2017 October 20
کیا یہ حقیقت ہے کہ امام زمان (عج) ظہور کرنے کے بعد ہر 1000 بندوں میں سے 999 بندوں کو قتل کریں گے ؟
مندرجات: ٩٢٥ تاریخ اشاعت: ١٠ August ٢٠١٧ - ١٠:٢٩ مشاہدات: 216
سوال و جواب » Mahdism
جدید
کیا یہ حقیقت ہے کہ امام زمان (عج) ظہور کرنے کے بعد ہر 1000 بندوں میں سے 999 بندوں کو قتل کریں گے ؟

توضيح سؤال:

ایک وہابی چینل میں شیعہ کتب سے روایات کو پڑھا جاتا ہے کہ جب حضرت مہدی ظہور کریں گے تو ہر 1000 بندوں میں سے 999 بندوں کو وہ قتل کریں گے اور ان میں سے فقط ایک بندے کو زندہ چھوڑیں گے۔ کیا شیعہ کتب میں مذکورہ ایسی روایات معتبر ہیں یا نہیں ؟

جواب:

اس شبھے کے جواب میں بہت سے جوابات دئیے جا سکتے ہیں، لیکن ان میں سے ہم چند اہم جوابات کے ذکر کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں:

جواب اول: یہ روايات ضعيف ہیں۔

تاریخ اسلام میں اور خاص طور تاریخ اسلام کی ابتداء میں جھوٹی اور جعلی روایات کو گھڑنا، اور انکو رسول خدا (ص) اور انکے اہل بیت (ع) سے نسبت دینا، ایک عام رواج اور بعض دین فروش لوگوں کے لیے مال کمانے کا ذریعہ بن چکا تھا۔

غاصب اور ظالم حکمران کہ جو در حقیقت حقیقی اسلام اور مسلمانوں کے دشمن تھے، درہم و دینار کی بے حد و بے حساب رشوت دینے کے ساتھ جھوٹی اور جعلی احادیث کو ایجاد کرنے والوں کی مزید حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے کہ ان جیسی غلط اور جھوٹی حدیثوں کے ذریعے انکو انکے اہداف تک پہنچانے کی راہ ہموار کریں اور انکی ظالمانہ اور غاصبانہ حکومت و خلافت کو شرعی رنگ دینے میں انکی مدد کریں۔

حتی روایات میں ہے کہ معاویہ جب ایک موضوع کے بارے میں حکم دیتا تھا کہ فلاں موضوع کے بارے میں احادیث تیار کرو تو وہ اپنی تمام مملکت میں سارے والیوں کو سرکاری طور پر حکم دے دیتا تھا، اور جب اس موضوع کے بارے میں بہت سی احادیث جمع ہو جاتی تھیں، تو معاویہ دوبارہ حکم دیتا تھا کہ اب اس موضوع کے بارے میں کافی احادیث جمع ہو گئیں ہیں، اب تم لوگ دوسرے فلاں خلیفہ یا صحابی یا فلاں موضوع کے بارے میں احادیث گھڑنا شروع کر دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلامی معاشرے میں جھوٹی اور جعلی احادیث گھڑنے کا سلسلہ کئی سو سالوں تک جاری رہا، یہاں تک کہ ہزاروں اور لاکھوں جعلی احادیث اسلامی معاشرے میں پھیل گئیں کہ جہنوں نے مسلمانوں کے عقیدے و دین کو بری طرح آلودہ کر دیا ہے، حتی 1400 سال گزرنے کے بعد بھی اس آلودگی کے اثرات کو بڑے واضح طور پر محسوس کیا اور دیکھا جا سکتا ہے۔

طبیعی ہے کہ مسلمانوں کا عقیدہ مہدویت بھی اس قاعدے سے مستثنی نہیں تھا اور جعلی احادیث گھڑنے کے ناپاک جراثیموں سے محفوظ نہیں تھا۔ تاریخ اسلام میں بہت سے افراد نے جھوٹی اور جعلی احادیث اور موضوعات کو گھڑ کر مہدویت کا دعوی کیا تھا اور خود کو آخر الزمان کا منجی (نجات دہندہ) ثابت کرنے کی کوشیش کیں تھیں۔

یہ ظالم و غاصب حکمران کوشش کرتے تھے کہ اپنے غلط اور ظالمانہ کاموں کی تاویل و توجیہ کرنے کے لیے، جعلی روایات میں انہی غلط اور ظالمانہ کاموں کو رسول خدا (ص) اور انکے اہل بیت (ع) کی طرف نسبت دیتے تھے، تا کہ مسلمان کہیں کہ اگر ہمارے حاکم ان ظالمانہ کاموں کو انجام دیتے ہیں تو کیا ہوا، رسول خدا نے بھی اپنے زمانے میں ان کاموں کو انجام دیا تھا اور حضرت مہدی بھی آ کر یہی کام انجام دے گا۔

حضرت مہدی (ع) کا ظاہر ہو کر لوگوں کو قتل کرنے والی روایات بھی انہی جعلی اور جھوٹی روایات میں سے ہیں کہ ظالم ، غاصب اور جبّار حکمرانوں نے اپنے غلط کاموں کی تاویل کرنے کے لیے گھڑا ہے اور وہ گویا ان روایات کے ذریعے سے دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اسلام کو پھیلانے کے لیے لوگوں کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ حضرت مہدی (ع) بھی احکام اسلامی کو نافذ کرنے اور اسلام کو عالمی سطح پر روشناس کرانے کے لیے بہت سے لوگوں کا خون بہائیں گے۔

خلاصہ یہ کہ اسطرح کے دین فروش اور خائن قلم چلانے والوں کا اسطرح کی زہر آلود احادیث کو ایجاد کرنے سے دو اصلی ہدف ہیں:

ہدف اول:

لوگوں کو رسول خدا (ص) کے اہل بیت اور خاص طور پر حضرت مہدی (ع) سے ڈرانا اور ان نورانی و معصوم چہروں کی شخصیت کو داغدار کرنا ہے کہ جب وہ ظہور کریں گے تو مغلوں اور چنگیز خان وغیرہ کی طرح یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے، وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔

ہدف دوم:

اپنے ظالمانہ اور فاسقانہ افعال کی تاویل کرنا اور حکومت و مال دنیا حاصل کرنے کے لیے انکو شرعی و دینی رنگ دینا ہے۔

اس مقدمے کے بعد اب ہم اصل روایات کو ذکر کرتے ہیں اور ساتھ ہی ان روایات کی سند (راویوں) کے بارے میں بھی بحث کریں گے:

روايت اول:

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ عُبَيْدٍ مُعَنْعَناً عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَي... «وَ إِنَّ لَنا لَلْآخِرَةَ وَ الْأُولي فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّي» الْقَائِمُ [ص ] إِذَا قَامَ بِالْغَضَبِ فَقَتَلَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَ تِسْعَةً وَ تِسْعِينَ ....

محمد بن القاسم بن عبيد نے معنعن روایت میں اپنے اساتذہ سے اور انھوں نے امام صادق سے خداوند کے اس قول کے بارے میں کہ، اور دنیا و آخرت ہمارے لیے ہے، اور میں تم کو آگ کے بھڑکتے شعلوں سے آگاہ کرتا ہوں، نقل کیا ہے کہ: اس آیت سے مراد قائم ہے کہ جب بھی غضب کے ساتھ قیام کرے گا تو ہر ہزار بندوں میں سے نو سو ننانوے بندوں کو قتل کرے گا۔

الكوفي ، فرات بن إبراهيم (متوفي352هـ)، تفسير فرات الكوفي، ص565، تحقيق : محمد الكاظم، ناشر : مؤسسة الطبع والنشر التابعة لوزارة الثقافة والإرشاد الإسلامي ـ طهران ، الطبعة : الأولي، 1410هـ ـ 1990 م

اس روایت کی سند ضعیف ہے، کیونکہ، قطع نظر اسکے کہ خود فرات بن ابراہيم ثقہ نہیں ہے، اس سند میں بہت سے دوسرے اشکلات بھی موجود ہیں:

اولاً : خود محمد بن القاسم بن عبيد، مہمل (جسکو علماء نے ترک کیا ہو) ہے اور شیعہ کی علم رجال کی کسی بھی کتاب میں اسکا نام ذکر نہیں ہوا ہے، جس طرح کہ شيخ علی نمازی نے اپنی کتاب مستدركات ميں لکھا ہے کہ:

14323 - محمد بن القاسم بن عبيد الكبيدي : لم يذكروه....

یعنی محمد ابن قاسم کو کسی نے بھی ذکر نہیں کیا۔۔۔۔۔

مستدركات علم رجال الحديث - الشيخ علي النمازي الشاهرودي - ج7 ص 293

ثانياً: محمد بن القاسم نے اس روایت کو معنعن یعنی عن فلاں، عن فلاں، عن فلاں کی صورت میں نقل کیا ہے، لیکن ان افراد کے نام کو نہ ادھر اور نہ ہی تفسیر فرات کی کتاب کے مقدمے میں ذکر کیا ہے، تا کہ ان کا ثقہ ہونا یا ثقہ نہ ہونا ثابت ہو سکے۔

لہذا اس روایت کی سند ضعیف ہے اور ایک ضعیف روایت کو استدلال کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

روايت دوم:

شرف الدين استرآبادی نے اپنی کتاب تاويل الآيات ميں لکھا ہے کہ:

جَاءَ مَرْفُوعاً عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَ ... وَ إِنَّ لَنا لَلْآخِرَةَ وَ الْأُولي فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّي قَالَ هُوَ الْقَائِمُ إِذَا قَامَ بِالْغَضَبِ وَ يَقْتُلُ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَ تِسْعَةً وَ تِسْعِينَ ...

اسکا ترجمہ بھی بالکل گذشتہ روایت کے ترجمے کی طرح ہے۔۔۔۔۔۔

السيد شرف الدين علي الحسيني الاسترآبادي (متوفی 965 هـ) ، تأويل الآيات الظاهرة في فضائل العترة الطاهرة، ص780، سورة الليل(92): الآيات 1 الي 21] .

یہ روایت عمرو ابن شمر سے بہ صورت مرفوع نقل ہوئی ہے اور شیعہ کے مطابق مرفوع روایت وہ ہوتی ہے کہ جس روایت کے راویوں کا سلسلہ مسلسل نہ ہو اور ٹوٹا ہوا یعنی سند کے سلسلے میں سے ایک یا ایک سے زیادہ راویوں کا نام ذکر نہ کیا گیا ہو اور کتاب کے مصنف نے یا خود ایک راوی نے دوسرے راوی کو لفظ « رفعه » يا « مرفوعا » کے ساتھ نقل کیا ہو۔

مثلا: محمد بن يعقوب الكلينی رفعه عن الصادق عليه السلام .

روايت مرفوع حکم کے لحاظ سے اہل سنت کے مطابق منقطع سند کے مساوی ہوتی ہے اور منقطع سند کی استناد اور استدلال کے لحاظ سے کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

ثانياً: خود عمرو بن شمر کہ جس سے مرفوع روایت کو نقل کیا گیا ہے، وہ خود بھی ضعیف ہے، مرحوم نجاشی نے اپنی رجال کی کتاب اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

عمرو بن شمر أبو عبد الله الجعفي عربي ، روي عن أبي عبد الله عليه السلام ، ضعيف جدا ، زيد أحاديث في كتب جابر الجعفي ينسب بعضها إليه ، والامر ملبس .

عمرو بن شمر کہ جس نے امام صادق سے روایت کو نقل کیا ہے، وہ بہت ہی زیادہ ضعیف ہے، اس نے جابر جعفی کی کتب میں اپنی طرف سے احادیث کا اضافہ کیا ہے اور بعض احادیث کو جابر کی طرف نسبت دی ہے کہ جو تلبیس اور اشتباہ کا باعث بنا ہے۔

النجاشي الأسدي الكوفي، ابوالعباس أحمد بن علي بن أحمد بن العباس (متوفي450هـ)، فهرست أسماء مصنفي الشيعة المشتهر ب رجال النجاشي، ص 287، تحقيق: السيد موسي الشبيري الزنجاني، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامي ـ قم، الطبعة: الخامسة، 1416هـ.

نتيجہ:

 یہ روایات سند کے لحاظ سے ضعیف ہیں اور ان جیسی ضعیف روایات سے استناد اور استدلال کرنا، یہ بات اس انسان کے حضرت مہدی (ع) کے بارے میں بغض ، کینے اور اس شخص کی جہالت پر دلالت کرتی ہے۔

جب ثابت ہو جائے کہ ایک روایت کی سند ضعیف ہے تو پھر اس روایت کے معنی و دلالت کرنے کی نوبت نہیں آتی، لیکن اس موضوع کو مزید واضح کرنے کے لیے روایات کی روشنی میں ہم دوسرے جوابات کو بھی بیان کرتے ہیں۔

جواب دوم: حضرت مہدی (ع) انسانیت کی ہدایت کے لیے ظہور کریں گے اور انکا مبارک وجود سب کے لیے رحمت ہو گا۔

کتب شیعہ میں مذکورہ روایات کے مطابق حضرت مہدی (ع) تمام جہانوں کے لیے رحمت ہیں اور انکی رحمت تمام بشریت کو شامل ہو گی۔ یہاں تک کہ تمام اہل زمین و آسمان انکے ظہور سے خوشحال ہوں گے۔

اسکے علاوہ کتب شیعہ میں روایات موجود ہیں کہ جنکی روشنی میں حضرت مہدی (ع) اخلاق، سیرت اور ظاہری صورت کے لحاظ سے رسول خدا (ص) سے سب سے زیادہ مشابہ انسان ہیں۔ جس طرح رسول خدا  (ص) رحمۃ للعالمین اور مظہر رحمت واسعہ خداوند ہیں:

وَ مَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ

سورہ أنبياء آیت 107

اسی طرح حضرت مہدی (ع) بھی رحمۃ للعالمین اور مظہر کامل رحمت واسعہ خداوند ہیں۔

حَدَّثَنَا أَبِي وَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ وَ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَي الْمُتَوَكِّلُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالُوا حَدَّثَنا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْحِمْيَرِيُّ وَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَي الْعَطَّارُ جَمِيعاً، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَي وَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ وَ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْبَرْقِيُّ وَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْخَطَّابِ جَمِيعاً قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ مَحْبُوبٍ السَّرَّادُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي بَصِيرٍ، عَنِ الصَّادِقِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ آبَائِهِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، قَالَ:

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّمَ:

الْمَهْدِيُّ مِنْ وُلْدِي، اسْمُهُ اسْمِي، وَ كُنْيَتُهُ كُنْيَتِي، أَشْبَهُ النَّاسِ بِي خَلْقاً وَ خُلْقاً، تَكُونُ لَهُ غَيْبَةٌ وَ حَيْرَةٌ حَتَّي تَضِلَّ الْخَلْقُ عَنْ أَدْيَانِهِمْ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يُقْبِلُ كَالشِّهَابِ الثَّاقِبِ، فَيَمْلَؤُهَا قِسْطاً وَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْماً وَ جَوْراً.

رسول خدا صلي الله عليہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ: مہدی میرا بیٹا ہے، وہ میرا ہم نام اور ہم کنیت ہے، تمام لوگوں میں ظاہری خلقت اور اخلاق کے لحاظ سے سب سے زیادہ میرے مشابہے ہے۔ اسکے لیے ایک ایسی غیبت و حیرت ہو گی کہ لوگ اپنے دین سے گمراہ ہو جائیں گے، اور یہ وہی وقت ہو گا کہ جب وہ شہاب ثاقب کی سی تیزی کے ساتھ آئے گا اور زمین کو ایسے عدل و انصاف سے بھر دے گا کہ جیسے وہ ظلم و ستم سے بھر چکی ہو گی۔

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفي381هـ)، كمال الدين و تمام النعمة، ص287، تحقيق: علي اكبر الغفاري، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامي ( التابعة ) لجماعة المدرسين ـ قم، 1405هـ .

جس طرح رسول خدا (ص) تمام انسانیت و بشریت کے لیے اللہ کے رسول ہیں:

قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا..

اے لوگو میں تم سب کے لیے اللہ تعالی کا رسول ہوں۔

سورة الأعراف آیت 158

اسی طرح حضرت مہدی (ع) بھی خدا کی جانب سے تمام جنّ و انس کے امام ہیں۔

اور جس طرح رسول خدا (ص) بعض انسانوں کے لیے بشیر اور بعض کے لیے نذیر ہیں:

وقال سبحانه: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا..

سورة سبأ آیت 28

اسی طرح حضرت مہدی (ع) بھی شیعیان و محبان کے لیے بشیر و بشارت دینے والے ہیں اور دشمنوں و ناصبیوں کے لیے نذیر و عذاب الہی سے ڈرانے والے ہیں۔

اور خداوند نے قرآن میں رسول خدا کے اخلاق کے بارے میں فرمایا ہے کہ:

وَإِنَّكَ لَعَلي خُلُقٍ عَظيم .

اور بے شک آپ کا اخلاق بہت اعلی و عظیم ہے۔

 سورہ قلم آیت 4

اسی طرح حضرت مہدی (ع) کا اخلاق بھی اپنے جدّ کی طرح اعلی و عظیم ہو گا۔

لہذا رسول خدا (ص) نے اگر اپنے دور میں ایسی قتل و غارت کی تھی، تو انکے اہل بیت میں سے انکا بارواں جانشین بھی ایسی قتل و غارت کرے گا اور اگر رسول بر حق خداوند نے ایسا نہیں کیا تو حضرت مہدی بھی ایسا ہرگز انجام نہیں دیں گے، کیونکہ صحیح روایات کے مطابق حضرت مہدی (ع) کا اخلاق و کردار بھی بالکل رسول خدا (ص) کے اخلاق و کردار جیسا ہے۔

شيخ كلينی نے كتاب شريف كافی اور شيخ صدوق نے كتاب عيون اخبار الرضا میں ذکر کیا ہے کہ حضرت مہدی بھی رحمۃ للعالمین ہیں:

أُخْرِجُ مِنْهُ (علي بن محمد الهادي) الدَّاعِيَ إِلَي سَبِيلِي وَ الْخَازِنَ لِعِلْمِيَ الْحَسَنَ وَ أُكْمِلُ ذَلِكَ بِابْنِهِ م ح م د رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ عَلَيْهِ كَمَالُ مُوسَي وَ بَهَاءُ عِيسَي وَ صَبْرُ أَيُّوب۔

۔۔۔۔۔ اس سے ایک فرزند دنیا میں آئے گا کہ جس کا نام حسن ہو گا کہ وہ لوگوں کو میری راہ کی طرف دعوت کرے گا اور وہ میرے علم کا خزانے دار ہو گا۔ پھر میں اپنے دین کو اسکے بیٹے، م ح م د ، کہ وہ تمام جہانوں کے لیے رحمت ہو گا، کے ذریعے سے مکمل کروں گا۔ اسکے پاس موسی کا کمال، عیسی کی نورانیت اور ایوب کا سا صبر ہو گا۔

الكليني الرازي، أبو جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج1 ص 527 ، ناشر: اسلاميه ، تهران ، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفي381هـ)، عيون اخبار الرضا (ع)، ج2، ص 50، تحقيق: الشيخ حسين الأعلمي، ناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات ـ بيروت ، 1404هـ ـ 1984م

اس روایت میں حضرت مہدی (ع) کو رحمۃ للعالمین کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے، اب کیسے ہو سکتا ہے کہ جو رحمۃ للعالمین ہو، وہ ہر 1000 بندوں میں سے 999 بندوں کو قتل کرے گا ؟!

ایک دوسری روایت میں علامہ مجلسی نے کتاب الهدايۃ الكبری میں ذکر کیا ہے کہ مفضل ابن عمر اور اس نے امام صادق (ع) سے نقل کیا ہے کہ حضرت مہدی (ع) ظہور فرمانے کے بعد اہل مکہ سے خطاب کریں گے کہ:

فَلَوْ لَا أَنَّ رَحْمَةَ رَبِّكُمْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ ءٍ وَ أَنَا تِلْكَ الرَّحْمَةُ لَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ مَعَكُمْ فَقَدْ قَطَعُوا الْأَعْذَارَ بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ اللَّهِ وَ بَيْنِي وَ بَيْنَهُمْ فَيَرْجِعُونَ إِلَيْهِم .

اگر تمہارے پرودگار کی وسیع رحمت نہ ہوتی کہ جس نے تمام چیزوں کو اپنے احاطے میں لیا ہوا ہے اور میں اس رحمت کا مظہر نہ ہوتا تو، میں خود تمہارے ساتھ انکی طرف پلٹ جاتا، کیونکہ وہ کلی طور پر خداوند سے اور مجھ سے دور ہو گئے ہیں اور ہر طرح کے تعلق کو قطع کر دیا ہے۔

المجلسي، محمد باقر (متوفي 1111هـ)، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، ج 53، ص11، تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر: مؤسسة الوفاء - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية المصححة، 1403هـ - 1983م.

اس روایت کے مطابق حضرت حجت (ع) نے اپنے آپکو خداوند کی وسیع رحمت کا مظہر قرار دیا ہے، لہذا قابل قبول نہیں ہے کہ وہ ہر 1000 بندوں میں سے 999 بندوں کو قتل کریں گے۔

اسی طرح کتب شیعہ میں بہت سی روایات موجود ہیں کہ امام زمان (ع) کے ظہور کرنے کی وجہ سے تمام اہل زمین و آسمان، حتی ہوا میں پرواز کرنے والے پرندے اور پانی میں رہنے والی مچھلیاں سب خوش ہوں گی:

وَ عَنْهُ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ النَّهَاوَنْدِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاسَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبَغْدَادِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ (عَلَيْهِ السَّلَامُ)، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ): كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا اسْتَيْأَسْتُمْ مِنَ الْمَهْدِيِّ، فَيَطْلُعُ عَلَيْكُمْ صَاحِبُكُمْ مِثْلَ قَرْنِ الشَّمْسِ، يَفْرَحُ بِهِ أَهْلُ السَّمَاءِ وَ الْأَرْضِ.

فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَ أَنَّي يَكُونُ ذَلِكَ؟

قَالَ: إِذَا غَابَ عَنْهُمْ الْمَهْدِيُّ، وَ أَيِسُوا مِنْهُ.

رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ نے فرمایا ہے کہ: تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا، جب تم مہدی کے آنے سے مایوس ہو جاؤ، پس اچانک صاحب الزمان مثل نورانی خورشید کے اس طرح ظاہر ہوں گے کہ تمام اہل زمین و اہل آسمان خوشحال ہوں گے۔

رسول خدا سے سوال کیا گیا کہ: یا رسول اللہ ! یہ واقعہ کب رونما ہو گا ؟ انھوں نے فرمایا کہ: جب مہدی غائب ہوں گے اور لوگ انکے آنے سے مایوس ہو جائیں گے۔

الطبري الصغير ، أبو جعفر محمد بن جرير بن رستم (متوفي ق5هـ)، دلائل الإمامة، ص 468، تحقيق و نشر: قسم الدراسات الإسلامية مؤسسة البعثة ـ قم ، الطبعة : الأولي، 1413 هـ..

فيخرج من مكّة متوجّها إلي الشام، يفرح به أهل السماء و أهل الأرض و الطير في الهواء و الحيتان في البحر».

وہ مکہ سے خارج ہو کر شام کی طرف جائیں گے، انکے ظہور فرمانے سے تمام اہل زمین و آسمان، حتی ہوا میں پرواز کرنے والے پرندے اور پانی میں رہنے والی مچھلیاں سب خوش ہوں گی۔

سيد بن طاووس الحسيني ، علي بن موسي بن جعفر بن محمد (متوفي664هـ)، التشريف بالمنن في التعريف بالفتن المعروف بالملاحم و الفتن، ص281، ناشر: مؤسسة صاحب الأمر (عجل الله تعالي فرجه الشريف) ـ قم، الطبعة: اولي، 1416هـ

جواب سوم: حضرت مہدی (ع) قوانين اسلام کو عملی طور پر نافذ کریں گے۔

تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ خداوند کے نزدیک پسندیدہ دین فقط اسلام ہے اور اسی دین کے بارے میں خداوند لوگوں سے قیامت کے دن سوال کرے گا۔ جس طرح کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ:

إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ.

خداوند کے نزدیک دین فقط اسلام ہے۔

سوره آل عمران آيت 19

اور اسی سورہ میں ایک دوسری جگہ پر ہے کہ:

وَ مَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلامِ ديناً فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَ هُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخاسِرينَ.

اور جو بھی اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کو اختیار کرے گا، تو اس سے اسکو قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔

سوره آل عمران آيت 85

دوسری طرف سے خداوند نے قرآن میں بار بار مسلمانوں کو وعدہ دیا ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ دین اسلام پوری دنیا میں پھیل جائے گا اور تمام ادیان پر غالب آ جائے گا۔ جیسا کہ ارشاد ہوا ہے کہ:

هُوَ الَّذي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدي وَ دينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَي الدِّينِ كُلِّهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُون .

وہ ہے کہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے، تا کہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کرے، اگرچہ یہ کام مشرکین کو پسند نہ بھی ہو تو۔

سورہ توبہ آیت33  سورہ صف آیت 9

ایک دوسری جگہ پر ارشاد ہوا ہے کہ:

هُوَ الَّذي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدي وَ دينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَي الدِّينِ كُلِّهِ وَ كَفي بِاللَّهِ شَهيداً.

وہ ہے کہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے، تا کہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کرے، اور اس کام کے لیے خداوند کا ہی گواہ ہونا کافی ہے۔

سوره فتح آيت 28

شیعہ اور اہل سنت کی روایات کے مطابق خداوند کا یہ وعدہ، حضرت مہدی (ع) کے ظہور کے زمانے میں عملی طور پر پورا ہو گا اور وہ امام ہی دین اسلام کو تمام ادیان پر غالب کریں گے اور پوری دنیا میں فقط شریعت خالص محمدی کی اتباع اور اس پر عمل کیا جائے گا۔

اہل سنت کے علماء نے مفسر بزرگ اسلام سدّی سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

وقال السُدِّي : ذلك عند خروجِ المهديِّ ، لا يَبقي أحدٌ إلا دَخَلَ في الإسلامِ أو أدَّي الخِراجَ .

سدّی نے کہا ہے کہ: یہ کام عملی طور پر ظہور مہدی کے زمانے میں انجام پائے گا کہ تمام کے تمام لوگ دین اسلام کی پیروی کریں گے یا جزیہ دیں گے ( وہ مال جو کفار سرزمین اسلام میں رہنے کے عوض میں ادا کرتے ہیں)

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج16 ، ص33، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1421هـ - 2000م.

الأنصاري القرطبي، ابو عبد الله محمد بن أحمد (متوفي671هـ)، الجامع لأحكام القرآن، ج8 ، ص121، ناشر: دار الشعب - القاهرة.

اسی طرح مفسر بزرگ اہل سنت،  آلوسی نے بھی اپنی تفسير میں لکھا ہے کہ:

(ويكون الدين كله لله) وتَضْمَحِلُّ الأديانُ الباطِلةُ كُلُّها إما بهلاكِ أهلِها جميعاً أو برجُوعِهم عنها خَشْيَةَ القتلِ قيل : لم يجيءْ تأويلُ هذه الآيةِ بعدَ وَسَيَتَحَقَّقُ مَضمُونُها إذا ظَهَر المهديُّ فإنه لا يَبقي علي ظَهْرِ الأرضِ مشركٌ أصلاً.

(اور تمام دین خدا کے لیے ہو گا) یعنی تمام باطل و گمراہ ادیان ختم ہو جائیں گے، یا ان ادیان کی پیروی کرنے والے تمام ہلاک ہو جائیں گے یا قتل ہونے کے ڈر سے باطل دین سے جدا ہو جائیں گے۔ کہا گیا ہے کہ اس آیت کی عملی تفسیر اس وقت مکمل نہیں ہو گی، جب تک مہدی ظاہر نہ ہوں گے، کیونکہ اس زمانے میں کوئی مشرک بھی زمین پر باقی نہیں رہے گا۔

الآلوسي البغدادي الحنفي، أبو الفضل شهاب الدين السيد محمود بن عبد الله (متوفي1270هـ)، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، ج9، ص207، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

یہاں تک ثابت ہو گیا کہ حضرت مہدی (ع) اسلامی قوانین کو پوری دنیا میں نافذ فرمائیں گے۔

اسکے علاوہ ہم جانتے ہیں کہ خداوند نے دین اسلام کو بشریت کے فاسد و نابود کرنے کے لیے نہیں بھیجا اور قرآن کریم کہ اسلامی احکام اور قوانین پر مشتمل ایک کتاب ہے، اس کتاب میں کسی کو بھی حکم نہیں دیا گیا کہ تم بشریت کو نابود کرو اور تمام انسانوں کو قتل کر دو، بلکہ اسکے برعکس دین اسلام انسانیت کی ہدایت اور انکو نجات دینے والا دین ہے اور انسان کو کمال کی معراج تک پہنچانے والا مذہب ہے۔

رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ حتی اپنے مخالفوں سے بھی برا سلوک نہیں کرتے تھے، اپنی رسالت و نبوت کے 23 سال کے عرصے میں آپ نے کسی کو اسلام کے قبول نہ کرنے کی وجہ سے ، قتل نہیں کیا اور آپ نے کفار اور مشرکین سے جتنی بھی جنگیں کیں ہیں، وہ سب کی سب اپنے اور اسلام کے دفاع کے لیے کیں تھیں، یعنی ان تمام جنگوں کو پہلے آپ کے اور اسلام کے دشمنوں نے شروع کیا تھا اور آپ پر حملہ آور ہوئے تھے۔ آپ نے فقط اپنے، مسلمین اور اسلام کے دفاع کے لیے تلوار اٹھائی تھی۔

اب کیسے ممکن ہے کہ حضرت مہدی (ع) ، کہ جو اسلامی احکام و قوانین کو عملی طور پر نافذ کرنے کے لیے ظہور کریں گے، دین اسلام کو تمام ادیان پر غالب فرمائیں گے، خود رسول خدا (ص) سے شبیہ ترین انسان ہوں گے، رحمۃ للعالمین ہوں گے، ایسی رحمت کے مالک ہوں گے کہ جو دوست اور دشمن کو شامل ہو گی، تمام انسانوں کو قتل کریں گے اور ہر 1000 بندوں میں سے فقط ایک بندے کو زندہ چھوڑیں گے ؟!

جواب چہارم: حضرت مہدی (ع) بہت سے شہروں کو بغیر جنگ کیے ہی فتح کر لیں گے۔

بعض روایات کے مطابق حضرت مہدی (ع) اس زمانے میں ظہور فرمائیں گے کہ جب لوگوں کی عقل بہت زیادہ ترقی کر چکی ہو گی اور وہ اپنی پختہ عقل کے ذریعے حق اور باطل کے درمیان بڑی آسانی سے فرق کرنے کی حالت میں پہنچ چکے ہوں گے۔

شيخ كلينی نے كتاب شريف كافی اور شيخ صدوق نے كتاب كمال الدين میں امام باقر عليہ السلام سے نقل کیا ہے کہ امام نے فرمایا ہے کہ:

إِذَا قَامَ قَائِمُنَا وَضَعَ اللَّهُ يَدَهُ عَلَي رُءُوسِ الْعِبَادِ فَجَمَعَ بِهَا عُقُولَهُمْ وَ كَمَلَتْ بِهِ أَحْلَامُهُمْ .

جب قائم ظہور کریں گے تو اپنے ہاتھوں کو لوگوں کے سروں پر پھیریں گے تو اسکے ذریعے سے انکی عقلیں و افکار کامل ہو جائیں گی۔

الكليني الرازي، أبو جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج1، ص 25، ناشر: اسلاميه ، تهران ، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفي381هـ)، كمال الدين و تمام النعمة، ص 675، تحقيق: علي اكبر الغفاري، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامي ( التابعة ) لجماعة المدرسين ـ قم، 1405هـ .

اور یہ طبیعی و واضح سی بات ہے کہ جب لوگوں کی عقل کامل و پختہ ہو جائے گی تو وہ آسانی سے اپنے نفع و نقصان کو پہچان لیا کریں گے اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا کریں گے۔

ان روایات پر توجہ کرتے ہوئے، حضرت مہدی (ع) کو عدالت کے برقرار کرنے کے لیے زیادہ جنگ اور قتل و غارت کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، کیونکہ اس زمانے کے لوگوں کی عقل کامل و پختہ ہو چکی ہو گی اور جب وہ جان لیں گے کہ ان امام کی ولایت کو قبول کرنے میں کتنا انکا فائدہ ہے تو بہت آرام سے اور بغیر جنگ کے حضرت مہدی (ع) کی امامت و ولایت کے سامنے تسلیم ہو جائیں گے۔

اسی وجہ سے شیعہ اور اہل سنت کی کتب میں روایات موجود ہیں کہ امام زمان (ع) بعض علاقوں کو جنگ کیے بغیر فتح کر لیں گے۔

سيد ابن طاؤوس نے اپنی کتاب الملاحم و الفتن میں نعیم ابن حماد مروزی سے، اور جلال الدين سيوطی نے بھی اسی نعیم سے نقل کیا ہے اور خود نعیم ابن حماد نے امير المؤمنین علی عليہ السلام سے نقل کیا ہے کہ ان حضرت نے فرمایا ہے کہ:

إذا بعث السفياني إلي المهدي جيشا فخسف بهم بالبيداء ، وبلغ ذلك أهل الشام ، قالوا لخليفتهم : قد خرج المهدي فبايعه وادخل في طاعته وإلا قتلناك ، فيرسل إليه بالبيعة ، ويسير المهدي حتي ينزل بيت المقدس ، وتنقل إليه الخزائن ، وتدخل العرب والعجم وأهل الحرب والروم وغيرهم في طاعته من غير قتال حتي تبني المساجد بالقسطنطينية وما دونها.

جب سفیانی ایک لشکر کو مہدی کے ساتھ مقابلے کے لیے روانہ کرے گا تو وہ لشکر بیداء کے مقام پر زمین میں دھنس گیا۔ جب اس واقعے کی خبر اہل شام کو ملی تو اس لشکر کے آگے آگے چلنے والے دستے نے کہا کہ مہدی کا ظہور ہو گیا ہے، اب تم کو اسکی بیعت اور اطاعت کرنا ہو گی، ورنہ ہم تم کو قتل کر دیں گے۔ اسی وجہ سے وہ حضرت مہدی کی بیعت کر لیں گے۔

حضرت مہدی (عج) وہاں سے چلیں گے تا کہ بیت المقدس میں داخل ہوں اور وہاں کے خزانوں کو اپنے اختیار میں لے لیں گے، اس موقع پر عرب، عجم، جنگجویان، رومیان اور بہت سے دوسرے گروہ حضرت کی اطاعت کریں گے اور اس صورت میں کوئی جنگ و جدال انجام نہیں پائے گا اور وہاں قسطنطینیہ (استنبول) و دوسرے علاقوں میں مسجدیں بھی تعمیر کریں گے۔

سيد بن طاووس الحسيني ، علي بن موسي بن جعفر بن محمد (متوفاي664هـ)، التشريف بالمنن في التعريف بالفتن المعروف بالملاحم و الفتن، ص 139، ناشر: مؤسسة صاحب الأمر (عجل الله تعالي فرجه الشريف) ـ قم، الطبعة: اولي، 1416هـ

المروزي، أبو عبد الله نعيم بن حماد (متوفاي288هـ) ، كتاب الفتن ، ج1، ص349، تحقيق : سمير أمين الزهيري ، ناشر : مكتبة التوحيد - القاهرة ، الطبعة : الأولي ، 1412هـ.

السيوطي، جلال الدين أبو الفضل عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفاي911هـ)، الحاوي للفتاوي في الفقه وعلوم التفسير والحديث والاصول والنحو والاعراب وسائر الفنون، ج2، ص69، تحقيق: عبد اللطيف حسن عبد الرحمن، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1421هـ - 2000م.

الهيثمي، ابوالعباس أحمد بن محمد بن علي ابن حجر (متوفاي973هـ)، الفتاوي الحديثية، ج1، ص30، ناشر: دار الفكر، طبق برنامه الجامع الكبير.

اسی طرح شیعہ عالم علی ابن يونس عاملی نے امیر المؤمنین علی (ع) سے نقل کیا ہے کہ: امام زمان (ع) بعض شہروں کو فقط تکبیر کہنے کے ساتھ ہی فتح کر لیں گے اور لوگ حضرت مہدی  (ع)کی تکبیر کی آواز سن کر حق کے سامنے تسلیم ہو جائیں گے اور انکی حکومت و ولایت کو قبول کر لیں گے۔

وعن أمير المؤمنين عليه السلام لا تبقي مدينة دخلها ذو القرنين إلا دخلها المهدي ويأتي إلي مدينة فيها ألف سوق في كل سوق مائة دكان ، فيفتحها ويأتي مدينة يقال لها القاطع علي البحر المحيط ، طولها ألف ميل وعرضها خمسمائة ميل ، فيكبرون الله ثلاثا فتسقط حيطانها ، فيخرج منها ألف ألف مقاتل ثم يتوجه إلي القدس الشريف.

اميرالمؤمنین علی عليہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ: ذوالقرنین جس جس شہر میں بھی داخل ہو گا، مہدی بھی اسی شہر میں داخل ہوں گے۔ وہ ایسے شہر میں داخل ہوں گے کہ جس میں ایک ہزار بازار اور ہر بازار میں سو سو دکانیں ہوں گی۔ پس وہ حضرت اس شہر کو فتح کریں گے اور ایک ایسے شہر میں داخل ہوں گے کہ کہا جاتا ہے کہ وہ شہر قاطع بحر محیط ہے کہ جو شہر شیعہ روایات کے مطابق دریائے نیل کے کنارے پر واقع ہے۔ اس شہر کا طول ایک ہزار میل اور عرض پانچ سو میل ہے۔

حضرت مہدی کے لشکر والے جب تین بار تکبیر کہیں گے کہ جسکی گونج سے اس شہر کی دیواریں گر جائیں گی اور پھر  اس سے دس لاکھ جنگجو نکلیں گے، پھر حضرت بیت المقدس کی طرف حرکت شروع کر دیں گے۔

العاملي النباطي ، الشيخ زين الدين أبي محمد علي بن يونس (متوفي877هـ) الصراط المستقيم إلي مستحقي التقديم، ج2، ص257، تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر : المكتبة المرتضوية لإحياء الآثار الجعفرية، الطبعة الأولي، 1384هـ

اس روایت کے مطابق شہروں کو فتح کرنے کے لیے حضرت مہدی (ع) کا اسلحہ کوئی شمشیر اور بندوقیں وغیرہ نہیں ہے، بلکہ خداوند ان حضرت کو ایسی طاقت اور قدرت عطا کرے گا کہ وہ فقط تکبیر کہنے کے ساتھ ان علاقوں کو فتح کر لیں گے۔

جواب پنجم: ظالمین اور مفسدین اتنی آسانی سے مغلوب و قابو میں نہیں آئیں گے۔

طول تاریخ میں یہ بات حتمی و عملی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ ظالمین، مفسدین اور مجرمین اتنی آسانی سے دنیاؤی منافع سے ہاتھ نہیں اٹھاتے۔ ایسے ظالم و جابر کہ جہنوں نے ایک عمر انسانوں کے حقوق کو غصب کیا ہو، انکے خون کو چوسا ہو، واضح ہے کہ جب وہ جان لیتے ہیں کہ حضرت مہدی (ع) کے ظہور کرنے کے بعد انکے دنیاؤی منافع اور تخت و تاج خطرے میں پڑ جائیں گے، تو اسی وجہ سے ان حضرت کے سامنے ڈٹ جائیں گے۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت مہدی (ع) عدالت عمومی کو نافذ، ظالموں و غاصبوں سے غصب شدہ اموال کو واپس لینے اور غریبوں و کمزروں کو نجات دینے کے لیے ضرورت کے مطابق ان ظالموں اور غاصبوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور انکے سامنے اپنی قدرت و طاقت کو استعمال کریں گے۔

ابن عربی محيی الدين عالم بزرگ اہل سنت نے اس بارے میں لکھا ہے کہ:

ولولا أن السيف بيد المهدي لأفتي الفقهاء بقتله ولكن اللّه يظهره بالسيف والكرم فيطمعون ويخافون فيقبلون حكم من غير إيمان بل يضمرون خلافه كما يفعل الحنفيون والشافعيون فيما إختلفوا فيه فلقد أخبرنا أنهم يقتتلون في بلاد العجم أصحاب المذهبين ويموت بينهما خلق كثير ويفطون في شهر رمضان ليتقووا علي القتال فمثل هؤلاء لولا قهر الإمام المهدي بالسيف ما سمعوا له ولا أطاعوه.

اگر مہدی کے ہاتھ تلوار نہ ہو تو (دین فروش و درباری) فقہاء انکے قتل کا فتوی دیں گے، لیکن خداوند انکو شمشیر اور کرم کے ساتھ ظاہر کرے گا، تا کہ وہ امید میں بھی آ جائیں اور ڈریں بھی اور اس طرح وہ ان حضرت کی اطاعت کریں گے، اگرچہ وہ لوگ ان حضرت ایمان نہیں لائیں گے اور انکی مخالفت و نافرمانی کو اپنے دلوں میں مخفی کریں گے، جیسا کہ حنفی اور شافعی لوگوں نے اپنے آپس میں اختلافات کے وقت انجام دیا تھا۔

ہمیں خبر ملی ہے کہ انھوں نے عجم کے شہروں میں آپس میں جنگ کی تھی اور اس جنگ میں بہت سے افراد قتل ہوئے تھے، یہاں تک کہ بعض نے ماہ رمضان میں روزے کو افطار کرنے کا فتوی دیا تا کہ جنگ کرنے کے لیے انکی طاقت اور قدرت کم نہ ہو۔

ان جیسے افراد کے سامنے اگر حضرت مہدی شمشیر کے ساتھ قیام نہ کریں تو یہ لوگ نہ انکی بات سنیں گے اور نہ ہی انکی اطاعت کریں گے۔

ابن العربي الطائي الخاتمي ، محيي الدين بن علي بن محمد (متوفي638هـ)، الفتوحات المكية في معرفة الاسرار الملكية ، ج3، ص327، ناشر : دار إحياء التراث العربي - لبنان ، الطبعة : الأولي 1418هـ ـ 1998م.

جواب ششم: وہ قتل و غارت کہ جو خلفاء کے زمانے میں کیے گئے:

وہابی علماء اور مکتب سقیفہ کی پیروی کرنے والے اس طرح کی ضعیف روایات سے استدلال کر کے فقط اور فقط یہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کو حضرت مہدی (ع) سے بد ظنّ کر سکیں۔ ان وہابیوں کو اگر انسانیت کی جان کی اتنی فکر ہے تو انکو دشمنی و بغض کے لیے رسول خدا (ص) کے فقط اہل بیت ہی نظر آئيں ہیں یا انکو اپنے پہلے تین خلفاء کا قتل و غارت بھی نظر آتا ہے یا نہیں ؟

حضرت مہدی عجل الله تعالی فرجہ الشريف تو معاشرے میں عمومی عدالت کو نافذ کرنے کے لیے ظالمین اور مفسدین کہ جو حق کے سامنے تسلیم نہیں ہوں گے، ان سے اسلام اور مسلمانوں کے لیے جنگ کریں گے، لیکن تین خلفاء نے کس ہدف و مقصد کی خاطر مسلمانوں کا قتل عام کیا ؟

تین خلفاء کی 25 سالہ دور حکومت میں ان خلفاء نے اپنے ہمسایہ ملکوں میں ایسی قتل و غارت کی کہ انسانیت کی تاریخ میں اسکی کوئی مثال نہیں ملتی۔

ہم یہاں پر اس قتل و غارت کے فقط چند نمونے ذکر کرتے ہیں اور فیصلہ ان مطالب کے محترم پڑھنے والوں پر چھوڑتے ہیں !

1. جنگ ذات العيون (سال 12ہجری، ابوبكر کے دور میں)

خالد ابن ولید کہ اہل سنت جسکو سیف اللہ کے لقب سے دن رات یاد کرتے رہتے ہیں اور اس دو نمبر سیف کو اتنا یاد کیا ہے کہ خداوند کی اصل ذوالفقار کو بھول گئے ہیں، اور یہی خالد ابن ولید پہلے خلیفہ کا سیدھا بازو شمار ہوتا تھا۔ اسی خالد نے جنگ فتح الانبار میں اپنے تیر برسانے والے دستے کو حکم دیا کہ اب لوگوں کی آنکھوں کو اپنے تیروں کا ہدف قرار دو، اور انھوں نے اس دن پورے ایک ہزار بندوں کو اندھا کیا اور اسی وجہ سے یہ جنگ، جنگ ذات العیون (آنکھوں والی جنگ) مشہور ہوئی۔

قَدِمَ خَالِدٌ عَلَي الْمُقَدِّمَةِ، فَأَطَافَ بِالْخَنْدَقِ وَأَنْشَبَ الْقِتَالَ، وَكَانَ قَلِيلَ الصَّبْرِ عَنْهُ إِذَا رَآهُ أَوْ سَمِعَ بِهِ، وَتَقَدَّمَ إِلَي رُمَاتِهِ فَأَوْصَاهُمْ، وَقَالَ: إِنِّي أَرَي أَقْوَامًا لا عِلْمَ لَهُمْ بِالْحَرْبِ، فَارْمُوا عُيُونَهُمْ وَلا تَوَخُّوا غَيْرَهَا، فَرَمَوْا رَشْقًا وَاحِدًا ثُمَّ تَابَعُوا فَفُقِئَ أَلْفُ عَيْنٍ يَوْمَئِذٍ، فَسُمِّيَتْ تِلْكَ الْوَقْعَةُ ذَاتَ الْعُيُونِ، وَتَصَايَحَ الْقَوْمُ: ذَهَبَتْ عُيُونُ أَهْلِ الأَنْبَارِ.

خالد لشکر کے آگے آگے چلتا ہوا آیا اور وہ خندق کے ارد گرد چکر لگاتا تھا اور جنگ کی آگ کو شعلہ ور کرتا تھا، وہ (خالد) جب بھی ایک جنگ کو دیکھتا تھا یا جنگ کے بارے میں سنتا تھا تو جنگ کرنے کے لیے اسکا شوق بڑھ جاتا تھا، اسی لیے وہ اپنے تیر بردار دستے کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ:

میں مجھے لگتا ہے کہ انکو جنگ کرنا نہیں آتی، تم انکی آنکھوں کو اپنے تیروں کا ہدف قرار دو اور کسی دوسری جگہ پر اپنے تیر ضائع نہ کرنا، اتنا کہہ کر پہلے اس نے ایک تیر چلایا اور اسکے بعد اسکے لشکر نے تیروں کی بارش برسا دی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ہزار آنکھوں کو انھوں نے اپنا ہدف قرار دیا۔ اسی وجہ سے اس دن کا نام ذات العیون پڑ گیا، لوگ اس دن فریاد دیتے تھے کہ انبار کے لوگ اندھے ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔

الطبري، أبو جعفر محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب (متوفي310)، تاريخ الطبري، ج2 ، ص323، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت.

ابن اثير نے اپنی کتاب الكامل في التاريخ میں لکھا ہے کہ:

ذِكْرُ فَتْحِ الأنْبَارِ ثُمَّ سَارَ خَالِدٌ علي تَعْبِيَتِهِ إلي الأنبار، وأنما سمي الأنبار لأن أهراء الطعام كانت بها أنابير، وعلي مقدمتِه الأقرع بن حابس. فلما بَلَغَها أطاف بها، وأنْشَبَ القتالَ، وكان قليلُ الصبرِ عنه وتَقَدَّم إلي رُمَاتِهِ أن يَقْصُدُوا عُيونَهُم فَرَمَوْا رَشْقًا وَاحِدًا ، ثم تابعوا فأصابُوا ألفَ عينٍ، فَسُمِّيَتْ تِلْكَ الْوَقْعَةُ ذَاتَ الْعُيُونِ.

جب شہر انبار فتح ہو گیا تو خالد کو اس شہر کے انتظامات کرنے کا حکم دیا گیا ( اس شہر میں مختلف کھانے کی چیزوں کے گودام ہونے کی وجہ سے شہر انبار کہا جاتا تھا) لشکر کے آگے آگے ایک اقرع ابن جابس نامی شخص تھا، اس نے اس شہر کے پاس پہنچتے ہی اسکا محاصرہ کر لیا اور جنگ کی آگ کو بڑھکا دیا۔ وہ ایک بے حوصلہ انسان تھا، اس نے تیروں والے دستے کو لشکر کے آگے لے جا کر حکم دیا کہ لوگوں کی آنکھوں پر تیر برساؤ اور خود اس نے پہلا تیر چلایا، اسکے بعد اسکے لشکریوں نے ایک ہزار بندوں کی آنکھوں کو ہدف قرار دیا، اسی وجہ سے اس جنگ کو ذات العیون کہا جاتا ہے۔

الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفي630هـ) الكامل في التاريخ، ج2، ص245، تحقيق عبد الله القاضي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة الثانية، 1415هـ

اور شہاب الدين نويری نے کتاب نهايۃ الأرب في فنون الأدب ميں لکھا ہے کہ:

ذكر فتح الأنبار. قال: ثم سار خالد إلي الأنبار، وإنما سميت الأنبار، لأن أهراء الطعام كانت بها أنابير، وكان علي من بها من الجند شيرزاد صاحب ساباط، فلما التقوا أمر خالد رامته برشق السهام، وأن يقصدوا عيونهم، فرشقوا رشقاً واحداً، ثم تابعوا، فأصابوا ألف عين، فسميت هذه الواقعة ذات العيون.

داستان فتح الأنبار، پھر خالد نے انبار کی طرف حرکت کی، اس شہر میں مختلف کھانے کی چیزوں کے گودام ہونے کی وجہ سے شہر انبار کہا جاتا تھا، اس شہر کے نگہبان شیرزاد صاحب ساباط کے لشکر میں سے تھے۔ جب انکا خالد کے ساتھ آمنا سامنا ہوا تو خالد نے حکم دیا کہ انکی طرف تیر برساؤ اور انکی آنکھوں کو اپنا ہدف قرار دو، اتنا کہہ کر پہلے اس نے ایک تیر چلایا اور اسکے بعد اسکے لشکر نے تیروں کی بارش برسا دی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ہزار آنکھوں کو انھوں نے اپنا ہدف قرار دیا۔ اسی وجہ سے اس جنگ کا نام ذات العیون پڑ گیا۔

النويري، شهاب الدين أحمد بن عبد الوهاب (متوفي733هـ)، نهاية الأرب في فنون الأدب، ج19، ص70، تحقيق مفيد قمحية وجماعة، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1424هـ - 2004م.

ابن كثير نے بھی کتاب البدايۃو النہايۃ ميں کہا ہے کہ:

فتح خالد للأنبار، وتسمي هذه الغزوات ذات العيون ركب خالد في جيوشه فسار حتي انتهي إلي الأنبار وعليها رجل من أعقل الفرس وأسودهم في أنفسهم، يقال له شيرزاذ، فأحاط بها خالد وعليها خندق وحوله أعراب من قومهم علي دينهم، واجتمع معهم أهل أرضهم، فمانعوا خالدا أن يصل إلي الخندق فضرب معهم رأسا، ولما تواجه الفريقان أمر خالد أصحابه فرشقوهم بالنبال حتي فقأوا منهم ألف عين، فتصايح الناس، ذهبت عيون أهل الأنبار، وسميت هذه الغزوة ذات العيون.

خالد نے انبار شہر کو فتح کیا اور اس جنگ کا نام ذات العیون رکھا گیا۔ خالد اپنی سواری پر سوار ہو کر شہر کے آخر تک گیا اور فارس کا ایک عقل مند شخص شیرزاد بھی اسکے ساتھ تھا۔ خالد نے شہر انبار کا محاصرہ کر لیا، لیکن اس شہر کے لوگوں نے شہر کے اردگرد ایک خندق کھودئی ہوئی تھی۔ کچھ عرب اس خندق کے پاس جمع ہوئے تھے ، تا کہ وہاں پر زمین کے مالکوں کے ساتھ مل کر خالد کے لشکر کو شہر میں داخل ہونے سے روکیں۔

خالد نے حکم دیا کہ ان میں سے صرف ایک بندے کو ایک طرف کر دیں، پھر حکم دیا کہ لوگوں پر تیروں کی بارش کر دو، اسی وجہ سے ایک ہزار لوگوں کی آنکھیں اندھی کر دی گئیں۔ وہاں پر موجود لوگوں کی چیخ و پکار آسمان تک پہنچنے لگیں کہ لوگوں کو اندھا کر دیا گیا، لوگوں کو اندھا کر دیا گیا۔۔۔۔۔۔ اسی وجہ سے اس جنگ کا نام ذات العیون رکھ دیا گیا۔

ابن كثير الدمشقي، إسماعيل بن عمر ابو الفداء القرشي (متوفي774هـ)، البداية والنهاية، ج6، ص349، ناشر: مكتبة المعارف - بيروت.

اہل سنت سے ہمارا یہ سوال ہے کہ: خداوند نے قرآن میں کس جگہ فرمایا ہے کہ اگر کوئی دین اسلام کو قبول نہ کرے تو اسکی آنکھوں کو اندھا کر دو ؟!

کیا اسطرح کے اعمال رسول خدا (ص) کے دور میں بھی انجام دئیے گئے تھے یا پھر یہ عمر کی ایجاد کردہ بدعتوں میں سے ایک بدعت تھی ؟

2. صرف ایک قسم کی خاطر 70 ہزار بندوں کو قتل کیا گیا اور خون کی ندیاں بہائی گئیں (سال 12ہجری، ابوبكر کے دور میں)

طبری نے اپنی تاریخ کی کتاب میں، ابن اثیر جزری نے اپنی کتاب الكامل في التاريخ میں ، نويری نے کتاب نہايۃ الأرب میں ، ابن كثير دمشقی نے کتاب البدايۃ و النہايۃ میں اور ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں ان مطالب کو نقل کیا ہے کہ خالد نے قسم کھائی کہ اگر مشرکین اسکے ہاتھ آ گئے تو وہ خون کی ندیاں بہا دے گا، فقط خالد کی اسی قسم کی خاطر 70 ہزار بندوں کو قتل کر دیا گیا۔ ہم اس روایت کی عبارت کو ابن اثیر کی زبان سے نقل کرتے ہیں:

واقتتلوا قتالا شديدا والمشركون يزيدهم كلبا وثبوتا توقعهم قدوم بهمن جاذويه فصابروا المسلمين فقال خالد اللهم إن هزمتهم فعلي أن لا أستبقي منهم من أقدر عليه حتي أجري من دمائهم نهرهم فانهزمت فارس فنادي منادي خالد الأسراء الأسراء إلا من امتنع فاقتلوه فأقبل بهم المسلمون أسراء ووكل بهم من يضرب أعناقهم يوما وليلة.

فقال له القعقاع وغيره لو قتلت أهل الأرض لم تجر دماؤهم فأرسل عليها الماء تبر يمينك ففعل وسمي نهر الدم ... وبلغ عدد القتلي سبعين ألفا.

شدید جنگ شروع ہو گئی، مشرکین بہت طاقت اور استقامت کا مظاہرہ کر رہے تھے اور وہ بہمن جاذويہ کے آنے کا انتظار کر رہے تھے، مسلمان بھی بہادری سے استقامت کر رہے تھے، خالد نے کہا: خدایا اگر میں نے انکو شکست دے دی تو قسم کھاتا ہوں کہ جو جو بھی میرے ہاتھ آ گيا، میں اسکو نہیں چھوڑوں گا، مگر یہ کہ میں خون کی ندیاں بہا دوں گا۔

اہل فارس کو شکست ہو گئی، خالد کے لشکر میں سے ایک بندے نے چیخ کر کہا قیدیوں کو پکڑ لو اور جو بھی مقابلہ و مزاحمت کرے تو اسکو قتل کر دو، پس مسلمانوں نے انکو اسیر کر لیا اور دن رات ان لوگوں کے سر قلم کرنے کے لیے کچھ افراد کا ذمہ لگا دیا۔

قعقاع وغیرہ نے خالد سے کہا کہ تم اگر زمین پر موجود تمام انسانوں کو بھی قتل کر دو تو پھر بھی خون کی ندی نہیں بہے گی، لہذا اس خون پر پانی ڈالو تا کہ خون کی ندی بن کر بہہ جائے اور تم بھی اپنی کھائی ہوئی قسم سے آزاد ہو جاؤ، خالد نے یہی کام کیا اور اس ندی کا نام ، خون کی ندی، رکھا گیا۔ اس دن فقط خالد کی قسم کی خاطر 70 ہزار انسانوں کو قتل کیا گیا۔

الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفي630هـ) الكامل في التاريخ، ج2 ، ص242، تحقيق عبد الله القاضي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة الثانية، 1415هـ؛

الطبري، أبو جعفر محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب (متوفي310)، تاريخ الطبري، ج2 ، ص313، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت؛

النويري، شهاب الدين أحمد بن عبد الوهاب (متوفي733هـ)، نهاية الأرب في فنون الأدب، ج19 ، ص68، تحقيق مفيد قمحية وجماعة، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1424هـ - 2004م؛

ابن كثير الدمشقي، ابوالفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفي774هـ)، البداية والنهاية، ج6 ، ص346، ناشر: مكتبة المعارف - بيروت؛

إبن خلدون الحضرمي، عبد الرحمن بن محمد (متوفي808 هـ)، مقدمة ابن خلدون، ج2 ، ص509، ناشر: دار القلم - بيروت - 1984، الطبعة: الخامسة.

3. ایک دن میں 30 ہزار بندوں کو قتل کیا گیا (سال 12ہجری، ابوبكر کے دور میں)

ذكر وقعة الثنی

لما وصل كتاب هرمز إلي أردشير بخبر خالد أمده بقارن بن قريانس فخرج قارن من المدائن ممد الهرمز فلما انتهي إلي المذار لقيته المنهزمون فاجتمعوا ورجعوا ومعهم قباذ وأنوشجان ونزلوا الثني وهو النهر وسار إليهم خالد فلقيهم واقتتلوا فبرز قارن فقتله معقل بن الأعشي بن النباش وقتل عاصم أنوشجان وقتل عدي بن حاتم قباذ وكان شرف قارن قد انتهي ولم يقاتل المسلمون بعده أحدا انتهي شرفه في الأعاجم وقتل من الفرس مقتلة عظيمة يبلغون ثلاثين ألفا سوي من غرق ومنعت المياه المسلمين من طلبهم.

جنگ ثنی :

جب ہرمز کا خط اردشیر کو ملا اور خالد کی بھیجی ہوئی خبر کو اسکو دیا تو، اس نے قارن بن قريانس کو حکم دیا کہ مدائن سے ہرمز کی مدد کے لیے جائے۔ پس جب وہ مذار کے مقام پر پہنچا، تو وہاں پر شکست خوردہ لشکر بھی پہنچ گیا، سب وہاں پر جمع ہوئے اور دوبارہ واپس پلٹ آئے ، قباد اور انوشجان بھی انکے ساتھ تھے اور انھوں نے وہاں پر موجود ایک ثنی نام کی نہر کے پاس قیام کیا۔

خالد انکی طرف گیا اور انکے ساتھ جنگ کی، قارن جنگ کے لیے آیا، لیکن معقل ابن اعشی ابن نباش نے اسکو قتل کر دیا، عاصم نے بھی انوشجان کو قتل کیا اور عدی ابن حاتم نے قباد کو قتل کر دیا، اور ایرانیوں کے بہت سے گروہوں میں سے  30000 اشخاص کو بھی قتل کیا گیا !

الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاي630هـ) الكامل في التاريخ، ج2 ، ص240، تحقيق عبد الله القاضي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة الثانية، 1415هـ.؛

النويري، شهاب الدين أحمد بن عبد الوهاب (متوفاي733هـ)، نهاية الأرب في فنون الأدب، ج19 ، ص68، تحقيق مفيد قمحية وجماعة، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1424هـ - 2004م.

صرف ایک رات کی جنگ میں 30000 افراد کو قتل کیا گیا، اسکے علاوہ بھی بہت سے افراد فرار کرتے ہوئے پانی میں غرق ہو گئے تھے۔

4. ایک دن میں ایک لاکھ بندوں کو قتل کیا گیا (سال 14ہجری، عمر کے دور میں)

ابن اثير نے عمر کی ایرانیوں کے ساتھ جنگوں کے بارے میں لکھا ہے کہ:

فما كانت بين المسلمين والفرس وقعة أبقي رمة منها بقيت عظام القتلي دهرا طويلا وكانوا يحزرون القتلي مائة ألف.

کوئی بھی جنگ مسلمانوں اور ایرانیوں کے درمیان نہیں ہوئی تھی کہ جس میں اس جنگ کی طرح جنازے زمین پر ہر طرح بکھرے ہوئے تھے، اس جنگ میں قتل ہونے والوں کے جسم کی ہڈیاں کافی عرصہ تک زمین پر پڑی رہیں، اس میں ایک لاکھ، 100000 افراد کو قتل کیا گیا تھا !

ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفي630هـ) الكامل في التاريخ، ج2 ، ص290، باب ذكر وقعة البويب ، تحقيق عبد الله القاضي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة الثانية، 1415هـ.

ابو عبد الله حميری نے بھی اسی طرح کے مطلب کو نقل کیا ہے:

الحميري ، أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عبد المنعم (متوفي بعد 866 هـ) ، صفة جزيرة الأندلس منتخبة من كتاب الروض المعطار في خبر الأقطار ، ج1 ، ص117، تحقيق : إ . لافي بروفنصال ، ناشر : دار الجيل - بيروت / لبنان ، الطبعة : الثانية ، 1408 هـ ـ 1988م.

5. ایک دن میں 40 ہزار بندوں کو قتل کیا گیا (سال 14ہجری، عمر کے دور میں)

طبری نے اپنی تاريخ کی کتاب میں، ابن اثير جزری نے كتاب الكامل في التاريخ میں ، كلاعی اندلسی نے کتاب الإكتفاء میں اور نويری نے کتاب نہايۃ الأرب ميں لکھا ہے کہ:

فأما المقترنون فإنهم جشعوا فتهافتوا في العتيق فوخزهم المسلمون برماحهم فما أفلت منهم مخبر وهم ثلاثون ألفا وأخذ ضرار بن الخطاب درفش كابيان ... وقتلوا في المعركة عشرة آلاف سوي من قتلوا في الأيام قبله.

انکا لشکر احتیاط فرار کر گیا اور ایک نا منظم طریقے سے صحرا میں منتشر ہو گیا، مسلمانوں نے ان پر تیر برسائے، اس طرح کہ ان میں سے ایک بھی بندہ زندہ نہ بچا اور اس دن 30000 بندوں کو قتل کیا گیا !

اسکے بعد ضرار ابن خطاب نے پرچم کو اٹھا لیا۔۔۔۔۔ اس جنگ میں 10،000 بندوں کو قتل کیا گیا، ان دس ہزار بندوں کے علاوہ بھی بعد والے دنوں میں لوگوں کی بڑی تعداد کو قتل کیا گیا !

الطبري، أبو جعفر محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب (متوفي310)، تاريخ الطبري، ج2، ص242، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت؛

ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفي630هـ) الكامل في التاريخ، ج2 ، ص330، تحقيق عبد الله القاضي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة الثانية، 1415هـ.؛

الكلاعي الأندلسي، ابوالربيع سليمان بن موسي (متوفي634هـ)، الإكتفاء بما تضمنه من مغازي رسول الله والثلاثة الخلفاء، ج4 ، ص236، تحقيق د. محمد كمال الدين عز الدين علي، ناشر: عالم الكتب - بيروت، الطبعة: الأولي، 1417هـ.؛

النويري، شهاب الدين أحمد بن عبد الوهاب (متوفي733هـ)، نهاية الأرب في فنون الأدب، ج19 ، ص138، تحقيق مفيد قمحية وجماعة، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1424هـ - 2004م.

اور ابن خلدون نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ:

فانهزم قلب المشركين وقام الجالنوس علي الردم ونادي الفرس إلي العبور وتهافت المقترنون بالسلاسل في العتيق وكانوا ثلاثين فهلكوا وأخذ ضرار بن الخطاب راية الفرس العظيمة وهي درفش كابيان فعوض منها ثلاثين ألفا وكانت قيمتها ألف ألف ومائة ألف ألف وقتل ذلك اليوم من الأعاجم عشرة آلاف في المعركة وقتل من المشركين في ذلك اليوم ستة آلاف دفنوا بالخندق سوي ألفين وخمسمائة قتلوا ليلة الهرير وجمع من الأسلاب والأموال ما لم يجمع قبله ولا بعده مثله.

مشرکین کا دل شکست کھا گیا، جالنوس ایک گری ہوئی دیوار پر کھڑا ہو کر پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ اہل فارس والو گزر جاؤ، لشکر ایک غیر منظم طریقے سے صحرا میں نکل پڑے، اس دن انکی تعداد 30،000 تھی، پس وہ سب کے سب ہلاک ہو گئے۔ ضرار ابن خطاب نے اہل فارس کا پرچم، کہ جو کابیان کا بڑا پرچم تھا، اٹھا لیا ۔۔۔۔۔۔ اس دن اہل فارس میں سے 10،000 بندے میدان جنگ میں قتل کیے گئے۔ مشرکین میں سے چھ ہزار بندے کہ جو اس دن قتل کیے گئے تھے، انکو ایک بڑے گڑھے میں دفن کر دیا گیا، اسکے علاوہ 2500 بندوں کو شب ہریر میں قتل کیا گیا تھا۔ اس جنگ میں غارت شدہ اور لوٹا گیا مال و اموال اس قدر جمع کیا گیا تھا کہ، نہ اس سے پہلے اور نہ اسکے بعد اتنا مال جمع کیا گیا تھا۔

إبن خلدون الحضرمي، عبد الرحمن بن محمد (متوفي808 هـ)، مقدمة ابن خلدون، ج2 ، ص535، ناشر: دار القلم - بيروت - 1984، الطبعة: الخامسة.

6. پانی، غذا اور مال غنیمت کے لیے جنگ کرنا (سال 14ہجری، عمر کے دور میں)

شمس الدين ذہبی نے اپنی کتاب سير اعلام النبلاء ميں لکھا ہے کہ:

لما كان يوم القادسية ذهب المغيرة بن شعبة في عشرة إلي صاحب فارس فقال إنا قوم مجوس وإنا نكره قتلكم لأنكم تنجسون علينا أرضنا فقال إنا كنا نعبد الحجارة حتي بعث الله إلينا رسولا فاتبعناه ولم نجيء لطعام بل أمرنا بقتال عدونا فجئنا لنقتل مقاتلتكم ونسبي ذراريكم وأما ما ذكرت من الطعام فما نجد ما نشبع منه فجئنا فوجدنا في أرضكم طعاما كثيرا وماء فلا نبرح حتي يكون لنا ولكم فقال العلج صدق قال وأنت تفقأ عينك غدا ففقئت عينه بسهم.

جب جنگ قادسیہ کا دن آن پہنچا تو مسلمانوں کا سپہ سالار مغيرة ابن شعبۃ لشکر فارس کے سالار کے پاس گیا، لشکر فارس کے سالار نے اس سے کہا کہ: ہم ایک مجوس قوم ہیں اور ہم تم سے جنگ نہیں کرنا چاہتے، تم نے یہاں آ کر ہماری سرزمین کو نجس کر دیا ہے۔ مغیرہ نے اس سے کہا کہ: ہم ایک ایسی قوم تھے کہ جو پتھروں کی عبادت کرتی تھی، یہاں تک کہ خداوند نے ہماری ہدایت کے لیے اپنے رسول کو بھیجا اور ہم نے انکی اتباع کی اور انکے دین کو ہم نے قبول کر لیا، اور ہم غذا کے لیے بھی تمہاری سرزمین پر نہیں آئے، بلکہ ہمیں حکم دیا گیا تھا کہ ہم اپنے دشمن کے ساتھ جنگ کریں، پس ہم تم سے جنگ کرنے اور تمہارے بچوں کو قیدی کرنے کے لیے اس سرزمین پر آئے ہیں، لیکن جو میں نے غذا کے بارے میں کہا ہے، وہ اس لیے کہ ہمیں اپنی سرزمین پر کوئی ایسی چیز نہیں ملی کہ جو ہمارے پیٹ کو بھر سکے، لیکن جب تمہاری سرزمین پر آئے ہیں تو یہاں کھانے پینے کی بہت سی چیزیں موجود ہیں، لہذا ہم یہاں سے نہیں جائيں گے مگر یہ کہ کھانے پینے کی چيزوں کو اپنے اور تمہارے درمیان تقسیم کریں۔ علج نے کہا کہ اس نے صحیح بات کی ہے۔۔۔۔۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفي 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج3، ص32، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

7. فتح شہر ہمدان اور بے حساب قتل و غارت (سال 27  ہجری، عثمان کے دور میں)

طبری نے اپنی تاريخ میں لکھا ہے کہ:

وحدثني ربيعة بن عثمان أن فتح همذان كان في جمادي الأولي علي رأس ستة أشهر من مقتل عمر بن الخطاب وكان أميرها المغيرة بن شعبة قال ويقال كان فتح الري قبل وفاة عمر بسنتين ويقال قتل عمر وجيوشه عليها (رجع الحديث إلي حديث سيف) قال فبينما نعيم في مدينة همذان في توطئتها في اثني عشر ألفا من الجند تكاتب الديلم وأهل الري وأهل أذربيجان ثم خرج موتا في الديلم حتي ينزل بواج روذ وأقبل الزينبي أبو الفرخان في أهل الري حتي انضم إليه وأقبل إسفندياذ أخو رستم في أهل أذربيجان حتي انضم إليه وتحصن أمراء مسالح دستبي وبعثوا إلي نعيم بالخبر فاستخلف يزيد بن قيس وخرج إليهم في الناس حتي نزل عليهم بواج الروذ فاقتتلوا بها قتالا شديدا وكانت وقعة عظيمة تعدل نهاوند ولم تكن دونها وقتل من القوم مقتلة عظيمة لا يحصون ولا تقصر ملحمتهم من الملاحم الكبار.

ربيعۃ ابن عثمان نے میرے لیے نقل کیا کہ جنگ ہمدان جمادی الاولی کے مہینے میں اور عمر کے قتل ہونے کے چھ ماہ بعد واقع ہوئی تھی۔ اس جنگ کا سپہ سالار مغيرة ابن شعبہ تھا۔ بعض نے کہا ہے کہ عمر کے قتل ہونے سے دو سال پہلے شہر رے فتح ہوا تھا، اور اسکے لشکر نے اس جگہ قیام کیا تھا۔

سيف نے کہا ہے کہ جب ہم ہمدان میں تھے تو ایران کے لشکر کے پہلے دستے میں 12،000 لشکری تھے کہ انھوں نے اہل دیلم، رے اور آذربایجان کو خط لکھے تھے اور پھر وہ سب جنگ کے لیے تیار ہو کر دیلم آئے اور اس طرح وہ واجرود کے مقام پر پہنچے۔ زینبی اہل رے کے ساتھ اور رستم کا بھائی اسفندیار بھی اہل آذربایجان کے ساتھ اسکی مدد کے لیے آئے۔

عمر کے لشکر کے سالار قلعہ میں جمع ہوئے اور انھوں نے نعیم کے لیے خبر بھیجی۔ اس نے یزید ابن قیس کو اپنا جانشین بنایا اور خود ایرانیوں کی طرف چلا گيا اور وہ بھی واجرود کے مقام پر پہنچ گیا۔ اس مقام پر انکے درمیان جنگ نہاوند کی طرح بہت شدید جنگ ہوئی کہ اس جنگ میں بے شمار ایرانی قتل کیے گئے ۔۔۔۔۔

الطبري، أبو جعفر محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب (متوفي310)، تاريخ الطبري، ج2 ، ص536، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت.

8. پیسے دو گے تو ہم تمہارے شہر سے چلے جائیں گے (سال 27  ہجری، عثمان کے دور میں)

عبد الرحمن قرشی نے لکھا ہے کہ:

وهرب جيش جرجير فبث عبد الله بن سعد السرايا وفرقها فأصابوا غنائم كثيرة فلما رأي ذلك رؤساء أهل أفريقية طلبوا إلي عبد الله بن سعد أن يأخذ منهم مالا علي أن يخرج من بلادهم فقبل منهم ذلك ورجع إلي مصر ولم يول عليهم أحدا ولم يتخذ بها قيروانا.

جرجیر کے لشکر والے فرار کر گئے، عبد اللہ ابن سعد نے اسکے لشکر کو شکست دی تھی اور انکو مار بھگایا اور اس طرح سے انکے ہاتھ بہت سا مال غنیمت بھی لگا۔ اہل افریقہ کے بزرگان نے جب اس صورتحال کو دیکھا تو انھوں نے عبد اللہ ابن سعد سے درخواست کی کہ تم ہم سے ہمارا مال لے لو اور ہماری سرزمین سے چلے جاؤ۔ عبد اللہ ابن سعد نے اس پیشکش کو قبول کر لیا اور ان سے بہت سا مال لینے کے بعد مصر واپس چلا گیا اور اس نے انکے لیے کسی کو بھی خلیفہ کے عنوان سے معیّن نہ کیا اور ان سے جنگ کے لیے سوار لشکر بھی نہ لیا۔

القرشي المصري، أبو القاسم عبد الرحمن بن عبد الله عبد الحكم بن أعين (متوفي257هـ)، فتوح مصر وأخبارها، ج1، ص312، تحقيق : محمد الحجيري، ناشر : دار الفكر - بيروت، الطبعة : الأولي، 1416هـ ـ 1996م.

9. شہر گرگان کی جنگ میں ایک بندے کے علاوہ باقی سب کو قتل کر دیا گیا۔ (سال 30 ہجری، عثمان کے دور میں)

اس جنگ میں بھی بہت عظیم جنایات انجام دی گئیں۔ غیر مسلموں نے ظاہری طور پر مسلمان سپہ سالار سے درخواست کی کہ ہم اپنے شہر کے دروازے تمہارے لیے کھولتے، لیکن شرط یہ ہے کہ ہم میں سے ایک بندہ بھی قتل نہیں ہونا چاہیے، لیکن خلیفہ کے لشکر نے کیا کیا ؟ ہاں، انھوں نے اس شہر میں موجود ایک بندے کے علاوہ باقی سب کو قتل کر دیا اور کہا کہ ہم نے کہا تھا کہ ہم تم میں سے ایک بندے کو قتل نہیں کریں گے !!!

محمد ابن جرير طبری نے اپنی تاريخ کی کتاب میں اور ابن اثير نے کتاب الكامل في التاريخ ميں لکھا ہے کہ:

فأتي جرجان فصالحوه علي مائتي ألف ثم أتي طميسة وهي كلها من طبرستان متاخمة جرجان وهي مدينة علي ساحل البحر فقاتله أهلها فصلي صلاة الخوف أعلمه حذيفة كيفيتها وهم يقتتلون وضرب سعيد يومئذ رجلا بالسيف علي حبل عاتقه فخرج السيف من تحت مرفقه وحاصرهم فسألوا الأمان فأعطاهم علي أن لا يقتل منهم رجلا واحدا ففتحوا الحصن فقتلوا أجمعين إلا رجلا واحدا ففتحوا الحصن وحوي ما في الحصن.

وہ گرگان میں داخل ہوئے اور دو لاکھ دینار لے کر ان سے صلح کر لی۔ پھر شہر گرگان میں واقع طمیسہ کے مقام پر گئے اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ جنگ کی۔ نماز خوف کہ حذیفہ کو اس نماز کے پڑھنے کا طریقہ آتا تھا، پڑھی گئی اور انکے ساتھ مقابلے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، سعید لوگوں کے سروں پر شمیشر سے حملہ کرتا تھا اور انھوں نے اس علاقے کے لوگوں کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ انھوں نے امان کی درخواست کی، انکو امان دی گئی کہ تم میں سے کسی کو قتل نہیں کیا جائے گا، لہذا ان شہر والوں نے اس امان کی بات پر یقین کر کے قلعے کا دروازہ کھول دیا، لیکن لشکر والوں نے اس سب کو بے رحمی سے قتل کر دیا، سوائے ایک بندے کے۔ پھر وہ لشکر اس قلعے میں جو کچھ تھا، لوٹ و غارت کر کے لے گئے۔

الطبري، أبي جعفر محمد بن جرير (متوفاي310)، تاريخ الطبري، ج2، ص607، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت؛

الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاي630هـ) الكامل في التاريخ، ج3، ص7، تحقيق عبد الله القاضي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة الثانية، 1415هـ.

سبحان اللہ !!! انھوں نے مسلمانوں کے سپہ سالار سے امان مانگی تھی،

کس وجہ سے انکو جھوٹی امان دی گئی تھی ؟

کس وجہ سے انھوں نے وعدہ خلافی کی ؟

کس وجہ سے ان تمام کو امان دینے کے باوجود بھی قتل کیا گیا ؟

اور اگر حقیقت میں بھی وہ سب کے سب قتل کیے جانے کے مستحق تھے تو پھر اس ایک بندے کو کیوں زندہ چھوڑا گیا ؟ !

کیا رحمۃ للعالمین رسول خدا (ص) کے دور میں ایسے مظالم کیے گئے تھے ؟

رسول خدا (ص) نے تو اپنے بدترین دشمن معاویہ کے باپ ابوسفیان کو اور معاویہ کی ماں ہند جگر خوار کے غلام وحشی کہ جو حضرت حمزہ (ع) کا قاتل تھا، کو معاف کر دیا تھا اور فتح مکہ کے دن اپنے اور اسلام کے دشمنوں کہ ان میں سے ایک معاویہ تھا، کو آزاد کر دیا، لیکن اسی رسول کا کلمہ پڑھنے والے مسلمانوں نے کیا کیا ؟!

ہم فقط ان وہابیوں کو، کہ جو شیعہ کتب سے ضعیف سند والی روایات کو پڑھ کر خداوند کی وسیع رحمت کے مظہر، رسول خدا (ص) کا سا اخلاق رکھنے والے حضرت مہدی پر انگلیاں اٹھانے ہیں، اتنا کہتے ہیں کہ حضرت مہدی (ع) کے بارے میں بات کرنے کے پہلے اپنے محبوب خلفاء کے کارناموں کو بھی دیکھ لیں کہ انھوں نے لوگوں کو کتنی بے رحمی سے قتل کیا، خون کی ندیاں بہائیں اور انکے اموال کو غارت کیا۔

اس لیے کہ جس کا اپنا گھر شیشے کا بنا ہوا ہو، اسکو کم از کم دوسروں کے گھر پر پتھر نہیں مارنے چاہییں۔

ابھی ہم نے صرف تین خلفاء کی بعض قتل و غارت کو ذکر کیا ہے، ورنہ تاریخ کی کتب انکے سیاہ ناموں سے بھری پڑی ہیں۔ اسکے علاوہ ابھی ہم نے معاویہ ، حجاج ابن یوسف ثقفی، یزید ، بنی امیہ اور بنی عباس کے فاسق اور سفّاح خلفاء کی قتل و غارت کو ذکر نہیں کیا، ورنہ اسکے لیے تو چند جلدوں پر مشتمل مفصّل کتاب لکھنے کی ضرورت ہے !!!

التماس دعا.....  

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی