2017 May 28
شریعت اسلام میں مسئلہ بدعت کے بارے میں ایک تحقیق
مندرجات: ٥٩٠ تاریخ اشاعت: ٠٦ February ٢٠١٧ - ١٤:٢٠ مشاہدات: 539
مضامین و مقالات » پبلک
شریعت اسلام میں مسئلہ بدعت کے بارے میں ایک تحقیق

 مقدمہ:

فرقہ ضالّہ وہابیت کا مختصر تعارف!

فرقہ ضالّہ وہابیت کے وجود میں آنے کا اصلی ہدف!

وہابیت کی نگاہ میں مسئلہ بدعت!

مسلمانوں کہ بعض افعال کہ وہابیت نے جن کو بدعت شمار کیا ہے:

1. رسول خدا (ص) پر اذان سے پہلے اور بعد میں صلوات پڑھنا،

رسول خدا (ص) پر صلوات پڑھنے کا گناہ، ایک فاحشہ عورت سے زنا کرنے سے بھی بد تر ہے!!!

2. صدق الله العظیم کا کہنا،

3. سالگرہ اور شادی کا جشن منانا،

4. چھوٹے پتھروں کی تسبیح سے تسبیح پڑھنا،

حرمین شریفین کو باطل اور غلط اعتقادات نے احاطہ کیا ہوا ہے،

صراط مستقیم، آل شیخ اور محمدبن عبدالوہاب کا راستہ ہے،

5جشن عید میلاد النبی منانا،

علم فقہ کا ایک قاعدہ اصالۃ الإباحہ ہے،

سیوطی کا جشن منانے کے بارے میں بہترین جواب،

6. انبیاء اور صالحین کا جشن میلاد منانا،

7. ہر پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن سے کرنا،

8. ایک گروہ کی صورت میں مل کر قرآن اور دعا پڑھنا،

9. حرم رسول خدا (ص) میں زیادہ آنا جانا،

10. تلاوت قرآن اور نماز پڑھنے کا ثواب رسول خدا (ص) کو ہدیہ کرنا،

11. اموات کو نماز پڑھنے کا ثواب ایصال اور ہدیہ کرنا،

12. خانہ کعبہ کے پردے کو مس کرنا،

13. تسبیح کے ساتھ ذکر خدا کرنا،

14. نوزاد بچے کی سالگرہ کا جشن منانا،

15. شادی کی سالگرہ کا جشن منانا،

لفظ بدعت کا لغوی اور اصطلاحی معنی،

ابن منظور کا اپنے عقیدے کی روشنی میں ایک لفظ کا معنی کرنا،

ابن منظور کا عمر کی نماز تراویح کی بدعت کی تاویل کرنا،

رسول خدا کا نماز تراویح پڑھنے پر غصّہ کرنا،

 بدعت کی دو اقسام «بدعت محموده» اور «بدعت مذمومہ»!!

 بدعت کی دو اقسام، بدعت ہدایت اور بدعت گمراہی!!

بدعت کی پانچ اقسام!!!

بعض مواقع پر بدعت ایجاد کرنا، واجب ہوتا ہے!!!

بدعت کی مختلف اقسام میں تقسیم بندی اصلی ہدف:

ابن حزم کا عمر کی بدعت کا دفاع کرنا،

ابن اثیر کا عمر کے عمل کا دفاع کرنا،

قسطلانی کا عمر کی خدمت گزاری کرنا،

ابن تیمیہ کا نماز تراویح کی بدعت کی تاویل کرنا،

اہل سنت کے فقہاء کا بدعت کی اقسام کے بارے میں اظہار نظر کرنا،

نظر صالح فوزان،

نظر ابن حجر در کتاب فتح الباری،

نظر قرطبی در کتاب الجامع لأحكام القرآن،

نظر ابو اسحاق شاطبی در کتاب الإعتصام،

نظر ابن رجب حنبلی در کتاب جامع العلوم و الحکم،

نظر محمد بن اسماعیل كحلانی در کتاب سبل السلام،

نظر ناصر الغامدی در کتاب حقیقة البدعہ و احکامها،

لفظ سنت کا لغوی اور اصطلاحی معنی،

آئمہ معصومین (ع) کی نگاہ میں سنت کا مفہوم،

رسول خدا (ص) کی تمام سنتوں، حتی نماز کو بھی ضائع کر دیا گيا تھا!

 امیر المؤمنین علی (ع) کی نماز نے رسول خدا (ص) کی نماز کی یاد تازہ کر دی!

رسول خدا (ص) کی سنت میں سے فقط نماز کی ظاہری شکل باقی بچ گئی ہے!

رسول خدا (ص) کی سنت میں سے فقط اذان باقی بچ گئی ہے!

رسول خدا (ص) کی سنت میں سے فقط قبلہ باقی بچا ہے!

مقدمہ:

 

بدعت ایک ایسا مفہوم ہے کہ جسکی وجہ سے وہابیوں نے عرصہ دراز سے مسلمانوں اور خاص طور پر شیعوں پر دین اسلام کی مخالفت کی وجہ سے شرک اور کفر کی تہمت لگائی ہے اور اسی وجہ سے شیعوں کو دین و شریعت اسلام سے خارج کر کے بعد میں انکے قتل اور اموال کو غارت کرنے کے فتوئے بھی دئیے ہیں، یعنی وہابی جب بھی کسی کے ایک فعل پر اعتراض کرنا چاہتے ہیں، یا جب بھی کسی کو دین اسلام کے دائرے سے خارج کرنا چاہتے ہیں، یا جب بھی کسی کو قتل کرنا چاہتے ہیں، یا کسی پر کفر و شرک کے فتوئے لگانا جاہتے ہیں تو، لفظ بدعت کا سہارا لیتے ہیں اور اس لفظ کے بالکل غلط معنی و مفہوم کو استعمال کر کے جو کرنا چاہتے ہیں، اسکو انجام دیتے ہیں، لہذاآج لفظ بدعت وہابیوں کے لیے ہر جائز اور ناجائز کام کرنے کا آلہ اور ہتھیار بن چکا ہے، اور اسی وجہ سے وہ سب مسلمانوں کو کافر اور مشرک قرار دیتے ہیں اور فقط خود کو مؤمن، موحد اور مسلمان جانتے ہیں۔

ابن تیمیہ کہ جو وہابیوں کا مغز متفکر ہے، اس نے اس بارے میں لکھا ہے کہ:

و َالدَّاعِي إلَى الْبِدْعَةِ مُسْتَحِقٌّ الْعُقُوبَةَ بِاتِّفَاقِ الْمُسْلِمِينَ، وَ عُقُوبَتُهُ تَكُونُ تَارَةً بِالْقَتْلِ، وَ تَارَةً بِمَا دُونَهُ،

جو بھی دوسروں کو ایک بدعت کی طرف دعوت کرے، تو تمام مسلمانوں کی نظر میں ایسا انسان سزا کا مستحق ہے، اور اسکی سزا یہ ہے کہ یا تو اسکو قتل کیا جائے گا اور یا قتل سے کم سزا دی جائے گی۔

الفتاوی الکبری، ج2، ص 29

اسی وجہ سے بدعت کے بارے میں جاننا اور اسکے معنی و مفہوم اور اقسام کے بارے میں بحث کرنا، بہت ہی ضروری ہے۔ اسی وجہ سے ہم بدعت کے لغوی و اصطلاحی معنی، قرآن و حدیث میں بدعت کا مفہوم، رسول خدا (ص) اور اہل بیت (ع) کی سیرت میں مفہوم بدعت، علماء شیعہ و سنی کے اقوال میں بدعت کے مفہوم کے بارے میں تفصیلی بحث کریں گے، تا کہ وہابیت کا اصلی چہرہ، بدعت کے مفہوم کے پردے کے پیچھے سے سب کے لیے آشکار و واضح ہو سکے۔

فرقہ ضالّہ وہابیت کا مختصر تعارف!

 

اگر فرقہ ضالہ وہابی کے بارے میں دقت سے تحقیق کی جائے، اگر ابن تیمیہ اور محمد ابن عبد الوہاب کے اصلی ہدف کو اس فرقے کی بنیاد رکھنے کے بارے میں غور سے جانا جائے، اگر ان آیات اور روایات کی کہ جنکی اس گمراہ فرقے نے اپنی کتابوں میں شرح اور تفسیر کی ہے اور اگر اس گمراہ فرقے کے علماء کے اقوال کی چھان بین کی جائے اور اگر ان کے اقوال کو کفار و قریش مکہ، کہ جہنوں نے مکے میں 13 سال اور مدینہ میں 10 سال، رسول خدا (ص) سے مقابلہ اور جنگ کی تھی، کے ساتھ موازنہ کیا جائے اور کفار قریش اور وہابیوں کی تاریخ کا ایک دوسرے سے موازنہ کیا جائے، تو واضح ہو جائے گا کہ رسول خدا (ص) کے خلاف وہابیوں کے مقابلے اور 23 سال قریش کے رسول خدا کے خلاف مقابلے میں کوئی فرق نہیں ہے، بلکہ بعض چیزوں میں تو یہ وہابی، رسول خدا سے دشمنی ظاہر کرنے میں، قریش سے بھی شدید تر اور بد تر ہیں۔

 آیت الله العظمی فاضل لنکرانی(ره) نے اس بارے میں کہا ہے کہ:

وہابیت کفر اور یہود کی ناجائز اولاد ہے اور وہ اسلام سے خارج ہیں اور انکے وجود میں آنے کا ہدف اسلام اور قرآن کی مخالفت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

پیام آیت اللہ فاضل بہ مناسبت تخریب مجدد حرمین شریف عسکریین،

لہذا اگر وہابیت کا ایک جملے میں تعارف کرایا جائے، تو کہنا چاہیے کہ وہابیت یعنی بنی امیہ کی حکومت اور فرہنگ کو دوبارہ زندہ کرنا اور اسے جاری رکھنا ہے۔

کیونکہ یہ گمراہ فرقہ اپنے خاص عقیدے کے ساتھ جو کچھ آیات اور روایات سے سمجھتا ہے، بس یہ اسی کو صحیح اور حق قرار دیتے ہیں، اور دوسروں کی عقل اور سمجھ کو باطل اور بدعت قرار دیتے ہیں۔

محمد ابن عبد الوہاب نے کتنی مرتبہ اپنے شاگردوں کہ جو عام عوام تھے،سے کہا تھا کہ جو کچھ تم خود اسلام سے اپنی عقل کے مطابق سمجھتے ہو، وہی حقیقی اور واقعی دین ہے، اسی پر عمل کرو اور اسی کو لے آگے بڑھو، اور دین اسلام کے بارے میں دوسرے جو بھی کہتے رہیں، اسکی طرف توجہ نہ کرو!!!

فرقہ ضالّہ وہابیت کے وجود میں لانے کا اصلی ہدف!

 

اہل سنت کے معروف علماء نے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ: وہابیت کے گمراہ فرقے کے وجود میں آنے اور لانے کا اصلی ہدف، مسلمانوں کو تکفیر اور قتل کرنا ہے، اور اس وسیلے سے مسلمانوں کے اموال اور انکی ناموس پر حملہ کرنا ہے۔

 دانشگاہ الازہر کے عالم جناب کوثری نے اس بارے میں کہا ہے کہ: 

و ليس قصد أول من آثار هذه الفتنة، سوى استباحة أموال المسلمين ليؤسس حكمه بأموالهم على دمائهم باسم أنهم مشركون.

وہابیوں کا وہابیت کا فتنہ ایجاد کرنے سے پہلا ہدف، مسلمانوں کے اموال کو لوٹنا تھا تا کہ ان اموال سے اپنی حکومت کو محکم اور مضبوط کر سکیں۔ انھوں نے مسلمانوں کو مشرک قرار دے کر انکے خون بہانے کو بھی جائز قرار دیا ہے۔

مقالات کوثری، ج1، ص 326

وہابیت کی نگاہ میں مسئلہ بدعت!

 

وہابیوں کی ایک کتاب ہے، الدُرَرُ السنیَّة فِی الأَجوِبَةِ النَّجدیّة، مَجموعَةُ رَسائِلَ و مَسائِلَ عُلماء نَجد الأعلام مِن عَصر الشَیخ مُحمد بن عَبد الوهّاب إلی عَصرنا هَذا،

یعنی محمد ابن عبد الوہاب اور اسکے بیٹوں کی تمام کتب، اسکے لکھے ہوئے خطوط، اس کے خطابات، سب کو 16 جلدوں کی شکل میں جمع کیا گیا ہے،

وہابیوں نے بدعت کی تعریف میں کہا ہے کہ:

أن البدعة – و هی ما حدثت بعد القرون الثلاثة - مذمومة مطلقاً خلافاً لمن قال حسنةُ، و قبيحةُ، و لمن قسمها خمسة أقسام. فمن البدع المذمومة التي ننهى عنها: رفع الصوت في مواضع الأذان بغير الأذان سواء كان آيات، أو صلاة على النبي صلى الله عليه و سلم أو ذكرا غير ذلك بعد أذان، أو في ليلة الجمعة، أو رمضان، أو العيدين، فكل ذلك بدعة مذمومة. و قد أبطلنا ما كان مألوفا بمكة، من التذكير، و الترحيم، و نحوه، و اعترف علماء المذاهب أنه بدعة،

بدعت، ہر وہ چیز ہے کہ جو پہلی تین صدیوں، یعنی صحابہ کی صدی، تابعین کی صدی اور تبع تابعین کی صدی، کے بعد وجود میں آئی ہو، ایسی چیز بالکل قابل مذمت ہے۔ یہ قول انکے خلاف ہے کہ جہنوں نے بدعت کی دو قسمیں ذکر کی ہیں، یعنی بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ، یا ان کے خلاف ہے کہ جہنوں نے بدعت کی پانچ قسمیں ذکر کی ہیں، بدعت سیئہ میں سے ایک یہ کہ جس سے ہم منع کرتے ہیں، وہ اذان کے وقت، اذان کے علاوہ کسی دوسری آواز کو اونچا کرنا ہے، چاہے وہ قرآن کی تلاوت کی آواز ہو، یا رسول خدا پر صلوات پڑھنے کی آواز ہو، رسول خدا پر شب جمعہ، ماہ رمضان، عید فطر اور عید قربان کے مواقع پر صلوات پڑھنا، بدعت اور قابل مذمت ہے۔ اب اس وقت شہر مکہ میں لوگ خدا کا ذکر کرنے کے عادی ہو گئے ہیں، ایک دوسرے پر سلام کرتے ہیں۔ تمام مذاہب کے علماء نے کہا ہے کہ یہ سارے کام بدعت ہیں۔

الدرر السنیه فی الأجوبة النجدیه، ج1، ص 237

وہابیوں نے اس کلام کے بعد فتوی دیا ہے کہ:

ليس في أهل البدع غيبة...نصّ العلماء على جواز غيبة أهل البدع.

جو اہل بدعت ہیں، انکی غیبت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے..... علماء نے اہل بدعت کی غیبت کرنے کے جائز ہونے کے بارے میں واضح طور پر بیان کیا ہے۔

الدرر السنیه فی الأجوبة النجدیه، ج 7، ص 558

مسلمانوں کہ بعض افعال کہ جن کو وہابیت نے بدعت شمار کیا ہے:

 

1. رسول خدا (ص) پر اذان سے پہلے اور اسکے بعد صلوات پڑھنا:

 

ذکر الصلاة و السلام علی الرسول قبل الاذان و هکذا الجهر بها بعد الأذان، مع الأذان من البدع المحدثة فی الدین۔

رسول خدا پر اذان سے پہلے سلام و صلوات پڑھنا اور اسی طرح اذان کے بعد رسول خدا پر اونچی آواز میں صلوات پڑھنا، اور اذان کے دوران، یہ سب بدعت ہیں کہ جو دین میں ایجاد کی گئی ہیں۔

فتاوی اللجنة الدائمة للبحوث العلمیه و الإفتاء، ج2، ص357، فتوای نمبر9696

یہاں پر یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ، رسول خدا (ص) پر صلوات پڑھنا، اس وجہ سے بدعت اور حرام نہیں ہے کہ دین اسلام میں اس چیز کا وجود نہیں ہے، بلکہ رسول خدا پر صلوات پڑھنا، فقط اس وجہ سے بدعت اور حرام ہے کہ محمد ابن عبد الوہاب کو رسول خدا پر صلوات پڑھنے کی آواز سے تکلیف ہوتی تھی !!!

و کان محمد بن عبد الوهاب ینهی عن الصلاه علی النبی و يتأذى من سماعها و ینهی عن الاتیان بها لیلة الجمعه و عن الجهر بها علی المنابر و يؤذي من یفعل ذلک و یعاقبه اشد العقاب و ربما قتله.

محمد ابن عبد الوہاب رسول خدا پر صلوات پڑھنے کی آواز سے تکلیف کی وجہ سے اس کام سے منع کرتا تھا اور شب جمعہ بھی یہ کام کرنے سے منع کرتا تھا، اسی طرح منبر پر بیٹھ کر رسول خدا پر اونچی آواز سے صلوات پڑھنے سے بھی منع کرتا تھا اور اگر کوئی بھی رسول خدا پر صلوات پڑھتا تھا، تو محمد ابن عبد الوہاب اسکو اذیت و آزار دیتا تھا اور کبھی کبھی تو یہ اس بندے کو قتل کر دیتا تھا۔

الدر السنیه فی الرد علی الوهابیه، زینی دحلان، ص40

رسول خدا پر صلوات پڑھنے کا گناہ، ایک فاحشہ عورت سے زنا کرنے سے بھی بد تر ہے!!!

 

محمد ابن عبد الوہاب نہ فقط یہ رسول خدا پر صلوات پڑھنے کی آواز سننے سے اس کو تکلیف ہوتی تھی، بلکہ اس سے بھی بالا تر یہ کہ وہ صلوات پڑھنے والے کو قتل کر دیتا تھا اور صلوات پڑھنے کے گناہ کو ایک فاحشہ عورت کے گھر میں زنا کرنے کے لیے، آنے جانے سے بھی زیادہ برا شمار کرتا تھا!!!

حتى أنه قتل رجلا أعمى كان مؤذنا صالحا ذا صوت حسن نهاه عن الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم في المنارة بعد الأذان فلم ينته و أتى بالصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم فأمر بقتله فقتل. إن الريابة في بيت الخاطئة يعني الزانية أقل إثما ممن ينادي بالصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم في المنائر.

محمد بن عبد الوہاب نے ایک اندھے بندے کو کہ جو خوش آواز مؤذن اور نیک انسان تھا، کو قتل کر دیا، کیونکہ جب اسکو منارے پر رسول خدا پر صلوات پڑھنے سے منع کیا گیا تو وہ اس کام کے کرنے سے منع نہ ہوا اور پھر بھی منارے پر کھڑا ہو کر رسول خدا پر صلوات پڑھتا تھا، اس پر جب محمد ابن عبد الوہاب نے اس مؤذن کے قتل کرنے کا حکم دیا، تو اسکو قتل بھی کر دیا گیا۔ پھر محمد ابن عبد الوہاب نے کہا کہ بے شک ایک زنا کروانے والی عورت کے گھر زنا کرنے کے لیے آنے جانے کا گناہ، رسول خدا پر منارے پر کھڑے ہو کر صلوات پڑھنے کے گناہ سے کم تر ہے، !!!

الدر السنیه فی الرد علی الوهابیه، زینی دحلان، ص40

البتہ رسول خدا پر صلوات پڑھنے کی آواز سن کر محمد ابن عبد الوہاب کو تکلیف ہونا، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، کیونکہ اسی کے ہمفکر باپ یعنی معاویہ ابن ابی سفیان کو بھی اذان میں رسول خدا (ص) کا نام سن کر بہت ہی زیادہ تکلیف ہوتی تھی:

مطرف بن المغيرة بن شعبة قال: قال ابی : قلت له(للمعاویه) و قد خلوت به: إنك قد بلغت منا يا أمير المؤمنين، فلو أظهرت عَدْلاً و بسطت خيراً فإنك قد كبرت، و لو نظرت إلى إخوتك من بني هاشم فوصَلْتَ أرحامهم فو الله ما عندهم اليوم شيء تخافه، فقال لي: هيهات هيهات!! مَلَكَ أخوتَيْمٍ فعدل و فعل ما فعل، فو اللّه ما عدا أن هلك فهلك ذكره،... و إن أخا هاشم يُصْرَخُ به في كل يوم خمس مرات: أشهد أن محمداً رسول الله، فأي عمل يبقى مع هذا؟ لا أمَ لك؛ و الله ألا دفناً دفناً۔

مطرف نے نقل کیا ہے کہ میرے باپ مغیرہ ابن شعبہ نے کہا تھا کہ میں نے ایک دن ایک ملاقات میں معاویہ سے کہا کہ بنی ہاشم کی حکومت اور قدرت اب ختم ہو چکی ہے اور اب تم کو انکی طرف سے کوئی خطرہ نہیں ہے، لھذا اب تم ان پر سختی نہ کرو اور ان سے اچھا سلوک کرو۔ اس پر معاویہ نے اسکو غصے سے جواب دیا کہ ابوبکر اور عمر کا مرنے کے بعد کوئی نام و نشان باقی نہیں رہا اور کوئی بھی انکا ذکر نہیں کرتا، لیکن اذان میں ہر روز پانچ مرتبہ اشہد انّ محمد رسول اللہ کی آواز میرے کانوں تک پہنچتی ہے، اس حالت میں ہم بنی امیہ کے لیے کیا باقی بچتا ہے، نہ خدا کی قسم، میں جب تک محمد کے نام کو دفن نہ کر لوں، اس وقت تک میں آرام سے نہیں بیٹھوں گا۔

مروج الذهب مسعودی، ج2، ص54

شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید، ج2، ص187 

اس بارے میں کہنا چاہیے: إِنَّا لِلّهِ وَ إِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ،

2- صدق الله العظیم کا کہنا:

 

قول صدق الله العظیم بعد الإنتهاء من قراءة القرآن بدعة،

قرآن کی تلاوت ختم ہونے کے بعد، صدق الله العظیم کہنا، بدعت ہے۔

فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلميّة و الإفتاء ج 4 ص 149 فتوای نمبر3303

3. سالگرہ اور شادی کا جشن منانا:

 

و أعيادُ الموالد نوعٌ من العبادات المُحْدَثَةِ في دين اللّه فلا يجوز عملُها لأيٍّ من الناس مهما كان مقامُه أو دَوْرُه في الحياة،

سالگرہ کا جشن منانا، ایک قسم کی عبادت ہے کہ جس کا دین میں اضافہ کیا گیا ہے، ایسا جشن منانا، کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے، حتی وہ معاشرے کا بہت مشہور و معروف انسان ہی کیوں نہ ہو۔

فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلميّة و الإفتاء، ج 3، ص 83، فتواى نمبر 2008

4. چھوٹے پتھروں کی بنی تسبیح سے تسبیح پڑھنا:

 

و روى ابن وضاح: أن عبد الله بن مسعود حُدث: أن أناساً يسبحون بالحصى في المسجد و أتاهم و قد كوّم كل رجل منهم كومة من حصى بين يديه إنكم لأهدى من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أو أضل؟ بل هذه، يعني: أضل.....،

ابن وضاح نے نقل کیا ہے کہ: ابن مسعود نے حدیث نقل کی ہے کہ: یہ لوگ جب بھی تسبیح پڑھنا چاہتے تھے تو چھوٹے چھوٹے پتھروں سے تسبیح پڑھا کرتے تھے، میں نے مسجد میں دیکھا کہ ہر ایک نے تھوڑے تھوڑے سے پتھر اپنے سامنے رکھے ہوئے ہیں، میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ انھوں نے کہا کہ یہ چھوٹے پتھر ہیں کہ ہم تسبیح پڑھتے وقت انکو اپنے سامنے رکھتے ہیں کہ تا کہ تسبیح کی تعداد کو ہم بھول نہ جائیں، میں نے کہا۔ کیا تم رسول خدا کے ہدایت یافتہ اصحاب ہو یا، گمراہ اصحاب ہو ؟ بلکہ تم رسول خدا کے گمراہ اصحاب میں سے ہو۔

الدررالسنیه فی الأجوبة النجدیه، ج8، ص104

حرمین شریفین کو باطل اور غلط اعتقادات نے احاطہ کیا ہوا ہے:

 

وہابیوں کا عقیدہ ہے کہ حرمین شریفین مکہ اور مدینہ اور بہت سے دوسرے اسلامی شہروں کو جیسے طائف، عراق وغیرہ کو باطل اور غلط اعتقادات اور بدعتوں نے گھیرا ہوا ہے۔

و من العجب أن هذه الاعتقادات الباطلة، و المذاهب الضالة، و العوائد الجائرة، و الطرائق الخاسرة قد فشت و ظهرت، و عمت و طمت، حتى بلاد الحرمين الشريفين!

عجیب یہ ہے کہ یہ باطل اعتقادات، گمراہ مذاہب، جاری و ساری عادتیں اور نقصان پہنچانے والے راستے، ظاہر ہوئے اور زیادہ و عام ہو گئے ہیں، یہاں تک کہ یہ حرمین شریفین مکہ اور مدینہ میں بھی پہنچ گئے ہیں۔

و في الطائف، قبر ابن عباس، رضي الله عنهما، يفعل عنده من الأمور الشركية التي تشمئز منها نفوس الموحدين و تنكرها قلوب عباد الله المخلصين كذلك ما يفعل بالمدينة المشرفة،

طائف میں ابن عباس کی قبر کے پاس، ایسے شرک آلود کام انجام دیتے ہیں کہ جن سے اہل توحید لوگ نفرت کرتے ہیں، اور خدا کے خالص بندوں کے دل ان کاموں کو قبول نہیں کرتے۔ مدینہ مشرفہ میں بھی اس طرح کی بدعتیں انجام دی جاتی ہیں۔

و بالغوا في مخالفة ما جاء به محمد عليه أفضل الصلاة و السلام، من النهي عن تعظيم القبور،

رسول خدا کے قبروں کی تعظیم اور احترام سے منع کرنے کے باوجود، وہ لوگ قبروں کا بہت زیادہ احترام کیا کرتے تھے۔

كذلك مشهد العلوي، بالغوا في تعظيمه و توقيره، و خوفه و رجائه،

اسی طرح نجف میں حرم علوی کے احترام اور تعظیم میں خوف اور امید کی وجہ بہت مبالغے سے کام لیتے تھے۔

و أما بلاد مصر... فقد جمعت من الأمور الشركية...، لا سيما عند مشهد أحمد البدوي و أمثاله من المعتقدين المعبودين، فقد جاوزوا بهم ما ادعته الجاهلية لآلهتهم.

مصر کے شہروں میں لوگ کس قدر شرک میں مبتلا ہیں، خاص طور پر اہل سنت کے عالم احمد بدوی کے حرم میں کس قدر عبادت کرتے ہیں، یہ احترام اور تعظیم میں جاہلیت کے دور میں بنائے ہوئے خداؤں سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں۔

كذلك ما يفعل فی بلدان اليمن...و ففی صنعاء،

یمن اور صنعاء کے شہروں میں لوگ کس قدر کثرت سے غلط کام انجام دیتے ہیں۔

و فی أرض نجران من تلاعب الشيطان، و خلع ربقة الإيمان...

اور اسی طرح نجران کے علاقے میں تو شیطان لوگوں سے کھیلتا ہے، وہ ایمان کی رسی کو لوگوں کی گردن سے دور کرتا ہے، حلب و دمشق اور شام کے دوسرے شہروں میں، اسی طرح موصل اور کرد نشین لوگوں کے شہروں میں بھی شرک و فسق اور فجور موجود ہے۔

و عندهم المشهد الحسيني، قد اتخذه الرافضة وثنا، بل رباً مدبراً و خالقاً ميسراً، و أعادوا به المجوسية، و أحيوا به معاهد اللات و العزى،

عراق میں تو لوگوں نے امام حسین کے حرم کو بت بنا لیا ہے، بلکہ اس سے بالا تر کہ لوگوں نے انکو اپنا خدا اور خالق بنا لیا ہے۔ وہ مجوسیوں والی عادات کو انجام دیتے ہیں اور لات و عزی والے عہد و پیمان کو امام حسین کے حرم میں زندہ کرتے ہیں۔

الدرر السنیه، ج1، ص380 و ص381

  صراط مستقیم، آل شیخ اور محمد بن عبد الوہاب کا راستہ ہے:

 

و لا ينبغی لأحد من الناس العدول عن طريقتهم و مخالفة ما استمروا عليه فی أصول الدين فإنه الصراط المستقيم الذی من حاد عنه فقد سلك طريق أصحاب الجحيم،

کسی کو حق حاصل نہیں ہے کہ وہ آل شیخ کے راستے سے دور ہٹے اور منہ پھیرے، اور دین کے جن اصولوں پر آل شیخ باقی ہے، انکی بھی مخالفت کرنا جائز نہیں ہے، آل شیخ اور محمد ابن عبد الوہاب کا راستہ ہی صراط مستقیم ہے، جو بھی اس صراط مستقیم سے منہ پھیرے گا، وہ جہنم جانے والے راستے پر گامزن ہو جائے گا۔

الدرر السنیه فی الأجوبة النجدیه، ج14، ص 375

5. جشن عید میلاد النبی منانا:

 

سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم نے کہا ہے کہ:

لا يجوز الاحتفال بمولد الرسول صلى الله عليه و سلم و لا غيره؛ لأن ذلك من البدع المحدثة في الدين لأن الرسول صلى الله عليه و سلم لم يفعله، و لا خلفاؤه الراشدون، و لا غيرهم من الصحابة،

رسول خدا کا اور کسی دوسرے کا بھی میلاد کا جشن منانا، جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ ایسی بدعت ہے کہ جو دین میں ایجاد کی گئی ہے، اس لیے کہ رسول خدا، خلفاء راشدین اور دوسرے صحابہ نے اس کام کو انجام نہیں دیا۔

فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء ج3 ص 18 فتوای شماره 2747

علم فقہ کا ایک فقہی قاعدہ اصالۃ الإباحہ ہے:

 

شریعت اسلام میں معیار اور میزان رسول خدا (ص) کی کہی ہوئی بات اور کیا ہوا عمل ہے، نہ کہ نہ کہی ہوئی بات اور نہ کیا ہوا عمل، کیا قرآن میں کسی جگہ پر کہا گیا ہے کہ ایھا الناس ہر وہ عمل کہ جو رسول خدا نے انجام نہیں دیا، وہ بدعت ہے ؟ مثلا رسول خدا نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی، تو کیا اب کسی کا اپنی بیوی کو طلاق دینا بدعت ہے ؟! جب رسول خدا نے اصالۃ الاباحۃ کے قاعدے کی بنیاد رکھی ہے تو اسکا معنی یہ ہے کہ تم پر تمام چیزیں حلال ہیں، لیکن جن چیزوں کو میں حرام قرار دوں گا، صرف وہ تم پر حرام ہوں گی۔ اصالۃ الاباحۃ ایک ایسا فقہی قاعدہ ہے کہ جسکو تمام اسلامی فرقے قبول کرتے ہیں۔

ابن حجر عسقلانی عالم اہل سنت نے کہا ہے کہ:

 أَنَّ الْأَصْلَ فِي الْأَشْيَاءِ الْإِبَاحَةُ حَتَّى يَرِدَ الشَّرْعُ بِخِلَافِ ذَلِكَ،

اصل میں تمام چیزیں مباح اور جائز ہیں، مگر یہ کہ شریعت میں ایک چیز سے منع کیا گیا ہو۔

فتح الباری، ج13، ص 227

آج ترقی کے دور میں وہابیوں کی فکر و عقل جمود اور ٹھہراؤ کا شکار ہے، جمود یہ ہے کہ آئیں اور کہیں کہ: کلّما لم یفعله النبی و الخلفاء، فهو بدعه.

کہ جو بھی رسول خدا اور صحابہ نے انجام نہیں دیا، اسکو انجام دینا، بدعت ہے۔

کیونکہ رسول خدا مدینہ کی اپنی 11 سالہ زندگی میں اس قدر مشکلات اور مسائل کا شکار تھے کہ ان امور کی طرف انکی بالکل توجہ ہی نہیں تھی۔

ابن اثیر اس بارے میں لکھا ہے کہ:

و َمَا لَمْ يَكُنْ لَهُ مِثَالٌ مَوْجُودٌ كنَوْع مِنَ الجُود وَ السَّخَاءِ و فعْل الْمَعْرُوفِ فَهُوَ مِنَ الْأَفْعَالِ الْمَحْمُودَةِ، وَ لَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ فِي خِلَافِ مَا وَردَ الشَّرْعُ بِهِ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَدْ جَعل لَهُ فِي ذَلِكَ ثَوَابًا فَقَالَ «مَنْ سَنّ سُنة حسَنة كَانَ لَهُ أجْرها و أجرُ مَنْ عَمِل بِهَا» وَ قَالَ فِي ضِدّه «وَ مَنْ سَنَّ سُنة سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وزْرُها وَ وِزْرُ مَنْ عَمِل بِهَا» وَ ذَلِكَ إِذَا كَانَ فِي خِلَافِ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ وَ رَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ»

بعض افعال کہ جنکی مثال پہلے موجود نہیں ہے، جیسے بخشش و سخاوت کرنا، نیک اور پسندیدہ افعال وغیرہ، یہ تمام افعال بھی نیک اور پسندیدہ افعال میں شمار ہوتے ہیں، کیونکہ رسول خدا نے اسطرح کے افعال کے بارے میں ثواب کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ: جو بھی ایک نیک سنت کی بنیاد رکھے، تو اس سنت کا ثواب اور اس سنت پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کا ثواب، اس بنیاد رکھنے والے کو ملے گا، البتہ وہ انجام پانے والے افعال شریعت اسلام کے خلاف نہ ہوں، کیونکہ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: جو بھی ایک بد سنت (بدعت) کی بنیاد رکھے، تو اس بری سنت کا گناہ اور اس پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کا گناہ، اس بنیاد رکھنے والے کو ملے گا، اور یہ برے اعمال وہ اعمال ہیں کہ جو خدا اور رسول کے حکم کے خلاف ہیں۔

النهایه فی غریب الحدیث و الأثر، ج1، ص 106

 قرآن کریم میں ہے کہ:

قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى‏،

کہہ دو کہ میں تم سے کوئی بھی اجر نہیں مانگتا، فقط یہ کہتا ہوں کہ میرے نزدیکیوں سے محبت کرتے رہنا،

سوره شورى آیه 23

ایک دوسری آیت ہے کہ:

فَالَّذينَ آمَنُوا بِهِ وَ عَزَّرُوهُ وَ نَصَرُوه...

پس وہ جو اس پر ایمان لائے ہیں اور اسکا احترام کرتے ہیں اور اسکی مدد کرتے ہیں،

سوره أعراف آیه 157

رسول خدا (ص) کا احترام اس آيت میں مطلق اور بغیر کسی قید کے ذکر ہوا ہے،لہذا احترام کرنے کے بہت سے مصداق ہو سکتے ہیں۔

قرآن کریم نے حضرت عیسی (ع) کے حواریوں کی درخواست کے بارے میں فرمایا ہے کہ:

إِذْ قالَ الْحَوارِيُّونَ يا عيسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطيعُ رَبُّكَ أَنْ يُنَزِّلَ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماء،

جب حواریوں نے کہا کہ: اے عیسی ابن مریم! کیا تمہارا پروردگار ہم پر آسمان سے دسترخوان نازل کر سکتا ہے؟

سوره مائدة آیه 112

حضرت عیسی نے بھی بنی اسرائیل کی درخواست کو خداوند سے بیان کیا ہے اور کہا کہ:

اللَّهُمَّ رَبَّنا أَنْزِلْ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ تَكُونُ لَنا عيداً لِأَوَّلِنا وَ آخِرِنا،

خداوندا، ہم پر آسمان سے دستر خوان نازل فرما، تا کہ ہمارے پہلے والے اور ہمارے آخر والے کے لیے وہ دن عید قرار پائے،

سوره مائده آیہ 114

اب سوال یہاں پر ہے کہ: کیا آسمانی دستر خوان کی اہمیت زیادہ ہے یا رسول خدا (ص) کی رسالت کی ؟ کیا آسمانی دستر خوان کی اہمیت زیادہ ہے یا اس دن کی کہ جس دن رسول خدا دنیا میں تشریف لائے ؟ جب ایک دستر خوان کے نازل ہونے کے لیے قیامت تک خوشحال ہو کر جشن اور عید منانا چاہتے ہیں تو پھر خداوند کی افضل ترین مخلوق یعنی رسول خدا کی ولادت والے دن پھر ہمیں کیا کیا کرنا چاہیے ؟؟؟

سیوطی کا جشن منانے کے بارے میں بہترین جواب:

 

 سیوطی سے جب رسول خدا (ص) کی ولادت کا جشن منانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے اسکا بہترین جواب دیا اور کہا کہ:

فقد وقع السؤال عن عمل المولد النبوي في شهر ربيع الأول ما حكمه من حيث الشرع ؟ و هل هو محمود أو مذموم ؟ و هل يثاب فاعله ؟

و الجواب : عندي أن أصل عمل المولد الذي هو اجتماع الناس و قراءة ما تيسر من القرآن و رواية الأخبار الواردة في مبدأ أمر النبي صلى الله عليه و سلّم و ما وقع في مولده من الآيات ثم يمد لهم سماط يأكلونه و ينصرفون من غير زيادة على ذلك هو من البدع الحسنة التي يثاب عليها صاحبها لمافيه من تعظيم قدر النبي صلى الله عليه و سلّم و إظهار الفرح و الاستبشار بمولده الشريف،

سوال:

رسول خدا کی ماہ ربیع الاول میں ولادت کا جشن منانے کے بارے میں سوال ہوا ہے کہ اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ کیا یہ کام نیک ہے یا نیک نہیں ہے ؟ اور کیا جشن منانے والوں کو اجر و ثواب بھی ملے گا یا نہیں ؟

جواب:

میری نظر کے مطابق کہ وہ کام جو جشن میلاد میں انجام دئیے جاتے ہیں، جیسے لوگوں کا جمع ہونا، قرآن کی تلاوت کرنا، رسول خدا کی شان میں روایات کا پڑھنا، انکی ولادت کے واقعات اور معجزات کا ذکر کرنا، کھانا کھانا اور ان سب کا اپنے گھروں کو واپس آ جانا۔ یہ ایک ایسی بدعت ہے کہ جو اچھی ہے اور جو بھی اسکو انجام دے گا، اسکو اجر و ثواب ملے گا، کیونکہ یہ رسول خدا کے بلند مقام اور احترام کی وجہ سے انکی ولادت کا جشن مناتے اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔

الحاوی للفتاوی، ج 1، ص 182،181

حلبی نے بھی رسول خدا (ص) کی ولادت کا جشن منانے کے بارے میں، ایک اچھا نکتہ ابن جوزی سے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ:

قال ابن الجوزي: من خواصه أنه أمان في ذلك العام، و بشرى عاجلة بنيل البغية و المرام.

ابن جوزی نے کہا ہے کہ رسول خدا کی ولادت کے جشن منانے کے خواص میں سے یہ ہے کہ یہ جشن منانے والے بندے اس سال میں آنے والی آفات اور بلیات سے محفوظ رہتے ہیں اور اس جشن کی برکت کی وجہ سے انکی حاجتیں اور مرادیں بھی پوری ہو جاتی ہیں۔

سیره حلبی، ج1، ص 137

اسی کے بارے میں سیوطی کا ایک دوسرا قول بھی ہے کہ وہ بھی بہت جالب ہے:

فتشريف هذا اليوم متضمن لتشريف هذا الشهر الذي ولد فيه ، فينبغي أن نحترمه حق الاحترام و نفضله بما فضل الله به الأشهر الفاضلة،

رسول خدا کی ولادت کے دن کا احترام کرنا، یہ اصل میں اس مہینے کا احترام کرنا ہے کہ جس میں رسول خدا دنیا میں تشریف لائے تھے، پس بہت مناسب ہے کہ ہم اس دن کا اور اس مہینے کا زیادہ احترام کریں، کیونکہ خداوند نے بھی اس مہینے (ربیع الاول) کو دوسرے مہینوں پر برتری دی ہے۔

الحاوی للفتاوی، ج1، ص 194

صالحی شامی نے رسول خدا (ص) کی ولادت کا جشن منانے کے بارے میں لکھا ہے کہ:

الباب الثالث عشر في أقوال العلماء في عمل المولد الشريف و اجتماع الناس له و ما يحمد من ذلك و ما يذم قال الحافظ أبو الخير السخاوي- رحمه الله تعالى- في فتاويه: عمل المولد الشريف لم ينقل عن أحد من السلف الصالح في القرون الثلاثة الفاضلة، و إنما حدث بعد، ثم لا زال أهل الإسلام في سائر الأقطار و المدن الكبار يحتفلون في شهر مولده صلى الله عليه و سلم بعمل الولائم البديعة المشتملة على الأمور البهجة الرفيعة و يتصدقون في لياليه بأنواع الصدقات و يظهرون السرور و يزيدون في المبرّات و يعتنون بقراءة مولده الكريم و يظهر عليهم من بركاته كل فضل عميم،

13 واں باب علماء، کے لوگوں کے جمع ہو کر رسول خدا کا جشن منانے کے، اقوال کے بارے میں ہے کہ بعض نے اس کام کی مدح کی ہے اور بعض نے اس کام کی مذمت کی ہے،

ابو الخیر سخاوی نے اپنے فتوی میں کہا ہے کہ: رسول خدا کی ولادت کا جشن منانا گذشتہ تین افضل صدیوں میں کسی بھی صالح انسان سے نقل نہیں ہوا اور یہ کام بعد میں شروع ہوا ہے اور ہمیشہ تمام قوموں کے مسلمان تمام بڑے شہروں میں، ولادت کے مہینے میں جشن برپا کیا کرتے تھے اور اس مہینے کی راتوں کو صدقہ اور خیرات کیا کرتے تھے اور اپنی خوشی کا آزادانہ طور پر اظہار کیا کرتے تھے اور خود کو ہمیشہ رسول خدا کی یاد میں مصروف رکھتے تھے، اسی لیے اس مہینے میں تمام برکات ان پر نازل ہوتی تھیں۔

سبل الهدى و الرشاد فی سيرة خير العباد، ج1، ص 362

6. انبیاء اور صالحین کا جشن میلاد منانا:

 

لا يجوز الاحتفال بمن مات من الأنبياء و الصالحين و لا إحياء ذكراهم بالموالدلأن جميع ما ذكر من البدع المحدثة في الدين، و من وسائل الشرك،

انبیاء اور صالحین کی ولادت کے لیے ہر طرح کا جشن منانا، جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ تمام کام دین میں بدعت ایجاد کرنا ہے اور یہ کام شرک کے اسباب میں سے بھی ہے۔

فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء، ج3، ص54، فتوای نمبر1774

7. ہر پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن سے کرنا:

 

اتخاذ افتتاح المحاضرات أو الندوات بآيات من القرآن دائماً كأنها سنة مشروعة فهذا لا ينبغي،

اپنے پروگراموں اور خطابات کو ہمیشہ قرآن کی آیات کی تلاوت سے شروع کرنا اور یہ خیال کرنا کہ ایسا کرنا ایک جائز سنت ہے، تو یہ کام ٹھیک اور مناسب نہیں ہے۔

نور علی الدرب، العثیمین، ص 43

8. ایک گروہ کی صورت میں مل کر قرآن اور دعا پڑھنا:

 

التزام قراءة القرآن جماعة بصوت واحد بعد كل من صلاة الصبح و المغرب أو غيرهما بدعة، و كذا التزام الدعاء جماعة بعد الصلاة،

ایک گروہ کا ہر روز صبح اور مغرب کی نماز کے بعد، مل کر ایک ہی آواز میں قرآن کی تلاوت کرنا، بدعت ہے اور اسی طرح ہر نماز کے بعد مل کر دعا پڑھنا بھی بدعت ہے،

فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلميّة و الإفتاء، ج2، ص 481، فتوای نمبر 4994

9. حرم رسول خدا (ص) میں زیادہ آنا جانا:

 

من البدع التی تقع عند قبة الرسول کثرة التردد علیه،

ان بدعتوں میں سے کہ جو رسول خدا کے حرم کے نزدیک انجام دی جاتیں ہیں، ان میں سے ایک اس حرم میں زیادہ آنا جانا ہے،

مجلة الدعوه، نمبر1612، ص 37

یہ فتوا رسول خدا (ص) سے وہابیوں کی دشمنی کی انتہا ہے، جب یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ پاک مسلمانوں کی نگاہ اس مبارک حرم و روضے پر پڑتی ہے تو انکی آنکھوں سے اشک جاری ہو جاتے ہیں، تو یہ دیکھ کر ان کو بہت غصہ آتا ہے اور انکو اس سے بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے اور وہ اس بات کو بالکل برداشت نہیں کر سکتے۔

10. تلاوت قرآن اور نماز پڑھنے کا ثواب رسول خدا (ص) کو ہدیہ کرنا:

 

سعودی عرب کی فتوا دینے والی سرکاری کمیٹی نے لکھا ہے کہ:

لا يجوز إهداء الثواب للرسول صلى الله عليه و سلم، لا ختم القرآن و لا غيره لأن السلف الصالح من الصحابة رضي الله عنهم و من بعدهم، لم يفعلوا ذلك،

رسول خدا کو تلاوت قرآن وغیرہ کا ثواب ہدیہ کرنا، بدعت ہے، کیونکہ صحابہ اور تابعین نے اس کام کو انجام نہیں دیا۔

فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية و الإفتاء، ج9، ص 58، فتوای نمبر3582

11. اموات کو نماز پڑھنے کا ثواب ایصال اور ہدیہ کرنا:

 

سعودی عرب کی فتوا دینے والی سرکاری کمیٹی نے لکھا ہے کہ:

لا يجوز أن تهب ثواب ما صليت للميت، بل هو بدعة لأنه لم يثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم و لا عن الصحابة،

نماز پڑھنے کا ثواب مردوں کو ایصال کرنا، جائز نہیں ہے، بلکہ یہ کام بدعت ہے، کیونکہ ایسا کام خود رسول خدا اور صحابہ سے نقل نہیں ہوا۔

فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية و الإفتاء، ج4، ص 11، فتوای نمبر7482

12. خانہ کعبہ کے پردے کو ہاتھ سے مس کرنا:

 

ابن عثیمین سے خانہ کعبہ کے پردے کو مس کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے جواب میں لکھا کہ:

التبرك بثوب الكعبة و التمسح به من البدع؛ لأن ذلك لم يرد عن النبي،

خانہ کعبہ کے پردے کو احترام کی نیت سے ہاتھ سے مس کرنا، بدعت ہے، کیونکہ یہ کام رسول خدا سے نقل نہیں ہوا۔

مجمع فتاوی و رسائل العثیمین، ج2، ص 320، فتوای نمبر 366

13. تسبیح کے ساتھ ذکر خدا کرنا:

 

سعودی عرب کے سابق مفتی بن باز نے تسبیح کے ساتھ خدا کا ذکر کرنے کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا ہے کہ:

 لا نعلم أصلاً في الشرع المطهر للتسبيح بالمسبحة فالأولى عدم التسبيح بها و الاقتصار على المشروع في ذلك و هو التسبيح بالأنامل،

تسبیح کے ساتھ خدا کا ذکر کہنے کی دین و شریعت میں اساس اور بنیاد موجود نہیں ہے اور بہتر یہ ہے کہ تسبیح کے ساتھ ذکر نہ پڑھا جائے، بلکہ شرعی طور پر یہ ثابت ہوا ہے کہ ہاتھ کی انگلیوں کے ساتھ ذکر پڑھا جائے۔

فتاوی اسلامیه، ج2، ص 366

14. نو زاد بچے کی سالگرہ کا جشن منانا:

 

وہابی مفتی العثیمین نے لکھا ہے کہ:

ان الأحتفال بعیدالمیلاد للطفل،فیه تشبه بأعداء الله فإن هذه العادة لیست من عادات المسلمین،

بچوں کی سالگرہ کا جشن منانا، کیونکہ یہ اسلامی عادات اور سنت میں سے نہیں ہے، بلکہ ایسا کرنا خود کو خداوند کے دشمنوں سے مشابھے کرنے کے مترادف ہے۔

فتاوی منار الإسلام، ج1، ص43

سعودی عرب کی فتوا دینے والی سرکاری کمیٹی نے لکھا ہے کہ:

 و أعياد الموالد نوع من العبادات المحدثة في دين الله فلا يجوز عملها لأي أحد من الناس مهما كان مقامه أو دوره في الحياة،

سالگرہ کا جشن منانا، ایک قسم کی عبادت ہے کہ جس کا دین میں اضافہ کیا گیا ہے، ایسا جشن منانا، کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے، حتی وہ معاشرے کا بہت مشہور و معروف انسان ہی کیوں نہ ہو۔

فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية و الإفتاء، ج3، ص83، فتوای نمبر 2008

15. شادی کی سالگرہ کا جشن منانا:

 

و أما أعياد الميلاد للشخص أو أولاده، أو مناسبة زواج و نحوها فكلها غير مشروعة، و هي للبدعة أقرب من الإباحة،

سالگرہ کا جشن اپنے لیے یا اپنے بچوں کے لیے اور شادی کی سالگرہ کا جشن منانا، یہ سارے کام شریعت اسلامی کے خلاف ہیں اور یہ سارے کام جائز ہونے کی بجائے بدعت ہونے کے زیادہ نزدیک ہیں۔

مجموع فتاوی و رسائل ابن عثیمین، ج2، ص302

یہ مسلمانوں کے کاموں کے چند نمونے اور مثالیں تھیں کہ جن کو گمراہ فرقے وہابی نے بدعت میں سے شمار کیا ہے اور اسی غلط بنیاد پر مسلمانوں پر کفر اور شرک کے فتوئے دے کر انکی جان، مال اور ناموس کو حلال اور جائز جانتے ہیں۔

وہ بات جو مہم ہے وہ یہ ہے کہ جاننا چاہیے کہ یہ جو وہابی مسلمانوں کے افعال کو بدعت کہتے ہیں، کیا مسلمانوں پر وہابیوں کی یہ تہمت، قرآن کی آیات کے مطابق ہے یا نہیں ہے ؟ کیا یہ تہمت رسول خدا کی سنت کے مطابق ہے یا نہیں ہے ؟ کیا یہ بدعت کی تہمت، بدعت کے ارکان کہ جو خود اہل سنت کے علماء نے بیان کیے ہیں، ان کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے یا نہیں رکھتی ؟

ان تمام سوالات کے واضح ہونے کے لیے اب ہم بدعت کے موضوع کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں:

لفظ بدعت کا لغوی اور اصطلاحی معنی:

 

کتاب العین:

خلیل بن احمد، فراہیدی کہ جو امام صادق (ع) اور امام کاظم (ع) کا ہمعصر تھا، اس نے اپنی کتاب العین میں بدعت کے معنی کے بارے میں لکھا ہے کہ:

البَدْعُ: إحداثُ شيءٍ لم يكن له من قبلُ خلقٌ و لا ذكرٌ و لا معرفةٌ

 و البِدْعُ: الشيء الذي يكون أولاً في كل أمر، كما قال الله عز وجل: قُلْ ما كُنْتُ بِدْعاً مِنَ الرُّسُلِ أي: لستُ بأوّل مُرْسَل. 

و البِدْعَةُ: اسم ما ابتدع من الدين و غيره و البِدْعَةُ: ما استحدثت بعد رسول الله من أهواء و أعمال،

البدع: ایک ایسی چیز کو ایجاد کرنا ہے کہ جو پہلے موجود نہ ہو اور اسکا پہلے کوئی اثر اور ذکر موجود نہ ہو،

البدع: ایک ایسی چیز ہے کہ جو ہر لحاظ سے نئی اور پہلی ہو، خداوند کا فرمان ہے کہ: اے پیغمبر کہہ دو کہ میں کوئی نئا پیغمبر نہیں ہوں، یعنی میں پہلا رسول نہیں ہوں،

 سورہ احقاف آیت 9

البدعۃ: اس چیز کا نام ہے کہ جو دین میں اور غیر دین میں نئی ایجاد کی گئی ہو۔ بدعت وہ باطل عقائد اور اعمال ہیں کہ جو رسول خدا کے بعد ایجاد کیے گئے ہوں۔

العین، ج 2، ص 54

کتاب معجم مقاییس اللغہ:

ابن فارس نے بَدَعَ کا معنی لکھا ہے کہ:

«بَدَعَ» الباء و الدال و العين أصلان: أحدهما ابتداء الشيء و صنعُه لا عَنْ مِثال، و الآخر الانقطاع و الكَلال،

بدعت کے دو معنی ہیں، 1، ایک چیز کو پہلے سے موجود شدہ نمونے و مثال کے بغیر ایجاد کرنا، 2، الگ ہونا اور بوسیدہ ہونا ہے،

معجم مقاییس اللغه، ج1، ص 209

کتاب المفردات قرآن:

راغب اصفہانی نے بدعت کے معنی کے بارے میں کہا ہے کہ:

الإِبْدَاع: إنشاء صنعة بلا احتذاء و اقتداء و البِدْعةُ في المذهب: إيراد قول لم يستنّ قائلها و فاعلها فيه بصاحب الشريعة و أماثلها المتقدمة و أصولها المتقنة،

بدعت کا معنی ایک صنعت کو ایجاد کرنا ہے، بغیر کسی مثال کے اور بغیر کسی دوسرے کی نقل کیے، مذہب میں بدعت یعنی ایک قول کا قائل اور اسکا فاعل اسکو قول کو کہتا ہے لیکن اس قول کی نسبت شارع کی طرف نہیں دیتا۔ اس قول کا کسی دوسری چیز کے ساتھ موازنہ نہیں کرتا،

المفردات فی غریب القرآن، ص 110

کتاب قاموس المحیط :

فیروز آبادی نے بدعت کا معنی لکھا ہے کہ:

البِدْعَةُ بالكسر: الحَدَثُ في الدين بعدَ الإِكْمَالِ، أو ما اسْتُحْدِثَ بعد النبيِّ، صلى الله عليه و سلم، من الأَهْواءِ و الأَعْمالِ،

بدعت یعنی دین میں جدید اور باطل عقائد یا جدید اور باطل عمل کو ایجاد کرنا ہے، رسول خدا کے بعد یا دین مکمل ہونے کے بعد،

قاموس المحیط، ج3، ص 4

کتاب صحاح اللغہ:

جوہری نے لفظ بدعت کے بارے میں لکھا ہے کہ:

البدعة: الحدث في الدين بعد الاكمال،

بدعت یعنی دین کے کامل ہونے کے بعد، دین میں کسی نئی چیز کا اضافہ کرنا ہے،

صحاح اللغہ، ج3، ص 1184

کتاب لسان العرب:

ابن منظور نے بدعت کے معنی کے بارے میں کہا ہے کہ:

البِدْعةُ: الحَدَث وَ مَا ابْتُدِعَ مِنَ الدِّينِ بَعْدَ الإِكمال،

بدعت یعنی دین کے کامل ہونے کے بعد، دین میں ایک نئی چیز ایجاد اور اضافہ کرنا ہے،

لسان العرب، ج 8، ص6

ابن منظور کا اپنے عقیدے کی روشنی میں ایک لفظ کا معنی کرنا:

 

بعض اوقات ایک لغت دان کا عقیدہ، اس کے ایک لفظ کا معنی کرنے کو بھی متاثر کرتا ہے، ابن منظور انہی میں سے ایک ہے کہ لفظ بدعت کا معنی کرنے میں ایسے مطالب کو بیان کرتا ہے کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عمر کو نماز تراویح کی بدعت ایجاد کرنے سے بری کرنا چاہتا ہے، اس نے لفظ بدعت کا معنی ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ:

فِي حَدِيثِ عُمَرَ، رَضِيَ الله عنه، فِي قِيام رمضانَ: نِعْمتِ البِدْعةُ هَذِهِ. ابْنُ الأَثير: البِدْعةُ بدْعتان: بدعةُ هُدى، و بدْعة ضَلَالٍ، فَمَا كَانَ فِي خِلَافِ مَا أَمر اللَّهُ بِهِ وَ رَسُولُهُ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ و َسَلَّمَ، فَهُوَ فِي حَيِزّ الذّمِّ و الإِنكار، وَ مَا كَانَ وَاقِعًا تَحْتَ عُموم مَا ندَب اللهُ إِليه و حَضّ عَلَيْهِ أَو رسولُه فَهُوَ فِي حيِّز الْمَدْحِ،

عمر نے جو نماز تراویح کے بارے میں کہا ہے کہ: یہ ایک اچھی بدعت ہے، اس پر ابن اثیر نے کہا ہے کہ: بدعت کی دو اقسام ہیں: بدعت ہدایت اور بدعت ضلالت! جو بھی خدا اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف ہو، وہ منکر اور مذموم ہے، اور وہ عمومی موارد کہ جو خدا اور رسول کے حکم کے تحت ہوں اور جنکے انجام دینے کی خداوند نے دعوت دی ہو، وہ امور قابل مدح اور قابل تعریف ہیں۔

لسان العرب، ج8، ص 6

تمام لغت دانان نے اپنے اقوال میں کہا ہے کہ، بدعت وہ چیز ہے کہ جسکے بارے میں خداوند اور رسول خدا نے کوئی حکم نہ دیا ہو، اس چیز پر نہ حکم خاص موجود ہو اور نہ ہی حکم عام ہو،

یہ جو تم نے (ابن منظور) کہا ہے کہ : مَا كَانَ وَاقِعًا تَحْتَ عُموم مَا ندَب اللهُ إِليه، ایسی چیز تو اصلا بدعت کے مفہوم سے خارج ہے، کیونکہ جس کام کے کرنے کا خداوند نے حکم و دعوت دی ہو، وہ تو کام بالکل بدعت ہو ہی نہیں سکتا، اور ایسے کام پر لفظ بدعت بولنا بالکل غلط ہو گا، بلکہ اس کو شریعت اور سنت کہا جاتا ہے، لیکن نماز تراویح کے بارے میں عمر نے کہا ہے کہ :

نِعْمَ البِدْعَةُ هَذِهِ!

حالانکہ ما ندب اللہ، جس کام کا خداوند نے حکم دیا ہو، وہ سنت ہوتا ہے، نہ بدعت ممدوح !

ابن منظور کا عمر کی نماز تراویح کی بدعت کی تاویل کرنا:

 

 ابن منظور نے لفظ بدعت کا معنی ذکر کرتے ہوئے، عمر کو نماز تراویح کی بدعت ایجاد کرنے سے بری کرنے کے لیے، بدعت کی دو قسمیں کی ہیں، بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ، اور پھر اس نے عمر کی بدعت کو بدعت حسنہ (اچھی بدعت) قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ:

وَ مِنْ هَذَا النَّوْعِ قَوْلُ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نعمتِ البِدْعةُ هَذِهِ، لَمَّا كَانَتْ مِنْ أَفعال الْخَيْرِ وَ دَاخِلَةً فِي حَيِّزِ الْمَدْحِ سَمّاها بِدْعَةً و مدَحَها لأَنَّ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عليه و سلم، لم يَسُنَّها لَهُمْ، و إِنما صلَّاها لَيالِيَ ثُمَّ تَرَكَهَا وَ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا وَ لَا جَمَعَ النَّاسَ لَهَا وَ لَا كَانَتْ فِي زَمَنِ أَبي بَكْرٍ و إِنما عُمَرُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، جَمَعَ الناسَ عَلَيْهَا و ندَبهم إِليها فَبِهَذَا سَمَّاهَا بِدْعَةً، وَ هِيَ عَلَى الْحَقِيقَةِ سنَّة لِقَوْلِهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ،عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَ سُنَّةِ الخُلفاء الرَّاشِدِينَ مِنْ بَعْدِي  وَ قَوْلُهُ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي: أَبي بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَ عَلَى هَذَا التأْويل يُحمل الْحَدِيثُ الآخَر:كلُّ مُحْدَثةٍ بِدْعَةٌ، إِنما يُرِيدُ مَا خالَف أُصولَ الشَّرِيعَةِ وَ لَمْ يُوَافِقِ السُّنَّةَ، و أَكثر مَا يُسْتَعْمَلُ المُبْتَدِعُ عُرْفاً فِي الذمِّ،

اور جو عمر نے کہا ہے کہ: یہ ایک اچھی بدعت ہے، وہ بھی اسی قسم (بدعت حسنہ) میں سے ہے، اس وجہ سے عمر کا فعل، افعال نیک میں سے تھا، ممدوح کاموں میں شمار ہوتا ہے، اور اس نے بدعت بھی کہا ہے اور وہ بھی بدعت حسنہ ہے، بدعت اس لیے کہا ہے کہ رسول خدا نے نماز تراویح کو سنت قرار نہیں دیا ہے، انھوں نے فقط چند راتوں کو اس نماز کو پڑھا تھا اور پھر چھوڑ دیا تھا، اور لوگوں کو اس نماز پڑھنے کے لیے جمع بھی نہیں کیا تھا، ابوبکر کے دور میں بھی نماز تراویح نہیں پڑھی گئی، اور عمر نے فقط عمر نے نماز تراویح کو شروع کیا تھا اور لوگوں کو اس نماز پڑھنے کا حکم بھی دیتا تھا، لہذا اس وجہ سے عمر نے کہا کہ یہ نماز بدعت ہے، البتہ  حقیقت میں یہ بدعت، سنت ہے، کیونکہ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ:

 تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کی پیروی کرنا، لازم اور ضروری ہے، اور اسی طرح یہ بھی فرمایا ہے کہ:

میرے بعد ابوبکر اور عمر کی پیروی کرنا۔

لہذارسول خدا کی یہ حدیث کہ: جو نئی چیز بھی ایجاد ہو، وہ بدعت ہے، تو اس سے مراد ہر وہ چیز جو دین اور شریعت کے قوانین کے مخالف اور سنت کے مطابق نہ ہو۔

عرب استعمال کے مطابق لفظ بدعت زیادہ تر قابل مذمت چیزوں اور کاموں کے لیے بولا جاتا ہے۔

لسان العرب، ج 8، ص 6

رسول خدا (ص) کا نماز تراویح پڑھنے پر غصّہ کرنا!

 

اہل سنت کی معتبر کتب کے مطابق، رسول خدا نے اکیلے فقط ایک رات نماز تراویح پڑھی تھی، لیکن کچھ لوگ رسول خدا کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز تراویح پڑھنے لگے، تو جب رسول خدا نے انکو دیکھا تو بہت ناراض ہوئے اور غصے سے ان کو اس کام سے منع کر دیا اور دوسرے دن رات کو مسجد نہ گئے۔ اس روایت کو بخاری نے اپنی کتاب صحیح میں نقل کیا ہے:

فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يُصَلِّي فِيهَا، فَتَتَبَّعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ وَ جَاءُوا يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ، ثُمَّ جَاءُوا لَيْلَةً فَحَضَرُوا، وَأَبْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ عَنْهُمْ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ، فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَ حَصَبُوا البَابَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ مُغْضَبًا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ: «مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُكْتَبُ عَلَيْكُمْ، فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلاَةِ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ خَيْرَ صَلاَةِ المَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلاَةَ المَكْتُوبَةَ،

رسول خدا ایک رات مسجد آئے اور نماز پڑھنے میں مصروف ہو گئے۔ اتنے میں کچھ لوگ آئے اور مستحب نماز رسول خدا کی اقتداء میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ دوسرے دن وہ لوگ دوبارہ مسجد آ گئے، لیکن رسول خدا اس دن مسجد نہ آئے۔ وہ لوگ رسول خدا کے گھر گئے اور گھر کے سامنے جا کر بلند آواز سے رسول خدا کو پکارنے لگے، رسول خدا غصے کی حالت میں گھر سے باہر آئے اور ان سے کہا کہ: تم لوگ یہ کیا کام انجام دے رہے ہو ؟ میرے خیال میں یہ نماز تراویح تم پر واجب ہو جائے گی، تم مستحب نماز کو اپنے گھروں میں پڑھا کرو، کیونکہ واجب نماز کے علاوہ، سب سے افضل وہ نماز ہے کہ جو اپنے گھر میں پڑھی جائے۔

صحیح بخاری، ج 5، ص 2266، باب ما یجوز من الغضب، ح 5762

رسول خدا کا نماز تراویح جماعت کے ساتھ پڑھنے سے انکار کرنا، یہ در حقیقت انکی طرف سے نماز تراویح کے ساتھ عملی طور پر مخالفت کرنا تھا۔ ایک دوسری روایت ہے کہ:

فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَ الأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ كَانَ الأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلاَفَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَ صَدْرًا مِنْ خِلاَفَةِ عُمَرَ،

رسول خدا دنیا سے چلے گئے اور نماز تراویح کا معاملہ ایسے ہی تھا، یعنی یہ نماز جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی جاتی تھی، اور ابوبکر کی خلافت کے دور میں بھی ایسے ہی تھا اور عمر کی خلافت کی ابتداء میں بھی ایسے ہی تھا۔

صحیح بخاری، ج2، ص 707، كِتَابُ صَلاَةِ التَّرَاوِيحِ بَابُ فَضْلِ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ، ح 1905

بخاری نے روایت کے ذیل میں (الأمر على ذلك) کے معنی میں لکھا ہے کہ:

«استمر الحال على ترك الجماعة في قيام رمضان»

نماز تراویح ماہ رمضان کی راتوں میں جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی جاتی تھی۔

بدعت کی دو اقسام «بدعت محموده» اور «بدعت مذمومہ»!!

 

ابن حجر نے شافعی سے نقل کیا ہے کہ:

قَالَ الشَّافِعِيُّ الْبِدْعَةُ بِدْعَتَانِ مَحْمُودَةٌ وَ مَذْمُومَةٌ فَمَا وَافَقَ السُّنَّةَ فَهُوَ مَحْمُودٌ وَ مَا خَالَفَهَا فَهُوَ مَذْمُومٌ،

شافعی نے کہا ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں: بدعت پسندیدہ اور بدعت ناپسندیدہ، ہر وہ بدعت کہ جو سنت کے مطابق ہو، وہ بدعت پسندیدہ ہے اور ہر وہ بدعت جو سنت کے مخالف ہو، وہ بدعت ناپسندیدہ ہے۔

فتح الباری، ج 13، ص 253

ابن حجر نے بدعت کی دو قسمیں ذکر کی ہیں: بدعت محموده و مذمومہ، اور کہا ہے کہ:

الْمُحْدَثَاتُ ضَرْبَانِ مَا أُحْدِثُ يُخَالِفُ كِتَابًا أَوْ سُنَّةً أَوْ أَثَرًا أَوْ إِجْمَاعًا فَهَذِهِ بِدْعَةُ الضَّلَالِ وَمَا أُحْدِثُ مِنَ الْخَيْرِ لَا يُخَالِفُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَهَذِهِ مُحْدَثَةٌ غَيْرُ مَذْمُومَةٍ،

وہ جدید چیزیں جن کا دین میں اضافہ کیا جاتا ہے، اسکی دو قسمیں ہیں: ایک قسم قرآن، سنت رسول، کلام صحابہ اور اجماع کے مخالف ہے، کہ یہ بدعت اور گمراہی ہے، اور دوسری قسم نیک کاموں سے ایجاد ہوتی ہے کہ جو قرآن، سنت رسول، کلام صحابہ اور اجماع کے مخالف نہیں ہے اور دین نے بھی ان موارد کی مذمت نہیں کی۔

فتح الباری، ج 13، ص 253

بدعت کی دو اقسام، بدعت ہدایت اور بدعت گمراہی!!

 

ابن اثیر جزری نے بھی ماہ رمضان میں نماز تراویح کے بارے میں عمر کا قول نقل کرنے بعد کہا ہے کہ:

البِدْعةُ بدْعتان: بدعةُ هُدى، و بدْعة ضَلَالٍ، فَمَا كَانَ فِي خِلَافِ مَا أَمر اللَّهُ بِهِ وَ رَسُولُهُ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهُوَ فِي حَيِزّ الذّمِّ و الإِنكار، وَ مَا كَانَ وَاقِعًا تَحْتَ عُموم مَا ندَب اللهُ إِليه و حَضّ عَلَيْهِ أَو رسولُه فَهُوَ فِي حيِّز الْمَدْحِ،

بدعت کی دو قسمیں ہیں: بدعت ہدایت اور بدعت ضلالت! وہ جو خدا اور رسول کے حکم کے خلاف ہو، وہ مذموم اور منکر ہے اور وہ جو خدا کے عام اوامر کے دائرے میں داخل ہو اور وہ ایسے امور ہوں کہ جنکے انجام دینے کی خدا اور رسول نے دعوت دی ہو، وہ امور ممدوح اور پسندیدہ ہیں۔

النهایه فی غریب الحدیث و الأثر، ج1، ص 106

بدعت کی پانچ اقسام!!!

 

قسطلانی کہ جو کتاب صحیح بخاری کا شارح بھی ہے، اس نے عمر ابن خطاب کے کلام کو نماز تراویح کی بدعت کے بارے میں نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ:

نِعْمَ البِدْعَةُ هَذِهِ،

یہ اچھی بدعت ہے۔

صحیح بخاری، ج3، ص 45، ح2010

اور ایک عجیب و غریب طریقے سے بدعت کو پانچ اقسام میں تقسیم کرتا ہے اور کہتا ہے کہ:

و هي خمسة واجبة و مندوبة و محرمة و مكروهة و مباحة،

بدعت کی پانچ اقسام ہیں: بدعت واجب، مستحب، حرام، مکروه اور بدعت مباح.

ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری، ج3، ص 426

بعض مواقع پر بدعت ایجاد کرنا، واجب ہوتا ہے!!!

 

 ابو حامد محمد غزالی قائل ہے کہ ہر بدعت سے منع نہیں کیا گيا، بلکہ اس سے بھی بالا تر کہ بعض مواقع پر تو بدعت ایجاد کرنا واجب ہو جاتا ہے:

فليس كُلُّ مَا أُبْدِعَ مَنْهِيًّا بَلِ الْمَنْهِيُّ بِدْعَةٌ تُضَادُّ سُنَّةً ثَابِتَةً وَ تَرْفَعُ أَمْرًا مِنَ الشَّرْعِ مع بقاء علته بل الإبداع قد يجب في بعض الأحوال إذا تغيرت الأسباب،

ہر بدعت کہ جو رسول خدا کے بعد ایجاد ہوئی ہے، اس سے منع نہیں کیا گیا، بلکہ اس بدعت سے منع کیا گیا ہے کہ جو ثابت و صحیح سنت کے خلاف ہو۔ بر خلاف اسکے کہ اس بدعت کے ایجاد کرنے کی علت باقی ہو، شارع کی طرف سے اس بدعت کو ختم کرنے کا حکم آیا ہو، البتہ کبھی کبھی بدعت کو ایجاد کرنا واجب ہو جاتا ہے اور وہ اس وقت ہوتا ہے، جب علل و اسباب تبدیل ہو جائیں۔

احیاء علوم الدین، ج2، ص3

البتہ غزالی نے تفصیل سے واضح بیان نہیں کیا کہ علل و اساب کے تبدیل ہونے سے کیا مراد ہے کہ وہ تبدیلی سبب بنتی ہے کہ بدعت ایجاد کرنا واجب ہو جاتا ہے!!!

بدعت کی مختلف تقسیم بندیوں میں وہابیوں اور اہل سنت کی طرف سے کبھی دو کبھی تین اور کبھی پانچ اقسام کو ذکر کرنا، یہ اس حالت میں ہے کہ رسول خدا نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ:

«كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَ كُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ»

ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا نتیجہ آتش جہنم میں جانا ہے۔

صحیح مسلم، ج2، ص 592، ح 867

سنن کبری نسائی، ج1، ص 550، ح 1786

بدعت کی مختلف اقسام میں تقسیم بندی کرنے سے اصلی ہدف:

 

علت یہ کہ وہابیوں نے بدعت کی مختلف اقسام کو ذکر کیا ہے، جیسے بدعت حسنہ، بدعت سیئہ، بدعت ممدوحہ، بدعت مذمومہ وغیرہ وغیرہ، یہ اسلیے ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ عمر وغیرہ کی ایجاد کردہ بدعتوں کو شرعی اور دینی رنگ دیں، کیونکہ عمر نے نماز تراویح کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا تھا:

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ القَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ إِلَى المَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلاَتِهِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنِّي أَرَى لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلاَءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ، لَكَانَ أَمْثَلَ ثُمَّ عَزَمَ، فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى، وَ النَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ قَارِئِهِمْ، قَالَ عُمَرُ: «نِعْمَ البِدْعَةُ هَذِهِ،

عبد الرحمن نے کہا ہے کہ: میں ماہ رمضان کی ایک رات عمر ابن خطاب کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا۔ ہم نے دیکھا کہ مسجد میں بعض لوگ اکیلے اور بعض لوگ مل کر ایک جماعت کی صورت میں نماز پڑھ رہے ہیں، یہ دیکھ کر عمر نے کہا: اگر یہ سب لوگ جمع ہو کر ایک امام جماعت کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو زیادہ بہتر ہوتا، یہ کہہ کر ابی ابن کعب کو آگے کھڑا کر کے سب کو اس کے پیچھے کھڑا کر دیا۔ چند دن کے بعد میں دوبارہ عمر کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ تمام لوگ ابی ابن کعب کے پیچھے کھڑے ہو کر با جماعت نماز (تراویح) پڑھ رہے ہیں، اس پر عمر نے کہا کہ: یہ ایک اچھی بدعت ہے۔

صحیح بخاری، ج 3، ص 45، ح 2010، باب فضل من قام رمضان

ابن حزم کا عمر کی ایجاد کردہ بدعت کا دفاع کرنا:

 

ابن حزم آندلسی نے پہلے لفظ بدعت کا معنی کیا ہے اور پھر اس لیے کہ عمر کی ایجاد کردہ نماز تراویح کی بدعت میں عمر کا دفاع کرنے میں دوسروں سے پیچھے نہ رہے، اسی وجہ سے بدعت کی دو قسمیں ذکر کی ہیں:

و البدعة كل ما قيل أو فعل مما ليس له أصل فيما نسب إليه صلى الله عليه و سلم و هو في الدين كل ما لم يأت في القرآن و لا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا أن منها ما يؤجر عليه صاحبه و يغدر بما قصد إليه من الخير و منها ما يؤجر عليه صاحبه و يكون حسنا و هو ما كان أصله الإباحة كما روي عن عمر رضي الله عنه نعمت البدعة هذه و هو ما كان فعل خير جاء النص بعموم استحبابه و إن لم يقرر عمله في النص و منها ما يكون مذموما و لا يعذر صاحبه و هو ما قامت به الحجة على فساده فتمادى عليه القائل به،

بدعت ہر وہ کلام یا عمل ہے کہ جس کا کوئی ذکر رسول خدا کے قول و فعل میں موجود نہ ہو۔ دین میں بھی بدعت کا یہ معنی ہے کہ ہر اس نئی چیز کو کہتے ہیں کہ جسکا قرآن اور سنت میں کوئی ذکر نہ ہوا ہو، البتہ بعض بدعتیں اصل میں مباح (جائز) اور پسندیدہ ہیں اور کیونکہ اس بدعت کے ایجاد کرنے سے بدعت گزار کی نیت نیک تھی، اسکو اجر و ثواب بھی ملے گا۔ جیسے کہ عمر سے نقل ہوا ہے کہ: اس نے کہا تھا کہ: یہ ایک اچھی بدعت ہے۔ یہ اچھی بدعت ہونا، ہر اس بدعت کو شامل ہوتا ہے کہ جس کے بارے میں مستحب ہونے پر عام دلائل دلالت کرتے ہوں، اگرچہ وہ کام واضح طور پر روایات و  احادیث میں ذکر نہ بھی ہوا ہو۔

بعض دوسری بدعتیں نا پسندیدہ ہیں اور انکو ایجاد کرنے والے بدعت گزار کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ ناپسندیدہ بدعت وہ ہے کہ اس کے باطل اور غیر شرعی ہونے پر واضح دلیل موجود ہو، لیکن بدعت گزار پھر بھی اسکے ایجاد کرنے پر اصرار کرے۔

الأحکام ابن حزم، ج1، ص 47

ابن اثیر کا عمر کے عمل (بدعت) کا دفاع کرنا:

 

وَ مِنْ هَذَا النَّوْعِ قَوْلُ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نعمتِ البِدْعةُ هَذِهِ، لَمَّا كَانَتْ مِنْ أَفعال الْخَيْرِ وَ دَاخِلَةً فِي حَيِّزِ الْمَدْحِ سَمّاها بِدْعَةً و مدَحَها لأَنَّ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عليه و سلم، لم يَسُنَّها لَهُمْ، و إِنما صلَّاها لَيالِيَ ثُمَّ تَرَكَهَا وَ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا وَ لَا جَمَعَ النَّاسَ لَهَا وَ لَا كَانَتْ فِي زَمَنِ أَبي بَكْرٍ و إِنما عُمَرُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، جَمَعَ الناسَ عَلَيْهَا و ندَبهم إِليها فَبِهَذَا سَمَّاهَا بِدْعَةً، وَ هِيَ عَلَى الْحَقِيقَةِ سنَّة لِقَوْلِهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ، عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَ سُنَّةِ الخُلفاء الرَّاشِدِينَ مِنْ بَعْدِي وَ قَوْلُهُ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي: أَبي بَكْرٍ وَ عُمَرَ،وَ عَلَى هَذَا التأْويل يُحمل الْحَدِيثُ الآخَر:كلُّ مُحْدَثةٍ بِدْعَةٌ، إِنما يُرِيدُ مَا خالَف أُصولَ الشَّرِيعَةِ وَ لَمْ يُوَافِقِ السُّنَّةَ، و أَكثر مَا يُسْتَعْمَلُ المُبْتَدِعُ عُرْفاً فِي الذمِّ،

اور جو عمر نے کہا ہے کہ: یہ ایک اچھی بدعت ہے، وہ بھی اسی قسم (بدعت حسنہ) میں سے ہے، اس وجہ سے عمر کا فعل، افعال نیک میں سے تھا، ممدوح کاموں میں شمار ہوتا ہے، اور اس نے بدعت بھی کہا ہے اور وہ بھی بدعت حسنہ ہے، بدعت اس لیے کہا ہے کہ رسول خدا نے نماز تراویح کو سنت قرار نہیں دیا ہے، انھوں نے فقط چند راتوں کو پڑھا تھا اور پھر چھوڑ دیا تھا، اور لوگوں کو اس نماز پڑھنے کے لیے جمع بھی نہیں کیا تھا، ابوبکر کے دور میں بھی نماز تراویح نہیں پڑھی گئی، اور عمر نے فقط عمر نے نماز تراویح کو شروع کیا تھا اور لوگوں کو اس نماز پڑھنے کا حکم بھی دیتا تھا، لہذا اس وجہ سے عمر نے کہا کہ یہ نماز بدعت ہے، البتہ حقیقت میں یہ بدعت، سنت ہے، کیونکہ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ:

 تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کی پیروی کرنا، لازم اور ضروری ہے، اور اسی طرح یہ بھی فرمایا ہے کہ:

میرے بعد ابوبکر اور عمر کی پیروی کرنا۔

لہذا رسول خدا کی یہ حدیث کہ: جو نئی چیز بھی ایجاد ہو، وہ بدعت ہے، تو اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو دین اور شریعت کے قوانین کے مخالف اور سنت کے مطابق نہ ہو۔

عرب استعمال کے مطابق لفظ بدعت زیادہ تر قابل مذمت چیزوں اور کاموں کے لیے بولا جاتا ہے۔

النهایه فی غریب الحدیث و الأثر ج1 ص 107

ابن اثیر نے بھی اہل سنت کے دوسرے علماء کی طرح، عمر کی نماز تراویح کی ایجاد کردہ بدعت کے شرعی ہونے پر دو جعلی روایات کو دلیل کے طور پر ذکر کیا ہے، حالانکہ یہ دو روایات جھوٹ اور باطل ہیں۔

قسطلانی کا عمر کی خدمت گزاری کرنا!

 

قسطلانی نے عمر کی ایجاد کردہ بدعت کا دفاع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

و حديث "كل بدعة ضلالة" من العام المخصوص، و قد رغب فيها عمر بقوله: نعم البدعة و... قيام رمضان ليس بدعة لأنه -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ- قال: "اقتدوا بالذين من بعدي أبي بكر و عمر" و إذا أجمع الصحابة مع عمر على ذلك زال عنه اسم البدعة.

حدیث "كل بدعۃ ضلالۃ" یہ ایک ایسا عام قاعدہ ہے کہ جو بعض موارد کو شامل نہیں ہوتا، اور عمر کا قول کہ نعم البدعۃ، یہ انہی موارد میں سے ہے کہ جن پر وہ مذکورہ عام قاعدہ شامل نہیں ہوتا۔۔۔۔ نماز تراویح پڑھنا ماہ رمضان میں بدعت نہیں ہے، کیونکہ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: میرے بعد ابوبکر اور عمر کی پیروی کرنا، اور جب تمام صحابہ نے نماز تراویح پڑھنے میں عمر کی اطاعت کی تھی تو نماز تراویح سے بدعت ہونے کا عنوان زائل اور ختم ہو جاتا ہے۔

ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری ج3 ص 426

عمر ابن خطاب نے جب خود نماز تراویح کے بارے میں کہا ہے کہ: نِعْمَ البِدْعَةُ هَذِهِ، لیکن قسطلانی کہتا ہے کہ: قيام رمضان ليس بدعة! واللہ یہ بہت ہی عجیب و غریب بات ہے!!!

ابن تیمیہ کا نماز تراویح کی بدعت کی تاویل کرنا!

 

ابن تیمیہ نے عمر کی نماز تراویح کی بدعت کے بارے میں چند نکات بیان کیے ہیں کہ جو قابل توجہ ہیں:

قَالَ عُمَرُ: نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ، وَ الَّتِي تَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي تَقُومُونَ يُرِيدُ بِذَلِكَ آخِرَ اللَّيْلِ، وَ كَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ أَوَّلَهُ. وَ هَذَا الِاجْتِمَاعُ الْعَامُّ لَمَّا لَمْ يَكُنْ قَدْ فُعِلَ سَمَّاهُ بِدْعَةً، لِأَنَّ مَا فُعِلَ ابْتِدَاءً يُسَمَّى بِدْعَةً فِي اللُّغَةِ، وَ لَيْسَ ذَلِكَ بِدْعَةً شَرْعِيَّةً ; فَإِنَّ الْبِدْعَةَ الشَّرْعِيَّةَ الَّتِي هِيَ ضَلَالَةٌ هِيَ مَا فُعِلَ بِغَيْرِ دَلِيلٍ شَرْعِيٍّ كَاسْتِحْبَابِ مَا لَمْ يُحِبَّهُ اللَّهُ، وَ إِيجَابِ مَا لَمْ يُوجِبْهُ اللَّهُ وَ تَحْرِيمِ مَا لَمْ يُحَرِّمْهُ اللَّهُ، فَلَا بُدَّ مَعَ الْفِعْلِ مِنِ اعْتِقَادٍ يُخَالِفُ الشَّرِيعَةَ، وَ إِلَّا فَلَوْ عَمِلَ الْإِنْسَانُ فِعْلًا مُحَرَّمًا يَعْتَقِدُ تَحْرِيمَهُ لَمْ يُقَلْ إِنَّهُ فَعَلَ بِدْعَةً.

عمر نے کہا کہ: یہ ایک اچھی بدعت ہے، اور وہ جو نماز تراویح پڑھنے کے وقت سوتے ہیں، وہ ان سے کہ جو نماز تراویح پڑھنے میں مصروف ہیں، بہتر ہیں۔ عمر کی مراد رات کے آخری حصے میں نماز تراویح پڑھنا تھی۔ حالانکہ لوگ رات کے پہلے حصے میں نماز تراویح پڑھتے تھے، اور کیونکہ اس سے پہلے لوگ اس طرح کی نماز میں جمع نہیں ہوتے تھے، اسی لیے عمر نے اس نماز کو بدعت کہا تھا، کیونکہ لغت میں جو چیز نئی ایجاد ہوئی ہو، اسے بدعت کہتے ہیں اور نماز تراویح بدعت شرعی نہیں تھی، اسلیے کہ بدعت شرعی، ضلالت اور گمراہی ہوتی ہے اور وہ ہوتی ہے کہ جو کسی شرعی دلیل کے بغیر انجام دی جاتی ہو، جیسے ایک ایسی چیز کو مستحب کہنا کہ جسکو خدا پسند نہ کرتا ہو، یا ایک ایسی چیز کو واجب قرار دینا کہ جسکو خدا نے واجب قرار نہیں دیا، ایک ایسی چیز کو حرام کرنا کہ جسکو خدا نے حرام قرار نہیں دیا۔ بدعت شرعی بھی ایسی ہی چیز ہے کہ جو شریعت کے مخالف ہے اور انسان اس پر اعتقاد رکھے، اسلیے کہ اگر ایک انسان ایک حرام کام انجام دے اور اس کے حرام ہونے پر اعتقاد بھی رکھتا ہو تو اس کام کو بدعت نہیں کہتے۔

منهاج السنه، ج 8، ص 307

اہل سنت کے فقہاء کا بدعت کی اقسام کے بارے میں اظہار نظر کرنا:

 

عمر ابن خطاب کی نماز تراویح کی ایجاد کردہ بدعت کا دفاع کرنے کے لیے، بدعت کو مختلف اقسام میں تقسیم کرنا، یہ ایک ایسا کام ہے کہ جس پر خود اہل سنت کے معروف علماء نے اعتراض کیا ہے اور بدعت کی اس تقسیم بندی کو غلط قرار دیا ہے: 

نظر صالح فوزان:

صالح فوزان کہ جو سعودی عرب کی فتوا دینے والی سرکاری کمیٹی کا رکن ہے، اس نے بدعت کی دو اقسام بدعت حسنہ و بدعت سئیہ کے بارے میں کہا ہے کہ:

ليس مع من قسَّم البدعة إلى بدعةٍ حسنة و بدعةٍ سيئةٍ دليلٌ؛ لأن البدع كلَّها سيئةٌ؛ لقوله صلى الله عليه و سلم: كل بدعة ضلالة، و كل ضلالة في النار

رواه النسائي في سننه ج3ص188 -189

 من حديث جابر بن عبد الله بنحوه، و رواه الإمام مسلم في صحيحه ج2ص592  بدون ذكر: " و كل ضلالة في النار "

جس نے بدعت کو دو اقسام، بدعت حسنہ و بدعت سئیہ میں تقسیم کیا ہے، اسکے پاس اس تقسیم پر کوئی دلیل نہیں ہے، کیونکہ بدعت کی تمام اقسام ہی سئیہ ہیں، اسلیے کہ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا نتیجہ جہنم میں جانا ہے، اس روایت کو نسائی نے اپنی کتاب سنن میں نقل کیا ہے اور مسلم نے بھی اپنی کتاب صحیح میں اسی روایت کو نقل کیا ہے، لیکن عبارت" و كل ضلالة في النار " کو ذکر نہیں کیا۔

المنتقی من فتاوی الفوزان، ج 16، ص1، فتوای نمبر 94

نظر ابن حجر در کتاب فتح الباری:

ابن حجر نے، رسول خدا (ص) کی روایت کہ ہر قسم کی بدعت گمراہی ہے، کی تشریح میں کہا ہے کہ:

وَ الْمُرَادُ بِقَوْلِهِ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ مَا أُحْدِثُ وَ لَا دَلِيلَ لَهُ مِنَ الشَّرْعِ بِطَرِيقٍ خَاصٍّ وَ لَا عَام،

رسول خدا کی مراد بدعت سے کہ جو فرمایا ہے کہ: ہر بدعت گمراہی ہے، ہر نئی چیز کہ جو دین میں ایجاد کی جاتی ہے، حالانکہ اس چیز کے وجود پر کوئی شرعی دلیل نہیں ہے، نہ ہی دلیل عام اور نہ ہی دلیل خاص،

فتح الباری، ج 13، ص 254

نظر قرطبی در کتاب الجامع لاحكام القرآن:

قرطبی نے بدعت کی تعریف میں ایک نئی چیز کا اضافہ کیا ہے اور کہا ہے کہ:

وَ كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ يُرِيدُ مَا لَمْ يُوَافِقْ كِتَابًا أَوْ سُنَّةً، أَوْ عَمَلَ الصَّحَابَةِ،

رسول خدا کے کلام میں بدعت سے مراد کہ جو انھوں نے فرمایا ہے کہ: ہر بدعت گمراہی ہے، وہ چیز ہے کہ جو قرآن اور سنت کے مطابق نہ ہو اور اسی طرح صحابہ کے عمل کے بھی مطابق نہ ہو!

الجامع لأحكام القرآن، ج2، ص 87

نظر ابو اسحاق شاطبی در کتاب الإعتصام:

ابو اسحاق شاطبی نے بدعت کی دو اقسام، بدعت حسنہ و بدعت سئیہ کے بارے میں کہا ہے کہ:

ان ذم البدع و المحدثات عام لا يخص محدثة دون غيرها...انها جاءت مطلقة عامة على كثرتها لم يقع فيها استثناء البته و لم يأت فيها مما يقتضي ان منها ما هو هدى و لا جاء فيها كل بدعة ضلالة الا كذا و كذا و لا شيء من هذه المعاني. فلو كان هنالك محدثة يقتضي النظر الشرعي فيها الاستحسان أو انها لاحقة بالمشروعات لذكر ذلك في آية أو حديث لكنه لا يوجد،

بے شک بدعت کی مذمت، عمومی اور عام ہے اور یہ مذمت بدعت کی کسی ایک قسم کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ بدعتیں جتنی بھی ہوں، ان سب کا مذموم ہونا عام ہے، یعنی ساری بدعتیں قابل مذمت ہیں اور کوئی بھی بدعت سے اس قاعدے سے استثناء نہیں ہے، اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ: فلاں بدعت، بدعت ہدایت ہے، یہ بات بالکل غلط ہے، کیونکہ روایات میں نہیں آیا کہ ہر قسم کی بدعت گمراہی ہے، مگر فلاں فلاں بدعت گمراہی نہیں ہے، ایسی کوئی بات روایات میں ذکر نہیں ہوئی ہے۔ اگر ایک نئی چیز یا بات کہ جو ابھی ایجاد ہوئی ہے، اگر وہ شرعی طور پر حلال و جائز اور شرعی ہوتی تو، اس چیز کا ذکر کسی آیت میں یا کسی روایت میں ضرور  ہوتا، حالانکہ اس نئی ایجاد شدہ چیز کا کہیں بھی کوئی ذکر نہیں آیا۔

الإعتصام، ج1، ص 141

اس نے مزید کہا ہے کہ:

ان متعقل البدعة يقتضي ذلك بنفسه لانه من باب مضادة الشارع و اطراح الشرع و كل ما كان بهذه المثابة فمحال ان ينقسم إلى حسن و قبيح،

وہ شئی جو بدعت سے سمجھ میں آتی ہے، وہ یہ ہے کہ: بدعت قابل تقسیم نہیں ہے، کیونکہ بدعت وہ چیز ہوتی ہے کہ جو شریعت کے مخالف ہوتی ہے اور جو بھی شئی ایسے ہو، اسکا نیک و بد، حسن و غیر حسن میں تقسیم کرنا، محال و قبیح ہے۔

الإعتصام، ج1، ص 141

یعنی ایسا نہیں کہہ سکتے کہ وہ چیز جو شریعت کے خلاف ہے، وہ ایک جگہ پر صحیح ہے اور ایک جگہ پر غلط ہے، شریعت اور شارع مقدس کی مخالفت ہر جگہ، ہر حال اور ہر نام و بہانے سے غلط اور حرام ہے، نہ یہ کہ ایک جگہ پر مخالفت صحیح ہے اور دوسری جگہ پر غلط ہے۔

نظر ابن رجب حنبلی در کتاب جامع العلوم و الحکم:

فقیہ حنبلی ابن رجب حنبلی نے اپنی کتاب جامع العلوم و الحکم میں کہا ہے کہ:

فإنه یری ان قوله صل الله علیه و سلم کل بدعة ضلالة یشمل جمیع اقسام البدعة و لا یستثنی منه شي فقوله صلى الله عليه و سلم كل بدعة ضلالة من جوامع الكلم لا يخرج عنه شيء و هو أصل عظيم من أصول الدين و هو شبيه بقوله صلى الله عليه و سلم من أحدث في أمرنا ما ليس منه فهو رد فكل من أحدث شيئا و نسبه إلى الدين و لم يكن له أصل من الدين يرجع إليه فهو ضلالة و الدين بريء منه و سواء في ذلك مسائل الاعتقادات أو الأعمال أو الأقوال الظاهرة و الباطنة،

رسول خدا نے یہ جو فرمایا ہے کہ: ہر قسم کی بدعت گمراہی ہے، یہ بدعت کی تمام اقسام کو شامل ہوتا ہے اور کوئی بھی بدعت سے استثناء نہیں ہے، اور یہ ایک ایسا فرمان ہے کہ جس سے بدعت کی کوئی بھی قسم خارج نہیں ہے۔ رسول خدا کا یہ فرمان اصول دین میں سے ایک مہم اصول ہے اور یہ فرمان اس فرمان کی طرح ہے کہ: جو بھی ہمارے فرامین میں اپنی طرف سے کسی چیز کا اضافہ کرے، تو وہ ردّ کر دیا جائے گا، پس جو بھی کسی نئی  چیز کو ایجاد کرے اور اس کو دین کی طرف نسبت دے، حالانکہ دین میں اس چیز کا کوئی نام و نشان نہ ہو، تو وہ عین گمراہی ہے اور دین بھی اس نئی چیز سے بیزار ہے، چاہے وہ چيز اعتقادات میں سے ہو یا احکام عملی میں سے ہو یا اقوال ظاہری میں سے ہو یا اقوال باطنی میں سے ہو،

جامع العلوم و الحکم، ص 252

نظر محمد بن اسماعیل كحلانی در کتاب سبل السلام:

محمد بن اسماعیل كحلانی صنعانی نے کتاب سبل السلام فی شرح بلوغ المرام  کہ جو کتاب بلوغ المرام ابن حجر عسقلانی کی شرح ہے، میں عمر کے قول نعمة البدعة هذه کے ذیل میں کہا ہے کہ:

أما قوله: "نعم البدعة"، فليس في البدعة ما يمدح بل كل بدعة ضلالة،

یہ جو عمر نے کہا ہے کہ: یہ ایک اچھی بدعت ہے یہ ایک غلط بات ہے، کیونکہ کوئی بھی بدعت ایسی نہیں ہے کہ جو قابل تعریف ہو، بلکہ ہر قسم کی بدعت گمراہی ہے۔

سبل السلام فی شرح بلوغ المرام، ج 2 ص 10

نظر ناصر الغامدی در کتاب حقیقة البدعۃو احکامها:

سعید بن ناصر غامدی کہ جو سعودی عرب کا معروف عالم ہے، اس نے بدعت کے بارے میں چند اچھے نکات بیان کیے ہیں:

یراد به عند معتقدیه و القائلین به أن البدع الشرعیه لیست مذمومة کلّها بل فیها ما هو حسن ممدوح مثاب علیه من الله فیقسمون البدع الی حسن و قبیح،

وہ جو بدعت کو قبول کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمام بدعتیں شرعی ہیں اور ناپسندیدہ نہیں ہیں، بلکہ بعض بدعتیں پسندیدہ اور قابل تعریف ہیں اور ان پر خدا کی طرف سے اجر و ثواب بھی ملتا ہے، لہذا انھوں نے بدعت کو بدعت حسن و بدعت قبیح میں تقسیم کیا ہے۔

اس نے آگے چل کر بہت اچھی بات کی ہے اور کہا ہے کہ:

و هذا التقسیم اغتر به کثیر من اهل الفضل و العلم و ضل به کثیر من المبتدعة و لبس به علی کثیر من المقلدین و الجهله و العوام فاذا سمع هولاء النهی عن بدعة من البدع کانت الاجابة بأن هذه بدعة حسنة،

بدعت کی یہ تقسیم بندی بہت سے صاحبان عقل و علم کے دھوکے میں آنے کا باعث بنی ہے اور اس سے وہ حقیقت کو جاننے سے دور ہو گئے ہیں اور اسی تقسیم بندی کی وجہ سے بہت سے بدعت گزار بھی گمراہ ہو گئے ہیں اور حقیقت بہت سے مقلدین اور نادان عوام لوگوں پر واضح نہیں ہوئی ہے، کیونکہ جب یہ سنتے ہیں کہ فلاں بدعت کو انجام دینا منع ہے تو کہتے ہیں کہ: یہ بدعت حسنہ ہے، یعنی انجام دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

حقیقة البدعة و احکامها، ج1، ص 138

ناصر الغامدی نے مزید کہا ہے کہ:

اولاً: القول بحسن بعض البدع مناقض للأدلة الشرعیة الواردة فی ذم عموم البدع. ان النصوص الذامة للبدعة جاءت مطلقة عامة و على كثرتها لم يرد فيها استثناء البته و لم يأت فيها مما يقتضي ان منها ما هو حسن مقبول عندالله و لا جاء فيها كل بدعة ضلالة الا كذا و كذا و لا شيء من هذه المعاني. فلو كان هنالك محدثات يقتضي النظر الشرعي فيها انها حسنة أو مشروعة لذكر ذلك في نصوص الکتاب أو السنة و لكنه لا يوجد ما یدل علی ذلک بالمنطوق أو المفهوم فدل ذلک علی أن أدلة الذم بأسرها متضافرة علی أن القائدة الکلیه فی ذم البدع لایمکن أن یخرج أن مقتضاها فرد من الأفراد.

اولاً: بعض بدعتوں کے حسن و پسندیدہ ہونے کا قائل ہونا، یہ بات ان دلائل شرعی کہ جو تمام بدعتوں کو قابل مذمت کہتے ہیں، کے ساتھ تناقض رکھتی ہے، کیونکہ وہ روایات جو بدعت کو ناپسندیدہ کہتی ہیں، وہ مطلق اور عام ہیں، یعنی وہ ہر قسم کی بدعت کو ناپسندیدہ قرار دیتی ہیں اور کوئی بھی بدعت ان دلائل سے استثناء نہیں ہے۔ روایات میں ذکر نہیں ہوا کہ بعض روایات حسن اور شارع کی مورد قبول ہیں،

اور اسی طرح روایات میں ذکر نہیں ہوا کہ: تمام بدعتیں گمراہی ہیں، مگر فلاں فلاں بدعت کہ گمراہی نہیں ہے بلکہ باعث ہدایت ہیں۔ اگر ایک نئی چیز یا بات کہ جو ابھی ایجاد ہوئی ہے، اگر وہ شرعی طور پر حلال و جائز اور شرعی ہوتی تو، اس چیز کا ذکر کسی آیت میں یا کسی روایت میں ضرور ہوتا، حالانکہ اس نئی ایجاد شدہ چیز کا روایات میں کہیں بھی کوئی بھی ذکر نہیں آیا، نہ خود روایات میں انکا ذکر ہوا ہے اور نہ ہی ان روایات کے مفہوم میں یہ بات سمجھی جاتی ہے، لہذاان جدید وجود میں آنے والے امور کے بارے میں روایات کا موجود نہ ہونا، یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ تمام جدید امور بدعت اور قابل مذمت ہیں، اور وہ تمام بدعت کے گمراہی ہونے والی روایات ان کو بھی شامل ہوں گی اور کوئی بھی بدعت ان سے استثناء نہیں ہو گی۔

ثانیاً: من الثابت في الاصول العلمية ان كل قاعدة كلية أو دليل شرعي كلية اذا تكررت في اوقات شتی و احوال مختلفة و لم يقترن بها تقييد و لا تخصيص فذلك دليل على بقائها علی مقتضى لفظها العام المطلق. و أحادیث الذم البدع والتحذیر منها من هذه القبیل فقد کان النبی یردد علی ملأ المسلمین فی أوقات و احوال کثیرة و متنوعة أن کل بدعة ضلالة. و لم یرد فی آیة و لا حدیث ما یقید أو یخصص هذا اللفظ المطلق العام بل و لم یأت ما یفهم منه خلاف ظاهر هذه القاعدة الکلیة و هذا یدل دلالة واضحتاً علی أن هذه القاعده علی عمومها و اطلاقها،

ثانیاً: اصول عملیہ میں ثابت ہوا ہے کہ: ہر قاعدہ کلی یا دلیل کلی شرعی، جب مختلف مناسبتوں اور مختلف اوقات میں بار بار صادر ہو اور اس دلیل میں کوئی قید اور محدویت وغیرہ نہ ہو، تو اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ قاعدہ اپنے عام الفاظ کے ساتھ معنی عام اور کلی پر دلالت کرتا ہے، اور وہ احادیث کہ جو بدعت کی مذمت کرتی ہیں، وہ بھی اسی قاعدے کے مطابق معنی عام اور کلی پر دلالت کرتی ہیں، یعنی وہ ہر طرح کی تمام کی تمام بدعتوں کے حرام اور گناہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور کسی بھی قسم کی کوئی بدعت اس سے استثناء نہیں ہے۔ رسول خدا نے مختلف حالات میں اور مختلف مناسبتوں پر فرمایا ہے کہ: تمام بدعتیں گمراہی ہیں، اور کسی بھی آیت اور حدیث میں رسول خدا کے اس کلام پر کوئی قید اور تخصیص نہیں لگی، حتی کوئی دلیل بھی ایسی نہیں ہے کہ جس کے مفہوم سے بھی کوئی قید یا تخصیص سمجھ میں آتی ہو، اور یہ بات اس مطلب پر واضح دلیل ہے کہ: قاعدہ کلی "کل بدعة ضلالة" کا معنی عام اور کلی ہے یعنی وہ ہر طرح کی تمام کی تمام بدعتوں کے حرام اور گناہ ہونے پر دلالت کرتا ہے اور کسی بھی قسم کی کوئی بدعت اس سے استثناء نہیں ہے۔

پھر اس نے 11 دلائل کے ساتھ استدلال کیا ہے کہ "کل بدعة ضلالة و کل ضلالة فی النار" قابل تقیید اور تخصیص نہیں ہے اور مختلف اقسام جیسے حسن و قبیح، حسنہ و سئیہ، ہدایت و ضلالت وغیرہ کی طرف قابل تقسیم بھی نہیں ہے، بلکہ اپنی تمام طاقت اور قوت کے ساتھ معنی عام اور کلی پر دلالت کرتے ہیں۔

لفظ سنت کا لغوی اور اصطلاحی معنی!

 

جب لفظ بدعت کا لغوی اور اصطلاحی معنی واضح ہو گیا ہے اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اولا: مسلمانوں کے تمام اعمال کہ جنکو وہابی بدعت کہتے ہیں، وہ بالکل معنی و مصداق کے لحاظ سے بدعت کے دائرے میں نہیں آتے اور مسلمانوں کے یہ تمام اعمال قرآن اور روایات کی روشنی میں جائز اور شرعی ہیں۔

ثانیا: بدعت کی مختلف اقسام جیسے حسن و قبیح، حسنہ و سئیہ، ہدایت و ضلالت وغیرہ کی طرف تقسیم کرنے کا کوئی معنی نہیں ہے اور یہ بدعت کی تقسیم در حقیقت عمر کی نماز تراویح کی ایجاد کردہ بدعت کو چھپانے یا کم رنگ کرنے کے لیے بعض اہل سنت اور وہابی علماء کی طرف سے خیانت کے طور پر کی گئی تھی!!!

بحث کی مناسبت سے لفظ سنت کے معنی لغوی اور اصلاحی کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں، تا کہ لفظ سنت کے متضاد لفظ بدعت کا معنی پہلے سے زیادہ واضح ہو جائے۔

ابن حجر نے کہا ہے کہ:

الْبِدْعَةُ أَصْلُهَا مَا أُحْدِثَ عَلَى غَيْرِ مِثَالٍ سَابِقٍ وَ تُطْلَقُ فِي الشَّرْعِ فِي مُقَابِلِ السُّنَّةِ،

بدعت اصل (لغت) میں وہ چیز ہے کہ جسکو پہلے سے موجود شدہ نمونے و مثال کے بغیر ایجاد کیا جائے، اور شریعت میں بدعت، سنت کے مقابلے پر ہے۔

فتح الباری، ج4، ص 253

لفظ سنت کا لغوی معنی:

 

  کتاب مجمع البحرین:

طریحی نے اپنی کتاب مجمع البحرین میں لکھا ہے کہ:

السنة في اللغة: الطريقة و السيرة و الجمع سنن كغرفة و غرف،

سنت لغت میں معنی راہ، طریقہ اور سیرت ہے ، سنت کی جمع، سُنَن  ہے، جیسے غُرفہ کی جمع غُرَف ہے۔

مجمع البحرین، ج 6، ص 269

کتاب لسان العرب:

ابن منظور نے سنت کا لغوی معنی ہے کہ:

«سُنَّةُ اللَّهِ: أَحكامه و أَمره وَ نَهْيُهُ. سَنَّ اللَّهُ سُنَّة أَي بَيَّن طَرِيقًا قَوِيمًا. شَمِرٌ: السُّنَّة فِي الأَصل سُنَّة الطَّرِيقِ، وَ هُوَ طَرِيقٌ سَنَّه أَوائل النَّاسِ فصارَ مَسْلَكاً لِمَنْ بَعْدَهُمْ،

سنت خدا یعنی احکام خدا اور خدا کے واجبات اور محرّمات، خداوند نے ایک چیز کو سنت قرار دیا ہے یعنی واضح اور محکم راستے کو بیان کیا ہے۔

شمر نے کہا ہے کہ: سنت کا لغت میں معنی راہ اور طریقہ ہے کہ جو گزرے ہوئے افراد کا راستہ ہے کہ جو ان کے بعد میں آنے والوں کے لیے بھی راستہ بن گیا ہے۔

لسان العرب ج 13 ص 225

کتاب تاج العروس:

زبیدی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ:

السُّنَّةُ: السِّيرَةُ حَسَنَة كانتْ أَو قَبِيحَة،

سنت یعنی سیرت، اور یہ سنت حسن (اچھی) ہو یا قبیح (بری) ہو،

تاج العروس ج 18 ص 300

زبیدی کا اسطرح کا معنی کرنا، یعنی اس نے مذہب اور عقیدے کو سامنے رکھ کر ایک لفظ کا معنی کیا ہے، اور یہ وہی ابن منظور کا طریقہ ہے کہ جو اس نے کتاب لسان العرب میں بیان کیا ہے۔

کتاب السنۃ فی الشریعة الإسلامیۃ:

محمد تقی حکیم نے اپنی کتاب میں لفظ سنت کا لغوی معنی بیان کیا ہے کہ:

السنه: معناها الدوام، فقولنا: سنة، معناها الأمر بالادامة،

سنت کا لغوی معنی ایک شئی کا دائمی ہونا ہے، لہذاجب کہا جاتا ہے کہ فلاں چیز سنت ہے، یعنی حکم ہوا ہے کہ اس چیز کو دائمی اور جاری رکھا جائے۔

السنة في الشريعة الاسلامية، ج4، ص1

لفظ سنت کا اصطلاحی معنی:

 

کتاب مجمع البحرین:

طریحی نے لفظ سنت کا اصطلاحی معنی لکھا ہے کہ:

السنة في الصناعة هي طريقة النبي (صلی الله علیه و آله) قولاً و فعلاً و تقريراً، أصالةً أو نيابةً.

سنت کا اصطلاحی معنی وہی رسول خدا کی راہ و سیرت ہے، یہ سنت چاہے رسول خدا کا قول، فعل اور تقریر ( تصدیق) ہو، اور یہ رسول خدا کا قول، فعل اور تقریر خود رسول خدا سے نقل ہوا ہو یا یہ رسول خدا کا قول، فعل اور تقریر انکے اہل بیت سے نقل ہوا ہو،

مجمع البحرین ج 6 ص 269

کتاب لسان العرب:

ابن منظور نے کہا ہے کہ:

وَ قَدْ تَكَرَّرَ فِي الْحَدِيثِ ذِكْرُ السُّنَّة وَ مَا تَصَرَّفَ مِنْهَا، و الأَصل فِيهِ الطَّرِيقَةُ و السِّيرَة، و إِذا أُطْلِقَت فِي الشَّرْعِ فإِنما يُرَادُ بِهَا مَا أَمَرَ بِهِ النبيُّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ، و نَهى عَنْهُ و نَدَب إِليه قَوْلًا وَ فِعْلًا مِمَّا لَمْ يَنْطق بِهِ الكتابُ الْعَزِيزُ وَ لِهَذَا يُقَالُ فِي أَدلة الشَّرْعِ: الكتابُ و السُّنَّةُ أَي الْقُرْآنُ وَ الْحَدِيثُ،

احادیث میں لفظ سنت اور اس کے مشتقات کا زیادہ ذکر ہوا ہے، اس لفظ کا لغوی معنی راہ، روش اور سیرت ہے، اور اصطلاح میں معنی یہ ہے کہ جو کچھ رسول خدا نے حکم دیا ہے اور جس چیز سے منع کیا ہے اور جس کام کی انھوں نے دعوت دی ہے، یہ سب کام رسول خدا نے اپنی زبان سے یا اپنے عمل سے کہیں ہوں، ان موارد میں سے ہوں کہ جنکی طرف قرآن نے اشارہ نہ کیا ہو، اسی وجہ سے ادلّہ شرعی کو شمار کرتے وقت کہتے ہیں: قرآن و سنت یعنی قرآن اور حدیث۔

لسان العرب ج 13 ص 225

کتاب فتح الباری:

ابن حجر نے لفظ سنت کا اصطلاحی معنی بیان کیا ہے کہ:

وَ مَعْنَى قَوْلِهِ سُنَّةً أَيْ شَرِيعَةً وَ طَرِيقَةً لَازِمَةً،

سنت یعنی شریعت اسلامی اور ایسا دینی طریقہ کہ جس پر اور جسکے ساتھ رہنا لازم اور ضروری ہے۔

فتح الباری ج 3 ص 60

کتاب ارشاد الفحول:

 شوکانی کہ اسکی فکر وہابیت کے نزدیک ہے، اس نے سنت کے اصطلاحی معنی کو ذکر کیا ہے کہ:

وَ أَمَّا مَعْنَاهَا شَرْعًا: أَيْ: فِي اصْطِلَاحِ أَهْلِ الشَّرْعِ فَهِيَ: قَوْلُ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَ فِعْلُهُ وَ تَقْرِيرُهُ، وَ تُطْلَقُ بِالْمَعْنَى الْعَامِّ عَلَى الْوَاجِبِ وَ غَيْرِهِ فِي عُرْفِ أَهْلِ اللُّغَةِ وَ الْحَدِيثِ، وَ أَمَّا فِي عُرْفِ أَهْلِ الْفِقْهِ فَإِنَّمَا يُطْلِقُونَهَا عَلَى مَا لَيْسَ بِوَاجِبٍ، وَ تُطْلَقُ عَلَى مَا يُقَابِلُ الْبِدْعَةَ كَقَوْلِهِمْ: فُلَانٌ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ.

سنت کا اصطلاحی معنی قول نبی، فعل نبی، اور تقریر (تصدیق) نبی ہے، لفظ سنت اہل لغت اور اہل حدیث کے استعمال میں واجب اور غیر واجب حکم پر بولا جاتا ہے، لیکن اہل فقہ کے استعمال میں، سنت اس چیز کو بولا جاتا ہے کہ جو واجب نہ ہو، اور اسی طرح سنت، بدعت کے مقابلے پر بھی استعمال ہوتا ہے، جیسے کہ کہا جاتا ہے کہ: فلاں بندہ اہل سنت میں سے ہے۔

ارشاد الفحول الی تحقیق الحق ص 33

کتاب اصول الفقہ:

علامہ مظفر نے کہا ہے کہ:

السنة في اصطلاح الفقهاء: قول النبی أو فعله أو تقریره. أما فقهاء الإمامیه بالخصوص فلما ثبت لدیهم أن المعصوم من آل البیت یجری قوله مجری قول النبی من کونه حجة علی العباد واجب الإتباع فقد توسعوا فی اصطلاح السنه. فکانت السنة بإصطلاحهم: قول المعصوم أو فعله أو تقریره.

فقہائے اسلام کی اصطلاح میں لفظ سنت کا معنی رسول خدا کے قول، فعل اور تقریر کو کہتے ہیں، لیکن فقہائے امامیہ کے نزدیک آئمہ اہل بیت کا قول بھی رسول خدا کے قول کی طرح تمام انسانوں پر شرعی حجت ہے اور انکے قول کی اطاعت کرنا، واجب ہے، اسی وجہ سے فقہائے امامیہ نے لفظ سنت کے معنی کو تھوڑی وسعت دے کر اسطرح تعریف کی ہے کہ: قول، فعل اور تقریر معصوم کو سنت کہتے ہیں۔

اصول الفقه ج 3 ص 64

علامہ مظفر نے فقہائے شیعہ کے لفظ سنت کے معنی میں وسعت دینے کے بارے میں کہا ہے کہ:

و السر فی ذلک أن الأئمة من آل البیت علیهم السلام لیسوا هم من قبیل الرواة عن النبی و المحدثین عنه لیکون قولهم حجة من جهة أنهم ثقاة فی الروایة بل لأنهم هم المنصوبون من الله تعالی علی لسان النبی لتبلیغ الأحکام الواقعیه فلا یحکمون الا عن الأحکام الواقعیه عندالله تعالی کما هی.

فقہائے شعیہ کی طرف سے لفظ سنت کے معنی میں وسعت دینے کی دلیل یہ ہے کہ: آئمہ اہل بیت روایات کے دوسرے راویوں اور نقل کرنے والوں کی طرح نہیں ہیں کہ جہنوں نے رسول خدا سے روایات کو نقل کیا ہو، کہ انکے ثقہ ہونے کی وجہ سے انکی نقل کردہ روایات، حجت ہوں، نہ ایسا نہیں ہے بلکہ خداوند کی طرف سے اور رسول خدا کے ذریعے سے اہل بیت کے آئمہ کو احکام الہی کی تبلیغ اور تکمیل کے لیے نصب کیا گیا ہے، لہذا اہل بیت کے آئمہ جو حکم بھی بیان کرتے ہیں، وہ حکم، حکم حقیقی خداوند ہوتا ہے۔

آئمہ معصومین (ع) کی نگاہ میں سنت کا مفہوم:

 

علامہ مجلسی نے اپنی کتاب بحار الانوار ج 68 ص 257 میں ایک باب ذکر کیا ہے (باب نمبر 72) جسکا نام «ثواب من سن سنۃ حسنة» ہے۔ آئمہ معصومین (ع) کی زبان سے لفظ سنت کا جامع ترین اور کامل ترین معنی کتاب بحار الانوار کے اسی باب میں ذکر ہوا ہے۔ نمونے کے طور پر ہم چند روایات کو ذکر کرتے ہیں:

پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا ہے کہ:

أَلَا إِنَّ لِكُلِ‏ عِبَادَةٍ شِرَّةً ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى فَتْرَةٍ فَمَنْ صَارَتْ شِرَّةُ عِبَادَتِهِ إِلَى سُنَّتِي فَقَدِ اهْتَدَى وَ مَنْ خَالَفَ سُنَّتِي فَقَدْ ضَلَّ وَ كَانَ عَمَلُهُ فِي تَبَابٍ أَمَا إِنِّي أُصَلِّي وَ أَنَامُ وَ أَصُومُ وَ أُفْطِرُ وَ أَضْحَكُ وَ أَبْكِي فَمَنْ رَغِبَ عَنْ مِنْهَاجِي وَ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي وَ قَالَ كَفَى بِالْمَوْتِ مَوْعِظَةً وَ كَفَى بِالْيَقِينِ غِنًى وَ كَفَى بِالْعِبَادَةِ شُغُلًا.

آگاہ ہو جاؤ کہ شروع شروع میں ہر عبادت کی طرف انسان کی رغبت اور توجہ زیادہ ہے، پھر آرام آرام سے انسان اس عبادت میں سستی کرنے لگتا ہے۔ وہ بندہ کہ جسکی رغبت اور توجہ عبادت کی طرف سنت کے مطابق ہو، تو ایسا بندہ یقینی طور پر ہدایت یافتہ ہے اور وہ بندہ جو میری سنت اور سیرت کی مخالفت کرے، تو ایسا بندہ ضلالت اور گمراہی میں ہے اور اسکا عمل اسکے نقصان میں ہو گا۔ جان لو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، کبھی روزہ رکھتا ہوں اور کبھی نہیں رکھتا، میں مسکراتا بھی ہوں اور گریہ بھی کرتا ہوں، پس جو بھی میری سنت سے روگردانی کرے گا، وہ مجھ سے نہیں ہو گا اور میں بھی اس سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں۔ عبرت لینے اور موعظے کے لیے، موت کافی ہے، خداوند کے رزّاق ہونے پر یقین و ایمان رکھنا، یہ انسان کے دوسروں سے غنی اور بے نیاز ہونے کے لیے کافی ہے، اور انسان کے ایک کام میں مصروف ہونے کے لیے، خداوند کی عبادت ہی کافی ہے۔

کافی ج 2 ص 85  

امیرالمؤمنین علی (ع) نے فرمایا ہے کہ:

طُوبَى‏ لِمَنْ‏ ذَلَ‏ فِي نَفْسِهِ وَ طَابَ كَسْبُهُ وَ صَلَحَتْ سَرِيرَتُهُ وَ حَسُنَتْ خَلِيقَتُهُ وَ أَنْفَقَ الْفَضْلَ مِنْ مَالِهِ وَ أَمْسَكَ الْفَضْلَ مِنْ لِسَانِهِ وَ عَزَلَ عَنِ النَّاسِ شَرَّهُ وَ وَسِعَتْهُ السُّنَّةُ وَ لَمْ يُنْسَبْ إلَى الْبِدْعَة،

خوش قسمت ہے کہ جو عاجزی و انکساری اختیار کرتا ہے اور اسکا کام و کاروبار پاک و حلال ہے اور اسکا باطن پاک اور وہ خوش اخلاق ہے اور اپنے مال میں سے اضافی مال و خرچے کو خداوند کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور زبان کو زیادہ بولنے سے منع کرتا ہے اور لوگوں کو اذیت و آزار نہیں پہنچاتا اور رسول خدا کی سنت اس کے لیے کافی ہے اور وہ دین میں بدعت ایجاد نہیں کرتا۔

نهج البلاغه صبحی صالح، حکمت 123، ص 490  

امام صادق (ع) نے بھی فرمایا ہے کہ:

أَيُّمَا عَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ سَنَّ سُنَّةَ هُدًى كَانَ لَهُ أَجْرٌ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِذَلِكَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْ‏ءٌ أَيُّمَا عَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ سَنَّ سُنَّةَ ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْ‏ء،

میمون قداح نے امام باقر (ع) سے نقل کیا ہے کہ امام نے فرمایا کہ: خداوند کے بندوں میں سے کوئی بھی بندہ ایک ہدایت کرنے والی سنت کی بنیاد رکھتا ہے تو اسے اس سنت پر عمل کرنے والے تمام انسانوں کے برابر اجر و ثواب ملے گا، بغیر اس کے کہ ان تمام انسانوں کے اجر و ثواب سے کوئی چیز کم ہو، اور اسی طرح خداوند کے بندوں میں سے کوئی بھی بندہ ایک گمراہ کرنے والی سنت (بدعت) کی بنیاد رکھتا ہے تو اسے اس سنت سئیہ (بدعت) پر عمل کرنے والے تمام انسانوں کے برابر گناہ و عذاب ملے گا، بغیر اس کے کہ ان تمام انسانوں کے گناہ و عذاب سے کوئی چیز بھی کم ہو۔

بحار الأنوار، ج ‏68، ص258  

وہابیوں نے جتنا بھی چاہا ہے، مسلمانوں کے اقوال اور افعال پر بدعت ہونے کی مہر لگائی ہے۔ جو کام اور جو چیز بھی انکی مرضی اور عقیدے کے مخالف ہوتی ہے، اسے وہ فوری بدعت قرار دے دیتے ہیں!!! وہابی خود کو سلف (گذشتگان) کا پیروکار کہتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ آج کے اسلامی معاشرے میں تمام مسلمانوں کے اعمال بدعتوں سے بھرے ہوئے ہیں اور گذشتہ سلف کے اعمال رسول خدا کی صحیح سنت کے مطابق تھے، لہذاہمیں انکی پیروی اور انکے نام کو زندہ کرنا چاہیے!!!

وہابی یہ دعوی کرتے ہیں حالانکہ تاریخ کی معتبر کتب کے مطابق صدر اسلام میں ہی رسول خدا (ص) کی بہت سی سنتیں امت اسلامی میں ضائع ہو گئی تھیں، حالانکہ ابھی رسول خدا کی شہادت کو بہت ہی کم عرصہ گزرا تھا:

رسول خدا (ص) کی تمام سنتوں، حتی نماز کو بھی ضائع کر دیا گيا تھا!

 

بخاری نے انس بن مالک سے نقل کیا ہے کہ: اس نے کہا ہے کہ:

مَا أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ، قِيلَ: الصَّلاَةُ؟ قَالَ: أَلَيْسَ ضَيَّعْتُمْ مَا ضَيَّعْتُمْ فِيهَا،

میں رسول خدا کے زمانے کی سنتوں میں سے کسی چیز کو بھی اب نہیں دیکھ رہا، اس سے کہا گیا کہ: نماز کیا ؟ اس نے کہا: کیا تم نے نماز کو بھی ضائع نہیں کر دیا ؟

صحیح بخاری، ج1، ص 197، كِتَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ، بَابُ تَضْيِيعِ الصَّلاَةِ عَنْ وَقْتِهَا، ح 506 

رسول خدا (ص) کی سنتوں کے تبدیل ہونے پر انس ابن مالک کا گریہ کرنا!

 

بخاری نے زہری نام کے ایک بندے سے نقل کیا ہے کہ:

الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِدِمَشْقَ وَ هُوَ يَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكَ؟ فَقَالَ: «لاَ أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا أَدْرَكْتُ إِلَّا هَذِهِ الصَّلاَةَ وَ هَذِهِ الصَّلاَةُ قَدْ ضُيِّعَتْ،

زہری نے کہا ہے کہ: ایک دن میں دمشق میں انس ابن مالک کے پاس گیا، میں نے دیکھا کہ وہ گریہ کر رہا ہے، میں نے اس سے کہا کہ: کیا ہوا ہے کیوں رو رہے ہو ؟ ابن مالک نے کہا کہ: رسول خدا کی جن سنتوں کا مجھے علم تھا، ان سب کو تبدیل کر دیا گیا ہے، فقط ایک نماز باقی بچی تھی کہ اب اسکو بھی تبدیل اور ضائع کر دیا گیا ہے۔

صحیح بخاری، ج1، ص 198، كِتَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ، بَابُ تَضْيِيعِ الصَّلاَةِ عَنْ وَقْتِهَا، ح 507

شافعی نے اپنی کتاب الامّ میں کہا ہے کہ:

كُلُّ سُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَدْ غُيِّرَتْ حَتَّى الصَّلَاةِ،

رسول خدا کی تمام سنتوں حتی نماز کو بھی تبدیل کر دیا گیا۔

الأم، ج1، ص 235 

امیر المؤمنین علی (ع) کی نماز نے رسول خدا (ص) کی نماز کی یاد تازہ کر دی!

 

جنگ جمل کے بعد بصرہ میں امیر المؤمنین علی (ع) نے نماز پڑھائی تو جب راوی نے علی (ع) کی نماز کو دیکھا تو کنہے لگا کہ:

ذَكَّرَنَا هَذَا الرَّجُلُ صَلاَةً كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ،

اس بندے (علی) نے اس نماز کے ساتھ ہمیں رسول خدا کے ساتھ پڑھنے والی نماز یاد دلا دی ہے۔

صحیح بخاری ج1 ص 271 كِتَابُ الأَذَانِ، بَابُ إِتْمَامِ التَّكْبِيرِ فِي الرُّكُوعِ ح 751 

رسول خدا (ص) کی سنت میں سے فقط نماز کی ظاہری شکل باقی بچ گئی ہے!!!

 

طبرانی نے اپنی کتاب معجم الأوسط میں يزيد بنِ خُمَير سے نقل کیا ہے کہ: اس نے کہا کہ:

سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ: أَيْنَ حَالُنَا مِنْ حَالِ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا؟ فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَ اللَّهِ لَوْ نُشِرُوا مِنَ الْقُبُورِ مَا عَرَفُوكُمْ إِلَّا أَنْ يَجِدُوكُمْ قِيَامًا تُصَلُّونَ،

میں نے عبد اللہ ابن بسر سے پوچھا کہ: ہماری حالت میں اور ہم سے پہلے مسلمانوں کی حالت میں کیا فرق ہے ؟ اس نے کہا: خدا کی قسم ہم سے پہلے مسلمان اگر اپنی قبروں سے زندہ ہوں تو وہ تم کو  پہچان نہیں سکیں گے، مگر یہ دیکھیں گے کہ تم قیام کی حالت میں کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہو، یعنی صدر اسلام میں موجود رسول خدا کی سنتوں میں سے فقط ایک قبلہ کی طرف کھڑے ہو کر نماز پڑھنا باقی بچ گیا ہے۔

معجم الأوسط طبرانی ج1 ص 152

تاریخ مدینه دمشق ج 27 ص 158

تاریخ اسلام ذهبی ج 6 ص 102 

رسول خدا (ص) کی سنت میں سے فقط اذان باقی بچ گئی ہے !

 

ذهبی نے مُعاویہبن قُرَّةَ سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا کہ: 

أَدْرَكْتُ سَبْعِيْنَ مِنَ الصَّحَابَةِ، لَوْ خَرَجُوا فِيْكُمُ اليَوْمَ، مَا عَرَفُوا شَيْئاً مِمَّا أَنْتُم فِيْهِ إِلاَّ الأَذَانَ،

معاویہ بن قرہ نے کہا ہے کہ: میں نے 70 صحابہ کو دیکھا ہے۔ اگر وہ آج اپنی قبروں سے نکل کر تمہارے پاس آئیں تو تم لوگوں میں ان کو اذان کے علاوہ رسول خدا کی کوئی سنت بھی نظر نہیں آئے گی۔

سير أعلام النبلاء ج 5 ص 154 

رسول خدا (ص) کی سنت میں سے فقط قبلہ باقی بچا ہے!

 

ابن عبد البر نے حسن بصری سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا ہے کہ:

لَوْ خَرَجَ عَلَيْكُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ مَا عَرَفُوا مِنْكُمْ إِلَّا قِبْلَتَكُمْ،

اگر رسول خدا کے اصحاب اپنی قبروں سے نکل کر تمہارے پاس آئیں تو تم لوگوں میں ان کو قبلہ کے رخ کھڑا ہونے کے علاوہ رسول خدا کی کوئی سنت نظر نہیں آئے گی۔

جامع بيان العلم و فضله، ابن عبد البر، ج2 ص 200

یہ تمام روایات اس بات کی علامت ہیں کہ امیر المؤمنین علی (ع) سے پہلے والے خلفاء اور حکماء بعض امور جیسے حکومت اسلامی کو وسعت دینے وغیرہ، میں بہت مصروف ہونے کی وجہ سے رسول خدا کی سنتوں کو اپنی اصلی شکل میں باقی نہ رکھ سکے اور کسی نے علی (ع) کے علاوہ رسول خدا (ص) کی ان سنتوں کو زندہ کرنے کا بھی نہیں سوچا تھا۔ علی (ع) بھی جب ظاہری طور پر خلیفہ بنے تو بعض منافق مسلمانوں نے اتنی داخلی مشکلات علی (ع) کے لیے ایجاد کر دیں تھیں کہ وہ داخلی جنگوں سے ہی فارغ نہیں ہوئے تھے کہ وہ رسول خدا (ص) کی فراموش شدہ سنتوں کو زندہ کرنے کے لیے قدم اٹھاتے،

آخر میں وہابیوں سے ایک سوال ہے کہ یہ جو تم مسلمانوں کے اقوال و افعال کو بدعت اور اپنے تمام کاموں کو سنت کہتے ہو، دوسروں کے کاموں کو حرام اور اپنے کاموں کو حلال قرار دیتے ہو، کیا تمہارے پاس اس حلال اور حرام کرنے کی دلیل بھی موجود ہے یا نہیں ؟؟؟

خداوند نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ:

وَ لا تَقُولُوا لِما تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هذا حَلالٌ وَ هذا حَرامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لا يُفْلِحُون،

اس جھوٹ کی وجہ سے کہ جو تمہاری زبانوں پر جاری ہوتا ہے، نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور وہ حرام ہے، کہ تم اپنے اس کام سے خدا کی طرف بہتان کی نسبت دیتے ہو، یقینی طور پر جو خداوند کی طرف بہتان کی نسبت دیتے ہیں، وہ ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے۔

سوره نحل: آیه 116   

التماس دعا.....





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی