2017 December 12
شخصیت با کرامت حضرت فاطمہ معصومہ (س)
مندرجات: ٨٧٩ تاریخ اشاعت: ٢٤ July ٢٠١٧ - ١١:٢٤ مشاہدات: 417
مضامین و مقالات » پبلک
جدید
شخصیت با کرامت حضرت فاطمہ معصومہ (س)

مقدمہ

فضيلت اول: حضرت معصومہ کے زائرین کا جنت کا حقدار ہونا

روايت اول (سند صحيح):

روايت دوم:

روايت سوم:

روايت چہارم:

فضيلت دوم: مقام شفاعت حضرت معصومہ

الف) حضرت معصومہ کا معروف زیارت نامہ

ب) روايت امام صادق (ع).

فضيلت سوم: حضرت معصومہ (س) کا محدثہ ہونا

اول: حديث غدير و منزلت

دوم: محبت آل محمد (ص)

سوم: فضائل شيعيان امام علی ابن ابی طالب (ع)

نتيجہ

مقدمہ:

حضرت معصومہ (س) شیعوں کے ساتویں امام موسی کاظم کی دختر نیک اختر ہیں۔ اس بی بی کے خاندانی فضائل ، شرافت اور عظمت کے علاوہ اپنے ذاتی بھی بہت سے فضائل اور کرامات ہیں۔ شيخ عباس قمی نے لکھا ہے کہ: وہ روایات جو ہمارے لیے نقل ہوئی ہیں، انکے مطابق امام کاظم (ع) کی بیٹیوں میں سے سب سے افضل سيده جليلہ معظمہ، حضرت فاطمہ معصومہ (س) ہیں۔

قمي، شيخ عباس، منتهي الامال، ص 975.

 

فضيلت اول: حضرت معصومہ (س) کے زائرین کا جنت کا حقدار ہونا

شیعہ کتب میں مذکورہ روایات کے مطابق جو بھی حضرت فاطمہ معصومہ (س) کی معرفت کے ساتھ زیارت کرے تو اسکی جزاء جنت ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ان روایات میں سے بعض میں آیا ہے کہ بی بی معصومہ کی زیارت کرنے والا نہ فقط یہ کہ وہ جنت جانے کا مستحق ہو جائے گا، بلکہ جنت جانا اس پر واجب ہو جائے گا۔

ان روایات میں سے بعض کی عبارت ایسے نقل ہوئی ہے:

روايت اول (سند صحيح):

حَدَّثَنَا أَبِي وَ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْمُتَوَكِّلِ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ قَالا حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ هَاشِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الْحَسَنِ الرِّضَا ع عَنْ زِيارَةِ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ ع فَقَالَ مَنْ‏ زَارَهَا فَلَهُ الْجَنَّةُ.

سعد بن سعد نے کہا ہے کہ: میں نے امام رضا سے امام موسی ابن جعفر کی بیٹی فاطمہ کی قبر کی زیارت کرنے کے بعد سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ: جو بھی اسکی زیارت کرے گا، جنت اسکی ہو جائے گی۔

القمي، ابي جعفر الصدوق، محمد بن علي بن الحسين بن بابويه (متوفاي381هـ)، عيون أخبار الرضا عليه السلام ج 1 ص 299، تحقيق: تصحيح وتعليق وتقديم: الشيخ حسين الأعلمي، ناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات - بيروت – لبنان، سال چاپ: 1404 - 1984 م.

روايت دوم:

حَدَّثَنِي أَبِي وَ أَخِي وَ الْجَمَاعَةُ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِدْرِيسَ وَ غَيرِهِ عَنِ الْعَمْرَكِي بْنِ عَلِي الْبُوفَكِي عَمَّنْ ذَكَرَهُ عَنِ ابْنِ الرِّضَا ع قَالَ: مَنْ زَارَ قَبْرَ عَمَّتِي بِقُمَ‏ فَلَهُ‏ الْجَنَّة.

امام جواد سے روایت نقل ہوئی ہے کہ: جو بھی میری پوپھی کی شہر قم میں زیارت کرے گا، اسکی جزا جنت ہو گی۔

القمي، أبي القاسم جعفر بن محمد بن قولويه (متوفاى367هـ)، كامل الزيارات، ص 536، تحقيق: الشيخ جواد القيومي، لجنة التحقيق، ناشر: مؤسسة نشر الفقاهة، الطبعة: الأولى1417هـ.

روايت سوم:

تَارِيخُ قُمَّ لِلْحُسَينِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُمِّي بِإِسْنَادِهِ عَنِ الصَّادِقِ ع قَالَ: إِنَّ لِلَّهِ حَرَماً وَ هُوَ مَكَّةُ وَ لِرَسُولِهِ حَرَماً وَ هُوَ الْمَدِينَةُ وَ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَرَماً وَ هُوَ الْكُوفَةُ وَ لَنَا حَرَماً وَ هُوَ قُمُّ وَ سَتُدْفَنُ فِيهِ امْرَأَةٌ مِنْ وُلْدِي تُسَمَّى فَاطِمَةَ مَنْ زَارَهَا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ.

وَ بِسَنَدٍ آخَرَ عَنْهُ ع‏ أَنَّ زِيارَتَهَا تَعْدِلُ الْجَنَّة.

حسين بن محمد قمی نے اپنی کتاب تاریخ قم میں امام صادق کی سند سے روایت کو ذکر کیا ہے کہ: اس بارے میں امام صادق نے فرمایا ہے کہ: خداوند کا حرم، مکے میں ہے، رسول خدا (ص) کا حرم، مدینے میں ہے، امیر المؤمنین علی (ع) کا حرم، کوفے میں ہے، اور ہم اہل بیت کا حرم، قم میں ہے اور عنقریب میری اولاد میں سے ایک خاتون اس سرزمین میں دفن ہو گی کہ اسکا نام فاطمہ ہے، جو بھی اسکی زیارت کرے گا، جنت اس پر واجب ہو جائے گی۔

مؤلف نے ایک دوسری سند کے ساتھ امام صادق سے نقل کیا ہے کہ: فاطمہ معصومہ کی زیارت جنت کے برابر ہے۔

حسن بن محمد بن حسن قمى، تاريخ قم (فارسي)، ص 215، مترجم: حسن بن على بن حسن بن عبد الملك قمى سال 805 - 806 ، تحقيق: سيد جلال الدين طهرانى،

المجلسي، محمد باقر (متوفاى 1111هـ)، بحار الأنوار ، ج 99 ص 267، ناشر : دار إحياء التراث العربي - بيروت – لبنان.

بحار الانوار ج60  ص 288

بحار الانوار، ج 48 ، ص 317

مستدرک سفينة البحار، ص 596

روايت چہارم:

رَأَيتُ فِي بَعْضِ كُتُبِ الزِّيارَاتِ حَدَّثَ عَلِي بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ‏ عَنْ سَعْدٍ عَنْ عَلِي بْنِ مُوسَى الرِّضَا ع قَالَ قَالَ: يا سَعْدُ عِنْدَكُمْ لَنَا قَبْرٌ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ قَبْرُ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُوسَى ع قَالَ نَعَمْ مَنْ زَارَهَا عَارِفاً بِحَقِّهَا فَلَهُ الْجَنَّةُ ...

علامہ مجلسی نے ذکر کیا ہے کہ: میں نے زیارت کی بعض کتب میں دیکھا ہے کہ علی ابن ابراہيم نے اپنے والد سے اور اس نے سعد سے اور اس نے امام رضا (ع) سے روايت کی ہے کہ: امام رضا نے فرمایا ہے کہ: اے سعد، تمہارے پاس ہم اہل بیت کی ایک قبر موجود ہے۔ سعد نے کہا کہ: میں آپ پر قربان ہو جاؤں، کیا آپکی مراد امام موسی کاظم کی بیٹی فاطمہ کی قبر ہے ؟ امام رضا نے فرمایا: ہاں، جو بھی اسکی معرفت کے ساتھ زیارت کرے گا، اسکی جزا جنت ہو گی۔

المجلسي، محمد باقر (متوفاى 1111هـ)، بحار الأنوار ، ج 99 ص 266، تحقيق : محمد مهدي السيد حسن الموسوي الخرسان ، السيد إبراهيم الميانجي ، محمد الباقر البهبودي، ناشر : دار إحياء التراث العربي - بيروت – لبنان.

فضيلت دوم: مقام شفاعت حضرت معصومہ (س)

بعض روایات کی روشنی میں حضرت معصومہ (س) شفاعت کرنے کے بلند مقام پر بھی فائز ہیں۔ مذکورہ بالا روایات سے کہ جن میں بی بی معصومہ کی زیارت کا ثواب جنت میں جانا ذکر ہوا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ بی بی معصومہ کا اپنے زائرین کی شفاعت کر کے انکو جنت میں لے جانا، بھی اس معنی کی تائید کرتا ہے کہ بی بی معصومہ عملی طور پر شفاعت کے بلند مرتبے پر فائز ہیں۔ البتہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ فقط اپنے زائرین کی شفاعت کرنے کی صلاحیت رکھتیں ہیں، بلکہ بی بی کا اپنے زائرین کی شفاعت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ زائرین کا بی بی کی شفاعت سے استفادہ کرنے کا زیادہ حق ہے، اس لیے کہ بی بی معصومہ کے زائرین نے سختیاں، مشکلات برداشت کر کے اور اپنی جان کو خطروں میں ڈال کر انکی زیارت کا شرف حاصل کیا ہے ، اس لیے انکا زیادہ حق ہے کہ وہ بی بی کی شفاعت سے جنت میں جانے کا فائدہ حاصل کریں، ورنہ بی بی کی شفاعت کرنے کا دائرہ بہت وسیع ہے کہ جو تمام کائنات کے شیعوں کو اپنے اندر لیے ہوئے ہےاور بی بی معصومہ کی ذات ان تمام شیعوں کی شفاعت کرنے کی قابلیت اور صلاحیت رکھتیں ہیں۔

بی بی معصومہ کے مقام شفاعت پر فائز ہونے کے بارے میں بہت سی روایات موجود ہیں کہ یہاں پر ہم صرف دو روایت کے ذکر کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں۔

الف) حضرت معصومہ (س) کا معروف زیارت نامہ

علامہ مجلسی کی نقل کے مطابق بی بی کا زیارت نامہ بعض کتابوں میں علی ابن ابراہیم سے اور اس نے اپنے والد ابراہيم ابن ہاشم اور اس نے سعد سے اور اس نے امام رضا (ع) سے نقل ہو کر ذکر ہوا ہے۔ زیارت نامے کی عبارت ایسے ہے:

رَأَيتُ فِي بَعْضِ كُتُبِ الزِّيارَاتِ حَدَّثَ عَلِي بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ‏ عَنْ سَعْدٍ عَنْ عَلِي بْنِ مُوسَى الرِّضَا ع قَالَ قَالَ: يا سَعْدُ عِنْدَكُمْ لَنَا قَبْرٌ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ قَبْرُ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُوسَى ع قَالَ نَعَمْ مَنْ زَارَهَا عَارِفاً بِحَقِّهَا فَلَهُ الْجَنَّةُ فَإِذَا أَتَيتَ الْقَبْرَ فَقُمْ عِنْدَ رَأْسِهَا مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَ كَبِّرْ أَرْبَعاً وَ ثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً وَ سَبِّحْ ثَلَاثاً وَ ثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً وَ احْمَدِ اللَّهَ ثَلَاثاً وَ ثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً ثُمَّ قُلِ ... يا فَاطِمَةُ اشْفَعِي لِي فِي الْجَنَّةِ فَإِنَّ لَكِ عِنْدَ اللَّهِ شَأْناً مِنَ الشَّأْنِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ تَخْتِمَ لِي بِالسَّعَادَةِ فَلَا تَسْلُبَ مِنِّي مَا أَنَا فِيهِ وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِي الْعَظِيمِ اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لَنَا وَ تَقَبَّلْهُ بِكَرَمِكَ وَ عِزَّتِكَ وَ بِرَحْمَتِكَ وَ عَافِيتِكَ وَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ أَجْمَعِينَ وَ سَلَّمَ تَسْلِيماً يا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.

میں نے زیارت کی بعض کتابوں میں دیکھا ہے کہ علی ابن ابراہیم سے اور اس نے اپنے والد ابراہيم ابن ہاشم اور اس نے سعد سے اور اس نے امام رضا (ع) سے نقل کیا ہے کہ امام رضا نے فرمایا ہے کہ: اے سعد، تمہارے پاس ہم اہل بیت کی ایک قبر موجود ہے۔ سعد نے کہا کہ: میں آپ پر قربان ہو جاؤں، کیا آپکی مراد امام موسی کاظم کی بیٹی فاطمہ کی قبر ہے ؟ امام رضا نے فرمایا: ہاں، جو بھی اسکی زیارت کرے گا، اسکی جزا جنت ہو گی۔

پھر جب قبر کے نزدیک ہو تو قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو جاؤ، 34 مرتبہ الله اکبر، 33 مرتبہ سبحان الله اور 33 مرتبہ الحمد لله کہو، پھر کہو کہ: اے فاطمہ معصومہ جنت میں جانے کے لیے میری شفاعت فرمائیں، کیونکہ آپکے لیے خداوند کی بارگاہ میں عظیم مرتبہ و منزلت ہے۔ خداوندا میں آپ سے دعا کرتا ہوں کہ میرا خاتمہ سعادت اور خیر پر فرمانا اور مجھ سے میرے اس عقیدے اور ایمان کو سلب نہ فرمانا۔ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِي الْعَظِيمِ. خدايا میری دعاؤں کو قبول فرما اور اپنے درود و سلام کو محمد و آل محمد پر نازل فرما۔ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمِين.

المجلسي، محمد باقر (متوفاى 1111هـ)، بحار الأنوار ، ج 99 ص 266، تحقيق : محمد مهدي السيد حسن الموسوي الخرسان ، السيد إبراهيم الميانجي ، محمد الباقر البهبودي، ناشر : دار إحياء التراث العربي - بيروت – لبنان.

ب) روايت امام صادق (ع)

قاضی نور الله شوشتری نے كتاب مجالس المؤمنين میں امام صادق (ع) سے نقل کرتے ہوئے ایسے لکھا ہے کہ:

روي عن الصادق عليه السلام أنه قال : إن لله حرما وهو مكة ، ألا إن لرسول الله حرما وهو المدينة ، ألا وإن لأمير المؤمنين حرما وهو الكوفة ، ألا وإن قم الكوفة الصغيرة . ألا إن للجنة ثمانية أبواب ثلاثة منها إلى قم ، تقبض فيها امرأة من ولدي اسمها فاطمة بنت موسى ، وتدخل بشفاعتها شيعتي الجنة بأجمعهم.

اس بارے میں امام صادق نے فرمایا ہے کہ: خداوند کا حرم، مکے میں ہے، رسول خدا (ص) کا حرم، مدینے میں ہے، امیر المؤمنین علی (ع) کا حرم، کوفے میں ہے، اور ہم اہل بیت کا حرم، قم میں ہے۔

قم ایک چھوٹا کوفہ شمار ہوتا ہے، جنت کے آٹھ دروازے ہیں کہ ان میں سے تین قم کی جانب کھلتے ہیں ، (یعنی اس بی بی کی زیارت اور اس شہر سے پھیلے ہوئے علم کی وجہ سے بہت شیعہ جنت میں داخل ہوں گے) پھر امام (ع) نے فرمایا: میری اولاد میں سے ایک خاتون کہ جسکا نام فاطمہ بنت موسی ہو گا، اس شہر قم میں دفن ہو گی اور اس کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ جنت میں داخل ہوں گے۔

التستري، قاضي نور الله (متوفاي 1019 هـ.ق)، مجالس المؤمنين ج1، ص 168، ناشر: دار هشام.

بحار الانوار ج60  ص 288

بحار الانوار، ج 48 ، ص 317

مستدرک سفينة البحار، ص 596

فضيلت سوم: حضرت معصومہ (س) کا محدثہ ہونا

حضرت فاطمہ معصومہ (س) کے مبارک نام نے بہت سی روایات کی سند کو زینت بخشی ہوئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ وہ روایات کہ جو بی بی معصومہ (س) سے نقل ہوئی ہیں، وہ اعتقادات اور خاص طور پر امیر المؤمنین علی (ع) کی امامت کے بارے میں ہیں اور ان روایات میں اہل بیت (ع) اور شیعیان کے مقام و منزلت کو بیان کیا گیا ہے۔

اول: حديث غدير و منزلت

[رواية ست فواطم إحداهن عن الأخرى] أخبرنا ابن عم والدي القاضي أبو القاسم عبدالواحد بن محمد بن عبدالواحد المديني بقراءتي عليه في منزلي هنا أنبأنا ظفر بن راعي العلوي باستراباذا أنبأنا والدي وأبو أحمد بن مطرف المطرفي قالا أنبأنا أبو سعد الإدريسي إجازة فيما أخرجه في تاريخ استراباذ حدثني محمد بن الحسن الرشيدي من ولد هارون الرشيد بسمرقند وما كتبناه إلا عنه حدثنا أبو الحسن محمد بن جعفر الحلواني حدثنا علي بن محمد بن جعفر الأهوازي مولى الرشيد حدثنا بكر بن أحمد البصري حدثتنا فاطمة بنت علي بن موسى الرضى حدثتني فاطمة وزينب وأم كلثوم بنات موسى بن جعفر قلن حدثتنا فاطمة بنت جعفر بن محمد الصادق قالت حدثتني فاطمة بنت محمد بن علي حدثتني فاطمة بنت علي بن الحسين حدثتني فاطمة وسكينة ابنتا الحسين بن علي عن أم كلثوم بنت فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن فاطمة بنت رسول الله صلي الله عليه و آله  قالت: أنسيتم قول رسول الله صلي الله عليه و آله يوم غدير خم من كنت مولاه فعلي مولاه وقوله عليه السلام لعلي أنت مني بمنزلة هارون من موسى عليهما السلام.

مؤلف نے اپنے سلسلہ سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ: حضرت فاطمہ معصومہ سلام الله عليها نے زينب و ام کلثوم کہ جو امام کاظم عليہ السلام کی بیٹیاں ہیں، انھوں نے فاطمہ بنت امام صادق عليہ السلام سے، اس نے فاطمہ بنت امام باقر عليہ السلام سے، اس نے فاطمہ بنت امام سجاد عليہ السلام سے، اس نے فاطمہ و سكينہ بنت امام حسين عليہ السلام سے، انھوں نے ام كلثوم بنت فاطمہ‌ زہرا سلام الله عليها سے اور اس نے اپنی والدہ فاطمہ زہرا سلام الله عليہا سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ: کیا تم نے غدیر خم میں رسول خدا کے فرمان کو بھولا دیا ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ: جس جس کا میں مولا ہوں، اس اس کا علی مولا ہے ؟، اور یہ قول کہ رسول خدا نے حضرت علی سے فرمایا کہ: تیری نسبت مجھ سے ایسی ہے، جیسے ہارون کی موسی کے ساتھ نسبت ہے۔

نزهة الحفاظ ، ج 1 ص 101، اسم المؤلف: محمد بن عمر الأصبهاني المديني أبو موسى الوفاة: 581 ، دار النشر : مؤسسة الكتب الثقافية - بيروت - 1406 ، الطبعة : الأولى ، تحقيق : عبد الرضى محمد عبد المحسن.

دوم: محبت آل محمد (ع)

اللؤلؤة المثنية في الآثار المعنعنة المروية: روى السيد محمّد الغماري الشافعي في كتابه: عن فاطمة بنت الحسين الرضوي عن فاطمة بنت محمّد الرضوي عن فاطمة بنت إبراهيم الرضوي عن فاطمة بنت الحسن الرضوي عن فاطمة بنت محمّد الموسوي عن فاطمة بنت عبد اللّه العلوي عن فاطمة بنت الحسن الحسيني عن فاطمة بنت أبي هاشم الحسيني عن فاطمة بنت محمّد بن احمد بن موسى المبرقع عن فاطمة بنت أحمد بن موسى المبرقع عن فاطمة بنت موسى المبرقع عن فاطمة بنت الامام أبي الحسن الرضا عليه السّلام عن فاطمة بنت موسى بن جعفر عليهما السّلام عن فاطمة بنت الصادق جعفر بن محمّد عليهما السّلام عن فاطمة بنت الباقر محمّد بن علي عليهما السّلام عن فاطمة بنت السجاد علي بن الحسين زين العابدين عليه السّلام عن فاطمة بنت أبي عبد اللّه الحسين عليه السّلام عن زينب بنت أمير المؤمنين عليه السّلام عن فاطمة بنت رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله، قالت: قال رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله: «ألا من مات على حب آل محمد مات شهيدا»

غماری شافعی نے اپنی کتاب میں فاطمہ بنت حسين سے، اس نے فاطمہ بنت محمد سے، اس نے فاطمہ بنت ابراہيم سے، اس نے  فاطمہ بنت حسن سے، اس نے فاطمہ بنت محمد موسوی سے، اس نے فاطمہ بنت عبد الله سے، اس نے فاطمہ بنت محمد بن احمد بن موسی مبرقع سے، اس نے فاطمہ بنت احمد بن موسی مبرقع سے، اس نے فاطمہ بنت موسی مبرقع سے، اس نے فاطمہ بنت امام رضا عليہ السلام سے، اس نے فاطمہ معصومہ بنت امام کاظم عليہ السلام سے، انھوں نے فاطمہ بنت امام صادق عليہ السلام سے، اس نے فاطمہ بنت امام باقر عليہ السلام سے، اس نے فاطمہ بنت امام سجاد عليہ السلام سے، اس نے فاطمہ بنت امام حسين عليہ السلام سے، اس نے زينب بنت امام علی عليہ السلام سے، انھوں نے فاطمہ زہرا بنت رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ و سلم سے، اور بی بی زہرا نے اپنے والد محترم سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے کہ: جو بھی دل میں آل محمد کی محبت لے دنیا سے جاتا ہے تو وہ شہید کی موت اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔

بحراني اصفهاني، عوالم العلوم و المعارف والأحوال من الآيات و الأخبار و الأقوال - مستدرك سيدة النساء إلى الإمام الجواد، ج‏21- ص: 355

سوم: فضائل شيعيان امام علی عليہ السلام

[كِتَابُ الْمُسَلْسَلَاتِ] حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِي بْنِ الْحُسَينِ قَالَ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ زِيادِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْقَاسِمِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِي الْعُرَيضِي قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلِيلٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِي بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْأَهْوَازِي قَالَ حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ أَحْنَفَ قَالَ حَدَّثَتْنَا فَاطِمَةُ بِنْتُ عَلِي بْنِ مُوسَى الرِّضَا ع قَالَتْ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ وَ زَينَبُ وَ أُمُّ كُلْثُومٍ بَنَاتُ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ ع قُلْنَ حَدَّثَتْنَا فَاطِمَةُ بِنْتُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ع قَالَتْ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِي ع قَالَتْ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ عَلِي بْنِ الْحُسَينِ ع قَالَتْ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ وَ سُكَينَةُ ابْنَتَا الْحُسَينِ بْنِ عَلِي ع عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِي ع عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلي الله عليه وآله قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ص يقُولُ‏ لَمَّا أُسْرِي بِي إِلَى السَّمَاءِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ دُرَّةٍ بَيضَاءَ مُجَوَّفَةٍ وَ عَلَيهَا بَابٌ مُكَلَّلٌ بِالدُّرِّ وَ الْياقُوتِ وَ عَلَى الْبَابِ سِتْرٌ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا مَكْتُوبٌ عَلَى الْبَابِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ‏ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ عَلِي وَلِي الْقَوْمِ وَ إِذَا مَكْتُوبٌ عَلَى السِّتْرِ بَخْ بَخْ مِنْ‏ مِثْلِ‏ شِيعَةِ عَلِي‏ فَدَخَلْتُهُ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ عَقِيقٍ أَحْمَرَ مُجَوَّفٍ وَ عَلَيهِ بَابٌ مِنْ فِضَّةٍ مُكَلَّلٍ بِالزَّبَرْجَدِ الْأَخْضَرِ وَ إِذَا عَلَى الْبَابِ سِتْرٌ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا مَكْتُوبٌ عَلَى الْبَابِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ عَلِي وَصِي الْمُصْطَفَى ...

مؤلف نے اپنے سلسلہ سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ: حضرت فاطمہ معصومہ سلام الله عليها نے زينب و ام کلثوم کہ جو امام کاظم عليہ السلام کی بیٹیاں ہیں، انھوں نے فاطمہ بنت امام صادق عليہ السلام سے، اس نے فاطمہ بنت امام باقر عليہ السلام سے، اس نے فاطمہ بنت امام سجاد عليہ السلام سے، اس نے فاطمہ و سكينہ بنت امام حسين عليہ السلام سے، انھوں نے ام كلثوم بنت فاطمہ‌ زہرا سلام الله عليها سے اور اس نے اپنی والدہ فاطمہ زہرا سلام الله عليها سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا کہ: اس رات کو کہ جب مجھے معراج پر لے جایا گیا، میں جنت میں داخل ہوا، وہاں میں نے سفید موتیوں کا ایک گھر دیکھا کہ جو درمیان سے خالی تھا۔ اس گھر کا دروازہ موتیوں اور یاقوت سے سجا ہوا تھا اور اس پر ایک پردہ تھا، جب میں نے اپنے سر کو بلند کیا تو دیکھا کہ اس پر لکھا ہوا تھا ، لا الہ الا الله محمد رسول الله على ولى القوم، اور پردے پر لکھا ہوا تھا کہ : واہ واہ کون علی کے شیعوں کی طرح ہو سکتا ہے۔ جب میں داخل ہوا تو سرخ عقیق سے بنا ہوا ایک محل دیکھا کہ وہ بھی درمیان سے خالی تھا، اس محل کا بھی ایک دروازہ تھا کہ جس پر زبرجد سے مزین ایک پردہ لگا ہوا تھا، جب میں نے اپنے سر کو بلند کیا تو میں نے دیکھا کہ اس پر لکھا ہوا تھا ،

محمّد رسول الله، علي وصي المصطفي

المجلسي، محمد تقي (متوفي1070هـ)، بحار الأنوار، ج 65 ص 76

نتيجہ:

مذکورہ تمام مطالب حضرت فاطمہ معصومہ (س) کے فضائل کے بحر بیکران میں سے ایک قطرہ تھا، جو یہاں پر ذکر کیا گیا کہ ان فضائل میں اس پاک معصومہ (س) کے بعض مقامات اور فضائل کی طرف اشارہ کیا گیا۔ ان فضائل میں زیارت کرنے والے کا جنت کا مستحق ہونا، تمام شیعیان کی شفاعت کرنا، محدثہ ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ انشاء اللہ  دعا ہے کہ ہم سب شیعیان کو اس پاک معصومہ قم (س) کی معرفت کے ساتھ بار بار زیارت نصیب ہو اور وہ پاک بی بی ہم سب سے دنیا اور آخرت میں راضی اور خوش بھی ہوں۔

آمین آمین یا ربّ العالمین و برحمتک یا ارحم الراحمین،

التماس دعا.....

 

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی