2017 August 22
23 ربیع الاول حضرت فاطمہ معصومہ (س) کا شہر قم میں تشریف آوری کا دن
مندرجات: ٤٧١ تاریخ اشاعت: ٢٢ December ٢٠١٦ - ١٣:٥٣ مشاہدات: 1205
یاداشتیں » پبلک
23 ربیع الاول حضرت فاطمہ معصومہ (س) کا شہر قم میں تشریف آوری کا دن

 بی بی معصومہ نے اپنے مبارک قدموں سے شہر قم کو متبرک فرمایا اور سعد اشعری کے بیٹے موسی ابن خزرج کی درخواست اور التماس پر، اس کے گھر میں چند دن قیام فرمایا۔

بی بی اسی گھر میں ہی تھیں کہ قم کی خواتین، ان کے پاس آتیں اور ان سے علمی اور اخلاقی استفادہ کرتیں، یہاں تک کہ بی بی معصومہ 17 دن اس گھر میں رہیں اور اسی گھر میں ہی دنیا سے چلی گئیں۔

 تقويم شيعه، صفحه 94

حضرت فاطمہ معصومہ(س) کا مشہور لقب كريمہ اہل بيت(ع) تھا۔ آپ امام موسی بن جعفر الكاظم(ع) کی بیٹی اور امام رضا (ع) کی سگی بہن تھیں۔ آپ کی شخصیت اہل بیت کے خاندان میں بہت ہی با فضیلت اور با کرامت تھی۔ آپ کا شمار ان امامزادوں میں ہوتا ہے جو شہر مقدس قم میں مدفون ہیں۔ انکے حرم کی زیارت کا ساری دنیا کے شیعوں کے نزدیک اپنا  ایک خاص مقام ہے۔ اسی وجہ سے ساری دنیا سے سارا سال شیعہ اس مقدس حرم کی زیارت کے لیے آتے رہتے ہیں۔ آئمہ معصومین سے روایات میں نقل ہوا ہے کہ:

آپکی زیارت معرفت کے ساتھ کرنے کا ثواب جنت ہے۔

بی بی کریمہ اہل بیت (ع) مدینہ میں دنیا میں آئيں اور سن 201 ہجری میں شہر طوس میں اپنے بھائی امام رضا (ع) کو ملنے کے ایران تشریف لائیں، لیکن راستے میں اس غمناک واقعے کے بعد، طوس میں اپنے بھائی سے ملاقات نہ کر سکیں اور شہر مقدس قم میں دنیا سے رخصت ہو گئیں۔

علماء اور بزرگان نے آپ کی شخصیت کی صفات کو بیان کیا ہے اور آپ سے روایات کو بھی نقل کیا ہے۔

وہ احادیث جو حضرت معصومہ(س) سے منقول ہیں:

اس حدیث کو حضرت فاطمہ معصومہ(س) نے امام صادق(ع) کی بیٹی سے نقل کیا ہے ۔ اس حدیث کی سند کا سلسلہ حضرت زہرا(س) پر اختتام پزیر ہوتا ہے۔

حدثتنی فاطمۃ و زینب و ام کلثوم بنات موسی بن جعفر قلن: عن فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم و رضی عنہا: قالت: "انسیتم قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یوم غدیر خم ، من کنت مولاہ فعلی مولاہ و قولہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، انت منی بمنزلۃ ہارون من موسی"

حضرت فاطمہ زہرا(س) نے فرمایا : کیا تم نے فراموش کر دیا ہے رسول خدا(ص) کے اس قول کو جسے آپ نے غدیر کے دن ارشاد فرمایا تھا کہ جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی(ع) بھی مولا ہیں۔

اور کیا تم نے رسول خدا(ص) کے اس قول کو فراموش کر دیا ہے کہ آپ(ص) نے علی(ع) کے لئے فرمایا تھا کہ آپ(ع) میرے لئے ایسے ہیں جیسے موسی(ع) کے لئے ہارون(ع) تھے۔

عوالم العلوم ج 21 ص 353

حضرت فاطمہ معصومہ(س) اسی طرح ایک اور حدیث حضرت امام صادق(س) کی بیٹی سے نقل کرتی ہیں اور اس حدیث کا سلسلہ سند بھی حضرت زہرا(س) پر اختتام پزیر ہوتا ہے ۔

عن فاطمۃ بنت موسی بن جعفر (ع): عن فاطمۃ بنت رسول اللہ (ص) : قالت : قال رسول اللہ (ص) :

اٴلا من مات علی حب آل محمد مات شہیدا۔

حضرت زہرا(س) نے فرمایا کہ رسول خدا (ص) فرماتے ہیں: آگاہ ہو جاوٴ کہ جو اہل بیت (ع) کی محبت دل میں لے کر اس دنیا سے اٹھتا ہے وہ شہید کی موت             دنیا سے اٹھتا ہے۔

ولادت اور نسب:

کتب متقدمین میں حضرت معصومہ (س) کی ولادت کا دن ذکر نہیں ہوا، لیکن کتب متاخرین میں انکی ولادت اول ذی القعده سال 173ق، شہر مدینہ میں ذکر ہوئی ہے۔

مستدرك سفينه البحار، ج 8 ، ص 261 .

شيخ مفيد نے امام کاظم (ع) کی بیٹیوں میں دو بیٹیوں کا نام فاطمہ صغری اور فاطمہ كبری ذكر کیا ہے

  الارشاد، ج 2 ، ص 244

 ابن جوزی نے امام کاظم کی بیٹیوں میں دو بیٹیوں کے علاوہ، فاطمہ وُسطی اور اُخری کا بھی نام ذکر کیا ہے۔

تذكرة الخواص، ص 315

 آپکی والدہ محترمہ نجمه خاتون ہیں کہ جو امام رضا (ع) کی بھی والدہ محترمہ ہیں۔

دلائل الامامه، ص 309

 اسماء اور القاب:

معصومہ آپ کا مشہور ترين نام يا لقب ہے، یہ نام یا لقب امام علی بن موسی الرضا(ع) سے منسوب روایت سے لیا گیا ہے، امام رضا (ع) نے فرمایا ہے کہ: جو بھی معصومہ کی شہر قم میں زیارت کرے گا، وہ اسکی طرح ہے کہ جس نے میری زیارت کی ہے۔

رياحين الشريعة، ج 5 ، ص 35

 اسی طرح یہ بھی نقل ہوا ہے کہ بی بی نے خود کو امام رضا (ع) کی مععصومہ بہن کہا ہے۔

دارالسلام، ج 2 ، ص 170

 اسکے علاوہ بی بی کے دوسرے القابات میں طاہره، حميده، بِرّه، رشيده، تقيہ، نقيہ، رضيہ، مرضيہ، سيده، اخت الرضا بھی کتب میں ذکر ہوئے ہیں.

انوار المشعشعين، ج 1 ، ص 211

 ایک زیارت نامے میں، انکے دو لقب صديقہ اور سيدة نساء العالمين بھی ذکر ہوئے ہیں.

زبدة التصانيف، ج 6 ، ص 159

حضرت معصومہ آج پوری دنیا میں كريمہ اہل بيت(ع) کے نام سے زیادہ مشہور و معروف ہیں۔

 بی بی فاطمہ معصومہ(س) کی صفات:

کتب تاریخی اور دینی میں ذکر ہوا ہے کہ امام موسی کاظم(ع) کی تمام اولاد میں سے امام رضا کے بعد کوئی بھی بی بی معصومہ کا ہم پلہ نہیں تھا۔

تواريخ النبی و الآل، ص 65

 شيخ عباس قمی نے کہا ہے کہ: امام موسی کاظم(ع) کی بیٹیوں میں سے سب سے زیادہ افضل سيده جليلہ معظمہ، فاطمہ ہیں کہ جو معصومہ کے نام سے بھی مشہور ہیں۔

منتهی الآمال، ج 2 ، ص 378

بی بی معصومہ(س) کا علمی مقام:

حضرت معصومہ(س) کے علمی مقام کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ:

 ایک دن کچھ شیعہ مدینہ میں آئے اور ان کے پاس چند سوالات تھے کہ وہ انکے جوابات کو امام کاظم(ع) سے پوچھنا چاہتے تھے۔ جب وہ شیعہ امام کاظم کے گھر آئے تو معلوم ہوا کہ وہ سفر پر مدینہ سے باہر گئے ہیں۔ اسی وجہ سے بی بی فاطمہ معصومہ(س) نے ان کے سوالات کے جواب لکھ کر انکو دے دئیے۔ جب وہ واپس مدینہ سے باہر جا رہے تھے تو راستے میں انکی امام کاظم سے ملاقات ہو گئی۔ امام کے پوچھنے پر انھوں نے سارا ماجرا امام کو بتا دیا۔ جب امام کاظم نے ان کے سوالات اور اپنی بیٹی معصومہ کے جوابات لے کر مشاہدہ کیا، تو تین مرتبہ فرمایا:

فِداها اَبوها یعنی اسکا باپ، اس پر قربان ہو جائے۔

كريمه اهل بيت، ص 63 و 64 به نقل از كشف اللئالی.

ایک معصوم امام کا کسی کے بارے میں یہ الفاظ استعمال کرنا، یہ اس انسان کی عظمت کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے۔

اتفاق سے انہی الفاظ کو رسول خدا(ص) نے اپنی بیٹی حضرت زہرا(س) کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔

اسی طرح فاطمہ معصومہ(س) سے بعنوان راوی چند روایات نقل ہوئی ہیں کہ جن میں آل محمد سے محبت کرنے، اور امیر المؤمنین علی اور شیعوں کا مقام بیان ہوا ہے۔

العوالم، ج 21 ، ص 354

بحارالانوار، ج 65 ، ص 76

 بی بی معصومہ(س) کا شادی نہ کرنا:

مؤرخ معروف یعقوبی کی نقل کے مطابق امام موسی بن جعفر (ع) نے وصيت فرمائی تھی کہ انکی بیٹیاں شادی نہ کریں۔

تاريخ يعقوبی، ج 3 ، ص 151

 لیکن بعض نے اس نقل کو جعلی قرار دیا ہے اور اسکو رد کیا ہے۔

حياة الامام موسی بن جعفر، ج2 ، ص 497

 امام کاظم(ع) نے اپنی تمام اولاد کو امام رضا(ع) کی اطاعت اور پیروی کرنے کی  وصیت اور تاکید کی تھی، اور نقل ہوا ہے کہ:

میری بیٹیوں میں سے کسی کی بھی شادی کرنا، ان کی ماں کی طرف سے بھائیوں، وقت کے حاکموں اور ان کے چچا کسی کو بھی امام رضا کے ساتھ مشورہ کیے بغیر کرنا منع ہے۔ ان میں سے اگر کوئی بھی امام رضا کے مشورے کے بغیر یہ کام کریں گے تو انھوں نے خداوند اور رسول خدا کے ساتھ مخالفت کی ہے اور خدا کی سلطنت میں خدا کے ساتھ مقابلہ کیا ہے، کیونکہ وہ ذات شادی اور دوسرے امور میں اپنے بندوں کے نفع اور نقصان کو بہتر جانتی ہے۔ پس وہ جس سے بھی چاہے گا، اس سے شادی کرے گا اور جس سے نہیں چاہے گا، اس سے شادی نہیں کرے گا۔

كافی، ج 1 ، ص 317

لیکن بی بی معصومہ کے شادی نہ کرنے کے بارے میں صحیح اور دقیق یہ قول ہے کہ ہارون الرشید اور مامون کے دور میں شیعوں اور علویوں پر اور خاص طور پر امام کاظم کی بہت سخت نگرانی کی جاتی تھی اور ان سب پر بہت سخت پہرہ تھا، اسی وجہ سے کوئی بھی اہل بیت کے خاندان کے قریب ہونے اور ان سے تعلقات بڑھانے کی کوشش اور جرات تک نہیں کرتا تھا۔

ایران کی طرف ہجرت اور شہر مقدس قم میں تشریف آوری:

صاحب كتاب تاريخ قم نے لکھا ہے کہ: سن 200 ہجری میں خلیفہ عباسی مامون نے امام علی بن موسی الرضا(ع) کو مدینہ سے مرو (خراسان) اپنا ولیعہد بنانے کے لیے  بلایا اور سن 201ہجری میں امام رضا کی بہن اپنے بھائی سے ملنے کے لیے مرو کی طرف روانہ ہوئیں۔

الغدير، ج 1 ، ص 170

 نقل ہوا ہے کہ حضرت فاطمہ معصومہ (س) نے امام رضا کے خط لکھنے اور ان کے بلانے پر یہ سفر شروع کیا تھا۔

من لايحضره الخطيب، ج 4 ، ص 461

حضرت معصومہ(س) اپنے رشتے داروں کے ساتھ ایک کاروان کی شکل میں ایران تشریف لائیں۔ اس طولانی سفر میں حضرت معصومہ، حضرت زینب کی طرح مختلف مقامات پر عام لوگوں کو علمی، دینی، معرفتی اور روشن فکری والی باتیں بتاتی رہیں۔

اسی روشن فکری کی وجہ سے جب یہ کاروان ساوہ کے مقام پر پہنچا تو اہل بیت کے دشمنوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں بی بی کے سارے بھائی اور بھائیوں کے بیٹے شہید ہو گئے۔ بی بی اپنے عزیزوں اور پیاروں کے جنازے خون میں غرق دیکھ کر بہت سخت بیمار ہو گئیں۔

قيام سادات علوی، ص 160

امام کی ہجرت کے ایک سال بعد بھائی کے دیدار کے شوق میں اور رسالت زینبی اور پیام ولایت کی ادائیگی کے لئے آپ (س) نے بھی وطن کو الوداع کہااور اپنے کچھ بھائیوں اور بھتیجوں کے ساتھ جانب خراسان روانہ ہوئیں۔ ہر شہر اور ہرمحلے میں آپ کا والہانہ استقبال ہورہاتھا، یہی وہ وقت تھا کہ جب آپ اپنی پھوپھی حضرت زینب (س) کی سیرت پرعمل کر کے مظلومیت کے پیغام اور اپنے بھائی کی غربت مومنین اور مسلمانوں تک پہنچا رہی تھیں اور اپنی و اہلبیت کی مخالفت کا اظہار بنی عباس کی فریبی حکومت سے کر رہی تھیں ،یہی وجہ تھی کہ جب آپ کا قافلہ شہر ساوہ پہنچا تو کچھ دشمنان اہلبیت (ع) جن کے سروں پر حکومت کا ہاتھ تھا راستے میں حائل ہو گئے اور حضرت معصومہ (س) کے کاروان سے ان بد کرداروں نے جنگ شروع کر دی ۔نتیجتاً کاروان کے تمام مردوں نے جام شہادت نوش فرمایا۔

 بہر کیف حضرت معصومہ (س) اس عظیم غم کے اثر سے یا زہر جفا کی وجہ سے بیمار ہو گئیں اب حالت یہ تھی کہ خراسان کے سفر کو جاری و ساری رکھنا نا ممکن ہو گیا لہٰذا شہر ساوہ سے شہر قم کا قصد کیا اور آپ نے پوچھا اس شہر (ساوہ)سے شہر قم کتنا فاصلہ ہے ۔اس دوری کو لوگوں نے آپ کو بتایا تو اس وقت آپ نے اپنے خادم سے فرمایا: مجھے قم لے چلو اس لئے کہ میں نے اپنے والد محترم سے سنا ہے کہ انھوں نے فرمایا :شہر قم ہمارے شیعوں کا مرکز ہے ،

حتی ایک نقل میں ذکر ہوا ہے کہ حضرت(س) معصومہ کو بھی دشمنوں نے زہر دیا تھا۔

تاريخ قم، ص 163

 ایک دوسرا قول یہ ہے کہ جب بی بی کی بیماری کی خبر آل سعد کو ملی تو انھوں نے ارادہ کیا کہ بی بی سے کہیں کہ وہ اس حالت میں اپنے سفر کو جاری نہ رکھیں اور شہر قم میں تشریف لے آئیں۔ اس کام کے لیے موسی بن خزرج کہ جو  اصحاب امام رضا(ع) میں سے تھا، اس نے سب پر سبقت کی اور سب سے پہلے بی بی معصومہ کی خدمت میں پہنچ گیا۔ اس نے بی بی کے شتر کی لگام کو تھاما اور انکو اپنے گھر شہر قم میں لے آيا۔

بحارالانوار، ج 48 ، ص 290

 بعض متاخر کتب میں بی بی معصومہ کی شہر قم میں تشریف آوری کو 23 ربیع الاول کہا گیا ہے۔

حضرت معصومه، فاطمه دوم ،ص111

 بی بی فاطمہ معصومہ 17 دن شہر قم میں موسی ابن خزرج کے گھر میں رہیں اور اس مدت میں وہ ہمیشہ خداوند کی عبادت میں مصروف رہتیں تھیں۔ اب یہ نورانی مکان شہر قم میں بیت النور کے نام سے مشہور ہے اور ساری دنیا سے آنے والے زائرین بی بی کے نورانی اور مقدس حرم کی زیارت کرنے کے ساتھ ساتھ بی بی کی اس عبادتگاہ کی بھی زیارت کرتے ہیں۔

منتهی الآمال، ج 2 ، ص 379

 بی بی فاطمہ معصومہ(س) کی وفات:

بی بی کی وفات کے بارے میں بھی کتب متقدمین میں کوئی ذکر نہیں ہوا، لیکن کتب متاخرین میں انکی شہادت 10 ربیع الثانی سن 201 ہجری کو ذکر کی گئی ہے۔ آپ کی 28 سال کی عمر میں شہادت ہوئی۔

انجم فروزان، ص 58

گنجينه آثار قم، ج 1 ص 386

 بعض نے 13 کی بجائے 12 ربیع الثانی کی تاریخ کو بھی ذکر کیا ہے۔

مستدرك سفينة البحار، ص 257

 شہر قم کے غیور شیعوں نے بی بی کے جنازے میں بھرپور شرکت کی اور بابلان کے مقام پر کہ جہاں اب بی بی معصومہ کا نورانی حرم ہے، کہ یہاں پر موسی ابن خزرج کا باغ تھا، بی بی کو دفن کیا گیا۔

نقل ہوا ہے کہ جب بی بی کو دفن کرنے کے لیے قبر کو تیار کیا گیا، اب یہ مسئلہ تھا کہ کون قبر میں جائے اور کون بی بی کو دفن کرے، سب نے آپس میں مشورہ کیا اور آخر کار ایک متقی اور پرہیزگار بوڑھے شخص کو، کہ جسکا نام قادر تھا، انتخاب کیا اور کسی کو بھیجا کہ جائے اور اس نیک انسان کو بلا کر لائے کہ اچانک دو بندے چہرے پر نقاب لگائے، گھوڑے پر سوار دور سے آتے ہوئے دکھائی دئیے اور انھوں نے آ کر بی بی کے کفن اور دفن کا سارا انتظام کیا۔ کفن اور دفن کرنے کے بعد وہ دو بندے کسی سے بات کیے بغیر گھوڑوں پر سوار ہو کر جہاں سے آئے تھے، وہاں واپس چلے گئے۔

تاريخ قم، ص 166

بحارالانوار، ج 48 ، ص 290

بی بی کو دفن کرنے کے بعد موسی ابن خزرج نے قبر پر بوریوں کا ایک سائبان بنایا اور جب سن 256 ہجری میں امام جواد(ع) کی بیٹی زینب اپنی پھوپھی کی قبر کی زیارت کے لیے شہر قم میں آئیں تو اس وقت بی بی معصومہ کی قبر پر قبہ تعمیر کیا گیا۔

اسی علامت کی وجہ سے اس عظیم خاتون کی تربت پاک محبان اہلبیت (ع) کے لئے قبلہ ہوگئی جہاں نماز مودت ادا کرنے کے لئے محبان اہلبیت (ع) جوق در جوق آنے لگے ۔ عاشقان ولایت وامامت کے لئے یہ بارگاہ دار الشفاء ہوگئی جس میں مضطرب دلوں کو سکون ملنے لگا ۔ مشکل کشاء کی بیٹی ،لوگوں کی بڑی بڑی مشکلوں کی مشکل کشائی کرتی رہیں اور نا امیدوں کے لئے مرکز امید بن  گئیں ۔

منتهی الآمال، ج 2 ، ص 379

 بی بی فاطمہ معصومہ(س) کی زیارت کی فضیلت:

بی بی معصومہ کی زیارت کے بارے میں آئمہ معصومین سے روایات نقل ہوئی ہیں۔

امام صادق(ع) سے اس بارے میں نقل ہوا ہے کہ:

روی عن القاضی نور اللہ عن الصادق (ع):

ان اللہ حرما و هو مکہ الا ان رسول اللہ حرما و هو المدینۃ اٴلا و ان لامیر الموٴمنین علیہ السلام حرما و هو الکوفہ الا و ان قم الکوفۃ الصغیرۃ اٴلا ان للجنۃ ثمانیہ ابواب ثلاثہ منها الی قم تقبض فیها امراٴۃ من ولدی اسمها فاطمۃ بنت موسی علیها السلام و تدخل بشفاعتها شیعتی الجنۃ باجمعهم ۔

اس بارے میں امام صادق نے فرمایا ہے کہ:

خداوند کا حرم، مکے میں ہے، رسول خدا (ص) کا حرم، مدینے میں ہے، امیر المؤمنین علی (ع) کا حرم، کوفے میں ہے، اور ہم اہل بیت کا حرم، قم میں ہے۔

قم ایک کوفہ صغیر ہے جنت کے آٹھ دروازوں میں سے تین قم کی جانب کھلتے ہیں ، پھر امام (ع) نے فرمایا: میری اولاد میں سے ایک عورت جس کی شہادت قم میں ہو گی اور اس کا نام فاطمہ بنت موسی ہو گا اور اس کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ جنت میں داخل ہوں گے۔

بحار الانوار ج60  ص 288

بحار الانوار، ج 48 ، ص 317

مستدرک سفينة البحار، ص 596

 النقض، ص 196

 ایک دوسری روایت میں امام صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ:

قال الصادق (ع) من زارها عارفا بحقها فله الجنۃ۔

امام صادق(ع) فر ماتے ہیں کہ جس نے معصومہ(س) کی زیارت اس کی شان و منزلت سے آگاہی رکھنے کے بعد کی تو اس کے لیے جنت ہو گی۔

بحار الانوار ج48 ص 307

عيون اخبارالرضا، ج 2 ، ص 271

مجالس المؤمنين، ج 1 ، ص 83

ایک دوسری جگہ امام صادق(ع) نے فرمایا ہے کہ:

اٴلا ان حرمی و حرم ولدی بعدی قم۔

امام صادق(ع) فرماتے ہیں آگاہ ہو جاوٴ میرا اور میرے بعد میرے بیٹوں کا حرم، قم ہے ۔

بحار الانوار ج60 ص 216

ایک دوسری روایت ہے کہ:

اسکی زیارت کرنا، جنت میں جانے کے برابر ہے۔

بحارالانوار، ج 57 ، ص 219

 امام رضا سے بھی نقل ہوا ہے کہ:

جو بھی اس (بی بی معصومہ) کی زیارت کرے تو گویا اس نے میری زیارت کی ہے۔

رياحين الشريعة، ج 5 ، ص 35

امام جواد(ع) نے فرمایا ہے کہ:

عن ابن الرضا علیهما السلام قال: من زار قبر عمتی بقم فله الجنۃ۔

 جو بھی میری پھوپھی حضرت معصومہ کی شہر قم میں قبر کی زیارت ان سے محبت اور معرفت کے ساتھ کرے گا، تو وہ شخص اہل بھشت میں سے ہو گا۔

كامل الزيارات، ص 536 ، ح 827

بحار الانوار، ج 102 ، ص 266

امام رضا(ع) نے بی بی معصومہ کی زیارت کے بارے میں فرمایا ہے کہ:

عن سعد عن الرضا (ع) قال : یا سعد من زارها فله الجنۃ۔

عن الرضا (ع) : عن سعد بن سعد قال : ساٴلت ابا الحسن الرضا (ع) عن فاطمۃ بنت موسی بن جعفر (ع) فقال : من زارها فله الجنۃ۔

سعد امام رضا(ع) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اے سعد جس نے حضرت معصومہ(س) کی زیارت کی اس پر جنت واجب ہے۔

سعد بن سعد سے نقل ہے کہ میں نے امام رضا(ع) سے فاطمہ معصومہ(س) کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا حضرت معصومہ(س) کی زیارت کا صلہ بہشت ہے ۔

کامل الزیارات،ص 324

حضرت معصومہ(س) کا مقام اور منزلت:

اب یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ بی بی معصومہ(س) کو معصومہ کا لقب کس نے دیا؟

معصومہ کا لقب حضرت امام رضا (ع) نے اپنی بہن کو عطا کیا۔ آپ اس طرح فرماتے ہیں:

من زار المعصومۃ بقم کمن زارنی۔

جس نے معصومہ(س) کی زیارت قم میں کی وہ اس طرح ہے کہ اس نے میری زیارت کی۔

ناسخ التواریخ ، ج3 ص 68

امام معصوم کی جانب سے حضرت کو یہ لقب ملنا آپ کی شان و منزلت کی بہترین دلیل ہے۔

امام رضا(ع) نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا کہ وہ شخص جو میری زیارت پر نہیں آ سکتا وہ میرے بھائی کی زیارت شہر ری میں اور میری بہن کی زیارت قم میں کرے تو وہ میری زیارت کا ثواب حاصل کر لے گا ۔

زبدۃ التصانیف ، ج6 ص 159

دوسرا لقب جو حضرت معصومہ(س) کا ہے وہ ہے کریمہ اہل بیت ، یہ لقب بھی ایک عظیم المرتبت عالم دین کے خواب کے ذریعے امام معصوم(ع) کی زبان اقدس سے معلوم ہوا۔

خواب کی تفصیل اس طرح ہے کہ مرحوم آیۃ اللہ سید محمود مرعشی نجفی جو کہ آیۃ اللہ سید شھاب الدین مرعشی کے والد بزرگوار تھے، اس عظیم ہستی کی دلی خواہش تھی کہ حضرت صدیقہ طاہرہ (س) کی قبر اطہر کاصحیح پتہ مل جائے آپ اس عظیم امر کی خاطر بہت پریشان رہا کرتے تھے ۔ لہٰذا آپ نے ایک عمل شروع کردیا اور چالیس روز تک ختم قرآن کا عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ دن بھی آ گیا کہ مرحوم نے اپنے اس چالیس روزہ عمل کا اختتام کیا،آپ کافی تھک چکے تھے لہٰذا آپ نیند کی آغوش میں چلے گئے اور کافی دیر تک آپ آرام فرماتے رہے دوران استراحت آپ کی زندگی کی وہ مبارک گھڑی بھی آ پہنچی جس کا انتظار ہر شیعیان علی (ع) کو رہتا ہے یعنی خواب کے عالم میں امام باقر(ع) یا امام صادق(ع) تشریف لے آئے اور آپ ان کی زیارت سے مشرف ہوئے اس وقت امام (ع) نے فرمایا:

علیک بکریمۃ اہل البیت۔ کریمہٴ اہل بیت(ع) کے دامن سے متمسک ہو جاوٴ۔

مرحوم آیۃ اللہ سید محمود مرعشی نجفی (رح) نے سمجھا کہ منظور امام (ع) حضرت زہرا (س) ہیں۔ مرحوم نے عرض کیا میں آپ پر فدا ہو جاوٴں اے میرے آقا ! میں نے یہ ختم قرآن کا عمل اسی وجہ سے کیا ہے کہ حضرت زہرا (س) کی قبر کا دقیق پتہ معلوم ہو جائے تا کہ بہتر طریقے سے ان کی قبر اطہرکی زیارت کر سکوں۔ اس وقت امام (ع) نے فرمایا میری مراد حضرت معصومہ(س) کی قبر شریف ہے جو کہ قم میں ہے ۔ پھر امام (ع) نے فرمایا :خدا نے کسی مصلحت کی بنیاد پر جناب زہرا (س) کی قبر شریف کو مخفی رکھا ہے اور اسی وجہ سے حضرت معصومہ (س) کی قبر اطہر کو تجلی گاہ قبر حضرت زہرا (س) قرار دیا ہے۔

اگر حضرت زہرا (س) کی قبر مبارک ظاہر ہوتی تو اس پر جس قدر نورانیت و جلالت دیکھنے کو ملتی اتنی ہی نورانیت و جلالت خداوند کریم نے حضرت معصومہ(س) کی قبر شریف کو عطا کی ہے۔

مرحوم مرعشی نجفی جیسے ہی خواب سے بیدار ہوئے آپ نے مصمم ارادہ کر لیا کہ جلد از جلد بارگاہ  معصومہ(س) میں حاضری دیں گے اپنے اس ارادہ کی تکمیل کی خاطر آپ نے سامان سفر باندھا اور زیارت حضرت معصومہ(س) کی خاطر نجف اشرف کو ترک کر ایران کے شہر مقدس قم میں آ گئے۔

کریمہ اہل بیت، ص43

التماس دعا





Share
1 | عاطفه زهرا | | ١٦:٢١ - ٢٢ December ٢٠١٦ |
Masha allah bibi karima e ahlebait ki bari fazilat hai bibi par darodo salam ho
اللهم عجل لولیک الفرج
Khud harme karima ahlebait naseeb e ma befarma ameen har che zod tar insha allah
   
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی