد ابن سعد: وہ قابل اعتماد ، بہت صاحب علم تھا کہ بہت سے لوگ اسکی طرف (حصول علم کے لیے) سفر کیا کرتے تھے۔

۔۔۔۔۔ وہ قابل استناد تھا کہ اسکی تمام کتب صحیح تھیں۔

تهذيب الكمال ، ج4 ، ص544 .

مغيرة ابن مقسم ضبی :

وہ بھی صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے راویوں میں سے ہے۔

مزی نے کتاب تہذيب الكمال میں اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:   

عن أبي بكر بن عياش : ما رأيت أحدا أفقه من مغيرة ، فلزمته .

و قال أحمد بن سعد بن أبي مريم ، عن يحيي بن معين : ثقة ، مأمون .

قال عبد الرحمن بن أبي حاتم : سألت أبي ، فقلت : مغيرة عن الشعبي أحب إليك أم ابن شبرمة عن الشعبي ؟ فقال : جميعا ثقتان .

و قال النسائي : مغيرة ثقة .

ابوبکر عیاش: میں نے کسی کو مغیرہ سے دانا تر نہیں دیکھا کہ جسکے ساتھ ہونے کو میں پسند کرتا۔

یحیی ابن معین: وہ قابل اطمینان اور امانت دار ہے۔

ابن ابی حاتم: میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ کیا آپکے لیے مغیرہ کا شعبی سے روایت نقل زیادہ محبوب ہے یا شبرمہ کا شعبی سے روایت نقل کرنا ؟ جواب دیا کہ: ہر دو قابل اطمینان ہیں۔

نسائی : مغيره مورد اطمينان ہے۔

تهذيب الكمال ، ج28 ، ص400 .

زياد ابن كليب :

وہ بھی صحیح مسلم، ترمذی وغیرہ کے راویوں میں سے ہے۔

مزی نے کتاب تہذيب الكمال میں اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

قال أحمد بن عبد الله العجلي : كان ثقة في الحديث ، قديم الموت .

و قال النسائي : ثقة .

و قال ابن حبان : كان من الحفاظ المتقنين ، مات سنة تسع عشرة و مئة .

عجلی: وہ روایت نقل کرنے میں قابل اطمینان تھا لیکن وہ جلدی دنیا سے چلا گیا تھا۔

نسائی: وہ قابل اعتماد ہے۔

ابن حبان: وہ ثابت قدم حفاظ میں سے تھا کہ جو سن 109 ہجری میں وفات پا گیا تھا۔

تهذيب الكمال ، ج9 ، ص506 .

6 . مسعودی شافعی (345 متوفی 345 ہجری)

فهجموا عليه وأحرقوا بابه ، واستخرجواه منه كرهاً ، وضغطوا سيّدة النساء بالباب حتّي أسقطت محسناً .

انھوں نے اس پر حملہ کیا اور اسکے گھر کے دروازے کو آگ لگائی اور انھوں نے اسے زبردستی اسکے گھر سے باہر نکالا اور عورتوں کی سردار پر دروازے کو اتنا دبایا کہ انکا بچہ محسن سقط ہو گیا۔

اثبات الوصية ، ص143.

تقی الدين سبكی نے كتاب الطبقات الشافعيۃ میں اسکے نام کو شافعی مذہب کے علماء میں ذکر کیا ہے، اسی وجہ سے اسکے شیعہ ہونے کا شبہ بالکل قابل قبول نہیں ہے۔

الطبقات الشافعية ج3 ، ص 456 و 457 ، رقم 225، چاپ دار احياء الكتب العربية .

7 . ابن عبد ربّہ (463 متوفی 463 ہجری)

ابن عبد ربّہ نے کتاب العقد الفريد میں لکھا ہے کہ:

الذين تخلّفوا عن بيعة أبي بكر: عليّ والعباس، والزبير، وسعد بن عبادة، فأمّا علي والعباس والزبير فقعدوا في بيت فاطمة حتّي بعث اليهم أبو بكر عمر بن الخطاب ليخرجوا من بيت فاطمة وقال له: إن أبوا فقاتلهم . فأقبل عمر بقبس من نار علي أن يضرم عليهم الدار فلقيته فاطمة فقالت: يابن الخطاب ! أجئت لتحرق دارنا ؟ قال : نعم أو تدخلوا فيما دخلت فيه الأمة فخرج علي حتي دخل علي أبي بكر .

ابوبکر نے عمر ابن خطاب کو بھیجا تا کہ جائے اور ان لوگوں کو فاطمہ کے گھر سے باہر نکال دے اور اسے کہا کہ: اگر وہ تمہاری بات ماننے سے انکار کریں اور گھر سے باہر نہ آئیں تو انکے ساتھ جنگ کرے۔ عمر ایک جلتی ہوئی مشعل ہاتھ میں لیے فاطمہ کے گھر کو آگ لگانے کی نیت سے ، ان لوگوں کی طرف گیا۔ فاطمہ نے کہا: اے خطاب کے بیٹے کیا تو ہمارے گھر کو آگ لگانے کے لیے آیا ہے ؟ عمر نے کہا: ہاں، مگر یہ کہ تم بھی وہی کام (ابوبکر کی بیعت) کرو جو اس امت نے انجام دیا ہے۔۔۔۔۔

العقد الفريد، ابن عبدربه، ج3، ص 63 طبع مصر .

8 . ابن عبد البر قرطبی (متوفی 463 ہجری)

ابن عبد البر قرطبی نے کہا ہے کہ:

فقالت لهم: إن عمر قد جاء ني وحلف لئن عدتم ليفعلن وايم الله ليفين بها ،

پس فاطمہ نے ان سے کہا کہ: عمر میرے پاس آیا تھا اور اس نے قسم کھائی ہے کہ اگر تم لوگ دوبارہ یہاں پر آئے تو میں فلاں فلاں کر دوں گا اور خدا کی قسم وہ ایسا کر کے ہی رہے گا۔

الاستيعاب، ابن عبدالبر قرطبي، ج3، ص975

المصنف، ابن ابي شيبه، ج8، ص572 .

نوٹ:

یہ ابن عبد البر اور ابن ابی شیبہ نے بنی امیہ اور عمر سے وفاداری اور تاریخ اسلام سے خیانت کی وجہ سے ، عمر کے گھر جلانے کی دھمکی کے الفاظ کو بدل کر فلاں فلاں کا ذکر کر دیا ہے !؟

9 . مقاتل ابن عطيۃ (505 متوفی 505 ہجری)

ان ابابكر بعد ما اخذ البيعة لنفسه من الناس بالارحاب و السيف و القوة ارسل عمر، و قنفذاً و جماعة الي دار علي و فاطمه(عليهما السلام) و جمع عمر الحطب علي دار فاطمة(عليها السلام) و احرق باب الدار .

ابوبکر نے جب لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اور تلوار کی نوک پر ان سے بیعت لے لی تو، اس نے عمر کو قنفذ اور کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ، علی و فاطمہ کے گھر بھیجا اور عمر نے بھی ایندھن جمع کر کے گھر کے دروازے کو آگ لگا دی۔۔۔۔۔

الامامة و الخلافة، مقاتل بن عطيه ، ص160 و 161 كه با مقدّمه اي از دكتر حامد داود استاد دانشگاه عين الشمس قاهره به چاپ رسيده، چاپ بيروت، مؤسّسة البلاغ .

10 . ابی الفداء (متوفی 732 ہجری)

اس نے اپنی تاریخ کی کتاب میں لکھا ہے کہ:

ثم إن أبا بكر بعث عمر بن الخطاب إلي علي ومن معه ليخرجهم من بيت فاطمة رضي الله عنها وقال إن أبوا فقاتلهم فأقبل عمر بشئ من نار علي أن يضرم الدار فلقيته فاطمة رضي الله عنها وقالت إلي أين يا بن الخطاب أجئت لتحرق دارنا قال نعم أو تدخلوا فيما دخل فيه الأمة فخرج حتي أتي أبا بكر فبايعه .

وكذا نقله القاضي جمال الدين بن واصل وأسنده إلي ابن عبد ربّه المغربي .

ابوبکر نے عمر ابن خطاب کو بھیجا تا کہ جائے اور ان لوگوں کو فاطمہ کے گھر سے باہر نکال دے اور اسے کہا کہ: اگر وہ تمہاری بات ماننے سے انکار کریں اور گھر سے باہر نہ آئیں تو انکے ساتھ جنگ کرے۔ عمر ایک جلتی ہوئی مشعل ہاتھ میں لیے فاطمہ کے گھر کو آگ لگانے کی نیت سے ، ان لوگوں کی طرف گیا۔ فاطمہ نے کہا:

اے خطاب کے بیٹے کیا تو ہمارے گھر کو آگ لگانے کے لیے آیا ہے ؟ عمر نے کہا: ہاں، مگر یہ کہ تم بھی وہی کام کرو کہ جو لوگوں نے انجام دیا ہے۔ پس علی باہر آ کر ابوبکر کے پاس گئے اور اسکی بیعت کر لی۔

نوٹ:

علی (ع) کی بیعت کرنے والی روایات کو اہل سنت کے علماء نے اپنی کتب میں  ذکر کیا ہے۔ جبکہ شیعہ علماء کا نظریہ ہے کہ علی (ع) نے ایک لمحے کے لیے بھی ابوبکر کی بیعت نہیں کی تھی۔۔۔۔۔

تاريخ ابوالفداء، ج1، ص156 طبع مصر بالمطبعة الحسينية .

11 . صفدی (متوفی 764 ہجری)

انّ عمر ضرب بطن فاطمة يوم البيعة حتّي ألقت المحسن من بطنها.

عمر نے بیعت والے دن فاطمہ کے شکم پر ضربت لگائی کہ جسکی وجہ سے اسکے شکم میں محسن سقط ہو گیا۔

الوافي بالوفيات ، ج5 ، ص347 .

12 . ابن حجر عسقلانی (متوفی 852 ہجری) و شمس الدين ذہبی (748 متوفی 748 ہجری):

ابن حجر عسقلانی نے کتاب لسان الميزان اور ذہبی نے کتاب ميزان الإعتدال میں لکھا ہے کہ:

إنّ عمر رفس فاطمة حتّي أسقطت بمحسن.

عمر نے فاطمہ کے سینے پر لات ماری کہ جسکی وجہ سے محسن سقط ہو گیا۔

لسان الميزان ، ج1 ، ص268.

البتہ ابن حجر نے اس روايت کو ، سند میں ابن ابی دارم کے موجود ہونے کی وجہ سے اور اسکے رافضی ہونے کے بہانے سے، رد کیا ہے، حالانکہ ذہبی نے اپنی کتاب سير اعلام النبلاء میں ابن ابی دارم کے بارے ذکر کیا ہے کہ:

ابن أبي دارم * الامام الحافظ الفاضل ، أبو بكر أحمد بن محمد السري بن يحيي بن السري بن أبي دارم .

ابن ابی دارم ، امام، حافظ اور عالم فاضل ہے۔۔۔۔۔

سير اعلام النبلاء ، ج15 ، ص576 ، رقم 349 ، ترجمه ابن أبي دارم .

ذہبی نے ایک دوسری جگہ پر لکھا ہے کہ:

كان موصوفا بالحفظ والمعرفة إلا أنه يترفض .

وہ (ابن ابی دارم) قوی حافظے اور علم و معرفت کی وجہ سے معروف تھا، مگر یہ وہ رافضی تھا،

سير اعلام النبلاء ، ج15 ، ص577 ، رقم 349 ، ترجمه ابن أبي دارم .

یعنی ذہبی ناصبی کی نظر میں امیر المؤمنین علی (ع) کی امامت و ولایت کا قائل ہونا جرم و عیب ہے !!!

ذہبی نے ایک دوسری جگہ پر بھی لکھا ہے کہ:

وقال محمد بن حماد الحافظ ، كان مستقيم الامر عامة دهره .

وہ ساری زندگی ثابت قدم اور اچھے کام کرنے والا تھا۔

سير اعلام النبلاء ، ج15 ، ص 578 ، رقم 349 ، ترجمه ابن أبي دارم .

ذہبی نے کتاب ميزان الإعتدال میں کہا ہے کہ:

وقال محمد بن أحمد بن حماد الكوفي الحافظ - بعد أن أرخ موته : كان مستقيم الامر عامة دهره .

وہ ساری زندگی ثابت قدم اور اچھے کام کرنے والا تھا۔

ميزان الإعتدال ج1 ، ص 139 ، رقم 552 ، ترجمه أحمد بن محمد بن السري بن يحيي بن أبي دارم المحدث .

أبو بكر الكوفي ؛ لسان الميزان ـ ابن حجر عسقلاني ، رقم 824 ، ترجمه احمد بن محمد بن السري بن يحيي بن أبي دارم المحدث أبو بكر الكوفي .

اگرچہ ذہبی نے ، اسکے رافضی ہونے اور اس روایت کو نقل کرنے اور خلفاء کی مذمت کے بارے میں روایات کو نقل کرنے کی وجہ سے ، مذمت کی ہے اور حتی اسکو اس طرح سے بھلا برا بھی کہا ہے:

شيخ ضال معثر .

وہ (ابن ابی دارم) ضعیف گمراہ اور خطا کرنے والا ہے!!!

بہرحال ایک راوی کا رافضی ہونا، کیا اسکے ثقہ نہ ہونے پر دلیل ہو سکتی ہے ؟

اور کیا ایک راوی کے فقط رافضی ہونے کی وجہ سے ، اسکی روایت کو باطل اور قابل رد کیا جا سکتا ہے ؟

اگر ایسے ہو تو پھر اہل سنت کو کتب صحاح ستہ کی بہت سی روایات کو باطل اور رد کر دینا چاہیے کیونکہ کتب صحاح ستہ کے مؤلفین نے بہت سے مقامات پر رافضی راویوں سے احادیث کو نقل کیا ہے کہ صرف نمونے کے طور پر چند موارد کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے:

1- عبيد الله ابن موسی :

ذہبی نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

كان معروفا بالرفض .

وہ ایک مشہور و معروف رافضی تھا۔

سير أعلام النبلاء ج 9 ، ص 556 ، ترجمه عبيد الله بن موسي ، رقم 215 .

اور ذہبی نے دوسری جگہ پر اسی کے بارے میں کہا ہے کہ:

وحديثه في الكتب الستة .

اسکی احادیث کتب صحاح ستہ میں موجود ہیں۔

سير أعلام النبلاء ج 9 ، ص 555 ، ترجمه عبيد الله بن موسي ، رقم 215 .

مزی نے کتاب تہذيب الكمال میں کہا ہے کہ تمام صحاح ستہ نے اس شخص سے روایات کو نقل کیا ہے۔

2- جعفر ابن سليمان الضبعی

( علمائے اہل سنت اسے رافضی اور شيعہ غالی کہتے ہیں )

خطيب بغدادی نے يزيد ابن زريع سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتا تھا کہ:

فان جعفر بن سليمان رافضي .

تاريخ بغداد ج5 ، ص 372 ، ذيل ترجمه أحمد بن المقدام بن سليمان بن الأشعث بن أسلم بن سويد بن الأسود بن ربيعة بن سنان أبو الأشعث العجلي البصري ، رقم 2925 .

مزی نے کتاب تہذيب الكمال میں کہا ہے کہ:

بخاری نے كتاب الأدب المفرد اور باقی صحاح ستہ کے مؤلفین جیسے مسلم - ابو داود - ترمذی - نسائی - ابن ماجہ نے اپنی اپنی کتب میں اس شخص سے روایات کو نقل کیا ہے۔

تهذيب الكمال ج 5 ، ص 43 ، ترجمه جعفر بن سليمان الضبعي ، رقم 943 .

3- عبد الملك ابن اعين الكوفی:

مزی نے کتاب تہذيب الكمال میں کہا ہے کہ تمام کتب صحاح ستہ نے اس شخص سے روایت کو نقل کیا ہے۔

تهذيب الكمال ج 18 ، ص 282 ، ترجمه عبد الملك بن أعين الكوفي ، رقم 3514 .

مزی نے سفيان سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ: وہ رافضی ہے۔

عن سفيان : حدثنا عبد الملك بن أعين شيعي كان عندنا رافضي صاحب رأي .

تهذيب الكمال ج 18 ، ص 283 ، ترجمه عبد الملك بن أعين الكوفي ، رقم 3514 .

قال علي بن المديني : « لو تركت أهل البصرة لحال القدر ، ولو تركت أهل الكوفة لذلك الرأي ، يعني التشيع ، خربت الكتب »

علی ابن مدینی نے کہا ہے کہ:

اگر تم اہل بصرہ کو عقیدہ قدر کی وجہ سے اور اہل کوفہ کو شیعہ ہونے کی وجہ سے ترک کر دو تو تم نے تمام کتابوں کو خراب و نابود کر دیا ہے۔

بعد میں اس نے علی ابن مدینی کے کلام کی شرح میں کہا ہے کہ:

قوله : خربت الكتب ، يعني لذهب الحديث .

تمام کتابوں کو خراب و نابود کر دیا ہے، یعنی تمام احادیث ختم ہو جائیں گی۔

الكفاية في علم الرواية ، ص157 ، رقم 338 .

اور دوسری جگہ پر بھی لکھا ہے کہ:

وسئل عن الفضل بن محمد الشعراني ، فقال : صدوق في الرواية إلا أنه كان من الغالين في التشيع ، قيل له : فقد حدثت عنه في الصحيح ، فقال : لأن كتاب أستاذي ملآن من حديث الشيعة يعني مسلم بن الحجاج » .

اس سے فضل ابن محمد شعرانی کے بارے میں سوال ہوا، اس نے کہا: وہ روایت کرنے میں سچا ہے، فقط مسئلہ یہ ہے کہ اپنے شیعہ ہونے میں غلو سے کام لیتا ہے، اس سے کہا گیا کہ: تم نے تو اپنی صحیح میں اس سے روایت کو نقل کیا ہے۔ اس نے کہا: کیونکہ میرے استاد کی کتاب شیعہ راویوں کی روایات سے بھری ہوئی ہے، یعنی کتاب صحیح مسلم !!!

الكفاية في علم الرواية ، ص195 ، رقم 349 .

13 . ابو وليد محمد ابن شحنہ حنفی (متوفی 817 ہجری)

ثم إن عمر جاء إلي بيت علي ليحرقه علي من فيه فلقيته فاطمة ( عليها السلام ) . فقال : ادخلوا فيما دخلت فيه الأمة .

عمر علی کے گھر کی طرف آیا تا کہ گھر کو گھر والوں کے سمیت آگ لگا دے، فاطمہ نے اسے دیکھا تو عمر نے اس سے کہا: جو کام امت نے انجام دیا ہے، آپ لوگ بھی اسکو انجام دیں، (بیعت ابوبکر)

روضة المناظر في أخبار الأوائل والأواخر ( هامش الكامل لابن الأثير ) ، ج11 ، ص 113 ( ط الحلبي ، الأفندي سنة 1301 ) .

14 . محمد حافظ ابراہيم ( متوفی 1351 ہجری)

محمد حافظ ابراہيم ، شاعر مصری ہے كہ جو شاعر نيل کے نام سے بھی معروف ہے۔ اسکے اشعار کا ایک دیوان شائع ہوا ہے کہ جو 10 جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس نے اپنے معروف قصیدے «قصيده عمريّۃ» میں عمر ابن خطاب کے کارناموں میں لکھا ہے کہ:

عمر علی کے دروازے پر آیا اور کہا: اگر تم گھر سے باہر نہ آئے اور تم نے ابوبکر کی بیعت نہ کی تو میں اس گھر کو آگ لگا دوں گا، حتی اس گھر میں رسول خدا کی بیٹی ہی کیوں نہ ہو۔

قابل ذکر یہ ہے کہ اس شاعر نے اس قصیدے کو ایک بھری محفل میں جب پڑھا تو وہاں پر موجود لوگوں نے نہ یہ کہ اس شاعر کی مذمت نہ کی بلکہ اسکو بہت داد دی اور اسکی حوصلہ افزائی کی اور اسے تمغہ افتخار بھی دیا۔

وہ اس قصیدے میں کہتا ہے کہ:

وقولة لعلي قالها عمر أكرم بسامعها أعظم بملقيها

حرقت دارك لا أبقي عليك بها إن لم تبايع وبنت المصطفي فيها

ما كان غير أبي حفص بقائلها أمام فارس عدنان وحاميها .

اور وہ الفاظ کہ جو عمر نے علی سے کہے، واہ واہ وہ سننے والا کتنا بزرگوار اور وہ کہنے والا کتنا مہم تھا ؟!

اس نے اسے کہا کہ: اگر تم نے بیعت نہ کی تو میں تمہارے گھر کو آگ لگا دوں گا اور کسی کو بھی اس گھر میں نہیں رہنے دوں گا، اگرچہ وہ مصطفی کی بیٹی ہی کیوں نہ ہو۔

ابو حفص (عمر) کے علاوہ کسی میں بھی عدنان کے شہسوار اور اسکے محافظ (علی) کے سامنے، ایسی بات کرنے کی جرات نہیں تھی۔

ديوان محمد حافظ ابراهيم ، ج1 ، ص82 .

یعنی عمر کے خلافت کے لیے حضرت زہرا (س) کے گھر کو آگ لگانے اور انکو شہید کرنے والی بات اپنی مشہور و معروف تھی کہ علماء ، محدثین ، مؤرخین کے علاوہ حتی شعراء بھی اس واقعے کو اپنے اشعار میں ذکر کیا کرتے تھے، لیکن بنی امیہ کی نسل دین فروش وہابی علماء آج 1400 سال بعد کہتے پھرتے ہیں کہ حضرت زہرا (س) کو کچھ نہیں ہوا تھا، اور وہ شاید گرمی یا سردی لگنے کی وجہ سے دنیا سے چلی گئی تھی اور اہل بیت (ع) اور صحابہ کے تعلقات کو آپس میں بہت ہی اچھے تھے، یہ آج کے شیعہ اور رافضی ہیں کہ جو اہل بیت اور صحابہ کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں !!!

15 . عمر رضا كحالۃ (معاصر)

اس نے اسطرح سے نقل کیا ہے کہ:

وتفقد أبو بكر قوماً تخلفوا عن بيعته عند علي بن أبي طالب كالعباس، والزبير وسعد بن عبادة فقعدوا في بيت فاطمة، فبعث أبو بكر إليهم عمر بن الخطاب، فجاءهم عمر فناداهم وهم في دار فاطمة، فأبوا أن يخرجوا فدعا بالحطب، وقال: والذي نفس عمر بيده لتخرجن أو لأحرقنّها علي من فيها. فقيل له: يا أبا حفص إنّ فيها فاطمة، فقال: وإن....

ابوبکر نے عمر کو ان چند لوگوں کے پیچھے بھیجا کہ جہنوں نے اسکی بیعت نہیں کی تھی، ان میں ابن عباس ، زبير اور سعد ابن عبادة تھے کہ امیر المؤمنین علی کے پاس حضرت زہرا کے گھر میں اکٹھے ہوئے تھے، عمر آیا اور اس نے انکو آواز دے کر کہا کہ باہر نکل آؤ، وہ لوگ گھر کے اندر تھے اور باہر آنے سے انکار کر رہے تھے، عمر نے لکڑیاں منگوائیں اور غصے سے کہا:

اس خدا کی قسم کہ جسکے ہاتھ میں مجھ عمر کی جان ہے، باہر نکل آؤ، ورنہ میں گھر کو اور گھر میں موجود سب لوگوں کو آگ لگا دوں گا۔ اس سے کہا گیا کہ اے ابا حفص (عمر) تھوڑا آرام سے اس گھر میں فاطمہ بھی ہے، اس (عمر) نے کہا: فاطمہ ہوتی ہے تو ہوتی رہے، (یعنی میں ابوبکر اور خلافت کے لیے رسول خدا کی بیٹی کو بھی آگ لگانے سے دریغ نہیں کروں گا۔

اعلام النساء : ج 4 ، ص 114.

16 . عبد الفتاح عبد المقصود :

اس مصری عالم نے بیت وحی پر حملہ آور ہونے کے واقعے کو اپنی کتاب میں دو جگہ پر ذکر کیا ہے:

إنّ عمر قال : والذي نفسي بيده ، ليخرجنَّ أو لأخرقنّها علي من فيها ... ! قالت له طائفة خافت الله ورعت الرسول في عقبة : يا أبا حفص ! إن فيها فاطمة ... ! فصاح لا يبالي : و إن ... ! واقترب وقوع الباب ، ثم ضربه واقتحمه ... وبدا له عليّ ... . ورنّ حينذاك صوت الزهراء عند مدخل الدار ... فإن هي إلاّ رنة استغاثة أطلقتها : يا أبت رسول الله ...

۔۔۔۔۔ زہرا کے رونے کی آواز گھر کے دروازے کے نزدیک سے بلند ہوئی، وہ آواز ایک فریاد تھی کہ جو بنت رسول خدا کر رہی تھی اور کہہ رہی تھی: اے بابا ! اے رسول خدا ۔۔۔۔۔

الإمام علي بن أبي طالب ، عبد الفتاح عبد المقصود ، ج4 ، ص274-277 و ج1 ، ص192-193 .

اور پھر اس نے اسی کتاب میں لکھا ہے کہ:

و هل علي السنة الناس عقال يمنعها أن تروي قصة حطب أمر به ابن خطاب فأحاط بدار فاطمة ، و فيها علي و صحبه ، ليكون عدة الاقناع أو عدة الايقاع ؟..

علي أنّ هذه الأحايث جميعها و معها الخطط المدبرة أو المرتجلة كانت كمثل الزبد ، أسرع إلي ذهاب و معها دفعة إبن الخطاب !..

أقبل الرجل ، محنقاً مندلع الثورة ، علي دار علي و قد ظاهره معاونوه و من جاء بهم فاقتحموها أو شكوا علي الإقتحام .

فاذا وجه كوجه رسول الله يبدو بالباب ـ حائلا من حزن ، علي قسماته خطوط آلام و في عينيه لمعات دمع ، و فوق جبينه عبسة غضب فائر و حنق ثائر ...

و توقف عمر من خشيته و راحت دفعته شعاعا . توقف خلفه ـ امام الباب ـ صحبه الذين جاء بهم ، إذا رأوا حيالهم صورة الرسول تطالعهم من خلال وجه حبيبته الزهراء . و غضوا الأبصار ، من خزي أو من استحياء ؛ ثم ولت عنهم عزمات القلوب و هم يشهدون فاطمة تتحرك كالخيال ، وئيدا وئيدا ، بخطولت المحزونة الثكلي ، فتقترب من ناحية قبر أبيها ... وشخصت منهم الأنظار و أرهفت الأسماع اليها ، و هي ترفع صوتها الرقيق الحزين النبرات تهتف بمحمد الثلوي بقربها تناديه باكية مرير البكاء :

« يا أبت رسول الله ... يا أبت رسول الله ... »

فكأنما زلزلت الأرض تحت هذا الجمع الباغي ، من رهبة النداء .

و راحت الزهراء و هي تستقبل المثوي الطاهر تستنجد بهذا الغائب الحاضر :

« يا أبت يا رسول الله ... ماذا لقينا بعدك من إبن الخطاب ، و إبن أبي قحافة !؟ .

فما تركت كلماتها إلا قلوبا صدعها الحزن ، و عيونا جرت دمعا ، و رجالا ودوا لو استطاعوا أن يشقوا مواطئ أقدامهم ، ليذهبوا في طوايا الثري مغيبين .

کیا لوگوں کے منہ بند اور انکی زبانوں پر تالے لگے ہیں کہ وہ اس قصے کو بیان نہ کریں کہ جس میں ابن خطاب نے حکم دیا تھا کہ فاطمہ کے گھر کے دروازے پر ایندھن کو اکٹھا کرو ؟!

ہاں ابن خطاب نے اس گھر کو ، کہ جس میں علی اور اسکے اصحاب تھے، محاصرہ کیا ہوا تھا تا کہ یا تو انکو بیعت کرنے پر راضی کرے یا پھر ان سے جنگ کرے !

یہ تمام واقعات پہلے سے سوچی سمجھی سازش تھی یا اچانک ہی سب کچھ رونما ہوا تھا، جیسے پانی پر جھاگ کی مانند ظاہر ہوئی اور کچھ ہی دیر میں عمر ابن خطاب کے جوش و خروش کے ساتھ ختم ہو گئی ! ۔۔۔۔۔ یہ مرد غصے کی حالت میں علی کے گھر کی طرف گیا اور اسکے سارے ساتھی بھی اسی کے پیچھے تھے اور انھوں نے گھر پر حملہ کیا یا نزدیک تھا کہ حملہ کریں، اچانک رسول خدا کے چہرے کی مانند اک چہرہ دروازے میں سے ظاہر ہوا کہ اس چہرے پر مصیبت و غم کے آثار ظاہر تھے، اسکی آنکھوں میں اشک جھلک رہے تھے اور پیشانی پر غصہ ظاہر نظر آ رہا تھا۔۔۔۔۔ اسکو دیکھ کر عمر ڈر اور خوف سے اپنی جگہ پر کھڑا کھڑا خشک ہو گیا اور اسکا سارا جوش و خروش ختم ہو گیا، اسکے ساتھی کہ جو عمر کے پیچھے تھے، وہ گھر کے دروازے کے سامنے حیران پریشان کھڑے ہوئے تھے، کیونکہ انھوں نے رسول خدا کی شکل کو انکی بیٹی زہرا کے چہرے میں دیکھ لیا تھا، انکے سر شرم و حیا سے جھک گئے اور آنکھوں پر نقاب ڈال لیے، انکی ہمت ختم ہو گئی، جب انھوں نے دیکھا کہ فاطمہ نے سائے کی مانند غم و حزن کی حالت میں اپنے بابا کی قبر کی طرف قدم بڑھائے۔۔۔۔۔ سب کان اور سب آنکھیں اسی طرف لگی ہوئی تھیں، اچانک رونے کی آواز بلند ہوئی اور بارش کی طرح اشک بہنا شروع ہوئے اور جگر سوز آواز کے ساتھ بار بار اپنے بابا کو پکار رہی تھی،

اے میرے بابا اے رسول خدا۔۔۔ اے میرے بابا اے رسول خدا ۔۔۔۔۔

اس آواز نے گویا ان ظالم انسانوں کے پاؤں تلے زمین کو لرزا کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔ پھر زہرا اپنے بابا کی قبر کے اور نزدیک گئی اور حالت استغاثہ میں فریاد کی:

اے بابا اے رسول خدا ، آپ کے بعد اس ابن خطاب اور ابن ابی قحافہ نے ہمارے ساتھ کیسا سلوک کیا ہے !

اس وقت کوئی دل ایسا نہ تھا کہ جو لرزا نہ ہو اور کوئی آنکھ ایسی نہ تھی کہ جس نے اشک نہ بہائے ہوں، وہ ظالم انسان آرزو کر رہے تھے کہ اے کاش ابھی اسی وقت زمین پھٹے اور ہم اس میں دفن ہو جائیں۔

المجموعة الكاملة الامام علي بن ابيطالب، عبد الفتاح عبد المقصود، ترجمه سيد محمود طالقاني، ج1، ص190 تا 192.

ترجمه برگرفته شده از كتاب علي بن ابي طالب تاريخ تحليلي نيم قرن اول اسلام ـ ترجمه المجموعة الكاملة الامام علي بن ابيطالب، عبدالفتاح عبدالمقصود ـ مترجم سيد محمود طالقاني ، ج 1 ، ص 326 تا 328 ، چاپ سوم ، چاپخانه افست حيدري .

ابوبکر کا زندگی کے آخری ایام میں اظہار پشمانی:

عام طور پر ہر انسان اپنی زندگی کے آخری ایام میں جب وہ احساس کرتا ہے کہ اب موت بالکل نزدیک آن پہنچی ہے تو اس وقت وہ وہی بات کرتا ہے جو بہت ہی ضروری ہو۔ شریعت میں اسی وقت وصیت کرنا بھی مستحب ہے۔

ابوبکر نے بھی عمر کی بھرپور مدد سے ملنے والی عیش و عشرت کی خلافت والی زندگی کو ، جب ختم ہوتے ہوئے احساس کیا تو ، اس نے کچھ ایسی باتیں کیں کہ جنکو سن کر ایک مسلمان کے لیے تاریخ اسلام کے بہت سے حقائق روشن اور واضح ہو جاتے ہیں، اگرچہ اس مقام پر بھی اس نے بہت سے حقائق کو ذکر نہیں کیا، لیکن پھر بھی جو تھوڑا بہت ذکر کیا ہے، ایک عقل مند اور حق جو مسلمان کے لیے کافی ہے۔

اس (ابوبکر) نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اعتراف کیا ہے کہ میں نے ہی صدیقہ طاہرہ حضرت زہرا (س) کے گھر پر حملہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اہل سنت کے بعض علماء جیسے شمس الدين ذہبی نے کتاب تاريخ الإسلام میں، تاريخ زندگی ابوبكر کی بحث میں ، محمد ابن جرير طبری نے اپنی کتاب تاريخ میں ، ابن قتيبہ دينوری نے کتاب الإمامۃ والسياسۃ میں ، ابن عساكر نے کتاب تاريخ مدينہ دمشق میں ایسے لکھا ہے کہ:

عبد الرحمن ابن عوف ، ابوبکر کی بیماری کے ایام میں اسکے پاس گیا اور اسے سلام کیا، باتوں باتوں میں ابوبکر نے اس سے ایسے کہا:

أما إني لا آسي علي شيء إلا علي ثلاث فعلتهن ، وثلاث لم أفعلهن ، وثلاث وددت أني سألت رسول الله صلي الله عليه وسلم عنهن : وددت أني لم أكن كشفت بيت فاطمة وأن أغلق علي الحرب .

مجھے کسی شے پر کوئی افسوس نہیں ہے، مگر صرف تین چیزوں پر افسوس ہے کہ اے کاش میں تین چیزوں کو انجام نہ دیتا، اور اے کاش کہ تین چیزوں کو انجام دیتا، اور اے کاش کہ تین چیزوں کے بارے میں رسول خدا سے سوال پوچھ لیتا، اے کاش میں فاطمہ کے گھر کی حرمت شکنی نہ کرتا، اگرچہ اس گھر کا دروازہ مجھ سے جنگ کرنے کے لیے ہی بند کیا گیا ہوتا۔۔۔۔۔

تاريخ الإسلام ، ج3 ، ص118

و تاريخ الطبري، ج 2، ص 619، ج 3 ص 430 ط دار المعارف بمصر

و الامامة والسياسة - ابن قتيبة الدينوري ، تحقيق الزيني - ج 1 - ص 24

و تاريخ مدينة دمشق - ابن عساكر - ج 30 - ص 422

و شرح نهج البلاغة - ابن أبي الحديد - ج 2 - ص 46 - 47

و المعجم الكبير - الطبراني - ج 1 - ص 62

و مجمع الزوائد - الهيثمي - ج 5 - ص 202 - 203

و مروج الذهب ، مسعودي شافعي ، ج1 ، ص290

و ميزان الاعتدال - الذهبي - ج 3 - ص 109

و لسان الميزان - ابن حجر - ج 4 - ص 189

و كنز العمال ، المتقي الهندي ، ج 5 ، ص631 و ....

بھائی ابوبکر خود کہہ رہا ہے کہ میں نے وہ کام کیا تھا لیکن وہابی اور بعض سنی کہتے ہیں کہ اے خلیفہ تم نے وہ کام نہیں کیا تھا !!!

اب انسانیت اور تاریخ کس کی بات مانے، خود ابوبکر کی یا بعض دین و ایمان فروش دنیا کے مارے مفتیوں کی ؟؟؟

قابل توجہ اور قابل ذکر ہے کہ اہل سنت کے بعض خائن علماء نے ابوبکر کی آبرو بچانے کے لیے ، اس روایت کو ایسے تحریف کر دیا ہے:

أما إني ما آسي إلا علي ثلاث فعلتهن ، وثلاث لم أفعلهن ، وثلاث لم أسأل عنهن رسول الله صلي الله عليه وسلم . وددت أني لم أفعل كذا ، لخلة ذكرها . قال أبو عبيد : لا أريد ذكرها .

قال : ووددت أني يوم سقيفة ...

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے کاش میں فلاں کام انجام نہ دیتا !!! اس سبب کی وجہ سے کہ جو اس نے ذکر کیا ہے ، ابو عبیدہ کہتا ہے کہ: میں اس سبب کو ذکر نہیں کرنا چاہتا کہ جو ابوبکر نے ذکر کیا ہے ( یعنی مجھے پتا ہے کہ ابوبکر نے کیا کام انجام دیا تھا، لیکن میں اسکو ابوبکر کے احترام کی خاطر ذکر نہیں کروں گا)،،،،،

معجم ما استعجم - البكري الأندلسي - ج 3 - ص 1076 - 1077 .

 

نوٹ:

 ان جیسے خائن علماء پر ہی خداوند کی خاص خاص لعنت ہوتی ہے۔

ضياء المقدسی  کو صحیح قرار دینا:

ضياء المقدسی كہ ذہبی نے کتاب تذكرة الحفاظ ، ج4 ، ص1405 و 1406 ، میں اسے الإمام العالم الحافظ الحجۃ ، محدث الشام ، شيخ السنۃ ، جبلاً ثقة ديّناً زاهداً ورعا عالماً بالرجال وغیرہ کے الفاظ سے یاد کیا ہے، اسی مقدسی نے اسی روایت کو صحیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ:

هذا حديث حسن عن أبي بكر .

 ابوبکر سے نقل ہونے والی یہ روایت، (علم حدیث کی رو سے) حسن ہے۔

الأحاديث المختارة ، ج10 ، ص88-90 .

علوان ابن داود البجلی کا ثقہ ہونا:

ابن حجر عسقلانی اور شمس الدين ذہبی نے پشمانی ابوبکر والی روایت کو نقل کرنے کے بعد ، اس روایت کی سند پر اشکال کیا ہے اور کہا ہے کہ: علوان ابن داود البجلی، منكر الحديث تھا۔

ہم یہاں پر چند جوابات کو ذکر کرتے ہیں:

ابن حبان نے علوان کو ثقہ کہا ہے:

ابن حبّان ، كتاب الثقات ، ج8 ، ص526

ابن حبان کا ایک راوی کو ثقہ قرار دینا، یہ خود بہترین دلیل ہے کہ وہ راوی قابل اعتماد ہے، کیونکہ اہل سنت کے علم رجال کے علماء کے نزدیک ابن حبان بہت مشکل اور دقت کے بعد ایک راوی کو ثقہ قرار دیا کرتا تھا۔

ہر منكر الحديث تو حدیث نقل کرنے میں ضعيف نہیں ہوتا:

یہ کہ ہر منکر الحدیث ضعیف ہو، یہ قابل قبول نہیں ہے، کیونکہ یہ لفظ بہت سے ثقہ راویوں کے لیے بھی بولا گیا ہے۔

ابن حجر عسقلانی نے کتاب لسان الميزان میں ترجمہ (زندگی نامہ) حسين ابن فضل البجلی میں کہا ہے کہ:

فلو كان كل من روي شيئاً منكراً استحق أن يذكر في الضعفاء لما سلم من المحدثين أحد .

جو بھی روایت منکر کو ذکر کرے تو اگر اسکے نام کو ضعیف راویوں میں ذکر کیا جائے تو، اس صورت میں تو محدثین میں سے کوئی بھی سالم و صحیح باقی نہیں بچے گا۔

لسان الميزان ، ج2 ، ص308 .

اور ذہبی نے کتاب ميزان الإعتدال میں ترجمہ احمد ابن عتاب المروزی میں کہا ہے کہ:

ما كل من روي المناكير يضعّف .

جو بھی روایت منکر کو نقل کرے تو اسکو ضعیف قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ميزان الإعتدال ، ج1 ، ص118 .

خود بخاری نے منكر الحديث راوی سے روايت کو نقل كیا ہے:

محمد ابن اسماعيل بخاری نے اہل سنت کی قرآن کے بعد صحیح ترین کتاب صحیح بخاری میں بہت سی روایات کو منکر الحدیث راویوں سے نقل کیا ہے۔ منکر الحدیث راوی اتنے زیادہ ہیں کہ اس تحریر میں ان سب کو ذکر نہیں کیا جا سکتا، لیکن پھر بھی نمونے کے طور پر چند اسماء کو ذکر کیا جا رہا ہے:

1. حسان ابن حسان :

ابن ابی حاتم نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

منكر الحديث .

اور ابن حجر نے کہا ہے کہ:

روي عنه البخاري .

(منکر الحدیث ہونے کے باوجود) بخاری نے اس سے روایات کو نقل کیا ہے۔

مقدمه فتح الباري ، ص394 .

2 . احمد ابن شبيب ابن سعيد الحبطی :

ابو الفتح الأزدی نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

منكر الحديث غير مرضي ، روي عنه البخاري .

منکر الحدیث ہے اور قابل قبول نہیں ہے !!! لیکن بخاری نے اس سے روایت کو نقل کیا ہے۔

مقدمه فتح الباري ، ص383 .

3 . عبد الرحمن ابن شريح المغافری :

ابن سعد نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

منكر الحديث .

طبقات ابن سعد ، ج7 ، ص516 .

لیکن اسکے باوجود بھی بخاری نے اس سے حدیث کو نقل کیا ہے۔

مقدمه فتح الباري ، ص416 .

4 . داود ابن حصين المدنی :

ساجی نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

منكر الحديث متهم برأي الخوارج ،

لیکن اسکے باوجود بھی بخاری نے اس سے حدیث کو نقل کیا ہے۔

مقدمه فتح الباري ، ص399 .

نتیجہ:

پشمانی ابوبکر والی روایت میں سند کے لحاظ سے کوئی اشکال نہیں ہے اور علوان ابن داود کا منکر الحدیث ہونا، یہ کسی قسم کا روایت کو ضرر نہیں پہنچاتا۔

کتب و منابع شیعہ امامیہ:

شیعہ کتب میں صدیقہ شہیدہ حضرت فاطمہ زہرا (س) کی مظلومانہ شہادت کے بارے میں بہت سی روایات ذکر ہوئی ہیں، حتی علم حدیث کی روشنی میں یہ روایات حد تواتر تک بھی پہنچی ہوئی ہیں۔ اختصار کی وجہ سے یہاں پر ہم فقط دو روایت کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

سليم ابن قيس نے سلمان فارسی سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

فقالت فاطمة عليها السلام : يا عمر ، ما لنا ولك ؟ فقال : افتحي الباب وإلا أحرقنا عليكم بيتكم . فقالت : ( يا عمر ، أما تتقي الله تدخل علي بيتي ) ؟ فأبي أن ينصرف . ودعا عمر بالنار فأضرمها في الباب ثم دفعه فدخل .

... حضرت زہرا (س) نے فرمایا: اے عمر تمہارا ہم سے کیا کام ہے ؟ اس نے جواب دیا: دروازہ کھولو ورنہ میں تمہارے گھر کو آگ لگا دوں گا ! بی بی نے فرمایا: اے عمر کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے کہ اس طرح سے میرے گھر میں داخل ہونا چاہتے ہو ؟! لیکن پھر عمر نے وہاں سے واپس جانے سے انکار کیا۔ عمر نے آگ منگوا کر اسے گھر کے دروازے پر شعلہ ور کر دیا اور پھر دروازے کو زور سے کھول کر گھر کے اندر داخل ہو گیا۔۔۔۔۔

كتاب سليم بن قيس ، تحقيق اسماعيل انصاري، ص 150 .

مرحوم یعقوب كلينی نے کتاب اصول كافي میں لکھا ہے کہ:

مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَي عَنِ الْعَمْرَكِيِّ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ أَخِيهِ أَبِي الْحَسَنِ (عليه السلام) قَالَ : إِنَّ فَاطِمَةَ (عليها السلام ) صِدِّيقَةٌ شَهِيدَةٌ ...

امام کاظم نے فرمایا ہے کہ: بے شک فاطمہ صدیقہ شہیدہ ہیں۔

الكافي، الشيخ الكليني ، ج 1، ص 458 ، باب مولد الزهراء فاطمه عليها السلام ، ح2 .

بحث روائی:

1 . محمد ابن يحيی استاد مرحوم كلينی:

مرحوم نجاشی نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

محمد بن يحيي أبو جعفر العطار القمي ، شيخ أصحابنا في زمانه ، ثقة ، عين ، كثير الحديث ، له كتب .

رجال النجاشي ، النجاشي ، ص 353 .

2 . العمركی ابن علی :

مرحوم نجاشی نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

العمركي بن علي أبو محمد البوفكي وبوفك قرية من قري نيشابور . شيخ من أصحابنا ، ثقة ، روي عنه شيوخ أصحابنا .

رجال النجاشي ، النجاشي ، ص 303 .

3 . علی ابن جعفر :

شيخ طوسی نے اسکے بارے میں فرمایا ہے کہ:

علي بن جعفر ، أخو موسي بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب عليهم السلام ، جليل القدر ، ثقة .

الفهرست ، الشيخ الطوسي ، ص 151 .

انصاف كہاں ہے؟!

یقینا جو شخص روشن اور واضح منابع و مأخذ پر مبنی اس بحث کا مطالعہ کرے گا بخوبی جان لے گا کہ رسول اللہ (ص) کی رحلت کے بعد کیا آشوب بپا ہوا تھا اور خلافت و اقتدار کے حصول کے لیے بعض صحابہ نے کیا کیا کارنامے سر انجام دیئےاور یہ تعصب سے دور آزاد اندیش انسانوں پر اتمام حجت الہیہ ہے، کیونکہ ہم نے یہاں پر اپنی جانب سے کچھ بھی (بعنوان تبصرہ و تجزیہ) نہیں لکھا اور جو بھی لکھا ان منابع و مآخذ سے نقل کر کے لکھا ہے جو اہل سنت کے نزدیک قابل قبول ہیں۔

کیا ہوا کہ رسول خدا کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا، اپنے بابا کے بعد اتنی جلدی دنیا سے رخصت ہو گئیں ؟

کیا وہ اپنی عادی اور طبیعی موت سے دنیا سے رخصت ہوئی تھیں ؟

کیا انکی شہادت میں انکے گھر کو جلانے کی دھمکی کا بھی اثر تھا ؟

رسول خدا کی بیٹی کے گھر کو سب مسلمانوں کے سامنے عمر نے کیوں آگ لگائی ؟

جلتے ہوئے دروازے کو ان پر کس نے اور کیوں گرایا تھا ؟

انکے بچے کو کس نے سقط کیا تھا ؟

رسول خدا کی بیٹی کو کس نے اور کس کے حکم پر تازیانے مارے ؟

بخاری اور مسلم کے اقرار کے مطابق رسول خدا کی بیٹی کیوں ابوبکر اور عمر پر مرتے دم تک غضبناک رہی تھی ؟

فغضبت فاطمة بنت رسول اللَّه (ص) فهجرت ابابكر فلم تزل مهاجرته حتی توفّیت.

صحیح بخاری، ج 2، ص 504، كتاب الخمس، باب 837، ح 1265.

فوجدت فاطمة علی ابی بكر فی ذلك فهجرته فلم تكلّمه حتّی توفّیت.

صحیح بخاری ج 3، ص 252، كتاب المغازی، ب 155 غزوه خیبر، حدیث 704.

صحیح مسلم، ج 4، ص 30، كتاب الجهاد و السیر، باب 15، ح 52.

کیوں کتاب صحیح بخاری میں ذکر ہوا ہے کہ حضرت زہرا کو رات کی تاریکی میں مخفیانہ طور پر دفن کیا گیا تھا ؟

فلمّا توفّیت دفنها زوجها علی لیلاً ولم یؤذن بها أبابكر وصلّی علیها.

صحیح بخاری ج 3، ص 252، كتاب المغازی، ب 155 غزوه خیبر، حدیث 704.

کیوں رسول خدا کی اکلوتی بیٹی کی مبارک قبر آج تک مخفی ہے ؟

اگر علی (ع) امر خداوندی کے تابع نہ ہوتے اور اپنی خلافت کے لیے تلوار اٹھا لیتے، اور اس لڑائی جھگڑے میں حضرت زہرا (س) قتل ہو جاتیں تو پھر تاریخ میں علی (ع)، فاطمہ کے قاتل جانے جاتے، گھر پر حملہ کرنے والوں کا دامن پاک ہی رہتا اور مذکورہ بالا سوالات کے جوابات تو دور کی بات، خود سوالات بھی تاریخ میں گم ہو جاتے!!!

کیونکہ تاریخ اور واقعات کو تحریف کرنے والے کم بھی نہیں ہیں اور وہ یہ کام تاریخ میں انجام بھی دیتے آ رہے تھے، جیسے جنگ صفین میں حضرت عمار یاسر کی شہادت کے بارے میں رسول خدا کا واضح فرمان تھا کہ:

فراه النّبی (صلی الله علیه و سلم) فینفض التّراب عنه ویقول: تقتله الفئة الباغیة ویح عمّار یدعوهم الی الجنّة ویدعونه الی النّار۔

اے عمار تم کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا......

صحیح بخاری، ج 1، ص 254، كتاب الصّلاة، باب 304، التعاون فی بناء المسجد.

کیونکہ تمام معتبر کتب میں رسول خدا کی یہ حدیث موجود تھی، اسی لیے قابل انکار بھی نہیں تھی اور معاویہ اور اسکے گروہ کے باطل اور باغی ہونے پر واضح ترین دلیل بھی تھی۔ اسی انھوں نے دن کو رات اور رات کو دن بنا کر دکھانے کی کوشش میں لشکر میں یہ کہنا شروع کر دیا کہ عمار کو علی نے شہید کیا ہے، کیونکہ وہی عمار کو اپنے ساتھ جنگ پر لے کر آئے تھے، حالانکہ وہ بھول گئے تھے کہ اسی حدیث کے آخر میں رسول خدا  نے ذکر کیا ہے کہ:

یدعوهم الی الجنّة و یدعونه الی النار ۔

عمار انکو جنت کی طرف بلاتا ہے لیکن وہ عمار کو جہنم کی طرف آنے کی دعوت دیتے ہیں۔

صحیح مسلم، ج 4، ص 28، كتاب الجهاد و السیر، باب 15 حكم الفئ، حدیث 49.

رسول خدا نے اپنی اسی ایک حدیث کے ساتھ علی کے مخالفین اور دشمنوں کو اس آیت کا مصداق ثابت کر دیا کہ:

وَ جَعَلْناهُمْ أَئِمَّةً یدْعُونَ إِلَی النَّارِ وَ یوْمَ الْقِیامَةِ لا ینْصَرُونَ۔

ہم نے انکو ایسے رہنما قرار دیا ہے کہ جو لوگوں کو جہنم میں جانے کی دعوت دیتے ہیں۔

سورة القصص، آیة 41.

بنت رسول (س)  پر سلام:

اب ہم پیغمبر کی بیٹی کو سلام کرتے ہوئے اپنی بات کو تمام کرتے ہیں اور کہتے ہیں :

اے جگر کوشہ رسول ! آپ پر ہمارا سلام

اے پیغمبر کی کوثر آپ پر ہمارا سلام

اے علی کی شریکہ حیات آپ پر ہمارا سلام

اے معصوم آئمہ کی ماں آپ پر ہمارا سلام

اے دنیا کی تمام عورتوں کی سردار آپ پر ہمارا سلام

اے فاطمہ ، زہرا، صدیقہ، مطہرہ، راضیہ، مرضیہ آپ پر ہمارا سلام

سلام اس دن پر جس دن آپ پیدا ہوئیں

سلام اس دن پر جس دن آپ شہید ہوئیں

سلام اس دن پر جس دن وارد محشر ہو کر محبان اہل بیت اور شیعیان اہل بیت کی شفاعت فرمائیں گی۔

یا فاطمة الزهراء یا بنت محمد یا قرة عین الرسول یا سیدتنا یا مولاتنا انا توجھنا واستشفعنا وتوسلناک بک الیٰ الله وقدمناک بین یدیہ حاجاتنا یا وجیھۃ عند الله اشفعی لنا عند الله ،

التماس دعا۔۔۔۔۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی