2017 May 1
امام رضا (ع) کی شخصیت اہل سنت کے علماء کی نظر میں
مندرجات: ٤٣٤ تاریخ اشاعت: ٢٩ November ٢٠١٦ - ١١:٤٠ مشاہدات: 388
مضامین و مقالات » پبلک
امام رضا (ع) کی شخصیت اہل سنت کے علماء کی نظر میں

امامت اور ولایت کے آسمان کے آٹھویں ستارے امام رضا (ع) 11 ذی القعدہ 148 ہجری قمری کو مدینہ میں امام موسی کاظم (ع) کے گھر پیدا ہوئے، آپ کی والدہ ماجدہ کا نام نجمہ خاتون تھا۔ امام رضا کے والدین کی شرافت اور برتری کسی پر پوشیدہ نہیں تھی اور نہیں ہے۔ امام کا نام علی اور لقب رضا رکھا گیا۔ 183 ہجری قمری میں ہارون الرشید ملعون کے امام کاظم (ع) کو شہید کرنے کے بعد، امام رضا 35 سال کی عمر میں مسند امامت اور ولایت پر جلوہ افروز ہوئے اور عالم کائنات کی ہدایت کا ذمہ خداوند کی طرف سے اپنے عہدے لیا۔

200 ہجری قمری میں جب مامون عباسی ملعون نے زبردستی امام رضا کو خراسان بلوایا تو اس وقت امام کی امامت کے 17 سال گزر چکے تھے۔ آخر کار مامون عباسی ملعون کے مکر اور حیلوں نے اپنا اثر دکھایا اور امام رضا 203 ہجری قمری صفر کے مہینے کے آخر میں مامون کے زہر دینے کی وجہ سے شہید کر دئیے گئے۔ 

اس تحریر میں ہم اہل سنت کے علماء کی نظر میں امام رضا (ع) کی نورانی اور مقدس شخصیت کو بیان کریں گے۔

ابی نواس (قرن سوم):

 

ابن خلکان نے امام رضا کے مبارک نام کو ذکر کرنے کے بعد، ابی نواس کے امام رضا کی شخصیت کے بارے میں اشعار کے بارے میں اشارہ کیا ہے کہ:

قيل لي أنت أحسن الناس طرا

في فنون من الكلام النبيه

لك من جيد القريض مديح

يثمر الدر في يدي مجتنيه

فعلام تركت مدح ابن موسى

و الخصال التي تجمعن فيه

قلت لا أستطيع مدح إمام

كان جبريل خادما لأبيه

و كان سبب قوله هذه الأبيات أن بعض أصحابه قال له ما رأيت أوقح منك ما تركت خمرا و لا طردا و لا معنى إلا قلت فيه شيئا و هذا علي بن موسى الرضا في عصرك لم تقل فيه شيئا فقال و الله ما تركت ذلك إلا إعظاما له و ليس قدر مثلي أن يقول في مثله ثم أنشد بعد ساعة هذه الأبيات:

مطهرون نقيات جيوبهم

تجري الصلاة عليهم أينما ذكروا

من لم يكن علويا حين تنسبه

فما له في قديم الدهر مفتخر

الله لما برا خلقا فأتقنه

صفاكم و اصطفاكم أيها البشر

فأنتم الملأ الأعلى وعندكم

علم الكتاب و ما جاءت به السور

مجھے کہا گیا کہ تمہارا کلام سب سے اچھا ہے۔ تیری تعریف کرنے والے بھی بہت زیادہ ہیں، جو بھی تمہارا کلام سنتا ہے گویا وہ گوہر اور موتی اپنے دامن میں جمع کرتا ہے. تم نے اتنے کمالات اور اوصاف کے با وجود کیوں موسی ابن جعفر کے بیٹے کی مدح کو اپنے اشعار میں بیان نہیں کیا ؟ میں نے جواب دیا: جس شخصیت کے باپ کا جبرائیل خادم ہو، مجھ میں اس شخصیت کی مدح بیان کرنے کی طاقت اور جرات نہیں ہے۔

ابی نواس کے ان اشعار کو بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ایک دن ابی نواس کے ایک دوست نے اس سے  کہا کہ میں نے آج تک تم سے زیادہ کوئی گستاخ بندہ نہیں دیکھا، کہ تم نے ہر چیز کے بارے میں شعر کہے ہیں لیکن اس زمانے میں علی بن موسی الرضا جیسی شخصیت کے بارے میں کوئی شعر بھی نہیں کہا ؟!

ابی نواس نے جواب دیا کہ: خدا کی قسم میں نے ان کے احترام اور بزرگواری کی وجہ سے ان کے بارے میں اشعار نہیں کہے کیونکہ میں اپنے آپ کو ان کی شان بیان کرنے کے قابل نہیں سمجھتا، پھر تھوڑی دیر بعد اس نے ان اشعار کو کہا:

وہ پاک فطرت اور پاک دامن ہیں کہ جہاں پر بھی ان کا نام لیا جائے تو، ان پر درود اور سلام بھیجا جاتا ہے۔ جس کا نسب بھی آل علی تک نہ پہنچتا ہو تو اس کے پاس فخر کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ جب خداوند نے مخلوقات کو خلق کیا تو، ان میں سے آپ کے خاندان کو عزت اور بزرگی کے لیے انتخاب کیا، آپ بلند مقام اور اسوہ عمل ہیں کہ جن کے پاس علم کتاب اور قرآن کی تفسیر کا علم ہے۔

إبن خلكان، ابو العباس شمس الدين أحمد بن محمد بن أبي بكر (متوفی681هـ)، وفيات الأعيان و انباء أبناء الزمان، ج 3 ص 268 و 269 ، تحقيق احسان عباس، ناشر: دار الثقافة - لبنان.

الأتابكي، جمال الدين أبي المحاسن يوسف بن تغري بردى (متوفی874هـ)، النجوم الزاهرة في ملوك مصر والقاهرة، ج 2 ص 175 ، ناشر: وزارة الثقافة والإرشاد القومي – مصر.

خزرجی (متوفی329هـ ): 

 

خزرجی انصاری يمنی نے امام رضا (ع) کے بارے میں لکھا ہے کہ:

 علي بن موسى بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب الهاشمي أبو الحسن الرضا ... و كان سيد بني هاشم و كان المأمون يعظمه و يجله.

علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن حسين بن علی بن ابيطالب ہاشمي ، ابو الحسن رضا ... وہ بنی ہاشم کے بزرگ تھے اور مأمون عباسی ہمیشہ ان کا بہت احترام اور تعظیم کیا کرتا تھا۔ 

الخزرجي الأنصاري اليمني، الحافظ الفقيه صفي الدين أحمد بن عبد الله  (متوفی329هـ )، خلاصة تذهيب تهذيب الكمال في أسماء الرجال، ج 1 ص 278 ، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة دار النشر: مكتب المطبوعات الإسلامية/دار البشائر، حلب / بيروت،‌

مسعودی (متوفی346هـ):

 

مسعودی شافعی نے بھی امام رضا (ع) کی عظمت کو مامون عباسی کی زبان سے اس طرح بیان کیا ہے کہ: 

و وصل إلى المأمونُ أبو الحسن علي بن موسى الرضا، و هو بمدينة مَرْوَ، فأنزله المأمون أحسنَ إنزال، و أمر المأمون بجميع خواص الأولياء، و أخبرهم أنه نظر في ولد العباس، و ولد علي رضي الله عنهم، فلم يجد في وقته أحداً أفْضَلَ و لا أحَقَّ بالأمر منعلي بن موسى الرضا، فبايَعَ له بولاية العهد، و ضرب اسمه على الدنانير و الدراهم.

اور علی بن موسی الرضا (ع) مأمون کے پاس شہر مرو میں آئے تو اس نے امام رضا کو بہت ہی اچھی جگہ رہنے کے لیے دی، اور اس نے تمام دوستوں اور اپنے نزدیکیوں کو حکم دیا اور ان کو بتایا کہ اس نے تمام بنی عباس اور علی ابن ابی طالب کی اولاد کو مشاہدہ اور ان کے بارے میں تحقیق کی ہے کہ اس زمانے میں کوئی بھی علی ابن موسی الرضا سے بڑھ کر مقام امامت کے لیے اہل اور مناسب نہیں ہے۔ اس لیے مامون نے ان کی اپنے ولی عہد کے عنوان سے بیعت کی اور علی ابن موسی کے نام سے سکہ، درہم اور دینار جاری کیے۔ 

المسعودي، ابوالحسن علي بن الحسين بن علي (متوفی346هـ) مروج الذهب، ج 2 ص 48 ، الجامع الكبير کی سی ڈی کے مطابق،

بالکل اسی طرح کی عبارت مندرجہ ذیل کتاب میں بھی نقل ہوئی ہے:

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفی748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 9 ص 392 ، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة – بيروت،

ابن حبان (متوفی354 هـ):

 

محمد بن حبان نے امام رضا (ع) کے بارے میں اپنی کتاب الثقات میں اس طرح لکھا ہے کہ 

على بن موسى الرضا و هو على بن موسى بن جعفر بن محمد بن على بن الحسين بن على بن أبى طالب أبو الحسن من سادات أهل البيت و عقلائهم وجلة الهاشميين و نبلائهم يجب أن يعتبر حديثه.

علی بن موسی الرضا كہ جو موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن حسين بن علی بن ابيطالب کے بیٹے ہیں، انکی کنیت ابو الحسن ہے کہ جو رسول خدا کے اہل بیت اور بنی ہاشم کے بزرگان، عقلاء، نجیب اور با شرافت انسان ہیں کہ ان کی احادیث کو معتبر جاننا واجب ہے۔

التميمي البستي، محمد بن حبان بن أحمد ابوحاتم (متوف354 هـ)، الثقات، ج 8 ص 456 ، تحقيق: السيد شرف الدين أحمد، ناشر: دار الفكر،

وہ امام رضا کی قبر کی زیارت کے بارے میں کہتا ہے کہ:

و قبره بسناباذ خارج النوقان مشهور يزار بجنب قبر الرشيد قد زرته مرارا كثيرة و ما حلت بي شدة في وقت مقامى بطوس فزرت قبر على بن موسى الرضا صلوات الله على جده و عليه و دعوت الله إزالتها عنى إلا أستجيب لي و زالت عنى تلك الشدة و هذا شيء جربته مرارا فوجدته كذلك.

اور علی ابن موسی الرضا کی قبر سناباد کے علاقے نوقان میں مشہور ہے اور اسکی زیارت بھی کی جاتی ہے۔ میں نے انکی قبر کی کئی مرتبہ زیارت کی ہے اور جب میں طوس میں رہتا تھا تو جب بھی میرے لیے کوئی علمی مسئلہ پیش آتا تھا تو میں فوری امام رضا کی قبر کی زیارت کے لیے جاتا تھا اور وہاں جا کر اس علمی مسئلے کا حل خداوند سے طلب کرتا تھا تو حتمی اور لازمی طور پر میری دعا قبول اور مشکل حل ہو جاتی تھی۔ میں نے کئی مرتبہ اس بات کو تجربہ کیا ہے اور ہر بار میری مشکل حل ہو جاتی تھی۔

التميمي البستي، محمد بن حبان بن أحمد ابوحاتم (متوفی354 هـ)، الثقات، ج 8 ص 457 ، تحقيق: السيد شرف الدين أحمد، ناشر: دار الفكر،

حاكم نيشابوری (متوفی 405 ه-):

 

حاكم نيشابوری امام رضا (ع) اور انکی زيارت کی فضیلت کے بارے میں کہتا ہے کہ:

ابو الحسن الامام الشهيد ... استشهد بسناباد من طوس ... و قال الرضا رضى اللّه عنه: «من زارنى على بعد دارى اتيته يوم القيمة [فى ] ثلث مواطن اخلّصه من اهوالها، اذا تطايرت الكتب يمينا و شمالا و عند الصراط و عند الميزان.

علی بن موسی الرضا ابو الحسن شہيد امام ہیں کہ جو سناباد طوس میں شہید ہوئے اور امام رضا نے فرمایا ہے کہ جو بھی عالم غربت اور وطن سے دور میری زیارت کرے گا تو میں بھی تین مقام پر اس کے پاس آؤں گا اور اسکو خطرات اور مشکلات سے نجات دوں گا، ٭ جب نامہ اعمال کو بعض کے دائیں ہاتھ اور بعض کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، ٭ پل صراط سے گزرتے وقت، ٭ اعمال کے حساب و کتاب کے وقت،

حاكم نيشابوري، ابو عبدالله (متوفی 405 ه-)، تاريخ نيشابور، نشر آكه، تهران، اول، 1375ش

سمعانی (متوفی562هـ):

 

اس نے امام رضا (ع) کے بارے میں ایسے لکھا ہے کہ:

و الرضا كان من أهل العلم و الفضل مع شرف النسب.

علی بن موسی الرضا (ع) اہل علم و صاحب فضیلت اور شریف النسب انسان ہیں۔

السمعاني، أبي سعيد عبد الكريم بن محمد ابن منصور التميمي (متوفی562هـ)، الأنساب، ج 3 ص 74 ، تحقيق: عبد الله عمر البارودي، دار النشر: دار الفكر – بيروت،

ابن جوزی (متوفی 597 ه):

 

ابن جوزی امام رضا (ع) کے علمی کے بارے میں لکھتا ہے کہ:

و كان يفتي في مسجد رسول الله صلي الله عليه و آله و هو بن نيف و عشرين سنة.

اور علی بن موسی الرضا (ع) مدینہ میں مسجد نبوی میں بیٹھ کر فتوی دیا کرتے تھے، حالانکہ انکی عمر اس وقت بیس سال کے نزدیک تھی۔

ابن جوزي، عبد الرحمن بن علي بن محمد، (متوفی 597 ه-) المنتظم في تاريخ الملوك و الأمم ، ج 10 ،  ص 119، 120 ، دار النشر : دار صادر – بيروت، 

فخر رازی (متوفی604هـ):

 

فخر الدين رازی عالم شافعی سورہ کوثر کے نازل ہونے کے بارے میں مختلف مباحث کو بیان کرنے کے بعد کہتا ہے کہ کوثر کے مصادیق میں سے ایک مصداق حضرت فاطمہ زہرا کی اولاد ہے، وہ لکھتا ہے کہ:

و القول الثالث : الكوثر أولاده قالوا : لأن هذه السورة إنما نزلت رداً على من عابه عليه السلام بعدم الأولاد ، فالمعنى أنه يعطيه نسلاً يبقون على مر الزمان ، فانظر كم قتل من أهل البيت ، ثم العالم ممتلىء منهم ، و لم يبق من بني أمية في الدنيا أحد يعبأ به ، ثم أنظر كم كان فيهم من الأكابر من العلماء كالباقر و الصادق و الكاظم و الرضا عليهم السلام و النفس الزكية و أمثالهم.

اور تیسرا قول کوثر کی تفسیر کے بارے میں یہ ہے کہ: کوثر سے مراد رسول خدا کی اولاد ہے، کہا گیا ہے کہ: کیونکہ یہ سورہ ان لوگوں کے جواب میں نازل ہوئی ہے کہ جو رسول خدا کو بے اولاد ہونے کے طعنے دیا کرتے تھے۔ پس اس کا یہ معنی ہے کہ خداوند نے رسول خدا کو ایسی اولاد اور نسل عطا فرمائی ہے کہ جو ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے گی۔ آپ خود دیکھو کہ تاریخ میں رسول خدا کے اہل بیت کو کس قدر قتل کیا گیا ! لیکن پھر بھی کائنات کے مشرق اور مغرب میں سادات موجود ہیں، اور اس طرف سے بنی امیہ میں سے کوئی بھی قابل ذکر انسان باقی نہیں بچا۔ اور ان سادات میں کس قدر علماء اور بزرگان موجود ہیں، جیسے آئمہ اطهار: باقر ، صادق ، كاظم اور رضا علیهم السلام و نفس زكیہ، وغیرہ وغیرہ۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفی604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج 32 ص 117 ، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، 

ابن اثير (المتوفى : 606هـ):

 

ابن اثير جزری شافعی نے جامع الاصول امام رضا (ع) کے کثیر فصائل کے بارے میں اس طرح لکھا ہے کہ:

علي بن موسى الرِّضا هو أبو الحسن ، علي بن موسى بن جَعْفَر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب الهاشمي، المعروف بالرِّضا ... و إِليه انتهت إِمامة الشِّيعة في زمانه. و فضائله أكثر من أن تُحْصى ، رحمة الله عليه و رضوانه.

علی بن موسی الرضا کہ وہ ابو الحسن ، علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسين بن علی بن ابيطالب اور ہاشمی ہیں کہ جو رضا کے لقب سے مشہور ہیں ... اور انکے زمانے میں شیعہ کی امامت انہی کے پاس تھی، اور انکے فضائل اتنے زیادہ ہیں کہ جن کو شمار کرنا بہت ہی مشکل کام ہے کہ خداوند کی رحمت اور رضوان ان پر ہو۔

ابن أثير الجزري، المبارك بن محمد ابن الأثير (المتوفى : 606هـ)، معجم جامع الأصول في أحاديث الرسول، ج 12 ص 715 ، تحقيق: بشير عيون، ط دار الفكر.

ذہبی (متوفی748 هـ):

 

شمس الدين ذهبی نے بھی لکھا ہے کہ:

علي الرضى الإمام السيد أبو الحسن علي الرضى بن موسى الكاظم بن جعفر الصادق بن محمد الباقر بن علي بن الحسين الهاشمي العلوي المدني... و كان من العلم و الدين و السودد بمكان ... و قد كان علي الرضى كبير الشأن أهلا للخلافة.

علی الرضا امام اور سید، ابو الحسن علی الرضا ہیں کہ جو موسی الكاظم بن جعفر الصادق بن محمد الباقر بن علی بن الحسين کے بیٹے اور ہاشمی علوی مدنی ہیں ... علم و دین اور شرافت کے لحاظ سے بلند مرتبے پر فائز تھے، اور علی بن موسی الرضا اتنے بلند مرتبه تھے کہ جو مقام خلافت اور امت کی رہبری کے لیے اہل اور مناسب تھے۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفی748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 9 ص 387 و 392 ، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت،

اسی طرح جہاں اس نے ایک ایک کر کے آئمہ کے اسماء کو ذکر کیا ہے تو وہاں پر امام رضا (ع) کے بارے میں ایسے لکھا ہے کہ:

و ابنه علي بن موسى الرضا كبير الشان له علم و بيان و وقع في النفوس صيره المامون ولي عهده لجلالته.

اور ان ( موسی ابن جعفر) کے بیٹے علی بن موسی الرضا بلند مرتبہ ہیں کہ جو صاحب علم اور بیان تھے کہ جن کا کلام دلوں پر اثر کرتا تھا، مامون نے امام رضا کی عظمت اور جلالت کی وجہ سے ان کو اپنا ولی عہد قرار دیا ہوا تھا۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفی748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 13 ص 121 ، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت،

صفدی (متوفی764هـ):

 

صفدی شافعی اہل سنت کے عالم نے امام رضا (ع) کے بارے میں لکھا ہے کہ:

علي بن موسى بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبو طالب أبو الحسن الرضا ... و هو أحد الأئمة الاثني عشر كان سيد بني هاشم في زمانه.

علی بن موسى بن جعفر بن محمد بن علی بن حسين بن علی بن ابی طالب ابي الحسن کہ جن کا لقب رضا تھا ... کہ جو شیعہ کے بارہ اماموں میں سے ایک امام ہیں اور اپنے زمانے میں بنی ہاشم کے بزرگ اور سردار تھے۔

الصفدي، صلاح الدين خليل بن أيبك (متوفی764هـ)، الوافي بالوفيات، ج 22 ص 154 ، تحقيق أحمد الأرناؤوط وتركي مصطفى، ناشر: دار إحياء التراث - بيروت 

يافعی (المتوفى: 768هـ):

 

يافعی شافعی نے سال 203 ہجری کے حوادث میں امام رضا (ع) کے بارے میں لکھا ہے کہ:

و فيها توفي الامام الجليل المعظم سلالة السادة الاكارم أبو الحسن على بن موسى الكاظم بن جعفر الصادق بن محمد الباقر بن زين العابدين على بن الحسين ابن على بن ابى طالب أحد الائمة الاثنى عشر اولى المناقب الذين انتسبت الامامية اليهم.

سال 203 ہجری میں امام بزرگوار نسل سادات کریم ابو الحسن علی بن موسی کہ جو  جعفر الصادق بن محمد الباقر بن زين العابدين علی بن الحسين بن علی بن ابيطالب کے بیٹے تھے، نے وفات پائی، کہ جو شیعہ کے بارہ اماموں میں سے ایک امام کہ جن کے بہت سے فضائل ہیں اور فرقہ امامیہ انہی سے منسوب ہے۔

اليافعي، أبو محمد عفيف الدين عبد الله بن أسعد بن علي بن سليمان (المتوفى: 768هـ)، مرآة الجنان و عبرة اليقظان في معرفة ما يعتبر من حوادث الزمان، ج 2، ص 10، حاشيه: خليل المنصور، الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت – لبنان،

ابو المحاسن بردی ظاهری (متوفی874هـ):

 

يوسف بن تغری بردی بن عبد الله ظاہری حنفی نے بھی سال 203 ہجری کے حوادث میں لکھا ہے کہ:

و فيها توفي علي الرّضى ابن موسى الكاظم بن جعفر الصادق بن محمد الباقر بن علي زين العابدين بن الحسين بن علي بن أبى طالب، الإمام أبو الحسن الهاشمىّ العلوىّ الحسينىّ، كان إماما عالما ... و كان علي هذا سيد بني هاشم في زمانه و أجلّهم، و كان المأمون يعظمه و يبجله و يخضع له و يتغالى فيه.

سال 203 ہجری میں علی بن موسی الرضا فرزند موسی الكاظم بن جعفر بن محمد الباقر بن علی زين العابدين بن الحسين بن علی بن ابی‌ طالب امام ابو الحسن هاشمی علوی حسينی نے وفات پائی۔ وہ امام اور عالم تھے کہ جو اپنے زمانے میں بنی ہاشم کے بزرگ اور سردار تھے، مامون ہمیشہ ان کی عزت اور احترام کرتا تھا اور امام کے سامنے عاجزی اور انکساری کرنے میں بہت مبالغہ آرائی سے کام لیتا تھا۔

 الأتابكي، جمال الدين أبي المحاسن يوسف بن تغري بردى (متوفی874هـ)، النجوم الزاهرة في ملوك مصر والقاهرة، ج 2 ص 174 و 175 ، ناشر: وزارة الثقافة والإرشاد القومي – مصر.

سمہودی (متوفی 911 ه):

 

سمہودی شافعی نے امام رضا (ع) کے بارے میں لکھا ہے کہ:

فكان أوحد زمانه جليل القدر.

علی بن موسی الرضا علم اور تقوی کے لحاظ سے اپنے زمانے میں سب سے منفرد اور بہت عظمت کے مالک تھے۔

السمهودي، علي بن عبد الله بن أحمد الحسني الشافعي (متوفی 911 ه-)، جواهر العقدين، ص 446، بيروت، دار الكتب العلمية.

قرمانی (المتوفى: 1019هـ):

 

قرمانی نے بھی امام رضا (ع) سے متعلق فصل میں ان کے بارے میں لکھا ہے کہ:

و کانت مناقبه عليه و صفاته سنية ... و کراماته کثيرة و مناقبه شهيرة ... و کان رضي الله عنه قليل النوم، کثير الصوم، و کان جلوسه في الصيف علي حصير و في الشتاء علي جلدة شاة.

علی بن موسی الرضا (ع) کے فضائل اور صفات بلند مرتبہ تھے کہ انکی کرامات بہت زیادہ اور مشہور تھیں اور وہ بہت کم سوتے اور زیادہ روزے رکھتے تھے اور وہ گرمیوں میں ایک چٹائی اور سردیوں میں بھیڑ کی کھال پر بیٹھا کرتے تھے۔

القرماني، أحمد بن يوسف، (المتوفى: 1019هـ)، أخبار الدول و آثار الأول في التاريخ، ج 1 ص 341-344 ، المحقق، الدکتور فهمي سعد، الدکتور أحمد حطيط، عالم الکتاب.

شبراوی (متوفی 1171 ه-):

 

شبراوی شافعی نے امام رضا (ع) کے کثیر فضائل اور صفات کے بارے میں لکھا ہے کہ:

کان رضي الله عنه کريما جليلا مهابا موقرا ... و کانت مناقبه علّيه و صفاته سنيه و نفسه الشريفة هاشمية و أرومته الکريمة نبوية کراماته أکثر من ان تحصر و أشهر من ان تذکر.

علی بن موسی الرضا (ع) کریم، بزرگوار، با رعب اور با وقار تھے، ان کے فضائل عالی مرتبہ اور صفات نیک تھیں، وہ شریف النفس اور ہاشمی تھے، انکی زندگی کی روش اور طریقہ، رسول خدا کی زندگی کی روش اور طریقے پر تھی۔ انکی کرامات اتنی زیادہ ہیں کہ انکو شمار کیا جا سکے اور اس قدر مشہور ہیں کہ ذکر کرنے کی محتاج نہیں ہیں۔

الشبراوي الشافعي، عبد الله بن محمد بن عامر (متوفاي 1171 ه-)، الإتحاف بحب الأشراف، 58 ، دار النشر: مصطفي البابي الحلبي وأخويه – مصر، بي تا.

نبهانی (متوفی 1350 هـ):

 

اس نے اپنی کتاب میں امام رضا (ع) کو بزرگ آئمہ میں شمار کیا ہے اور کہا ہے کہ:

علي الرضا بن موسي الکاظم بن جعفر الصادق أحد أکابر الأئمة و مصابيح الأمة، من أهل بيت النبوة و معادن العلم و العرفان و الکرم و الفتوة. کان عظيم القدر، مشهور الذکر.

علی الرضا فرزند موسی الكاظم بن جعفر الصادق بزرگ آئمہ میں سے ایک ہیں، وہ اس امت کے روشن چراغ ہیں کہ جو رسول خدا کے اہل بیت، علم، عرفان، کرامت اور مردانگی کا مرکز ہیں کہ جو بہت بزرگوار اور ان کا ذکر بہت مشہور ہے۔

النبهاني، يوسف بن اسماعيل، (متوفی 1350 ه-)، جامع کرامات الأولياء، ج 2 ص، 311 ، مرکز أهل السنة برکات رضا فور بندر غجرات، هند،

زرکلی (متوفی1410هـ):

 

خير الدين زرکلی نے امام رضا (ع) کے مقام کے بارے میں لکھا ہے کہ:

عليّ الرِّضى علي بن موسى الكاظم بن جعفر الصادق، أبو الحسن، الملقب بالرضى: ثامن الأئمة الاثني عشر عند الإمامية، و من أجلاء السادة أهل البيت و فضلائهم.

علی بن موسى بن جعفر بن محمد بن علی بن حسين بن علی بن ابی طالب ابی الحسن کہ جن کا لقب رضا تھا، اور جو امامیہ کے بارہ آئمہ میں سے آٹھویں امام ہیں کہ جو بلند مرتبہ سادات اور اہل بیت میں با فضیلت انسان ہیں۔

الزركلي، خير الدين (متوفی1410هـ)،‌ الأعلام، ج 5 ص 26 ، ناشر: دار العلم للملايين - بيروت – لبنان،

حديث سلسلۃ الذهب کی داستان:

 

ابن حجر ہيثمی نے اپنی کتاب الصواعق المحرقہ میں حدیث «سلسلۃ الذهب» کے بارے میں اس طرح لکھا ہے کہ:

و لما دخل نيسابور كما في تاريخها و شق سوقها و عليه مظلة لا يرى من ورائها تعرض له الحافظان أو زرعة الرازي و محمد بن أسلم الطوسي و معهما من طلبة العلم و الحديث ما لا يحصى فتضرعا إليه أن يريهم وجهه و يروي لهم حديثا عن آبائه فاستوقف البغلة و أمر غلمانه بكف المظلة و أقر عيون تلك الخلائق برؤية طلعته المباركة فكانت له ذؤابتان مدليتان على عاتقه و الناس بين صارخ و باك و متمرغ في التراب و مقبل لحافر بغلته فصاحت العلماء معاشر الناس أنصتوا فأنصتوا و استملى منه الحافظان المذكوران فقال حدثني أبي موسى الكاظم عن أبيه جعفر الصادق عن أبيه محمد الباقر عن أبيه زين العابدين عن أبيه الحسين عن أبيه علي بن أبي طالب رضي الله عنهم قال حدثني حبيبي و قرة عيني رسول الله صلي الله عليه و سلم قال ( حدثني جبريل قال سمعت رب العزة يقول لا إله إلا الله حصني فمن قالها دخل حصني و من دخل حصني أمن من عذابي ) ثم أرخى الستر و سار فعد أهل المحابر و الدوى الذين كانوا يكتبون فأنافوا على عشرين ألفا۔ 

و في رواية أن الحديث المروي ( الإيمان معرفة بالقلب و إقرار باللسان و عمل بالأركان ) و لعلهما واقعتان قال أحمد لو قرأت هذا الإسناد على مجنون لبرىء من جنته.

جب امام رضا نیشاپور میں داخل ہوئے تو امام کی سواری رکی اور امام کجاوے کے اندر بیٹھے ہوئے تھے اور انکا مبارک چہرہ کسی کو نظر نہیں آ رہا تھا۔ نیشاپور کے دو عالم، ابو زرعہ اور محمد ابن اسلم طوسی اور دوسرے بہت سے طالب علم امام رضا کے استقبال کے لیے آئے ہوئے تھے۔ ابو زرعہ اور محمد بن اسلم نے گرئیے کی حالت میں امام سے التماس کی کہ ہمیں اپنا مبارک چہرہ دکھائیں اور اپنے آباء و اجداد سے ہمارے لیے ایک حدیث کو نقل کریں۔ اس وقت امام کا اونٹ رک گیا اور امام نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ کجاوے کے پردے کو ہٹاؤ تا کہ لوگ امام کے نورانی جمال کو دیکھ سکیں۔ لوگوں کی یہ حالت تھی کہ بعض بلند آواز سے نعرے لگا رہے تھے، بعض لوگ زمین پر سینے کے بل امام کی سواری کے پیچھے جا رہے تھے اور بعض امام کی سواری کے نیچے سے خاک کو بوسے دے رہے تھے۔

علماء نے لوگوں سے کہا کہ چپ ہو جائیں اور ابو زرعہ اور محمد ابن اسلم نے امام رضا سے درخواست کی کہ ہمارے لیے ایک حدیث کو بیان کریں، اس پر امام نے فرمایا کہ: میرے والد موسی بن جعفر نے اپنے والد جعفر صادق سے اور انھوں نے اپنے والد محمد باقر سے اور انھوں نے اپنے والد زين العابدين سے اور انھوں نے اپنے والد حسين سے اور انھوں نے اپنے والد علی بن ابیطالب سے نقل کیا ہے کہ، فرمایا کہ: میرے حبیب اور میری آنکھوں کے نور رسول خدا نے فرمایا ہے کہ جبرائیل نے میرے لیے روایت کی ہے کہ خداوند نے مجھے ایسا کہا ہے کہ : «لا الہ الا الله میرا قلعہ ہے، جو بھی اس کلمے کو کہے گا، وہ میرے قلعے میں داخل ہو جائے گا اور جو بھی میرے قلعے میں داخل ہو جائے گا، وہ میرے عذاب سے محفوظ رہے گا، امام رضا اس حدیث کو نقل کر کے کجاوے کا پردہ گرا کر اپنی سواری پر چل پڑے۔ تقریبا 20 ہزار لوگ امام کی اس حدیث کو لکھ رہے تھے۔

ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ: ایمان، دل سے معرفت حاصل کرنے، زبان سے اقرار کرنے اور اعضاء اور جوارح سے عمل کرنے کو کہتے ہیں۔

البتہ شاید یہ ہر دو روایات امام رضا سے دو مختلف مقام پر نقل ہوئی ہوں۔ 

احمد کہتا ہے کہ اگر ان دو روایات کی سند کو ایک پاگل شخص پر پڑھا جائے تو وہ یقینی طور پر صحیح و سالم ہو جائے گا۔

الهيثمي، ابوالعباس أحمد بن محمد بن علي ابن حجر (متوفی973هـ)، الصواعق المحرقة علي أهل الرفض والضلال والزندقة، ج 2 ص 594 و 595 ، تحقيق: عبد الرحمن بن عبد الله التركي - كامل محمد الخراط، ناشر: مؤسسة الرسالة - لبنان،

نتيجہ:

 

امام رضا (ع) کی روحانی اور نورانی شخصیت اس قدر کمالات اور صفات کی حامل ہے کہ اگر اس بارے میں صدہا کتابیں بھی لکھیں جائیں تو پھر بھی ان امام ہمام کے کمالات کے بحر بیکران کا حتی ایک قطرہ بھی بیان نہیں ہوتا۔ یہ جو کچھ بھی اہل سنت کے علماء کے اقوال امام رضا کی شخصیت کے بارے میں بیان ہوئے ہیں، وہ انکی اپنی علمی سطح اور معیار کے مطابق تھے نہ کہ انھوں نے کما حقہ امام رضا کی شخصیت کو بیان کیا ہو۔

السلام علیک یا علی ابن موسی الرضا و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔

التماس دعا





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی