2017 September 22
امام حسن عسکری (ع) کی شخصیت علمائے اہل سنت کی نظر میں
مندرجات: ٥٠٧ تاریخ اشاعت: ٠٦ January ٢٠١٧ - ١٢:٥٩ مشاہدات: 661
مضامین و مقالات » پبلک
امام حسن عسکری (ع) کی شخصیت علمائے اہل سنت کی نظر میں

وجود مقدس و نورانی حضرت امام حسن عسکری (ع) ایک قول کے مطابق 10 ربیع الثانی، سال 232 ہجری قمری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی حضرت علی ابن محمد الهادی (ع) اور آپ کی والدہ ایک متقی اور پرہیزگار خاتون تھیں کہ جنکا نام حدیث تھا۔ ظالم اور غاصب حکومت کی طرف سے ایجاد کردہ حالات کی وجہ سے امام عسکری (ع) کو شہر سامرا میں سالہا سال ایک فوجی چھاؤنی میں رہنے کی وجہ سے عسکری کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے اور یہی آپ کا سب سے معروف و مشولر لقب بھی ہے۔ آخر کار زمانے کی بے وفائی، ظالم  اور غاصب حکومت کی طرف سے زہر دینے کی وجہ سے یہ مظلوم و مسموم امام 8 ربیع الاول کو سال 260 ہجری کو جام شہادت نوش فرما گئے اور اپنے ذاتی گھر میں، کہ جو آج بھی آپ کا، آپکے والد گرامی، حضرت نرجس خاتون اور بی بی حکیمہ خاتون ( سلام اللہ علیہم اجمعین) کا نورانی و مقدس حرم مطہر ہے، دفن کیے گئے۔

اس تحریر میں ہم امام حسن عسکری (ع) کی نورانی و با برکت شخصیت کو علمائے اہل سنت کی نظر میں بیان کریں گے:

جاحظ (متوفی 250ہج):

 

جاحظ تیسری صدی کا اہل سنت کا عالم ہے۔ وہ بنی امیہ کے فخر کرنے کو ردّ کرتے ہوئے، دس آئمہ کے اسماء کو ذکر کرتا ہے کہ امام عسکری (ع) کا نام بھی ان آئمہ میں ذکر کرتا ہے اور ان کی اسطرح تعریف و مدح کرتا ہے کہ:

و من الذی يعد من قريش ما يعده الطالبيون عشرة فی نسق، كل واحدٍ منهم : عالمٌ ، زاهدٌ ، ناسكٌ ، شجاعٌ ، جوادٌ ، طاهرٌ ، زاكٍ، فمنهم خلفاء، و منهم مرشحون : ابن ابن ابن ابن ، هكذا إلى عشرة ، و هم الحسن [العسكری] بن علی بن محمّد بن علی بن موسى بن جعفر بن محمّد بن علی بن الحسين بن علی، و هذا لم يتفق لبيت من بيوت العرب ، و لا من بيوت العجم.

اور جو قریش میں سے شمار ہوتا ہے، وہ بنی ہاشم کی اولاد میں ہیں کہ ایک ہی سلسلے میں وہ دس امام تھے کہ ان میں سے ہر ایک عالم، زاہد، عبادت گزار، شجاع،سخی و بخشش گر، و پاک فطرت تھا کہ ان میں سے بعض خلیفہ تھے اور بعض خلافت و خلیفہ بننے کی قابلیت و صلاحیت رکھتے تھے کہ وہ ترتیب کے ساتھ باپ اور بیٹا تھے (یعنی ہر پہلا امام اپنے سے بعد والے امام کا باپ تھا، سوائے امام حسن اور امام حسین کے) اور اسطرح وہ دس بندے ہوتے ہیں کہ وہ: حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن حسين بن علی (سلام الله عليهم  اجعين) ہیں، اور یہ فخر عرب اور عجم کے گھرانوں میں سے کسی کو بھی حاصل نہیں ہوا ہے۔

الجاحظ، أبو عثمان عمرو بن بحر بن محبوب بن فزارة الليثی الكنانی البصری، رسائل الجاحظ، ص 453 ، تحقيق: علی ابو ملحم،  ناشر : دار و مكتبة الهلال ، بيروت، 2002 م.

 محمد بن طلحہ (متوفی 652 ہج):

 

محمد بن طلحہ شافعی نے کتاب مطالب السؤول میں امام عسکری (ع) کے بارے میں لکھا ہے کہ:

أبی محمد الحسن بن علی (ع) الإمام الحسن الخالص ... و أما مناقبه : فاعلم أن المنقبة العليا و المزية الكبرى التی خصه الله عز و جل بها ، و قلده فريدها ، و منحه تقليدها ، و جعلها صفة دائمة لا يبلى الدهر جديدها، و لا تنسى الألسن تلاوتها و ترديدها ، أن المهدی محمد نسله ، المخلوق منه ، و ولده المنتسب إليه، و بضعته المنفصلة عنه.

ابو محمد حسن ابن علی، امام حسن عسکری.....

انکے فضائل و مناقب ایسے بلند و عالی تھے کہ جو خداوند نے ان عطا کیے ہوئے تھے۔ وہ ایسے زندہ فضائل تھے کہ زمانہ بھی ان کو پرانا نہ کر سکا اور اپنوں و غیروں کی زبانوں سے وہ فضائل فراموش نہ ہو سکے۔ (امام) مہدی (ع) اسی امام کی نسل سے ہیں، انکے بیٹے اور انکے بدن کا ٹکڑا ہیں۔

الشافعی، محمد بن طلحة (متوفی652هـ)، مطالب السؤول فی مناقب آل الرسول (ع)، ص 475-476، تحقيق : ماجد ابن أحمد العطية. كتابخانہ اہل بيت (ع) کی سی ڈی کے مطابق،

سبط ابن الجوزی (متوفی 654 ہج):

 

سبط بن جوزی حنفی نے امام عسکری (ع) کے بارے میں لکھا ہے کہ:

هو الحسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی الرضا بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسين بن علی بن ابی طالب… و کان عالماً ثقة.

حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی الرضا بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسين بن علی بن ابی طالب، ایک عالم اور مورد اعتماد انسان تھے۔

سبط بن الجوزی الحنفی، شمس الدين أبو المظفر يوسف بن فرغلی بن عبد الله البغدادی (متوفی654هـ)، تذكرة الخواص، ص 362، ناشر: مؤسسة أہل البيت ـ بيروت، 1401هـ ـ 1981م.

 ابن صباغ (متوفی 855 ہج):

 

ابن صباغ مالکی نے بھی امام حسن عسکری (ع) کی شخصیت کے بارے میں بیان کیا ہے کہ:

أبو محمد الحسن الخالص بن علی العسكری... الإمام القائم بعد أبی ‌الحسن علی بن محمد ابنه أبو محمد الحسن لاجتماع خلل الفضل فيه و تقدمه علی كافة أهل عصره فيما يوجب له الإمامة و يقضی له بالمرتبة من العلم و الورع و النزاهة و كمال العقل و كثرة الأعمال المقربة الی الله تعالی ثم لنص أبيه عليه و اشارته الخلافة اليه.

ابو محمد حسن بن علی عسكری، اپنے والد ابو الحسن علی الہادی کے بعد امام بنے۔ ان کے فضائل و مناقب حد سے زیادہ تھے۔ منصب امامت اور حکومت کے لیے تمام شرائط جیسے علم، شجاعت، زہد، عقل، عصمت، سخاوت سب ان میں پائی جاتی تھیں اور بہت سے نیک اعمال کہ جو ایک انسان کو خداوند کے نزدیک کرتے ہیں، وہ امام عسکری میں دوسرے انسانوں کی نسبت بطور کامل موجود تھے اور اسکے علاوہ انکے والد محترم امام ہادی کی طرف سے، انکی امامت اور جانشینی کے بارے میں واضح طور پر نص اور انکے کلام میں اشارے بھی موجود تھے۔

المالكی، علی بن محمد بن أحمد المالكی المكی المعروف بابن الصباغ (متوفی885هـ)، الفصول المهمة فی معرفة الأئمة، تحقيق: سامی الغريری، ناشر: دار الحديث للطباعة و النشر  مركز الطباعة و النشر فی دار الحديث – قم، الطبعة الأولى: 1422.

 فضل الله بن روزبهان (متوفی 927 ہج):

 

فضل بن روزبهان خنجی شافعی کہ جو ایک متعصب عالم تھا، اس نے امام حسن عسکری (ع) کے بارے میں صلوات کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

اللهم صل و سلم علی الإمام الحادی عشر، المقتدی الرضی المجتبی الوفی المقتفی فی العبادة آثار النبی و الولی و المسخر لعسكر الملائكة بالعزم القوی النور الجلی، البدر الوضی ذی القدر العلی و المجد البهی و العز السنی وارث الإمامة من الوصی والد الحجة الصفی و ولد النبی الزكی أبی محمد الحسن العسكری ابن علی النقی المتوفی فی شبابه بالبلاء المدفون عند أبيه بسر من رأی.

خدایا گیارویں امام پر سلام اور صلوات بھیج، کہ جو پیشوا، خداوند ان سے راضی، خدا کے انتخاب شدہ، اپنے عہد پر وفا کرنے والے، اپنی عبادت میں رسول خدا کے آثار کی پیروی کرنے والے، خداوند کے ولی، پختہ و قوی عزم و ارادے کے ساتھ ملائکہ کے لشکر کو تسخیر کرنے والے، نور واضح خداوند، بلند و بالا مقام و مرتبہ رکھنے والے، انکی عزت و بزرگی انتہائی جلال و کمال والی ہے، اور وہ حضرت اپنے وصی کی طرف سے امامت کے عہدے کے وارث تھے، اور وہ برگزیدہ حجت خدا کے والد گرامی اور پاکیزہ رسول خدا کے فرزند ہیں، اور انکی کنیت حضرت ابو محمد اور انکا لقب عسکری ہے، وہ جوانی میں مصائب و بلا میں مبتلا ہو کر وفات پا گئے اور وہ اپنے والد کے ساتھ شہر سامرا میں دفن ہیں۔

خنجی اصفهانی، فضل بن روزبهانی، وسيلة الخادم الی المخدوم در شرح صلوات چهارده معصوم عليهم السلام، 265-270، به کوشش: رسول جعفريان، دار النشر: انتشارات انصاريان، الطبعة الاولی، مطبعة: صدر، قم، مهر 1375 شمسی.

ابن حجر ہيثمی (متوفی 973 ہج):

 

ابن حجر ہيثمی نے اپنی کتاب الصواعق محرقہ کہ جو اس نے شیعوں کے خلاف لکھی ہے، اس کتاب میں امام عسکری (ع) کے بارے میں اور امام کی بھلول کے ساتھ گفتگو کو اس طرح لکھا ہے کہ:

أبو محمد الحسن الخالص و جعل ابن خلكان هذا هو العسكری ولد سنة اثنتين و ثلاثين و مائتين و وقع لبهلول معه أنه رآه و هو صبی يبكی و الصبيان يلعبون فظن أنه يتحسر على ما فی أيديهم فقال اشتری لك ما تلعب به فقال يا قليل العقل ما للعب خلقنا فقال له فلماذا خلقنا قال للعلم و العبادة فقال له من أين لك ذلك قال من قول الله عز و جل (أفحسبتم أنما خلقناكم عبثا و أنكم إلينا لا ترجعون) المؤمنون 115. ثم سأله أن يعظه فوعظه بأبيات ثم خر الحسن مغشيا عليه فلما أفاق قال له ما نزل بك و أنت صغير لا ذنب لك فقال إليك عنی يا بهلول إنی رأيت والدتی توقد النار بالحطب الكبار فلا تتقد إلا بالصغار و إنی أخشى أن أكون من صغار حطب نار جهنم.

ابو محمد حسن خالص..... ان اور بھلول کے درمیان یہ واقعہ ہوا کہ بھلول نے امام کو جب دیکھا تھا تو وہ بہت چھوٹے بچے تھے، بھلول نے دیکھا کہ دوسرے بچے کھیل رہے ہیں اور وہ رو رہے ہیں۔ بھلول نے سوچا کہ بچوں کھلونوں سے کھیل رہے ہیں اور امام کے پاس کھلونے نہیں ہیں، اسلیے وہ رو رہے ہیں۔ بھلول نے کہا میں تمہارے لیے بھی وہی کھلونے خریدوں گا۔ ابو محمد حسن نے فرمایا: اے بھلول خداوند نے ہمیں کھیلنے کے لیے خلق نہیں کیا۔ بھلول نے کہا: تو پھر خدا نے ہمیں کس لیے خلق کیا ہے ؟ امام نے فرمایا: خداوند نے ہمیں علم اور عبادت کرنے کے لیے خلق کیا ہے۔ بھلول نے کہا: اس بات کو تم کیسے اور کہاں سے کہہ رہے ہو ؟ امام نے فرمایا: خداوند نے قرآن میں فرمایا ہے کہ:

 أ فحسبتم أنما خلقناكم عبثا و انكم إلينا لا ترجعون۔

کیا تم نے گمان کیا ہے کہ ہم نے تم کو بیہودہ خلق کیا ہے اور تم نے ہماری طرف پلٹ کر نہیں آنا ؟

سورہ مؤمنون آیہ 115

پھر نے اس چند نصیحتیں کیں، بھلول نے بھی امام کو اس آیت کے بارے میں چند اشعار پڑھ کر سنائے، ان اشعار کو کہ جو قیامت و آخرت کے بارے میں تھے، امام عسکری نے سنے تو وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئے اور جب ہوش میں آئے تو بھلول نے امام سے کہا کہ آپ تو ابھی چھوٹے ہیں، یہ آيات آپ کے بارے میں نازل نہیں ہوئی، بچے تو کوئی گناہ نہیں کرتے، آپ اس آیت کو سن کر کیوں پریشان ہوتے ہیں ؟ امام نے اس سے کہا: اے بھلول کیسی باتیں کر رہے ہو ؟ میں نے اپنی والدہ کو دیکھا ہے کہ جب وہ بڑی لکڑیوں کو آگ لگانا چاہتی ہیں تو وہ پہلے چھوٹی چھوٹی لکڑیوں کو جلاتی ہے تا کہ بڑی لکڑی کو بھی آگ لگ جائے، اور میں اس سے ڈرتا ہوں کہ میں جھنم کی ان چھوٹی چھوٹی لکڑیوں میں سے نہ ہوں۔

الهيثمی، ابو العباس أحمد بن محمد بن علی ابن حجر (متوفی973هـ)، الصواعق المحرقة علی أهل الرفض و الضلال و الزندقة، ج 2 ص 599-600، تحقيق: عبد الرحمن بن عبد الله التركی - كامل محمد الخراط، ناشر: مؤسسة الرسالة - لبنان، الطبعة: الأولى، 1417هـ - 1997م.

حضرمی (متوفی 1047 ہج):

 

احمد بن فضل بن محمد باکثير حضرمى شافعى نے امام حسن عسکری (ع) کی کرامات کے بارے میں اس طرح لکھا ہے کہ:

ابو محمد الحسن الخالص بن على العسکرى، کان عظيم الشان جليل المقدار... و وقع له مع المعتمد لمّا حبسه کرامه ظاهره مشهوره.

ابو محمد حسن خالص ابن على عسکرى، وہ بہت عظیم شان اور بلند مرتبہ انسان تھے، اور جب معتمد نے انکو زندان میں ڈالا تو ان سے بہت سی کرامات ظاہر ہوئیں کہ جو مشہور ہیں۔

باکثير حضرمى شافعى، احمدبن فضل بن محمد، وسيلة المآل فى عد مناقب الآل، مخطوط، ص 202،

شبلنجی (متوفی 1322 ہج):

 

شبلنجی شافعی عالم اہل سنت نے امام حسن عسکری (ع) کا نام ذکر کر کے اس کے ذیل میں امام کی ایک کرامت کو بھی ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ:

فی ذكر مناقب الحسن الخالص بن علی الهادی بن محمد الجواد ... الاولی هی جامعة الكرامات حدث أبو هاشم داود بن قاسم الجعفری قال كنت فی الحبس الذی فی الجوسق - أنا و الحسن بن محمد، و محمد بن إبراهيم العمری، و فلان و فلان خمسة أو ستة - إذ دخل علينا أبو محمد الحسن بن علی العسكری، و أخوه جعفر، فخففنا بأبی محمد، و كان المتولی للحبس، صالح بن يوسف الحاجب، و كان معنا فی الحبس رجل أعجمی، فالتفت إلينا الإمام أبو محمد الحسن العسكری، و قال لنا سرا: لولا أن هذا الرجل فيكم، أخبرتكم متى يفرج الله عنكم ؟، و هذا الرجل قد كتب فيكم قصة إلى الخليفة، يخبره فيها بما تقولون فيه، و هی معه فی ثيابه، يريد الحيلة فی إيصالها إلى الخليفة، من حيث لا تعلمون، فاحذروا شره.

قال أبو هاشم: فما تمالكنا أن تحاملنا جميعا على الرجل، ففتشناه فوجدنا القصة مدسوسة معه فی ثبابه، و هو يذكرنا فيها بكل سوء، فأخذناها منه و حذرناه، و كان الإمام الحسن يصوم فی السجن، فإذا أفطر أكلنا معه من طعامه.

قال أبو هاشم: فكنت أصوم معه، فلما كان ذات يوم، ضعفت عن الصوم، فأمرت غلامی فجاء لی بكعك، فذهبت إلى مكان خال من الحبس، فأكلت و شربت، ثم عدت إلى مجلسی مع الجماعة، و لم يشعر بی أحد، فلما رآنی تبسم و قال: أفطرت، فخجلت، فقال: لا عليك يا أبا هاشم، إذا رأيت أنك ضعفت، و أردت القوة، فكل اللحم، فإن الكعك لا قوة فيه، و قال: عزمت عليك أن تفطر ثلاثا، فإن البنية إذا أنهكها الصوم، لا تتقوى إلا بعد ثلاث.

قال أبو هاشم: ثم لم تطل مدة الإمام أبی محمد بن علی في الحبس بسبب أن قحط الناس فی " سر من رأى " (سامراء) قحطا شديدا، فأمر الخليفة المعتمد على الله بن المتوكل بخروج الناس إلى الاستسقاء، فخرجوا ثلاثة أيام يستسقون، فلم يسقوا، فخرج " الجاثليق " فی اليوم الرابع إلى الصحراء، و خرج معه النصارى و الرهبان، و كان فيهم راهب، كلما مد يده إلى السماء هطلت بالمطر، ثم خرجوا فی اليوم الثانی و فعلوا كفعلهم فی أول يوم، فهطلت السماء بالمطر، فعجب الناس من ذلك، و داخل بعضهم الشك، وصبا بعضهم إلى دين النصرانية، فشق ذلك على الخليفة، فأنفذ إلى صالح بن يوسف أن أخرج أبا محمد من الحبس، و ائتنی به.

فما حضر الإمام أبو محمد الحسن عند الخليفة قال له: أدرك أمة محمد (صلى الله عليه و سلم)، فيما لحقهم من هذه النازلة العظيمة.

فقال الإمام أبو محمد: دعهم يخرجون غدا اليوم الثالث، فقال الخليفة:

لقد استغنى الناس عن المطر، فما فائدة خروجهم.

قال الإمام: لأزيل الشك عن الناس، و ما وقعوا فيه.

فأمر الخليفة الجاثليق و الرهبان أن يخرجوا أيضا فی اليوم الثالث، على جاری عادتهم، و أن يخرج الناس، فخرج النصارى، و خرج معهم الإمام أبو محمد الحسن، و معه خلق من المسلمين، فوقف النصارى، على جاری عادتهم يستسقون، و خرج راهب معهم، ومد يده إلى السماء، و رفعت النصارى و الرهبان أيديهم أيضا كعادتهم، فغيمت السماء فی الوقت، و نزل المطر.

فأمر الإمام أبو محمد الحسن بالقبض على يد الراهب، و أخذ ما فيها، فإذا بين أصابعه عظم آدمی، فأخذه الإمام أبو محمد الحسن، و لفه فی خرقة، و قال لهم: استسقوا فانقشع الغيم، و طلعت الشمس، فتعجب الناس من ذلك.

فقال الخليفة: ما هذا يا أبا محمد، فقال الإمام: هذا عظم نبی من الأنبياء، ظفر به هؤلاء من قبور الأنبياء، و ما كشف عن عظم نبی من الأنبياء تحت السماء، إلا هطلت بالمطر، فاستحسنوا ذلك، و امتحنوه، فوجدوه كما قال.

فرجع الإمام أبو محمد الحسن إلى داره فی " سر من رأى "، و قد أزال عن الناس هذه الشبهة، و سر الخليفة و المسلمون من أجله، و أقام الإمام أبو محمد الحسن بمنزله معظما مكرما، و صلات الخليفة و إنعاماته تصل إليه فی كل وقت.

امام حسن عسکری (ع) کے مناقب اور کرامات کے بارے میں ہے کہ:

اول: وہ کرامات کا مجموعہ ہیں، ابو ہاشم داود بن قاسم جعفری نے کہا ہے کہ: ہم قلعے والے زندان میں تھے کہ ابو محمد حسن بن علی عسكری اور انکا بھائی جعفر بھی وہاں آئے، زندان کا نگران صالح ابن یوسف تھا، ہمارے ساتھ زندان میں ایک غیر عربی بندہ بھی تھا۔ ابو محمد امام عسکری نے جب ہمیں دیکھا تو، مخفی طور پر ہمیں کہا کہ: اگر یہ بندہ ادھر نہ ہوتا تو میں تم کو بتاتا کہ تمہاری یہاں سے رہائی کب ہو گی، اس بندے نے تمہارے بارے میں خلیفہ کو خط لکھا ہے اور اس میں تمہارے خلاف تمہاری ساری باتوں کو بھی لکھا ہے، اس نے خط کو اپنے کپڑوں میں چھپایا ہے اور اب وہ سوچ رہا ہے کہ اسکو کس طرح سے خلیفہ تک پہنچائے،وہ تھوڑا خطرناک ہے پس تم اس سے تھوڑی احتیاط سے رہا کرو۔

ابو ہاشم نے کہا کہ: ہم چند بندوں نے اسکو پکڑ کر اس کے لباس کی تلاشی لی اور ہم نے دیکھا کہ اس نے اپنے کپڑوں میں خط کو چھپایا ہوا تھا اور اس نے ہمارے خلاف سب کچھ لکھا ہوا تھا۔ ہم نے اس خط کو اس سے لے پھاڑ دیا اور اس دن کے بعد ہم نے اس کے سامنے کوئی ایسی ویسی بات نہیں کی۔ امام حسن عسکری زندان میں روزہ رکھا کرتے تھے اور افطار کے وقت ہم بھی ان کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے....

ابو ہاشم نے کہا کہ: اس دفعہ جب حضرت ابو محمد زندان میں آئے تو وہ زیادہ عرصہ زندان میں نہ رہے کیونکہ سامرا میں لوگ قحط میں مبتلا ہو گئے تھے، خلیفہ معتمد نے حکم دیا کہ سارے لوگ صحرا میں جمع ہو کر بارش ہونے کی دعا کریں۔ سارے لوگوں نے مسلسل تین دن صحرا میں جمع ہو کر دعائیں کیں لیکن بارش نازل نہ ہوئی۔ چوتھے دن مسیحیوں کا بڑا رہنما جاثلیق، نصاری اور راہبوں کے ساتھ مل کر صحرا میں گیا۔ ان میں سے ایک راہب جب بھی آسمان کی طرف اپنے ہاتھ دعا کے لیے بلند کرتا تو فورا بہت ہی زیادہ بارش برسنا شروع ہو جاتی تھی۔ اس سے بعد والے دن بھی جاثلیق نے اسی ترتیب کے ساتھ دعا کی تو اس قدر زیادہ بارش ہوئی کہ قحط زدہ لوگوں کو اب بارش کی ضرورت نہ رہی۔ اس بات پر لوگوں نے بہت تعجب اور حیرت کا اظہار کیا اور بعض مسلمان اپنے دین اور مذھب کے سچا ہونے میں شک و تردید کا شکار ہو گئے اور انکی توجہ مسیحی مذہب کی طرف زیادہ ہونے لگ گئی۔ یہ بات خلیفہ کو بہت بری لگی اور  اس نے ناچار ہو کر صالح ابن یوسف کو حکم دیا کہ ابو محمد حسن کو زندان سے آزاد کر کے میرے پاس لے کر آؤ۔ جب ابو محمد خلیفہ کے پاس آئے تو خلیفہ نے ان سے کہا کہ: تمہارے دادا کی امت گمراہ ہو رہی ہے، اس کا کچھ کرو۔ امام نے فرمایا: جاثلیق اور راہبوں سے کہو کہ کل منگل والے دن صحرا میں آ جائیں۔ خلیفہ نے کہا کہ اب تو صحرا میں جانے کا فائدہ ہی نہیں ہے کیونکہ اب لوگوں کو بارش کی ضرورت نہیں ہے۔ امام عسکری نے فرمایا: اس لیے کہہ رہا ہوں کہ تا کہ لوگوں اور مسلمانوں کے شک و تردید کو ختم کر کے ان کو حقیقت سے آگاہ کر سکوں۔ خلیفہ کے حکم کے مطابق جاثلیق اور راہب منگل والے دن صحرا میں حاضر ہو گئے۔ ابو محمد امام عسکری بھی بہت سے لوگوں کے ساتھ صحرا میں آئے۔ اس وقت مسیحیوں اور راہبوں نے بارش کے لیے دعا کی۔ آسمان پر بادل آئے اور بارش برسنا شروع ہو گئی۔ امام عسکری نے فرمایا کہ: اس راہب کے ہاتھ کو پکڑو اور جو کچھ اس نے ہاتھ میں چھپایا ہوا ہے، اس کو باہر نکالو۔ جب دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ اس نے اپنے ہاتھ میں ایک ہڈی کو چھپایا ہوا تھا۔ امام نے اس سے ہڈی کو لے ایک کپڑے میں لپیٹ کر رکھ دیا اور پھر راہبوں سے کہا کہ اب بارش کے لیے دعا کریں۔ انھوں جونہی ہاتھوں کو دعا کے لیے بلند کیا،تو بادل آسمان سے غائب ہو گئے اور سورج نکل آیا۔ لوگوں نے بہت تعجب کیا۔ خلیفہ نے امام سے پوچھا کہ یہ ہڈی کیا اور کس کی ہے ؟ امام نے فرمایا: یہ اللہ کے ایک نبی کی ہڈی ہے کہ جو ان لوگوں نے انبیاء کی قبروں سے نکالی ہے اور جب بھی اللہ کے نبی کی ہڈی ظاہر ہوتی ہے تو فورا بارش ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ خلیفہ نے امام عسکری کی بہت زیادہ تعریف کی اور بہت خوش ہوا اور اس ہڈی کو آزمایا تو دیکھا کہ ویسے ہی ہے کہ جس طرح امام فرما رہے ہیں۔ یہی واقعہ باعث بنا کہ امام عسکری کو  زندان سے آزاد کر دیا گيا اور وہ سامرا میں اپنے گھر چلے گئے اور لوگوں کو بھی اس شک اور تردید سے نجات مل گئی۔ اس کام سے خلیفہ اور سب مسلمان بہت خوش ہوئے۔ اس موقع پر امام عسکری نے فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے، اپنے زندان والے ساتھیوں کی رہائی کے لیے خلیفہ سے بات کی اور خلیفہ نے فوری طور پر ان سب کی رہائی کا حکم دے کر سب کو آزاد کر دیا۔ یہی وجہ تھی کہ ابو محمد حسن اپنے گھر میں بڑے احترام سے رہتے تھے اور خلیفہ کی طرف سے وقتا فوقتا امام کے لیے ہدیئے بھی بھیجے جاتے تھے۔

 شبلنجی الشافعی، حسن بن مومن، نور الابصار فی مناقب آل بيت النبی المختار، المطبعة المحمودية، مصر، 1313 هـ.

 ابو الہدى افندی (متوفی 1328 ہج):

 

افندی اہل سنت کا شام کا رہنے والا عالم تھا، اس نے رسول خدا (ص) کے جانشینوں کا ذکر کرتے ہوئے، امام حسن عسکری (ع) کا نام بھی ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ:

قد علم المسلمون فی المشرق و المغرب: أن رؤساء الاولياء آئمة الاصفياء من بعده ‏عليه الصلاة و السلام من ذريته و أولاده الطاهرين يتسللون بطناً بعد بطن و جيلاً بعد جيل الى ‏زمننا هذا، و هم الاولياء، الاولياء بلا ريب، و قادتهم الى الحضرة القدسية المحفوظة من الدنس ‏و العيب و من فی الاولياء الصدر الاول بعد الطبقة المشرفة بصحبة النبی الكريم كالحسن ‏و الحسين و الباقر و الكاظم و الصادق و الجواد و الهادی و التقی و النقی و العسكری.

مشرق اور مغرب میں رہنے والے سب مسلمان جانتے ہیں کہ رسول خدا (ص) کے بعد آنے والے بزرگ اولیاء اور آئمہ، وہ رسول خدا کی اولاد میں سے ہیں کہ جو اس زمانے سے لے کر اب تک نسل در نسل آئے ہیں۔ کسی شک کے بغیر مسلمانوں کے اولیاء اور آئمہ خداوند کی پاک بارگاہ میں ہیں کہ جو ہر طرح کی ناپاکی اور عیب سے پاک ہیں، اور وہ اولیاء کہ جو صدر اسلام اور اسکے بعد رسول خدا کے ساتھ تھے، جیسے حسن، حسين، باقر، کاظم، صادق، جواد، ہادی، نقی اور عسکری (صلوات الله عليهم اجمعين).

المرعشی النجفی، السيد شهاب الدين (متوفی1411هـ)، شرح إحقاق الحق، ج 21 ص 641، تحقيق و تعليق: السيد شهاب الدين المرعشی النجفی،‌ ناشر: منشورات مكتبة آية الله العظمى المرعشی النجفی - قم – ايران، نقل از کتاب ضوء الشمس للافندی.

يوسف بن اسماعيل النبهانی (متوفی 1350 ہج):

 

نبهانی نے امام عسکری (ع) کی شخصیت اور انکی زیارت کے بارے میں لکھا ہے کہ:

الحسن العسكری أحد آئمة ساداتنا آل البيت العظام و ساداتهم الكرام - رضی الله عنهم أجمعين - و قد رأيت له كرامة بنفسی و هی انّی سنة 1296 هجرية سافرت الی بغداد من بلدة كوی سنجق، احدی قواعد بلاد الأكراد و كنت قاضياً فيها ففارقتها قبل أن أكمل المدة المعينة لشدة ما وقع فيها من الغلاء و القحط، اللذين عما بلاد العراق فی تلك السنة فسافرت على الكلك، و هو ظروف يشدون بعضها إلى بعض، و يربطون فوقها الأخشاب، و يجلسون عليها، فلما وصل الكلك قبالة مدينة سامراء، و كانت مقر الخلفاء العباسيين فأحببنا أن نزور الإمام الحسن العسكری، و خرجنا لزيارته، فحينما دخلت على قبره الشريف حصلت لی روحانية لم يحصل لی مثلها قط و هذه كرامة له، ثم قرأت ما تيسر من القرآن، و دعوت بما تيسر من الدعوات و خرجت.

حسن عسكری اہل بیت سادات کے آئمہ میں سے ایک امام ہیں۔ میں نے خود ان سے ایک کرامت کو دیکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ سال 1296 ہجری کو میں عراق کے کرد علاقے کے ایک شہر کوی سنجق سے بغداد سفر پر گیا۔ میں اس شہر میں قاضی تھا اور اپنی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی میں اس شہر سے مہنگائی اور قحط کی وجہ سے ہجرت کر کے وہاں سے بغداد چلا گيا، اور میں نے کلک ( لکڑی سے بنی ہوئی کشتی کی طرح کی ایک سواری ہے ) کے ذریعے سفر کرنا شروع کیا۔ جب میری کلک شہر سامرا کے نزدیک پہنچی تو میرا دل چاہا کہ امام حسن عسکری کی قبر کی زیارت کروں۔ کلک وہاں کھڑی ہوئی اور میں امام کی زیارت کے لیے چلا گیا اور جب میں امام کے مقبرے میں داخل ہوا تو ایک ایسی روحانی حالت مجھ پر طاری ہوئی کہ ویسی حالت جب میں نے شہر موصل میں حضرت یونس کی زیارت تھی تو مجھ پر طاری ہوئی تھی، اور یہ امام عسکری کی طرف سے ایک کرامت تھی، پھر اسی روحانی حالت کے ساتھ میں نے امام کے حرم میں قرآن کی تلاوت کی، دعا مانگی اور پھر وہاں سے اپنی کلک کے پاس چلا گيا۔

النبهانی، يوسف بن اسماعيل، (متوفی 1350 ه-)، جامع کرامات الأولياء، ج 2 ص، 21-22 ، مرکز أهل السنة برکات رضا فور بندر غجرات، هند، الطبعة الأولی، 2001 م.

زرکلی (متوفی 1396 ہج):

 

خير الدين زرکلی نے امام عسکری (ع) کی شخصیت کے بارے میں بیان کیا ہے کہ:

الحسن بن علی الهادی بن محمد الجواد الحسينی الهاشمی: أبو محمد، الإمام الحادی عشر عند الإمامية. ولد فی المدينة، و انتقل مع أبيه (الهادی) إلى سامراء (فی العراق) و كان اسمها (مدينة العسكر) فقيل له العسكری - كأبيه. نسبة إليها. و بويع بالإمامة بعد وفاة أبيه. و كان على سنن سلفه الصالح تقى و نسكا و عبادة.

حسن بن علی ہادی بن محمد جواد حسينی الهاشمی ابو محمد، شیعوں کے گیارویں امام ہیں۔ وہ مدینہ میں دنیا میں آئے اور اپنے والد امام ہادی کے ساتھ عراق کے شہر سامرا منتقل ہوئے کہ اس جگہ کو عسکری شہر کہا جاتا ہے۔ انکے والد کی وفات کے بعد، انکی امام کے طور پر بیعت کی گئی۔ وہ اپنے آباء و اجداد کی نیک سیرت پر متقی اور ایک عابد انسان تھے۔

الزركلی، خير الدين (متوفی1410هـ)،‌ الأعلام، ج 2 ص200، ناشر: دار العلم للملايين - بيروت – لبنان، چاپ: الخامسة، سال چاپ : أيار - مئی 2002 م.

عبد الغنی (معاصر):

عارف احمد عبد الغنى نے امام حسن عسکری (ع) کے بارے میں لکھا ہے کہ:

کان من الزهد و العلم على امر عظيم.....،

وہ زہد اور علم کے لحاظ سے ایک عظیم مقام پر فائز تھے....،

 عبد الغنی، عارف احمد، الجوهر الشفاف فی انساب السادة الاشراف، دار النشر: دار الکنان، دمشق، 1997م.

نتیجہ کلی:

وہ اہم مطالب جو ہم نے امام حسن عسکری (ع) کی شخصیت کے بارے میں اہل سنت کے علماء کے نقل و بیان کیے، وہ ان امام ہمام کے فضائل و مناقب کے بحر بیکران کا ایک قطرہ تھا کہ جس سے قلم نے سیراب ہو کر ہماری روح اور ایمان کو بھی سیراب کیا ہے۔ قطعی طور پر جنکی شان قرآن میں خود خداوند نے بیان کی ہو تو پھر کسی انسان کے قلم اور الفاظ میں اتنی ہمت اور جرات نہیں ہے کہ اس نور خدا کا تعارف بیان کر سکے۔ ہم سب کو نعمت ولایت و امامت پر خداوند کا شکر ادا کرنا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو، اس نور خدا کو ہر جگہ پھیلا کر جہالت اور تعصّب کی ظلمات کو کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

التماس دعا...





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی