2017 November 22
کیا امام محمد باقر (ع) نے حکم دیا تھا کہ انکے لیے عزاداری برپا کی جائے ؟
مندرجات: ٩٧١ تاریخ اشاعت: ٢٨ August ٢٠١٧ - ١٨:٣٩ مشاہدات: 282
سوال و جواب » شیعہ عقائد
جدید
کیا امام محمد باقر (ع) نے حکم دیا تھا کہ انکے لیے عزاداری برپا کی جائے ؟

سوال:

کیا امام محمد باقر (ع) نے حکم دیا تھا کہ انکے لیے عزاداری برپا کی جائے ؟

جواب:

جی ہاں، یہ روایت کتب شیعہ میں معتبر سند کے ساتھ نقل ہوئی ہے اور بعض علماء نے اس روایت کی سند کو صحیح اور بعض نے موثق قرار دیا ہے۔

اس روایت کا مضمون یہ ہے کہ امام باقر (ع) نے اپنی شہادت سے پہلے، اپنے فرزند امام صادق (ع) کو وصیت فرمائی کہ مکہ میں منا کے مقام پر 10 سال تک انکے لیے عزاداری برپا کی جائے اور اس کام کے لیے پیسوں کو بھی معیّن کیا، جیسے نوحہ خوان اور مصائب پڑھنے والے کے لیے اپنے مال کا ایک حصہ معیّن فرمایا۔

اس روایت کو مرحوم کلینی نے اس سند کے ساتھ نقل کیا ہے:

عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قَالَ لِي أَبِي يَا جَعْفَرُ أَوْقِفْ لِي مِنْ مَالِي كَذَا وَ كَذَا لِنَوَادِبَ تَنْدُبُنِي عَشْرَ سِنِينَ بِمِنًي أَيَّامَ مِنًي.

يونس بن يعقوب نے امام صادق (ع) سے نقل کیا ہے کہ ان حضرت نے فرمایا کہ: میرے والد گرامی نے مجھ سے فرمایا: اے جعفر ! میرے اموال میں سے فلاں مقدار کو ایام حج میں منا کے مقام پر دس سال تک میرے لیے عزاداری کے لیے وقف کرنا۔

الكليني الرازي، أبو جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج 5 ، ص 117، ح1 ، باب كسب النائحة، ناشر: اسلاميه ، تهران ، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.

اس روایت کو شیخ طوسی نے بھی اسی سند اور اسی عبارت کے ساتھ نقل کیا ہے:

الطوسي، الشيخ ابوجعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفي460هـ)، تهذيب الأحكام، ج 6، ص 358، تحقيق: السيد حسن الموسوي الخرسان، ناشر: دار الكتب الإسلامية ـ طهران، الطبعة الرابعة، 1365 ش .

علمائے شیعہ کا اس روایت کو صحیح قرار دینا:

یہ روایت سند کے لحاظ سے معتبر ہے اور شیعہ علماء نے واضح طور پر اس مطلب کو بیان کیا ہے، اسی لیے ہم ایک ایک راوی کے بارے میں بحث کرنے کی بجائے، اس روایت کی سند کے معتبر و قابل اعتبار ہونے کے بارے میں شیعہ علماء کے اقوال کو ذکر کرتے ہیں۔

1. علامہ حلی (متوفي 726 ہجری):

عالم بزرگ شیعہ علامہ حلی نے اس روایت کی سند کو صحیح قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ:

روي الشيخ في الصحيح عن يونس بن يعقوب عن أبي عبد الله عليه السلام قال قال لي أبي عبد الله صلي الله عليه وآله يا جعفر أوقف لي من مالي كذا وكذا النواد ب يندبني عشر سنين معني أيام لنا.

شیخ نے یونس ابن یعقوب سے صحیح روایت کو نقل کیا ہے کہ اس نے امام صادق (ع) سے نقل کیا ہے کہ امام نے فرمایا ہے کہ: میرے والد گرامی نے مجھ سے فرمایا کہ اے ابو جعفر میرے اموال سے فلاں مقدار وقف کرنا تا کہ ایام حج میں منا کے مقام پر دس سال تک میرے لیے گریہ کیا جا سکے۔

الحلي الأسدي، جمال الدين أبو منصور الحسن بن يوسف بن المطهر (متوفي726هـ)، منتهي المطلب في تحقيق المذهب، ج2، ص1012، تحقيق: قسم الفقه في مجمع البحوث الإسلامية، ناشر: مجمع البحوث الإسلامية - إيران - مشهد، چاپخانه: مؤسسة الطبع والنشر في الآستانة الرضوية المقدسة، چاپ: الأولي1412

2. مجلسی اول (متوفي1070ہجری):

علامہ محمد تقی مجلسی (كہ انکو مجلسی اول بھی کہا جاتا ہے) نے اپنی کتاب « روضة المتقين » میں واضح طور پر کہا ہے کہ درست ہے کہ یہ روایت موثق ہے، لیکن یہ روایت صحیح کا درجہ رکھتی ہے:

روي الشيخان في الموثق كالصحيح، عن يونس بن يعقوب، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قال لي أبي: يا جعفر أوقف لي من مالي كذا و كذا، لنوادب تندبني عشر سنين بمني أيام مني .

شيخان (كلينی و شيخ طوسی) نے روایت موثق میں، کہ اعتبار کے لحاظ سے یہ روایت صحیح ہے، یونس ابن یعقوب سے اور اس نے امام صادق (ع) سے روایت نقل کی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجلسي، محمدتقي بن مقصود علي، (متوفي 1070هـ)، روضة المتقين في شرح من لا يحضره الفقيه (ط - القديمة) ج 6 ؛ ص423، قم، چاپ: دوم، 1406 ق.

3. مجلسی دوم (محمد باقر) (متوفي 1110ہجری):

علامہ محمد باقر مجلسی نے بھی اپنی دو کتابوں میں اس روایت کی سند کو موثق قرار دیا ہے:

الحديث السادس و الأربعون و المائة: موثق.

مجلسي، محمد باقر بن محمد تقي، ملاذ الأخيار في فهم تهذيب الأخبار، ج 10 ؛ ص336، قم، چاپ: اول، 1406 ق.

باب كسب النائحة الحديث الأول : موثق.

مجلسي، محمد باقر بن محمد تقي، مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول، ج 19 ؛ ص75، تهران، چاپ: دوم، 1404 ق.

4. محقق بحرانی (متوفي 1186ہجری):

اس محقق نے اس بحث میں، کیا میت پر گریہ و نوحہ سرائی کرنا جائز ہے یا نہیں، واضح طور پر کہا ہے کہ مشہور علمائے امامیہ نے اس کام کو جائز قرار دیا ہے، البتہ اس شرط کے ساتھ کہ یہ کام ایک دوسرے حرام کام کا باعث نہ بنے، جیسے جھوٹ بولنا وغیرہ۔۔۔۔۔،

اس محقق نے اس جواز پر دلائل کو شمار کرتے ہوئے، اس روایت کو بھی دلیل کے طور پر ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ: یہ روایت صحیح ہے:

وأما الأخبار فمنها ما دل علي الجواز ومن ذلك ما رواه في الكافي في الصحيح عن يونس بن يعقوب عن الصادق ( عليه السلام ) قال : قال لي أبي يا جعفر أوقف لي من مالي كذا لنوادب تندبني عشر سنين بمني أيام مني.

بعض روایات میت پر نوحہ سرائی کے جائز ہونے پر دلالت کرتیں ہیں اور ان میں سے ایک روایت وہ ہے کہ جو کتاب اصول کافی میں صحیح سند کے ساتھ ہے کہ جسکو یونس ابن یعقوب نے اور اس نے امام صادق (ع) سے روایت نقل کا ہے کہ امام نے فرمایا کہ: میرے والد گرامی نے فرمایا کہ اے ابو جعفر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

البحراني، الشيخ يوسف، (متوفي1186هـ)، الحدائق الناضرة في أحكام العترة الطاهرة، ج4 ، ص 165، ناشر : مؤسسة النشر الإسلامي التابعة لجماعة المدرسين بقم المشرفة، طبق برنامه مكتبه اهل البيت.

اس محقق نے اپنی اسی کتاب میں ایک دوسری جگہ پر تصریح کی ہے کہ اگر نوحہ سرائی حرام و باطل باتوں پر مشتمل نہ ہو تو جائز ہے اور اس جواز پر اسی روایت کو دلیل کے طور پر ذکر کیا ہے، لیکن یہاں پر اس نے کہا ہے کہ:یہ روایت موثق ہے:

ومنها : ما رواه في الكافي والتهذيب في الموثق عن يونس بن يعقوب ، عن الصادق عليه السلام ، قال : قال لي أبي : يا جعفر ، أوقف لي من مالي كذا وكذا ...

البحراني، الشيخ يوسف، الحدائق الناضرة، ج 18، ص136

5. صاحب جواہر (متوفي 1266ہجری):

صاحب جواہر نے بھی اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے:

و عن الصادق ( عليه السلام ) في الصحيح أنه قال أبي : يا جعفر أوقف لي من مالي كذا و كذا لنوادب تندبني عشر سنين بمني أيام مني.

و قد يستفاد منه استحباب ذلك إذا كان المندوب ذا صفات تستحق النشر ليقتدي بها .

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس روایت سے استفادہ ہوتا ہے کہ نوحہ سرائی مستحب ہے، جب اس صاحب میت میں ایسی صفات پائیں جائیں کہ جو لوگوں میں منتشر کرنے کے قابل ہوں، تا کہ عام لوگ ان صفات میں اس میت کی پیروی کر سکیں۔

جواهر الكلام - الشيخ الجواهري - ج 4 ص 366

نتيجہ:

1- اس روایت کی سند معتبر ہے۔

2- اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کے لیے گریہ و نوحہ سرائی کرنا ایک جائز کام ہے اور اس میں کسی قسم کا اشکال نہیں ہے۔

3- اگر میت پر گریہ و نوحہ سرائی بدعت ہوتا تو امام باقر(ع)  کہ ایک امام معصوم ہیں، کبھی بھی اپنے بیٹے کو اس کام کے کرنے کی وصیت نہ فرماتے۔

اہم نکات:

نکتہ اول: امام باقر (ع)                 پر عزاداری کے لیے وقف ہونے والے مال کی مقدار:

گذشتہ روایت میں بیان ہوا کہ امام باقر (ع) نے وصیت فرمائی اور اپنے مال کے ایک حصے کو اپنے پر ہونے والی عزاداری کے لیے وقف فرمایا، لیکن واضح طور پر مال کی مقدار معیّن نہیں ہوئی ہے، بلکہ روایت میں فقط لفظ « كذا و كذا » ذکر ہوا ہے۔

لیکن ایک دوسری روایت میں ذکر ہوا ہے کہ امام باقر (ع) نے 800 درہم ( یعنی 80 سونے کے دینار) اپنی عزاداری کے لیے وقف فرمائے تھے:

عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَي عَنْ حَرِيزٍ أَوْ غَيْرِهِ قَالَ أَوْصَي أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَأْتَمِهِ وَ كَانَ يَرَي ذَلِكَ مِنَ السُّنَّةِ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وآله قَالَ اتَّخِذُوا لآِلِ جَعْفَرٍ طَعَاماً فَقَدْ شُغِلُوا.

حریز اور اسکے علاوہ دوسروں سے نقل ہوا ہے کہ امام باقر (ع) نے اپنی عزاداری کے لیے 800 درہم کے بارے میں وصیت فرمائی تھی اور انکا عقیدہ تھا کہ یہ کام سنت ہے، کیونکہ رسول خدا (ص) نے فرمایا کہ: جعفر طیار کے گھر والوں کے لیے (جب وہ شہید ہوئے تھے) کھانا تیار کیا جائے، کیونکہ وہ عزاداری کرنے میں مصروف ہیں۔

الكليني الرازي، أبو جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج3، ص217، ح4، ناشر: اسلاميه ، تهران ، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.

نكتہ دوم: آئمہ معصومین (ع)  کے لیے عزاداری کرنا مستحب ہے:

یہ روایت آئمہ معصومین (ع) کے لیے عزاداری کرنے کے مستحب ہونے کو بھی ثابت کرتی ہے اور ان وہابیوں وغیرہ کے لیے دندان شکن جواب بھی ہے کہ جو امام حسین (ع) کے لیے ماہ محرم و صفر اور دوسرے ایام میں عزاداری کرنے پر بدعت کے اور شیعیان پر کفر کے فتوئے لگاتے ہیں۔

علامہ مجلسی اول نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ:

و يدل علي استحبابه، و الظاهر اختصاص ذلك بالأئمة صلوات الله عليهم لوجوه كثيرة (منها) أن لا ينسي المؤمنون إمامهم و يبكوا عليهم ليحصل لهم الأجر العظيم و يسهل عليهم موت الأقارب، و يذكر ظلم المتسمين بالخلافة عليهم، و يظهر كفر من يرضي بفعالهم و غيرها مما لا يحصي.

یہ روایت عزاداری اور نوحہ خوانی کے مستحب ہونے پر دلالت کرتی ہے اور بہت سے دلائل کی بناء پر یہ عزاداری آئمہ طاہرین (ع) کے ساتھ خاص ہے، ان میں سے بعض دلائل یہ ہیں:

1ـ مؤمنین اپنے آئمہ کے ذکر کو بھول نہ جائیں اور ان پر گریہ و عزاداری کر کے عظیم ثواب کے مستحق ہو جائیں اور انکے لیے بھی خدا کی راہ میں جان دینا آسان ہو جائے۔

2ـ رسول خدا (ص) کے اہل بیت پر ظلم و ستم اور ان سے خلافت کو غصب کرنے والوں کے مظالم کو ہمیشہ یاد رکھا جا سکے، ( اور اس ذکر کو آئندہ آنے والی نسلوں تک بھی منتقل کیا جا سکے۔)

3ـ ان ظالموں کے کفر و ظلم و ستم پر راضی ہونے والوں کے مکروہ چہرے سے نقاب کو ہٹایا جا سکے۔

اور انکے علاوہ بہت سے دلائل کہ جنکو شمار نہیں کیا جا سکتا۔

مجلسي، محمدتقي بن مقصودعلي، روضة المتقين في شرح من لا يحضره الفقيه (ط - القديمة)، ج 6 ؛ ص423، قم، چاپ: دوم، 1406

علامہ محمد باقر مجلسی نے بھی اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

و قال الوالد العلامة قدس سره: لعل ذلك لإبقاء المحبة في قلوبهم و بغض من قتلهم، فإنهما من أصل الإيمان، بخلاف غيرهم كما تقدم.

میرے والد علامہ نے فرمایا ہے کہ: امام باقر (ع) کا یہ حکم شاید اپنے محبّین کے دلوں میں اہل بیت کی محبت کو باقی رکھنے اور انکے قاتلوں سے اظہار نفرت کے لیے ہو، کیونکہ ایمان کی بنیاد حبّ اور بغض ہے، یہ حب و بعض اس حبّ و بغض کے علاوہ ہے کہ جو اہل بیت کے علاوہ دوسرے سے رکھا جاتا ہے، (یعنی اہل بیت کے علاوہ دوسروں سے رکھا جانے والا حبّ و بغض، ایمان کی علامت نہیں ہے)

مجلسي، محمد باقر بن محمد تقي، ملاذ الأخيار في فهم تهذيب الأخبار، ج 10 ؛ ص336، قم، چاپ: اول، 1406 ق.

اور ایک دوسرے مقام پر علامہ محمد باقر مجلسی نے اسی روایت کو آئمہ معصومین (ع) پر عزاداری کے مستحب ہونے پر دلیل قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ:

و يدل علي رجحان الندبة عليهم و إقامة مأتم لهم، لما فيه من تشييد حبهم و بغض ظالميهم في القلوب، و هما العمدة في الإيمان، و الظاهر اختصاصه بهم عليهم السلام لما ذكرنا.

یہ روایت آئمہ پر نوحہ خوانی اور انکے لیے عزاداری کرنے کے مستحب ہونے پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ اس عزاداری کرنے سے آئمہ کی محبت اور ان پر ظلم کرنے والوں کی نفرت دلوں میں چند گنا زیادہ ہو جاتی ہے اور یہ والی حبّ و بغض ایمان کی اساس و بنیاد ہے۔ (ان روایات سے) ظاہر یہ ہے کہ یہ عزاداری اہل بیت کے ساتھ خاص ہے۔

مجلسي، محمد باقر بن محمد تقي، مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول، ج 19 ؛ ص76، تهران، چاپ: دوم، 1404 ق.

مرحوم صاحب کتاب جواہر نے بھی اس روایت کے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ:

و قد يستفاد منه استحباب ذلك إذا كان المندوب ذا صفات تستحق النشر ليقتدي بها.

اس روایت سے نوحہ خوانی کا مستحب ہونا استفادہ ہوتا ہے، یہ اس وقت ہے کہ جب اس میت میں ایسے پسندیدہ فضائل پائے جاتے ہوں کہ جو منتشر کرنے کے قابل ہوں، تا کہ دوسروں کو بھی اس میت کی پیروی کرنے کی ترغیب دلائی جا سکے۔

محمد حسن، الجواهري، جواهر الكلام ، ج 4، ص 366

اس روایت کے ذیل میں علامہ امینی نے بہت جالب تجزیہ و تحلیل کی ہے:

وفي تعيينه عليه السلام ظرف الندبة من الزمان والمكان لأنهما المجتمع الوحيد لزرافات المسلمين من أدني البلاد وأقاصيها من كل فج عميق ، وليس لهم مجتمع يضاهيه في الكثرة ، دلالة واضحة علي أن الغاية من ذلك إسماع الملأ الديني مآثر الفقيد " فقيد بيت الوحي " ومزاياه ، حتي تنعطف عليه القلوب ، وتحن إليه الأفئدة ، ويكونوا علي أمم من أمره ، وبمقربة من اعتناق مذهبه ، فيحدوهم ذلك بتكرار الندبة في كل سنة إلي الالتحاق به ، والبخوع لحقه ، والقول بإمامته ، والتحلي بمكارم أخلاقه ، والأخذ بتعالميه المنجية ، وعلي هذا الأساس الديني القويم أسست المآتم والمواكب الحسينية ، ليس إلا .

امام باقر (ع) کا اپنی عزاداری کے لیے وقت اور جگہ کا معیّن کرنا، یہ اس لیے ہے کہ اس وقت اور اس جگہ پر پوری دنیا کے دور و نزدیک اور ہر نسل و قبیلے سے مسلمان جمع ہوتے ہیں اور لوگوں کی تعداد کے حوالے سے اس سے بڑھ کو کوئی بھی اجتماع نہیں ہے۔ اس سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ امام کا اس کام سے ہدف، اس امام کے فضائل و آثار کو سب تک پہنچانا ہے کہ جو امام اہل بیت سے دنیا سے رخصت ہوا ہے اور اسکی صفات کو شمار کرنا ہے، تا کہ لوگوں کے دل اس امام کی طرف مائل ہوں، اور اس طرح سے وہ لوگ اس امام کی اتباع و پیروی کریں، پس ان شیعیان کو اس عزاداری کے بار بار تکرار کرنے کی طرف انکو دعوت دی جائے، تا کہ وہ بھی امام کی پیروی کر کے ان سے مل سکیں، اور انکی امامت کے خدا کی طرف سے ہونے کا اعتراف کر سکیں اور انکی امامت کو قبول کر لیں، اور فقط و فقط انہی اہداف کے لیے عزاداری کرنے کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

الغدير - الشيخ الأميني - ج 2 ص 21

نتیجہ:

امام باقر (ع) کا منا کے مقام پر دس سال تک عزاداری کرنے کی وصیت کرنے سے ہدف، پوری انسانیت کے لیے اہل بیت کا تعارف کرانا، انکے فضائل کو نشر کرنا، لوگوں کو رسول خدا (ص) کے اہل بیت (ع) کی طرف مائل کرنا اور اس سے ان لوگوں کی صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرنا تھا، کیونکہ امام باقر (ع) ایک معصوم و حکیم امام تھے اور حکیم کا کوئی حکم و کام، حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔

التماس دعا۔۔۔۔۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی