2017 December 12
23 ربیع الاول حضرت فاطمہ معصومہ (س) کا شہر قم میں تشریف آوری کا دن
مندرجات: ٤٧١ تاریخ اشاعت: ١٢ December ٢٠١٧ - ١٢:٠٠ مشاہدات: 1488
یاداشتیں » پبلک
23 ربیع الاول حضرت فاطمہ معصومہ (س) کا شہر قم میں تشریف آوری کا دن

 

بی بی معصومہ (س) نے اپنے مبارک قدموں سے شہر قم کو متبرک فرمایا اور سعد اشعری کے بیٹے موسی ابن خزرج کی درخواست اور التماس پر، اس کے گھر میں چند دن قیام فرمایا۔ بی بی اسی گھر میں ہی تھیں کہ قم کی خواتین، ان کے پاس آتیں اور ان سے علمی اور اخلاقی استفادہ کرتیں، یہاں تک کہ بی بی معصومہ 17 دن اس گھر میں رہیں اور اسی گھر میں ہی دنیا سے چلی گئیں۔

 تقويم شيعه، صفحہ 94

حضرت فاطمہ معصومہ(س) کا مشہور لقب كريمہ اہل بيت(ع) تھا۔ آپ امام موسی بن جعفر الكاظم(ع) کی بیٹی اور امام رضا (ع) کی سگی بہن تھیں۔ آپ کی شخصیت اہل بیت کے خاندان میں بہت ہی با فضیلت اور با کرامت تھی۔ آپ کا شمار ان امامزادوں میں ہوتا ہے کہ جو شہر مقدس قم (ایران) میں مدفون ہیں۔ انکے حرم کی زیارت کا ساری دنیا کے شیعوں کے نزدیک اپنا  ایک خاص مقام ہے۔ اسی وجہ سے ساری دنیا سے سارا سال شیعہ اس مقدس حرم کی زیارت کے لیے آتے رہتے ہیں۔ آئمہ معصومین (ع) سے روایات میں نقل ہوا ہے کہ:

آپکی زیارت معرفت کے ساتھ کرنے کا ثواب جنت ہے۔

بی بی کریمہ اہل بیت (ع) شہر مدینہ میں دنیا میں آئيں اور سن 201 ہجری میں شہر طوس میں اپنے بھائی امام رضا (ع) کو ملنے کے ایران تشریف لائیں، لیکن راستے میں اس غمناک واقعے کے بعد، طوس میں اپنے بھائی سے ملاقات نہ کر سکیں اور شہر مقدس قم میں دنیا سے رخصت ہو گئیں۔

علماء اور بزرگان نے آپ کی شخصیت کی اعلی صفات کو بیان کیا ہے اور آپ سے روایات کو بھی نقل کیا ہے۔

وہ احادیث جو حضرت معصومہ(س) سے منقول ہیں:

 

اس حدیث کو حضرت فاطمہ معصومہ(س) نے امام صادق(ع) کی بیٹی سے نقل کیا ہے ۔ اس حدیث کی سند کا سلسلہ حضرت زہرا(س) پر اختتام پزیر ہوتا ہے:

حدثتنی فاطمۃ و زینب و ام کلثوم بنات موسی بن جعفر قلن: عن فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم و رضی عنہا: قالت: "انسیتم قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یوم غدیر خم ، من کنت مولاہ فعلی مولاہ و قولہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، انت منی بمنزلۃ ہارون من موسی"

حضرت فاطمہ زہرا (س) نے انصار و مہاجرین سے فرمایا : کیا تم نے بھولا دیا ہے رسول خدا (ص) کے اس قول کو جسے انھوں نے غدیر کے دن ارشاد فرمایا تھا کہ جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی (ع) بھی مولا ہیں۔

اور کیا تم نے رسول خدا (ص) کے اس قول کو فراموش کر دیا ہے کہ آپ (ص) نے علی (ع) کے لیے فرمایا تھا کہ آپ (ع) میرے لیے ایسے ہیں جیسے موسی (ع) کے لیے  ہارون (ع) تھے۔

عوالم العلوم ج 21 ص 353

حضرت فاطمہ معصومہ (س) اسی طرح ایک اور حدیث حضرت امام صادق (س) کی بیٹی سے نقل کرتی ہیں اور اس حدیث کا سلسلہ سند بھی حضرت زہرا (س) پر اختتام پذیر ہوتا ہے :

عن فاطمۃ بنت موسی بن جعفر (ع): عن فاطمۃ بنت رسول اللہ (ص) : قالت : قال رسول اللہ (ص) :

اٴلا من مات علی حب آل محمد مات شہیدا۔

حضرت زہرا (س) نے فرمایا کہ رسول خدا (ص) فرماتے ہیں: آگاہ ہو جاوٴ کہ جو اہل بیت (ع) کی محبت دل میں لے کر اس دنیا سے اٹھتا ہے وہ شہید کی موت دنیا سے اٹھتا ہے۔

ولادت اور نسب:

کتب متقدمین میں حضرت معصومہ (س) کی ولادت کا دن ذکر نہیں ہوا، لیکن کتب متاخرین میں انکی ولادت اول ذی القعده سال 173ق، شہر مدینہ میں ذکر ہوئی ہے۔

مستدرك سفينه البحار، ج 8 ، ص 261 .

شيخ مفید نے امام کاظم (ع) کی بیٹیوں میں دو بیٹیوں کا نام فاطمہ صغری اور فاطمہ كبری ذكر کیا ہے

 الارشاد، ج 2 ، ص 244

 ابن جوزی نے امام کاظم (ع) کی بیٹیوں میں دو بیٹیوں کے علاوہ، فاطمہ وُسطی اور اُخری کا بھی نام ذکر کیا ہے۔

تذكرة الخواص، ص 315

آپکی والدہ محترمہ نجمہ خاتون ہیں کہ جو امام رضا (ع) کی بھی والدہ محترمہ ہیں۔

دلائل الامامه، ص 309

 اسماء اور القاب:

معصومہ آپ کا مشہور ترين نام يا لقب ہے، یہ نام یا لقب امام علی بن موسی الرضا(ع) سے منسوب روایت سے لیا گیا ہے، امام رضا (ع) نے فرمایا ہے کہ: جو بھی معصومہ کی شہر قم میں زیارت کرے گا، وہ اسکی طرح ہے کہ جس نے میری زیارت کی ہے۔

رياحين الشريعة، ج 5 ، ص 35

 اسی طرح یہ بھی نقل ہوا ہے کہ بی بی نے خود کو امام رضا (ع) کی مععصومہ بہن کہا ہے۔

دارالسلام، ج 2 ، ص 170

اسکے علاوہ بی بی کے دوسرے القابات میں طاہره، حميده، بِرّه، رشيده، نقیہ، تقیہ،  رضيہ،  مرضيہ،  سيده،  اخت الرضا بھی کتب میں ذکر ہوئے ہیں.

انوار المشعشعين، ج 1 ، ص 211

ایک زیارت نامے میں، انکے دو لقب صدیقہ اور سيدة نساء العالمین بھی ذکر ہوئے ہیں۔

زبدة التصانيف، ج 6 ، ص 159

حضرت معصومہ آج پوری دنیا میں كريمہ اہل بيت (ع) کے نام سے زیادہ مشہور و معروف ہیں۔

 بی بی فاطمہ معصومہ(س) کی صفات:

کتب تاریخی اور دینی میں ذکر ہوا ہے کہ امام موسی کاظم(ع) کی تمام اولاد میں سے امام رضا (ع) کے بعد کوئی بھی بی بی معصومہ (س) کا ہم پلہ نہیں تھا۔

تواريخ النبی و الآل، ص 65

شيخ عباس قمی نے کہا ہے کہ: امام موسی کاظم(ع) کی بیٹیوں میں سے سب سے زیادہ افضل سيده،  جلیلہ، فاطمہ ہیں کہ جو معصومہ کے نام سے بھی مشہور ہیں۔

منتهی الآمال، ج 2 ، ص 378

بی بی معصومہ(س) کا علمی مقام:

حضرت معصومہ(س) کے علمی مقام کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ:

 ایک دن کچھ شیعہ مدینہ میں آئے اور ان کے پاس چند سوالات تھے کہ وہ انکے جوابات کو امام کاظم(ع) سے پوچھنا چاہتے تھے۔ جب وہ شیعہ امام کاظم کے گھر آئے تو معلوم ہوا کہ وہ سفر پر مدینہ سے باہر گئے ہیں۔ اسی وجہ سے بی بی فاطمہ معصومہ(س) نے ان کے سوالات کے جواب لکھ کر انکو دے دئیے۔ جب وہ واپس مدینہ سے باہر جا رہے تھے تو راستے میں انکی امام کاظم سے ملاقات ہو گئی۔ امام کے پوچھنے پر انھوں نے سارا ماجرا امام کو بتا دیا۔ جب امام کاظم نے ان کے سوالات اور اپنی بیٹی معصومہ کے جوابات لے کر مشاہدہ کیا، تو تین مرتبہ فرمایا:

فِداها اَبوها یعنی اسکا باپ، اس پر قربان ہو جائے۔

كريمه اهل بيت، ص 63 و 64 به نقل از كشف اللئالی.

قابل ذکر ہے کہ اسی کلام کو خود رسول خدا (ص) نے اپنی بیٹی حضرت زہرا (س) کے لیے بھی کئی مرتبہ بولا تھا۔

ایک معصوم امام کا کسی کے بارے میں یہ الفاظ استعمال کرنا، یہ اس انسان کی عظمت کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے۔

اسی طرح فاطمہ معصومہ(س) سے بعنوان راوی چند روایات نقل ہوئی ہیں کہ جن میں آل محمد سے محبت کرنے، اور امیر مولا علی (ع) اور شیعیان کا مقام بیان ہوا ہے۔

العوالم، ج 21 ، ص 354

بحارالانوار، ج 65 ، ص 76

بی بی معصومہ(س) کا شادی نہ کرنا:

مؤرخ معروف یعقوبی کی نقل کے مطابق امام موسی بن جعفر (ع) نے وصيت فرمائی تھی کہ انکی بیٹیاں شادی نہ کریں۔

تاريخ يعقوبی، ج 3 ، ص 151

لیکن بعض نے اس نقل کو جعلی قرار دیا ہے اور اسکو رد کیا ہے۔

حياة الامام موسی بن جعفر، ج2 ، ص 497

امام کاظم(ع) نے اپنی تمام اولاد کو امام رضا(ع) کی اطاعت اور پیروی کرنے کی وصیت اور تاکید کی تھی، اور نقل ہوا ہے کہ:

میری بیٹیوں میں سے کسی کی بھی شادی کرنا، ان کی ماں کی طرف سے بھائیوں، وقت کے حاکموں اور ان کے چچا کسی کو بھی امام رضا کے ساتھ مشورہ کیے بغیر کرنا منع ہے۔ ان میں سے اگر کوئی بھی امام رضا کے مشورے کے بغیر یہ کام کریں گے تو انھوں نے خداوند اور رسول خدا کے ساتھ مخالفت کی ہے اور خدا کی سلطنت میں خدا کے ساتھ مقابلہ کیا ہے، کیونکہ وہ ذات شادی اور دوسرے امور میں اپنے بندوں کے نفع اور نقصان کو بہتر جانتی ہے۔ پس وہ جس سے بھی چاہے گا، اس سے شادی کرے گا اور جس سے نہیں چاہے گا، اس سے شادی نہیں کرے گا۔

كافی، ج 1 ، ص 317

لیکن بی بی معصومہ کے شادی نہ کرنے کے بارے میں صحیح اور دقیق یہ قول ہے کہ ہارون الرشید اور مامون کے دور میں شیعوں اور علویوں  پر اور خاص طور پر امام کاظم (ع) کی بہت سخت نگرانی کی جاتی تھی اور ان سب پر بہت سخت پہرہ تھا، اسی وجہ سے کوئی بھی اہل بیت کے خاندان کے قریب ہونے اور ان سے تعلقات بڑھانے کی کوشش اور جرات تک نہیں کرتا تھا۔

بی بی معصومہ (س) کا ایران کی طرف ہجرت کرنا اور شہر مقدس قم میں تشریف آوری:

صاحب كتاب تاريخ قم نے لکھا ہے کہ: سن 200 ہجری میں خلیفہ عباسی مامون نے امام علی بن موسی الرضا(ع) کو مدینہ سے مرو (خراسان) اپنا ولیعہد بنانے کے لیے بلایا اور سن 201ہجری میں امام رضا کی بہن اپنے بھائی سے ملنے کے لیے مرو کی طرف روانہ ہوئیں۔

الغدير، ج 1 ، ص 170

نقل ہوا ہے کہ حضرت فاطمہ معصومہ (س) نے امام رضا کے خط لکھنے اور ان کے بلانے پر یہ سفر شروع کیا تھا۔

من لايحضره الخطيب، ج 4 ، ص 461

حضرت معصومہ(س) اپنے رشتے داروں کے ساتھ ایک کاروان کی شکل میں ایران تشریف لائیں۔ اس طولانی سفر میں حضرت معصومہ، حضرت زینب کی طرح راستے میں مختلف مقامات پر لوگوں کو رسول خدا (ص) کے اہل بیت اور انکے علمی، دینی، معرفتی مقامات ، امامت و ولایت کے معنی و مفہوم کو، امام حق و امام باطل کے بارے میں اور روشن فکری والی باتیں بتاتی رہیں۔

اسی روشن فکری کی وجہ سے جب یہ کاروان ساوہ کے مقام پر پہنچا تو اہل بیت کے دشمنوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں بی بی کے سارے بھائی اور بھائیوں کے بیٹے شہید ہو گئے۔ بی بی اپنے عزیزوں اور پیاروں کے جنازے خون میں غرق دیکھ کر بہت سخت بیمار ہو گئیں۔

قيام سادات علوی، ص 160

امام کی ہجرت کے ایک سال بعد بھائی کے دیدار کے شوق میں اور رسالت زینبی اور پیام ولایت کی ادائیگی کے لئے آپ (س) نے بھی وطن کو الوداع کہااور اپنے کچھ بھائیوں اور بھتیجوں کے ساتھ جانب خراسان روانہ ہوئیں۔ ہر شہر اور ہرمحلے میں آپ کا والہانہ استقبال ہورہاتھا، یہی وہ وقت تھا کہ جب آپ اپنی پھوپھی حضرت زینب (س) کی سیرت پرعمل کر کے مظلومیت کے پیغام اور اپنے بھائی کی غربت مومنین اور مسلمانوں تک پہنچا رہی تھیں اور اپنی و اہلبیت کی مخالفت کا اظہار بنی عباس کی فریبی حکومت سے کر رہی تھیں ،یہی وجہ تھی کہ جب آپ کا قافلہ شہر ساوہ پہنچا تو کچھ دشمنان اہلبیت (ع) جن کے سروں پر حکومت کا ہاتھ تھا راستے میں حائل ہو گئے اور حضرت معصومہ (س) کے کاروان سے ان بد کرداروں نے جنگ شروع کر دی۔ نتیجتاً کاروان کے تمام مردوں نے جام شہادت نوش فرمایا۔

سیده  معصومہ  (س)نے بهی قم کا انتخاب کیا:

 

 بہر کیف حضرت معصومہ (س) اس عظیم غم کے اثر سے یا زہر جفا کی وجہ سے بیمار ہو گئیں اب حالت یہ تھی کہ خراسان کے سفر کو جاری و ساری رکھنا نا ممکن ہو گیا لہٰذا شہر ساوہ سے شہر قم کا قصد کیااور آپ نے پوچھا اس شہر (ساوہ)سے شہر قم کتنا فاصلہ ہے ۔اس دوری کو لوگوں نے آپ کو بتایا تو اس وقت آپ نے اپنے خادم سے فرمایا: مجھے قم لے چلو اس لیے کہ میں نے اپنے والد محترم سے سنا ہے کہ  شہر قم ہمارے شیعوں کا مرکز ہے ،

حتی ایک نقل میں ذکر ہوا ہے کہ حضرت(س) معصومہ کو بھی دشمنوں نے زہر دیا تھا۔

تاريخ قم، ص 163

ایک دوسرا قول یہ ہے کہ جب بی بی کی بیماری کی خبر آل سعد کو ملی تو انھوں نے ارادہ کیا کہ بی بی سے کہیں کہ وہ اس حالت میں اپنے سفر کو جاری نہ رکھیں اور شہر قم میں تشریف لے آئیں۔ اس کام کے لیے موسی بن خزرج کہ جو  اصحاب امام رضا(ع) میں سے تھا، اس نے سب پر سبقت کی اور سب سے پہلے بی بی معصومہ کی خدمت میں پہنچ گیا۔ اس نے بی بی کے شتر کی لگام کو تھاما اور انکو اپنے گھر شہر قم میں لے آيا۔

بزرگان قم جب اس پر مسرت خبر سے مطلع ہوئے تو سیدہ کے استقبال کے لیے دوڑ پڑے، موسیٰ بن خزرج اشعری نے اونٹ کی زمام ہاتھوں میں سنبھالی اور فاطمہ معصومہ(س) اہل قم کے عشق اہل بیت سے لبریز سمندر کے درمیان وارد ہوئیں۔موسیٰ بن خزرج کے ذاتی مکان میں نزول اجلال فرمایا۔

تاریخ قدیم قم ص 213

 

بحار الانوار، ج 48 ، ص 290 ، ج 57 ص 219

بعض متاخر کتب میں بی بی معصومہ (س) کی شہر قم میں تشریف آوری کو 23 ربیع الاول کہا گیا ہے۔

حضرت معصومه، فاطمه دوم ،ص111

بی بی فاطمہ معصومہ 17 دن شہر قم میں موسی ابن خزرج کے گھر میں رہیں اور اس مدت میں وہ ہمیشہ خداوند کی عبادت میں مصروف رہتیں تھیں۔ اب یہ نورانی مکان شہر قم میں بیت النور کے نام سے مشہور ہے اور ساری دنیا سے آنے والے زائرین بی بی کے نورانی اور مقدس حرم کی زیارت کرنے کے ساتھ ساتھ بی بی کی اس عبادتگاہ کی بھی زیارت کرتے ہیں۔

منتهی الآمال، ج 2 ، ص 379

 بی بی فاطمہ معصومہ(س) کی وفات:

بی بی کی وفات کے بارے میں بھی کتب متقدمین میں کوئی ذکر نہیں ہوا، لیکن کتب متاخرین میں انکی شہادت 10 ربیع الثانی سن 201 ہجری کو ذکر کی گئی ہے۔ آپ کی 28 سال کی عمر میں شہادت ہوئی۔

انجم فروزان، ص 58

گنجينه آثار قم، ج 1 ص 386

 بعض نے 13 کی بجائے 12 ربیع الثانی کی تاریخ کو بھی ذکر کیا ہے۔

مستدرك سفينة البحار، ص 257

شہر قم کے غیور شیعوں نے بی بی کے جنازے میں بھرپور شرکت کی اور بابلان کے مقام پر کہ جہاں اب بی بی معصومہ کا نورانی حرم ہے، کہ یہاں پر موسی ابن خزرج کا باغ تھا، بی بی کو دفن کیا گیا۔

نقل ہوا ہے کہ جب بی بی کو دفن کرنے کے لیے قبر کو تیار کیا گیا، اب یہ مسئلہ تھا کہ کون قبر میں جائے اور کون بی بی کو دفن کرے، سب نے آپس میں مشورہ کیا اور آخر کار ایک متقی اور پرہیزگار بوڑھے شخص کو، کہ جسکا نام قادر تھا، انتخاب کیا اور کسی کو بھیجا کہ جائے اور اس نیک انسان کو بلا کر لائے کہ اچانک دو بندے چہرے پر نقاب لگائے، گھوڑے پر سوار دور سے آتے ہوئے دکھائی دئیے اور انھوں نے آ کر بی بی کے کفن اور دفن کا سارا انتظام کیا۔ کفن اور دفن کرنے کے بعد وہ دو بندے کسی سے بات کیے بغیر گھوڑوں پر سوار ہو کر جہاں سے آئے تھے، وہاں واپس چلے گئے۔

تاريخ قم، ص 166

بحار الانوار، ج 48 ، ص 290

بی بی کو دفن کرنے کے بعد موسی ابن خزرج نے قبر پر بوریوں کا ایک سائبان بنایا اور جب سن 256 ہجری میں امام جواد(ع) کی بیٹی زینب اپنی پھوپھی کی قبر کی زیارت کے لیے شہر قم میں آئیں تو اس وقت بی بی معصومہ کی قبر پر قبہ تعمیر کیا گیا۔

اسی علامت کی وجہ سے اس عظیم خاتون کی تربت پاک محبان اہلبیت (ع) کے لیے قبلہ ہوگئی جہاں نماز مودت ادا کرنے کے لئے محبان اہلبیت (ع) جوق در جوق آنے لگے ۔ عاشقان ولایت وامامت کے لیے یہ بارگاہ دار الشفاء ہوگئی جس میں مضطرب دلوں کو سکون ملنے لگا ۔ مشکل کشاء کی بیٹی ،لوگوں کی بڑی بڑی مشکلوں کی مشکل کشائی کرتی رہیں اور نا امیدوں کے لیے مرکز امید بن گئیں ۔

منتهی الآمال، ج 2 ، ص 379

بی بی فاطمہ معصومہ(س) کی زیارت کی فضیلت:

بی بی معصومہ (س) کی زیارت کے بارے میں آئمہ معصومین سے روایات نقل ہوئی ہیں۔

امام صادق(ع) سے اس بارے میں نقل ہوا ہے کہ:

روی عن القاضی نور اللہ عن الصادق (ع):

ان اللہ حرما و هو مکہ الا ان رسول اللہ حرما و هو المدینۃ اٴلا و ان لامیر الموٴمنین علیہ السلام حرما و هو الکوفہ الا و ان قم الکوفۃ الصغیرۃ اٴلا ان للجنۃ ثمانیہ ابواب ثلاثہ منها الی قم تقبض فیها امراٴۃ من ولدی اسمها فاطمۃ بنت موسی علیها السلام و تدخل بشفاعتها شیعتی الجنۃ باجمعهم ۔

اس بارے میں امام صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ:

خداوند کا حرم، مکے میں ہے، رسول خدا (ص) کا حرم، مدینے میں ہے، امیر المؤمنین علی (ع) کا حرم، کوفے میں ہے، اور ہم اہل بیت کا حرم، قم میں ہے۔

روایات میں ہے کہ : قم ایک کوفہ صغیر ہے جنت کے آٹھ دروازوں میں سے تین قم کی جانب کھلتے ہیں ، پھر امام (ع) نے فرمایا: میری اولاد میں سے ایک عورت جس کی شہادت قم میں ہو گی اور اس کا نام فاطمہ بنت موسی ہو گا اور اس کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ جنت میں داخل ہوں گے۔

یہی والی روایت ان الفاظ سے بھی نقل ہوئی ہے:

انَّ جماعۃً مِن اہلِ الرَّی دخلوا علی ابی عبدِ اللہِ الصادقِ عَلیہِ السلامُ و قالوا نحنُ اھلُ الرَّی، فَقالَ علیہِ السّلامُ : مَرحباً بِاخواننا من اھلِ قُم، فقالوا : نحنُ مِن اھلُ الرَّی فاعادَ علیہ السّلامُ  الکلامَ ، قالوا ذلک مِراراً و اجابھم بِمِثلِ ما اجابَ بہ اوّلاً، فقال علیہ السّلامُ : اِنّ لِلہِ حرماً و ھو مکَۃُ  و اِنّ لِلرّسولِ حرما ًو ھو المَدینۃُ ، و انَّ لِاَمیرِ المؤمنینَ حَرَمًا و ھو الکُوفۃُ ،و انّ لَنا حَرماً و ھو بلدۃُ قُم ، و ستُدفَنُ فیھا امراۃٌ مِن اَولادی تُسمّی  فاطِمۃَ، فَمن زارھا وَجَبَت لہُ الجَنّۃُ ؛

شہر ری کی ایک جماعت نے ، امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں شرف یاب ہوکرعرض کیا: ہم شہر ری سے آپکی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں ، لیکن امام علیہ السلام نےفرمایا: اللہ بھلاکرے ہمارے شہر قم سے آئے ہوئے دوستوں کا، تو انھوں نے دوبارہ عرض کی: ہمارا تعلق شہرری سے ہے، امام علیہ السّلام نےبھی کئی مرتبہ اپنا کلام تکرارکرنے کے بعدفرمایا: خداوند عالم کا حرم، شہر مکّہ ہے، رسول خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ کا حرم ،شہرمدینہ ہے، امیرالمؤمنین علیہ السلام کاحرم، شہرکوفہ ہے، اور ہمارا حرم، شہر قم ہے، عنقریب میرے فرزندوں میں سے فاطمہ نام کی  ایک بیٹی اس سرزمین میں دفن ہوگی جوشخص اس شہر میں اس کی زیارت کرےگا بہشت اس کے لیےواجب ہوجائے گی۔

معلوم ہوتاہے کہ ری کے قم مقدسہ سے قریب ہونے کی وجہ سے اہل ری کو قم کے علاقے سے منسوب فرمایاہے چونکہ قم مقدسہ حرم اہلبیت (ع) قرار پانے کی وجہ سے مرکزیت رکھتاہے۔

بحار الانوار ج60  ص 288

بحار الانوار، ج 48 ، ص 317

مستدرک سفينة البحار، ص 596

 النقض، ص 196

معرفتی نکتہ: جنت کے دروازوں کا شہر قم کی طرف کھلنے کا مطلب علماء نے  روایات کے مطابق بیان کیا ہے کہ:

 اس شہر میں موجود شیعہ علمی مرکز (حوزہ علمیہ قم) سے علم علماء کے ذریعے سے پوری دنیا کے کونے کونے میں پہنچے اور پھیلے گا، حتی پردے میں بیٹھی ہوئی خواتین تک بھی اس شہر سے علم و معرفت پہنچے گی، جسکی وجہ سے بہت سے لوگ علم و معرفت کے عبادت کریں گے اور اسی عبادت اور ثواب کی وجہ سے جنت الفردوس میں داخل ہوں گے۔

ایک دوسری روایت میں امام صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ:

قال الصادق (ع) من زارها عارفا بحقها فله الجنۃ۔

امام صادق (ع) فرماتے ہیں کہ جس نے معصومہ (س) کی زیارت اس کی شان و منزلت سے آگاہی رکھنے کے بعد کی تو اس کے لیے جنت ہو گی۔

بحار الانوار ج48 ص 307

عيون اخبار الرضا، ج 2 ، ص 271

مجالس المؤمنين، ج 1 ، ص 83

ایک دوسری جگہ امام صادق(ع) نے فرمایا ہے کہ:

اٴلا ان حرمی و حرم ولدی بعدی قم۔

امام صادق(ع) فرماتے ہیں آگاہ ہو جاوٴ میرا اور میرے بعد میرے بیٹوں کا حرم، قم ہے ۔

بحار الانوار ج60 ص 216

ایک دوسری روایت ہے کہ:

اسکی زیارت کرنا، جنت میں جانے کے برابر ہے۔

بحارالانوار، ج 57 ، ص 219

 امام رضا (ع) سے بھی نقل ہوا ہے کہ:

جو بھی اس (بی بی معصومہ) کی زیارت کرے تو گویا اس نے میری زیارت کی ہے۔

رياحين الشريعة، ج 5 ، ص 35

امام جواد(ع) نے فرمایا ہے کہ:

عن ابن الرضا علیهما السلام قال: من زار قبر عمتی بقم فله الجنۃ۔

جو بھی میری پھوپھی حضرت معصومہ کی شہر قم میں قبر کی زیارت ان سے محبت اور معرفت کے ساتھ کرے گا، تو وہ شخص اہل بہشت میں سے ہو گا۔

كامل الزيارات، ص 536 ، ح 827

بحار الانوار، ج 102 ، ص 266

امام رضا (ع) نے  بی بی  معصومہ کی زیارت کے بارے میں فرمایا ہے کہ:

عن سعد عن الرضا (ع) قال : یا سعد من زارها فله الجنۃ۔

عن الرضا (ع) : عن سعد بن سعد قال : ساٴلت ابا الحسن الرضا (ع) عن فاطمۃ بنت موسی بن جعفر (ع) فقال : من زارها فله الجنۃ۔

سعد امام رضا(ع) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اے سعد جس نے حضرت معصومہ(س) کی زیارت کی اس پر جنت واجب ہے۔

سعد بن سعد سے نقل ہے کہ میں نے امام رضا(ع) سے فاطمہ معصومہ(س) کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا حضرت معصومہ(س) کی زیارت کا صلہ بہشت ہے ۔

کامل الزیارات،ص 324

احادیث کی مختصر شرح  و تفسیر:

گو کہ یہ ساری احادیث حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی عظمت کی دلیل ہیں مگر ان روایات میں بعض نکات قابل تشریح ہیں؛ جیسے:

جنت کا واجب ہونا، جنت کے برابر ہونا، بہشت کا مالک ہوجانا، جو لفظ (لہ) سے سمجها جاتا ہے اور ان کی زیارت کا حضرت رضا علیہ السلام کی زیارت کے برابر ہونا اور حضرت رضا علیہ السلام کا اس شیعہ مؤمن سے بازخواست کرنا، جس نے حضرت معصومہ سلام الله علیہا کی زیارت نہیں کی تهی۔

حضرت معصومہ علیہا السلام کی زیارت کی سفارش صرف ایک امام نے نہیں فرمائی ہے بلکہ تین اماموں (علیہم السلام) نے ان کی زیارت کی سفارش فرمائی ہے: امام صادق، امام رضا و امام جواد علیہم السلام۔ اور دلچسپ امر یہ کہ امام صادق علیہ السلام نے حضرت معصومہ کی ولادت با سعادت سے بہت عرصہ پہلے بلکہ آپ(س) کے والد امام کاظم علیہ السلام کی ولادت سے بهی پہلے ان کی زیارت کی سفارش فرمائی ہے۔

دوسرا دلچسپ نکتہ پانچویں روایت ہے جس میں حضرت معصومہ کی زیارت امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے ہم پلہ قرار دیا گیا ہے۔

زید شحّام نے امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا: یا بن رسول الله جس شخص نے آپ میں سے کسی ایک کی زیارت کی اس کی جزا کیا ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا:

جس نے ہم میں سے کسی ایک کی زیارت کی  کمن زار رسول الله (ص) وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے رسول خدا صلی الله و علیہ و آلہ کی زیارت کی ہو۔

 چنانچہ جس نے سیده معصومہ(س) کی زیارت کی در حقیقت اس نے رسول خدا (ص) کی زیارت کی ہے۔ اور پهر حضرت رضا علیہ السلام جو سیدہ معصومہ کی زیارت کو اپنی زیارت کے برابر قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

الا فمن زارنی و هو علی غسل، خرج من ذنوبه کيوم ولدته امّه۔

آگاه رہو کہ جس نے غسل زیارت کرکے میری زیارت کی وه گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاتا ہے جس طرح کہ وه ماں سے متولد ہوتے وقت گناہوں سے پاک تها۔

ان احادیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ سیده معصومہ سلام الله کی زیارت گناہوں کا کفاره بهی ہے اور جنت کی ضمانت بهی ہے بشرطیکہ انسان زیارت کے بعد گناہوں سے پرہیز کرے۔

دو حدیثوں میں امام صادق اور امام رضا علیہما السلام نے زیارت کی قبولیت اور وجوب جنت کے لیے آپ (س) کے حق کی معرفت کو شرط قرار دیا ہے۔ اور ہم آپ(س) کی زیارت میں پڑهتے ہیں کہ:

 يا فاطِمَة اشْفَعي لي فِي الْجَنَّةِ، فَانَّ لَكَ عِنْدَ اللّْه شَأْناً مِنَ الشَّأْن۔

 

اے فاطمہ جنت میں میری شفاعت فرما کیونکہ آپ کے لیے خدا کے نزدیک ایک خاص شأن و منزلت ہے۔

امام صادق علیہ السلام کے ارشاد گرامی کے مطابق تمام شیعیان اہل بیت(ع) حضرت سیده معصومہ سلام الله علیہا کی شفاعت سے جنت میں داخل ہونگے اور زیارتنامے میں ہے کہ:

آپ ہماری شفاعت فرمائیں کیوں کہ آپ کے لیے بارگاہ خداوندی میں ایک خاص شأن و منزلت ہے۔

علماء کہتے ہیں کہ یہ شأن، شأنِ ولایت ہے جو سیده (س) کو حاصل ہے اور اسی منزلت کی بناء پر وه مؤمنین کی شفاعت فرمائیں گی اور اگر کوئی اس شأن کی معرفت رکهتا ہو اور آپ کی زیارت کرے تو اس پر جنت واجب ہے۔

زیارت اور اس کا فلسفہ:

قاموس شیعہ میں ایک مقدس و معروف کلمہ،کلمہٴ زیارت ہے۔  اسلام میں جن آداب کی بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے ان میں سے ایک اہل بیت علیہم السلام اور ان کی اولاد امجاد کی قبور مبارک کی زیارت کے لئے سفر کرنا ہے۔ حدیثوں میں رسول الله صلی الله علیه و آلہ ائمہ معصومین علیہم السلام کی جانب سے اس امر کی بڑی تاکید ہے۔

مثلا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ  نے فرمایا:

من زارني او زار احدا من ذريتي زرته يوم القيامة فانقذته من اهوائها۔

جو میری یا میری اولاد میں سے کسی کی زیارت کرے گا مین قیامت کے دن اس کے دیدار کو پہنچوں گا اور اسے اس دن کے خوف سے نجات دلاؤں گا۔

کامل الزیارات ص 11

 

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

من اتی قبر الحسين عارفا بحقه کان کمن حج مأة حجة مع رسول الله۔

جو معرفت حقہ کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے گا تو گویا اس نے ۱۰۰ حج رسول اللہ کے ساتھ انجام دیئے۔

بحار الانوار ج101 ، ص 42

ایک دوسری روایت میں امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

امام حسین علیہ السلام  کی زیارت ہزار حج و عمرہ کے برابر ہے۔

بحار الانوار ج 101، ص 43

امام رضا علیہ السلام نے اپنی زیارت کے لئے فرمایا:

جو شخص معرفت کے ساتھ میری زیارت کرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا۔

بحار الانوار ج 102، ص 33

امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا:

جس نے عبد العظیم(ع) کی قبر کی زیارت کی گویا اس نے امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی ہے۔

بحار الانوار ج 102، ص 265

امام جواد علیہ السلام نے بھی امام رضا علیہ السلام کے لیے فرمایا:

اس شخص پر جنت واجب ہے جو معرفت کے ساتھ (طوس میں) ہمارے بابا کی زیارت کرے۔

حضرت معصومہ سلام الله علیہا کی زیارت کے بارے میں وارد ہونے والی روایات بهی مندرجہ بالا سطور میں بیان ہوئیں۔

اب سوال یہ ہے کہ ان فضائل و جزا کا فلسفہ کیا ہے؟ کیا یہ تمام اجر و ثواب بغیر کسی ہدف کے فقط ایک بار ظاہری طور پر زیارت کرنے والے کو میسر ہوگا؟

در حقیقت زیارت کا فلسفہ یہ ہے کہ ہم ان کی تعلیمات سے آخرت کے لیے زاد راہ فراہم کریں اور خدا کی راہ میں اسی طرح قدم اٹھائیں جس طرح کہ ان بزرگوں نے اٹھائے۔ زیارت معصومین(ع) کے سلسلے میں وارد ہونے والی اکثر احادیث میں شرط یہ ہے کہ ان کے حق کی معرفت کے ساتھ ہو تو تب ہی اس کا اخروی ثمرہ ملنے کی توقع کی جاسکے گی۔

یہ بزرگ ہستیاں، عالم بشریت کے لئے نمونہ اور مثال ہیں، ہمیں ان کا حق پہچان کر ان کی زیارت کے لئے سفر کی سختیاں برداشت کرنی ہیں اور ساتھ ہی خدا کی راہ میں ان کی قربانیوں اور قرآن و اسلام کی حفاظت کی غرض سے ان کی محنت و مشقت سے سبق حاصل کرنا ہے اور اپنی دینی اور دنیاوی حاجات کے لیے ان سے التجا کرنی ہے کہ ہماری شفاعت فرمائیں اور اس کے لیے ان کے حق کی معرفت کی ضرورت ہے۔

حضرت معصومہ (س)کا مأثور زیارتنامہ:

ہر بارگاہ میں ملاقات (زیارت) کا ایک خاص دستور ہوتاہے۔ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکی بارگاہ میں بھی مشرف ہونے کے خاص آداب ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ کی زیارت کے لئے معتبر روایتوں سے زیارت نامہ منقول ہے تا کہ مشتاقان زیارت ان نورانی جملوں کی تلاوت فرماکر رشدو کمال کی راہ میں حضرت سے الہام حاصل کرسکیں اور رحمت حق کی بی ساحل سمندر سی اپنی توانائی اور اپنے ظرف کے مطابق کچھ قطرے ہی اٹها سکیں۔

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے لیے ائمہ معصومین سے مأثور زیارت نامہ وارد ہوا ہے۔ سیدة العالمین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بعد آپ سلام اللہ علیہا پہلی بی بی ہیں جن کے لیے ائمہ اطہار علیہم السلام کی طرف سے زیارت نامہ وارد ہؤا ہے۔ تاریخ اسلام میں رسول اللہ(ص) کی والدہ حضرت آمنہ بنت وہب، حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد، حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کی والدہ ماجدہ حضرت خدیجہ بنت خویلد، حضرت ابوالفضل علیہ السلام کی والدہ فاطمہ بنت ام البنین، شریکۃ الحسین ثانی زہرا حضرت زینب، حضرت امام علی النقی علیہ السلام کی ہمشیرہ حضرت حکیمہ خاتون اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت نرجس خاتون (سلام اللہ علیہن اجمعین) جیسی عظیم عالی مرتبت خواتین ہو گزری ہیں کہ جن کے مقام و منزلت میں شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، مگر ان کے بارے میں معصومین سے کوئی مستند زیارتنامہ وارد نہیں ہوا ہے جبکہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے لئے زیارتنامہ وارد ہوا ہے اور یہ حضرت معصومہ(س) کی عظمت کی نشانی ہے؛ تا کہ شیعیان و پیروان اہل بیت عصمت و طہارت بالخصوص خواتین اس عظمت کا پاس رکھیں اور روئے زمین پر عفت و حیاء اور تقوی و پارسائی کے عملی نمونے پیش کرتی رہیں، کہ صرف اسی صورت میں ہے آپ سلام اللہ علیہا کی روح مطہر ہم سے خوشنود ہوگی اور ہماری شفاعت فرمائیں گی۔

آستان قدس فاطمی قدیم الایام سے ہی ہزاروں کرامات و عنایات ربانی کا مرکز و معدن رہا ہے، کتنے نا امید قلوب خدا کے فضل و کرم سے پر امید ہوئے، کتنے تہی داماں، رحمت ربوبی سے اپنی جھولی بھر چکے؛ اور کتنے ٹهکرائے ہوئے اس در پر آکر کریمہ اہلبیت سلام اللہ علیہا کے فیض و کرم سے فیضیاب ہوئے اور خوشحال و شادماں ہوکر لوٹے ہیں اور اولیائے حق کی ولایت کے سائے میں ایمان محکم کے ساتھ اپنی زندگی کی نئی بنیاد رکهی ہے۔ یہ تمام چیزیں اسی کنیز خدا کی روح کی عظمت اور خداوند متعال کے فیض و کرم کے منبع بےکراں کی نشاندہی کرتی ہیں اور ثابت کرتی ہیں کہ سیده معصومہ(س) کریمہ اہل بیت(ع)ہیں۔

اسی بنا پر شیعہ فقہاء، دانشور اور علماء کی زبان میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا (کریمہ اہل بیت) کے لقب سے مشہور ہیں۔

شفاعت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا:

بے شک شفاعت کا والاترین اور بالاترین مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مقام ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مقام قرآن مجید میں مقام محمود قراردیا گیا۔

وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا،

 اور رات کے ایک حصے میں نیند سے اٹهیں اور قرآن (اور نماز) پڑہیں۔ یہ آپ کے لیے ایک اضافی فریضہ ہے، امید رکهیں کہ خدا آپ کو مقام محمود (قابل ستائش و تعریف مقام) عطا فرماکر محشور و مبعوث کرے گا۔

 سوره اسراء آیت 79

اسی طرح خاندان احمد مختار صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں دو خواتین کے لیے وسیع شفاعت مقرر ہے، جو بہت ہی وسیع اور عالمگیر ہے اور پورے اہل محشر بھی ان دو عالی مرتبت خواتین کی شفاعت کے دائرے میں داخل ہوسکتے ہیں بشرطیکہ وہ شفاعت کے لائق ہوں۔

یہ دو عالیقدر خواتین صدیقہ طاہرہ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور شفیعہ روز جزا، حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا ہیں۔ حضرت ام الحسنین علیہا السلام کا مقام شفاعت جاننے کے لیے یہی جاننا کافی ہے کہ شفاعت آپ (س) کا حق مہر ہے اور جب بحکم الہی آپ (ع) کا نکاح قطب عالم امکان حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام سے ہورہا تھا، قاصد وحی نے خدا کا بھیجا ہوا شادی کا پیغام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  کے حوالے کیا۔ وہ تحفہ ایک ریشمی کپڑا تھا جس پر تحریر تھا:

امت محمد(ص) کے گنہگاروں کی شفاعت خداوند عالم نے فاطمہ زہرا (س) کا حق مہر قرار دیا۔

یہ حدیث اہل سنت کے منابع میں بھی نقل ہوئی ہے۔

سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا کے بعد کسی بھی خاتون کو شفیعہ روز محشر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا مقام شفاعت حاصل نہیں ہے۔ اسی لئے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

جان لو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے تین دروازے قم کی جانب کھلتے ہیں، میرے فرزندوں میں سے ایک خاتون ۔ جن کا نام فاطمہ ہے ۔ قم میں رحلت فرمائیں گی جن کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ بہشت میں وارد ہونگے۔

حضرت امام رضا (ع) سے حضرت معصومہ (س) کی محبت:

عرصہ 25 برس تک حضرت رضا علیہ السلام حضرت نجمہ خاتون سلام اللہ علیہا کے اکلوتے فرزند تھے۔ اور 25 سال بعد نجمہ خاتون(س) کے دامن مبارک سے ایک ستارہ طلوع ہوا جس کا نام فاطمہ رکھا گیا۔ امام علیہ السلام نے اپنے والاترین احساساتِ نورانی اپنی کمسن ہمشیرہ کے دل کی اتہاہ گہرائیوں میں ودیعت رکھ لیں۔ یہ دو بھائی بہن حیرت انگیز حد تک ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور ایک دوسرے کا فراق ان کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ زبان ان دو کے درمیان محبت کی گہرائیاں بیان کرنے سے قاصر ہے۔ امام موسی کاظم علیہ السلام کے ایک معجزے کے دوران جس میں سیدہ معصومہ(س) کا بھی کردار ہے ۔ جب نصرانی اس کم سن امامزادی سے پوچھتا ہے:

آپ کون ہیں؟

تو آپ(س) جواب دیتی ہیں:

میں معصومہ ہوں امام رضا(ع) کی ہمشیرہ۔

سیدہ (س) کے اس بیان سے دو چیزوں کا اظہار ہوتا ہے: ایک یہ کہ آپ(ع) اپنے بھائی سے حد درجہ محبت کرتی تھیں۔ دوسری بات یہ کہ آپ(س) امام رضا(ع) کو اپنی شناخت کی علامت سمجھتی تھیں اور امام(ع) کی بہن ہونے کو اپنے لیے اعزاز اور باعث فخر سمجھتی تھیں۔

خواتین کی سرور:

فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا انفرادی اور ذاتی شخصیت و روحانی کمالات کے لحاظ سے امام موسی بن جعفر(ع) کی اولاد میں علی بن موسی الرضا(ع) کے بعد دوسرے درجے پر فائز تھیں۔ بالفاظ دیگر اپنے بھائی بہنوں میں آپ(س) کا درجہ امام رضا(ع) کے بعد دوسرا تھا۔ رجالی منابع کے حوالے سے امام موسی بن جعفر علیہ السلام کی 18 بیٹیاں تھیں اور حضرت معصومہ سب کی سرور تھیں یہی نہیں بلکہ بھائیوں میں بھی امام رضا کے بعد کوئی ان کا ہم پلہ نہ تھا۔

محدث بزرگوار شیخ عباس قمی (رہ) امام کاظم(ع) کی بیٹیوں کے بارے میں لکھتے ہیں: جو روایات ہم تک پہنچی ہیں ان سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ان سب سے افضل و برتر سیدہ جلیلہ حضرت فاطمہ بنت امام موسی بن جعفر(ع) ہیں جو معصومہ کے لقب سے مشہور ہوئی ہیں۔

بے مثال فضیلت:

شیخ محمد تقی تُستری، قاموس الرجال میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا ایک مثالی خاتون (اور خواتین کے لیے اسوہ کاملہ) کے عنوان سے تعارف کراتے ہیں جو امام رضا (ع) کے بعد اپنے بھائیوں اور بہنوں کے درمیان بے مثال تھیں۔ وہ اس سلسلے میں لکھتے ہیں:

امام موسی ابن جعفر علیہ السلام کی اولاد کی کثرت کے باوجود امام رضا علیہ السلام کو چھوڑ کر کوئی بھی حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے ہم پلہ نہیں ہے۔

بے شک فاطمہ دختر موسی بن جعفر(ع) کے بارے میں اس طرح کے اظہارات ان روایات و احادیث پر استوار ہیں جو ائمہ معصومین علیہم السلام سے آپ(ع) کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں۔ یہ روایات سیدہ معصومہ(س) کے لیے ایسے مراتب و مدارج بیان کرتی ہیں جو آپ (س) کے دیگر بھائیوں اور بہنوں کے لیے بیان نہیں ہوئے ہیں۔ اور اس طرح فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا نام دنیا کی برتر خواتین کے زمرے میں قرار پایا ہے۔

بوئے وصال:

بے شک اہل بیت رسول (ص) نے نہایت روشن چہرے عالم بشریت کے حوالے کیے ہیں جن کے نام درخشان ستاروں کی مانند فضیلتوں کے آسمان پر چمک رہے ہیں۔ ولایت کے ساتویں منظومے کی بزرگ خواتین کے درمیان فاطمہ بنت موسی بن جعفر(ع) درخشان ترین ستارہ ہیں، ایسی خاتون جن کی حریم سے علم و معرفت کے پیاسے ایمان کا آب حیات نوش کرتے ہیں اور یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے۔ عرفاء آپ کی زندگی کا تجزیہ کرکے، آپ کے ان لمحوں کا سراغ لگاتے ہیں جب آپ(س) آسمانی وجود میں تبدیل ہوئی تھیں اور اس طرح وہ اپنے لیے عروج عارفانہ کی راہیں ڈھونڈتے ہیں اور کائنات کی وسعتوں میں شمیم وصال پھیلا دیتے ہیں۔

پیغام کے دو نکتے:

 

1 ۔ اتنا بڑا مقام کیوں ؟

پوچھتے ہیں اتنا اونچا مقام کیوں؟ جبکہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی کئی بہنیں تھیں یہ سیدہ ان سے برتر و افضل کیوں تھیں؟

جواب: یہ سوال حضرت زہرا سلام علیہا کے بارے میں بھی پوچھا جاتا ہے؛ اور جواب یہ ہے کہ: یہ دو خواتین ذاتی اور خاندانی شرافت کے ساتھ ساتھ، ایمان اور عمل کے میدان میں بھی ممتاز تھیں اور اس سلسلے میں انھوں نے اپنے انتخاب سے اعلی انسانی اقدار کے اعلی مدارج و مراتب طے کیے تھے اور اپنے عرفان و عمل کی بنا پر اس مقام و منزلت تک عروج کرچکی تھیں۔

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا عمل، عرفان، ایمان، سیاست، اور مقام امامت کی حمایت کے سلسلے میں ممتاز تھیں اور آخر کار اسی راستے میں مرتبہ شہادت حاصل کرگئیں۔

سیدہ معصومہ نے قم میں اپنی سترہ دن عبادت اور خداوند قدوس کے ساتھ راز و نیاز میں گزار دیئے، یہاں تک کہ آپ کی قیامگاہ کو (بیت النور)۔ کا نام دیا گیا ہے اور یہ عبادتگاہ اس وقت قم کے میدان میر کے محلے اور مدرسہ ستّیہ میں واقع ہے اور آج بھی یہ مقام آپ (س) کی نورانیت اور اپنے خالق یکتا کے ساتھ آپ (س) کی قربت کے خلوص کی گواہی دے رہا ہے۔

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی 28 سالہ پر برکت زندگی کی ثمر بخشی کے اثبات کے لیے یہی جاننا کافی ہے کہ قم میں آپ (س) کے 17 روزہ قیام نے قم کے حوزہ علمیہ کو بقائے جاودانہ بخشی اور قم نے آپ ہی کی برکت سے دسیوں ہزار محقق، عالم، دانشور، مراجع اور مجتہدین عالم تشیع کے حوالے کردیئے۔ اکابر علماء منجملہ امام رضا (ع) کے صحابی زکریّا بن آدم اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے وکیل حسن بن اسحاق سے لے کر علمائے مفکر اور مراجع تقلید ۔ منجملہ میرزائے قمی، آیت اللہ شیخ ابو القاسم قمی، آیت اللہ حائری، آیت اللہ صدر، آیت اللہ سید محمد تقی خوانساری، آیت اللہ حجّت، آیت اللہ بروجردی، آیت اللہ سید احمد خوانساری، آیت اللہ گلپایگانی، آیت اللہ مرعشی نجفی، آیت اللہ اراکی، علامہ طباطبایی، استاد شہید مرتضی مطہری و حضرت امام خمینی (اعلی اللہ مقامہم الشّریف) تک سب کے سب علماء آل عبا حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے وجود کی برکت سے اس سرزمین پر نشو و نما پا چکے ہیں اور بی بی ہی کے وجود نے حوزہ علمیہ کو مرکزیت و محوریت عطا فرمائی ہے اور قم نے آپ ہی کی برکت سے مدینہ فاضلہ کی حیثیت اختیار کی ہوئی ہے۔ آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای، بھی اسی حوزہ قم کے شاگرد ہیں۔

خداوند عالم، انبیاء عظام، ائمہ طاہرین، اولیائے الہی، حقیقی مجاہدین اور سُکان ارض و سماء کا سلام و درود ہو اس سیدہ کریمہ اہل بیت (ع) پر اس بزرگ خاتون پر، جس کاچشمہ فیض دائما جاری ہے اور جس کا سرچشمہ نور ہر وقت دنیا کی تاریکیوں میں امید ہدایت کے روشن نقاط اجاگر کرتا ہے۔ درود و سلام ہو اس کوثرِ ولایت پر۔

مختصر یہ کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ایمان اور عمل انسان کو مقامات عالیہ اور مراتب و مدارج رفیعہ کے معراج تک پہنچاتا ہے امام(ع) فرماتے ہیں:

فو الله ما شيعتنا الاّ من اتّقی الله و اطاعه۔

خدا کی قسم وہ شخص ہمارے شیعوں میں سے نہیں ہے جو متقی و پرہیزگار نہ ہو اور جو خدا کی اطاعت نہ کرتا ہو۔

نیز امام پنجم(ع) نے فرمایا:

لا تنال ولايتنا الا بالعمل و الورع ۔

ہماری دوستی اور ولایت تک پہنچنا نیک عملی اور پرہیز گاری کے سوا ممکن نہیں ہے۔

حضرت معصومہ(س)  کا مقام اور منزلت:

اب یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ بی بی معصومہ(س) کو معصومہ کا لقب کس نے دیا؟

معصومہ کا لقب حضرت امام رضا (ع) نے اپنی بہن کو عطا کیا۔ آپ اس طرح فرماتے ہیں:

من زار المعصومۃ بقم کمن زارنی۔

جس نے معصومہ (س) کی زیارت قم میں کی وہ اس طرح ہے کہ اس نے میری زیارت کی۔

ناسخ التواریخ ، ج3 ص 68

امام معصوم کی جانب سے حضرت کو یہ لقب ملنا آپ کی شان و منزلت کی بہترین دلیل ہے۔

امام رضا (ع) نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا کہ وہ شخص جو میری زیارت پر نہیں آ سکتا وہ میرے بھائی کی زیارت شہر ری میں اور میری بہن کی زیارت قم میں کرے تو وہ میری زیارت کا ثواب حاصل کر لے گا ۔

زبدۃ التصانیف ، ج6 ص 159

دوسرا لقب جو حضرت معصومہ(س) کا ہے وہ ہے کریمہ اہل بیت ، یہ لقب بھی ایک عظیم المرتبت عالم دین کے خواب کے ذریعے امام معصوم(ع) کی زبان اقدس سے معلوم ہوا۔

خواب کی تفصیل اس طرح ہے کہ مرحوم آیۃ اللہ سید محمود مرعشی نجفی جو کہ آیۃ اللہ سید شہاب الدین مرعشی کے والد بزرگوار تھے، اس عظیم ہستی کی دلی خواہش تھی کہ حضرت صدیقہ طاہرہ (س) کی قبر اطہر کاصحیح پتہ مل جائے آپ اس عظیم امر کی خاطر بہت پریشان رہا کرتے تھے ۔ لہٰذا آپ نے ایک عمل شروع کردیا اور چالیس روز تک ختم قرآن کا عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ دن بھی آ گیا کہ مرحوم نے اپنے اس چالیس روزہ عمل کا اختتام کیا،آپ کافی تھک چکے تھے لہٰذا آپ نیند کی آغوش میں چلے گئے اور کافی دیر تک آپ آرام فرماتے رہے دوران استراحت آپ کی زندگی کی وہ مبارک گھڑی بھی آ پہنچی جس کا انتظار ہر شیعیان علی (ع) کو رہتا ہے یعنی خواب کے عالم میں امام باقر(ع) یا امام صادق(ع) تشریف لے آئے اور آپ ان کی زیارت سے مشرف ہوئے اس وقت امام (ع) نے فرمایا:

علیک بکریمۃ اہل البیت۔ کریمہٴ اہل بیت(ع) کے دامن سے متمسک ہو جاوٴ۔

مرحوم آیۃ اللہ سید محمود مرعشی نجفی (رح) نے سمجھا کہ منظور امام (ع) حضرت زہرا (س) ہیں۔ مرحوم نے عرض کیا میں آپ پر فدا ہو جاوٴں اے میرے آقا ! میں نے یہ ختم قرآن کا عمل اسی وجہ سے کیا ہے کہ حضرت زہرا (س) کی قبر کا دقیق پتہ معلوم ہو جائے تا کہ بہتر طریقے سے ان کی قبر اطہرکی زیارت کر سکوں۔ اس وقت امام (ع) نے فرمایا میری مراد حضرت معصومہ(س) کی قبر شریف ہے جو کہ قم میں ہے ۔ پھر امام (ع) نے فرمایا :خدا نے کسی مصلحت کی بنیاد پر جناب زہرا (س) کی قبر شریف کو مخفی رکھا ہے اور اسی وجہ سے حضرت معصومہ (س) کی قبر اطہر کو تجلی گاہ قبر حضرت زہرا (س) قرار دیا ہے۔

اگر حضرت زہرا (س) کی قبر مبارک ظاہر ہوتی تو اس پر جس قدر نورانیت و جلالت دیکھنے کو ملتی اتنی ہی نورانیت و جلالت خداوند کریم نے حضرت معصومہ(س) کی قبر شریف کو عطا کی ہے۔

مرحوم مرعشی نجفی جیسے ہی خواب سے بیدار ہوئے آپ نے مصمم ارادہ کر لیا کہ جلد از جلد بارگاہ  معصومہ(س) میں حاضری دیں گے اپنے اس ارادہ کی تکمیل کی خاطر آپ نے سامان سفر باندھا اور زیارت حضرت معصومہ(س) کی خاطر نجف اشرف کو ترک کر ایران کے شہر مقدس قم میں آ گئے۔

کریمہ اہل بیت، ص43

بی بی حضرت فاطمہ معصومہ (س) کےزیارت نامے پرایک نظر:

گذشتہ مطالب کے مطابق، یہ زیارت نامہ، امام رضا علیہ السّلام سے منقول ہے، اور انھوں نے اپنی خواہر گرامی حضرت فاطمۂ معصومہ علیہا السّلام کےلیے پڑھ کر ہدیہ فرمایا ہے، اور یہ مطلب، حضرت کی عظمت پر واضح دلیل ہے کہ، اپنی مادر گرامی حضرت زہرا علیہا السلام کے بعد، آپ، واحد خاتون ہیں کہ جن کا زیارت نامہ معصوم علیہ السّلام سے ماثور و منقول ہے۔

یہ زیارت نامہ دوسرے زیارت ناموں کی نسبت قابل توجّہ امتیازی نکات کا حامل ہے،کہ ان نکات کا تذکرہ  کرنا یہاں مناسب ہو گا۔

1- اس زیارت نامے کا آغاز، انبیاء بزرگ جیسے: آدم، نوح، ابراہیم، موسی، عیسی بن مریم اور چہاردہ معصومین علیہم السلام پر سلام بھیجنے کے ساتھ ہوتا ہے، اور یہ سارے سلام، اتنے مؤدّبانہ اورخضوع وخشوع کے ساتھ ہے، جو کریمۂ اہلبیت حضرت فاطمۂ معصومہ سلام اللہ علیہا کو سلام پیش کرنے کے لیے بہترین مقدّمہ ہے ، اورحقیقت میں ان پر سلام بھیجنے کا پیش خیمہ محسوب ہوتے ہیں۔

 

2- دوسرے انبیاء کے برخلاف جہاں ایک ہی سلام پر اکتفاء کیا گیا ہے ، پیامبر اکرم صلّی اللہ علیہ والہ پر چار طریقوں سے سلام کیا گیا ہے، ہر ایک سلام میں ان کی صفات جیسے: رسول اللہ، خیر خلق اللہ، صفیّ اللہ و خاتم النّبیین، میں سے ایک صفت کی طرف اشارہ ہوا ہے، جو دوسرے انبیاء کی نسبت ان کی رفعت و بلندی کی بیّن دلیل ہے۔

3- ایک اور نکتہ جو بہت ہی قابل توجّہ اور حائز اہمّیت ہے، یہ ہے کہ، دوسرے زیارت ناموں کے برخلاف کہ جہاں دوسری ہستیوں پر سلام، غائب کے جملوں کے ساتھ ہے اورصرف اسی شخصیت کی زیارت مخاطب کی شکل میں مذکور ہے، لیکن حضرت معصومہ علیہا السلام کے زیارت نامے میں، پیامبر اکرم سے لے کر امام عسکری علیہم السلام تک ، ہرسلام، خطابی شکل میں آیا ہے، اور یہ اس وجہ سے ہے کہ کریمۂ اہلبیت کا حرم ، تمام چہاردہ معصومین علیہم السلام سے متعلّق ہے، گویا کہ معصومہ علیہا السلام کا حرم، پیامبر اسلام ، امیر المؤمنین ، فاطمہ زہرا اور دوسرے معصومین علیہم السلام کے لیے بھی حرم کی حیثیت رکھتا ہے، اورگویا کہ یہ ہستیاں ، حرم معصومہ میں موجود ہیں، اس بناء پر ، جس کو فاطمہ بنت موسی بن جعفرعلیہما السلام کے حرم مطہرّ کی زیارت نصیب ہو، ایسا ہے کہ وہ چہاردہ معصومین علیہم السلام کی زیارت سے شرفیاب ہوا ہے اور امام صادق علیہ السّلام کا فرمان، اس واقعیت کی دلیل ہےکہ خدا کا حرم مکہ میں واقع ہے، رسول خدا کا حرم مدینہ میں امیر مؤمنین کا حرم کوفہ میں اور ہمارا (اہل بیت) حرم قم میں واقع ہے۔

4- ان قابل توجّہ نکات میں سےایک نکتہ یہ ہےکہ ان کے زیارت نامے میں، حضرت حجّت عجّل اللہ فرجہ الشریف کے علاوہ دوسرے معصومین علیہم السلام کی خدمت میں سلام پیش کرتے ہوئے، صورت خطاب کا استعمال کیا گیا ہے ۔ لیکن خود حضرت حجّت کے لیے، غائب کی صورت میں سلام پیش کیا گیا ہے، اس اسلوب اور روش کی تبدیلی میں ضرور ایک راز موجود ہے، شاید یہ ، حضرت کی غیبت کی طرف اشارہ ہو، یعنی آپ اگرچہ حیّ اور زندہ ہیں لیکن ہماری نظروں پر، پردہ پڑا ہوا ہے۔

5- امام رضا علیہ السلام اس زیارت نامے میں، پیامبر (ص) اور دوسری معصوم (ع) ہستیوں کا احترام ادا کرنے کے بعد، اپنی بہن، کی خدمت میں سلام پیش کرتے ہیں، اور سلام میں مزید یہ کہ ان کو بنت موسی بن جعفرعلیہما السلام معرّفی کرکے دنیا کو یہ بھی بتا دیا کہ معصومہ علیہا السلام رسول خدا، خدیجۃ الکبری، فاطمۃ الزہراء، علیّ مرتضی، حسن مجتبی، حسین شہید کربلا علیہم السلام، کی بھی بیٹی ہیں، یہ اس وجہ سے ہے کہ فاطمۂ معصومہ نے ارثی قانون کے مطابق ان شخصیات سے تمام نیک صفات وارثت میں حاصل کیں، اور اپنے اچھے کردار کے ذریعے اپنے آباء و اجداد کی پاکی و قداست میں چار چاند لگا  دئیے۔

 

6- آخری نکتہ جس کا تذکرہ یہاں مناسب ہے وہ یہ ہے کہ امام رضا علیہ السلام نے اس زیارت  نامے کے مختلف مقامات پر اپنی خواہر گرامی کی معرّفی و پہچان" بنت ولیّ اللہ "، " اخت ولیّ اللہ " ، " عمۃ ولیّ اللہ " جیسے الفاظ کے ذریعہ کی ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ عناوین ایک اتفاق نہیں ہے بلکہ اس میں رمز و راز ہیں، اور وہ یہ کہ امام رضا علیہ السلام یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ یہ وہی بیٹی ہے کہ جس کی امام ہفتم علیہ السلام کو آرزو تھی،  یہ وہ بیٹی ہے کہ جس کے وجود مبارک پر خود حضرت موسی بن جعفر علیہما السلام نے افتخار کرتے ہوئے فرمایا تھا : فداھا ابوھا؛  (اس کا باپ اس پر قربان ہو) اور یہ وہی خواہرگرامی ہے کہ جس نے اپنے برادرگرامی امام رضا علیہ السلام کے حق میں ایک حقیقی خواہر کی تمام تر کوششوں کو بروئے کار لایا کہ خود امام رضا علیہ السلام بھی اپنی اس مثالی بہن سےاتنے راضی تھے یہاں تک کہ خود حضرت امام رضا علیہ السلام، معصومہ سلام اللہ علیہا کے دامن عطف سے متوسّل ہو کر ، ان سے طلب شفاعت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : یا فاطمۃ اشفعی لی فی الجنۃ، اے فاطمہ قیامت کے دن میری شفاعت کرنا اور حقیقت میں اس تعبیر کے بیان کے ساتھ امام (ع) ہمیں درس دے رہے ہیں کہ یہ معصوم ہستی اس درجہ پر فائز ہیں کہ تمام اہل ایمان ان سے شفاعت طلب کریں۔

" عمّۃ ولیّ اللہ " سے خطاب کرنے کا رمز و راز شاید یہ بھی ہو کہ بی بی معصومہ علیہا السلام نے اتنا عظیم کردار ادا کیا کہ امام جواد علیہ السّلام کو افتخار ہے کہ خدا نے ان کو فاطمۂ معصومہ جیسی عظیم پھوپھی عنایت فرمائی، اور یہ پاک بی بی اپنے بھتیجے کے نزدیک اتنا عظیم مقام رکھتی تھیں کہ ان کی قبر مطہّر کی زیارت کے ثواب کے بارے میں فرمایا کہ : جو شخص قم میں میری پھوپھی کی زیارت کرے ، تو وہ کل بروز حشر، بہشت کا حقدار ہو گا۔

زیارت نامہ حضرت فاطمہ معصومہ قم (ع):

السلام علی آدم صفوۃ اللہ۔ السلام علی نوح نبی اللہ۔ السلام علی ابراہیم خلیل اللہ۔ السلام علی موسی کلیم اللہ ، السلام علی عیسی روح اللہ ۔ السلام علیک یا رسول اللہ ۔ السلام علیک یا خیر خلق اللہ۔ السلام علیک یا صفی اللہ۔ السلام علیک یا محمد بن عبد اللہ خاتم النبیین۔ السلام علیک یا امیر المومنین علی بن ابی طالب وصی رسول اللہ۔ السلام علیک یا فاطمہ سیدۃ نساء العالمین ۔ السلام علیکما یا سبطی نبی الرحمۃ و سید شباب اھل الجنۃ ۔ السلام علیک یا علی بن الحسین سید العابدین و قرۃ عین الناظرین۔  السلام علیک یا محمد بن علی باقر العلم بعد النبی۔ السلام علیک یا جعفر بن محمد الصادق البار الامین۔ السلام علیک یا موسی بن جعفر الطاھر الطھر۔ السلام علیک یا علی بن موسی الرضا المرتضی۔ السلام علیک یا محمد بن علی التقی۔  السلام علیک یا علی بن محمد النقی الناصح الامین۔ السلام علیک یا حسن بن علی السلام علی الوصی من بعدہ۔ اللھم صل علی نورک و سراجک و ولی ولیک وصی وصیک و حجتک علی خلقک ۔ السلام علیک یا بنت رسول اللہ السلام علیک یا بنت فاطمۃ و خدیجۃ  السلام علیک یا بنت امیر المو منین السلام علیک یا بنت الحسن و الحسین۔ السلام علیک یا بنت ولی اللہ السلام علیک یا اخت ولی اللہ السلام علیک یا عمۃ ولی اللہ السلام علیک یا بنت موسی بن جعفر و رحمۃ اللہ و برکاتہ السلام علیک عرف اللہ بیننا و بینکم فی الجنۃ و حشرنا فی زمرتکم  و اوردنا حوض نبیکم وسقانا بکاس جدّکم من ید علی بن ابی طالب صلوات اللہ علیکم اسئل اللہ ان یرینا فیکم السرور و الفرج و ان یجمعنا و ایاکم فی زمرۃ جدکم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و ان لا یسلبنا معرفتکم انہ ولی قدیر اتقرب الی اللہ راضیا بہ غیر منکر و لا مستکبر وعلی یقین ما اتی بہ محمد  و بہ راض نطلب بذالک وجھک یا سیدی اللھم و رضاک  و الدار الآخرۃ یا فاطمۃ اشفعی لی فی الجنۃ فان لک عند اللہ شانا من الشان اللھم  انی اسئلک ان تختم لی با لسعادۃ فلا تسلب منی ما انا فیہ و لا حول و لا قوۃ الا با للہ العلی العظیم  اللھم استجب لنا و تقبلہ بکرمک و عزتک و برحمتک  و عافیتک  و صلی اللہ علی محمد و آلہ اجمعین وسلم تسلیما  یا ارحم الراحمین ۔

ترجمہ زیارت :

سلام ہو آدم پر جو برگزیدہ خدا ہیں ۔ سلام ہو نوح پر جو اللہ کے نبی ہیں ۔ سلام ہو ابراہیم پر جو خلیل خدا ہیں ۔ سلام موسی پر جو کلیم اللہ ہیں ۔ سلام عیسی پر جو روح اللہ ہیں ۔ سلام آپ پر اے رسول خدا (ص) سلام آپ پر اے مخلوقات خدا میں سب سے بہتر ۔ سلام آپ پر اے خدا کے بر گزیدہ ۔ سلام آپ پر اے محمد بن عبد اللہ خاتم الانبیاء ۔ سلام آپ پر اے امیرا لمومنین (ع) علی ابن ابی طالب ۔ رسول خدا کے وصی ۔ سلام آپ پر اے فاطمہ عالمین کی عورتوں کی سردار ۔ سلام آپ دونوں پر اے نبی رحمت کے نواسو اور جنت کے جوانوں کے سردار ۔ سلام آپ پر اے علی بن حسین (ع) عبادت گزاروں کے سردار ۔ اور اہل بصیرت کے لیے خنکی چشم ۔ ۔ سلام آپ پر اے  محمد بن علی (ع) علم کے شگافتہ کرنے والے  نبی کے بعد ۔ سلام آپ پر اے جعفر بن محمد صادق (ع) نیک اور امین ۔ سلام آپ پر اے موسی بن جعفر (ع) جو پاک اور پاکیزہ ہیں ۔ سلام آپ پر اے علی بن موسی رضا (ع) مرتضی ۔ سلام آپ پر اے محمد بن علی نقی (ع) سلام آپ پر اے علی بن محمد (ع) نقی نصیحت کرنے والے  اور امین ۔ سلام آپ پر اے حسن بن علی (ع) سلام ان کے بعد ان کے وصی پر ۔ خدا یا درود نازل فرما اپنے نور اپنے چراغ اور اپنے ولی کے ولی اور اپنے وصی کے وصی پر اور اپنی مخلوق پر اپنی حجت پر ۔ سلام آپ پر اے دختر رسول خدا (ص) سلام آپ پر اے دختر فاطمہ (ع) و خدیجہ (ع) ۔ سلام آپ پر اے دختر امیر المومنین (ع) سلام آپ پر اے دختر حسن و حسین (ع) سلام آپ پر اے ولی خدا ۔ سلام آپ پر اے ولی خدا کی بہن ۔ سلام آپ پر اے ولی خدا کی پھوپھی ۔  سلام آپ پر اے دختر موسی بن جعفر (ع) اللہ کی رحمت و برکت ہو ۔ سلام آپ پر خدا ہمارے اور آپ کے درمیان شناسائی کر بر قرار رکھے اور ہم کو آپ کے زمرہ میں محشور کرے اور ہم کو اپنے نبی (ص) کے حوض پر وارد کرے اور ہم کو آپ  کے جد کے جام سے علی بن ابی طالب (ع) کے ہاتھوں سے سیراب کرے اور آپ پر اللہ کا درود و سلام ہو ۔ میں خدا سے سوال کرتا ہوں کہ وہ ہم کو آپ لوگوں کے بارے میں خوشی اور آسانی دکھلادے  اور ہم کو اور آپ کو جمع کرے آپ کے جد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کے زمرہ میں اور ہم سے نہ سلب کرے آپ کی معرفت کو بیشک وہ سلطنت اور قدرت والا ہے ۔ میں اللہ سے قریب ہوتا ہوں آپ کی محبت میں اور آپ کے دشمنوں سے برائت کے ذریعہ اور اللہ کی طرف سر تسلیم خم کیے ہوئے اس پر راضی رہتے ہوئے بغیر انکار اور تکبر کے اور اس کے یقین پر جو جضرت محمد (ص) لائے اور اس سے راضی رہتے ہوۓ ۔ میں طلب کرتا ہوں اس کے ذریعہ آپ کے ذات کو اے میرے سردار ۔ اے خدا تیر ی مرضی اور آخرت کی سعادت کو طلب کرتا ہوں ۔ اے فاطمہ (ص) آپ میر ی شفاعت کیجۓ جنت کے لۓ کہ آپ کی خدا کے نزدیک شان ہے ۔ خدا یا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرا خاتمہ سعادت پر ہو پس تو سلب نہ کر مجھ سے وہ جس میں ہوں اور کوئی قوت و طاقت نہیں ہے مگر بلند و عظیم خدا کے لۓ ۔ خدا یا ہماری دعاؤں کو قبول کر اور مستجاب فرما اپنے کرم ، اپنی عزت اور اپنی رحمت اور عافیت کے واسطہ سے اور اللہ کا درود ہو محمد (ص) اور ان کی تمام آل پر اور سلام بھیج جو سلام کا حق ہے اےسب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

خداوند کریم ہم سب کو اپنی  زندگی میں بار بار اس دنیا  میں بی بی معصومہ قم (س) کی با معرفت زیارت نصیب فرمائے،  اور آخرت میں شفاعت نصیب فرمائے۔

آمین یا ربّ العالمین بحقّ محمد و آلہ الطیبین الطاہرین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

التماس دعا۔۔۔۔۔

 





Share
1 | عاطفه زهرا | | ١٦:٢١ - ٢٢ December ٢٠١٦ |
Masha allah bibi karima e ahlebait ki bari fazilat hai bibi par darodo salam ho
اللهم عجل لولیک الفرج
Khud harme karima ahlebait naseeb e ma befarma ameen har che zod tar insha allah
   
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی