2017 August 19
ولادت کل ایمان، امام المتّقین، جانشین بلا فصل رسول خدا (ص)، امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب (ع)
مندرجات: ٦٩٨ تاریخ اشاعت: ١١ April ٢٠١٧ - ١٧:٠٧ مشاہدات: 517
یاداشتیں » پبلک
ولادت کل ایمان، امام المتّقین، جانشین بلا فصل رسول خدا (ص)، امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب (ع)

 امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام مکہ مکرمہ میں بروز جمعہ ، 13 رجب سن 30   عام الفیل کو خانہٴ کعبہ میں پیدا ہوئے۔ آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کوئی شخص بھی بیت اللہ میں پیدا نہیں ہوا۔ یہ خداوند کی طرف سے آپ کی عظمت و جلالت اور منزلت کا خصوصی مقام ہے۔

ارشاد شیخ مفید ۺ،ج 1 ص 5

صاحب بحار نے یزید بن قعنب کی روایت بیان کی ہے ، جس میں وہ کہتے ہیں کہ میں، عباس بن عبد المطلب اور عبد العزیٰ کے ایک گروہ کے ساتھ خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھا ہوا تھا، وہاں حضرت امیر المؤمنین کی والدہ ماجدہ جناب فاطمہ بنت اسد تشریف لائیں۔ جب آپ کو درد زہ شروع ہوا تو آپ نے خدا کی بارگاہ میں عرض کیا:

"رب انی مؤمنة بک و بما جاء من عندک من  رسل و کتب و انّی مصدقة بکلام جدی ابراھیم الخلیل فبحق الذی بنی ھذا البیت و بحق المولود الذی فی بطنی لما یسَّرت علیَّ ولادتی۔

بارالھا! میں تجھ پر ایمان رکھتی ہوں اور تو نے جو رسول بھیجے ہیں اور جو کتابیں نازل کی ہیں ان پر ایمان رکھتی ہوں ، میں اس گھر کی بنیاد رکھنے والے اپنے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے کلام کی تصدیق کرتی ہوں اور اپنے شکم میں موجود بچے کا واسطہ دے کر کہتی ہوں مجھ پر اس کی ولادت کو آسان فرما۔

یزید کہتا ہے کہ ہم نے دیکھا کہ دیوار کعبہ شق ہوئی اور جناب فاطمہ بیت اللہ میں داخل ہو گئیں اور ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئیں، دیوار کا شگاف آپس میں مل گیا۔ ہم نے کوشش کی کہ دروازے پر لگا تالا کھولیں لیکن وہ نہ کھل سکا تو ہم نے سوچا کہ یقینا خدا کا یھی حکم ہے۔

تین دن بعد فاطمہ بنت اسد (س) باہر تشریف لائیں تو آپ نے حضرت امیر المؤمنین کو اٹھایا ہوا تھا، آپ فرماتی ہیں: جب میں بیت اللہ سے باہر نکلنے لگی تو ہاتف غیبی کی جانب سے یہ آواز بلند ہوئی اے فاطمہ اس کا نام علی (ع) رکھنا۔

بحار الانوار ج 35 ص 8

حضرت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی والدہ فاطمہ بنت اسد فرماتی ہیں کہ:

 خداوند نے مجھے پہلی تمام خواتین پر فضیلت عطا فرمائی کیونکہ آسیہ بنت مزاحم، خداوند کی عبادت چھپ کر وہاں کیا کرتیں تھیں جہاں خداوند اضطراری حالت کے علاوہ عبادت کو پسند نہیں کرتا اور مریم بنت عمران کھجور کی شاخوں کو اپنے ہاتھوں سے نیچے کرتیں تا کہ اس سے خشک کھجوریں کھا سکیں جبکہ میں بیت اللہ میں جنت کے پھل کھاتی رہی اور جب میں نے بیت اللہ سے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو ہاتف غیبی کی آواز آئی:

 اے فاطمہ اسکا نام علی (ع) رکھنا کیونکہ یہ علی (ع) ہے اور اللہ علی الاعلیٰ ہے مزید فرمایا اسکا نام میرے نام سے نکلا ہے، میں نے اسے اپنا ادب عطا کیا ہے اور اپنے پوشیدہ علوم سے آگاہ کیا ہے یھی میرے گھر میں موجود  بتوں کو توڑے گا ، اس کی محبت اور اطاعت کرنے والا خوش بخت ہے  اور اس سے بغض رکھنے اور نافرمانی کرنیوالے کے لیے لعنت اور بدبختی ہے۔

کشف الغمہ ج 1 ص 60

سید حمیری ، حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی ولادت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: 

        ولدتہ فی حرمِ إلا لہ و امنہ

       والبیت حیث فنائہ والمسجدُ

        بیضاء طاھرة الثیاب کریمۃ

       طابت وطاب ولیدھا والمولدُ

      فی لیلة غابت نحوس نجومھا

      وبدت مع القمر المنیر الاسعدُ

      ما لُفَّ فی خرق القوابل مثلہ

      الا ابن آمنة النبی محمد 

ترجمہ اشعار:

صرف اس خاتون نے حرم الٰہی اور جائے امن میں اسے پیدا کیا اور بیت اللہ اور مسجد اس کے صحن کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ چمکدار لباس، پاکیزگی سے مزّین اور شرافت والی ہے۔ یہ ایک ایسی رات تھی جب نحس ستارے چھپ گئے اور قمر منیر کے ساتھ یہ نیک اور سعید ستارہ نمودار ہوا، وہ پاک ہے اس کا مولود بھی پاک ہے اور اس کی جائے ولادت بھی پاک ہے اس  جیسے (نجیب) کو کپڑوں میں نہیں لپیٹا جا سکتا مگر آمنہ کے لال نبی احمد (ص) کے دست مبارک سے۔

منتھی الامال ج 1 ص 283

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ بنت اسد علیہا السلام سے فرمایا:

اس کو میرے بستر کے قریب رہنے دیا کرو ۔ اکثرحضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی علیہ السلام کی تربیت کے فرائض انجام دیتے ، نہلانے کے وقت ان کو نہلاتے، بھوک کے وقت دودھ پلاتے، نیند کے وقت جھولا جھلاتے اور بیداری کے وقت ان کو لوریاں سناتے تھے ۔ اپنے سینے اور کندھوں پر سوار کر کے فرمایا کرتے تھے۔ یہ میرا بھائی ، ولی ، مددگار، وصی، خزانہ اور قلعہ ہے۔

کشف الغمہ ج 1 ص 60

کتاب مستدرک میں حاکم کہتے ہیں کہ: اس سلسلے میں تواتر کے ساتھ روایات موجود ہیں کہ جناب فاطمہ بنت اسد نے حضرت امیر المؤمین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو خانہ کعبہ میں دنیا میں لایا۔

مستدرک الصحیحین ج 3 ص 483

کتاب نور الابصار میں اس طرح ذکر ہوا ہے کہ :  حضرت علی علیہ السلام مکہ میں خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے۔ ایک قول کے مطابق آپ کی ولادت 13 رجب ،30 عام الفیل، بروز جمعہ ہوئی یعنی ہجرت سے 23 سال پہلے اور بعض مؤرخین کے مطابق 25 سال پہلے یعنی بعثت سے 12 سال پہلے اور بعض کہتے ہیں کہ بعثت سے 10 سال پہلے پیدا ہوئے اور آپ سے پہلے کوئی بھی بیت اللہ میں پیدا نہیں ہوا۔

نور الابصار ص 19

امتیازات اور خصائص:

اسم گرامی :

اخطب خوارزم کہتے ہیں کہ آپ کا مشھور نام (حضرت ) علی (ع) ہے اور آپ کے ناموں میں اسد اور حیدر کا بھی ذکر ہوا ہے کیونکہ حضرت علی علیہ السلام خود فرماتے ہیں کہ:

سمّتنی امی حیدرہ،

میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے۔

 اور اشعار میں بھی اس کا ذکر ہے:

اسد ا لا لہ و سیفہ و قنا تہ           کا لظفر یوم صیالہ و الناب

جا ء النداء من السماء و سیفہ    بدم الکماة یلجُ فی التسکاب

لاسیف الا ذوالفقار و لافتیً              الا علیٌّ ھازم الا حزاب

یہ اللہ کا شیر ہے اور اس کی تلوار اور نیزہ جنگ کے دن کامیابی یے ، آسمان سے صدا آئی کہ اس کی اس تلوار مسلح بہادروں کے خون کے ساتھ سمندر میں تیرتی ہے ،جو تلوار خون کی ندیاں بہا دیتی ہے اور کشتوں کے پشتے لگا دیتی ہے۔ وہ ندا یہ تھی کہ ذوالفقار کے علاوہ کوئی تلوار نہیں ہے اور حضرت  علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی بہادر نہیں ہے جو جنگ میں جتھوں کو شکست دینے والے ہیں۔

مناقب خوارزمی ص 37، 38

      کنیت:

حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی جو کنیتیں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہیں وہ یہ ہیں:

   ابو الحسن، ابو الحسین، ابو السبطین، ابو الریحانتین و ابو تراب، ابو الآئمہ،

الحاج علی محمد علی دخیل کی کتاب آئمتنا ج1 ص 31

خوارزمی نے مناقب میں آپ کی کنیت میں ابو محمد کا اضافہ کیا ہے۔  

   حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ:

 حسن (ع) اور حسین (ع)  نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات میں کبھی مجھے یا اباہ (اے ابا جان) کہہ کے نہیں پکارا بلکہ وہ ہمیشہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یا اباہ کہتے تھے جبکہ حسن (ع) مجھے یا ابا الحسین، اور حسین(ع) مجھے یا ابا الحسن کہہ کر پکارتے تھے۔

مناقب خوارزمی ص 40

      لقب :

حضرت کے القاب مندرجہ ذیل ہیں:

"امیر الموٴمنین، یعسوب الدین و المسلمین، مبیر الشرک و المشرکین ، قاتل الناکثین و القاسطین و المارقین مولی الموٴمنین شبیہ ھارون المرتضی نفس الرسول، اٴخوہ رسول زوج البتول، سیف الله المسلول، اٴبو السبطین اٴمیر البررہ، قاتل الفجرہ، قسیم الجنة والنار ، صاحب اللواء، سید العرب والعجم، وخاصف النعل کاشف الکرب، الصدّیق الاٴکبر، ابو الریحا نتین ، ذوالقرنین ، الھادی ، الفاروق الاعظم، الواعی، الشاھد، و باب المدینة  و بیضة البلد، الولي ، و الوصي  ، و قاضی دین الرسول، و منجز وعدہ۔

مناقب خوازمی ص 40

      نسب شریف:

 حضرت علی علیہ السلام کے والدحضرت ابو طالب ہیں ( جنکا نام عبد مناف بن قصی ہے) آپ عبد المطلب (جن کا نام شیبہ ہے) بن ہاشم (عمرو) بن عبد مناف بن قصی کے فرزند ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام کا نام سب سے پہلے آپ (ع) کی والدہ نے اپنے والد اسد بن ہاشم کے نام پر حیدر رکھا تھا، اسد اور حیدر کے ایک ہی معنی ہیں پھر آپ کے  والد نے آپ (ع) کا نام علی رکھا۔

حضرت ابو طالب (ع) کی والدہ کا نسب یہ ہے: فاطمہ بنت عمرو بن عائد بن عمران بن محزوم، آپ حضرت رسول اکرم (ص) کے والد حضرت عبد اللہ کی بھی مادر گرامی ہیں۔

 حضرت علی علیہ السلام کی والدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی ہیں آپ ہی پہلی ہاشمیہ ہیں جن سے ایک ہاشمی پیدا ہوا۔

حضرت علی علیہ السلام اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ جعفر آپ سے  10 سال بڑے تھے ، عقیل ، جعفر سے 10 سال بڑے تھے اور طالب ، عقیل سے 10 سال بڑے تھے، فاطمہ بنت اسد کی والدہ فاطمہ بنت ہرم بن رواحہ بن حجر بن عبد بن معیص بن عامر بن لوی تھیں۔

شرح نھج البلاغہ ج 1 ص 11 _ 14

خوارزمی نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے نسب کے متعلق یہ اشعار کہے ہیں:

نسب المطھرّبین اٴنساب الوری        کالشمس بین کواکب  الاٴنساب

والشمس ان طلعت فما من کوکب      الا تغیّب  فی نقاب حجاب

اس پاک و پاکیزہ ہستی کا نسب تمام نسبوں میں ایسے ہے جیسے خورشید ستاروں کے درمیان طلوع ہوتا ہے تو تمام ستارے غائب ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ کہ سورج تاریکی کے پردے میں چلا جائے۔

مناقب خوارزمی ص 48

آپ کا  حلیہ مبارک:

حضرت علی علیہ السلام کا قد میانہ تھا، آپ کی آنکھیں سیاہ اور بڑی تھیں آپ (ع) کا چھرہ چودہویں کے چاند کی مانند خوبصورت تھا ، پیٹ مناسب حد تک بڑا، سینے پر بال اور دوسرے اعضاء مضبوط اور مناسب تھے، آپ کی گردن چاندی کی صراحی کی مانند تھی اور آپ کے بال خفیف تھے۔ آپ کی ناک لمبی اور خوبصورت تھی آپ کے جوڑ  شیر کی طرح مضبوط تھے اور جس پر بہت سے لوگ مل کر نہ قابو کر سکتے ہوں اسے آپ تنھا اپنے قبضہ میں کر لیتے اور وہ سانس تک نہ لے سکتا۔

نصر بن مزاحم کی کتاب، واقعہ صفین ،ص 233

 امام علی  (ع)اور قرآن کریم:

رسول اللہ (ص) کے فرامین کی روشنی میں یہ امر مسلم ہے کہ قرآن اور اہل بیت (ع) ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں اور دونوں مل کر انسانوں کی ہدایت و راہنمائی کے لیے مینارہ نور ہیں۔ ان کے دامن سے تمسک ہی ابدی سعادت و کامیابی کی ضمانت ہے۔ کیونکہ آنحضرت (ص) نے اپنی مشہور حدیث ثقلین میں ارشاد فرمایا کہ:

"انی اوشک ان ادعی فاجیب، وانی تارک فیکم الثقلین: کتاب اللہ، وعترتی، کتاب اللہ حبل ممدود من السماءالی الارض، وعترتی اھل بیتی، وان اللطیف الخبیر اخبرنی انہما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض فانظرونی بما تخلفونی فِیھِما،

یعنی: "مجھے جلدی دعوت دی جانے والی ہے اور میں اس پر لبیک کہنے والا ہوں، میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت، کتاب الٰہی آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی رسی ہے۔ میری عترت، میرے اہل بیت ہیں، اور لطیف و خبیر اللہ نے مجھے  خبر دی ہے کہ یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے، یہاں تک کہ میرے پاس حوض (کوثر) تک پہنچ جائیں۔ پس تم دیکھنا کہ میرے بعد ان کے ساتھ کیسا سلوک کرو گے۔"

مسند احمد بن حنبل: ج2 ص 71

مناقب ابن المغازی الشافعی:ص532 حدیث 182  

علی علیہ السلام اہل بیت (ع) کی اہم شخصیت ہیں، اس حدیث میں انہیں اور قرآن کو لازم و ملزوم، اور علی (ع) کو قرآن کے ہم پلہ قرار دیا گیا ہے۔ اِسی مطلب کو پیغمبر اسلام (ص) نے اپنی ایک اور حدیث میں یوں بیان فرمایا ہے:

"علی مع القرآن، و القرآن مع علی، لا یفترقان حتی یردا علی الحوض"

یعنی: "علی (ع) قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی (ع) کے ساتھ ہیں، یہ دونوں آپس میں جدا نہ ہوں گے، یہاں تک کہ میرے پاس حوض پر پہنچ جائیں"

حافظ قندوزی: ینابیع المودة، ص9  

کشف الغمہ باب مناقب، ج1 ص 991

اس حدیث میں بھی علی (ع) اور قرآن کو لازم و ملزوم قرار دیا گیا ہے۔ یعنی علی (ع) اور قرآن کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہ ساتھ قیامت تک رہے گا۔

ہم دیکھتے ہیں کہ نزول قرآن کی ابتداء سے لے کر انتہا تک علی (ع) رسول اللہ (ص) کے ساتھ رہے ہیں، جب پہلی وحی نازل ہوئی تو علی (ع) آنحضرت کے ہمراہ غار حراء میں موجود تھے۔ اس بارے میں جناب امیر (ع) خطبہ قاصعہ میں فرماتے ہیں۔

"و لقد کان یجاور فی کل سنة بحراء فاراہ و لا یراہ غیری، و لم یجمع بیت واحد یومئذ فی الاسلام غیر رسول اللہ و خدیجة و انا ثالثھما، اری نور الوحی و الرسالة، اشم ریح النبوة، و لقد سمعت رنہ الشیطان حین نزل الوحی علیہ فقلت: یا رسول اللہ، ما ھذہ الرنّہ؟ فقال ھذا الشیطان آیس من عبادتہ، انّک تسمع ما اسمع، و تری ما اری الا انک لست بنبی و لکنّک لَوَزیر و انّک لعلی خیر"

یعنی: "آپ (ص) ہر سال (کوہ) حرا میں کچھ عرصہ قیام فرماتے اور وہاں میرے علاوہ کوئی انہیں نہیں دیکھتا تھا۔ اس وقت رسول اللہ (ص) اور (ام المومنین) خدیجہ کے گھر کے علاوہ کسی گھر کی چار دیواری میں اسلام نہ تھا، البتہ ان میں تیسرا میں تھا۔ میں وحی و رسالت کا نور دیکھتا تھا اور نبوت کی خوشبو سونگھتا تھا۔ جب آپ (ص) پر (پہلے پہل) وحی نازل ہوئی تو میں نے شیطان کی ایک چیخ سُنی، جس پر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ (ص) یہ آواز کیسی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ  یہ شیطان ہے کہ جو اپنے پوجے جانے سے مایوس ہوگیا ہے۔ (اے علی!) جو میں سنتا ہوں تم بھی سنتے ہو اور جو میں دیکھتا ہوں تم بھی دیکھتے ہو، فرق یہ ہے کہ تم نبی نہیں ہو، بلکہ وزیر اور جانشین ہو اور یقیناً بھلائی کی راہ پر ہو۔"

 نہج البلاغہ ، ترجمہ مفتی جعفر حسین،خطبہ 91 ص 545

اس عبارت میں علی (ع) نے اپنے چند فضائل کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ان میں ایک وحی کے نور کو دیکھنا اور نزول وحی کے وقت شیطان کی چیخ کو سننا ہے۔ نزول وحی کے وقت علی (ع) کا آنحضرت کے پاس ہونا ایسا مسئلہ ہے جسے ابن ابی الحدید نے بھی شرح نہج البلاغہ میں ذکر کیا ہے:

"و اما حدیث مجاورتہ بحراء فمشہور حتی جاءت السنة التی اکرمہ اللہ فیھا بالرسالة، فجاور فی حراء شھر رمضان و معہ اھلہ خدیجة و علی بن ابی طالب و خادم لھم، فجاءہ جبرئیل بالرسالة"

یعنی: "آپ کے غار حراء میں جانے کی بات بڑی مشہور ہے۔۔۔۔۔یہانتک کہ وہ سال آن پہنچا، جس میں اللہ تعالٰی نے آپ (ص) کو رسالت پر مبعوث فرمایا، چنانچہ آپ (ص) ماہ رمضان میں حراء میں تشریف لے گئے آپ کے ہمراہ آپ کی زوجہ خدیجہ(س)، علی ابن ابی طالب (ع) اور ان کے خادم تھے۔ پس جبرائیل (ع) (پیغام) رسالت لے کر آئے۔"

شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید: ج31 ص 802

امیر المومنین علی (ع) نزول وحی کے 32 سالہ دور میں چند مواقع کے علاوہ باقی تمام اوقات میں آنحضرت (ص) کے ہمراہ رہے۔ صرف شب ہجرت اور وہ بھی خود حضور (ص) کے حکم پر، اور جنگ تبوک اور یمن میں ماموریت کے دوران آپ سے الگ رہے۔ اس لیے وہ نزول قرآن اور اس کی کیفیات، شان نزول، ناسخ و منسوخ، عام و خاص، محکم و متشابہ، ترتیب نزولی اور اعراب کے بارے میں سب سے زیادہ عالم ہیں۔

اس بارے میں وہ خود فرماتے ہیں۔ سلیم بن قیس روایت کرتے ہیں کہ میں امیر المؤمنین (ع) سے سُنا کہ انہوں نے فرمایا:

"ما نزلت آیة علی رسول اللہ ص الا اقرانیھا و املاھا علی فاکتبھا بخطی، و عَلَّمَنِی تاویلھا و تفسیرھا، و ناسخھا و منسوخھا و محکمھا و متشابھھا و دعا اللہ لی ان یعلمنی فھمھا و حفظھا، فما نسیت آیة من کتاب اللہ و لا علما املاہ علی فکتبتہ منذ دعا لی ما دعا و ما ترک شیئا علمہ اللہ من حلال و لا حرام و لا امر و لا نہی کان اولا یکون من طاعة او معصیة الا علمنیہ و حفظتہ......"

یعنی: "رسول اللہ (ص) پر جو بھی آیت نازل ہوتی، وہ آپ میرے سامنے پڑھتے اور مجھے لکھواتے، پس میں اپنے ہاتھوں سے اسے لکھ لیتا، آنحضرت نے مجھے آیات کی تاویل اور تفسیر سکھائی، ان میں ناسخ و منسوخ اور محکم و متشابہہ کے بارے میں بتایا اور اللہ تعالٰی سے میرے لیے دعا فرمائی کہ مجھے آیات کا علم و فہم عطا فرمائے اور ان کو میرے ذہن میں محفوظ رکھے، پس آپکی اس دعا کے بعد کتاب الٰہی سے نہ میں کوئی آیت بھولا اور نہ کوئی علمی مطلب فراموش کیا، جو آپ نے مجھے لکھوایا تھا۔ آنحضرت (ص) کو اللہ تعالٰی نے جو کچھ حلال، حرام، امرونہی، اور جو اطاعت و نافرمانی ہو چکی ہے یا ہونا باقی ہے، کے بارے میں سکھایا تھا، اس سب کی آپ نے مجھے تعلیم دی اور اس میں سے میں نے کسی چیز کو نہیں چھوڑا، میں نے ان سب کو حفظ کر لیا۔"

تفسیر البرھان: ج1 ص 61

تفسیر العیاشی: ج 1 ص41

ایک اور حدیث میں ابو طفیل نے بیان کیا ہے کہ علی (ع) نے فرمایا:

"سلونی عن کتاب اللہ فانہ لیس من آیة الا و قد عرفت بلیل نزلت ام نھار ام فی سھل ام فی جبل"

یعنی: "مجھ سے قرآن کے بارے میں پوچھو، کیونکہ قرآن کی کوئی آیت ایسی نہیں جس کے متعلق میں نہ جانتا ہوں کہ وہ رات کو نازل ہوئی یا دن کو، میدان میں نازل ہوئی یا پہاڑ پر"

ینابیع المودة: ص 56

اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا:

"واللہ ما من حرف نزل علی محمد الا انی اعرف فیمن انزل و فی ایّ یوم و فی ایّ موضع"

یعنی: "خدا کی قسم! محمد (ص) پر کوئی ایسا حرف (آیت) نازل نہیں ہوا، مگر میں اُسے جانتا ہوں کہ کس کے بارے میں نازل ہوا، کس دن اور کس موقعہ پر نازل ہوا۔"

تفسیر العیاشی ج1 ص 41

قرآن مجید کی آیات کے بارے میں مذکورہ معلومات کے علاوہ قرآن میں موجود علوم و معارف اور حقائق الہیہ کے بھی آپ سب سے بڑے عالم تھے اور پہلے حافظ قرآن بھی تھے۔ ابن ابی الحدید کہتے ہیں:

"اتفق الکل علی ان علیاً (علیہ السلام) کان یحفظ القرآن علی عھد رسول اللہ ص ولم یکن غیرہ یحفظہ"

یعنی: "اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ رسول اللہ (ص) کے دور میں ہی علی (ع) قرآن کے حافظ تھے اور ان کے علاوہ کوئی دوسرا حافظ نہ تھا۔"

شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید: ج 1 ص 72

قرآنی علوم و حقائق کے متعلق جناب امیر علیہ السلام کے علم بارے میں صحابی رسول (ص) ابن مسعود بیان کرتے ہیں:

"نزل القرآن علی سبعة احرف لہ ظھر و بطن، و عند علی (علیہالسلام) علم القرآن ظاہرہ و باطنہ"

یعنی: "قرآن مجید سات حرفوں پر نازل ہوا ہے، اس کا ظاہر ہے اور باطن ہے اور علی (ع) کے پاس علمِ قرآن ہے، اس کے ظاہر کا بھی علم ہے اور باطن کا بھی"

ینابیع المودة: ص 7

حافظ قندوزی حنفی نے نقل کیا ہے کہ:

"قال علی (ع) لو شئت لاوقرت من تفسیر الفاتحة سبعین بعیرا"

یعنی: "علی (ع) نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں سورہ فاتحہ کی اتنی تفسیر بیان کروں (کہ اگر لکھی جائے تو) ستر اونٹوں کا بوجھ بن جائے۔"

ینابیع المودة: ص 56

شیعہ و سنی دونوں کی روایات میں بیان ہوا ہے کہ حضرت علی (ع) قرآن کی تاویل کے مسئلے پر جہاد کریں گے، س طرح پیغمبر اکرم (ص نے قرآن کی تنزیل پر جہاد کیا تھا۔ ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں، ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ  میں نے رسول اللہ (ص سے سُنا کہ آپ نے فرمایا:

"ان منکم من یقاتل علی تاویل القرآن کم قاتلت علی تنزیلہ فقال ابو بکر: انا یا رسول اللہ ؟ قال "لا"قال عمر: انا ؟ قال رسول اللہ "لا و لکنہ خاصف النعل" و کان اعطی علیا نعلہ یخصفھا "

یعنی: "تم میں سے ایک شخص تاویل قرآن پر جنگ کرے گا،جس طرح میں نے اس کی تنزیل پر جنگ کی ہے۔ حضرت ابو بکر نے پوچھا: یا رسول اللہ (ص)! کیا وہ میں ہوں؟ آپ نے فرمایا نہیں، حضرت عمر نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ میں ہوں؟ آپ نے جواب دیا: نہیں بلکہ وہ جوتا گانٹھنے والا ہے۔ "اور علی (ع) اس وقت اپنے جوتے کو پیوند لگا رہے تھے۔"

تاریخ دمشق حالات زندگی امام علی - ج3 ص 821 حدیث نمبر 711

رسول خدا (ص) کی رحلت کے بعد حضرت علی (ع) نے قرآن کی جمع آوری کا کام انجام دیا اور آپ سب سے پہلے قرآن کے جمع کرنے والے ہیں۔ ابن ابی الحدید کہتے ہیں:

"اتفق الکل علی انّہ اول من جمعہ"

یعنی: "سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سب سے پہلے قرآن حضرت علی (ع) نے جمع کیا"

شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید: ج1 ص 76

زرقانی  نے کہا ہے کہ:

"و اذن لا یضیرنا فی ھذا البحث ان یقال: ان علیا اول من جمع القرآن بعد رسول اللہ"

یعنی: "اس بحث میں اس بات کے ماننے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ رسول اللہ (ص) کے بعد سب سے پہلے قرآن حضرت علی (ع) نے جمع کیا ہے۔"

مناھل العرفان: ج1 ص 742

علی (ع) وہ واحد ذات ہیں، جن کو رسول اکرم (ص) نے قرآن کے بارے میں وصیت فرمائی، اگرچہ قرآن امت کے حوالے ہو گیا تھا اور پورا قرآن امت کے پاس موجود تھا، مگر اس کا محمدی (ص) نسخہ بیت مصطفی (ص) میں موجود تھا، اس نسخہ کے وارث علی ابن ابیطالب (ع) تھے۔ اس بنا پر رسالت ماب نے قرآن ان کے حوالے کیا اور اُسے جمع کرنے کی وصیت فرمائی۔ چنانچہ ابن شہر آشوب، ابو رافع سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا  (ص) نے مرض الموت میں فرمایا:

"یا علی ھذا کتاب اللہ خذہ الیک" فجمعہ علی (علیہ السلام) فی ثوب، فمضٰی الی منزلہ، فلما قبض النبی، جلس علی (ع) فالفہ کما انزلہ اللہ و کان بہ عالما"

یعنی: "اے علی یہ کتاب خدا ہے، اسے اپنے پاس لے جا" چنانچہ حضرت علی (ع) نے قرآن کو ایک کپڑے میں جمع کیا اور اپنے گھر لے گئے، رسول اللہ (ص) کی وفات کے بعد آپ نے اس طرح قرآن کی تالیف فرمائی جیسے اللہ تعالٰی نے نازل فرمایا تھا اور آپ اس کو بخوبی جانتے تھے۔"

المناقب ابن شہر آشوب: ج2 ص 14

 بحارالانوار: ج 29 ص 15

اس موضوع کے بارے میں اور بھی کافی روایات ہیں، لیکن مطلب کو ثابت کرنے کے لیے صرف دو اور روایات نقل کی جاتی ہیں:

مناقب ابن شہر آشوب میں ہے کہ ابو العلا العطار اور خطیب خوارزم الموفق نے اپنی کتابوں میں علی بن رباح کی سند سے نقل کیا ہے کہ:

"ان النبی (ص) امر علیا بتالیف القرآن، فالفہ و کتبہ"

یعنی: "نبی کریم (ص) نے علی (ع) کو قرآن جمع کرنے کا حکم دیا، چنانچہ انہوں نے اسے جمع کیا اور لکھا"

المناقب ابن شہر آشوب: ج2 ص 14

بحارالانوار: ج 29 ص 25

علی بن ابراہیم قمی کی تفسیر میں ہے کہ ابو بکر حضرمی نے امام جعفر صادق (ع) سے نقل کیا ہے کہ:

"ان رسول اللہ (ص) قال لعلی: یا علی القرآن خلف فراشی فی الصحف و الحریر و القراطیس فخذوہ و اجمعوہ و لا تضیعوہ کما ضیعت الیھود التوراة"

یعنی: "رسول خدا (ص) نے علی (ع) سے فرمایا: یاعلی! قرآن میری خواب گاہ کے پیچھے ابریشم اور کاغذوں میں ہے، اس کو اپنے پاس لے جائیں اور جمع کر لیجئے اور ضائع نہ ہونے دیجئے۔ جس طرح یہودیوں نے تورات کو ضائع کر دیا۔"

تفسیر علی بن ابراہیم قمی: ج2 ص 154

بحار الانوار: ج 29 ص 84

حضرت علی (ع) نے رسول خدا (ص) کی وصیت اور فرمان پر پورے طور پر عمل کیا اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے، جب تک کہ قرآن کو جمع نہ کر لیا۔ مناقب میں ابن شہر آشوب اپنی سند سے سدی کے ذریعے عبد  خیر سے نقل کرتے ہیں کہ علی (ع) نے فرمایا ہے کہ:

"لما قبض رسول اللہ (ص) اقسمت او حلفت ان لا اضع ردائی عن ظھری حتی اجمع ما بین اللوحین، فما وضعت ردای حتی جمعت القرآن "

یعنی: "جب رسول اللہ (ص) کا وصال ہوا تو میں نے قسم کھائی کہ میں اپنی عبا زیب تن نہیں کروں گا جب تک اسے جمع نہ کر لوں، جو تختیوں کے درمیان ہے، اور میں نے عبا نہیں ڈالی یہاں تک کہ قرآن کو جمع کر لیا۔"

المناقب ابن شہر آشوب: ج 2 ص 381

سیوطی نے محمد بن سیرین سے نقل کیا ہے کہ حضرت علی (ع) نے فرمایا ہے کہ:

"لما مات رسول اللہ صلی اللہ علیہ (وآلہ ) وسلم الیت ان لا اخذ علی ردائی الا لصلوة الجمعہ حتی اجمع القرآن فجمعہ"

یعنی: "جب رسول خدا (ص) نے رحلت فرمائی تو میں نے قسم کھائی کہ نماز جمعہ کے علاوہ اپنی عبا نہیں ڈالوں گا (یعنی گھر سے باہر نہ نکلوں) جب تک قرآن کو جمع نہ کر لوں، چنانچہ انہوں نے قرآن کو جمع فرمایا۔"

الاتقان فی علوم القرآن: ج 1 ص 381

حضرت علی (ع) نے جو قرآن مجید جمع کیا تھا، اس کی انفرادیت اور خصوصیات یہ تھیں۔ عکرمہ کہتے ہیں:

"لو اجتمعت الانس و الجن علی ان یولفوہ ھذا التالیف ما استطاعوا"

یعنی: "اگر جن و انس اس بات پر جمع ہو جائیں کہ اس طرح سے قرآن کو جمع و ترتیب دیں، تو وہ ایسا نہیں کر سکتے"

الاتقان فی علوم القرآن: ج1 ص 95

ابن جزی کلبی کہتے ہیں کہ:

"لو وجد مصحفہ علیہ السلام لکان فیہ علم کثیر"

یعنی: "اگر علی (ع) کا مصحف میسر آ جاتا تو ایک علم کثیر ہاتھ آ جاتا۔"

الستھیل لعلوم التنزیل: ج1،ص4

ابن سیرین کہتے ہیں:

"لو اصبت ذالک الکتاب لکان فیہ العلم"

یعنی: "اگر یہ کتاب میسر آ جاتی تو اس سے علم مل جاتا"

الطبقات الکبری: ج2ص 883

شیخ مفید اپنی کتاب الارشاد میں لکھتے ہیں کہ:

"ان علیا قدم فی مصحفہ المنسوخ علی الناسخ و کتب فیہ تاویل بعض الایات وتفسیر ھا بالتفصیل"

یعنی: "علی (ع) نے اپنے مصحف میں پہلے منسوخ آیات پھر ناسخ آیات لکھیں، اس میں بعض آیات کی تاویل اور ان کی تفصیل کے ساتھ تفسیر بیان کی۔"

آلاء الرحمن: ج1 ص 75

فیض کاشانی نے اپنی کتاب وافی میں کہا ہے:

علی (ع) نے قرآن کی تفسیر، شان نزول اور آیات خود رسول خدا (ص) کی املاء سے لکھی تھیں۔ چنانچہ خود حضرت علی (ع) نے فرمایا:

"ولقد جِئتُھم بالکتاب مشتملاً علی التنزیل و التاویل"

یعنی: "میں ان کے پاس قرآن لایا تھا جو تنزیل اور تاویل دونوں پر مشتمل ہے۔"

ان نصوص سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ صرف تنزیل پر منحصر نہ تھا، جیسا کہ باقی قرآن ہیں۔ یعنی وہ صرف قرآن کی آیات ہی پر مشتمل نہ تھا، بلکہ اس میں تفسیر اور تاویل بھی تھی۔

معاصر محقق شیخ ہادی معرفت نے امیر المؤمنین علی (ع) کے مصحف کے اوصاف کچھ یوں بیان کیے ہیں۔

اول: یہ قرآن آیات کی ترتیب نزولی کے لحاظ سے مرتب کیا گیا تھا، جو آیات پہلے اتریں انہیں پہلے اور جو بعد میں اتریں انہیں بعد میں درج کیا گیا۔

دوم: اس میں تمام آیات بغیر کسی کمی بیشی اور تبدیلی کے درج تھیں۔

سوم: یہ قرآن حرف بہ حرف رسول اللہ (ص) کی قرات کے مطابق تھا۔

چہارم: یہ قرآن کی آیات کے متعلق تشریحات اور توضیحات پر مشتمل تھا اور آیات کے نزول کی مناسبتوں، شان نزول، وہ جگہ جہاں آیت نازل ہوئی، وہ وقت جب آیت نازل ہوئی، اور وہ افراد جن کے حق میں اور جن کی مذمت میں نازل ہوئی، یہ سب تفصیلات اس میں مذکورہ تھیں۔ (البتہ واضح ہے کہ یہ سب اس کے حاشیے پر تھا)

پنجم: یہ قرآن آیات کے عمومی اور کلی پہلوؤں کو بھی بیان کرتا تھا یعنی: آیات کے وہ پہلو جو کسی خاص زمان، مکان اور افراد سے مختص نہیں تھے۔ یہ مطالب سورج اور چاند کی طرح جاری و ساری رہتے ہیں اور یہی مطلب ہے تاویل کا، جس کو آپ نے اپنے کلام میں ذکر کیا ہے:

"ولقد جئتھم بالکتاب مشتملا علی التاویل والتنزیل"

یعنی: "میں ان کے پاس ایسی کتاب لایا (قرآن) جو تاویل اور تنزیل پر مشتمل تھی۔"

تنزیل سے مراد وہ وقتی مناسبت اور سبب ہے جو آیت کے نزول کا باعث بنا اور تاویل وہ کلی اور عمومی مطلب ہے۔ جو تمام زمانوں میں جاری وساری ہے۔

علی (ع) کا جمع کیا ہوا قرآن ان تمام حقائق اور نکات پر مشتمل تھا جو انہوں نے رسول اکرم (ص) سے حاصل کئے تھے۔ اس میں نہ تو کوئی چیز انہیں بھولی تھی اور نہ کوئی چیز ان پر مشتبہ تھی۔

التمھید فی علوم القرآن: ج1 ص 922

موقع کی مناسبت سے ہم امیرالمومنین علی ابن ابی طالب (ع) کا وہ قول دوبارہ بیان کرتے ہیں، جو تفسیر البرھان اور العیاشی میں نقل ہوا ہے۔ انہوں نے فرمایا:

رسول اللہ (ص) پر جو آیت اترتی، آپ (ص) اُسے میرے سامنے پڑھتے اور مجھے لکھواتے، چنانچہ میں اپنے ہاتھوں سے اسے لکھ لیتا، آنحضرت نے مجھے آیات کی تاویل اور تفسیر سمجھائی، ان میں ناسخ و منسوخ اور محکم و متشابہہ کے بارے میں مجھے بتایا اور اللہ سبحانہ سے میرے لئے دعا فرمائی کہ "وہ مجھے آیت کا علم و فہم عطا  فرمائے اور انہیں میرے ذہن میں محفوظ رکھے۔" پس آپ کی دعا کے بعد کتاب الٰہی سے نہ میں کوئی آیت بھولا اور نہ کوئی علمی مطلب فراموش کیا، جو آپ نے مجھے لکھوایا تھا۔

تفسیر البرھان: ج1 ص 61

تفسیر العیاشی: ج1 ص 41

 معلم عدل و عدالت :

امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب کی ذات گرامی سراپا عدل ہے، یہاں تک کہ ایک مشہور قول ہے کہ:

قد قتل لشدة العدل،

آپ عدل میں سخت ہونے کی وجہ سے قتل کیے گئے ہیں۔

جس کے متعلق رسول خدا حضرت محمد مصطفی  (ص)نے ارشاد فرمایا ہے کہ:

  'اقضا کم علی ' اور 'اعلمکم علی ' 'انا دار الحکمة و علی بابہا

تم سب سے زیادہ انصاف کرنے والا علی ہے۔ تم میں سب سے زیادہ علم والا علی ہے۔ میں حکمت کا گھر ہوں اور علی ـ اس کا دروازہ ہے

امام علی : نہج البلاغہ(مترجم مفتی جعفر حسین)،

'انا مدینة العلم و علی بابہا من اراد العلم فالیات بالباب،

میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے ، جو علم چاہتا ہے وہ دروازہ کے پاس آئے ۔

ابن بطریق الاسدی الحلی: العمدة

ابن شہر آشوب:مناقب آل ابی طالب

ابوبکر سے روایت ہے کہ: جب میں اور رسول اکرم شب ہجرت غار سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہو رہے تھے، تو اس وقت رسول ﷲ نے ارشاد فرمایا کہ:

کفّی و کفّ علی فی العدل سواء،

میرا ہاتھ اور علی کا ہاتھ عدل میں برابر ہے۔

ابن عساکر:تاریخ مدینة دمشق

اسی طرح ابو ہریرہ نے کہا ہے کہ:

میں ایک دن رسول اکرم  کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے کچھ کھجوریں رکھی ہوئی تھیں آپ نے ان میں سے ہاتھ بھر کر مجھے عطا کیں وہ 73 تھیں۔ اس کے بعد میں حضرت علی کے پاس آیا اور آپ کے سامنے بھی کھجوریں رکھی ہوئی تھیں اور آپ نے بھی مجھے ہاتھ بھر کر کھجوریں عطا کیں میں نے گنتی کی وہ بھی 73 نکلیں۔ مجھے تعجب ہوا اور میں نے رسول اﷲ کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایاکہ:

انّ یدی و ید علی ابن ابی طالب فی العدل سواء

بے شک میرا ہاتھ اور علی ابن ابی طالبـ کا ہاتھ عدل میں برابر ہے۔

الشیخ الصدوق:من لا یحضرہ الفقیہ

آپ کے متعلق عمر ابن خطاب نے بار بار کہا تھا کہ:

لو لا علی لھلک عمر،

اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا،

امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب فرماتے ہیں کہ:

انّ ﷲ فرض علی الآئمّة العدلِ ان یقدّروا انفسہم بضعفة النّاس کیلا یتبیّغ بالفقیرِ فقرہ۔

اﷲ نے عادل اماموں پر فرض کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مفلس و نادار لوگوں کی سطح پر رکھیں تا کہ فقیر لوگ اپنے فقر کی وجہ سے پیچ و تاب نہ کھائیں۔

الشیخ المفید: الامالی، ص 293

ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں کہ:

و لعلّ بالحجاز او الیمامة من لا طمع لہ فی القرص و لا عہد لہ بالشّبعِ، او ابیتُ مبطاناً و حولی بطون غرثی و کباداً حرّی او اکون کما قال القائل:

و حسبک داء ان تبیت ببطنة و حولک اکباد تحن الی القد،

حجاز و یمامہ میں شاید ایسے بھی لوگ ہوں کہ جنہیں ایک روٹی کے ملنے کی بھی آس نہ ہو ، اور انہیں پیٹ بھر کھانا کبھی نصیب نہ ہوا ہو۔ کیا میں اپنا پیٹ بھر کر سویا رہوں اس حالت میں کہ میرے گرد بھوکے اور پیاسے جگر تڑپتے ہوں ۔ کیا میں کسی شاعر کے اس شعر کا مصداق بن سکتا ہوں؟: تیری بیماری کے لیے یہی کافی ہے کہ تو پیٹ بھر کر سو جائے ، اور تیرے اطراف وہ جگر بھی ہو جو سوکھے چمڑے کو بھی ترس رہے ہوں ۔

نھج البلاغہ، مترجم علامہ مفتی جعفر خطبہ 221

أ أقنعُ من نفسی بان یقال لی امیر المؤمنین و لا اشارکہم فی مکارہِ الدّہر او اکون اسوةً لہم فی جشوبة العیش فما خُلقتُ لیشغلنی اکل الطیّبات کا لبہیمةِ المربوطةِ ہمّہا علفہا ، او المرسلةِ شغلہا تقمّمہا، تکترشُ من اعلافہا و تلھو عمّا یرادُ بھا۔

کیا میں اسی میں مگن رہوں کہ مجھے امیر المؤمنین کہا جاتا ہے ؟ مگر میں زمانے کی سختیوں میں مؤمنوں کا شریک نہ بنوں، اور زندگی کی بدمزگیوں میں ان کے لیے نمونہ نہ بنوں ۔ میں اس لیے تو پیدا نہیں ہوا ہوں کہ میں اچھے اچھے کھانوں کی فکر میں لگا رہوں ۔ اس بندھے ہوئے حیوان کی طرح جسے صرف اپنے چارے ہی کی فکر لگی رہے ہے یا اس کھلے ہوئے جانور کی طرح کہ جس کا کام منہ مارنا ہوتا ہے ، وہ گھاس سے پیٹ بھر لیتا ہے اور جو اس سے مقصد پیش نظر ہوتا ہے اس سے غافل رہتا ہے۔

نہج البلاغہ(مترجم مفتی جعفر حسین)، خطبہ 221

 و ﷲِ لان ابیت علی حسک السعدان مسہّداً او اجّر فی الاغلال مصفدًا احبّ الیّ من ان القی ﷲ و رسولہ یوم القیامة ظالما لبعض العباد و غاسباً لشیئٍ من الحطام و کیف اظلم احداً لنفس الی البلیٰ قفولہا و یطول فی الثریٰ حلولہا۔

خدا کی قسم! اگر مجھے سعدان کے کانٹوں پر جاگتے ہوئے رات گزارنی پڑے ، اور مجھے زنجیروں میں جکڑ کر کھینچا جائے تو یہ میرے لیے اس سے بہتر ہے کہ میں خدا اور اس کے پیغمبر سے اس حالت میں ملاقات کروں کہ میں نے خدا کے بندوں پر ظلم کیا ہو یا مالِ دنیا میں سے کوئی چیز غصب کی ہو، اور میں اس نفس کی آسودگی کے لیے کسی پر کیونکر ظلم کر سکتا ہوں جو فنا کی طرف پلٹنے والا ہے اور مدتوں مٹی کی تہوں میں پڑا رہے گا۔

نہج البلاغہ(مترجم مفتی جعفر حسین)، خطبہ 221

عدل کی حیثیت اور مقام:

عدل اور انصاف کو اسلام کا سب سے بڑا مقصود سمجھا جاتا ہے ، انبیاء کرام کی بعثت اور ادیان کی آمد ، انسانی نظام ِحیات میں وسیع پیمانے پر اسی عدل کو قائم کرنے کے لیے عمل میں آئی ہے:

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِا لْبَیِّنَاتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَھُمْ الْکِتَابَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ،

بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا تاکہ لوگ عدل و انصاف پر قائم رہیں۔

سورة الحدید آیة 25

بنیادی طور پر کوئی بھی قوم یا مکتبِ فکر، سماجی انصاف کو نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ سماجی عدل اور انصاف براہ راست قوموں اور حکومتوں کی بقا سے جڑا ہوا ہے۔ قرآنی آیات کی تعبیر میں میزان جسے دوسرے لفظوں میں عدل کہا جاتا ہے، ایک طرف تو کائنات اور پورے نظامِ ہستی پر حاکم ہے:

وَ السَّمَآئَ رَفَعَہَا وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ۔

اور اسی نے اس آسمان کو بلند کیا اور میزان قائم کیا۔

سورة الرحمن آیہ 7

اسی آیہ کریمہ کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ فیض کاشانی لکھتے ہیں کہ:

و وضع المیزان و العدل بان وفّر علی کلِّ مستعدٍّ مستحقّہ و وفی کلّ ذی حقٍّ حقّہ حتّٰی انتظم امر العالم و استقام کما قال رسول ﷲ صلّی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلّم بالعدلِ قامت السّمٰوات و الارضُ۔

ﷲ تعالی نے میزان اور عدل کو قائم کیا اس طرح کہ ہر صاحب استعداد ، جو حقدار ہے ، پر عنایت کرے اور ہر حقدار کو اس کا حق دے یہاں تک کہ امرِ عالَم منتظم ہو کر سیدھا ہو جائے، جیسا کہ رسول اکرم  نے ارشاد فرمایا ہے کہ: عدل ہی کی وجہ سے ساتوں آسمان اور زمین قائم ہیں۔

فیض کاشانی، تفسیرالصافی، ج 5، ص 107

یہ عدل کی اسلامی تعبیر ہے ، جس پر تمام کائنات کا سہارا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر عدل نہ ہوتا تو اس کائنات کا وجود بھی نہ ہوتا پس یہ کائنات اسی عدل کی وجہ سے قائم ہے۔ آسمان سے پانی برسنا اور زمین سے اناج کا پیدا ہونا، یہ سب عدل ہے۔

دوسری طرف عدل انسانی حیات کے نظام پر حکمران ہونا چاہیے تا کہ وہ عدل کے دائرہ سے خارج نہ ہو۔

اَلّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ۔

تا کہ تم میزان میں تجاوز نہ کرو۔

 سورة الرحمن آیہ 8

پس اسی آیہ کریمہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ عدل انسانوں کی زندگی کے نظام کو افراط اور تفریط سے محفوظ کرتا ہے۔ یعنی نہ اپنے دائرہ حدود سے خارج کرتا ہے اور نہ ہی اپنی حدود سے گھٹاتا ہے۔ جب حضرت علی سے عدل اور سخاوت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ:۔

العدل یضع الامور مواضعہا و الجود یخرجہا عن جہتہا و العدل سائس عام و الجود عارض خاص و العدل اشرفہما و افضلہما۔

عدل امور کو اپنی جگہ پر برقرار کرتا ہے ، لیکن سخاوت امور کو ان کی اپنی جہت سے خارج کر دیتی ہے ، عدل ایک عام اور وسیع سیاست گر ہے لیکن سخاوت اُسی سے مخصوص ہوتی ہے جس سے سخاوت کی جاتی ہے لہٰذا عدل سخاوت سے اشرف اور افضل ہے۔

نہج البلاغہ، قول نمبر 436، ص 944

اس قول کو نقل کرنے کے بعد علامہ مرتضی مطہری شہید تحریر کرتے ہیں کہ: علی کی نظر میں وہ اصول جو معاشرے کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں اور جس کے ذریعے سب کو خوش رکھا جا سکتا ہے، وہ عدل ہے، معاشرے کے جسم کو سلامتی اور اس کے روح کو سکون دے سکتا ہے، تو وہ فقط عدل و انصاف  ہے۔ ظلم و جور اور تجاوز میں اتنی طاقت نہیں کہ جو خود ظالم کی روح کو یا اس شخص کو جس کے فائدے کے لیے ظلم کیا جا رہا ہے اس کو سکون دے سکے، تو کہاں ہو سکتا کہ وہ معاشرے کے مظلوم اور پامال شدہ طبقے کو مطمئن کر سکے۔ عدل وہ وسیع راستہ ہے جو سب کو شامل کیے بغیر کسی مشکل کے ان کو اپنی منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے اور ظلم وہ تنگ اور پیچیدہ راستہ ہے جو خود ظالم کو بھی اس کی منزل مقصود تک نہیں پہنچا سکتا۔

مرتضی مطہّری ،سیری در نہج البلاغہ ،ص 113

امام (ع) نے اس قول میں عدل اور سخاوت کا موازنہ کرتے ہوئے عدل کو ترجیح دیتے ہیں یہ استدلال کرتے ہوئے کہ سخاوت اگرچہ پسندیدہ اور قابلِ ستائش عمل ہے لیکن ہر جگہ یہ سخاوت مؤثر نہیں ہوتی اور نہ ہی ہمیشہ بخشش کی صفت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بخشش اور سخاوت معاشرے میں نظام عدل کے درہم برہم ہونے کا سبب بنتی ہے ۔ بعض افراد کے حق میں سخاوت سے کام لینا بعض افراد کا حق غصب ہونے کا باعث ہوتا ہے۔ لیکن عدل ایسا نہیں ہے۔ اگر ہر انسان کو اس کا واقعی اور حقیقی حق دیدیا جائے تو کسی کے ساتھ ظلم نہیں ہوتا اور نہ کسی کا حق ضائع ہوتاہے۔ لہذا عدل سیاست میں، معاشرہ میں، حکم اور قانون میں ، فیصلہ میں ، حقوق مالی اور سزا وغیرہ کے مسائل میں ایک ایسا عمومی محور ہے، جس کے سائے میں سب امان محسوس کرتے ہیں اور اپنے حقوق ضائع ہونے سے متعلق وحشت اور اضطراب کا احساس نہیں کرتے۔

حضرت علی (ع) ایک اور مقام پر قرآن کی آیۃ:" انّ ﷲ یامر بالعدل و الاحسان، کی تشریح کرتے ہیں کہ: العدل الانصاف و الاحسان التفضل،

عدل کا مطلب انصاف ہے اور احسان کا مطلب بخشش کرنا ہے۔

نہج البلاغہ ، قول نمبر 231،ص 878

 ایک اور مقام پر عدل کے مفہوم کو واضح کرتے ہیں کہ:

انّ العدل میزانُ ﷲِ سبحانہ الذی وضعہ فی الخلق و نصبہ لاقامة الحقّ فلا تخالفہ فی میزانہ و لا تعارضہ سلطانہ۔

بیشک عدل ﷲ سبحانہ و تعالیٰ کا ترازو ہے ،جس کو اس نے اپنے بندوں کے لیے وضع کیا ہے اور حق کو قائم کرنے کے لیے اس کو نصب کیاہے ،پس ﷲ سبحانہ سے اس ترازو کے بارے میں مخالفت نہ کرنا اور نہ ہی اس کی حکومت میں اس سے ٹکرانا۔

شرح درر الحکم و غرر الکلم، ج 2 ص 508

عدل و عدالت ہی زندگی ہے:

اب یہاں پر عدل کے متعلق حضرت علی (ع) کے چند اقوال نقل کیے جا رہے ہیں۔ جو عبد الواحد الآمدی التمیمی نے اپنی کتاب" غرر الحکم و درر الکلم "میں تحریر کیے ہیں:

العدل حیاة الاحکام، عدل احکام کی زندگی ہے۔

العدل حیاة، عدل زندگی ہے۔

عدل سیاسی کے متعلق آپ کے چند اقوال:

العدل فضیلة الانسان، عدل انسان کی فضیلت ہے۔

العدل فضیلة السلطان، عدل حکمران کی فضیلت ہے۔

العدل نظام الامرَةِ ، عدل حکومت کا نظام ہے۔

العدل قوامُ الرعیّة ، عدل رعیت کا قوام ہے۔

العدل یصلح البریة، عدل مخلوق کی اصلاح کرتا ہے۔

الرعیة لا یصلحہا الا العدل، عوام کی اصلاح عدل کے ہی ذریعی ہو سکتی ہے۔

اعدل فیما ولیت ، جن لوگوں کا حکمران بنو ان میں عدل قائم کرو۔

اعدل تدم لک القدرة ، عدل قائم کرو تاکہ تمہاری طاقت دوام حاصل کر سکے۔

عدل کی بنیاد، ایمان ہے:

اس میں شک نہیں کہ ہر شخص ،خاص طور سے اگر وہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھا ہوا ہے، عدل کا مدعی ہے لیکن ان میں سے کون سچا ہے ؟ اس کا معیار کیا ہے ؟ کون عدل پسندی کا دعویٰ کر سکتا ہے ؟ جس کی بات حجت ہو۔

اصولاً عدل کا سرچشمہ کیا ہے ؟ عدل کا سر چشمہ انسان کے باطن سے ہے یا اس کے وجود کے باہر سے ؟

ان تمام سوالوں کا صرف ایک ہی جواب ہے ، وہ یہ ہے کہ : عدل انسان کے باطن سے نمود حاصل کرتا ہے ، اور اس کا سرچشمہ صرف ایمان ہے اور دوسری شاخیں اسی سرچشمہ سے نکلی ہوئی ہیں، جیسا کہ حضرت علی (ع) ایک خطبے میں مؤمن کی صفات بیان کرتے ہیں:

قد الزم نفسہ العدلَ فکان اوّل عدلِہ نفی الہوٰی عن نفسہ۔

اس نے اپنے لیے عدل کو لازم کرلیا ہے چنانچہ اس کے عدل کا پہلا قدم خواہشات کو اپنے نفس سے دور رکھنا ہے ۔

نہج البلاغہ مترجم علامہ مفتی جعفر

اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عدل متقی و پرہیز گا ر انسان کی صفات میں سے ایک اہم صفت ہے جو اسے اپنی نفسانی خواہشات پر عمل کرنے سے روکتی ہے، اور خواہشات پر قابو اس وقت پایا جاتا ہے جب انسان کا اندر صاف ہو اور اس کا ایمان مضبوط ہو۔ اسی طرح ایک اور قول میں ارشاد فرماتے ہیں کہ:

العدل رأس الایمان ، جماع الاحسان و اعلی المراتب الایمانِ۔

عدل ایمان کا سر، احسان کا مجموعہ اور ایمان کے اعلیٰ مراتب میں سے ہے ۔ یہاں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عدل کی بنیاد ایمان ہے۔

نہج البلاغہ، خطبہ 85، ص 259

حضرت علی (ع) عدل کو ایمان کا ستون سمجھتے ہیں کہ:

الایمانُ علیٰ اربع دعائم: علی الصبرِ و الیقینِ والعدل والجہاد... العدلُ منہا علی اربع شعب: علی غائص الفہم، و غور العلم ، و زہرة الحکم و رساخة الحلم۔

ایمان کے چار ستون ہیں صبر ، یقین، عدل اور جہاد اس میں سے عدل کی بھی چار شاخیں ہیں (اول) عدل تہوں تک پہنچنے والی فکر ہے، (دوم) علم کی گہرائی ہے ، (سوم) فیصلہ کی خوبی ہے، اور (چہارم) عقل کی پائیداری ہے۔

ان چاروں شاخوں کا ایک دوسرے سے ربط بیان کرتے ہیں کہ:

فمن فہم علم غور العلم و من علم غور العلمِ صدر عن شرائع الحکم و من حلم لم یفرِّط فی امرہ و عاش فی الناسِ حمیدا۔

چنانچہ جس نے غور و فکر کیا ، وہ علم کی گہرائیوں سے آشنا ہوا اور جو علم کی گہرائیوں میں اترا، وہ فیصلے کے سرچشمہ سے سیراب ہو کر پلٹا اور جس نے حلم و بردباری اختیار کی اس نے اپنے معاملات میں کوئی کمی نہیں کی اور لوگوں میں نیک نام رہ کر زندگی بسر کی۔

محمدی ری شہری ،میزان الحکمة ،ص 81

یہاں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عدل کی دو قسمیں ہیں اوّل اخلاقی عدل ،جس کی بنیاد ایمان اور نیک وصالح اعمال ہیں اور دوّم سماجی عدل اور انصاف ہے۔ ان دونوں قسموں میں سے عدلِ اخلاق، سماجی عدل کی اساس قرار پائے گا کیونکہ اگر افراد ِ معاشرہ اخلاق کی صفت سے آراستہ نہ ہونگے تو معاشرے میں سماجی عدل کا قیام مشکل ہو  سکتا ہے۔ اس بنا پر جبکہ افراد میں ایمان ، اخلاق ، خدا ترسی اور تقویٰ نہ ہو اسی صورت میں اجتماعی عدل کی توقع ایک خام خیال ہے ۔ انسانی معاشرہ کی مشکلیں ، جابروں اور ظالموں کا تسلط ، طبقہ بندیاں اور نا انصافیاں یہیں سے ظہور پذیر ہوتی ہیں ۔ اسی لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ انسان کا تزکیہ نفس کر کے اسے صحیح انسان بنایا جائے اوریہ انبیاء کرام کی آمد کا بھی مقصد ہے جیسا کہ خداوند نے فرمایا ہے کہ:

ھوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِیْنَ رَسُوْلًا مِنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیَاتِہ وَ یُزَکِّیْہِمْ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَ الْحِکْمَةَ۔

اس نے ان پڑھ لوگوں میں رسول بھیجا جو ان پر ﷲ کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور ان کا تزکیہ نفس کرتا ہے اور تعلیم دیتا ہے کتاب اور حکمت کی۔

سورة الجمعہ آیہ 2

اس آیہ کریمہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سب سے پہلے انسان کے اخلاق درست ہوں اور اس کا اندر پاک و پاکیزہ بن جائے اس کے بعد ان کے ہاتھوں میں معاشرے کی باگ ڈور سونپی جائے تا کہ علم اور حکمت کی بدولت معاشرے میں عدل کی حاکمیت اور سماجی انصاف کا صحیح قیام کرے۔

ظلم اور اس کی اقسام:

چونکہ عدل کی ضد ظلم ہے اس لیے ضروری ہے کہ ظلم کی بھی وضاحت کی جائے۔ حضرت علی (ع) ظلم کی تین اقسام بیان کرتے ہیں:

اِنَّ الظُّلم ثلاثة فظلم لا یُغفرُ و ظلم لاَ یُترَکُ و ظلم مغفور لاَیُطلبُ۔

بے شک ظلم کی تین ا قسام ہیں، ایک وہ ظلم ہے جو بخشا نہیں جائے گا، دوسرا ظلم وہ ہے جو چھوڑا نہیں جائے گا۔ تیسرا ظلم وہ ہے جو بخشا جائے گا اور اس کی باز پرس نہیں ہو گی۔

نہج البلاغہ، خطبہ 174، ص 477

پہلا ظلم:

"فامّا ظلم الذی لا یُغفَر فالشِّرکُ باﷲ قالَ ﷲُ تعالیٰ ۔"انَّ ﷲ لا یغفرُ ان یُشرک بہ"

لیکن وہ ظلم جو بخشا نہیں جائے گا وہ ﷲ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ہے، جیسا کہ ﷲ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ: ﷲ اس ظلم کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے۔

نہج البلاغہ، خطبہ 174، ص 477

دوسرا ظلم:

 امّا ظلمُ الذی لا یترک فظلمُ العبادِ بعضہم بعضاً۔ القصاصُ ہُناک شدید لیس ہو جرحاً بالمدیٰ و لا ضرباً بالسِّیاطِ ، و لٰکنَّہ ما یُستصغَرُ ذالک معہ۔

وہ ظلم جو چھوڑا نہیں جائے گا وہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا ہے، جس کا آخرت میں سخت بدلہ لیا جائے گا۔ وہ چھریوں سے زخمی کرنا اور کوڑوں سے مارنا نہیں ہے، بلکہ ایک سخت عذاب ہے جس کے مقابلے میں یہ چیزیں بہت ہی کم ہیں۔

نہج البلاغہ، خطبہ 174، ص 477

تیسرا ظلم:

 امّا ظلمُ الذی یُغفرُ فَظُلمُ العبدِ نفسہ عندَ بعضِ الہنات،

وہ ظلم جو بخشا جائے گا وہ ہے جو بندہ چھوٹے چھوٹے گناہوں کا مرتکب ہو کر اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے۔

نہج البلاغہ، خطبہ 174، ص 477

حضرت علی (ع) ظلم ، بے عدالتی اور ناانصافی کو معاشرہے کی سب سے بڑی مصیبت اور بلا سمجھتے ہیں یہاں پر آپ علیہ السلام کے ظلم کے متعلق چند اقوال بیان کیے جا رہے ہیں:

ظلم کو آخرت کا بد ترین توشہ کہتے ہیں:

بئس الزاد الی المعاد العدوان علی العباد۔

آخرت کا بدترین توشہ ﷲ کے بندوں پر ظلم اور ستم کرنا ہے۔

نہج البلاغہ، قول نمبر221، ص 875

ظالم کو ظلم کی سزا ہر صورت میں ملے گی :

و لئن امہل الظالم فلن یفوت اخذہ وہولہ بالمرصاد علی مجاز طریقہ و بموضع الشّجا من مساغ ریقہ۔

اگر ظالم کو مہلت دی جائے تب بھی وہ انتقام کے پنجے سے بچ نہیں سکتا ﷲ اس کی کمین گاہ اور گذر گاہ پر ہے اور ظلم کی سزاہڈی کے مانند ظالم کے گلے میں پھنس جائے گا۔

ایضا خطبہ 95 ،ص 298

ظلم کی اقسام میں سے سرکشی اور جھوٹ ہیں جو انسان کو ذلیل کرتے ہیں:

و انّ البغی و الزور یذیعان المرء فی دینہ و دنیاہ و یبدیان خللہ عند من یعیبہ۔

سرکشی اور جھوٹ انسان کو دین اور دنیا میں خوار اور ذلیل کر دیتے ہیں اور نکتہ چینی کرنے والے کے سامنے ان کی خامیاں کھول دیتے ہیں۔ اور:

"و ظلم الضعیف افشح الظلم ،

 ضعیف پر ظلم کرنا سب سے بدترین ظلم ہے۔

ایضا مکتوب 48 ،ص 749

حضرت علی (ع) کی نگاہ میں عدل کا دائرہ:

حضرت علی (ع) کی نگاہ میں عدل کے دائرے کی وسعت اتنی تو پھیلی ہوئی ہے کہ اس کی شعاع انسانی زندگی کے دائرے سے نکل کر تمام حیوانات ، نباتات اور جمادات تک کو گھیرے ہوئے ہے:

و اتّقوا اﷲ فی عبادہ و بلادہ فاِنّکم مسئولونَ حتّٰی عن البقاع و البہائم۔

اے لوگو! خدا کے بندوں اور اس کے شہروں کے معاملے میں تقویٰ اختیار کرو کیونکہ تم سے حتیّٰ کہ زمین کے خطوں اور جانوروں کے متعلق بھی سوال کیا جائے گا ۔

خطبہ 165 ،ص 456

حضرت علی (ع) کا نظریہ عدل انسان تو کیا حیوانات ، نباتات اور جمادات تک کو گھیرے ہوئے ہے اور وہ بھی اس حد تک کہ خداوند عالم کی بارگاہ میں ان کے حقوق کے متعلق بھی سوال ہو گا۔

حضرت علی (ع) کا عدل:

امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب (ع) ارشاد فرماتے ہیں کہ:

و ﷲِ لان ابیت علی حسک السعدان مسہّداً او اجّر فی الاغلال مصفدًا احبّ الیّ من ان القی ﷲ و رسولہ یوم القیامة ظالما لبعض العباد و غاسباً لشیئٍ من الحطام و کیف اظلم احداً لنفس الی البلیٰ قفولہا و یطول فی الثریٰ حلولہا،

خدا کی قسم! اگر مجھے سعدان کے کانٹوں پر جاگتے ہوئے رات گزارنی پڑے ،اور مجھے زنجیروں میں جکڑ کر کھینچا جائے تو یہ میرے لیے اس سے بہتر ہے کہ میں خدا اور اس کے پیغمبر سے اس حالت میں ملاقات کروں کہ میں نے خدا کے بندوں پر ظلم کیا ہو یا مالِ دنیا میں سے کوئی چیز غصب کی ہو اور میں اس نفس کی آسودگی کے لیے کسی پر کیونکر ظلم کر سکتا ہوں جو فنا کی طرف پلٹنے والا ہے اور مدتوں مٹی کی تہوں میں پڑا رہے گا۔

ایضاً خطبہ 221،ص 224

امیر المؤمنین علی (ع) عدل کو اتنا پسند کرتے ہیں اور ظلم سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ اگر انہیں ساری رات اسی سعدان کے کانٹوں کے اوپر گزارنی پڑے یا زنجیروں کے طوق بنا کر آپ کی گردن میں ڈال کر آپ کو گھسیٹا جائے صرف اس وجہ سے کہ ﷲ کے بندوں میں سے کسی پرظلم اور ناانصافی کریں تو ذرہ برابر بھی ظلم اور ناانصافی نہیں کریں گے ۔ یہ صرف دعوی نہیں ہے ، بلکہ انہوں نے عملی طور سے ثابت بھی کر دیا کہ جو کچھ فرماتے ہیں، وہ منزلِ عمل میں اس سے زیادہ پابند ہیں ۔ اس کے بعد سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے اپنے بھائی عقیل کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ:

"و ﷲِ لقد رأیتُ عقیلا و قد املق حتّی استماحنی من برّکم صاعاً و رأیتُ صبیانہ شعث الشعورِ غبر الالوانِ من فقرہم کاَنّما سوّدت وجوہہم بالعِظْلِمِ۔

اﷲ کی قسم میں نے عقیل کو سخت فقر و فاقہ کی حالت میں دیکھا ، یہاں تک کہ وہ تمہارے حصہ کے گیہوں میں سے ایک صاع مجھ سے مانگتے تھے۔ میں نے ان کے بچوں کو بھی دیکھا جن کے بال بکھرے ہوئے تھے اور فقر و بے نوائی سے رنگ تیرگی مائل ہو چکے تھے گویا ان کے چہرے نیل چھڑک کر سیاہ کر دیے گئے ہیں۔

مفتی جعفر حسین، مترجم نہج البلاغہ، ص 624

آپ عقیل اور ان کی اولاد کی کیفیت اور حالت بیان کرنے کے بعد عقیل کے اصرارِ طلب کو اور اپنے جواب کو بیان کرتے ہیں :

و عاودنی مؤَکّداً و کرّر علیّ القول مردّداً فاَصغیتُ الیہ سمعی فظنّ انّی ابیعہ دینی و اتّبع قیادہ مفارقاً طریقی۔ فاحمیتُ لہ حدیدةً ثمّ اذنیتہا من جسمہ لیعتبر بہا فضجّ ضجیج ذی دنفٍ من المہا ، و کاد ان یحترق من میسمہا فقلتُ لہ ثکلت الثواکلُ یا عقیلُ اتئنُّ من حدیدةٍ احماہا انسانہاللعبہ ، وتجرّنی الی نارٍ سجرہا جبّارہا لغضبہ۔ اتئنُّ من الاذی و لا ائنُّ من لظٰی ۔

وہ اصرار کرتے ہوئے میرے پاس آئے اور اس بات کو بار بار دہرایا ، میں نے ان کی باتوں کو کان لگا کر سنا تو انہوں نے یہ خیال کیا کہ میں ان کے ہاتھوں اپنا دین بیچ ڈالوں گا اور اپنی روش چھوڑ کر ان کی کھینچ تان پر ان کے پیچھے ہو جاؤں گا ۔ مگر میں نے کیا یہ کہ ایک لوہے کے ٹکڑے کو تپایا اور پھر ان کے جسم کے قریب لے گیا تا کہ عبرت حاصل کرے، چنانچہ وہ اس طرح چیخے جس طرح کوئی بیمار درد اور کرب سے چیختا ہے اور قریب تھا کہ ان کا جسم اس داغ دینے سے جل جائے پھر میں نے ان سے کہا اے عقیل رونے والیاں تم پر روئیں کیا تم اس لوہے کے ٹکڑے سے چیخ اٹھے ہو جسے ایک انسان نے ہنسی مذاق میں تپایا ہے اور تم مجھے اس آگ کی طرف کھینچ رہے ہو کہ جسے خدائے قہار نے اپنے غضب سے بھڑکایا ہے تم تو اذیت سے چیخو اور میں جہنم کے شعلوں سے نہ چلّاؤں ۔

نہج البلاغہ، خطبہ 221،ص 624

حضرت علی (ع) کی یہ عدل پسندی جو ان کے اپنے خاندان کے عزیز ترین افراد پر بھی پوری قاطعیت کے ساتھ عمل میں آتی ہے یہ آپ علیہ السلام کے بے مثال زہد و تقوٰی کا نتیجہ ہے۔

اسی سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے امام علی علیہ السلام ایک اور واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ:

و اعجبُ من ذالک طارق طرقنا بملفوفةٍ فی وعائہا ، و معجونةٍ شنِئْتُہا کانّما عجنت بریقِ حیّةٍ او قیئہا ، فقلتُ اَصِلَة ام زکوٰة ام صدقة فذالک محرّم علینا اہل البیت ،فقال لا ذا و لا ذاک ولٰکنّہا ہدیة ۔ فقلت ہبلتْک الہبولُ ، أَ عن دین اﷲِ اتیتنی لتخدعنی ، أَ مختبَط انت ام ذو جِنّةٍ ام تہجر۔

اس سے عجیب تر واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص رات کے وقت گوندھا ہوا حلوہ ایک سر بند برتن میں لیے ہوئے ہمارے گھر پر آیا جس سے مجھے ایسی نفرت تھی کہ محسوس ہوتا تھا کہ جیسے سانپ کی تھوک میں یا اس کی قی میں گوندھا گیا ہے۔ میں نے اس سے کہا کیا یہ صلہ ہے یا زکوٰة ہے یا صدقہ ہے کہ جو ہم اہل بیت پر حرام ہے ۔ تو اس نے کہا  نہ یہ ہے نہ وہ ہے بلکہ یہ تحفہ ہے ۔ تو میں نے کہا رونے والیاں تجھ پر روئیں کیا تو دین کے راستے سے مجھے فریب دینے کے لیے آیا ہے یا بہک گیا ہے ؟  یا پاگل ہو گیا ہے یا یونہی ہذیاں بک رہا ہے۔

نہج البلاغہ خطبہ 221، ص 224

عدل حضرت علی (ع) کی رگ رگ میں موجود تھا، جس کی وجہ سے ظلم سے بیحد نفرت کرتے تھے، یہاں تک کہ ﷲ تعالیٰ کی چھوٹی سی معصیت سے بھی نفرت کرتے ہیں چاہے اس کے مقابلہ میں کتنا ہی بڑا انعام کیوں نہ ملے:

"و ﷲِ لو اُعطیتُ الاقالیمَ السبعةَ بما تحت افلاکہا علی ان اَعصِیَ ﷲَ فی نملةٍ اسلبہا جلبَ شعیرةٍ ما فعلتُ۔

خدا کی قسم ! اگر سات اقلیم ان چیزوں سمیت جو آسمانوں کے نیچے ہیں مجھے دے دیے جائیں ، اس بدلے میں کہ صرف اﷲ کی اتنی معصیت کروں کہ میں چیونٹی سے جَو کا چھلکا چھین لوں تو کبھی بھی ایسا کبھی نہیں کروں گا ۔

نہج البلاغہ خطبہ 221، ص 225

دنیا کے عیش و عشرت کو سخت ناپسند کرتے ہیں اور اس سے بچنے کی ﷲ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ :

مَا لِعلیٍّ و لنعیم یفنی و لذّةٍ لا تبقیٰ ،نعوذُ باﷲِ من سبات العقلِ وقبح الذّللِ و بہ نستعینُ ۔

علی (ع) کو فنا ہونے والی نعمتوں اور باقی نہ رہنے والی لذتوں سے کیا واسطہ ہم عقل کے خوابِ غفلت میں پڑ جانے اور لغزشوں کی برائیوں سے خدا کے دامن میں پناہ لیتے ہیں اور اسی سے مدد کے خواستگار ہیں ۔

نہج البلاغہ خطبہ 221، ص 225

سیاسی نظام میں عدل و عدالت:

دینی حکومت کا فلسفہ ہی قیامِ عدل ہے۔ لہٰذا اس قسم کی حکومت میں ظالم اور ستمگر کو رہبری کی کوئی اجازت نہیں اور نہ ہی ظالم حاکمیت کی کوئی شرعی حیثیت ہے ۔ عدل اور قیامِ عدل ایک الٰہی عہد و پیمان اور شرعی تکلیف و ذمہ داری ہے۔ آپ نے حکومت کو قبول کرنے کا مقصد یوں بیان کرتے ہیں:

 ما اخذ ﷲ علی العلماء ان لا یقارّوا علی کظّة ظالمٍ و لا سغب مظلومٍ۔

ﷲ تعالی نے علماء سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ ظالم کی شکم سیری اور مظلوم کی بھوک پر راضی نہ ہوں ۔

ایضا خطبہ 3، ص 103

اس سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ ﷲ کے نیک ، مخلص اور اہلِ علم بندوں پر یہ فرض ہے کہ وہ ظالم کے ظلم اور مظلوم کی مظلومیت پر خاموش نہ رہیں بلکہ عدل اور انصاف قائم کرنے کی بھر پور کوشش کرتے رہیں۔ حکام کا سب سے زیادہ پسندیدہ عمل عدل اور انصاف کا قیام ہونا چاہیے:

"ولیکن احبّ الامور الیک اوسطہا فی الحقّ و اعمّہا فی العدل واجمعہا رضا الرعیّةِ ۔

 تمہارے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ وہ عمل ہونا چاہیے، جو حق کے لحاظ سے سب سے زیادہ درمیانی ہو اور عدل کی رُو سے سب زیادہ عام ہو اور رعایا کو سب سے زیادہ رضامند کرنے والا ہو۔

مکتوب 53 ،ص 756

قیام عدل کے عوامل:

عدل دو صورتوں میں قائم ہو سکتا ہے ،ایک یہ کہ انسان کا اندر پاک اور صاف کیا جائے، جیسا کہ سورة جمعہ آیۃ 2 میں ذکر ہوا ہے ۔

اور لوگوں کے ذہنوں میں ایک ایسی طاقت و قوت کا خوف دلایا جائے کہ کبھی نہ کبھی اس کی گرفت میں جانا ہے اور اس کی عدل کے کٹہڑے سے نکلا نہیں جا سکتا ۔ اس بات کی گواہی قرآن کریم میں اس طرح موجود ہے :"

 انّما تنذر من اتّبع الذکر و خشی الرّحمٰن بالغیب۔

بے شک آپ ان لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت کی اتباع کرتے ہیں اور غیب میں رحمان سے ڈرتے ہیں۔

سورہ یٰس آیہ 8

حضرت علی (ع) کی نظر میں قیام عدل کے موانع:

وہ اعمال جو اجرائے عدل میں رکاوٹیں بنتے ہیں ان کی وضاحت درج ذیل پیش کی جا رہی ہے:

1- جانبداری کرنا:

اقتدار ایک ایسی چیز ہے ، جو کسی کو مل جائے تو وہ اس منصب کی وجہ سے جانبداری کرنے لگ جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ عدل اور انصاف قائم نہیں کر سکتا:"

من ملک استاثر۔

جو اقتدار حاصل کر لیتا ہے جانبداری کرنے ہی لگتا ہے۔

نہج البلاغہ قول نمبر 160 ،ص 862

لہٰذا حضرت علی (ع) اپنے گورنر مالک اشتر کو اس جانبداری سے روکتے ہیں کہ:

ایّاک و الاستیثار بما النّاس فیہ اسوة و التغابی عما تعنی بہ ممّا قد وضح العیونُ فاِنّہ مأضوذ منک لغیرک و عما قلیل تنکشف عنک اغطیة الامور و ینتصف منک للمظلومِ۔"

دیکھو! کسی چیز کو اپنے لیے مخصوص نہ کر لینا ،جس میں سب کا حق برابر ہے، اور نہ ایسی باتوں سے انجان بن جانا جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہیں ۔ خود غرضی سے جو کچھ حاصل کرو گے تمہارے ہاتھ سے چھن جائے گا اور دوسروں کو دیدیا جائے گا ۔ جلد ہی تمہاری آنکھو پر سے پردے اٹھ جائیں گے اور تم سے مظلوم کی داد خواہی کی جائے گی۔

ایضا مکتوب 53 ،ص 776

2- حق سے بھاگنا عدل کے قیام میں مانع ہوتا ہے:

"فلا تأسف علی ما یفوتک من عددہم و یذہب عنک من مددہم فکفٰی لہم غیّاً و لک منہم شافیًا فرارہم من الہدٰی و الحق و ایضاعہم الی العمٰی و الجہل۔

اس تعداد پر جو نکل گئی ہے اور اس کمک پر جو جاتی رہی ہے ذرا افسوس نہ کرو ، ان کے گمراہ ہو جانے اور تمارے اس اندوہ سے چھٹکارا پانے کے لیے یہی بہت ہے کہ وہ حق اور ہدایت سے فرار کر رہے ہیں اور گمراہی و جہالت کی طرف دوڑ رہے ہیں ۔

ایضا مکتوب 70 ص 801

3- دنیا کی طرف جھکنا بھی عدل کے قیام میں مانع ہوتا ہے:

" و انّما ھم اہل دنیا مقبلون علیھا و مھطعون الیہ۔

یہ دنیا دار ہیں ، جو دنیا کی طرف جھک رہے ہیں اور اسی کی طرف تیزی سے لپک رہے ہیں۔

ایضا مکتوب 70ص 801

4- حق کو چھوڑ کر ظلم کا ساتھ دینا بھی عدل کے قیام میں مانع ہوتا ہے:

" قدعرفوا العدل و رأوہ و سمعوہ و علموا انّ النّاس عٍندنا فی الحق اسوة فہربوا الی الاثرةِ فبعدًا لہم و سحقا ، انہم و ﷲِ لم ینفروا من جورٍ ولم یلحقوا بعدل۔"

انہوں نے عدل کو پہچانا ، دیکھا ، سنا اور محفوظ کیا اور اسے خوب سمجھ لیا کہ یہاں حق کے اعتبار سے سب برابر سمجھے جاتے ہیں ۔ لہٰذا وہ ادھر بھاگ کھڑے ہوئے جہاں جنبہ داری اور تخصیص برتی جاتی ہے ۔ ﷲ کی قسم یہ لوگ ظلم سے نہیں بھاگے اور عدل سے جا کر نہیں چمٹے ۔

ایضا ص802

5- کسی کو کسی پر ترجیح دینا:

اپنے خاص لوگوں کو ہر معاملے میں ترجیح دینے سے عدل قائم نہیں ہوسکتا اسی وجہ حضرت علی ـ اپنے ایک گورنر کو اس طرح کے فعل سے روکتے ہیں کہ:

"انّ للوالی خاصة و بطانة فیہم استئثار و تطاول و قلّة انصاف فی معاملة ۔ فاحسم مادّة اولئک بقطع اسباب تلک الاحوال۔"

حاکم کے کچھ خاص اور سر چڑھے لوگ ہوا کرتے ہیں جن میں خود غرضی ، دست درازی ، بد معاملگی ہوا کرتی ہے۔ تمہیں ان حالات کے پیدا ہونے کی وجوہات ختم کر کے اس گندے مواد کو ختم کردینا چاہیے ،

یضا مکتوب نمبر 53، ص 772

6- اپنے قریبی لوگوں کو جاگیریں عطا کرنا بھی عدل اور انصاف کے قیام میں مانع ہوتا ہے جس سے منع کرتے ہیں کہ:

"ولا تقطعنّ لاحد من حاشیتک وحامتک قطیعة و لایطمعنّ منک فی اعتقاد عقدة تضرّ بمن یلیہا من النّاس فی شرب او عمل مشترک یحملون مؤونتہ علی غیرہم "

اپنے کسی حاشیہ نشین اور قرابت دار کو جاگیر نہ دینا اور اسے تم سے توقع نہ باندھنا چاہیے، کسی ایسی زمین پر قبضہ کرنے کی جو آبپاشی یا کسی مشترکہ معاملے میں اس کے آس پاس کے لوگوں کے لیے ضرر رساں ہو ،یوں کہ اس کا کچھ بوجھ دوسرے پر ڈال دے۔

ایضا مکتوب نمبر 53، ص 772

اور اپنے قریبی لوگوں کو دوسروں پر ترجیح دینے سے حکمرانوں پر ایک قسم کا دھبہ لگ جاتا ہے جو کبھی اترتا نہیں:

"فیکون مہناً ذالک لہم دونک وعیبہ علیک فی الدنیا والآخرة ۔"

اس صورت میں اس کے خوش گوار مزے تو اس کے لیے ہوں گے نہ تمہارے لیے ، مگر اس کا بد نما دھبہ دنیا اور آخرت میں تمہارے دامن پر رہ جائے گا۔

ایضا مکتوب نمبر 53، ص 772

7- ضعف نفس (کمزوری و سستی دکھانا):

کمزوری دکھانے سے نہ صرف عدل اور انصاف قائم نہیں ہوتا بلکہ اس سے ذلت اور مصیبت ہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے:

"فمن ترک رغبة عنہ البسہ ﷲ ثوب الذلِ و شملة البلآء ودیّث بالصغار والقماء و ضرب علی قلبہ بالاسداد۔"

جس نے اس کو چھوڑ دیا ﷲ اسے ذلت اور خواری کا لباس پہنا تاہے اور مصیبت و ابتلا کی چادر اوڑھا دیتا ہے ، اور ذلتوں اور خواریوں کے ساتھ ٹھکرا دیا جاتا ہے اور مدہوشی و غفلت کا پردہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے۔اور ۔

شرح ابن ابی الحدید ،ج1، ص 200

" و ادیل الحق منہ بتضییع الجہادِ و سیم الخسف و منع النصف۔"

اور جہاد کو ضایع اور برباد کرنے سے حق اس کے ہاتھ سے لے لیا جاتا ہے ،ذلت اسے سہنا پڑتی ہے اور انصاف اس سے روک لیا جاتا ہے۔

 نہج البلاغہ، خطبہ 27، ص 166

اسی طرح ایک اور خطبے میں سستی اور کاہلی کرنے والوں کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:

"لا یمنع الضیم الذلیل و لا یدرک الحق الا بالجدِّ۔"

ذلیل آدمی ذلت آمیز زیادتیوں کی روک تھام نہیں کر سکتا اور حق تو بغیر کوشش کے نہیں ملا کرتا۔

نہج البلاغہ، خطبہ 27، ص 166

اس سے ظلم اور زیادتیوں کو روکا نہیں جا سکتا اور نہ ہی عدل اور انصاف قائم ہو سکتا ہے:

"و کانّی انظرُ الیکم تکشون کشیش الضباب لا تاخذون حقا و لا تمنعون ضیما۔"

گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اس طرح کی آوازیں نکال رہے ہو جس طرح سوسماروں کے اژدہام کے وقت ان کے جسموں کے رگڑ کھانے کی آواز ہوتی ہے ، نہ تم اپنا حق لیتے ہو اور نہ توہین آمیز زیادتیوں کی روک تھام کر سکتے ہو۔

ایضاخطبہ29 ،ص 172

اس طرح سے ظلم سے نجات بھی نہیں ملتی:

" قد خلّیتم والطّریق فالنجاة للمقتحم والہلکة للمتلوّم۔"

تمہیں راستے پر کھلا چھوڑ دیا گیا ہے، نجات اس کے لیے ہے، جو اپنے آپ کو جنگ میں جھونک دے اور جو سوچتا ہی رہ جائے اس کے لیے ہلاکت و تباہی ہے۔

ایضا خطبہ121 ،ص 353

اور نہ ہی عدل اور انصاف قائم ہو سکتا ہے:

"أَظأرُکم علی الحق و انتم تنفرون عنہ نفور المعزی من وعوعة الاسد ہیہات ان اطلع بکم سرار العدل او اقیم اعوجاج الحق ۔"

میں تمہیں نرمی و شفقت سے حق کی طرف لانا چاہتا ہوں اور تم اس سے اس طرح بھڑک اٹھتے ہو جس طرح شیر کی گرج سے بھیڑ بکریاں، کتنا دشوار ہے کہ میں تمہارے سہارے پر چھپے ہوئے عدل کو ظاہر کروں یا اس حق میں پیدا کی ہوئی کجیوں کو سیدھا کروں۔

 نہج البلاغہ خطبہ 130، ص 376

التماس دعا....





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی