2017 March 29
کیا امام عسکری (ع) کی میراث انکے بھائی اور انکی والدہ کے درمیان تقسیم ہوئی تھی؟
مندرجات: ٤٤٥ تاریخ اشاعت: ٠٧ December ٢٠١٦ - ١٨:١٣ مشاہدات: 249
سوال و جواب » Mahdism
جدید
کیا امام عسکری (ع) کی میراث انکے بھائی اور انکی والدہ کے درمیان تقسیم ہوئی تھی؟

 

توضیح سوال:

ایک شبہ کہ جس کو وہابی مسلسل تکرار کرتے رہتے ہیں اور اسی شبہے کو امام مہدی (عج) کے دنیا میں نہ آنے پر بھی دلیل قرار دیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ امام عسکری (ع) کی میراث انکے بھائی جعفر کذاب اور انکی والدہ کے درمیان تقسیم ہو گئی تھی، اور پھر وہ کہتے ہیں کہ اگر امام عسکری کا کوئی بیٹا تھا تو کیوں اسکو امام عسکری کی میراث نہیں ملی، فقط امام عسکری کے بھائی اور انکی والدہ ہی کو کیوں ملی ہے ؟

اور اسی طرح وہ دعوی کرتے ہیں کہ علماء شیعہ مانند سعد بن عبد الله(متوفی300ہجـ) اور حسن بن موسی نوبختی (متوفی310ہجـ) نے نقل کیا ہے کہ جب امام عسکری (ع) دنیا سے گئے تو کسی نے انکے بیٹے کو دیکھا نہیں تھا اور کوئی بھی اسکو جانتا تک نہیں تھا۔

ناصر الدين قفاری وہابی نے اپنی كتاب اصول مذہب الشيعہ میں اس بارے میں لکھا ہے کہ:

إذ بعد وفاة الحسن ـ إمامهم الحادي عشر ـ سنة (260هـ) لم يُر له خلف، و لم يُعرف له ولد ظاهر، فاقتسم ما ظهر من ميراثه أخوه جعفر و أمّه، كما تعترف بذلك كتب الشيعة نفسها، و بسبب ذلك اضطرب أمر الشّيعة و تفرّق جمعهم؛ لأنّهم أصبحوا بلا إمام، و لا دين عندهم بدون إمام، لأنّه هو الحجّة علي أهل الأرض... .

(امام) حسن کی سال 260ہجـ، میں وفات کے بعد، کہ جو شیعوں کے گیارویں امام ہیں، اس کا کوئی جانشین نہیں دیکھا گیا اور کو‏ئی بھی انکے کسی بیٹے کو نہیں جانتا تھا۔ اسی وجہ سے اسکی بچی ہوئی میراث کو اسکے بھائی اور اسکی والدہ کے درمیان تقسیم کر دیا گیا تھا۔ جس طرح کہ یہ مطلب خود شیعوں کی اپنی کتب میں ذکر ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ شیعہ حیرانی اور سر گردانی کا شکار ہو گئے تھے کیونکہ ان کا کوئی امام نہیں بنا تھا اور انکے مذہب کے مطابق دین امام کے بغیر معنی نہیں رکھتا، اس لیے کہ امام خداوند کی طرف سے اہل زمین پر حجت ہوتا ہے۔

ناصر الدين القفاری (معاصر)، اصول مذهب الشيعة، ج2، ص 1004، ناشر: دار الرضا ـ الجيزة.

اور احسان الہی ظہير وہابی نے بھی اس بارے میں کہا ہے کہ:

مات الحسن العسكری بدون خلف و لا عقب، كما نص علی ذلك النوبختی حيث قال: توفی و لم ير له أثر، و لم يعرف له ولد ظاهر، فاقتسم ميراثه أخوه جعفر و امه۔

[امام] حسن عسكری بغیر کسی بیٹے اور جانشین کے دنیا سے گئے تھے، جس طرح کہ نو بختی نے بھی اسی بارے میں وضاحت کی ہے اور اس نے کہا ہے کہ: وہ اس حالت میں دنیا سے گئے کہ کسی نے انکے جانشین کو نہیں دیکھا تھا اور کوئی بھی واضح طور پر انکے بیٹے کو نہیں جانتا تھا۔ پس اسکی میراث کو اسکے بھائی اور اسکی والدہ کے درمیان تقسیم کر دیا گیا تھا۔

احسان الهی ظهير(معاصر)، الشيعة و التشيع، ص261.

حل شبہ اور جواب:

 

ارکان شبہ:

الف : امام حسن عسكری (ع) جب دنیا سے گئے تو ان کے بیٹے کو کسی نے نہیں دیکھا تھا اور کوئی اسکو جانتا بھی نہیں تھا۔

ب : شيعہ امام عسکری (ع) کی وفات کے بعد سر گردانی اور اختلاف کا شکار ہو گئے تھے۔

ج : امام عسكری (ع) کی وفات کے بعد انکی میراث فقط انکے بھائی جعفر کذاب اور انکی والدہ کے درمیان تقسیم کر دی گئی تھی۔

قفاری کے کلام میں واضح تعارض اور تضاد:

ڈاکٹر قفاری نے اس جگہ واضح دعوی کیا ہے کہ کوئی بھی امام عسکری کے بیٹے کو نہیں جانتا تھا، لیکن اپنی اسی کتاب میں ایک دوسری جگہ پر اس نے شیعوں کی نظر کو اسطرح بیان کیا ہے کہ:

أما الاثنا عشريّة فقد ذهبت إلي الزّعم بأنّ للحسن العسكری ولداً كان قد أخفی (أی الحسن) مولده، و ستر أمره؛ لصعوبة الوقت و شدّة طلب السّلطان له، فلم يظهر ولده فی حياته، و لا عرفه الجمهور بعد وفاته.

شیعہ اثنا عشری نے اس عقیدے کو قبول کیا ہے کہ (امام) حسن عسکری کا ایک بیٹا کہ (امام) حسن نے اسکی ولادت کو مخفی کیا تھا اور کوئی بھی اسکو نہیں جانتا تھا، (امام ) عسکری نے زمانے کے حالات کی وجہ اور حاکم وقت کے ڈر سے، اپنے بیٹے کو اپنی زندگی میں ظاہر نہیں کیا تھا اور اکثر شیعہ امام عسکری کی وفات کے وقت اسکو نہیں جانتے تھے۔

أصول مذهب الشيعة، ج2، ص1006

قفاری نے اپنے اس کلام سے واضح طور پر اعتراف کیا ہے کہ شیعہ مذہب کا یہ عقیدہ ہے کہ: امام عسكری (ع) کا ایک بیٹا تھا کہ جس کو وہ اپنے دشمنوں سے چھپا کر رکھتے تھے، لیکن دوسری جگہ پر کہتا ہے کہ شیعہ کتب میں نقل ہوا ہے کہ امام عسکری کا کوئی بیٹا نہیں تھا اور شیعہ بغیر امام کے رہ گئے تھے اور......

شیعوں کا عقیدہ بیان کرنے میں یہ واضح تعارض اور تضاد، اس بات کی علامت ہے کہ یا وہ حقیقت کو جانتے ہی نہیں یا حقیقت کو بیان نہیں کرنا چاہتے اور فقط شیعوں کی دشمنی نے انکو اتنا اندھا کر دیا ہے کہ شیعہ مذہب پر اعتراض کرنے کی خاطر وہ ہر طرح کے  جھوٹ اور تہمت سے استفادہ کرنے پر تل جاتے ہیں۔

اس عقیدے کی نسبت شیعہ علماء کی طرف دینا بالکل جھوٹ ہے:

 

واضح ہے کہ نو بختی کی کتاب اور سعد بن عبد اللہ اشعری کی کی کتاب المقالات و الفرق کا موضوع منحرف شدہ فرقوں کے عقائد کو نقل کرنا اور پھر آخر میں شیعہ امامیہ کے صحیح عقیدے کو بیان کرنا ہے۔ اسی وجہ سے صرف عبارت کے اس ایک حصے کو ان دو کتابوں سے نقل کرنا اور پھر اس کو شیعہ کے تمام فرقوں حتی فرقہ اثنا عشریہ کی طرف نسبت دینا، یہ کام غیرت، انصاف اور انسانیت سے بہت دور ہے۔

یہ بات درست ہے کہ یہ مطلب ان دونوں کتابوں میں ذکر ہوا ہے لیکن انھوں نے اس مطلب کو منحرف اور باطل فرقوں کی زبان سے نقل کیا ہے، نہ یہ کہ شیعہ امامیہ کا بھی یہی عقیدہ ہے اور پھر اسی مطلب کے بارے میں فرقہ اثنا عشریہ کے عقیدے کی تشریح اور اسی عقیدہ کے صحیح ہونے کو ثابت کیا ہے۔ 

مرحوم نو بختی نے کتاب فرق الشيعہ میں عقيده اثنا عشريہ کو نقل اور پھر وہ اسی عقیدے کو صحیح کہتا ہے، اس بارے میں وہ لکھتا ہے کہ:

و قالت الفرقة الثانية عشرة و هم الأمامية ليس القول كما قال هؤلاء كلهم بل لله عز و جل في الأرض حجة من ولد الحسن بن علي و أمر الله بالغ و هو وصي لأبيه علي المنهاج الأول و السنن الماضية و لا تكون الإمامة في أخوين بعد الحسن و الحسين عليهما السلام و لا يجوز ذلك و لا تكون إلا في غيبة الحسن بن علي إلي أن ينقضي الخلق متصلا ذلك ما اتصلت أمور الله تعالي و لو كان في الأرض رجلان لكان أحدهما الحجة و لو مات أحدهما لكان الآخر الحجة ما دام أمر الله و نهيه قائمين في خلقه...

و لا يجوز أن تخلو الأرض من حجة و لو خلت ساعة لساخت الأرض و من عليها و لا يجوز شيء من مقالات هذه الفرق كلها فنحن مستسلمون بالماضي و إمامته مقرون بوفاة معترفون بأن له خلفا قائما من صلبه و أن خلفه هو الإمام من بعده حتي يظهر و يعلن أمره كما ظهر و علن أمر من مضي قبله من آبائه و يأذن الله في ذلك إذ الأمر لله يفعل ما يشاء و يأمر بما يريد من ظهوره و خفائه كما قال أمير المؤمنين عليه السلام «اللهم إنك لا تخلي الأرض من حجة لك علي خلقك ظاهرا معروفا أو خائفا مغمودا كيلا تبطل حجتك و بيناتك»

و بذلك أمرنا و به جاءت الأخبار الصحيحة عن الأئمة الماضين... و قد رويت أخبار كثيرة أن القائم تخفي علي الناس ولادته و يخمل ذكره و لا يعرف إلا أنه لا يقوم حتي يظهر و يعرف أنه إمام ابن امام و وصي ابن وصي يوتم به قبل أن يقوم و مع ذلك فإنه لا بد من أن يعلم أمره ثقاته و ثقات أبيه و إن قلوا و لا ينقطع من عقب الحسن بن علي عليه السلام ما اتصلت أمور الله عز وجل و لا ترجع إلي الأخوة و لا يجوز ذلك و أن الإشارة و الوصية لا تصحان من الإمام و لا من غيره إلا بشهود أقل ذلك شاهدان فما فوقهما.

فهذا سبيل الإمامة و المنهاج الواضح اللاحب الذي لم تزل الشيعة الإمامية الصحيحة التشيع عليه.

بارواں فرقہ کہ وہی امامیہ ہیں کہ ان کا عقیدہ ہے کہ عقیدہ امامت، اس طرح نہیں ہے کہ جس طرح دوسرے فرقے سمجھتے ہیں، بلکہ امام حسن کی نسل سے خداوند کی ایک حجت زمین پر موجود ہے اور خداوند کا حکم اس بارے میں قطعی اور حتمی ہے اور وہ گذشتہ آئمہ میں جاری سنت کے مطابق اپنے والد کے وصی ہیں۔ منصب امامت امام حسن اور امام حسین کے بعد ایک بھائی سے دوسرے بھائی تک منتقل نہیں ہو گا۔ لھذا امامت امام حسن عسکری کے بیٹے کے علاوہ کسی دوسرے کو نہیں مل سکتی، خداوند کا یہی ارادہ ہمیشہ باقی رہے گا۔ حتی اگر دو بندے بھی زمین پر زندہ باقی رہ جائیں تو ان میں سے ایک امام ہو گا اور اگر ان دونوں سے ایک مر جائے تو وہ جو زندہ ہو گا وہ امام ہو گا، اس وقت تک وہ امام اور حجت خدا ہو گا جب تک لوگوں کے درمیان احکام الہی موجود ہیں۔

زمین کا حجت خداوند سے خالی رہنا جائز نہیں ہے، اگر ایک لمحے کے لیے بھی ایسا ہو جائے تو، زمین اپنے تمام اھل کے ساتھ نابود ہو جائے گی۔ ان باطل فرقوں کی کہی ہوئی کوئی بات بھی ٹھیک نہیں ہے۔

امام عسكری کے دنیا سے جانے کے بعد انکے بیٹے جانشین ہیں۔ جو ان کے مرنے کے بعد ظاہر ہوں گے اور اپنی امامت کا اعلان کریں گے، جس طرح کہ گذشتہ آئمہ نے ایسے ہی کیا تھا۔ خداوند نے اسی کا ارادہ کیا ہے اور اس کا ارادہ ہمیشہ واقع ہو کر رہتا ہے کیونکہ حاکم مطلق فقط خداوند ہے۔ وہ جس کام کا بھی ارادہ کرتا ہے، ویسا ہی ہوتا ہے۔ خداوند جو بھی ظھور اور غیبت کے لیے کرے گا، وہی ہو کر رہے گا۔ جس طرح کہ امیر المؤمنین علی نے فرمایا ہے کہ: 

زمین خداوند کی حجت سے خالی نہیں ہو گی، چاہے وہ حجت ظاہر اور معروف ہو، یا مخفی اور حالت خوف میں ہو، تا کہ خداوند کی آیات اور حجت باطل نہ ہونے پائیں۔

یہ وہ چیز ہے کہ جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اور گذشتہ آئمہ سے اس بارے میں معتبر روایات ہم تک پہنچی ہیں۔

حضرت قائم کی ولادت کو عام لوگوں کی نظروں سے مخفی رکھا جائے گا اور انکو بہت کم لوگ جانتے ہوں گے، اس بارے میں بہت سی روایات شیعہ کتب میں نقل ہوئی ہیں۔ وہ امام ظاہر ہونے سے پہلے قیام نہیں کرے گا۔

وہ امام اور امام کے بیٹے، وصی اور وصی کے بیٹے ہیں۔ اس سے پہلے کہ قیام کرے اسکی پیروی کی جائے گی، اس صورت حال میں اس کے بارے میں اسکے والد اور مورد اعتماد افراد کو خبر دی گئی ہے، اگرچہ انکی تعداد بہت کم ہے۔ یہ امر امامت امام عسکری کے بیٹے سے دور نہیں ہو گا، یہاں تک کہ خداوند کا حکم جاری رہے گا اور یہ منصب امامت انکے بھائی کو نہیں ملے گا۔ اس بات پر اشارہ اور امام کی طرف سے وصیت، معتبر نہیں ہے مگر یہ کہ دو یا اس سے زیادہ اس بات پر شاہد اور گواہ ہوں۔

پس یہ شیعوں کا عقیدہ امامت ہے کہ جو روشن اور واضح ہے اور وہ ہمیشہ سے اس راہ پر ثابت قدم ہیں اور اسی راہ کو جاری رکھنا صحیح ہے۔

النوبختی، الحسن بن موسی (متوفی310هـ)، فرق الشيعة، ج 1 ص96 ـ 112، ناشر: دار الأضواء - بيروت، 1404هـ - 1984م

اور اسی طرح سعد بن عبد الله اشعری نے كتاب المقالات و الفرق میں امام عصر (عج) کی غیبت کی ابتدا میں مختلف اقوال کو نقل کرنے کے بعد، شیعہ اثنا عشریہ کے قول کو اس طرح نقل کیا ہے کہ:

ففرقة منها و هی المعروفة بالإمامية قالت:... فنحن متمسكون بإمامة الحسن بن علی، مقرّون بوفاته موقنون مؤمنون بأن له خلفاً من صلبه، متدينون بذلك و أنه الإمام من بعد أبيه الحسن بن علی، و أنه في هذه الحالة مستتر خائف مأمور بذلك حتی يأذن الله عز و جل له فيظهر و يعلن أمره.

ایک دوسرا فرقہ کہ جو امامیہ کے نام سے مشہور ہے، وہ کہتا ہے کہ: ہم امام حسن عسکری کی امامت کو قبول کرتے ہیں اور ہم یہ بھی قبول کرتے ہیں کہ وہ وفات پا گئے ہیں اور ہمارا یہ ایمان اور یقین ہے کہ ان کے صلب سے ان کا ایک جانشین بھی ہے اور ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ وہی اپنے والد حسن ابن علی کے بعد امام ہے جو اس زمانے میں اللہ کے حکم سے لوگوں کی نظروں سے غائب ہے، یہاں تک کہ خداوند اسکو ظاہر ہونے کی اجازت دے گا اور وہ پھر ظاہر ہو کر اپنے امر امامت کو آشکار اور واضح کرے گا۔

الأشعری القمی، أبو خلف سعد بن عبد الله (متوفی300هـ)، المقالات و الفرق، ص102ـ 103، تحقيق: محمد جواد مشكور، ناشر: مركز انتشارات علمی و فرهنگی ـ قم، الطبعة: الأولي، 1363هـ ش.

ڈاكٹر قفاری اور احسان الہی ظہير نے مرحوم نوبختی اور سعد بن عبد الله اشعری سے نقل کیا ہے كہ امام عسكری (ع) جب دینا سے گئے تو لوگوں نے انکے بیٹے کو دیکھا نہیں تھا اور اسے پہچانتے بھی نہیں تھے اور پھر اس عقیدے کی سارے شیعوں کی طرف نسبت دیتے ہیں، حالانکہ وہ مطلب جو ان دو علماء کے کلام سے معلوم ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ شیعہ اثنا عشریہ نے کبھی بھی امام مہدی کی ولادت کے بارے میں شک و تردید نہیں کی بلکہ تمام شیعوں کا اتفاق اور اجماع ہے کہ جب امام عسکری دنیا سے گئے تھے تو ان کا ایک پانچ سال کا بیٹا تھا۔

لیکن بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ ڈاكٹر قفاری اور ڈاكٹر احسان الہی ظہير نے مرحوم نوبختی اور سعد بن عبد الله کے کلام کے ذیل کو ذکر نہیں کیا اور فریب، جھوٹ اور خیانت سے کوشش کی ہے کہ غلط اور الٹے عقیدے کو پہلے ان دو شیعہ علماء اور پھر تمام شیعوں کی طرف نسبت دیں۔

اور یہ بات اس چیز کی علامت ہے کہ وہابی علماء کے ہاتھ شیعہ مذہب کے عقائد حقہ پر اعتراض کرنے سے دلیل اور استدلال سے خالی ہیں اور اب ان کے پاس اعتراض کرنے کے لیے فقط جھوٹ، تہمت، فریب اور خیانت باقی بچی ہے۔

اگر دوسرے فرقے صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے ہیں اور انکے عقائد باطل اور خرافاتی ہیں تو اس میں مذہب حقہ اثنا عشریہ کا کیا قصور ہے ؟؟؟

ایک چیز کا نہ ملنا، اسکے نہ ہونے کی دلیل نہیں ہے:

 

یہ سعد بن عبد الله اور مرحوم نوبختی کا کہنا کہ ،و لم ير له خلف و لم يعرف له ولد ظاهر،

اس کے جانشین کو دیکھا نہیں گیا اور کوئی بھی ان کے بیٹے کو نہیں جانتا تھا، یہ کلام اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ حقیقت میں بھی امام عسکری (ع) کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔

ایک قول مشہور ہے کہ: عدم الوجدان لا يدل علی عدم الوجود، لوگوں کو نظر نہ آنا یا لوگوں کو نہ ملنا یہ امام مہدی (عج) کے پیدا نہ ہونے پر دلیل نہیں ہے کیونکہ نہ ملنے اور نہ ہونے میں کوئی بھی لازمہ اور رابطہ نہیں ہے۔

ہاں اگر سعد بن عبد الله اور نوبختی کہتے کہ لم يولد له ولد، یعنی امام عسکری کا اصلا کوئی بیٹا ہی نہیں تھا تو پھر ان دونوں وہابیوں کی بات مانی جا سکتی تھی، کیونکہ «و لم ير له خلف و لم يعرف له ولد ظاهر» اور«لم يولد له ولد» کی عبارت میں زمین سے لے کر آسمان تک فرق ہے!!!

اہل سنت کے فرقوں کا آپس میں شدید اختلاف:

 

ڈاکٹر قفاری نے شیعہ مذہب میں اختلاف اور چند گرہوں کے ہونے کی وجہ سے بھی شعیہ مذھب پر اعتراض کیا ہے، حالانکہ ادیان الہی اور آسمانی میں طول تاریخ میں ہمیشہ سے اختلاف رہا ہے، حتی رسول خدا (ص) کے زمانے میں ان کے پیروکاروں کا آپس میں شدید اختلاف ہوتا رہتا تھا اور اسی وجہ سے وہ آپس میں بہت متضاد اور مختلف فرقے بھی وجود میں لایا کرتے تھے۔ پس صرف اختلاف کی وجہ سے ایک فرقے کے حق یا باطل ہونے کو ثابت نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملت اور ہر امت میں دنیا پرست اور ہوائے نفس کی پیروی کرنے والے اشخاص ہوتے ہیں کہ جو فقط اپنے ذاتی مفاد کی خاطر خداوند کے دین کو منحرف کرتے ہیں تا کہ اس سے لوگوں میں اختلاف ایجاد کر کے اپنے اہداف اور مقاصد تک پہنچ سکیں۔

خاص طور پر بنی امیہ اور بنی عباس کے حکماء کی تو ہر وقت یہی کوشش تھی کہ شیعوں کے درمیان اختلاف ایجاد کر کے ان کو آپس میں تقسیم کر کے مختلف گرہوں میں بانٹ دیں۔ اکثر اوقات ایسا ہوتا تھا کہ صراط مستقیم سے منحرف فرقے ظالم اور خائن حکمرانوں کے مال اور کوششوں سے بر حق فرقے کے مقابلے پر وجود میں لائے جاتے تھے، لھذا منحرف اور باطل فرقوں کا موجود ہونا، کہ اکثر ایسے فرقے فقط چند مہینے یا چند سال بعد ہی ختم اور نابود ہو جاتے تھے، یہ مذھب حق کے حق اور صراط مستقیم پر ہونے کو کوئی ضرر نہیں پہنچاتے۔

ڈاکٹر قفاری کو شیعہ مذہب میں فقط اختلاف نظر آیا ہے، حالانکہ یہ اختلاف اور گروہ بندی اہل سنت میں شیعوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ یہاں تک کہ اہل سنت کے ایک فرقے نے اہل سنت کے دوسرے فرقے کو کافر قرار دیا ہے اور آپس میں عملی طور پر بھی لڑائی جھگڑے کیے ہیں کہ ہم یہاں پر چند نمونوں کو ذکر کرتے ہیں:

جو بھی حنبلی نہیں ہے، وہ کافر ہے:

 

شمس الدين ذہبی نے اپنی کتاب تاريخ الإسلام اور سير اعلام النبلاء اور اسی طرح ابن رجب حنبلی نے ذیل طبقات الحنابلہ میں لکھا ہے کہ:

أحمد بن الحسين بن محمد. المحدث الأمام أبو حاتم بن خاموش الرازي البزاز. من علماء السنة... و حكاية شيخ الإسلام الأنصاري معه مشهورة. و قوله: مَن لم يكن حنبلياً فليس بمسلم.

شيخ الاسلام انصاری کی داستان احمد بن حسين بن محمد کے ساتھ مشھور ہے کہ اس نے کہا ہے کہ: جو بھی حنبلی نہیں ہے، وہ مسلمان نہیں ہے۔

الذهبی، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفی748هـ)، تاريخ الإسلام و وفيات المشاهير و الأعلام، ج 29، ص 303، تحقيق د. عمر عبد السلام تدمري، ناشر: دار الكتاب العربي - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولی،

الذهبی، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفی748هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 17، ص 625، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسی، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة،

إبن رجب الحنبلی، عبد الرحمن بن أحمد (متوفی795هـ)، ذيل طبقات الحنابلة، ج 1، ص 20، الجامع الكبير کی سی ڈی کیمطابق،

احمد ابن حنبل کے پیروکار کافر ہیں:

 

ابن اثير جزری نے لکھا ہے کہ:

ذكر الفتنة ببغداد بين الشافعية و الحنابلة

ورد إلي بغداد هذه السنة الشريف أبو القاسم البكري المغربي الواعظ و كان أشعري المذهب و كان قد قصد نظام الملك فأحبه و مال إليه و سيره إلي بغداد و أجري عليه الجراية الوافرة فوعظ بالمدرسة النظامية و كان يذكر الحنابلة و يعيبهم و يقول ( و ما كفر سليمان و لكن الشياطين كفروا ) و الله ما كفر أحمد و لكن أصحابه كفروا.

شافعيوں اور حنبليوں کا بغداد میں فتنہ گری کرنا:

ابو القاسم بكری مغربی كہ جو اشعری مذہب تھا اور وہ بغداد میں نظام الملک سے ملاقات کرنے کے ارادے سے داخل ہوا، وہ نظام الملک کہ جس نے اس کا بہت احترام کیا۔ اس نے مدرسہ نظامیہ میں وعظ اور خطاب کیا کرتا تھا کہ جس میں وہ حنبلیوں کو بہت برا بھلا کہتا تھا اور لوگوں کے سامنے انکے عیوب کو ظاہر کیا کرتا تھا، وہ کہتا تھا کہ احمد ابن حنبل کافر نہیں ہے بلکہ اس کے پیروکار کافر ہیں۔

الجزری، عز الدين بن الأثير أبی الحسن علی بن محمد (متوفی 630هـ)، الكامل في التاريخ، ج 8، ص 428، تحقيق عبد الله القاضی، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة الثانية،

اور نويری نے بھی اس بارے میں لکھا ہے کہ:

و في سنة خمس و سبعين كانت الفتنة بين الطائفيين، و سببها أنه ورد إلي بغداد الشريف أبو القاسم البكري المقرئ الواعظ و كان أشعريّ المذهب، و كان قد قصد نظام الملك فأحبّه و مال إليه و سيّره إلي بغداد، و أحري عليه الجراية الوافرة. و كان يعِظ بالمدرسة النظامية، و يذكر الحنابلة و يعيبهم و يقول «و ما كفر سُليمان و لكن الشياطين  كفروا» و ما كفر أحمد و لكن أصحابه كفروا ثم قصد يوماً دار قاضي القضاة أبي عبد الله الدامغاني فجري بينه و بين قومٍ من الحنابلة مشاجرة أدّت إلي الفتنة.

75ھج میں دو گرہوں کے درمیان فتنہ اور فساد شروع ہوا اور اسکی وجہ ابو القاسم بکری کا آنا تھا کہ جو اشعری مذھب تھا اور وہ نظام الملک سے ملاقات کرنا چاہتا تھا۔ اس نے مدرسہ نظامیہ میں وعظ اور خطاب کیا تھا کہ جس میں وہ حنبلیوں کو بہت برا بھلا کہتا تھا اور لوگوں کے سامنے انکے عیوب کو ظاہر کیا کرتا تھا، وہ کہتا تھا کہ احمد ابن حنبل کافر نہیں ہے بلکہ اس کے پیرو کار کافر ہیں۔ پھر وہ قاضی القضات ابو عبد اللہ دامغانی سے ملنے کے لیے گیا، اس کے اور حنبلیوں کے ایک گروہ میں تلخ کلامی شروع ہوئی کہ جس کے بعد ان کا آپس میں لڑائی جھگڑا شروع ہو گیا۔

 النويری، شهاب الدين أحمد بن عبد الوهاب (متوفی733هـ)، نهاية الأرب في فنون الأدب، ج 23، ص 141، تحقيق مفيد قمحية و جماعة، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولی،

ابن خلكان نے اشاعرہ اور حنبلیوں کی آپس میں دشمنی اور انکے درمیان ہونے والے قتل و غارت کے بارے میں لکھا ہے کہ:

و كان ولده [أبو القاسم القشيري] أبو نصر عبد الرحيم إماما كبيرا أشبه أباه في علومه... و جري له مع الحنابلة خصام بسبب الإعتقاد لأنه تعصب للأشاعرة و انتهي الأمر إلي فتنة قتل فيها جماعة من الفريقين.

ابو نصر عبد الرحیم ابن ابو القاسم قشیری کہ جو ایک بزرگ راہنما اور علم میں بھی اپنے والد کی طرح تھا۔ یہ اشعری مذھب اور متعصب تھا، اس کے اور حنبلیوں کے درمیان اعتقاد کی وجہ سے دشمنی اور اختلاف زیادہ ہونے لگا کہ جسکے نتیجے میں دونوں طرف سے بہت سے بندے قتل ہوئے۔

إبن خلكان، ابو العباس شمس الدين أحمد بن محمد بن أبي بكر (متوفی681هـ)، وفيات الأعيان و انباء أبناء الزمان، ج 3، ص 208، تحقيق احسان عباس، ناشر: دار الثقافة - لبنان؛

اليافعی، ابو محمد عبد الله بن أسعد بن علی بن سليمان (متوفی 768هـ)، مرآة الجنان و عبرة اليقظان، ج 3، ص 210، ناشر: دار الكتاب الإسلامي – القاهرة،

العكری الحنبلی، عبد الحی بن أحمد بن محمد (متوفاي 1089هـ)، شذرات الذهب في أخبار من ذهب، ج 3، ص 322، تحقيق: عبد القادر الأرنؤوط، محمود الأرناؤوط، ناشر: دار بن كثير - دمشق، الطبعة: الأولی،

عكری حنبلی نے ابوبكر بكری کے بارے میں لکھا ہے کہ:

البكري أبو بكر المقرئ الواعظ من دعاة الأشعرية وفد علي نظام الملك بخراسان فنفق عليه و كتب له سجلا أن يجلس بجوامع بغداد فقدم و جلس و وعظ و نال من الحنابلة سبا و تكفيرا و نالوا منه.

ابوبکر واعظ اشعری مذہب کا مبلغ تھا۔ وہ نظام الملک سے ملاقات کرنے کے لیے گیا اور اس سے بہت زیادہ مال لیا۔ اس نے ایک خط لکھا تا کہ بغداد کی یونیورسٹیوں میں خطاب کر سکے لیکن حنبلیوں نے اسے بہت گالیاں دیں اور اسکو کافر کہا۔

العكری الحنبلی، عبد الحی بن أحمد بن محمد (متوفی 1089هـ)، شذرات الذهب في أخبار من ذهب، ج 3، ص 353، تحقيق: عبد القادر الأرنؤوط، محمود الأرناؤوط، ناشر: دار بن كثير - دمشق، الطبعة: الأولی،

نويری نے عز الدين سلمی شافعی کے بارے میں لکھا ہے کہ:

فأنه [مظفر الدين موسي ابن الملك العادل] كان قد عزر جماعة من أعيان الحنابلة المبتدعة تعزيرا بليغا رادعا و بدع بهم و أهانهم.

مظفر الدين موسی نے حنبلیوں کے مشھور بندوں کے ایک گروہ کو کوڑے مارے اور انکی بہت زیادہ توہین کی۔

النويری، شهاب الدين أحمد بن عبد الوهاب (متوفی733هـ)، نهاية الأرب في فنون الأدب، ج 30، ص 41، تحقيق مفيد قمحية و جماعة، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولی،

مذہب کو تبدیل کرنا ممنوع ہے:

 

محمد بن اسماعيل صنعانی نے ملا علی قاری سے نقل کیا ہے کہ:

اشتهر بين الحنفية أن الحنفي إذا انتقل إلي مذهب الشافعي يعزر و إذا كان بالعكس فإنه يخلع عليه.

حنفیوں کے درمیان مشہور ہے کہ اگر ایک حنفی مذہب، شافعی مذہب اختیار کر لے تو اس کو تعزیر کی سزا دی جائے گی، لیکن اگر  بر عکس ہو تو اس انعام و اکرام دیا جائے گا۔

الصنعانی، محمد بن إسماعيل (متوفی1182هـ)، إرشاد النقاد إلي تيسير الاجتهاد، ج 1، ص 147، تحقيق: صلاح الدين مقبول أحمد، ناشر: الدار السلفية - الكويت، الطبعة: الأولی،

حنبلی شافعیوں کو سبّ اور لعنت کیا کرتے تھے:

 

ابن عساكر شافعی نے لکھا ہے کہ:

إن جماعة من الحشوية و الأوباش الرعاع المتوسمين بالحنبلية أظهروا ببغداد من البدع الفضيعة و المخازی الشنيعة ما لم يتسمح به ملحد فضلاً عن موحد... و تناهوا فی قذف الأئمة الماضين وثلب أهل الحق و عصابة الدين، و لعنهم في الجوامع و المشاهد، و المحافل و المساجد، و الأسواق و الطرقات، و الخلوة و الجماعات، ثم غرهم الطمع و الإهمال و مدهم فی طغيانهم الغی و الضلال، إلي الطعن فيمن يعتضد به آئمة الهدی و هو للشريعة العروة الوثقی، و جعلوا أفعاله الدينية معاصی دنية، و ترقوا من ذلك إلي القدح في الشافعی رحمة الله عليه و أصحابه.

حنبلیوں کے ایک آوارہ گروہ نے بغداد میں ایسے غلط کام انجام دئیے اور بدعتیں وجود میں لائی ہیں کہ کوئی خدا پرست بندہ تو کیا حتی کوئی بے دین بندہ بھی ایسے کام انجام نہیں دیتا۔

وہ علماء اور بزرگان دین کو عام لوگوں کے سامنے سر عام اور محافل، مساجد، کوچہ و بازار میں سبّ، لعنت کیا کرتے تھے اور ان پر تہمتیں لگایا کرتے تھے۔ وہ اتنے گمراہ تھے کہ حتی علماء دین کے نیک کاموں کو خداوند کی معصیت کہتے تھے اور عالم بزرگ شافعی اور اسکے پیرو کاروں کو برا بھلا کہا کرتے تھے۔

ابن عساكر الدمشقی الشافعی، أبی القاسم علی بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله،(متوفی 571هـ)، تبيين كذب المفتری، ص310، دار الكتاب العربی ـ بيروت.

حنبلیوں سے جزیہ لینا:

 

شمس الدين ذہبی نے ابو حامد طوسی کے بارے میں لکھا ہے کہ:

و أبو حامد البروی الطوسی الفقيه الشافعی محمد بن محمد تلميذ تلميذ محمد بن يحيی و صاحب التعليقة المشهورة في الخلاف كان إليه المنتهی في معرفة الكلام و النظر و البلاغة و الجدل بارعا فی معرفة مذهب الأشعری قدم بغداد و شغب علی الحنابلة أهدوا له مع امرأة صحن حلو مسمومة و قيل إن البروی قال لو كان لی أمر لوضعت علی الحنابلة الجزية.

ابو حامد بروی طوسی شافعی مذہب کا فقیہ، محمد بن یحیی کے شاگرد کا شاگرد، مسائل اختلافی میں مشہور حاشیہ لگالنے والا، وہ کہ جو علم کلام، مناظرہ اور بلاغت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا، مذہب اشعری کے بارے میں بھی بہت آگاہی رکھتا تھا۔ جب وہ بغداد میں آیا تو اس نے حنبلیوں کے خلاف ایک فتنہ اور بغاوت شروع کر دی۔ حنبلیوں نے ایک عورت کے ذریعے مسموم حلوا اس کے لیے بھیجا۔

اس سے نقل ہوا ہے کہ وہ کہتا تھا کہ اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں حنبلیوں سے جزیہ لیتا۔

الذهبی، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان ابو عبد الله (متوفی 748 هـ)، العبر في خبر من غبر، ج 4، ص 200، تحقيق: د. صلاح الدين المنجد، ناشر: مطبعة حكومة الكويت - الكويت، الطبعة: الثاني، 1984،

العكری الحنبلی، عبد الحی بن أحمد بن محمد (متوفی 1089هـ)، شذرات الذهب في أخبار من ذهب، ج 4، ص 224، تحقيق: عبد القادر الأرنؤوط، محمود الأرناؤوط، ناشر: دار بن كثير - دمشق، الطبعة: الأولي، 1406هـ.

شافعیوں سے جزیہ لینا:

 

ابو الفداء السودانی نے تاج التراجم میں لکھا ہے کہ:

محمد بن موسي بن عبد الله البلاشاغوني التركي تفقه ببغداد و قدم دمشق و ولي بها القضاء و مات في جمادي الآخرة سنة ست و خمسمائة و كان يقول لو كان لي أمر لأخذت الجزية من الشافعية.

محمد بن موسی بن عبد الله بلاشاغونی تركی نے فقہ بغداد میں پڑھی تھی اور پھر دمشق گیا اور وہاں جا کر اس نے قاضی کے عہدے پر فائز ہوا ۔ اس نے کہا ہے کہ اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں شافعیوں سے جزیہ لیتا۔

السودانی، أبو الفداء زين الدين قاسم بن قطلوبغا (متوفی879هـ)، تاج التراجم فی طبقات الحنفية، ج 1، ص 350، تحقيق: محمد خير رمضان يوسف، ناشر: دار القلم - دمشق / سوريا، الطبعة: الأولی،

اسی مطلب کو ذہبی نے ميزان الإعتدال، ابو الفداء قرشی نے الجواهر المضيہ میں اور محمد بن اسماعيل صنعانی نے طبقات الحنفيہ میں نقل کیا ہے:

الذهبی، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفی748هـ)، ميزان الاعتدال في نقد الرجال، ج 6، ص 350، تحقيق: الشيخ علی محمد معوض و الشيخ عادل أحمد عبد الموجود، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1995م؛

القرشی، عبد القادر بن أبي الوفاء محمد بن أبي الوفاء أبو محمد (متوفی775هـ)، الجواهر المضية فی طبقات الحنفية، ج 2، ص 136، ناشر: مير محمد كتب خانه – كراچی،

الصنعانی، محمد بن إسماعيل (متوفی1182هـ)، إرشاد النقاد إلی تيسير الاجتهاد، ج 1، ص 23، تحقيق: صلاح الدين مقبول أحمد، ناشر: الدار السلفية - الكويت، الطبعة: الأولي، 1405هـ.

شافعیوں کی مساجد کا حنفيوں کی مساجد سے الگ ہونا:

 

محمد بن اسماعيل صنعانی نے ارشاد النقاد میں لکھا ہے کہ:

لقد وصل الخلاف إلي أن منع بعض الفقهاء الأحناف تزوج الحنفي من المرأة الشافعية ثم صدرت فتوي من فقيه آخر ملقب بمفتي الثقلين فأجاز تزوج الحنفي بالشافعية و علل ذلك بقوله تنزيلا لها منزلة أهل الكتاب و قال العلامة رشيد رضا و قد بلغ من إيذاء بعض المتعصبين لبعض في طرابلس الشام في آخر القرن الماضي أن ذهب بعض شيوخ الشافعية إلي المفتي و هو رئيس العلماء و قال له اقسم المساجد بيننا و بين الحنفية فإنا فلانا من فقهائهم يعدنا كأهل الذمة بما أذاع في هذه الأيام من خلافهم في تزوج الرجل الحنفي بالمرأة الشافعية و قول بعضهم لا يصح لأنها تشك في إيمانها يعني أن الشافعية و غيرهم يجوزون أن يقول المسلم أنا مؤمن إن شاء الله و قول آخرين بل يصح نكاحها قياسا علي الذمية.

حنفیوں اور شافعیوں کا آپس میں اختلاف اس قدر بڑھ گیا تھا کہ بعض حنفی فقہا نے شافعیوں کے ساتھ شادی کرنے کو حرام قرار دے دیا تھا، ایک دوسرے فقیہ نے اس شادی کو اس لیے جائز قرار دیا تھا کہ اس نے شافعیوں کو اہل کتاب کی طرح قرار دیا تھا۔

رشید رضا نے لکھا ہے کہ: اذیت و آزار اس قدر بڑھ چکا تھا کہ بعض علماء شافعی مفتی اعظم کے پاس گئے اور اس سے درخواست کی شافعیوں اور حنفیوں کی مساجد کو آپس میں الگ الگ کریں، کیونکہ ان کے فقہا اھل ذمہ کی طرح کا سلوک کرتے تھے، حنفی کی شادی کو شافعی سے جائز نہیں جانتے تھے اور ......

الصنعانی، محمد بن إسماعيل (متوفی1182هـ)، إرشاد النقاد إلی تيسير الاجتهاد، ج 1، ص 20، تحقيق: صلاح الدين مقبول أحمد، ناشر: الدار السلفية - الكويت، الطبعة: الأولي، 1405هـ.

حنبلیوں نے مسجد ضرار تعمیر کی ہے:

 

تنوخيی بصری نے لکھا ہے کہ:

الحنابلة يبنون مسجداً ضراراً. أخبرنی جماعة من البغداديين: إن الحنابلة بنوا مسجداً ضراراً، و جعلوه سبباً للفتن و البلاء. فتظلم منه إلی علی بن عيسی، فوقع فی ظهر القصة. أحق بناء بهدم، و تعفية رسم، بناء أسس علی غير تقوی من الله، فليلحق بقواعده، إن شاء الله تعالی.

اہل بغداد کے ایک گروہ نے نقل کیا ہے کہ: حنبلیوں نے ایک مسجد تعمیر کی تو شافعیوں نے کہا کہ یہ مسجد ضرار ہے، کیونکہ وہ مسجد اختلاف اور شافعیوں پر حملہ کرنے کے ایک مرکز میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اس مسجد کے مخالفوں نے علی بن عیسی سے شکایت کی تو اس نے اسی کاغذ کے دوسری طرف لکھا کہ یہ مسجد اس قابل ہے کہ جتنا جلدی ہو سکے اس کو ویران اور نابود کر دینا چاہیے کیونکہ اسکی بنیاد تقوا پر نہیں رکھی گئی، لھذا اس کو فوری طور پر گرا دینا چاہیے۔

التنوخی البصری، ابو علی المحسن بن علی بن محمد بن أبي الفهم (متوفی 384هـ)، نشوار المحاضرة و أخبار المذاكرة، ج 1، ص 330، تحقيق: مصطفی حسين عبد الهادی، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولی،

امام عسکری (ع) کی میراث کو تقسیم کرنا، یہ امام مہدی (عج) کی عدم ولادت پر دلالت نہیں کرتا:

 

جو قفاری اور احسان الہی ظہير نے کہا ہے کہ: امام عسکری کی وفات کے بعد انکی میراث کو انکے بھائی جعفر اور انکی والدہ کے درمیان تقسیم کر دیا گیا اور یہ بات دلالت کرتی ہے کہ امام عسکری کا کوئی بیٹا نہیں تھا، اسلیے کہ اگر کوئی بیٹا ہوتا تو یہ میراث اسکو ملتی۔

ان کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ: یہ مسئلہ ہر گز اس بات کو ثابت نہیں کرتا کہ امام عسکری (ع) کا کوئی بیٹا نہیں تھا، کیونکہ اگر شیعوں نے اس مطلب کو نقل کیا ہے تو انھوں نے یہ تو نہیں کہا کہ امام عسکری کا بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے انکی میراث انکے بھائی اور انکی والدہ کے درمیان تقسیم کر دی گئی تھی، بلکہ انھوں نے کہا ہے کہ امام عسکری (ع) کے بھائی جعفر کذاب نے جھوٹا امامت کا دعوی کیا تھا اور خلیفہ عباسی کی مدد سے دھوکے اور فریب کے ساتھ زبردستی امام عسکری کی میراث پر قبضہ کر لیا تھا۔

شيخ صدوق نے كتاب كمال الدين ميں لکھا ہے کہ:

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَرَّاقُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الصُّوفِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَي عَنْ عَبْدِ الْعَظِيمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَسَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَحْيَي عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْكَابُلِيِّ قَالَ:... قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ عليه السلام أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص قَالَ إِذَا وُلِدَ ابْنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عليه السلام فَسَمُّوهُ الصَّادِقَ فَإِنَّ لِلْخَامِسِ مِنْ وُلْدِهِ وَلَداً اسْمُهُ جَعْفَرٌ يَدَّعِي الْإِمَامَةَ اجْتِرَاءً عَلَي اللَّهِ وَ كَذِباً عَلَيْهِ فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ جَعْفَرٌ الْكَذَّابُ الْمُفْتَرِي عَلَي اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ الْمُدَّعِي لِمَا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ الْمُخَالِفُ عَلَي أَبِيهِ وَ الْحَاسِدُ لِأَخِيهِ ذَلِكَ الَّذِي يَرُومُ كَشْفَ سَتْرِ اللَّهِ عِنْدَ غَيْبَةِ وَلِيِّ اللَّهِ عَزَّ و َجَلَّ ثُمَ بَكَي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ عليه السلام بُكَاءً شَدِيداً ثُمَّ قَالَ كَأَنِّي بِجَعْفَرٍ الْكَذَّابِ وَ قَدْ حَمَلَ طَاغِيَةَ زَمَانِهِ عَلَي تَفْتِيشِ أَمْرِ وَلِيِّ اللَّهِ وَ الْمُغَيَّبِ فِي حِفْظِ اللَّهِ وَ التَّوْكِيلِ بِحَرَمِ أَبِيهِ جَهْلًا مِنْهُ بِوِلَادَتِهِ وَ حِرْصاً مِنْهُ عَلَي قَتْلِهِ إِنْ ظَفِرَ بِهِ وَ طَمَعاً فِي مِيرَاثِهِ حَتَّي يَأْخُذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ....

ابو خالد كابلی نے کہا ہے کہ: امام سجاد (ع) نے فرمایا کہ: میرے والد نے اپنے والد سے میرے لیے نقل کیا ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا کہ: جب میرا بیٹا جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علی بن ابی طالب (عليهم السلام) پیدا ہوا تو اسکا نام صادق رکھا گیا کیونکہ اسکے پانچوایں بیٹے جعفر نے خداوند کی نافرمانی اور جھوٹ نسبت دیتے ہوئے، امامت کا دعوی کیا۔ وہ خداوند کے نزدیک جعفر کذاب اور خداوند پر بہتان لگانے والا ہے اور اس نے ایسے مقام کا دعوی کیا تھا کہ جس کا وہ اھل نہیں تھا۔ وہ اپنے والد کے مخالف اور اپنے بھائی سے حسد کرنے والا تھا، وہ خداوند کے راز کو خدا کے ولی کی غیبت کے زمانے میں فاش کرنا چاہتا تھا۔

پھر علی بن الحسين (ع) نے بہت زیادہ گریہ کیا اور فرمایا: گویا میں جعفر کذاب کو دیکھ رہا ہوں کہ اپنے زمانے کے سرکش انسان کو خدا کے ولی کا پیچھا کرنے کا کہہ رہا ہے کہ جو خدا کے حکم سے غائب ہوا ہے اور جو اپنے والد کے حرم پر موکل ہوا ہے،  اسکی ولادت سے جہالت کی وجہ سے اور اسکو قتل کرنے کی نیت سے کہ اگر اس ارادے میں کامیاب ہو جائے اور اپنے بھائی کی میراث میں لالچ کرتے ہوئے، اس کو ناحق طریقے سے غصب کرنا چاہتا ہے۔

الصدوق، ابو جعفر محمد بن علی بن الحسين (متوفای381هـ)، كمال الدين و تمام النعمة، ص319 ـ 320، تحقيق: علی اكبر الغفاری، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامی ( التابعة ) لجماعة المدرسين ـ قم، 1405هـ.

یہ روایت رسول خدا کی زبان سے نقل ہوئی ہے کہ جو واضح طور پر دلالت کر رہی ہے کہ جعفر کذاب امام عسکری کی میراث کو غصب کرنے کی نیت سے، اپنے زمانے کے ظالم حاکم کے سامنے خدا کے ولی کا راز فاش کرنا چاہتا تھا۔ اس نے حاکم کے بندوں کو امام عسکری کے گھر لایا تا کہ امام کے بیٹے کو ڈھونڈ کر قتل کر دیں، اور وہ امام عسکری کی ساری میراث پر قبضہ کر سکے۔

لہذا امام عسکری کی میراث انکے بیٹے امام مہدی کے علاوہ کسی اور کو مل جانا، یہ ہر گز دلالت نہیں کرتا کہ امام عسکری کا کوئی بیٹا ہی نہیں تھا۔

شيخ مفيد نے اس واقعے کے بارے میں لکھا ہے کہ:

وَ خَلَّفَ ابْنَهُ الْمُنْتَظَرَ لِدَوْلَةِ الْحَقِّ وَ كَانَ قَدْ أَخْفَي مَوْلِدَهُ وَ سَتَرَ أَمْرَهُ لِصُعُوبَةِ الْوَقْتِ وَ شِدَّةِ طَلَبِ سُلْطَانِ الزَّمَانِ لَهُ وَ اجْتِهَادِهِ فِي الْبَحْثِ عَنْ أَمْرِهِ وَ لِمَا شَاعَ مِنْ مَذْهَبِ الشِّيعَةِ الْإِمَامِيَّةِ فِيهِ وَ عُرِفَ مِنِ انْتِظَارِهِمْ لَهُ فَلَمْ يُظْهِرْ وَلَدَهُ عليه السلام فِي حَيَاتِهِ وَ لَا عَرَفَهُ الْجُمْهُورُ بَعْدَ وَفَاتِهِ. وَ تَوَلَّي جَعْفَرُ بْنُ عَلِيٍّ أَخُو أَبِي مُحَمَّدٍ عليه السلام أَخْذَ تَرِكَتِهِ و َسَعَي فِي حَبْسِ جَوَارِي أَبِي مُحَمَّدٍ عليه السلام وَ اعْتِقَالِ حَلَائِلِهِ و َشَنَّعَ عَلَي أَصْحَابِهِ بِانْتِظَارِهِمْ وَلَدَهُ وَ قَطْعِهِمْ بِوُجُودِهِ وَ الْقَوْلِ بِإِمَامَتِهِ وَ أَغْرَي بِالْقَوْمِ حَتَّي أَخَافَهُمْ وَ شَرَّدَهُمْ وَ جَرَي عَلَي مُخَلَّفِي أَبِي مُحَمَّدٍ عليه السلام بِسَبَبِ ذَلِكَ كُلُّ عَظِيمَةٍ مِنِ اعْتِقَالٍ وَ حَبْسٍ وَ تَهْدِيدٍ وَ تَصْغِيرٍ وَ اسْتِخْفَافٍ وَ ذُلٍّ وَ لَمْ يَظْفَرِ السُّلْطَانُ مِنْهُمْ بِطَائِلٍ.

وَ حَازَ جَعْفَرٌ ظَاهِرَ تَرِكَةِ أَبِي مُحَمَّدٍ عليه السلام وَ اجْتَهَدَ فِي الْقِيَامِ عِنْدَ الشِّيعَةِ مَقَامَهُ فَلَمْ يَقْبَلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ ذَلِكَ وَ لَا اعْتَقَدَهُ فِيهِ فَصَارَ إِلَي سُلْطَانِ الْوَقْتِ يَلْتَمِسُ مَرْتَبَةَ أَخِيهِ وَ بَذَلَ مَالًا جَلِيلًا وَ تَقَرَّبَ بِكُلِّ مَا ظَنَّ أَنَّهُ يَتَقَرَّبُ بِهِ فَلَمْ يَنْتَفِعْ بِشَيْ ءٍ مِنْ ذَلِكَ.

امام عسكری (ع) نے اپنے بعد اپنا بیٹا جانشین کے طور پر چھوڑا ہے کہ جو ابھی زندہ اور حکومت عدل الہی کے انتظار میں ہے۔

امام عسكری ہمیشہ اپنے بیٹے کی ولادت کو چھپایا کرتے تھے اور کسی کو بھی اس کے ظاہر ہونے سے با خبر نہیں ہونے دیتے تھے، کیونکہ اس وقت حالات بہت خراب تھے اور خلیفہ بھی ہاتھ دھو کر امام کو ہر قیمت پر تلاش کرنے میں لگا ہوا تھا۔ اس لیے کہ اسی زمانے میں یہ بات مشھور ہو چکی تھی کہ شیعہ اپنے غائب امام کے انتظار میں ہے کہ جو امام ابو محمد کے بیٹے ہیں اور اسی وجہ سے امام ابو محمد اپنے بیٹے کو لوگوں کے سامنے نہیں لاتے تھے، اور امام ابو محمد کی وفات کے بعد ان کے بہت قریبی لوگوں کے علاوہ کوئی بھی انکے بیٹے کو نہیں جانتا تھا۔

امام عسكری کی وفات کے وقت ظاہری طور پر وارث نہ ہونے کی وجہ سے جعفر ابن علی معروف بہ جعفر کذاب، امام عسکری کا بھائی، اس نے امام کی تمام جائیداد کو ضبط کر لیا، امام کی کنیزوں کو زندان میں ڈال دیا اور امام کے گھر کی عورتوں کو گھر میں بند کر دیا اور امام عسکری کے دوستوں اور شیعوں کو، کہ جو امام کے بیٹے کے ظاہر ہونے کے انتظار میں تھے، برا بھلا کہتا تھا اور کوشش کرتا تھا کہ ان کے درمیان اختلاف ایجاد کر کے سب کو آپس میں تقسیم کر دے اور امام عسکری کے گھر والوں کو زندان میں ڈالنے، گھر میں نظر بند کرنے، ان کو ڈرانے، دھمکیاں دینے، حقیر کرنے کی وجہ سے ان کو بہت نقصان ہوا تھا۔  ان تمام نقصان اور مشکلات کے با وجود خلیفہ پھر بھی امام عسکری کے بیٹے کو ڈھونڈنے میں کامیاب نہ ہوا۔

اور جس طرح کہ پہلے بھی ذکر ہوا ہے کہ جعفر نے امام کی جائیداد کو ضبط کر کے چاہا کہ شاید اسکو امام والا مقام شیعوں میں مل جائے، لیکن کسی بھی شیعہ نے اسکے جھوٹے دعوے کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور اسکو کسی نے بھی امام عسکری کا جانشین تسلیم نہیں کیا تھا۔ اس پر جعفر خلیفہ کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ مجھے میرے بھائی والے مقام پر پہنچنے کے لیے مدد کرو اور اس کے لیے اس نے بہت زیادہ مال بھی خرچ کیا، اس نے اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے ہر حربے کو استعمال کیا لیکن پھر بھی وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوا۔

الشيخ المفيد، محمد بن محمد بن النعمان ابن المعلم أبي عبد الله العكبری البغدادی (متوفی413 هـ)، الإرشاد في معرفة حجج الله علي العباد، ج2، ص 336، تحقيق: مؤسسة آل البيت عليهم السلام لتحقيق التراث، ناشر: دار المفيد للطباعة والنشر والتوزيع - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية،

جعفر کذاب کے بارے میں شیعوں کے مختلف اقوال:

 

جعفر کذاب کے بارے میں شیعوں کے تمام اقوال اور نظریات کا اور خاص طور پر مورد بحث موضوع کے بارے میں، خلاصہ یہ ہے کہ:

الف : اس نے امامت کا جھوٹا دعوی کیا، حالانکہ وہ اس بلند اور عظیم منصب کا بالکل اہل نہیں تھا، اسی وجہ سے اس نے اپنے زمانے کے ظالم خلیفہ سے مدد مانگی کہ وہ اسکی شیعوں کا امام بننے میں مدد کرے، لیکن پھر بھی وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوا۔

یہ بات جالب ہے کہ جب وہ عبيد الله بن يحيی بن خاقان کے وزیر کے پاس گیا اور اس سے درخواست کی کہ آپ بادشاہ سے کہیں کہ منصب امامت کو میرے حوالے کر دے، تو اس نے جواب میں کہا کہ:

يَا أَحْمَقُ السُّلْطَانُ جَرَّدَ سَيْفَهُ فِي الَّذِينَ زَعَمُوا أَنَّ أَبَاكَ وَ أَخَاكَ أَئِمَّةٌ لِيَرُدَّهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَلَمْ يَتَهَيَّأْ لَهُ ذَلِكَ فَإِنْ كُنْتَ عِنْدَ شِيعَةِ أَبِيكَ أَوْ أَخِيكَ إِمَاماً فَلَا حَاجَةَ بِكَ إِلَي السُّلْطَانِ أَنْ يُرَتِّبَكَ مَرَاتِبَهُمَا وَ لَا غَيْرِ السُّلْطَانِ وَ إِنْ لَمْ تَكُنْ عِنْدَهُمْ بِهَذِهِ الْمَنْزِلَةِ لَمْ تَنَلْهَا بِنَا.

اے احمق، بادشاہ نے اپنی شمشیر کو نیام سے باہر نکالا کہ لوگوں کو تیرے باپ اور بھائی کی امامت سے دور کر سکے لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوا۔ اور اب تم آئے ہو کہ بادشاہ اپنے حکم کے ساتھ منصب امامت تمہیں دے دے ؟ اگر تم اپنے والد اور بھائی کے شیعوں کی نظروں میں امام ہوتے تو پھر بادشاہ وغیرہ کے فرمان اور تائید کی کوئی ضرورت نہیں تھی، اور اگر تم امام نہیں ہو تو پھر بادشاہ کے فرمان اور تائید وغیرہ سے منصب امامت تم کو نہیں مل سکتا۔

الكلينی الرازی، أبو جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفی328 هـ)، الأصول من الكافي، ج1، ص505، ناشر: اسلاميه ، تهران ، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.

ب : جعفر نے ناحق دعوی کیا کہ وہ اپنے بھائی کے اموال اور میراث کا وارث ہے، لیکن پھر بھی وہ اپنے بھائی کے مقام امامت کو حاصل کرنے میں ناکام رہا، لیکن ظالم خلیفہ کی مدد اور بہت ہی زیادہ کوشش کرنے کی وجہ سے امام عسکری (ع) کی جائیداد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

ابن شہر آشوب مازندانی نے مناقب ميں لکھا ہے کہ:

و َتَوَلَّي أَخُوهُ أَخْذَ تَرِكَتِهِ و َسَعَي إِلَي السُّلْطَانِ فِي حَبْسِ جَوَارِي أَبِي مُحَمَّدٍ عليه السلام وَ شَنَّعَ عَلَي الشِّيعَةِ فِي انْتِظَارِهِمْ وَلَدَهُ وَ جَرَي عَلَي مُخَلَّفِ كُلُّ بَلَاءٍ وَ اجْتَهَدَ جَعْفَرٌ فِي المَقامِ مَقَامَهُ فَلَمْ يَقْبَلْهُ أَحَدٌ بَرَأوْ مِنه وَ لَقَّبُوهُ الْكَذَّاب .

امام عسکری کے بھائی جعفر نے امام کی میراث کو ضبط کر لیا اور ظالم خلیفہ سے مدد طلب کی تا کہ امام ابو محمد کی کنیزوں کو حاصل کر سکے اور امام عسکری کے شیعوں کو، کہ جو امام کے بیٹے کے ظاہر ہونے کے انتظار میں تھے اور اسکی امامت کے قائل تھے، برا بھلا کہتا اور بہت ضرر پہنچاتا تھا۔ جعفر نے بہت کوشش کی کہ اپنے آپ کو اپنے بھائی کا جانشین ثابت کرے لیکن کسی نے اسکی باتوں کی طرف توجہ نہ کی۔ سب نے اس سے بیزاری کا اعلان کیا اور اسکو جعفر کذاب کا لقب دیا۔

ابن شهر آشوب، رشيد الدين أبی عبد الله محمد بن علی السروی المازندرانی (متوفی588هـ)، مناقب آل أبی طالب، ج3، ص524، تحقيق: لجنة من أساتذة النجف الأشرف، ناشر: المكتبة و المطبعة الحيدرية، 1376هـ ـ 1956م.

ج : جعفر کذاب کا ایک بہت برا اور غلط یہ کام تھا کہ وہ اپنے بھائی امام عسکری (ع) کے گھر کے رازوں کو فاش کیا کرتا تھا۔ وہ اپنے وقت کے ظالم حاکم کے پاس گیا اور اسکو امام مہدی کی ولادت سے آگاہ کیا، کہ اسی وجہ سے امام عسکری (ع) پر امام مہدی (عج) کو تلاش کرنے کی وجہ سے حاکم کی طرف سے زیادہ سختی شروع ہوئی۔ حاکم نے امام مہدی کو ڈھونڈنے کے لیے بہت زیادہ کوشش کی لیکن خداوند کا ارادہ یہی تھا کہ وہ اپنی آخری حجت کو دشمنوں سے محفوظ رکھے۔ جب جعفر شیعوں کی نظر میں کذاب کے لقب سے مشھور ہے تو پھر شیعہ علماء کی نظر میں امام عسکری کی میراث ایسے شخص کی طرف سے ضبط اور غصب ہو جانا، کس طرح امام مہدی کے دنیا میں نہ آنے پر دلالت کرتا ہے ؟؟؟

التماس دعا





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی