2017 March 25
معصومین کے حرم کے متعلق اہل سنت کی بزرگ شخصیات کا احترام کرنا
مندرجات: ٥٠٠ تاریخ اشاعت: ٠٤ January ٢٠١٧ - ١٧:١٢ مشاہدات: 283
پروگرام » ولایت نیٹ ورک
معصومین کے حرم کے متعلق اہل سنت کی بزرگ شخصیات کا احترام کرنا

حبل المتین 2017-01-04

 

ڈاؤن لوڈ لنک

توجہ فرمائیں: اس پروگرام کی آڈیو فائل بھی موجود ہے۔

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

تاریخ : 2016-07-24

امیر المؤمنین کی قبر پر ہارون رشید کا احترام کرنا:

فأخبره بعض شیوخ الکوفة أنه قبر أمیر المؤمنین علی علیه السلام۔

کوفہ کے بعض علماء کا بیان ہے کہ: وہاں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی قبر ہے۔

 ثم إن هارون أمر فبنی علیه قبة۔

ہارون رشید نے حکم دیا اور امیر المومنین علیہ السلام کی قبر مطہر پر گنبد بنایا گیا۔

وأخذ الناس فی زیارته والدفن لموتاهم حوله۔

لوگ اس کے بعد امیر المومنین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے اور ان کے پاک حرم سے تبرک کے طور پر وہاں اپنے مردوں کو دفن کیا کرتے تھے

عمدة الطالب فی انساب آل ابی طالب، احمد بن علی حسینی (ابن عنبة)، ص 62

امام موسی کاظم کے حرم کے متعلق "ابن خلکان" کی توصیف:  

توفی فی الحبس ودفن فی مقابر الشونیزیین خارج القبة، وقبره هناک مشهور یزار۔

 قید کے ایام میں ہی وہ دنیا سے رخصت ہو گئے اور شونیزین قبرستان مین دفن ہوئے اور اس وقت ان کی قبر معروف و زیارت کا مقام ہے

 «وعلیه مشهد عظیم فیه قنادیل الذهب والفضة وأنواع الآلات والفرش ما لا یحد»

 امام کاظم علیہ السلام کے مبارک روضہ پر گنبد اور بارگاہ تھی اور سونے چاندی کی قندیلیں وہاں آویزاں تھی اور بیش قیمت قالینیں وہاں بچھی تھیں

وفیات الاعیان؛ ابو العباس شمس الدین احمد بن محمد ابن خلکان (متوفی: 681 هـ)، محقق: احسان عباس، ناشر: دار صادر – بیروت، ج 5، ص 310

امام کاظم کے حرم سے "ابو علی خلال" کا توسل:

«ما همنی أمر فقصدت قبر موسی بن جعفر فتوسلت به الا سهل الله تعالی لی ما أحب»

 جب بھی مجھے کو کوئی مشکل پیش آتی موسی بن جعفر کی قبر کے پاس آتا اور ان سے توسل کرتا تھا اور میری مشکل حل ہو جاتی تھی۔

تاریخ بغداد، مؤلف: أحمد بن علی ابو بکر خطیب بغدادی، ناشر: دار الکتب العلمیة - بیروت، ج 1، ص 120، باب ما ذکر فی مقابر بغداد المخصوصة بالعلماء والزهاد

امام رضا کے حرم کے سلسلے میں "ابن خزیمہ" کی تعظیم و تکریم:

خرجنا مع إمام أهل الحدیث أبی بکر بن خزیمة»

ہم اہل حدیث کے امام ابی بکر بن خزیمہ کے ساتھ باہر نکلے

«وعدیله أبی علی الثقفی مع جماعة من مشائخنا وهم إذ ذاک متوافرون إلی زیارة قبر علی بن موسی الرضی بطوس»

اور ان کے عدیل ابو علی ثقفی اور بزرگوں کی ایک جماعت کے ساتھ طوس میں امام رضا کی قبر پر جایا کرتے تھے۔

«قال فرأیت من تعظیمه یعنی بن خزیمة لتلک البقعة وتواضعه لها وتضرعه عندها ما تحیرنا»

وہ کہتا ہے: میں نے دیکھا کہ ابن خزیمہ اس مقبرہ کے سامنے وہ تعظیم اور اس کے مقابلے میں اس تواضع و فروتنی کا اظہار کرتے ہیں کے ہم حیرت زدہ رہ گئے۔

تهذیب التهذیب، مؤلف: احمد بن علی بن حجر ابو الفضل عسقلانی شافعی، ناشر: دار الفکر - بیروت - 1404 - 1984، پہلا ایڈیشن، ج 7، ص 339، ح 627

حرم امام رضا سے ابن حبان کا توسل اور مسلسل زیارت:

 «قد زرته مرارا کثیرة»

میں نے آٹھویں امام کی قبر کی بہت زیادہ زیارت کی۔

 «وما حلت بی شدة فی وقت مقامی بطوس فزرت قبر علی بن موسی الرضا صلوات الله علی جده وعلیه ودعوت الله إزالتها عنی إلا أستجیب لی وزالت عنی تلک الشدة»

جب میں طوس مین رہتا تھا تو جب بھی مجھے کوئی بڑی پریشانی یا مشکل درپیش ہوتی تو امام رضا کی قبر پر جاتا اور ان سے توسل کرتا اور میری مشکل حل ہو جایا کرتی تھی اور میری دعا مستجاب ہو جاتی تھی۔

«وهذا شیء جربته مرارا فوجدته کذلک» 

میں نے کئی بار اس کا تجربہ کیا اور اس کا نتیجہ دیکھا تھا۔

الثقات، مؤلف: محمد بن حبان بن احمد ابو حاتم تمیمی، بستی، ناشر: دار الفکر - 1395 - 1975، پہلا ایڈیشن، تحقیق: سید شرف الدین احمد، ج 8، ص 457، ح 14411

قبور صحابی کی تعمیرات پر مسلمانوں کا رد عمل:

مدائن میں "سلمان فارسی" کی قبر:

«وقبره الآن ظاهر معروف بقرب ایوان کسری علیه بناء»

  ان کی قبر مشخص اور مشہور ہے اور وہ ایوان کسری کے پاس ہے اور اس پر گنبد ہے ۔

تاریخ بغداد، مؤلف: احمد بن علی ابو بکر خطیب بغدادی، ناشر: دار الکتب العلمیة – بیروت، ج 1، ص 163، ح 12

"بصرہ" میں "طلحہ بن عبد اللہ" کی قبر!:

«ومن المشاهد المبارکة بالبصرة مشهد طلحة بن عبد الله أحد العشرة رضی الله عنهم وهو بداخل المدینة وعلیه قبة وجامع وزاویة فیها الطعام للوارد والصادر وأهل البصرة یعظمونه تعظیما شدیداً»

 جب میں بصرہ پہونچا تو میں نے جنگ جمل میں شہید ہونے والے طلحہ بن عبد اللہ کا مزار دیکھا جس پر گنبد تھی، ان کی قبر کے پاس ایک مسجد ہے اور اس میں ایک باورچی خانہ ہے جس سے طلحہ کی قبر کے زائرین کے کھانے پینے کا انتظام کیا جاتا ہے اور بصرہ کے لوگ اس کا بہت احترام کرتے ہیں۔

پیغمبر کی دائی "حلیمہ سعدیہ" اور آنحضرت کے خادم "انس بن مالک" کی قبر:

«وعلی کل قبر منها قبة»

ان دونوں کی قبروں پر گنبد ہے

 «مکتوب فیها اسم صاحب القبر ووفاته» 

ان کا نام اور سال وفات بھی وہاں لکھا ہوا ہے

 رحلة ابن بطوطة (تحفة النظار في غرائب الأمصار وعجائب الأسفار)؛ مؤلف: محمد بن عبد الله، ابن بطوطہ (متوفى: 779هـ)، ناشر: أكاديمية المملكة المغربية، الرباط، سال نشر: 1417 هـ؛ ج 2، ص 15، باب ذکر المشاهدة المبارکة بالبصرة

"بصرہ" میں "زبیر بن عوام" کی قبر:

«وجعل الموضع مسجداً ونقلت إلیه القنادیل والآلات والحصر والسمادات وأقیم فبه قوام وحفظة»

زبیر کی قبر پر ایک مسجد بنائی ہے قندیلیں اور سجاوٹ کی ہے اور وہاں کچھ لوگوں کو مامور کیا ہے تا کہ وہ قبر، گنبد، فرش اور وہاں کی قیمتی چیزوں کی حفاظت کریں،

 «ووقف علیه وقوفاً»

زبیر کے مقبرہ کے لئے زمینیں اور عمارتیں وقف کی ہیں تا کی ان کی آمدنی"زبیر بن عوام" کے مقبرہ پر خرچ ہو۔

المنتظم فی تاریخ الملوک والأمم، مؤلف: عبد الرحمن بن علی بن محمد بن جوزی أبو الفرج، ناشر: دار صادر - بیروت - 1358، پہلا ایڈیشن، ج 14، ص 383

ترکی میں "ابو ایوب انصاری" کی قبر:

 «فقالوا هذا قبر أبی أیوب الأنصاری صاحب النبی فأتیت تلک البنیة فرأیت قبره فی تلک البنیة وعلیه قندیل معلق بسلسلة»

لوگوں نے بتایا: یہاں پیغمبر کے ساتھ ابو ایوب انصاری کی قبر ہے، میں نے دیکھا وہان قندیلوں کو زنجیروں سے لٹکایا تھا۔

تاریخ بغداد، مؤلف: احمد بن علی ابو بکر خطیب بغدادی، ناشر: دار الکتب العلمیة – بیروت، ج 1، ص 154، ح 7

اپنے چار اماموں کی قبروں کے متعلق اہل سنت کی سیرت!

"بغداد" مین حنفییوں کے امام "ابو حنیفہ" کی قبر:

 «وفی هذه الأیام بنی أبو سعد المستوفی الملقب شرف الملک مشهد الإمام أبی حنیفة رضی الله عنه،» 

ان دنوں میں جناب ابو سعید مستوفی جن کا لقب شرف الملک ہے نے ابو حنیفہ کی قبر پر ایک بارگاہ بنائی اور اس کا نام ابوحنیفہ کی زیادت گاہ رکھا۔

«وعمل لقبره ملبناً، وعقد القبة، وعمل المدرسة بإزائه، وأنزلها الفقهاء، ورتب لهم مدرساً»

ان کی قبر پر ضریح اور گبند بنائی اور اس کے پاس ایک مدرسہ تعمیر کیا اور حکم دیا کہ فقہا وہاں آئیں اور تدریس کریں

المنتظم فی تاریخ الملوک والأمم، مؤلف: عبد الرحمن بن علی بن محمد بن جوزی أبو الفرج، ناشر: دار صادر - بیروت - 1358، طبع: أول، ج 16، ص 100

"مدینہ" میں مالکیوں کے امام "مالک بن انس" کی مزار:

 وأمامها قبر إمام المدینة أبی عبد الله مالک بن أنس رضی الله عنه وعلیه قبة صغیرة مختصرة البناء» 

جب میں مدینہ گیا وہاں میں نے مدینہ کے امام ابی عبد اللہ مالک بن انس کا مزار دیکھا جس پر چھوٹی سی گنبد اور مختصر تعمیرات کی گئی تھیں۔

"مصر" میں "امام شافعی کی مزار":

 «أنشأ الکامل دار الحدیث بالقاهرة وعمر قبة علی ضریح الشافعی»

 ان لوگوں نے امام شافعی کی ضریح پر ایک بڑا گنبد تعمیر کیا تھا اور اس لئے موقوفات کا بھی انتظام کیا تھا۔

سیر أعلام النبلاء، مؤلف: محمد بن احمد بن عثمان بن قایماز ذہبی ابو عبد الله، ناشر: مؤسسہ رسالت - بیروت - 1413، نواں ایڈیشن، تحقیق: شعیب أرناؤوط, محمد نعیم عرقسوسی، ج 22، ص 128

"بغداد" میں وہابیوں کے چہیتے "احمد بن حنبل" کی مزار:

«ودفن ببغداد، وقبره مشهور معروف یتبرک به»

 احمد بن حنبل دفن ہیں اور ان کی قبر معروف اور لوگ اس سے متوسل ہوتے ہیں۔

تهذیب الأسماء واللغات، مؤلف: ابو زکریا محیی الدین یحیی بن شرف نووی (متوفی: 676 هـ) ناشر ،دار الکتب العلمیة، بیروت، ج 1، ص 112

احمد بن حنبل کی بعض کرامات!

"احمد بن حنبل" کا غصہ اور چینٹیوں کی نسل کا خاتمہ:

 ہمارے گھر میں اتنی زیادہ چیونٹیاں تھیں کہ انہوں نے میرے والد کا جینا حرام کر دیا تھا، جب بھی وہ ہلتے، چیٹیاں ان کو پریشان کرتی، میرے والد بہت پریشان ہو گئے، اسی وقت ہم نے دیکھا کہ ایک کالی چیٹی آئی اور اس نے ساری چیٹیوں کو کھا لیا، جب سے وہ کالی چیٹی آئی اس کے بعد سے ہمارے گھر میں چیٹیوں کی نسل ختم ہو گئی۔

"احمد بن حنبل" کا ہاتھ ہلانا اور ناک کا خون رک جانا:

«فقال له أبو عبد الله: أی شیءٍ حالک بنی؟ فقال: یا جدی هو ذا أموت, ادعُ الله لی»

پھر میرے والد نے کہا: بیٹے! کیا ہوا ہے؟ ایک آدمی نے کیا: یا جداہ میں مر رہا ہوں، میرے لئے دعا کرو۔

«ثم جعل یحرک یده کأنه یدعو له, فانقطع الدم وقد کانوا یئسوا منه, لأنه کان یرْعف دائمًا»

 احمد بن حنبل نے اپنا ہاتھ ہلایا اور کہتا ہے دعا کر رہے تھے، اسی وقت ناک سے خون کا بہنا رک گیا اور جب کہ تمام خاندان والے زندگی سے مایوس ہو چکے تھے۔

"احمد بن حنبل" کے قلم کی برکت سے نخلستان کے سارے درختوں کا پھل دینا:

«قال: دخلتُ یومًا علی أبی عبد الله وهو یملی علی, وأنا أکتب»

کہتا ہے: ایک دن میں احمد بن حنبل کے پاس گیا وہ مجھے املا بول رہے تھے اور میں لکھ رہا تھا

«فاندقّ قلمی, فأخذ قلمًا فأعطانیه, فجئت بالقلم إلی أبی علی الجعفری, فقلت: هذا قلم أبی عبد الله أعطانیه» 

اس سال نخلستان میں کھجور کے درختوں پر پھل نہیں آیا تھا اور لوگ بہت پریشان تھے، انہوں نے مجھ سے کہا: میرا قلم لے لو اور اس کو کھجور کے باغ میں لٹکا دو، «خُذ القلم فَضعه فی النَّخلة عسی تَحمل, فوضعه فی النَّخلة فحملت النَّخلة»

 جب ہم نے ان کے قلم کو باغ میں لٹکایا تو سارے درختوں پر پھول آ گئے اور اس سال ان پر کھجور لگے۔

"احمد بن حنبل" کی دعا سے بیس سال سے اپاہج بھوڑھی عورت کو شفا ملنا:

«قال: حدثنی علی بن أبی حرارة - جار لنا - کانت أمی مُقعدةٌ نحو عشرین سَنة, فقالت لی یومًا: اذهب إلی أحمد بن حنبل فَسلهُ أن یدعو الله لی» 

ایک شخص کہتا ہے: میری ماں بیس سال سے اپاہج تھی وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتی تھی۔ اس نے مجھ سے کہا: بیٹے احمد بن حنبل کے پاس جاؤ اور ان سے میرے لئے دعا کی درخواست کرو،

 «فَسرت إلیه فدققتُ علیه البابَ وهو فی دِهلیزه, فلم یفتح لی, وقال: مَن هذا؟ فقلت: أنا رجلٌ من أهل ذاک الجانب, سَألتنی أُمی - وهی زَمِنة مُقعَدة - أن أسألک أن تدعو الله لنا, فسمعتُ کلامه کلامَ رجلٍ مُغْضب» 

میں احمد بن حنبل کے پاس گیا، انہوں نے دروازہ کھولا اور کہا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں ہوں اور ان سے اپنی ماں کے لئے دعا کرنے کی درخواست کی۔ وہ بہت غصہ ہو گئے،

«فقال: نحن أحوجُ إلی أن تدعو الله لنا, فولیت منصرفًا؛ فَخرجت عجوزٌ من داره, فقالت: أنتَ الذی کلَّمت أبا عبد الله؟ قلتُ: نعم, قالت: قَد ترکتُه یدعو الله لها, قال: فجئت من فَوری إلی البیت,» 

جب میں ناامیدی کے ساتھ واپس پلٹ رہا تھا تبھی میں نے دیکھا کہ احمد بن حنبل کے گھر سے ایک بھوڑھی عورت باہر آئی اور اس نے کہا: تم نے احمد بن حنبل سے بات کی؟ میں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: مبارک ہو کہ احمد بن حنبل نے اپنے ہاتھوں کو دعا کے لئے اٹھا دیا۔ جلدی اپنے گھر جائو، اور جب میں گھر آیا اور دق الباب کیا، میں نے دیکھا کہ میری ماں جو بیس سال سے اپاہج تھی احمد بن حنبل کی دعا سے شفایاب ہو چکی تھی اور اس نے میرے لئے دروازہ کھولا۔

"احمد بن حنبل" کے توسل سے کالی اندھری رات روشن ہو گئی:

 «خرجتُ أنا وأبی فی لَیلة مُظلمة نزور أحمد, فاشتدَّت الظلمة, فقال أبی یا بُنی, تعال حتی نتوسَّل إلی الله تعالی بهذا العبد الصالح حَتی یضئ لنا الطریق» 

میں اور میرے والد ایک تاریک رات میں احمد بن حنبل کی قبر کی زیارت کے لئے جا رہے تھے، رات بہت اندھری تھی ہم راستہ بھٹک گئے، کوئی چارہ نظر نہیں آتا تھا، میرے والد نے کہا: بیٹا آو خدا کے نیک بندے احمد بن حنبل سے توسل کریں تاکہ ہم کو راستہ مل جائے،

«فإنی مُنذ ثلاثین سَنة ما توسَّلتُ به إلا قُضیت حاجَتی» 

کیوں کے آج تیس سال ہو گئے میں نے جب بھی احمد بن حنبل سے توسل کیا ہے میری حاجت پوری ہوئی ہے۔

 «فدعا أبی وأمَّنْتُ أنا علی دُعائه, فأضاءّت السماء کأنها لیلة مُقمرة حتی وَصلنا إلیه» 

اس تاریک رات میں ہم نے احمد بن حنبل سے توسل کیا، اسی وقت آسمان صاف ہو گیا، چاند نکل آیا اور ہم منزل پر پہونچ گئے۔

"منکر و نکیر" کا احمد بن حنبل سے سوال کرنے میں شرم محسوس کرنا:

«سمعت بنداراً محمد ابن بشار العبدی، یقول: رأیت أحمد بن حنبل فی المنام شبیه المغضب، فقلت: یا أبا عبد الله، أراک مغضباً» 

محمد بن بشار کہتا ہے: میں نے احمد بن حنبل کو خواب میں دیکھا کہ وہ بہت غصہ میں ہیں۔ میں نے ان سے سوال کیا: اے ابا عبد اللہ آپ غصہ میں کیوں ہیں؟

«فقال: وکیف لا أغضب وجاءنی منکر ونکیر یسألان: من ربک؟ فقلت لهما: ولمثلی یقال من ربک! فقالا لی: صدقت یا أبا عبد الله، ولکن بهذا أمرنا فاعذرنا» 

 کہا: میں غصہ کیوں نہ ہوں منکر و نکیر آ کر مجھ سے سوال کرتے ہیں: تمہارا خدا کون ہے؟ میں نے ان سے کہا: مجھ سے، احمد بن حنبل سے سوال کرتے ہو کہ تمہارا خدا کون ہے؟ منکر و نکیر نے سر جھکا لیا اور کہا: تم سچ کہتے ہو لیکن ہم کو حکم ہے اور ہم مجبور ہیں،

 «سمعت عبد الله بن أحمد، یقول: رأیت أبی فی المنام فقلت: ما فعل الله بک؟ قال: غفر لی»

 احمد بن حنبل کا بہٹا کہتا ہے: میں نے اپنے والد کو خواب میں دیکھا اور کہا: جب آپ قبر میں پہونچے تو کیا ہوا؟ کہا: خدا نے مجھ کو بخش دیا۔

«قلت: جاءک منکر ونکیر؟ قال: نعم! قالا لی: من ربک؟ قلت: سبحان الله، أما تستحیان منی؟! فقال لی: یا أبا عبد الله، اعذرنا بهذا أمرنا» 

میں نے پوچھا منکر و نکیر بھی آئے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں! مجھ سے پوچھا: تمہارا خدا کون ہے؟ میں نے کہا: سبحان اللہ، تمہیں مجھ سے یہ سوال کرتے ہوئے شرم نہیں آتی ہے؟ انہوں نے کہا: اے ابا عبد اللہ، ہم مامور اور مجبور ہیں۔

اللہ ہر سال "احمد بن حنبل" کی زیارت کو جاتا ہے:

«کان قد جاء فی بعض السنین مطر کثیر جداً قبل دخول رمضان بأیام، فنمت لیلة فی رمضان، فأریت فی منامی کأنی قد جئت علی عادتی إلی قبر الإمام أحمد بن حنبل أزوره، فرأیت قبره قد التصق بالأرض حتی بقی بینه وبین الأرض مقدار ساق أو ساقین»

 ایک سال رمضان سے پہلے بہت بارش ہوئی، میں سو رہا تھا، میں نے خواب میں دیکھا کہ میں احمد بن حنبل کی زیارت کے لئے ان کی قبر کے پاس آیا اور میں نے دیکھا کہ ان کی قبر کی سطح زمین سے ملی ہوئی ہے اور نصف ساق یا اس کے دو برابر سے زیادہ قبر میں کچھ نہیں بچا ہے۔

«فقلت: إنما تم هذا علی قبر الإمام أحمد من کثرة الغیث، فسمعته من القبر وهو یقول: لا بل هذا من هیبة الحق عز وجل،»

کہتا ہے: میں بہت پریشان ہو گیا کہ بارش نے احمد بن حنبل کی قبر کو خراب کر دیا ہے، لیکن میں نے سنا قبر سے ایک آواز آئی: نہیں بارش کی وجہ سے میری قبر خراب نہیں ہوئی ہے، بلکہ خدا کی عظمت کے سامنے میری قبر خراب ہوکر زمین میں دھنس گئی ہے،

«لأنه عز وجل قد زارنی»

کیوں کہ خدا ایک دن میری زیارت کو آیا تھا۔

مناقب الإمام أحمد، مؤلف: جمال الدین ابو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد جوزی (متوفی: 597 هـ)، محقق: د. عبد الله بن عبد المحسن ترکی، ناشر: دار ہجر، دوسرا ایڈیشن، 1409 هـ، ج 1، ص 607 و 608، الباب الثانی والتسعُون

آیہ تطہیر اور پیغمبر کی بیویاں!

«فَقُلْنَا من أَهْلُ بَیتِهِ نِسَاؤُهُ» 

ان لوگوں نے پوچھا: کیا نبی کی بیویاں ان کے اہلبیت میں شامل ہیں؟

قال لَا وأیم اللَّهِ إِنَّ الْمَرْأَةَ تَکونُ مع الرَّجُلِ الْعَصْرَ من الدَّهْرِ ثُمَّ یطَلِّقُهَا فَتَرْجِعُ إلی أَبِیهَا» 

کہا: نہیں اور خدا کی قسم ایک عورت ایک طویل مدت تک ایک آدمی کے ساتھ زندگی گزارتی ہے اور طلاق لے کر اپنے باپ کے گھر چلی جاتی ہے

صحیح مسلم، مؤلف: مسلم بن حجاج ابو الحسین القشیری نیشاپوری، ناشر: دار إحیاء التراث العربی - بیروت، تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی، ج 4، ص 1874، ح 2408

اسی طرح امام "نووی" "شرح صحیح مسلم" میں کہتے ہیں:

«والمعروف فی معظم الروایات فی غیر مسلم أنه قال نساؤه لسن من أهل بیته» 

صحیح مسلم کے علاوہ اکثر روایات میں پیغمبر کی بیویاں اہلبیت کا جز نہیں قرار پائی ہیں۔

 شرح صحیح مسلم، مصنف: نووی، جلد: 15، وفات: 676، رده: مصادر حدیث سنی – فقه، خطی: خیر، سال نشر: 1407 - 1987 م، ناشر: دار الکتاب العربی - بیروت – لبنان، ج 15، ص 180، باب من فضائل علی بن أبی طالب رضی الله عنه

وہابی متفکر "آلوسی" "روح المعانی" کی ۲۲ ویں جلد میں صراحت کے ساتھ لکھتے ہیں:

«أن النساء المطهرات غیر داخلات فی أهل البیت الذین هم أحد الثقلین»

 پیغمر کی ازواج پاک، اس اہلبیت میں جو ثقلین کا ایک جز ہے، شامل نہیں ہیں۔

روح المعانی؛ شهاب الدین سید محمود آلوسی، بغدادی، ناشر دار احیاء التراث العربی، بیروت، ج 22، ص 16

"ابو جعفر طحاوی" کی کتاب "شرح مشکل الآثار" میں ام سلمہ سے اسی مضمون کی ایک روایت نقل ہوئی ہے:

 «فقالت أَنْزَلَ اللَّهُ هذه الآیةَ إنَّمَا یرِیدُ اللَّهُ إلَی آخِرِهَا وما فی الْبَیتِ إِلاَّ جِبْرِیلُ وَرَسُولُ اللهِ وَعَلِی وَفَاطِمَةُ وَحَسَنٌ وَحُسَینٌ علیهم السلام» 

جب آیہ (إنَّمَا یرِیدُ اللَّهُ) میرے گھر میں نازل ہوئی، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، امیر المومنین علیہ السلام فاطمہ سلام اللہ علیھا اور حسن و حسین علیھم السلام موجود تھے۔

«فَقُلْت یا رَسُولَ اللهِ أنا من أَهْلِ الْبَیتِ»

 میں نے کیا یا رسول اللہ کیا میں بھی اہلبیت میں سے ہوں آنحضرت نے

 «فقال إنَّ لَک عِنْدَ اللهِ خَیرًا»

 فرمایا: تم خیر پر ہو،

 فَوَدِدْتُ أَنَّهُ قال نعم فَکانَ أَحَبَّ إلَی مِمَّا تَطْلُعُ علیه الشَّمْسُ وَتَغْرُبُ» 

میں چاہتی تھی کہ کاش پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کہ دیتے کہ تم بھی اہلیبت کا جز ہو، اور ہاں اگر وہ یہ کہہ دیتے تو وہ میرے لئے ہر اس چیز سے زیادہ قیمتی ہوتا جس پر سورج اپنی روشنی بکھیرتا ہے۔

شرح مشکل الآثار، مؤلف: ابو جعفر أحمد بن محمد بن سلامہ طحاوی، ناشر: مؤسسہ رسالت - لبنان/ بیروت - 1408 هـ - 1987 م، پہلا ایڈیشن، تحقیق: شعیب ارنؤوط، ج 2، ص 244

"تفسیر این کثیر دمشقی" میں عائشہ سے ایک روایت نقل کرتے ہیں اور لکھتے ہیں:

 «فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَ أَنَا مِنْ أَهْلِ بَيْتِكَ»

 میں نے کہا: یا رسول اللہ کیا میں بھی اہلیبیت میں سے ہوں؟

 «فَقَالَ: تَنَحَّيْ فَإِنَّكِ عَلَى خَيْر» 

پیغمبر اسلام نے فرمایا: نہیں، میرے اہلبیت سے دور ہو جاؤ۔

تفسیر القرآن العظیم، مؤلف: اسماعیل بن عمر بن کثیر دمشقی ابو الفداء، ناشر: دار الفکر - بیروت – 1401، ج 3، ص 486، ح 296

عائشہ کہتی ہیں: میں اہلبیت میں سے نہیں ہوں، ام سلمہ کہتی ہیں: میں اہلبیت میں سے نہیں ہوں، لیکن یہ وہابی زبردستی یہ کہہ رہے ہیں کہ: "یہ افراد اہلبیت میں سے ہیں"

الحمدلله الذی جعلنا من المتمسکین بولایة مولانا امیرالمؤمنین و الأئمة المعصومین (علیهم السلام).

صلوات اور سلام ہو صاحبان عرش و زمیں کا حضرت محمد مصطفی اور آپ کے اہلبیت اطہار کی ذوات مقدسہ پر، اور سلام ہو "ولایت چینل" کے تمام محترم شائقین اور لائیو پروگرام "حبل المتین" میں ہماری ہمراہی کرنے والوں کی خدمت میں۔

عزیز شائقین ابھی اپنا موبائل اٹھائیں اور ہمیں اس ام اس کرین۔ آج رات بھی ہم استاد محترم حضرت آیت اللہ دکتر حسینی قزوینی کے حضور میں موجود ہیں،

استاد سلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

آیت الله دکتر حسینی قزوینی:

سلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ میں بھی اس دنیا کے گوشے گوشے میں رہنے والے اس پروگارم کے تمام عزیز و گرامی شائقین جنہوں نے اپنے گھر، خاندان کے صاف اور محبت سے بھرے ہوئے ماحول میں ہم کو مہمان بنایا کی خدمت میں ترقی اور عروج کی آرزو کے ساتھ سلام عرض کرتا ہوں۔

خدایا تجھے واسطہ ہے محمد و آل محمد کا ہمارے آقا و مولا حضرت بقیۃ اللہ الاعظم (ارواحنا له فداه) کے ظہور میں تعجیل فرما، تمام پریشان حالوں کی پریشانیاں دور فرما، ہمارے اور آپ عزیزوں کے فکری خدشات کو زائل فرما، ہماری حاجات کو برآوردہ کر اور ہماری دعاوں کو شرف قبولیت سے نواز۔ ان شاء اللہ۔

مجری:

میں بہت شکر گزار ہوں کہ استاد پروگرام کی انتہا کے ساتھ ساتھ پروگرام کی ابتدا میں بھی ہمارے اور آپ کے لئے دعا کرتے ہیں۔

اسی طرح میں اپنے ان عزیزوں کا بھی شکر گزار ہوں جو اس وقت اسٹوڈیوں میں موجود ہیں اور اس لائیو پرگرام "حبل المتین" کے تہیہ و تنظیم اور اس کے "ولایت چینل" کے انٹینا پر پہونچانے میں مدد کرتے ہیں۔

استاد، ہم نے اپنے پچھلے پروگرام میں ائمہ معصومین علیھم السلام کے مزار مقدسہ کے سلسلے میں وہابیت کے نجس اور منحوس تفکرات کے بارے مین بات چیت کی، وہ شیعوں کی مقدسات کے بارے میں مختلف رد عمل دکھاتے ہیں کیوں کہ وہ ان کو دیکھنے کی قوت نہیں رکھتے ہیں۔

استاد، آپ نے پچھلے پروگرام مین اہل سنت کے دانشورں اور علماء کے نظریات بیان فرمائے، اسی کے ساتھ آپ نے وہابیت کے تفکرات کو بھی بیان فرمایا، ہم اس پروگرام میں جاننا چاہتے ہیں کہ ائمہ علیھم السلام کے مزار مقدسہ کے متعلق اہل سنت کے بزرگوں کی کیا سیرت تھی؟!

کیا بزرگان اہل سنت بھی ائمہ طاہرین علیھم السلام کے روضوں پر مشرف ہوتے تھے اور ان مقدس مقامات کا احترام کرتے تھے؟! اس بارے میں وضاحت فرمائیں۔

گذشتہ پروگرام کا خلاصہ

آیت الله دکتر حسینی قزوینی:

اعوذ بالله من الشیطان الرجیم بسم الله الرحمن الرحیم و به نستعین و هو خیر ناصر و معین الحمد الله و الصلوة علی رسول الله و علی آله آل الله لا سیما علی مولانا بقیة الله و اللعن الدائم علی اعدائهم اعداء الله الی یوم لقاء الله افوض امری الی الله ان الله بصیر بالعباد حسبنا الله و نعم الوکیل نعم المولی و نعم النصیر.

ہم نے پچھلے پروگراموں مین تفصیل کے ساتھ انبیاء، اولیاء کی قبروں کے انہدام حتی ان عظیم ہستیوں کی نبش قبر اور ان کی ہڈیوں یا بقایات کے نکالے جانے کے بارے میں تکفیری وہابی فتوں کے بارے میں بحث و گفتگو کی۔

ہم نے بیان کیا کہ وہابیت اہل بیت کے ساتھ اپنے دیرینہ کینہ اور عداوت کی وجہ سے اس طرح کے فتوے صادر کرتی ہے ورنہ خود مکہ مکرمہ اور بیت اللہ الحرام کے پاس تین سو کے قریب بزرگ انبیاء کی قبریں موجد ہیں لیکن وہابیت بیت اللہ الحرام کے پاس موجود انبیاء کی قبروں یا پھر اہل سنت کے بزرگوں کے مزاروں کے متعلق کوئی رد عمل ظاہر نہیں کرتی ہے، اور اب تک انہوں نے اس بارے میں زبان نہیں کھولی ہے اور اہل سنت کے بزرگوں کے مزاروں کے سلسلے میں بھی کوئی اظہار نظر نہیں کیا ہے۔

وہابیت کے نجس وجود کا مقصد صرف اہل بیت عصمت و تہارت کے آثار کا مٹانا رہا تھا اور ہے، ان کے فتوے قرآن کے مخالف ہیں۔ ہم نے سورہ نور کی ۳۶ ویں آیت کو آپ کے سامنے پیش کیا جس میں خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے:

(فی بُیوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَ یذْکرَ فیها اسْمُه)

جب گھروں میں خدا نے اجازت دی ہے ہمیشہ محترم اور باعظمت ہوں۔

سوره نور (24): آیه 36

ہم نے بیاتا کہ (بُیوتٍ) سے مراد نبیوں کا گھر از جملہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا اور امیر المومنین علی علیہ السلام کا گھر ہے جو تمام گھروں سے افضل اور اشرف ہے، اور (تُرْفَعَ) سے مراد چاہے اس کا کوئی بھی معنی لے لیں اس میں روضہ اور بارگاہ بنانے کے معنی شامل ہیں۔

اس کے بعد ہم نے سورہ کہف کی ۲۱ ویں آیت پڑھا اور بتایا کہ خداوند عالم یہاں پر صراحت کے ساتھ کہتا ہے:

(الَّذِینَ غَلَبُوا عَلی أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیهِمْ مَسْجِدا)

اور جن لوگوں نے ان کے متعلق غلبہ حاصل کر لیا تھا، نے کہا ان کی غار پر عبادت گاہ بنائیں گے۔

سوره کهف (18): آیه 21

اس آیہ مبارکہ میں خداوند عالم نے اس بات کو مسترد نہیں کیا ہے، بلکہ سورہ کہف کی 13 ویں آیت میں اس داستان کو داستان حق کے عنوان سے بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے:

 (نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیک نَبَأَهُمْ بِالْحَقِّ إِنَّهُمْ فِتْیةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْناهُمْ هُدی)

ہم آپ کو ان کے واقعات بالکل سچے سچے بتارہے ہیں-یہ چند جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کردیا تھا۔

سوره کهف (18): آیه 13

اسی طرح سے ہم نے اہل سنت کے بزرگ عالم مفسر "زمخشری" کے قول سے بیان کیا کہ وہ کہتے ہیں:

«{لَنَتَّخِذَنَّ} علی باب الکهف {مَّسْجِدًا} یصلی فیه المسلمون ویتبرکون بمکانهم»

ہم اصحان کہف کی قبر پر ایک مسجد بنانا چاہتے ہیں تا کہ مسلمان وہاں آئیں اور نماز پڑھیں اور اصحاب کہف کی مزلت سے متبرک ہوں

الکشاف عن حقائق التنزیل وعیون الاقاویل فی وجوه التاویل، ابو القاسم محمود بن عمر، زمخشری، تحقیق عبد الرزاق مهدی، ناشر دار إحیاء التراث العربی، ج 2، ص 665

اس کے بعد پیغمبر اسلام (صلی الله علیه و آله وسلم) کے حرم مطہر کے بارے میں بحث کی کہ عائشہ وہاں نماز پڑھا کرتی تھیں اور اگر قبروں کے پاس نماز پڑھنے میں کوئی شرعی مشکل ہے تو ان وہابی حضرات کو سب سے پہلے ام المومنین عائشہ کی تنقید کرنا چاہئیے۔

اسی طرح سے ہم نے بیان کیا کہ وہ دیوار جو عائشہ کے گھر اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قبر کے بیچ حائل تھی اور کو پہلے خود عائشہ اور اسے کے بعد یا پہلے دوسرے خلیفہ کے توسط سے بنایا گیا تا کہ نبی اکرم کی قبر محفوظ رہے۔

اسلام کے ۱۰۰ سال بیت جانے کے بعد "عمر بن عبد العزیز" کے دور میں عائشہ کے حجرہ جس کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ پیغمبر کی قبر اسی میں ہے کو منہدم کر دیا گیا اور اب وہ مسجد النبی میں تبدیل ہو گیا ہے۔

آج ساری دنیا سے مسلمان اس مقدس مقام کی زیارت کے لئے آتے ہیں اور وہاں نماز پڑھتے ہیں، اور خود وہابی بھی وہاں نماز پڑھتے ہیں جس کے بغل میں روضہ مبارک اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، شہزادی کونین صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہرا اور شیخین کی قبر ہے۔

اگر واقعاً خواندن نماز در کنار قبر اشکال دارد آیا این عقیده شامل خود حضرات وهابیت هم می‌شود یا تنها شامل حال شیعیان می‌شود؟!

اگر واقعاْ قبر کے پاس نماز پڑھنے میں اشکال ہے، تو کیا یہ عقیدہ خود وہابیوں کے شامل حال ہوتا ہے یا یہ عقیدہ صرف شیعوں کے لئے ہی انہوں نے بنا رکھا ہے؟!

اہل سنت کے بزرگان اور ائمہ کے روضوں کا احترام:

وہ سوال جو آپ نے بیان کیا، اولاْ: ان لوگوں نے مکمل طور سے ایک مسئلہ کو بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ امیر المومنین علی علیہ السلام کی قبر ہارون رشید کے ذریعہ بنائی گئی۔

قبر امیر المومنین سلام اللہ علیہ کے متعلق ہارون رشید کا احترام کرنا:

" عمدة الطالب فی أنساب آل أبی طالب " کے صفحہ ۶۲ پر ایک روایت ہے جس میں کہا گیا ہے:

ہارون رشید شکار کے لئے گیا تھا، اس نے شکاری کتے کو ایک ہرن کے پیچھے لگایا، اس نے دیکھا کہ ہرن اور پرندے ایک مقام پر جمع ہو جاتے ہیں کہ جہاں شکاری کتا نہیں جا سکتا۔

دوبارہ ان کے وہاں سے ہٹتے ہی شکاری کتے ان کا پیچھا کرتے ہین اور وہ دوبارہ بھاگ کر ایک ایسے مقام پر چلے جاتے ہیں جہاں کتوں کے جانے کی جرئت نہیں ہوتی ہے، یہ دیکھ کر ہارون متعجب رہ جاتا ہے، کہ آخر وجہ کیا ہے؟

«فتعجب الرشید من ذلک ورجع إلی الکوفة وطلب من له علم بذلک»

ہارون رشید اس قضیہ سے آگاہی رکھنے والے لوگوں کو بلاتا ہے اور پوچھتا ہے: قصہ کیا ہے

«فأخبره بعض شیوخ الکوفة أنه قبر أمیر المؤمنین علی علیه السلام»

کوفہ کے بعض علماء نے کہا: وہاں امیر المومنین علی علیہ السلام کی قبر ہے

وہابی شیطانی چینلوں کے ماہرین کی آنکھیں اندھی ہو جائیں، یہ روایت اہل سنت کے مورخ "ان عنبہ" نے لکھی ہے اور کسی نے بھی "ابن عنبہ" کے شیعہ ہونے کا دعوا نہیں کیا ہے اور یہ مطلب ثابت ہو چکا ہے۔

اسی طرح سے شیعہ اور سنی منابع میں آیا ہے کہ ہارون رشید کے زمانے تک امیر المومنین علی علیہ السلام کی قبر کے مخفی رہنے کی علت یہ تھی کہ شیطانی اور خوارج نیٹ ورک کے اجداد امیر المومنین علی علیہ السلام کی قبر مطہر کو نبش کر کے ان کے جسد اقدس کی بے حرمتی کرنا چاہتے تھے۔

پھر کہتاہے: جب اس کو یہ خبر دی گئی کہ یہاں پر امیر المومنین علی علیہ السلام کی قبر ہے تب وہ قبر کے پاس گئے اور گفتگو کی پھر

«ثم إن هارون أمر فبنی علیه قبة»

ہارون رشید نے حکم دیا اور امیر المومنین علی علیہ السلام کی قبر مطہر پر گنبد بنائی گئی۔

اولاْ: اس چیز کو ہارون رشید نے کشف کیا تھا اور جس نے سب سے پہلی بار اس پر گنبد اور تعمیرات انجام دیں وہ ہارون رشید تھا۔

«وأخذ الناس فی زیارته والدفن لموتاهم حوله»

لوگ اس کے بعد امیر المومنین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کو جایا کرتے تھے اور امیر المومنین علیہ السلام کے روضہ مبارک سے تبرک کے کے طور پر اپنے مردوں کو وہان دفن کیا کرتے تھے۔

عمدة الطالب فی أنساب آل أبی طالب، احمد بن علی حسینی (ابن عنبة)، ص 62

اس بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ روضوں کی تعمیرات کی بنیاد شیعوں نے نہیں رکھی تھی، بلکہ "بنی عباس" جن کے آپ شیدائی ہیں اور اس کے بعد "بنی امیہ" جن کے دفاع کا آپ دم بھرتے ہیں نے اس کی بنیاد رکھی تھی۔

امام کاظم سلام اللہ علیہ کے حرم کے بارے میں "ابن خلقان" کا توصیف کرنا:

"ابن خلقان" جن کی وفات ۶۸۱ ہے اور جنہوں نے آٹھویں اور نویں ہجری میں وفات پائی ہے اپنی کتاب "وفیات الاعیان" میں امام موسی کاظم علیہ السلام کے بارے میں اس طرح لکھتے ہیں:

«توفی فی الحبس ودفن فی مقابر الشونیزیین خارج القبة، وقبره هناک مشهور یزار»

آپ قید کی حالت میں ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور شونیزین قبرستان میں دفن ہوئے اور ان کی قبر آج معروف اور زیارت کا مقام ہے۔

پھر امام کاظم علیہ السلام کے روضہ مبارک کی توصیف کرتے ہوئے کہتے ہیں:

«وعلیه مشهد عظیم فیه قنادیل الذهب والفضة وأنواع الآلات والفرش ما لا یحد»

امام کاظم کے مبارک روضہ پر گنبد اور بارگاہ تھی اور سونے و چاندی کی قندیلیں وہاں لٹکی ہوئی تھی اور مختلف قسم کے بیش قیمت فرش بچھے ہوئے تھے۔

وفیات الأعیان؛ ابو العباس شمس الدین احمد بن محمد ابن خلکان (متوفی: 681 هـ)، محقق: احسان عباس، ناشر: دار صادر – بیروت، ج 5، ص 310

یہ بالکل واضح بات ہے۔

امام کاظم کے روضہ سے "ابو علی خلال" کا توسل کرنا:

اہل سنت کے بزرگوں کا ائمہ طاہرین علیھم السلام کے حرموں کے سلسلے میں کیا سیرت تھی اس کے لئے آپ کو پانچویں صدی ہجری میں 463 میں وفات پانے والے "خطیب بغدادی" کی کتاب "تاریخ بغدادی" کا مطالعہ کرنا چاہئیے۔

وہ اہل سنت کے ایک بزرگ عالم "ابو علی خلال" کے قول سے نقل کرتے ہیں:

«ما همنی أمر فقصدت قبر موسی بن جعفر فتوسلت به الا سهل الله تعالی لی ما أحب»

جب بھی مجھے کوئی مشکل پیش آتی میں موسی بن جعفر اور امام کاظم کی قبر کے پاس جاتا اور ان سے متوسل ہوتا اور میری مشکل حل ہو جاتی تھی۔

تاریخ بغداد، مؤلف: احمد بن علی ابو بکر، خطیب بغدادی، ناشر: دار الکتب العلمیة - بیروت، ج 1، ص 120، باب ما ذکر فی مقابر بغداد المخصوصة بالعلماء والزهاد

وہابی نقطہ نظر سے یہ سارے افراد مشرک اور مہدور الدم ہیں، جیسا کہ "محمد بن عبد الوہاب" جس کے بارے میں "ابن تیمیہ" کے بزرگ تابعین کے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس کا نطفہ شیطانی نطفہ تھا کہتا ہے:

«مَن جَعَل بَینَه وبَین الله وَسائِط یَدعُوهم أنّه کافرٌ مُرتدٌّ حَلالُ المالِ والدَّم»

جو بھی اپنے اور خدا کے بیچ کسی کو واسطہ بنائے کافر اور مرتد ہے اور اس کا قتل واجب ہے اور اس کے اموال میں تصرف لازم ہے۔

مؤلفات محمد بن عبد الوهاب، ناشر: جامعة الامام محمد بن سعود - ریاض، تحقیق: عبد العزیز زید رومی، ج 1، ص 147، فصل 4 الرسالة الحادیة والعشرون

مجری:

استاد، "تاریخ مدینۃ الاسلام" صحیح تھا کہ آپ نے فرمایا "تاریخ مدینہ دمشق"؟!

آیت الله دکتر حسینی قزوینی:

"تاریخ دمشق" ہے جس کو "مدینۃ السلام" لکھا ہے اور کچھ مطبوعات میں اس کو "تاریخ بغدادی" لکھا گیا ہے۔ "تاریخ بغدادی" ہی "تاریخ مدینۃ السلام" ہے اور "سلام" سے مراد "بغداد" ہے۔

اسی طرح اہل سنت کے بزرگ متعصب عالم دین "ابن جوزی" متوفی ۵۹۷ اپنی کتاب "المنتظم" کی جلد نمبر ۹ پر صراحت سے لکھتے ہیں:

«إبراهیم الخلال یقول ما أهمنی أمر فقصدت قبر موسی بن جعفر فتوسلت به إلا سهل الله لی ما أحب»

ابراہیم خلال کہتاہے: جب بھی مجھے کوئی مشکل پیش آتی میں موسی بن جعفر کی قبر کے پاس جاتا اور ان سے متوسل ہوتا اور میری مشکل حل ہو جایا کرتی تھی۔

المنتظم فی تاریخ الملوک والأمم، مؤلف: عبد الرحمن بن علی بن محمد بن جوزی ابو الفرج، ناشر: دار صادر - بیروت - 1358، پہلا ایڈیشن ج 9، ص 89، ح 997

وہابی ماہرین جو یہ کہتے ہیں کہ: "مردوں اور اس دنیا کے بیچ کوئی ارتباط نہیں ہے، وہ ہماری آواز سنتے ہیں اور نہ ہی ہماری کوئی مشکل حل کر سکتے ہیں" ان روایات کا جواب دیں

"خطیب بغدادی" اور "ابن جوزی" کسی نے بھی یہ نہیں کہا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے، "ابراہیم خلال" کافر، مشرک اور مرتد تھا، روایت قرآن کے مخالف ہے، یا اسی طرح کا کوئی اور بے بنیاد بات جو آج شیطانی وہابی چینلوں کے ماہرین مطرح کر رہے ہیں!

حرم امام رضا کے مقابل "ابن خزیمہ" کی تعظیم و تکریم کرنا:

"ابن حبان" "تہذیت التہذیب" کی ساتویں جلد میں اہل سنت کے بزرگ عالم دین "ابن خزیمہ" کے بارے میں کہتے ہیں:

«خرجنا مع إمام أهل الحدیث أبی بکر بن خزیمة»

اہل حدیث کے امام ابی بکر بن خزیمہ کے ساتھ باہر نکلے۔

"احمد بن حنبل" یا وہابی عمداْ اپنے آپ کو "اہل حدیث" اور "احمد بن حنبل" کا تابع بتاتے ہین؛ پھر کہتا ہے

«وعدیله أبی علی الثقفی مع جماعة من مشائخنا وهم إذ ذاک متوافرون إلی زیارة قبر علی بن موسی الرضی بطوس»

اور ان کے عدل ابو علی ثقفی اور بزرگوں کی ایک جماعت ساتھ طوس میں امام رضا کی قبر پر جایا کرتے تھے

«قال فرأیت من تعظیمه یعنی بن خزیمة لتلک البقعة وتواضعه لها وتضرعه عندها ما تحیرنا»

کہتا ہے: میں نے دیکھا ابن خزیمہ ان گنبد کی اتنی زیادہ تعظیم و تکریم کرتا ہے اور اس توضع و تضرع کا اظہار کرتا ہے کہ ہم حیرت میں پڑ گئے۔

تهذیب التهذیب، مؤلف: احمد بن علی بن حجر ابو الفضل عسقلانی شافعی، ناشر: دار الفکر - بیروت - 1404 - 1984، پہلا ایڈیشن، ج 7، ص 339، ح 627

اگر گنبد بنانا اور قبروں پر تعمیرات کرنا خلاف شرع اور حرام ہے، تو اہل حدیث کے امام کیسے اس گنبد کے سامنے تواضع، تضرع اور تعظیم کا اظہار کر رہے ہیں؟! وہابیوں کے فتوے کے مطابق یہ بھی یقیناْ کافر، مرتد اور مہدور الدم ہے!!

ہمیں نہیں پتا کہ "ابن خزیمہ" کی قبر کہاں ہے تا کہ اس کے متعلق وہابیت کا رد عمل دیکھتے اور دیکھتے کے یہ کیسے ان کی قبر کے غنائم پر تصرف کرتے ہیں۔

"ابن حبان" کا امام رضا کے حرم کی مکرر زیارت اور آپ سے توسل کرنا:

اہل سنت کے بزرگ عالم دین "ابن حبان" متوفی 354 جو تیسری اور چوتھی صدی ہجری کی بزرگ شخصیات میں سے ہیں، جنہوں نے "المجروحین" اور "الثقات" جیسی کتابیں لکھیں ہیں، وہ جب امام رضا علیہ السلام کے احوال کے بارے میں لکھنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں:

«وقبره بسناباذ خارج النوقان مشهور یزار بجنب قبر الرشید»

امام رضا کی قبر ہارون رشید کی قبر کے پاس موجود ہے۔

اس سے پہلے کہ امام رضا کو وہاں دفن کیا جائے ہارون رشید کی قبر پر گنبد اور بارگاہ موجود تھی، اور آٹھویں امام کی طوس آمد سے پہلے اطلاع موجود نہیں ہے کہ اصلاْ وہاں شیعوں کا وجود بھی تھا یا نہیں؛ کیوں کہ آٹھویں امام کے قدوم مبارک کی برکت سے تشیع ایران کے شہروں میں پہونچا ہے!

۸۰ اور ۹۰ ہجری میں جب "حجاج بن یوسف ثقفی" [لعنت اللہ علیہ] نے کوفہ میں شیعوں کا جینا دوبھر کر دیا تو "اشعری" وہاں سے بھاگ کر قم آ گئے لیکن قم میں بھی وہ پردیسی اور تنہا تھے۔

جب حضرت معصومہ قم تشریف لاتی ہیں تو قم کے اطراف کے شہر جیسے ساوہ، آوہ وغیرہ نہ صرف یہ کہ شیعہ نہین تھی؛ بلکہ ناصبی تھے!! ان لوگوں نے حضرت معصومہ کے بہت سے قریبیوں کو ساوہ یا آوہ میں ان کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دیا اور آپ قم چلی گئی۔

اس بنا پر امام رضا کے طوس آنے سے پہلے ہمارے پاس کوئی بھی ایسی دلیل نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ حتی وہاں ایک بھی شیعہ رہتا تھا؛ کیوں کہ وہ بنی عباس کی حکومت کا مرکز تھا، تو اب سوال یہ ہے کہ ہارون رشید کی قبر پر گنبد کس نے بنایا؟! شیعوں نے بنایا تھا یا اہل سنت نے؟!

ہارون رشید کی گنبد اور بارگاہ کو تابعین اور اتباع تابعین کے تعمیر کیا تھا!!!

ہمارا عقیدہ ہے کہ امام رضا کے وہاں دفن ہونے کے ساتھ ہی ہارون رشد کو جہنم میں پہونچا دیا گیا ہوگا اور وہ وہاں اپنے ظلم و بربریت کے سبب جل رہا ہوگا؛ کیوں کہ ہارون رشید اور اس کے اولاد جیسے مامون نے تاریخ میں بہت سی جنایتیں انجام دی ہیں۔

"ابن حبان" آگے کہتے ہیں:

«قد زرته مرارا کثیرة»

میں نے امام رضا کی مکرر زیارت کی ہے۔

«وما حلت بی شدة فی وقت مقامی بطوس فزرت قبر علی بن موسی الرضا صلوات الله علی جده وعلیه ودعوت الله إزالتها عنی إلا أستجیب لی وزالت عنی تلک الشدة»

جب میں طوس میں رہتا تھا تو جب بھی مجھے کوئی بڑی مشکل پیش آتی تو امام رضا کی قبر پر چلا جاتا اور ان سے توسل کرتا اور میری مشکل حل ہو جایا کرتی اور میری دعا مستجاب ہو جایا کرتی تھی۔

«وهذا شیء جربته مرارا فوجدته کذلک»

میں نے اس کا کئی بار تجربہ کیا ہے اور اس کا نتیجہ دیکھا ہے۔

الثقات، مؤلف: محمد بن حبان بن احمد ابو حاتم تمیمی بستی، ناشر: دار الفکر - 1395 - 1975، پہلا ایڈیشن، تحقیق: سید شرف الدین أحمد، ج 8، ص 457، ح 14411

مجھے نہیں پتہ کہ وہابی چینلوں کے ماہرین ان مطالب کو پڑھنا جانتے ہیں یا نہین یا پھر انہوں نے اس طرح کے مطالب کو پڑھنے کو حرام کر رکھا ہے؟!

یہ "بے عقل" جسکی سمجھ ایک جانور سے زیادہ نہیں ہے، اگر اس زمانے میں ہوتا تو کہتا: "گائے کو پوجنے والے بھی گائے سے توسل کرتے ہیں اور ان کی آرزو پوری ہو جاتی ہے!" مجھے نہیں پتا اس کے اندر کس قسم کی عقل ہے!

مکہ کے مشرکین پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ہزاروں معجزہ دیکھنے کے بعد بھی کہتے تھے: "یہ سحر ہے!" لیکن یہ آدمی اس کو سحر نہیں کہتا ہے بلکہ کہتا ہے کہ: گائے کو پوجنے والے بھی اسی شکل میں گائے سے توسل کرتے ہیں اور مراد پاتے ہیں!! ہمیں ان وہابیوں اور گائے پرستوں کے بیچ کا ارتباط سمجھ میں نہیں آیا!

اہل سنت کے بزرگوں اور علماء دین کی سیرت ائمہ طاہرین علیھم السلام کے روضوں کے متعلق کیا اس طرح کی تھی [جیسا وہابی دکھا رہے ہیں] ہوشیار رہیں کہیں وہابیت آپ کے دین اور دنیا کو خراب نہ کر دے؛ اگر ان لوگوں نے آپ کے دین کو خراب کر دیا تو یقینا آپ کی آخرت بھی خراب کر دیں گے اور یقین جانئیے آپ اس آیت

(خَسِرَ الدُّنْیا وَ الْآخِرَةَ)

یہی لوگ دنیا اور آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہیں۔

سوره حج (22): آیه 11

کی روشن مثال ہو گئے ہیں! خدا کی قسم وہابیت سے کسی کو نہ فایدہ ملا ہے اور نہ ملے گا۔ ان لوگوں کے پاس شیطانی تفکر کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور ان کے ہاتھو میں بھی کچھ نہیں ہے، مناظروں سے یہ بھاگتے ہیں؛ کیوں کہ ان کو پتہ ہے کہ پہلے ہی مناظرہ میں رسوا ہو جائیں گے!!

میں 1382 میں سعودی عرب کے مفتی اعظم "آل شیخ" سے ملاقات اور ان سے بحث سے پہلے یہی سوچتا تھا کہ جو لوگ علم کے نچلے مرحلہ پر ہیں جیسے اساتید وہ علمی مباحث پر زیادہ مسلط نہیں ہیں جیسے ہمارے اساتید بھی بہت مسلط نہیں ہیں۔

لیکن جب میں نے ان سے بات کرنی شروع کی تو میری سمجھ میں آیا کہ وہابیت صرف ایک خالی ڈھول ہے اور کچھ نہیں!!

وہابیت مناظروں سے ڈرتی ہے اور جو بھی وہاں جاتا ہے اور جیسے ہی ان کو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ یہ تھوڑا سا بھی قرآن، روایات اور سنت پر مسلط ہے فورا اس کا فون کاٹ دیتے ہیں؛ لیکن جو کم علم ہوتا ہے اور جس کا ان چیزوں پر تسلط نہیں ہوتا ہے اس کے بارے میں کہتے ہیں: یہ حجۃ الاسلام اور آیت اللہ تھا!

وہابیت نے ایک شخص کو خود تیار کیا اور اس کے بارے میں یہ افواہ پھیلائی کہ یہ شخص قم میں حجت الاسلام تھا اور مدرسہ فیضیہ میں اس نے آیت اللھی کا مقام حاصل کیا ہے۔ لیکن ہنسی کی بات تو یہ ہے کہ جب اس جعلی آیت اللہ کو غسل دے رہے تھے تو اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں اور ان کی ساری عزت مٹی میں مل گئی!!

یہ اہل سنت کے بزرگوں کی ائمہ طاہرین علیھم السلام کے روضوں کے سلسلہ میں جو سیرت تھی اس کا ایک نمونہ تھا، اگر ہم اس طرح کے اور نمونہ بیان کرنا چاہیں تو ہمارے پاس اہل سنت کے علماء اور بزرگان کی ائمہ طاہرین علیھم السلام کی قبور سے توسل پر مبنی بہت سی روایات موجود ہیں۔

ائمہ سے توسل کا موضوع اہل سنت کی معتبر ترین کتب از جملہ "تاریخ اسلام" میں موجود ہے، "دکتر ذہبی" نے اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ ان کے بزرگوں کے توسط سے انجام پانے والے توسل اور اس سے مراد پانے کے بارے میں بیان کیا ہے۔

مجری:

اس کے نمونہ ہم دور معاصر میں بھی دیکھتے ہیں؛ کہ جب ہم امام رضا علیہ السلام یا حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا کی زیارت کو جاتے ہیں تو وہان اہل سنت کے علماء اور بزرگان جو ہمارے چینل پر بھی آ چکے ہیں کو دیکھتے ہیں جو ان روضوں پر حاضری دیتے ہیں۔

اسی طرح سے کربلا، نجف، سامرا اور دوسرے مقدس مقامات پر بھی اہل سنت حاضر ہوتے ہیں

"ولایت چینل" کے لائیو پروگرام "حبل المتین" کے توسط سے ہم نے آپ حضرات کی خدمت میں شیعہ اماموں کے روضوں کے متعلق اہل سنت کے بزرگوں کی سیرت پر مشتمل مباحث پیش کئیے۔

استاد، اس بارے میں خود مسلمانوں کی کیا سیرت رہی ہے؟! اس دنیا کے گوشہ گوشہ میں رہنے والوں مسلمانوں کا قبور صحابہ پر موجود تعمیرات کے متعلق کیا رد عمل رہا ہے؟!

قبور صحابہ پر موجود تعمیرات پر مسلمانوں کا رد عمل!

آیت الله دکتر حسینی قزوینی:

بہت اچھا سوال ہے؛ گذشتہ زمانے میں صحابہ کے بہت سے آثار موجود رہے ہیں؛ اگرچہ ان میں سے کچھ معدوم ہو چکے ہیں لیکن بہت سے آثار اب بھی موجود ہیں۔ ہم نے گذشتہ پروگراموں میں اس کے بارے میں تفصیل کے ساتھ مطالب بیان کیا، لیکن شاید دوبارہ ان مطالب کو دہرائیں گے، بطور مثال "ابو ایوب انصاری" کی قبر کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔

"مدائن" میں "سلمان فارسی" کی قبر:

میں صرف اہل سنت کی کتابوں میں موجود نمونوں کو آپ کے سامنے پیش کروں گا؛ "خطیب بغدادی" متوفی 1463 اپنی کتاب "تاریخ بغدادی" جس کا دوسرا نام "تاریخ مدینۃ السلام" بھی ہے کی پہلی جلد میں مدائن میں سلمان فارسی کی قبر کے متعلق جس پر گنبد اور بارگاہ اور انتظامات موجود ہیں لکھتے ہیں:

«وقبره الآن ظاهر معروف بقرب ایوان کسری علیه بناء»

ان کی قبر مشخص اور معروف ہے یہ ایوان کسری کے پاس ہے اور اس پر گنبد و بارگاہ ہے۔

تاریخ بغداد، مؤلف: احمد بن علی ابو بکر خطیب بغدادی، ناشر: دار الکتب العلمیة – بیروت، ج 1، ص 163، ح 12

چوتھی یا پانچویں صدی ہجری میں سلمان فارسی کی قبر پر گنبد و بارگاہ موجود رہی ہے؛ اگر واقعا قبور پر تعمیرات حرام ہے تو کن لوگوں نے قبر پر گنبد اور بارگاہ کی تعمیر کی؟! کیسے اس پوری مدت میں اس کو منہد نہیں کیا گیا؟!

"بصرہ" میں "طلحہ بن عبد اللہ" کی قبر:

اس زمانے میں عراق میں بنیادی طور پر اہل سنت کی حکومت تھی، شیعوں کے ہاتھو میں شاذ و نادر ہی حکومت تھی۔ "ابن بطوطہ" اپنے  سفر نامہ "رحلۃ ابن بطوطہ" میں لکھتا ہے:

«ومن المشاهد المبارکة بالبصرة مشهد طلحة بن عبد الله أحد العشرة رضی الله عنهم وهو بداخل المدینة وعلیه قبة وجامع وزاویة فیها الطعام للوارد والصادر وأهل البصرة یعظمونه تعظیما شدیداً»

جب میں بصرہ پہونچا تو جنگ جمل میں شہادت پانے والے طلحہ بن عبد اللہ کا مرقد دیکھا جس پر گنبد و بارگاہ ہے۔ ان کی قبر کے پاس ایک مسجد اور ایک باروچی خانہ ہے جس سے اس مزار کے زائرین کے اکرام و اطعام کا انتظام کیا جاتا ہے۔

ہمیں نہیں پتہ کیا کریں؟!

پیغمبر کی دائی "حلیمہ سعدیہ" اور غلام "انس بن مالک" کی قبر

وہ روایت کے ادامہ میں کہتا ہے: پیغمر کی رضاعی ماں "حلیمہ سعدیہ" اور ان کے پاس پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ایک شیرخوار اور پیغمبر کے ساتھی "ابو بکرہ" کی قبر ہے اس پر ایک گنبد تھا۔

پیغمبر کے غلام "انس بن مالک" کی قبر وہاں ہے؛ اس کے بعد وہ قبروں کی گنتی کرتا ہے اور کہتا ہے: "محمد بن سیرین" "محمد بن واسع" پیغمبر کے غلام "عتبہ" "مالک بن دینار" "حبیب عجمی" اور "سہل بن عبد اللہ تستری" کی قبریں وہاں ہیں۔

پھر کہتا ہے

«وعلی کل قبر منها قبة»

ان میں سے ہر قبر پر گنبد ہے،

«مکتوب فیها اسم صاحب القبر ووفاته»

نام اور وفات کا سال بھی وہاں لکھا ہوا ہے۔

رحلة ابن بطوطة (تحفة النظار في غرائب الأمصار وعجائب الأسفار)؛ مؤلف: محمد بن عبد الله، ابن بطوطہ (متوفى: 779هـ)، ناشر: أكاديمية المملكة المغربية، الرباط، سال نشر: 1417 هـ؛ ج 2، ص 15، باب ذکر المشاهدة المبارکة بالبصرة

گذشتہ زمانے سے ہی مسلمین کی یہ سیرت رہی ہے؛ اگرچہ وہابیت آج اس فکر میں ہے ان مقامات کو ویران کر دے۔ وہابیت کا یہ اقدام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اب تک یہ بات [کہ قبروں کی تعمیرات شرک ہے] کسی کو سمجھ میں نہیں آئی تھی اور تمام مسلمان غلط تھے، وہ قرآن کا صحیح ترجمہ نہ کر سکے اور:

(فَلا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدا)

پس خدا کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔

سوره جن (72): آیه 18

کو نہیں سمجھے تھے؛ اور آج دور حاضر کے کچھہ وہابی قرآن اور روایات کا صحیح ترجمہ کر سکے ہیں!!

"بصرہ" میں "زبیر بن عوام" کی قبر:

"ابن جوزی" متوفی 597 "المنتظم" کی جلد نمبر 14 میں لکھتا ہے: بصرہ کے لوگ جب ایک تعمیراتی کام انجام دے رہے تھے، تو انہوں نے ایک قبر اور جنازہ دیکھا اور ان کو احساس ہوا کہ یہ "زبیر بن عوام" کی قبر ہے:

«وجعل الموضع مسجداً ونقلت إلیه القنادیل والآلات والحصر والسمادات وأقیم فبه قوام وحفظة»

انہوں نے زبیر کی قبر ہر ایک مسجد بنائی، قندیل اور دوسرے آلات لگائے اور وہاں کچھ لوگوں کو اس قبر اور وہاں موجود قیمتی چیزوں، اور فرش کی حفاظت کے لئے مامور کیا،

«ووقف علیه وقوفاً»

زبیر کی قبر کے لئے زمیں اور عمارتیں وقف کیں تا کہ ان کی آمدنی "زبیر بن عوام" کے مزار پر خرچ ہو۔

المنتظم فی تاریخ الملوک والأمم، مؤلف: عبد الرحمن بن علی بن محمد بن جوزی ابو الفرج، ناشر: دار صادر - بیروت - 1358، پہلا ایڈیشن، ج 14، ص 383

یہ روایتیں کیا بیان کر رہی ہیں؟!

ترکی میں "ابو ایوب انصاری" کی قبر

اسی طرح "تاریخ بغدادی" کی پہلی جلد میں آیا ہے "ابو ایوب انصاری" کو سابق قسطنطنیہ، آج کے ترکی میں سپرد خاک کیا گیا ہے، پھر اس کے بارے میں لکھتا ہے:

«فقالوا هذا قبر أبی أیوب الأنصاری صاحب النبی فأتیت تلک البنیة فرأیت قبره فی تلک البنیة وعلیه قندیل معلق بسلسلة»

انہوں نے کہا: یہاں پیغمبر کے ساتھی "ابی ایوب انصاری" کی قبر ہے اور میں نے دیکھا وہاں زنجیروں سے قندیلیں لٹکا رکھی تھیں۔

تاریخ بغداد، مؤلف: احمد بن علی ابو بکر خطیب بغدادی، ناشر: دار الکتب العلمیة – بیروت، ج 1، ص 154، ح 7

یہ چوتھی یا پانچویں صدی ہجری کی بات، تقریبا ایک ہزار سال بیت چکے ہے، لیکن یہ سیرت موجود رہی ہے۔

اسی طرح "ابن کثیر دمشقی" متوفی 774"البدایہ و النھایہ" کی آٹھویں جلد پر لکھتا ہے:

«مات أبو أیوب بأرض الروم سنة ثنتین وخمسین ودفن عند القسطنطینیة وقبره هنالک یستسقی به الروم إذا قحطوا وقیل إنه مدفون فی حائط القسطنطینیة»

ابو ایوب سرزمین روم [آج کا ترکی] میں ۵۲ سال میں اس دنیا سے رخصت ہوئے اور قسطنطنیہ میں مدفون، اور ان کی قبر ترکی میں لوگوں کے توسل کا مقام رہا ہے، جب وہاں قحط پڑتا تو وہاں کے لوگ پیغمبر کے ساتھی سے توسل کرتے اور قحط ختم ہو جایا کرتا تھا۔

«وعلی قبره مزار ومسجد وهم یعظمونه»

ان کی قبر پر مزاز و گنبد اور مسجد ہے، اور لوگ اس کی تعظیم و تکریم کرتے ہیں۔

البدایة والنهایة، مؤلف: إسماعیل بن عمر بن کثیر قرشی ابو الفداء، ناشر: مکتبة المعارف – بیروت، ج 8، ص 59، باب ذکر من توفی فیها من الأعیان

اہل سنت حضرات غور کرین؛ اگرچہ آپ غور کرتے ہیں لیکن کچھ لوگ وہابیت سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ وہابیت کے نقطہ نظر سے تمام ممالک جیسے ایران، عراق، مکہ، مدینہ، ترکی بلاد کفر رہے ہیں اور صرف وہابی ہی حقیقی مسلمان ہیں!!

جو تصویریں آپ دیکھ رہے ہیں وہ ترکی کے استامبول میں واقع پیغمبر کے ساتھی "ابو ایوب انصاری" کی مزار کی ہیں مزار کے اطراف و جوانب اور عبادت کے مقامات تصویر میں صاف طور پر مشاہدہ کئے جا سکتے ہیں جو لوگوں کی عبادت کے مقام میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

اس جگہ کو شیعوں نے نہیں بنایا ہے؛ بلکہ یہ چوتھی یا پانچویں صدی ہجری کا ہے۔ آج وہابیت ائمہ اور نبی اکرم کی قبروں کی توہین کرتی ہے اور یہ وہابی فتوا دیتے ہیں پیغمبر کے حجرہ میں آگ لگا دینا چاہئیے اور ان کی [معاذ اللہ] نبش قبر کرنا چاہئیے۔

ہمیہں نہیں پتہ وہابیت نے یہ بے بنیاد باتیں کس کتاب سے استخراج کی ہیں؛ عقلمند کے لئے اشارہ کافی ہے!!

مجری:

استاد، آپ کا شکریہ، اہل سنت کے چار مذہب "شافعی" "حنبلی" "حنفی" اور "مالکی" ہیں، ان میں سے ہر مذہب کا اپنا امام اور ان کے اپنے علماء ہیں اور یہ لوگ انہیں کے اقوال سے فقہی مسائل کا استخراج کرتے ہیں۔

میں جاننا چاہتا ہوں کہ خود اپنے ائمہ کی قبروں کے سلسلے میں اہل سنت کی کیا سیرت رہی ہے؟!

اپنے چار اماموں کی قبروں کے متعلق اہل سنت کی سیرت:

آیت الله دکتر حسینی قزوینی:

اولا: میں ان کی ایک تاریخ بیان کرتا ہوں کہ اہل سنت کے اماموں کی یہ قبریں کس طرح کی تھیں؟! شاید کچھ لوگ یہ گمان کریں کہ یہ قبریں بعد کی صدیوں میں تعمیر کی گئی ہیں!

"بغداد" میں حنفیوں کے امام "ابو حنیفہ" کا مزار:

"ابن جوزی" متوفی 597 "المنتظم" کی جلد نمبر 16 پر 459 ہجری کے واقعات کو بناتے ہوئے لکھتا ہے:

«وفی هذه الأیام بنی أبو سعد المستوفی الملقب شرف الملک مشهد الإمام أبی حنیفة رضی الله عنه،»

ان دنوں میں ابو سعید مستوفی ملقب بہ شرف الملک نے ابو حنیفہ کی قبر پر بارگاہ بنائی اور اس کو زیارت گاہ ابو حنیفہ کا نام دیا۔

«وعمل لقبره ملبناً، وعقد القبة، وعمل المدرسة بإزائه، وأنزلها الفقهاء، ورتب لهم مدرساً»

ان کی قبر پر ضریح اور گنبد کی تعمیر کی اور اس کے پاس ایک مدرسہ بنایا اور حکم دیا کہ فقہا وہاں آئیں اور تدریس کریں۔

المنتظم فی تاریخ الملوک والأمم، مؤلف: عبد الرحمن بن علی بن محمد بن جوزی ابو الفرج، ناشر: دار صادر - بیروت - 1358، پہلا ایڈیشن، ج 16، ص 100

بتاو "ابو سعید مستوفی" شیعہ تھا یا سنی؟! اگر شیعہ تھا تو اس کا "ابو حنیفہ" کی قبر سے کیا واسطہ؟!

قبر "ابو حنیفہ" پر چھت تھی اور راوی کہتا ہے: ان لوگون نے اس کے پاس کی ہر چیز کو منہدم کر دیا اور قبر کو بھی ویران کرنا چاہتے تھے لیکن انہوں نے دیکھا کہ یہ ایک مقدس مقام ہے اور اس سے دستبردار ہو گئے، اور انہوں نے دیکھا کہ "ابو حنیفہ" کے جنازے سے کافور کی خوشبو آ رہی ہے۔

اسی طرح "ابن خلکان" متوفی 681 "وفیات الاعیان" کی پانچویں جلد میں لکھتا ہے:

«وبنی شرف الملک أبو سعد محمد بن منصور الخوارزمی مستوفی مملکة السلطان ملک شاه السلجوقی علی قبر الإمام أبی حنیفة مشهداً وقبة، وبنی عنده مدرسة کبیرة للحنیفة»

ابو سعد محمد بن منصور خوارزمی مستوفی مملکة السلطان ملک شاه نے ابو حنیفہ کی قبر پر بارگاہ اور گنبد کی تعمیر کی اور ان کے مزار کے پاس حنفیوں کے لئے ایک عظیم مدرسہ تعمیر کرایا۔ اور بارگاہ کی تعمیر بھی 459 ہجری میں ہوئی تھی۔

وفیات الاعیان؛ ابو العباس شمس الدین احمد بن محمد ابن خلکان (متوفی: 681 هـ)، محقق: احسان عباس، ناشر: دار صادر – بیروت، ج 5، ص 414، باب الامام أبو حنیفة

یہ بالکل روز روشن کی طرح واضح ہے۔ "ذہبی" بھی پیچھے نہیں رہے ہیں؛ وہ "سیر اعلام النبلاء" کی جلد نمبر 6 پر لکھتے ہیں:

«وعلیه قبة عظیمة ومشهد فاخر ببغداد»

اس پر بغداد میں عظیم الشان گنبد اور فاخر زیارتگاہ ہے۔

سیر أعلام النبلاء، مؤلف: محمد بن احمد بن عثمان بن قایماز ذہبی ابو عبد الله، ناشر: مؤسسہ رسالت - بیروت - 1413، نواں ایڈیشن، تحقیق: شعیب أرناؤوط, محمد نعیم عرقسوسی، ج 6، ص 403، ح 163

"بن جبیر" اپنے سفر نامہ میں لکھتا ہے: میں وہاں گیا اور دیکھا ایک سفید اور بلند گنبد بنا ہے اور اس کے نیچے امام ابو حنیفہ کی قبر ہے۔

"ابن بطوطہ" بھی اپنے سفر نامہ میں لکھتا ہے: بغداد میں "ابو حنیفہ" کی قبر پر عظیم گنبد تھا اور وہاں آنے جانے والے لوگوں کے لئے تمام وسائل سے لیس پاورچی خانہ تھا امام رضا علیہ السلام کے باورچی خانہ کے جیسا جو آپ کے زائرین کے اطعام کے لئے بنایا گیا ہے۔

"قبۃ عظیمۃ" کی عبارت "ابو حنیفہ" کی مزار کی شان اور منزلت کو بیان کر رہی ہے۔ جیسا کہ آپ تصویر میں مشاہدہ کر رہے ہیں، یہ جگہ بلا شبہہ امیر المومنین علی علیہ السلام یا امام رضا علیہ السلام کے روضوں کے جیسی ہے۔

تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ لوگ زیارت کے لئے "ابو حنیفہ" کی مزار پر آئے ہیں، پچھلے سال لوگوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی ولادت کے موقع پر وہاں جشن منعقد کیا تھا جس کے بارے میں ہم نے پہلے تفصیل کے ساتھ گفتگو کی ہے۔

"تاریخ بغداد" کی پہلی جلد پر "امام شافعی" سے ایک روایت وارد ہوئی ہے جس میں لکھا ہے:

«قال سمعت الشافعی یقول انی لأتبرک بأبی حنیفة وأجیء إلی قبره فی کل یوم یعنی زائرا فإذا عرضت لی حاجة صلیت رکعتین وجئت إلی قبره وسألت الله تعالی الحاجة عنده فما تبعد عنی حتی تقضی»

میں نے امام شافعی سے سنا کے کہتے ہیں: میں ابو حنیفہ کے وجود سے متبرک ہوتا ہوں، ان کی قبر کی زیارت کرتا ہوں، اور اگر کوئی حاجت ہو تو ان کی قبر کے پاس دو رکعت نماز پڑھتا ہوں اور خداوند عالم سے حاجت طلب کرتا ہوں اور میری حاجت پوری ہو جاتی ہے۔

تاریخ بغداد، مؤلف: احمد بن علی ابو بکر خطیب بغدادی، ناشر: دار الکتب العلمیہ – بیروت، ج 1، ص 123، باب ما ذكر في مقابر بغداد المخصوصة بالعلماء والزهاد

ہمارا وہ ناظر جس نے پچھلے پروگرام میں فون کیا تھا اور کہا تھا: "یہ روایات جعلی اور تمہاری اپنی گڑھی ہوئی ہیں" توجہ کرے کہ "امام شافعی" کی وفات 204 میں ہوئی ہے اور "ابو حنیفہ" نے 150 ہجری میں وفات پائی ہے۔

"امام شافعی" شیعہ نہیں تھے بلکہ ایک مذہب کے امام ہین جو ایک دوسرے مذہب کے امام سے توسل کرتے ہیں۔ "تاریخ بغدادی" کے علاوہ شافعی مذہب کے بزرگ عالم "ابن حجر ہیثمی" کی کتاب "الخیرات الحسان" میں وہ "امام شافعی" کے قول سے کہتے ہیں: جب میں بغداد میں تھا تو "ابو حنیفہ" کی قبر سے متوسل ہوتا تھا اور ان سے تبرک حاصل کرتا تھا، اور یہ بالکل واضح و روشن بات ہے۔

"مدینہ" میں مالکیوں کے امام "مالک بن انس" کا مزار

"امام مالک" کی قبر کے متعلق "سفرنامہ ابن بطوطہ" جو "تحفۃ النظار" کے نام سے مشہور ہے اس طرح سے آیا ہے:

«وأمامها قبر إمام المدینة أبی عبد الله مالک بن أنس رضی الله عنه وعلیه قبة صغیرة مختصرة البناء»

جب میں مدینہ گیا تو امام مدینہ ابی عبد اللہ مالک بن انس کی قبر کو دیکھا جس پر چھوٹا سا گنبد بہت مختصر تعمیرات کے ساتھ موجود تھا۔

1344 ہجری، چودہویں صدی کے نصف اول تک بقیع کے قبرستان میں"امام مالک" کی قبر پر گنبد اور بارگاہ موجود تھی اور وہ لوگوں کی زیارت کا مرکز رہا تھا۔ ان کا گنبد "ابو حنیفہ" کے مانند بڑا نہیں تھا، لیکن ایک چھوٹا گنبد ضرور ان کی قبر پر موجود تھا۔

"امام مالک" کی قبر کے گنبد کے چھوٹے ہونے کی شاید دلیل یہ ہو کہ مالکیوں کے پاس وسائل اور امکانات فراہم نہ تھے، یا پھر وہ اپنے اماموں سے زیادہ عقیدت نہیں رکھتے تھے یا شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ چوں کہ "امام مالک" کی قبر رسول اسلام اور ائمہ طاہرین علیھم السلام کی قبروں کے پاس موجود تھی اس لئے ان کی قبر ان قبور مطہرہ کی وجہ سے تحت الشعاع میں چلی گئی۔

«وقبر الحسن بن علی بن أبی طالب علیهم السلام وهی قبة ذاهبة فی الهواء بدیعة الأحکام عن یمین الخارج من باب البقیع»

اسی طرح حسن مجتبی علیہ السلام کی قبر پر ایک بلند گنبد ہے جس میں مہاجرین اور دوسرے اصحاب کی قبریں موجود ہیں۔

«وفی آخر البقیع قبر أمیر المؤمنین أبی عمر عثمان بن عفان رضی الله عنه وعلیه قبة کبیرة»

اور بقیع کے آخر میں عثمان بن عفان کی قبر تھی جس پر عظیم گنبد تھا۔

تحفة النظار فی غرائب الأمصار وعجائب الأسفار، مؤلف: محمد بن عبد الله بن محمد اللواتی أبو عبد الله، ناشر: مؤسسہ رسالت - بیروت - 1405، چوتھا ایڈیشن، تحقیق: د. علی منتصر کتانی، ج 1، ص 143، باب بعض المشاهد الکریمة بخارج المدینة الشریفة

آئمہ طاہرین علیھم السلام کی مزار مقدسہ اور اہل سنت کے بزرگان و اماموں کی قبروں کو ۱۳۴۴ ہجری میں شہید کر دیا گیا۔

"مصر" میں "امام شافعی" کا مزار

ذہبی کی کتاب "سیر اعلام النبلاء" کی ۲۲ ویں جلد میں "امام شافعی" کی قبر کی توصیف میں اس مضمون کی ایک روایت وارد ہوئی ہے

«أنشأ الکامل دار الحدیث بالقاهرة وعمر قبة علی ضریح الشافعی»

انہوں نے امام شافعی کی ضریح پر ایک بلند گنبد بنایا اور وہاں موقوفات کا بھی انتظام کیا۔

سیر أعلام النبلاء، مؤلف: محمد بن احمد بن عثمان بن قایماز ذہبی ابو عبد الله، ناشر: مؤسسہ رسالت - بیروت - 1413، نواں ایڈیشن، تحقیق: شعیب ارناؤوط, محمد نعیم عرقسوسی، ج 22، ص 128

اسی طرح "ابن خلکان" متوفی 681 اپنی کتاب "وفیات الاعیان" کی چوتھی جلد میں لکھتا ہے:

«وقبره یزار بها»

ان کی قبر لوگوں کی زیارت گاہ ہے۔

وفیات الأعیان؛ مؤلف: ابو العباس شمس الدین احمد بن محمد ابن خلکان (متوفی: 681 هـ)، محقق: احسان عباس، ناشر: دار صادر – بیروت، ج 4، ص 165

اسی کتاب کی پانچویں جلد کے صفحہ81 پر لکھا ہے:

«حللت فی موضع حصین وبنی بالقاهرة دار حدیث ورتب لها وقفاً جیداً وکان قد بنی علی ضریح الإمام الشافعی، رضی الله عنه، قبة عظیمة»

قاہرہ میں امام شافعی کے حرم کے لئے مناسب موقوفات ہیں، ان کی ضریح پر عظیم گنبد بنا ہے۔

وفیات الأعیان؛ مؤلف: ابو العباس شمس الدین احمد بن محمد ابن خلکان (متوفی: 681 هـ)، محقق: احسان عباس، ناشر: دار صادر – بیروت،ج 5، ص 81

ان چیزوں کا شیعوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے، جو تصویر آپ دیکھ رہے ہیں وہ اس گنبد کی ہے جو اس وقت امام شافعی کی قبر پر موجود ہے۔

تھری ڈی تصویر جو آپ دیکھ رہے ہیں اس میں "امام شافعی" کی ضریح اور آس پاس کی جگہ دکھائی گئی ہے جس میں نماز پڑھی جاتی ہے، اس تصویر میں "امام شافعی" کی ضریح کے پاس اور گنبد کے نیچے کا حصہ دیکھا جا سکتا ہے۔

اگر آج کوئی قاہرہ جائے تو وہ دیکھے گا کہ "امام شافعی" کی قبر تمام مسلمانوں چاہے وہ "شافعی" ہوں "مالکی" ہوں "حنفی" ہوں یا "حنبلی" کی زیارت گاہ ہے، اور اہل سنت کے تمام مذاہب کے پیروکار یہاں زیارت کے لئے آتے ہیں۔

"بغداد" میں وہابیوں کے چہیتے "احمد بن حنبل" کی مزار:

وہابیوں کے چہیتے "احمد بن حنبل" کی قبر کے بارے میں "نووی" متوفی 677 جن کو "فقیہ الامہ" کے نام سے یاد کیا گیا ہے، وہ اپنی کتاب "تہذیب الاسماء و اللغات" کی بہلی جلد میں لکھتے ہیں:

«ودفن ببغداد، وقبره مشهور معروف یتبرک به»

احمد بن حنبل بغداد میں دفن ہوئے اور ان کی قبر مشہور و معروف اور تبرک کا مقام ہے۔

تهذیب الاسماء واللغات، مؤلف: ابو زکریا محیی الدین یحیی بن شرف، نووی (متوفی: 676 هـ)، دار الکتب العلمیة، بیروت، ج 1، ص 112

میں وہابی حضرات سے مخاطب ہوں، یہ روایت آپ کے امام سے مربوط ہے اگر آپ قبول کریں تو؛ اگرچہ شیخ "الازہر" "دکتر طیب" کے بقول: ان [وہابی] لوگوں نے "احمد بن حنبل" کے مذہب کو نجس کر دیا ہے۔

"ابن جوزی" متوفی ۵۹۷ کی کتاب "مناقب احمد بن حنبل" میں ایک روایت آئی ہے جس میں لکھا ہے: "مناقب امام احمد" کو "ملک خالد بن عبد العزیز آل سعود" کو ہدیہ کیا اور انہوں نے حکم دیا کہ اس کتاب کو ان کے ذاتی پیسے سے چھاپا جائے اور لوگوں کے درمیان باٹا جائے تا یہ راہ علم و طلاب میں ایک خدمت قرار پائے۔

"ملک خالد" جو "ملک عبد العزیز" کے بعد سعودی عرب کے بادشاہ ہوئے ان کے بعد "ملک فہد" ہھر "ملک عبد اللہ" اور آخر میں "ملک سلمان" کے ہاتھوں میں حکومت آئی یہ سب کے سب "عبد العزیز" کی نسل سے تھے۔

"آل سعود" کا بانی اور مکہ میں حجاز کے آثار کو نابود کرنے والا "عبد العزیز" تھا؛ اس کتاب میں جس کے چھپائی کا "ملک فہد" نے حکم دیا تھا لکھا ہے:

«فی ذکر کراماته وإجابة سُؤاله»

احمد بن حنبل کی قبر سے ظاہر ہونے والے معجزات کے بارے میں۔

مناقب الإمام أحمد، مؤلف: جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد، جوزی (متوفی: 597 هـ)، محقق: د. عبد الله بن عبد المحسن، ترکی، ناشر: دار ہجر، دوسرا ایڈیشن، 1409 هـ، ج 1، ص 397

اگر ہم اس روایت سے بہت کم مرتبہ والی بات بھی ائمہ طاہرین علیھم السلام کے بارے میں نقل کریں تو یہ لوگ شیعوں کا جینا دوبھر کر دیتے!!

"کالکرابی" جو کچھ عرصہ پہلے تک افغانستان میں شیعوں کے قتل میں ملوث تھا، اور اب جو مغربی ممالک میں پناہ گزین ہو گیا ہے، ہنگامہ کرتا ہے کہ کتاب "کافی" میں امام علی و امام صادق علیھم السلام کے بارے میں اس طرح کی کرامات نقل کی ہیں؛ تو خدا کے لئے اب کیا بچتا ہے؟!

"احمد بن حنبل" کی بعض کرامات:

جو یہ کہتا ہے کہ "اگر ائمہ طاہرین اس طرح کی کرامات کے مالک ہیں تو خدا کی کرامات کے لئے بچا ہی کیا ہے؟! اور دوسری جگہ پر کہتا ہے: اگر حضرت ابو الفضل باب الحوائج ہیں تو خود اپنی حاجت کیوں پوری نہیں کر سکے؟!"

میں اس سے کہوں گا کہ اس کتاب کے تین حصوں کا بغور مطالعہ کرے" پہلا حصہ جو ان خوابوں پر مشتمل ہے جو مسلمانوں نے "احمد بن حنبل" کے متعلق دیکھے ہیں؛ دوسری حصہ ان خوابوں پر مشتمل ہے جو "احمد بن حنبل" سے دیکھے گئے ہیں، اور اس کے بعد کا حصہ مشتمل ہے "احمد بن حنبل" کی کرامات پر!!

"احمد بن حنبل" کا غصہ اور چینٹیوں کی نسل کا خاتمہ:

مصنف اس کتاب میں "احمد بن حنبل" کے بیٹے کے توسط سے نقل کرتا ہے کہ وہ کہتا ہے:

"ہمارے گھر میں اتنی زیادہ چیٹیاں تھیں کہ انہوں نے میرے والد کا جینا حرام کر دیا تھا، جب بھی وہ ہلتے چیٹیاں ان کو پریشان کرتی، میرے والد بہت پریشان ہو گئے، اسی وقت ہم نے دیکھا کہ ایک کالی چیٹی آئی اور اس نے ساری چیٹیوں کو کھا لیا، جب سے وہ کالی چیٹی ائی اس کے بعد سے ہمارے گھر میں چیٹیوں کی نسل ختم ہو گئی۔"

"احمد بن حنبل " کا ہاتھ ہلانا اور ناک کا خون رک جانا!

دوسری جگہ پر لکھتا ہے:

"ایک شخص کو ناک سے خون آنے کی بیماری ہو گئی تھی، اور مسلسل اس کی ناک سے خون بہتا رہتا تھا، جتنے بھی ڈاکٹر آتے، کوئی فائدہ نہ ہوتا"

«فقال له أبو عبد الله: أی شیءٍ حالک بنی؟ فقال: یا جدی هو ذا أموت, ادعُ الله لی»

پھر میرے والد نے کہا: بیٹا! کیا ہوا ہے؟! اس نے کیا: یا جداہ! میں مر رہا ہوں، میرے لئے دعا کرو

«ثم جعل یحرک یده کأنه یدعو له, فانقطع الدم وقد کانوا یئسوا منه, لأنه کان یرْعف دائمًا»

احمد بن حنبل نے اپنے ہاتھ کو ہلایا، وہ کہتا ہے کہ وہ دعا کر رہے تھے، اسی وقت ناک سے خون آنا بند ہو گیا جب کہ اس کے خاندان کے سبھی لوگ اس کی حیات سے مایوس ہو چکے تھے

مناقب الامام احمد، مؤلف: جمال الدین ابو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد، جوزی (متوفی: 597 هـ)، محقق: د. عبد الله بن عبد المحسن، ترکی، ناشر: دار ہجر، دوسرا ایڈیشن، 1409 هـ، ج 1، ص 397، الباب الحادي والستون

"احمد بن حنبل" کے قلم کی برکت سے نخلستان کے سارے درختوں کا پھل دینا:

اسی طرح اسی کتاب کے بعد والے صفحہ پر لکھا ہے:

«قال: دخلتُ یومًا علی أبی عبد الله وهو یملی علی, وأنا أکتب»

کہتا ہے: ایک دن میں احمد بن حنبل کے پاس گیا وہ مجھے املا بول رہے تھے اور میں لکھ رہا تھا

«فاندقّ قلمی, فأخذ قلمًا فأعطانیه, فجئت بالقلم إلی أبی علی الجعفری, فقلت: هذا قلم أبی عبد الله أعطانیه»

اس سال نخلستان میں کھجور کے درختوں پر پھل نہیں آیا تھا اور لوگ بہت پریشان تھے، انہوں نے مجھ سے کہا: میرا قلم لے لو اور اس کو کھجور کے باغ میں لٹکا دو،

«خُذ القلم فَضعه فی النَّخلة عسی تَحمل, فوضعه فی النَّخلة فحملت النَّخلة»

جب ہم نے ان کے قلم کو باغ میں لٹکایا تو سارے درختوں پر پھول آ گئے اور اس سال ان پر کھجور لگے۔

مناقب الامام احمد، مؤلف: جمال الدین ابو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد، جوزی (متوفی: 597 هـ)، محقق: د. عبد الله بن عبد المحسن، ترکی، ناشر: دار ہجر، دوسرا ایڈیشن، 1409 هـ، ج 1، ص 398، الباب الحادي والستون

"احمد بن حنبل" کی دعا سے بیس سال سے اپاہج بھوڑھی عورت کو فورا شفا ملنا

«قال: حدثنی علی بن أبی حرارة - جار لنا - کانت أمی مُقعدةٌ نحو عشرین سَنة, فقالت لی یومًا: اذهب إلی أحمد بن حنبل فَسلهُ أن یدعو الله لی»

ایک شخص کہتا ہے: میری ماں بیس سال سے اپاہج تھی وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتی تھی۔ اس نے مجھ سے کہا: بیٹے احمد بن حنبل کے پاس جاؤ اور ان سے میرے لئے دعا کی درخواست کرو۔

«فَسرت إلیه فدققتُ علیه البابَ وهو فی دِهلیزه, فلم یفتح لی, وقال: مَن هذا؟ فقلت: أنا رجلٌ من أهل ذاک الجانب, سَألتنی أُمی - وهی زَمِنة مُقعَدة - أن أسألک أن تدعو الله لنا, فسمعتُ کلامه کلامَ رجلٍ مُغْضب»

میں احمد بن حنبل کے پاس گیا، انہوں نے دروازہ کھولا اور کہا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں ہوں اور ان سے اپنی ماں کے لئے دعا کرنے کی درخواست کی۔ وہ بہت غصہ ہو گئے،

«فقال: نحن أحوجُ إلی أن تدعو الله لنا, فولیت منصرفًا؛ فَخرجت عجوزٌ من داره, فقالت: أنتَ الذی کلَّمت أبا عبد الله؟ قلتُ: نعم, قالت: قَد ترکتُه یدعو الله لها, قال: فجئت من فَوری إلی البیت,»

جب میں ناامیدی کے ساتھ واپس پلٹ رہا تھا تبھی میں نے دیکھا کہ احمد بن حنبل کے گھر سے ایک بھوڑھی عورت باہر آئی اور اس نے کہا: تم نے احمد بن حنبل سے بات کی؟ میں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: مبارک ہو کہ احمد بن حنبل نے دعا کے لئے اپنے ہاتھوں کو اٹھا دیا ہے۔ جلدی اپنے گھر جائو،

«فَدققتُ الباب, فَخرجت علی رجلی‌ها تمشی, حتی فتحت الباب, فقالت: قد وهبَ الله لی العافیة»

جب میں گھر آیا اور دق الباب کیا، تو میری ماں جو بیس سال سے اپاہج تھی احمد بن حنبل کی دعا سے شفایاب ہو چکی تھی نے میرے لئے دروازہ کھولا۔

مناقب الامام احمد، مؤلف: جمال الدین ابو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد، جوزی (متوفی: 597 هـ)، محقق: د. عبد الله بن عبد محسن، ترکی، ناشر: دار ہجر، دوسرا ایڈیشن، 1409 هـ، ج 1، ص 399، الباب الحادي والستون

"احمد بن حنبل" کے توسل سے کالی اندھری رات روشن ہو گئی:

قابل توجہ ہے کہ اہل سنت کے عالم "عبد اللہ بن موسی" کہتے ہیں:

«خرجتُ أنا وأبی فی لَیلة مُظلمة نزور أحمد, فاشتدَّت الظلمة, فقال أبی یا بُنی, تعال حتی نتوسَّل إلی الله تعالی بهذا العبد الصالح حَتی یضئ لنا الطریق»

میں اور میرے والے ایک تاریک رات میں احمد بن حنبل کی قبر کی زیارت کے لئے جا رہے تھے، رات بہت اندھری تھی، ہم راستہ بھٹک گئے، کوئی چارہ نظر نہیں آتا تھا، میرے والد نے کہا: بیٹا آو خدا کے نیک بندے احمد بن حنبل سے توسل کریں تاکہ ہم کو راستہ مل جائے،

«فإنی مُنذ ثلاثین سَنة ما توسَّلتُ به إلا قُضیت حاجَتی»

کیونکہ آج تیس سال ہو گئے میں نے جب بھی احمد بن حنبل سے توسل کیا ہے میری حاجت پوری ہوئی ہے۔

«فدعا أبی وأمَّنْتُ أنا علی دُعائه, فأضاءّت السماء کأنها لیلة مُقمرة حتی وَصلنا إلیه»

اس تاریک رات میں ہم نے احمد بن حنبل سے توسل کیا، اسی وقت آسمان صاف ہو گیا، چاند نکل آیا اور ہم منزل پر پہونچ گئے۔

مناقب الامام احمد، مؤلف: جمال الدین ابو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد، جوزی (متوفی: 597 هـ)، محقق: د. عبد الله بن عبد المحسن، ترکی، ناشر: دار ہجر، دوسرا ایڈیشن، 1409 هـ، ج 1، ص 400، الباب الحادی والستون

یہ شخص کہتا ہے کہ وہ "احمد بن حنبل" کی ذات سے متوسل ہوتا ہے، جب کہ وہ مر چکے ہیں، اور وہابیت کا عقیدہ ہے کہ مردوں کا اس دنیا سے ارتباط قطع ہو چکا ہے! مجھے نہیں پتا کہ کیا اس "بے عقل" میں اس مقام پر بھی اتنی جرئت ہے کہ کہہ سکے: "گائے پرست بھی گائے سے توسل کرتے ہیں" یا نہیں؟!

میں معمولا صبح کی نماز کے بعد قرآن کی تلاوت سے فارغ ہو کر ناظرین کے میسجس کو دیکھتا ہو، ہمارے ایک عزیز ناظر نے ایک خوبصورت میسج بھیجا تھا وہ میرے لئے بہت دل نشین تھا؛ اس نے لکھا تھا:

اگر آج امیر المومنین علی علیہ السلام آ جائیں اور معاوہ کی قبر کو ویران کرنے کا حکم دیں تو کیا تم وہابی امیر المومنین علی علیہ السلام کے مقابلے میں تلوار لے کھڑے ہو گے یا نہیں؟!

بہت خوبصورت سوال ہے! اگر امیر المومنین علی علیہ السلام اور امام زمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف تشریف لے آئیں اور کہیں: معاویہ کی قبر کو ویران ہو جانا چاہئیے؛ تو وہابیت کیا کرے گی؟!اس میں ہم کو کوئی شک و شبہہ نہیں ہے کہ یہ لوگ حتی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مقابلے میں بھی کھڑے ہوں گے!!

ابھی آج ہی ہمارے کچھ عزیز ناظرین نے میسج دیا اور لکھا: جناب "ابو القاسمی" آج آپ کا پروگرام کیوں نہیں آ رہا ہے؟ ہم منتظر ہیں!

ہم بھی آپ کی طرح منتظر ہیں،

جناب ابو القاسمی صاحب ایک تعلیمی-تبلیغی سفر پر تشریف لے گئے ہیں لیکن ان شاء اللہ شوال کے آخر تک آ جائیں گے۔

ان شاء اللہ اول ذیقعدہ سے حسب سابق شب جمعہ ان کا پروگرام  آگے بڑھایا جائے گا، لیکن اب جبکہ وہ موجود نہیں ہیں تو شب جمعہ بھی ہم آپ دوستوں کی خدمت میں ہیں۔

جب ہم نے کہا کہ: شب جمعہ ہمارا پروگرام نہیں ہوگا، تو وہابی ماہرین نے کہا: ایسا لگتا ہے کہ قزوینی صاحب کو کوئی مشکل پیش آ گئی ہے، اب ان کا پروگرام نہیں ہوگا اور ان کو اس پروگرام سے نکال دیا گیا ہے، اس لئے اس سے پہلے کہ یہ وہابی کہیں کہ "ابو القاسمی" صاحب کو بھی نکال دیا گیا ہے، ہم آپ تک اطلاع رسانی کر دیں۔

ان شاء اللہ پہلی ذیقعدہ سفر پر گئے ہمارے عزیز صحت و سلامتی کے ساتھ واپس آ جائین گے اور ان شاء اللہ ان کا پروگرام شب جمعہ میں دوبارہ آگے بڑھایا جائے گا۔

اور ان شاء اللہ ہمارا دوشنبہ شب کا پروگرام بھی اپنی جگہ پر باقی رہے گا اور سہ شنبہ شب میں "عربی چینل" پر عرب زبان ناظرین کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ اگرچہ ہمارے ساتھیوں کا اصرار تھا کہ پروگرام کی تعداد بڑھائی جائے لیکن یہ وقت کی کمی کے سبب یہ میری وسع میں نہیں تھا۔

یہ روایات اپنے چار اماموں کے متعلق علماء اہل سنت کے اقوال کا نمونہ تھا۔ ہم کسی کی توہین نہیں کرنا چاہتے، لیکن اگر ہم اس طرح کی روایات ائمہ طاہرین علیھم السلام کی توصیف میں بیان کریں تو یہ وہابی ہمارے متعلق کس طرح کے عکس العمل کا اظہار کرتے ہیں۔

"منکر و نکیر" کا احمد بن حنبل سے سوال کرنے میں شرم محسوس کرنا:

اسی "مناقب احمد بن حنبل" نامی کتاب میں جو "خالد بن عبد العزیز" کے حکم سے چھپی ہے دوسری روایت موجود ہے جس میں آیا ہے:

«سمعت بنداراً محمد ابن بشار العبدی، یقول: رأیت أحمد بن حنبل فی المنام شبیه المغضب، فقلت: یا أبا عبد الله، أراک مغضباً»

محمد بن بشار کہتا ہے: میں نے احمد بن حنبل کو خواب میں دیکھا کہ وہ بہت غصہ میں ہیں۔ میں نے ان سے سوال کیا: اے ابا عبد اللہ آپ غصہ میں کیوں ہیں؟

«فقال: وکیف لا أغضب وجاءنی منکر ونکیر یسألان: من ربک؟ فقلت لهما: ولمثلی یقال من ربک! فقالا لی: صدقت یا أبا عبد الله، ولکن بهذا أمرنا فاعذرنا»

کہا: میں غصہ کیوں نہ ہوں منکر و نکیر آ کر مجھ سے سوال کرتے ہیں: تمہارا خدا کون ہے؟ میں نے ان سے کہا: مجھ سے، احمد بن حنبل سے سوال کرتے ہو کہ تمہارا خدا کون ہے؟ منکر و نکیر نے سر جھکا لیا اور کہا: تم سچ کہتے ہو لیکن ہم کو حکم ہے اور ہم مجبور ہیں،

مناقب الامام احمد، مؤلف: جمال الدین ابو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد، جوزی (متوفی: 597 هـ)، محقق: د. عبد الله بن عبد المحسن، ترکی، ناشر: دار ہجر، دوسرا ایڈیشن، 1409 هـ، ج 1، ص 606، الباب الثانی والتسعُون

اسی طرح اسی صفحہ کے آخر میں "احمد بن حنبل" کے بیٹے کے توسط سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتا ہے:

«سمعت عبد الله بن أحمد، یقول: رأیت أبی فی المنام فقلت: ما فعل الله بک؟ قال: غفر لی»

احمد بن حنبل کا بہٹا کہتا ہے: میں نے اپنے والد کو خواب میں دیکھا اور کہا: جب آپ قبر میں پہونچے تو کیا ہوا؟ کہا: خدا نے مجھ کو بخش دیا۔

«قلت: جاءک منکر ونکیر؟ قال: نعم! قالا لی: من ربک؟ قلت: سبحان الله، أما تستحیان منی؟! فقال لی: یا أبا عبد الله، اعذرنا بهذا أمرنا»

میں نے پوچھا منکر و نکیر بھی آئے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں! مجھ سے پوچھا: تمہارا خدا کون ہے؟ میں نے کہا: سبحان اللہ، تمہیں مجھ سے یہ سوال کرتے ہوئے شرم نہیں آتی؟ انہوں نے کہا: اے ابا عبد اللہ، ہم مامور اور مجبور ہیں۔

مناقب الامام احمد، مؤلف: جمال الدین ابو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد، جوزی (متوفی: 597 هـ)، محقق: د. عبد الله بن عبد المحسن، ترکی، ناشر: دار ہجر، دوسرا ایڈیشن، 1409 هـ، ج 1، ص 606، الباب الثانی والتسعُون

اس کتاب کے جن حصوں کے بارے میں نے آپ حضرات سے مطالعہ کرنے کی گزارش کی ہے، یہ اس طرح کے مطالب سے بھرے پڑے ہیں، آپ اجازت دیں تو اسی کتاب سے ایک اور روایت آپ کے سامنے بیان کروں۔

اس کتاب کے بہت سے نسخہ موجود ہیں لیکن میں نے کوشش کی ہے کہ وہ نسخہ لے کر حاضر ہوں جو "ملک خالد بن عبد العزیز" کے حکم سے چھپا ہے۔

اللہ ہر سال "احمد بن حنبل" کی زیارت کو جاتا ہے:

دوسری روایت میں راوی کہتا ہے:

«کان قد جاء فی بعض السنین مطر کثیر جداً قبل دخول رمضان بأیام، فنمت لیلة فی رمضان، فأریت فی منامی کأنی قد جئت علی عادتی إلی قبر الإمام أحمد بن حنبل أزوره، فرأیت قبره قد التصق بالأرض حتی بقی بینه وبین الأرض مقدار ساق أو ساقین»

ایک سال رمضان سے پہلے بہت بارش ہوئی، میں سو رہا تھا، خواب میں دیکھا کہ میں احمد بن حنبل کی زیارت کے لئے ان کی قبر پر آیا اور میں نے دیکھا کہ ان کی قبر کی سطح زمین سے ملی ہوئی ہے اور نصف ساق یا اس کے دو برابر سے زیادہ قبر میں کچھ نہیں بچا ہے۔

«فقلت: إنما تم هذا علی قبر الإمام أحمد من کثرة الغیث، فسمعته من القبر وهو یقول: لا بل هذا من هیبة الحق عز وجل،»

کہتا ہے: میں بہت پریشان ہو گیا کہ بارش نے احمد بن حنبل کی قبر کو خراب کر دیا ہے، لیکن میں نے سنا قبر سے ایک آواز آئی: نہیں بارش کی وجہ سے میری قبر خراب نہیں ہوئی ہے، بلکہ خدا کی عظمت کے سامنے میری قبر خراب ہوکر زمیں میں دھنس گئی ہے،

«لأنه عز وجل قد زارنی»

کیوں کہ خدا ایک دن میری زیارت کو آیا تھا۔

«فسألته عن سر زیارته إیای فی کل عام»

خدا ہر سال میری زیارت کو آتا ہے، میں نے خدا سے اس کا راز پوچھا: آخر کیوں ہر سال میری زیارت کو آتے ہو؟!

دوستوں آپ کو خدا کی قسم ہے اگر آپ یہی باتیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ طاہرین علیھم السلام کے بارے میں کہتے تو یہ وہابی کیا ہنگامہ کھڑا کرتے!!

یہ کتاب سعودی عرب کے بادشاہ "ملک خالد بن عبد العزیز" کے حکم سے چھپی پے، اور لوگوں کو باٹی گئی ہے تا کہ علم اور طلاب کی راہ میں ایک خدمت ہو۔

آگے کہتا ہے:

«فقال عز وجل: یا أحمد، لأنک نصرت کلامی، فهو ینشر ویتلی فی المحاریب»

پھر اللہ نے فرمایا: اے احمد تم نے میرے کلام کی مدد کی تا کہ لوگوں کے بیچ رائج ہو اور محرابوں میں پڑھا جائے۔

«فأقبلت علی لحده أقبله»

میں گیا اور ان کی قبر کی زیارت کی۔

«ثم قلت: یا سیدی، ما السر فی أنه لا یقبل قبر إلا قبرک؟»

پھر میں نے کہا: اے میرے سید و سردار، آخر کیا وجہ ہے کہ تمام قبروں کے بیچ فقط تمہاری قبر چومی جانی چاہئیے؟

«فقال لی: یا بنی، لیس هذا کرامة لی، ولکن هذا کرامة لرسول الله صلی الله علیه وسلم؛»

مجھ سے کہا: بیٹا، یہ میری کرامت نہیں بلکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی کرامت ہے۔

«لأن معی شعرات من شعره صلی الله علیه وسلم»

کیوں کے میرے ساتھ پیغمبر کے کچھ بال بھی دفن ہوئے ہیں اور اسی لئے میری قبر کو چوما جانا چاہئیے۔

مناقب الامام احمد، مؤلف: جمال الدین ابو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد، جوزی (متوفی: 597 هـ)، محقق: د. عبد الله بن عبد المحسن، ترکی، ناشر: دار ہجر، دوسرا ایڈیشن، 1409 هـ، ج 1، ص 607 و 608، الباب الثانی والتسعُون

یہ کتاب اس طرح کی باتوں سے بھری ہوئی ہے، اگرچہ ہم توہین نہیں کر رہے ہیں اور فیصلہ لوگوں کے ہاتھوں میں چھوڑ رہے ہیں، خاص کر ان لوگوں کے لئے جو "احمد بن حنبل" اور وہابیت کے طرفدار ہیں اور خود کو "اہل حدیث کہتے ہیں"

اس کتاب کے مصنف "ابن جوزی" ہیں جو اہل سنت کے مشہور عالم دین ہیں، اس کتاب کے ناشر "ملک خالد" ہیں اور اس کتاب کی انہوں نے ہر جہت سے تائید کی ہے۔

تعجب ہے کہ خدا ہر سال "احمد بن حنبل" کی زیارت کو جاتا ہے اور یہ کفر نہیں ہے؛ لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ ہر سال امام حسین علیہ السلام یا امام رضا علیہ السلام کی زیارت کو جاتے ہیں تو یہ کفر ہے!!

کیا یہ وہابی خدا کے شرک کا بھی فتوا دیں گے یا نہیں؟! ان بے عقلوں سے بعید نہیں ہے کہ کل کو کہہ دیں: "خدا بھی چونکہ "احمد بن حنبل" کی قبر کی زیارت کو گیا تھا اس لئے مشرک ہو گیا ہے اور پیغمبر کو اسلحہ اٹھا کر خدا کو قتل کر دینا چاہئیے، کیوں کہ وہ واجب القتل ہے"!

یقینا جناب "سجودی" صاحب فتوا دیں گے: خدا چونکہ "احمد بن حنبل" کی قبر کی زیارت کو گیا اس لئے وہ واجب القتل ہے۔

تعجب ہے کہ "احمدبن حنبل" کی قبر میں پیغمبر کا ایک بال ہونے کی وجہ سے ان کی قبر چومے جانے کے قابل ہو جائے؛ لیکن خود پیغمبر کی قبر کو چومنے میں اشکال ہو"!!

وہابیوں کے نقطہ نظر سے پیغمبر کی اولاد جن کی رگوں میں پیغمبر کا خود دوڑ رہا ہے کی قبر کو چومنا شرک اور کفر ہے۔

یہاں پر باتیں بہت ہیں لیکن محترم جناب اسماعیلی صاحب ایک طرف تو ان باتوں کو سن کر محظوظ ہو رہے ہیں اور وہیں ساتھ ہی ساتھ اشارہ بھی کر رہے ہیں کہ ہمارے عزیز ناظرین کے لئے وقت نہیں بچا ہے۔

مجری:

استاد، اگر آپ چاہیں تو ہم ان مباحث کو بعد کے پروگرام میں آگے بڑھائیں؟

آیت الله دکتر حسینی قزوینی:

ہاں ضرور۔ آپ لوگ تصویر میں "احمد بن حنبل" کی قبر دیکھ رہے ہیں، ہمیں نہیں معلوم کہ خدا اب بھی ان کی قبر کی زیارت کو جاتا ہے یا نہیں، لیکن اس زمانے میں کہ جب ان کی قبر زمین سے تھوڑی اوپر تھی تو اللہ کی ہیبت سے زمین سے چپک گئی تھی، لیکن آج ان کی مزار خدا کی ہیبت سے زمین سے نہیں مل جاتی ہے!!

شاید خداوند وہابیوں کے ڈر سے اور پیغمبر کے بجائے "محمد بن عبد الوہاب" کی اتباع کرنے والو کے اسلحہ اٹھا لینے کہ ڈر سے کہ جیسے ہی خدا ان کی زیارت کو آئے ان کو قتل کر دیں، خدا اب "احمد بن حنبل" کی قبر کی زیارت کو نہیں جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج "احمد بن حنبل" کی قبر پر گنبد بھی موجود ہے اور ان کا زیارت نامہ بھی ہے۔

مجری:

استاد، وقت بہت کم بچا ہے اور ہم کو ناظرین کے پیغامات کا جواب بھی دینا ہے؛ ہمارے بعض ناظرین نے ہم کو پیغام دیا ہے اور "احمد بن حنبل" کے فضائل و کرامات کے بارے میں میسج کیا ہے۔

اس بارے میں آپ "حنبلیوں" کی کتابوں میں آنے والی چیزوں کے بارے میں بتائیں اور ان کے لئے جو اہم اور مقدس ہے اس پر روشنی ڈالیں۔

ہمارے ایک دوست نے پیغام دیا: چار امام اور ائمہ طاہرین علیھم السلام کے بیچ کیا فرق ہے؟! ائمہ حاجت پوری کرتے ہیں اور یہ چاروں امام بھی۔

آیت الله دکتر حسینی قزوینی:

واللہ ہمیں نہیں معلوم ہم کو یہ سوال وہابیوں سے پوچھنا چاہئیے۔

مجری:

شاید وہ شیعوں کے دلوں میں شبہ ڈالنا چاہتے ہیں۔

آیت الله دکتر حسینی قزوینی:

ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ لوگ توہم کا شکار ہو گئے ہیں۔ جب کہتے ہیں: "خدا ان کی قبر کی زیارت کو جاتا ہے" تو یقینا حاجت بھی پوری کرتے ہیں۔

آخری بات کو دوبارہ بیان کرتا ہوں جس میں کہا گیا ہے: "ہر سال میری زیارت کو آتا ہے" ہم بھی کہتے ہیں: وہ خدا جو "احمد بن حنبل" کی زیارت کو جاتا ہے وہاں کھڑا رہتا ہے اور جو بھی ان سے توسل کرتا ہے اس کی حاجت پوری کرتا ہے۔

ان لوگوں کے اندر شرم نام کی چیز نہیں ہے اور بجائے اس کے کہ "احمد بن حنبل" کے مقام کو بلند کریں خدا کے مقام کو نیچے لے آئے ہیں۔ یہ لوگ جو اس طرح کی جعلی کرامات بنا سکتے ہیں دوسرے کام بھی کر سکتے ہیں، ان سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔

مجری:

یہ بات ہم نے اس لئے بیان کی ہے کہ ہمارے بعض شیعہ دوست شبہ میں پڑ گئے تھے؛ اگرچہ اگر ذرا سی بھی توجہ کرتے تو استاد کی آخری فرمائشات سے مطلب پوری طرح سے واضح ہو گیا تھا۔

آیت الله دکتر حسینی قزوینی:

مشخص ہے کہ یہ افراد فضیلت سازی کر رہے ہیں؛ جیسا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم امیر المومنین علی علیہ السلام کی فضیلت میں فرماتے ہیں:

«أنا مَدِینَةُ الْعِلْمِ وَعَلِی باب‌ها فَمَنْ أَرَادَ الْعِلْمَ فَلْیأْتِهِ من بَابِهِ»

المعجم الکبیر، مؤلف: سلیمان بن احمد بن ایوب ابو القاسم طبرانی، ناشر: مکتبة الزهراء - موصل - 1404 - 1983، دوسرا ایڈیشن، تحقیق: حمدی بن عبدالمجید، سلفی، ج 11، ص 65، ح 11061

انہوں نے بھی اسی مضمون کی فضیلت گڑھ لی:

«أنا مدینة العلم وابو بکر أساسها وعمر حیطانها وعثمان سقفها وعلی بابها»

الصواعق المحرقة؛ مؤلف: ابن حجر ہیثمی، ناشر: مؤسسہ رسالت - لبنان - 1417 هـ - 1997 م، پہلا ایڈیشن، تحقیق: عبد الرحمن بن عبد الله، ترکی، ج 1، ص 87

جب یہ دیکھتے ہین کہ ائمہ طاہرین علیھم السلام کی قبروں سے کرامتیں ظاہر ہوتی ہیں تو یہ بھی اسی طرح کی کرامات گڑھ لیتے ہیں۔

ناظرین کی فون کال

مجری:

"ولایت چینل" کے لائیو پرگرام "حبل المتین" کے اختتام میں کچھ ہی منٹ باقی رہ گئے ہیں، ہمارے ایک دوست فون کال پر ہیں؛ اگر ممکن ہوا تو ہم ایک اور کال کا جواب دیں گے لیکن اگر وقت نہ بچا تو یہی ہماری آخری کال ہوگی۔

امام رضا کے شہر، مشہد مقدس سے جناب ایمان صاحب، سلام علیکم

ناظر [ایمان مشہد سے- شیعہ]

"ولایت چینل" کے رئیس جناب قزوینی صاحب اور جناب اسماعیلی صاحب اور اس چینل میں کام کرنے والے دوسرے تمام حضرات کی خدمت میں سلام عرض کرتا ہوں۔ اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ آپ کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔

آج رات مجھے واقعا خوف تھا کہ شاید ہم کو بات کرنے کا موقع نہ مل سکے؛ قزوینی صاحب کے بیانات میرے دل میں گھر کر گئے اور انہوں نے زیارت قبور کے سلسلہ میں بہت اچھی باتیں بتائیں۔

میں جناب سے "تجلی ولایت" مسابقہ کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا کہ ہم نے جو میسج بھیجے ہیں ان کی پیمائش کس طرح سے ہو گی اس کے بارے کچھ توضیح دیں۔

مجری:

جناب ایمان صاحب اگر آپ اس بارے میں کنٹرول روم میں بیٹھے افراد سے معلوم کرتے تو وہ آپ کی راہنمائی کر دیتے۔

ناظر:

یہ میرا پہلا سوال تھا لیکن میرا دوسری سوال یہ ہے کہ کیا معاویہ کی قبر کی زیارت کے بارے میں بھی کوئی روایت وارد ہوئی ہے یا نہیں؟!

آج میں "کلمہ" چینل دیکھ رہا تھا اور قزوینی صاحب کے بقول "بے عقل عقیل"

آیت الله دکتر حسینی قزوینی:

ہم نے "بے عقل عقیل" نہیں کہا ہے بلکہ جناب "ملا زادہ" نے کہا ہے۔

ناظر:

ہاں؛ "بے عقل عقیل" آیہ ولایت کے بارے میں بات کر ریا تھا اور اس نے کہا: عکرمہ کا بیان ہے کہ یہ آیت "عبادہ بن صامت" کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

میری والدہ محترمہ خود علوم قرآن و حدیث کے سبجکٹ سے ماسٹرز کر رہی ہیں اور اس کا سافٹ ویر ان کے پاس موجود ہے

مجری:

ایمان صاحب جونکہ وقت بہت کم ہے اور آپ نے دو سوال بھی پوچھے ہیں، ان شاء اللہ استاد اس بارے میں توضیح دیں گے۔ ہم آپ سے خدا حافظی کر رہے ہیں، مسابقہ کے بارے میں آپ دوسرے حضرات سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

استاد کیا قبر معاویہ کی زیارت کے سلسلہ میں کوئی مطلب ہمارے پاس ہے؟!

آیت الله دکتر حسینی قزوینی:

ہم نے معاویہ کی قبر کے سلسلہ میں ایک کلپ دکھائی تھی کہ اس کی قبر پر لکھا تھا: "من زار قبری وجبت له شفاعتی" لیکن لوگوں نے اس کی قبر پر لکھ دیا: "هذا الکلب ابن الکلب".

مجری:

آیہ ولایت اور "عکرمہ" کے بارے میں بیان کریں۔

آیت الله دکتر حسینی قزوینی:

"عکرمہ" شخصیت کے لحاظ سے ایک فاسد انسان اور خوارج میں سے ہے۔ وہ جھوٹ بولنے میں شہرہ آفاق رہا ہے اور جب عرب کسی کو جھوٹ بولنے میں مثال دینا چاہتے تھے تو کہتے: یہ "عکرمہ" کی طرح جھوٹ بولتا ہے۔

آیت تطہیر اور پیغمبر کی بیویاں:

وہ کہتے ہیں: میں اس بات پر مباہلہ کرنے کے لئے حاضر ہوں کہ آیہ تطہیر پیغمبر کی ازواج کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ جب "صحیح مسلم" میں آیا ہے۔ "صحیح مسلم" میں "زید بن ارقم" سے سوال کیا:

«فَقُلْنَا من أَهْلُ بَیتِهِ نِسَاؤُهُ»

لوگوں نے پوچھا" پیغمبر کے اہل بیت ان کی بیویاں ہیں؟

«قال لَا وأیم اللَّهِ إِنَّ الْمَرْأَةَ تَکونُ مع الرَّجُلِ الْعَصْرَ من الدَّهْرِ ثُمَّ یطَلِّقُهَا فَتَرْجِعُ إلی أَبِیهَا»

کہا: نہیں اور خدا کی قسم ایک عورت ایک طویل مدت تک ایک آدمی کے ساتھ زندگی گزارتی ہے اور طلاق لے کر اپنے باپ کے گھر چلی جاتی ہے۔

صحیح مسلم، مؤلف: مسلم بن حجاج ابو الحسین قشیری نیشاپوری، ناشر: دار إحیاء التراث العربی - بیروت، تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی، ج 4، ص 1874، ح 2408

جرمنی کے یہ آوارہ کتے جو آیت کی بنسبت حضرت ابراہیم کو پکارتے ہیں، یہ "صحیح مسلم" ہے؛ پہلے اس مسئلہ کو حل کریں

اس کے بعد آیہ ولایت کی باری آتی ہے، یہ آیت اہل بیت عصمت و طہارت کے حق میں نازل ہوئی ہے۔

«والمعروف فی معظم الروایات فی غیر مسلم أنه قال نساؤه لسن من أهل بیته»

صحیح مسلم کے علاوہ اکثر روایات میں پیغمبر کی بیویاں اہلبیت کا جز نہیں قرار پائی ہیں۔

شرح صحیح مسلم، مؤلف: نووی، جلد: 15، وفات: 676، رده: مصادر حدیث سنی – فقه، خطی: خیر، سال: 1407 - 1987 م، ناشر: دار الکتاب العربی - بیروت – لبنان، ج 15، ص 180، باب من فضائل علی بن أبی طالب رضی الله عنه

وہابی متفکر "آلوسی" "روح المعانی" کی ۲۲ ویں جلد میں صراحت کے ساتھ لکھتا ہے:

«أن النساء المطهرات غیر داخلات فی أهل البیت الذین هم أحد الثقلین»

پیغمر کی ازواج پاک، اس اہلبیت میں جو ثقلین کا ایک جز ہے، شامل نہیں ہیں۔

روح المعانی؛ شهاب الدین سید محمود آلوسی بغدادی، ناشر: دار احیاء التراث العربی، بیروت، ج 22، ص 16

اس سے بھی زیادہ واضح اور روشن بیان کریں؛ یہ لوگ زبردستی مطالب کی تکذیب کرنا چاہتے ہیں۔ یہ آیت پنجتن پاک کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے؛ اسی طرح "صحیح مسلم" کی حدیث نمبر ۱۴۷۸ میں آیا ہے:

یہ آیت اس آیت (یا أَیهَا النبی قُلْ لِأَزْوَاجِک)  کے شان نزول کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو پیغمبر کی ازواج سے مربوط ہے جو کہتی ہے: ازواج پیغمبر، پیغمبر کے سلسلہ میں سخت رویہ رکھتی تھیں اور

«ثُمَّ اعْتَزَلَهُنَّ شَهْرًا أو تِسْعًا وَعِشْرِینَ»

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک مہینہ یا انتیس دن اپنی ازواج سے ناراض رہے

«ثُمَّ نَزَلَتْ علیه هذه الْآیةُ (یا أَیهَا النبی قُلْ لِأَزْوَاجِک)»

یہاں تک کہ آیہ شریفہ (یا أَیهَا النبی قُلْ لِأَزْوَاجِک)  نازل ہوئی

صحیح مسلم، مؤلف: مسلم بن حجاج ابو الحسین قشیری نیشاپوری، ناشر: دار احیاء التراث العربی - بیروت، تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی، ج 2، ص 1104، ح 1478

آیت 28سے آیہ 33 تک ان آیات کی شان نزول مشخص ہے اور آیت 33 کی شان نزول بھی مشخص ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ: "ہم شان نزول کے طابع ہیں" ان کو ان آیات کے شان نزول پر غور کرنا چاہئیے۔ ان آیات کی شان نزول ازواج پیغمبر سے مربوط ہے اور یہ واضح ہے اور آیت تطہیر کی شان نزول بھی روز روشن کی طرح واضح ہے

مشخص ہے کہ شیعہ اور اہل سنت دونوں کا ماننا ہے کہ آیات جدا جدا نازل ہوئی ہیں۔ پہلی آیت جو نازل ہوئی وہ

(اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّک الَّذی خَلَق)

اس خدا کا نام لے کر پڑھو جس نے پیدا کیا ہے

سوره علق (96): آیه 1

ہے جو قرآن کریم کے آخری پاروں میں ہے، سورہ حمد نزول کے لحاظ سے چودہواں یا پندرہواں سورہ ہے لیکن وہ قرآن کے آغاز میں موجود ہے، سورہ بقرہ قرآن کے شروع میں رکھا گیا ہے۔

مشخص ہے کہ کچھ آیات مکہ میں نازل ہوئی ہیں جن کے بارے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے: ان آیتوں کو مدنی سوروں میں قرار دو، اور کچھ آیتیں مدینہ میں نازل ہوئی ہیں لیکن پیغمبر نے فرمایا: ان آیتوں کو مکی سوروں میں قرار دو۔

اب اگر یہ کہیں: یہ تین آیتیں اس صورت میں ہیں اور دوسری آیتیں اس طرح سے "یا" فلاں مقام پر اہلبیت نے حضرت ابراہیم کے بارے میں اس طرح سے کہا ہے، یہ سب من گڑھنت باتیں ہیں اور یہ قرآن پر غلط، فاسد اور سنت کے مخالف عقائد کی تحمیل ہے۔

لوگ آئیں اور جواب دیں! ہم کچھ نہیں کہیں گے، ہمارے پاس کم سے کم 50 دلیلیں ہین جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ آیت اہل بیت کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ "ابو جعفر طحاوی" کی کتاب "شرح مشکل الآثار" میں ام سلمہ سے اسی مضمون کی ایک روایت ذکر ہوئی ہے:

«فقالت أَنْزَلَ اللَّهُ هذه الآیةَ إنَّمَا یرِیدُ اللَّهُ إلَی آخِرِهَا وما فی الْبَیتِ إِلاَّ جِبْرِیلُ وَرَسُولُ اللهِ وَعَلِی وَفَاطِمَةُ وَحَسَنٌ وَحُسَینٌ علیهم السلام»

جب آیہ (إنَّمَا یرِیدُ اللَّهُ) میرے گھر میں نازل ہوئی، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، امیر المومنین علیہ السلام فاطمہ سلام اللہ علیھا اور حسن و حسین علیھم السلام موجود تھے۔

«فَقُلْت یا رَسُولَ اللهِ أنا من أَهْلِ الْبَیتِ»

میں نے کیا یا رسول اللہ کیا میں بھی اہل بیت میں سے ہوں؟

«فقال إنَّ لَک عِنْدَ اللهِ خَیرًا»

آنحضرت نے فرمایا: تم خیر پر ہو،

« فَوَدِدْتُ أَنَّهُ قال نعم فَکانَ أَحَبَّ إلَی مِمَّا تَطْلُعُ علیه الشَّمْسُ وَتَغْرُبُ»

میں چاہتی تھی کہ کاش پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرما دیتے کہ تم بھی اہل یبت کا جز ہو، اور ہاں اگر وہ یہ کہہ دیتے تو وہ میرے لئے ہر اس چیز سے زیادہ قیمتی ہوتا جس پر سورج اپنی روشنی بکھیرتا ہے۔

شرح مشکل الآثار، مؤلف: ابو جعفر أحمد بن محمد بن سلامہ طحاوی، ناشر: مؤسسہ رسالت - لبنان/ بیروت - 1408 هـ - 1987 م، پہلا ایڈیشن، تحقیق: شعیب ارنؤوط، ج 2، ص 244

"تفسیر این کثیر دمشقی" میں عائشہ سے ایک روایت نقل کرتے ہیں اور لکھتے ہیں

«فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَ أَنَا مِنْ أَهْلِ بَيْتِكَ»

میں نے کہا: یا رسول اللہ کیا میں بھی اہلیبیت میں سے ہوں؟

«فَقَالَ: تَنَحَّيْ فَإِنَّكِ عَلَى خَيْر»

پیغمبر اسلام نے فرمایا: نہیں، میرے اہلبیت سے دور ہو جاؤ۔

تفسیر القرآن العظیم، مؤلف: اسماعیل بن عمر بن کثیر دمشقی ابو الفداء، ناشر: دار الفکر - بیروت – 1401، ج 3، ص 486، ح 296

یہ روایت خود عائشہ سے نقل ہوئی ہے؛ عائشہ کہتی ہیں: میں اہلبیت میں سے نہیں ہوں، ام سلمہ کہتی ہیں: میں اہلبیت میں سے نہیں ہوں، لیکن یہ وہابی زبردستی یہ کہہ رہے ہیں کہ: "یہ افراد ایلبیت میں سے ہیں"

مجری:

شکریہ؛ ان شاء اللہ ایمان صاحب کو اپنا جواب مل گیا ہوگا، آپ تمام ناظرین محترم کی توجہ اور عنایت کا شکرگزار ہوں، ان شاء اللہ آپ تمام حضرات اور دستوں کے حق میں استاد کی دعا کے ساتھ ہمارا یہ پرگرام اختتام پزیر ہوگا۔

آیت الله دکتر حسینی قزوینی:

خدایا تجھے واسطہ ہے محمد و آل محمد خصوصا پنجتن آل عبا کی عزت کا جن ہماری زبانیں ان عظیم ہستیوں کے پاک اسماء سے معطر ہوئیں اور وہ تمام گھر جنہوں نے ان روایات کو سنا پنجتن کے صدقہ میں معطر ہو گئے، تجھے قسم ہے ان پانچ انوار کا ہمارے مولا و آقا امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل فرما۔

خدایا تجھے قسم دیتے ہیں، امام زمانہ کے قلب کو ان کے ظہور کی نوید سے مسرور کر، ہم گناہگاروں کی آنکھوں کو امام زمانہ کے نورانی جمال کے دیدار سے منور کر دے، خدایا پنجتن پاک کے صدقہ میں مشکلات میں گرفتار تمام لوگوں کی مشکلات حل فرما۔

خدایا پنجتن آل عبا کے صدقے حاجت مندوں کی حاجت پوری فرما، ہماری اور "ولایت چینل" میں شامل افراد، ناظرین خاص کر ولایت کی کمک کرنے والے افراد کی دلی حاجات پوری فرما، ہماری دعائوں کو شرف قبولیت عطا کر۔

و السلام علیکم و رحمة الله و برکاتہ

مجری:

اللهم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجهم

آپ کی توجہات اور نگاہوں کا مشکور ہوں، آج کی ہماری بحث بہت اہم تھی اور ضرورت اس بات کی تھی کہ اس کو کسی نتیجہ تک پہونچا دیا جائے، اور ہم معافی چاہتے ہیں کہ آپ کی فون کال کا جواب نہیں دے سکیں اور آپ کی محبت بھری آواز کو نہ سن سکیں۔

حضرت حق کی پناہ اور امیر المومنین علیہ السلام کے سایہ میں سلامت رہیں۔

والسلام۔

 




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی