2017 March 29
امام رضا (ع) کی روایت کہ جس میں انھوں نے قرآن کو فقط راہ ہدایت کہا ہے، کیا یہ روایت، حدیث ثقلین کے ساتھ تعارض رکھتی ہے ؟
مندرجات: ٤٧٣ تاریخ اشاعت: ٢٤ December ٢٠١٦ - ١٣:٥١ مشاہدات: 185
سوال و جواب » شیعہ عقائد
جدید
امام رضا (ع) کی روایت کہ جس میں انھوں نے قرآن کو فقط راہ ہدایت کہا ہے، کیا یہ روایت، حدیث ثقلین کے ساتھ تعارض رکھتی ہے ؟

سوال:

امام رضا (ع) کی روایت کہ جس میں انھوں نے قرآن کو فقط راہ ہدایت کہا ہے، کیا یہ روایت، حدیث ثقلین کے ساتھ تعارض رکھتی ہے ؟

 توضيح سؤال:

شیخ صدوق کی کتاب توحید میں امام رضا (ع) سے ایک حدیث نقل ہوئی ہے کہ ظاہری طور پر یہ حدیث، حدیث ثقلین سے تعارض رکھتی ہے، امام رضا نے فرمایا ہے کہ:

حدثنا جعفر بن محمد بن مسرور رضي‌ الله‌ عنه ، قال : حدثنا محمد بن عبد الله ابن جعفر الحميري ، عن أبيه ، عن إبراهيم بن هاشم، عن الريان بن الصلت ، قال : قلت للرضا عليه ‌السلام : ما تقول في القرآن؟ فقال : كلام الله لا تتجاوزوه ، و لا تطلبوا الهدى في غيره فتضلوا.

یعنی فقط قرآن سے تمسک کرو اور اس سے تجاوز نہ کرو اور اگر قرآن کے علاوہ کسی دوسری چیز سے تمسک کرو گے تو، گمراہ ہو جاؤ گے۔

التوحيد شيخ صدوق ج 1 ص 224

امام رضا کی مراد اس روایت سے کیا ہے ؟ کیا فقط قرآن سے تمسک کر کے ہدایت کو طلب کرنا چاہیے، نہ کسی دوسری چیز سے ؟

 جواب:

اس سوال کے دو جواب دئیے جا سکتے ہیں:

پہلا جواب:

اسطرح کی روایات اہل بیت (ع) کی پیروی کرنے کی نفی نہیں کرتیں، یعنی ایک چیز کا ثابت ہونا یہ دوسری چیز کی نفی کرنا نہیں ہوتا۔ اسکا روایت کا یہ معنی نہیں ہے کہ ہم قرآن کے علاوہ کسی دوسرے کی پیروی نہ کریں، بلکہ اسطرح کی روایات قرآن کی پیروی کرنے کی تاکید پر دلالت کرتی ہیں۔ جسطرح کہ بعض اسکی طرح کی دوسری روایات میں اہل بیت کی پیروی کرنے پر تاکید کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر حدیث سفینہ کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔

حدیث سفینہ وہ معتبر حدیث ہے کہ جو کتب معتبر شیعہ میں ذکر ہوئی ہے، جیسے عيون اخبار الرضا شيخ صدوق اور امالی شيخ طوسی وغیرہ اور اسی طرح اہل سنت کی بعض معتبر کتب میں ذکر ہوئی ہے، جیسے فضائل الصحابہ احمد بن حنبل اور المستدرک علی الصحيحين حاکم نيشاپوری وغیرہ۔

یہ روایت چند صحابہ سے جیسے امام علی (ع)، ابوذر غفاری، ابن عباس اور انس بن مالک وغیرہ کے ذریعے سے متعدد اسناد اور مختلف الفاظ کے ساتھ رسول خدا (ص) سے نقل ہوئی ہے۔

مَثَلُ‏ أَهْلِ‏ بَيتِي‏ فِيكُمْ كَمَثَلِ سَفِينَةِ نُوحٍ مَنْ رَكِبَهَا (فيها) نَجَا وَ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرَق (هلک)۔

میرے اہل بیت کی مثال حضرت نوح کی کشتی کی طرح ہے، جو بھی اس میں سوار ہو گیا، وہ نجات پا جائے گا اور جو اسمیں سوار نہیں ہو گا، وہ غرق و ہلاک ہو جائے گا۔

الصفار، أبو جعفر محمد بن الحسن بن فروخ (متوفی290هـ) بصائر الدرجات، ص 317، تحقيق: تصحيح و تعليق و تقديم: الحاج ميرزا حسن كوچہ باغی، ناشر: منشورات الأعلمی – تهران،

الشيبانی، ابو عبد الله أحمد بن حنبل (متوفی241هـ)، فضائل الصحابہ، ج 2، ص 785، تحقيق د. وصی الله محمد عباس، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الأولى.

البغدادی، ابو بكر أحمد بن علی بن ثابت الخطيب (متوفی463هـ)، تاريخ بغداد، ج 12، ص 91، ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت.

الحاكم النيشاپوری، ابو عبد الله محمد بن عبد الله (متوفی405 هـ)، المستدرک علی الصحيحين، ج 2، ص 343، تحقيق: يوسف عبد الرحمن المرعشلی.

قابل توجہ ہے کہ حاکم نیشاپوری اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے کہ:

هذا حديث صحيح على شرط مسلم و لم يخرجاه۔

یہ روایت مسلم کی روایت کے صحیح ہونے کی شرائط کے مطابق ہے، لیکن اس نے اور بخاری نے اس حدیث کو اپنی اپنی کتاب میں ذکر نہیں کیا۔

یہ روايت دوسری کتب میں بھی مختلف الفاظ کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ مرحوم شیخ طوسی نے اس حدیث کو اسطرح نقل کیا ہے کہ :

من دخلها نجا  و من تخلف عنها غرق۔

ایک دوسری نقل کے مطابق ہے کہ:

من ركبها نجا ، و من تركها هلك.

 الأمالی، ص 482الطوسی، تحقيق : قسم الدراسات الاسلامية - مؤسسة البعثة، ناشر: دار الثقافة ـ قم ، الطبعة: الأولى، 1414هـ.

 مرحوم شیخ صدوق نے اس عبارت کے ساتھ نقل کیا ہے کہ:

مَنْ رَكِبَهَا نَجَا وَ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا زُجَ‏ فِي النَّار۔

ابی جعفر الصدوق، محمد بن علی بن الحسين بن بابويہ (متوفی381هـ)، عيون أخبار الرضا (ع) ج 1 ، ص 30، تحقيق: تصحيح و تعليق و تقديم: الشيخ حسين الأعلمی، ناشر: مؤسسة الأعلمی للمطبوعات - بيروت – لبنان،

جیسا کہ آپ نے مشاہدہ کیا ہے کہ اس روایت میں اہل بیت کے علاوہ کسی دوسرے کی پیروی کرنے کی نفی ہوئی ہے۔ یہ مطلب «من تخلف عنها غرق» «من تخلف عنها هلک» «من لم يدخلها هلک» «من تخلف عنها زج فی النار» کے الفاظ سے سمجھا جا سکتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ان دو طرح کی روایات میں سے کس پر عمل کرنا ہو گا ؟

جواب یہ ہے کہ اسطرح کی روایات ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتیں یعنی ان دو طرح کی روایات میں کسی قسم کا تعارض اور تضاد نہیں ہے، بلکہ ہر دو طرح کی روایات مناسبت کے لحاظ سے ان دو ( قرآن و اہل بیت ) میں سے ایک پر زیادہ تاکید کو بیان کرتیں ہیں، یعنی اس طرح کی روایات میں بعض میں قرآن کی پیروی کرنے پر زیادہ تاکید کی گئی اور بعض اسطرح کی دوسری روایات میں اہل بیت کی پیروی کرنے پر زیادہ تاکید کی گئی ہے، اور دونوں روایات کو جمع کرنے والی روایت وہی معروف اور مشھور روایت حدیث ثقلین ہے، کہ جس میں قرآن اور اہل بیت ہر دو کو ہادی اور راہنما کہا گیا ہے۔

دوسرا جواب:

تعارض کی صورت میں حدیث ثقلین مقدم ہو گی۔

فرض کریں کہ امام رضا (ع) سے نقل شدہ روایت اور حدیث ثقلین میں تعارض ہے، تو اسصورت میں یقینی طور پر حدیث ثقلین مقدم ہو گی، کیونکہ شیخ صدوق کی روایت، خبر واحد اور غیر قطعی ہے، جبکہ حدیث ثقلین متواتر اور یقینی ہے۔ خبر قطعی کا غیر قطعی پر مقدم ہونا عقلی اور واضح ہونے کے علاوہ علماء اسلامی کا مورد تائید اور متفقہ فیصلہ ہے۔ علماء نے اس کے بارے میں تعارض ادلّہ کے باب میں تفصیل سے بحث کی ہے۔ مثال کے طور پر مرحوم مظفر نے کتاب اصول الفقہ میں اس بارے میں کہا ہے کہ:

لا يتحقق هذا المعنى من التعارض إلا بشروط سبعة هي مقومات التعارض الاول: ألا يكون أحد الدليلين ... قطعيا لأنه لو كان أحدهما قطعيا فإنه يعلم منه كذب الآخر و المعلوم كذبه لا يعارض غيره.

تعارض موجود نہیں ہوتا مگر یہ کہ تعارض کی سات شرائط بھی پائی جاتی ہوں، پہلی شرط یہ ہے کہ ان دونوں دلیلوں میں سے کوئی ایک دلیل قطعی نہ ہو، کیونکہ اگر ان دونوں دلیلوں میں سے ایک دلیل قطعی اور دوسری غیر قطعی ہو تو، اس سے غیر قطعی دلیل کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے گا، اور جس دلیل کا کذب ہونا واضح ہو جائے گا تو وہ بالکل اپنے علاوہ دوسری دلیل سے تعارض کر ہی نہیں سکتی، کیونکہ تعارض تمام شرائط کی روشنی میں، دو قطعی دلیلوں کے درمیان ہوتا ہے، کبھی بھی ایک قطعی اور دوسری کذب روایت و حدیث میں تعارض ہو ہی نہیں سکتا۔

المظفر، الشيخ محمد رضا (متوفی1388هـ)، أصول الفقه، ج 3 ، ص 212، ناشر : مؤسسة النشر الإسلامی التابعة لجماعة المدرسين بقم المقدسہ،

شوکانی اہل سنت کے عالم نے اس موضوع کے بارے بحث کی ہے، قابل توجہ ہے کہ وہ اس بارے میں امام الحرمین کے قول سے اتفاق اور اجماع کا دعوی بھی نقل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ:

 و للترجيح شروط ... الثانی التساوی فی القوة فلا تعارض بين المتواتر و الاحاد بل يقدم المتواتر بالاتفاق كما نقله امام الحرمين.

ترجیح کے موجود ہونے کے لیے چند شرائط ہیں، دوسری شرط یہ ہے کہ دو دلیلیں قوت اور صحیح ہونے کے لحاظ سے مساوی ہوں، لھذا خبر متواتر اور خبر واحد میں کوئی تعارض نہیں ہو گا، بلکہ علماء کا اجماع ہے کہ اس صورت میں خبر متواتر مقدم ہو گی، جس طرح کہ امام الحرمین نے بھی اس اجماع کو نقل کیا ہے۔

الشوكانی، محمد بن علی بن محمد (متوفی 1255هـ)، إرشاد الفحول إلی تحقيق علم الأصول، ج 1، ص 455، تحقيق: محمد سعيد البدری ابو مصعب، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الأولى،

نتيجہ کلی:

جو کچھ بیان ہوا، ہم نے جانا کہ امام رضا (ع) سے نقل شدہ روایت اور حدیث ثقلین میں کسی قسم کا کوئی تعارض نہیں ہے، اور اگر فرض بھی کر لیں کہ تعارض ہے تو اس صورت میں قطعی اور یقینی طور پر حدیث ثقلین متواتر ہونے کی وجہ سے مقدم ہو گی۔

مورد بحث موضوع اور اس طرح کہ دوسرے تمام علمی موضوعات میں، یہ ایک علمی اور قاعدہ کلی ہے، کہ جس کو علماء نے کتب میں بیان کیا ہے۔ البتہ ہم نے بہت سادہ اور آسان الفاظ میں مطلب کو بیان کیا ہے تا کہ ہر سطح کے علم رکھنے والا انسان اس مطلب کو اچھی طرح سمجھ سکے۔

التماس دعا





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی