2017 December 13
کیا شب قدر میں قرآن کو سر پر رکھ کر دعا کرنا بدعت ہے ؟
مندرجات: ٧٨٨ تاریخ اشاعت: ١٥ June ٢٠١٧ - ١٢:٤٢ مشاہدات: 514
سوال و جواب » متفرق
جدید
کیا شب قدر میں قرآن کو سر پر رکھ کر دعا کرنا بدعت ہے ؟

توضیح سوال:

الاسلام سوال و جواب والی سایٹ میں شيخ محمد صالح المنجد نے اس سوال، کہ کیا دعا مانگتے وقت قرآن کو سر پر رکھنا جائز ہے یا نہیں، کے جواب میں دعوی کیا ہے کہ یہ کام رافضیوں (شیعیان) کے عجیب کاموں اور بدعتوں میں سے ہے اور جائز نہیں ہے۔

مقدمہ:

بہت سے اشکالات میں سے ایک اشکال کہ جو وہابی شیعیان علی (ع) پر کرتے ہیں اور خاص طور پر ماہ رمضان کے ان آخری ایام میں اسلام دشمن وہابی چینلز سے یہ اشکال بار بار بیان کیا جا رہا ہے کہ تم شیعہ شب قدر میں کیوں قرآن کو سر پر رکھ کر دعا کرتے ہو ؟ اس لیے کہ قرآن پڑھنے اور عمل کرنے کے لیے نازل ہوا ہے نہ کہ سر پر رکھ کر دعا کرنے کے لیے۔

انہی چینلز میں سے ایک چینل میں ایک وہابی نے دعوی ہے کہ شیعہ اس لیے قرآن کو سر پر رکھتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انکی نظر قرآن کی آیات پر پڑ جائے اور وہ موحد اور مؤمن بن جائیں۔ !!!

ہم انکے جواب میں کہتے ہیں کہ: اس میں کوئی شک ہی نہیں ہے کہ خداوند نے قرآن کو پڑھنے اور عمل کرنے کے لیے نازل کیا ہے اور شیعیان الحمد للہ تم سے زیادہ قرآن کریم سے آشنا ہیں اور اسکی آیات پر عمل کرتے ہیں، لیکن کس نے کہا ہے کہ قرآن سر پر رکھ کر دعا کرنا، بدعت اور حرام ہے ؟

کیا قرآن کو سر پر رکھ کر دعا مانگنے کے بدعت و حرام ہونے کے بارے میں تمہارے پاس رسول خدا (ص)، آئمہ اہل بیت (ع) یا اصحاب میں سے کسی کی روایت موجود ہے ؟

نہ فقط یہ کہ اس کام کے بدعت اور حرام ہونے پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے، بلکہ اہل سنت کے علماء نے صد در صد صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ امیر المؤمنین علی (ع) اس کام کو انجام دیا کرتے تھے۔

السؤال: هل يجوز وضع المصحف فوق الرأس عند الدعاء؟

الجواب :

الحمد لله، لم يزل الروافض يأتون كل يوم بكل عجيب ، إلى أن أفاضت عقولُهم النيرةُ بدعةً جديدةً ، ألا وهي : وضع المصحف على الرؤوس عند الدعاء في ليلة القدر ، ويسمونه " دعاء رفع القرآن" يحلفون بالله ثم بالأئمة ، ويطلبون حوائجهم !!

جواب کا ترجمہ:

حمد و تعریف خدا کے لیے ہے، شیعیان ہر روز عجیب عجیب کام انجام دیتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ انکی عقل بھی نئی نئی بدعتیں ایجاد کرتی رہتی ہے اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ لوگ شب قدر میں قرآن کو سر پر رکھ کر دعا کرتے ہیں اور وہ اس کام کو ایک خاص دعا کا نام دیتے ہیں۔ وہ قرآن کو سر پر رکھ کر خداوند اور آئمہ کے نام کے ساتھ قسم کھاتے ہیں اور اسی حالت میں اپنی حاجات کو طلب کرتے ہیں۔

جواب:

پہلا جواب: بدعت کا معنی کیا ہے ؟

اس وہابی نے آنکھوں کو بند کر کے اور زبان کو کھول کر شیعیان کے تمام عقائد حقّہ کو بدعت شمار کیا ہے، حالانکہ خود اسکو بالکل بدعت کے معنی کا پتا ہی نہیں ہے۔ اب ہم اسکو اور اسکی طرح کے تمام دوسرے وہابیوں کو بتاتے ہیں کہ بدعت کا کیا معنی ہے اور کون سی بدعت دین میں حرام ہے ؟

بات کو لمبا کرنے کی بجائے خلاصہ یہ ہے کہ لفظ بدعت کا ایک لغوی معنی ہے اور ایک اصطلاحی معنی ہے۔

بدعت کا لغوی معنی: ہر نئی اور جدید چیز کو بدعت کہتے ہیں۔

بدعت کا اصطلاحی معنی: اس بات کو کہتے ہیں کہ جس پر قرآن اور سنت سے کوئی شرعی دلیل موجود نہ ہو، اور ایسی بات کو دین اسلام کی طرف نسبت دی جائے۔ اس طرح کی بدعت تمام مسلمانوں کی نظر میں حرام ہے۔

اہل سنت کے علم لغت اور علم کلام کے علماء کے بدعت کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، لیکن ہم فقط ابن حجر عسقلانی کے قول کو ذکر کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں:

والمُحْدَثات بفتح الدال جمع مُحْدَثَه، والمراد بها: ما أحدث وليس له أصل في الشرع ويسمّى في عرف الشرع بدعه، وما كان له أصل يدلّ عليه الشرع فليس ببدعه.

محدثات سے مراد ہر نئی چیز ہے کہ جس پر کوئی شرعی دلیل موجود نہ ہو اور اسکو دین و شریعت کی نگاہ سے بدعت کہتے ہیں، اور ہر وہ چیز یا بات کہ جس پر قرآن و سنت سے شرعی دلیل موجود ہو، وہ چیز بدعت نہیں کہلائے گی۔

فتح البارى، ج 13، ص 212.

اہل سنت کے بزرگ عالم کی نظر میں بھی ایسی بدعت دین میں حرام شمار ہوتی ہے۔

اب ہم اس وہابی شیخ سے سوال کرتے ہیں کہ تمہاری مراد بدعت سے بدعت کا لغوی معنی ہے یا اصطلاحی معنی ؟

اگر مراد لغوی معنی ہو تو ، تم کو پھر جہاز پر بھی سوار نہیں ہونا چاہیے، گاڑی پر سوار نہیں ہونا چاہیے، پھر تمہیں موبائل بھی نہیں رکھنا چاہیے اور انٹرنیٹ سے بھی استفادہ نہیں کرنا چاہیے، وغیرہ وغیرہ، کیونکہ یہ ساری چیزیں اور سارے کام قرآن میں ذکر نہیں ہوئے اور خود رسول خدا نے بھی انکو انجام نہیں دیا ہے، حالانکہ بہت سے ایسے کام ہیں کہ ہیں کہ جو رسول خدا کے زمانے میں موجود نہیں تھے اور اب اس زمانے میں تم دن رات انکو انجام دے رہے ہو۔

اور اگر مراد اصطلاحی معنی ہو تو، پھر دین کی نگاہ میں ایسی بدعت حرام ہے کہ جس پر کوئی شرعی دلیل موجود نہ ہو۔

اس مقدمے کو ذکر کرنے کے بعد ہم اصل سوال کی طرف پلٹتے ہیں اور اسی کے بارے میں چند مطالب کو بیان کرتے ہیں کہ کیا شب قدر میں قرآن سر پر رکھ کر دعا مانگنے پر شرعی دلیل موجود ہے یا موجود نہیں ہے ؟ یعنی اس کام پر قرآن و سنت سے کوئی دلیل موجود ہے یا موجود نہیں ہے؟

 یعنی کیا شب قدر میں قرآن کو سر پر رکھ کر دعا کرنا بدعت ہے ؟

دوسرا جواب:

امیر المؤمنین علی (ع) کا قرآن سر پر رکھنا، اہل سنت کے عالم کی سند صحیح کے ساتھ :

اس وہابی شیخ کو ہم کہتے ہیں کہ اگر تم اس بات کو قبول کرتے ہو کہ حرام بدعت، وہ بدعت ہے کہ جس پر قرآن و سنت سے کوئی شرعی دلیل موجود نہ ہو تو، پھر ہم کہتے ہیں کہ شیعوں کا قرآن سر پر رکھ کر دعا کرنا، اس پر سنت اور عمل صحابہ سے شرعی دلیل موجود ہے۔

امیر المؤمنین علی (ع) کہ جو رسول خدا کے بہترین اصحاب میں سے ہیں اور انکے بلافصل شرعی جانشین بھی ہیں۔ خود تم اہل سنت کی کتب میں موجود ہے کہ وہ حضرت خداوند سے دعا کرتے وقت اور خداوند سے کسی کی شکایت کرتے وقت قرآن کو اپنے سر پر رکھا کرتے تھے۔

ابو یوسف فسوی نے اپنی کتاب المعرفۃ والتاريخ میں، ایسی سند کے ساتھ کہ جس کے سارے راوی کتاب صحیح بخاری و صحیح مسلم والے راوی ہیں، نقل کیا ہے کہ:

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخَذَ الْمُصْحَفَ فَوَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى لَأَرَى وَرَقَهُ يَتَقَعْقَعُ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ مَنَعُونِي أَنْ أَقُومَ فِي الْأُمَّةِ بِمَا فِيهِ، فَأَعْطِنِي ثَوَابَ مَا فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ مَلَلْتُهُمْ وَمَلُّونِي، وَأَبْغَضْتُهُمْ وَأَبْغَضُونِي، وَحَمَلُونِي عَلَى غَيْرِ طَبِيعَتِي وَخُلُقِي، وَأَخْلَاقٍ لَمْ تَكُنْ تُعْرَفْ لِي، فَأَبْدِلْنِي بِهِمْ خَيْرًا مِنْهُمْ، وَأَبْدِلْهُمْ بِي شَرًّا مِنِّي، اللَّهُمَّ أَمِتْ قُلُوبَهُمْ مَيْتَ الْمِلْحِ فِي الْمَاءِ.

ابو صالح حنفی سے نقل ہوا ہے کہ میں نے علی ابن أبی طالب عليہ السلام کو دیکھا کہ انھوں نے قرآن کو سر پر رکھا ہوا ہے، یہاں تک کہ مجھے قرآن کے صفحات کے حرکت کرنے کی آواز بھی سنائی دیتی تھی، پھر وہ فرمایا کرتے تھے کہ: خدایا وہ لوگ مانع ہوئے ہیں کہ میں اس قرآن کے قانون کو اس امت میں جاری کر سکوں، پس خدایا جو کچھ قرآن میں ذکر ہوا ہے، اس پر عمل کرنے کا مجھے ثواب عطا فرما۔

پھر انھوں نے فرمایا کہ: اے خداوندا میں ان لوگوں سے تھک گیا ہوں اور وہ لوگ مجھ سے تھک گئے ہیں، میں ان سے بیزار ہو چکا ہوں اور وہ مجھ سے بیزار ہو چکے ہیں۔ انھوں نے مجھے زبردستی میری پسند اور میرے اخلاق کے خلاف کام کرنے پر مجبور کیا، ایسے کام اور اخلاق کہ بالکل جس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں تھا، پس خدایا ان سے بہتر لوگ مجھے عطا کر اور مجھ سے بدتر ان پر مسلط فرما ( تاکہ وہ میری قدر کو سمجھ سکیں) خداوندا انکے دلوں کو مردہ و نابود قرار دے، جس طرح کہ نمک پانی میں حل ہو کر ختم ہو جاتا ہے۔

الفسوي ، أبو يوسف يعقوب بن سفيان (متوفاي277هـ) ، المعرفة والتاريخ، ج 2، ص751، تحقيق: الدكتور أكرم ضياء العمري ، ناشر: ناشر: مكتة الدار ـ المدينة المنورة ، الطبعة الأولي ، 1410هـ .

ابن كثير الدمشقي، ابوالفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفاي774هـ)، البداية والنهاية، ج 7، ص610، ناشر: مكتبة المعارف - بيروت.

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفاي279هـ)، أنساب الأشراف، ج1، ص 348، طبق برنامه الجامع الكبير.

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاي 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 3، ص 144، تحقيق : شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي ، ناشر : مؤسسة الرسالة - بيروت ، الطبعة : التاسعة ، 1413هـ .

اس روایت میں مورد توجہ چند نکات:

نکتہ اول:

امام علی (ع) کی شکایت سے واضح ہوتا ہے کہ امت اسلامی قرآن اور امام کی اطاعت و پیروی نہیں کرتی تھی۔

نکتہ دوم:

دعا کے وقت قرآن کو سر پر رکھنا جائز ہے کیونکہ اگر یہ کام جائز و شرعی نہ ہوتا تو امیر المؤمنین علی (ع) کہ خود معصوم ہیں، ہرگز ایسے کام کو انجام نہ دیتے۔

نکتہ سوم:

اس روایت کی سند معتبر ہے اور اہل سنت کے علماء کی نظر میں اس روایت کے راوی ثقہ اور قابل اطمینان ہیں۔

پس قرآن کو سر پر رکھنا نہ فقط یہ کہ بدعت نہیں ہے، بلکہ بزرگ صحابی امیر المؤمنین علی (ع) کی سیرت حسنہ ہے اور فریقین کے نزدیک حدیث متواتر حدیث ثقلین کی روشنی میں خود رسول خدا نے فرمایا ہے کہ:

میں اپنے بعد تمہارے لیے دو جانشین چھوڑ کر جا رہا ہوں، قرآن اور اپنے اہل بیت، تم ان دونوں کی پیروی کرنا تا کہ میرے بعد گمراہ نہ ہو سکو۔ بس شیعہ رسول خدا کے فرمان کی پیروی کرتے ہوئے، انکے اہل بیت کی سنت پر عمل کرتے ہیں، تا کہ واضح ہو کہ کون رسول خدا کے فرمان پر عمل کرتا ہے اور کون ہوائے نفس کی پیروی کرتا ہے!!!

روایت کی سند کے بارے میں بحث:

عبد العزيز بن عبد الله بن يحيي بن عمرو بن أويس بن سعد بن أبي السرح:

یہ کتاب صحیح بخاری اور دوسری صحاح ستہ کے راویوں میں سے ہے:

عبد العزيز بن عبد الله العامري الأويسي الفقيه عن مالك ونافع بن عمر وعنه البخاري وأبو زرعة ثقة مكثر خ د ت ق

یہ ثقہ ہے اور اس نے بہت سی روایات کو نقل کیا ہے۔۔۔۔۔۔

الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة ، ج1 ص656، رقم: 3397

عبد العزيز بن عبد الله بن يحيي بن عمرو بن أويس بن سعد بن أبي سرح الأويسي أبو القاسم المدني ثقة من كبار العاشرة خ د ت كن ق

یہ ثقہ اور دس بڑے راویوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔

تقريب التهذيب ج1 ص357 ، رقم: 4106

إبراهيم بن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف:

یہ بھی کتاب صحیح بخاری اور دوسری صحاح ستہ کے راویوں میں سے ہے:

إبراهيم بن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف الزهري أبو إسحاق المدني نزيل بغداد ثقة حجة تكلم فيه بلا قادح من الثامنة مات سنة خمس وثمانين ع

یہ ثقہ، حجت ہے اور کسی نے بھی اس کی نقل شدہ روایات پر اشکال نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔

تقريب التهذيب ج1 ص89 ، رقم: 177

إبراهيم بن سعد الزهري العوفي أبو إسحاق المدني عن أبيه والزهري وعنه بن مهدي وأحمد ولوين وخلق توفي 183 وكان من كبار العلماء ع

اس کا شمار بزرگ علماء میں سے ہوتا تھا۔

الكاشف ج1 ص212 ، رقم: 138

شعبة بن الحجاج:

یہ بھی کتاب صحیح بخاری اور دوسری صحاح ستہ کے راویوں میں سے ہے:

شعبة بن الحجاج الحافظ أبو بسطام العتكي أمير المؤمنين في الحديث ولد بواسط وسكن البصرة سمع معاوية بن قرة والحكم وسلمة بن كهيل وعنه غندر وأبو الوليد وعلي بن الجعد له نحو من ألفي حديث مات في أول عام 16 ثبت حجة ويخطيء في الأسماء قليلا ع

اسکو امیر المؤمنین در حدیث کہا جاتا ہے، یہ ثبت اور حجت ہے۔۔۔۔۔۔

الكاشف ج1 ص485 ، رقم: 2278

شعبة بن الحجاج بن الورد العتكي مولاهم أبو بسطام الواسطي ثم البصري ثقة حافظ متقن كان الثوري يقول هو أمير المؤمنين في الحديث وهو أول من فتش بالعراق عن الرجال وذب عن السنة وكان عابدا من السابعة مات سنة ستين ع

اسکو امیر المؤمنین در حدیث کہا جاتا ہے، اس نے سنت کا دفاع کیا تھا اور وہ ایک عابد انسان تھا۔۔۔۔۔۔

تقريب التهذيب ج1 ص266 ، رقم: 2790

محمد بن عبيد الله الثقفي:

یہ کتاب صحیح بخاری، صحیح مسلم، ابو داود، ترمذی و نسائی کے راویوں میں سے ہے۔

محمد بن عبيد الله بن سعيد أبو عون الثقفي الكوفي الأعور ثقة من الرابعة خ م د ت س

یہ ثقہ راوی ہے۔۔۔۔۔

تقريب التهذيب ج1 ص494 ، رقم: 6107

عبد الرحمن بن قيس ابو صالح الحنفي:

یہ کتاب صحیح مسلم، ابو داود اور نسائی کے راویوں میں سے ہے:

عبد الرحمن بن قيس أبو صالح الحنفي الكوفي عن علي وابن مسعود وعنه بيان بن بشر وإسماعيل بن أبي خالد ثقة م د س

یہ ثقہ راوی ہے۔۔۔۔۔۔

الكاشف ج1 ص641 ، رقم: 3295

عبد الرحمن بن قيس أبو صالح الحنفي الكوفي ثقة من الثالثة قيل إن روايته عن حذيفة مرسلة م د س

یہ ثقہ راوی ہے۔۔۔۔۔۔

تقريب التهذيب ج1 ص349 ، رقم:3987

مخالفین سے ہمارے چند سوال:

1- تم اپنے چوتھے خلیفہ اور رسول خدا (ص) کے بافضیلت ترین صحابی حضرت علی (ع) کی سنت پر عمل کرنے کو کیوں بدعت کہتے ہو ؟

2- خود تم کیوں اپنے چوتھے خلیفہ اور رسول خدا  (ص)کے بافضیلت ترین صحابی حضرت علی(ع) کی سنت پر عمل نہیں کرتے ؟

3- کیا تمہارا چوتھا خلیفہ اور رسول خدا (ص)کا صحابی کہ جو دعا کرتے وقت قرآن کو سر پر رکھتا تھا، تمہاری نظر میں بدعت گزار ہے ؟

التماس دعا.....





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی