2017 March 1
کیا رسول خدا (ص) مسموم دنیا سے رخصت ہوئے تھے؟
مندرجات: ٤٣٣ تاریخ اشاعت: ٢٧ November ٢٠١٦ - ١٢:٤٩ مشاہدات: 157
سوال و جواب » نبوت
جدید
کیا رسول خدا (ص) مسموم دنیا سے رخصت ہوئے تھے؟

 رسول خدا (ص) کے دنیا سے کس طرح رخصت ہونے کے بارے میں مسلمان علماء کے درمیان اختلاف نظر ہے، بہت سے شیعہ اور سنی علماء کا نظریہ ہے کہ رسول خدا کو مسموم کیا گیا اور اسی زہر کے اثر کرنے کی وجہ سے آپ شہید ہوئے تھے۔

اہل سنت کے معروف عالم اپنی معتبر کتاب المستدرک علی الصحيحين میں لکھتے ہیں کہ:

ثنا داود بن يزيد الأودي قال سمعت الشعبي يقول و الله لقد سم رسول الله صلي الله عليه و سلم و سم أبو بكر الصديق و قتل عمر بن الخطاب صبرا و قتل عثمان بن عفان صبرا و قتل علي بن أبي طالب صبرا و سم الحسن بن علي و قتل الحسين بن علي صبرا رضي الله عنهم فما نرجو بعدهم.

داود بن يزيد کہتا ہے کہ میں نے شعبی سے سنا ہے کہ، اس نے کہا ہے کہ: خدا کی قسم رسول خدا اور ابو بکر کو زہر دے کر شہید کیا گیا تھا اور عمر، عثمان اور علی بن ابيطالب کو شمشير سے قتل کیا گیا تھا، جبکہ حسن بن علی کو بھی زہر سے اور حسين بن علی کو  شمشير سے قتل کیا گیا تھا۔

الحاكم النيسابوري، ابو عبدالله محمد بن عبدالله (متوفی 405 هـ)، المستدرك علي الصحيحين، ج3، ص61، ح4395، تحقيق: مصطفي عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت 

ایک دوسری روایت میں نقل کرتا ہے کہ:

ثنا السري بن إسماعيل عن الشعبي أنه قال ماذا يتوقع من هذه الدنيا الدنية و قد سم رسول الله صلي الله عليه و سلم و سم أبو بكر الصديق و قتل عمر بن الخطاب حتف أنفه و كذلك قتل عثمان و علي و سم الحسن و قتل الحسين حتف أنفه.

سری بن اسماعيل نے شعبی سے نقل کیا ہے کہ، اس نے کہا ہے کہ: اس پست دنیا سے کیا امید لگانی ہے کیونکہ رسول خدا اور ابو بکر کو زہر دے کر شہید کیا گیا، عمر، عثمان اور علی بن ابيطالب کو قتل کیا گیا، جبکہ حسن بن علی کو بھی زہر دیا گیا اور حسين بن علی کو  اچانک قتل کیا گیا۔

 الحاكم النيسابوري، ابو عبدالله محمد بن عبدالله (متوفی 405 هـ)، المستدرك علي الصحيحين، ج3، ص67، ح4412، تحقيق: مصطفي عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت 

اسی طرح اہل سنت کے بہت سے بزرگان نے اسی مطلب کو عبد الله بن مسعود سے نقل کیا ہے کہ:

حدثنا عبد اللَّهِ حدثني أبي ثنا عبد الرَّزَّاقِ ثنا سُفْيَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عن عبد اللَّهِ بن مُرَّةَ عن أبي الأَحْوَصِ عن عبد اللَّهِ قال لأَنْ أَحْلِفَ تِسْعاً ان رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه و سلم قُتِلَ قَتْلاً أَحَبُّ الي من أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً انه لم يُقْتَلْ وَ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ نَبِيًّا وَ اتَّخَذَهُ شَهِيداً.

عبدالله بن مسعود سے روايت نقل ہوئی ہے کہ، اس نے کہا ہے کہ: اگر میں 9 بار قسم کھاؤں کہ رسول خدا کو شہید کیا گیا تو یہ بات میرے لیے زیادہ پسندیدہ تر ہے اس سے کہ میں ایک بار قسم کھاؤں کہ رسول خدا کو قتل نہیں کیا گیا، کیونکہ خداوند نے ان کو پیغمبر اور شہید کہا ہے۔

الصنعاني، ابوبكر عبد الرزاق بن همام (متوفی211هـ)، المصنف، ج5، ص269، ح9571، تحقيق حبيب الرحمن الأعظمي، ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت

الزهري، محمد بن سعد بن منيع ابوعبدالله البصري (متوفی230هـ)، الطبقات الكبري، ج2، ص201، ناشر: دار صادر - بيروت؛

الشيباني، ابوعبد الله أحمد بن حنبل (متوفی241هـ)، مسند أحمد بن حنبل، ج1، ص408، ح3873؛ ج1، ص434، ح4139، ناشر: مؤسسة قرطبة - مصر؛

ابن كثير الدمشقي، ابوالفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفی774هـ)، البداية والنهاية، ج5، ص227، ناشر: مكتبة المعارف - بيروت؛

ابن كثير الدمشقي، ابوالفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفی774هـ)، السيرة النبوية، ج4، ص449، طبق برنامه الجامع الكبير؛

السيوطي، جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفی911هـ)، الحاوي للفتاوي في الفقه وعلوم التفسير والحديث والاصول والنحو والاعراب وسائر الفنون، ج2، ص141، تحقيق: عبد اللطيف حسن عبد الرحمن، ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت

ہيثمی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے کہ:

رواه أحمد و رجاله رجال الصحيح.

احمد نے اس کو نقل کیا ہے اور اس کے راوی، کتاب صحیح بخاری کے راوی ہیں۔

الهيثمي، ابوالحسن علي بن أبي بكر (متوفی 807 هـ)، مجمع الزوائد و منبع الفوائد، ج9، ص34، ناشر: دار الريان للتراث/ دار الكتاب العربي - القاهرة، بيروت

حاكم نيشاپوری نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ:

هذا حديث صحيح علي شرط الشيخين و لم يخرجاه.

یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرائط صحت کے مطابق صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اس روایت کو نقل نہیں کیا۔

الحاكم النيسابوري، ابو عبدالله محمد بن عبدالله (متوفی 405 هـ)، المستدرك علي الصحيحين، ج3، ص60، ح4394، تحقيق: مصطفي عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت

شیعہ علماء میں سے شيخ مفيد رضوان الله تعالی عليہ نے لکھا ہے کہ:

رسول الله صلي الله عليه و آله محمد بن عبد الله... و قبض بالمدينة مسموما يوم الاثنين لليلتين بقيتا من صفر....

رسول خدا 28 صفر پیر کے دن مدینہ میں مسموم ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔

الشيخ المفيد، محمد بن محمد بن النعمان ابن المعلم أبي عبد الله العكبري البغدادي (متوفی413 هـ)، المقنعة، ص456، تحقيق و نشر: مؤسسة النشر الإسلامي التابعة لجماعة المدرسين ـ قم

مرحوم شيخ طوسی نے اپنی كتاب تهذيب الأحكام ميں لکھا ہے کہ:

محمد بن عبد الله... و قبض بالمدينة مسموما يوم الاثنين لليلتين بقيتا من صفر سنة عشرة من الهجرة.

محمد بن عبد الله رسول خدا (ص) 28 صفر پیر کے دن مدینہ میں مسموم ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔

الطوسي، الشيخ ابوجعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفی460هـ)، تهذيب الأحكام، ج6 ص2، تحقيق: السيد حسن الموسوي الخرسان، ناشر: دار الكتب الإسلامية ـ طهران

مرحوم علامہ حلي نے تحرير الأحكام ميں بھی کہا ہے کہ:

محمد بن عبد الله... و قبض بالمدينة مسموما يوم الاثنين لليلتين بقينا من صفر سنة عشرين من الهجرة.

الحلي الأسدي، جمال الدين أبو منصور الحسن بن يوسف بن المطهر (متوفی 726هـ)، تحرير الأحكام، ج2 ص118، تحقيق: الشيخ إبراهيم البهادري، ناشر: مؤسسة الإمام الصادق ( عليه السلام ) ـ قم

رہی یہ بات کہ کس نے اور کب رسول خدا (ص) کو زہر دیا، یہ بات بھی تاریخ کی بہت سی باتوں کی طرح رسول خدا کی زندگی میں ہمارے لیے واضح اور روشن نہیں ہے۔

محمد بن اسماعيل بخاری نے اپنی کتاب صحيح بخاری میں لکھا ہے کہ:

قالت عَائِشَةُ رضي الله عنها كان النبي صلي الله عليه و سلم يقول في مَرَضِهِ الذي مَاتَ فيه يا عَائِشَةُ ما أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الذي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ فَهَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْهَرِي من ذلك السُّمِّ.

عايشہ نے کہا ہے کہ: رسول خدا اپنے اس مرض میں کہ جس کے ذریعے وہ دنیا سے گئے تھے، فرمایا کرتے تھے کہ جو کھانا میں نے خیبر میں کھایا تھا، ابھی تک اس کی تکلیف کو محسوس کر رہا ہوں اور ابھی میں نے یوں محسوس کیا ہے کہ اسی کی وجہ سے میرے دل کی رگیں پھٹ گئی ہیں۔

البخاري الجعفي، ابوعبدالله محمد بن إسماعيل (متوفی256هـ)، صحيح البخاري، ج4، ص1611، ح4165، كِتَاب الْمَغَازِي، بَاب مَرَضِ النبي (ص) وَ وَفَاتِهِ، تحقيق د. مصطفي ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت،

شاید بعض لوگ کہیں کہ یہ بہت بعید ہے کہ ایک زہر چار سال کے بعد اپنا اثر کرے، اس کے علاوہ رسول خدا جنگ خیبر میں اس زہر کو کھانے سے پہلے بھیڑ کے زہر آلود گوشت کے بارے میں آگاہ ہو گئے تھے اور اسی وجہ سے آپ نے اس کو کھانے سے انکار کر دیا تھا۔

جس طرح کہ ابن كثير دمشقی نے لکھا ہے کہ:

و في صحيح البخاري «عن ابن مسعود قال: لقد كنا نسمع تسبيح الطعام و هو يؤكل» يعني بين يدي النبي و كلمه ذراع الشاة المسمومة و أعلمه بما فيه من السم۔

صحيح بخاری میں ابن مسعود سے نقل ہوا ہے کہ: وہ کہتا تھا کہ: ہم رسول خدا کے کھانا کھاتے وقت، کھانے کے تسبیح پڑھنے کی آواز کو سنا کرتے تھے، یعنی رسول خدا کے سامنے پڑا ہوا زہر آلود گوشت، رسول خدا سے باتیں کرتا تھا اور خود گوشت نے رسول خدا کو بتایا کہ مجھے نہ کھانا کیونکہ میں زہر آلود ہوں۔

ابن كثير الدمشقي،ابوالفداء إسماعيل بن عمر القرشی(متوفی774 هـ)، البداية و النهاية،ج 6،ص286، ناشر: مكتبة  المعارف - بيروت.

لھذا اس بارے میں کہ کس نے اور کب رسول خدا کو زہر دیا تھا، یہ بات ہمارے لیے دقیق طور پر واضح نہیں ہے۔

اور اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ محمد بن اسماعيل بخاری اور مسلم اور ان کے علاوہ اہل سنت کے بہت سے بزرگان نے لکھا ہے کہ:

قالت عَائِشَةُ لَدَدْنَاهُ في مَرَضِهِ فَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ لَا تَلُدُّونِي فَقُلْنَا كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ فلما أَفَاقَ قال أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِي قُلْنَا كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ فقال لَا يَبْقَي أَحَدٌ في الْبَيْتِ إلا لُدَّ و أنا أَنْظُرُ إلا الْعَبَّاسَ فإنه لم يَشْهَدْكُمْ.

عايشہ نے کہا ہے کہ میں نے رسول خدا کی بیماری کے دوران زبردستی ان کے منہ میں دوائی ڈالی، انھوں نے اشارے سے کہا کہ مجھے دوائی نہ دو، میں نے اپنے آپ سے کہا کہ شاید یہ اس وجہ سے ہے کہ مریض کا دوائی کھانے کو دل نہیں کرتا اور جب رسول خدا تندرست ہو گئے تو فرمایا کہ کیا میں نے تم کو منع نہیں کیا تھا کہ مجھے دوائی نہ دو ؟ پھر انھوں نے فرمایا کہ اس گھر میں جس نے بھی مجھے دوائی تھی تو اب ان سب کو میرے سامنے وہی دوائی پلاؤ غیر از عباس کہ اس نے تم لوگوں والا کام مجھ سے انجام نہیں دیا۔

البخاري الجعفي، ابوعبدالله محمد بن إسماعيل (متوفی256هـ)، صحيح البخاري، ج4، ص1618، ح4189، كِتَاب الْمَغَازِي، بَاب مَرَضِ النبي (ص) وَوَفَاتِهِ؛ 

 اور ج5، ص2159، ح5382، كِتَاب الطِّبِّ، بَاب اللَّدُودِ؛  

اور ج6، ص2524، ح6492،كِتَاب الدِّيَاتِ، بَاب الْقِصَاصِ بين الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ في الْجِرَاحَاتِ؛ 

اور ج6، ص2527، ح6501، بَاب إذا أَصَابَ قَوْمٌ من رَجُلٍ هل يُعَاقِبُ، تحقيق د. مصطفي ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت،

النيسابوري القشيري، ابوالحسين مسلم بن الحجاج (متوفی261هـ)، صحيح مسلم، ج4، ص1733، ح2213، كِتَاب السَّلَامِ، بَاب كَرَاهَةِ التَّدَاوِي بِاللَّدُودِ، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

قابل دقت نکتہ یہ ہے کہ بخاری نے اس حدیث کو کتاب دیات، باب قصاص میں ذکر اور نقل کیا ہے۔

ابن حجر عسقلانی نے اس روایت کی شرح میں لکھا ہے کہ:

 (قوله لددناه) أي جعلنا في جانب فمه دواه بغير اختياره و هذا هو اللدود.

یہ کہ کہا گیا ہے کہ: «لددنا» يعنی ہم نے زبردستی رسول خدا کے منع کرنے کے با وجود دوائی کو ان کے منہ میں ڈالا۔

یہاں پر ہم برادران اہل سنت سے چند سوال کرتے ہیں کہ اور امید ہے کہ وہ ہمارے سوالوں کا جواب دیں گے:

1- کیوں عایشہ اور وہ لوگ کہ جو وہاں پر موجود تھے، نے رسول خدا کی بات پر عمل نہیں کیا، اور ان کے منع کرنے کے با وجود زبردستی ان کے منہ میں دوا ڈالی ؟ کیا خداوند نے قرآن میں نہیں فرمایا کہ:

وَ ما آتاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ و َما نَهاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا. الحشر / 7.

جو حکم بھی رسول خدا تم کو دیں، اسکی اطاعت کرو اور جس گناہ سے بھی تم کو منع کریں، اس کو چھوڑ دو اور خدا سے ڈرو کہ خدا کا عذاب بہت سخت ہے۔

2- کیوں عاشیہ رسول خدا کو دوسرے عام مریضوں کی طرح سمجھ رہی تھی ؟ کیا خداوند نے خود نہیں فرمایا کہ:

وَ مَا يَنطِقُ عَنِ الهْوَي . إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْي يُوحَي . النجم / 3 و 4.

وہ ہر گز ہوا و ہوس کی وجہ سے بات نہیں کرتا بلکہ وہ جو بھی کہتا ہے فقط وحی کی وجہ سے کہتا ہے۔

کیوں عایشہ نے سوچا کہ ہر مریض حتی رسول خدا دوائی کھانے کو پسند نہیں کرتا ؟

کیا رسول خدا کی عقل ان بندوں سے بھی کم تھی کہ جو اس وقت رسول خدا کے کمرے میں موجود تھے، اور رسول خدا کو اتنا بھی نہیں پتا تھا کہ کونسی چیز ان کے لیے مفید ہے اور کونسی مفید نہیں ہے ؟

کیا ان لوگوں کا بھی مقصد ان لوگوں کی باتوں کو تکرار کرنا تھا کہ جہنوں نے رسول خدا کے قلم اور دوات مانگنے پر ھذیان کی نسبت ان کی طرف دی تھی ؟ البتہ انھوں نے اپنی زبان سے ھذیان کا نہیں کہا بلکہ اپنے ہاتھوں سے منع کرنے کے با وجود دوائی پلا دی۔ وہ دوائی تھی یا کوئی اور چیز تھی، اس کو فقط خداوند ہی جانتا ہے!!!

اور سب سے عجیب یہ ہے کہ نقل ہوا ہے کہ: جب رسول خدا ہوش میں آئے تو انھوں نے حکم دیا کہ جہنوں نے زبردستی مجھے دوائی پلائی ہے، اسی دوائی کو ان سب کو بھی میرے سامنے پلائی جائے، غیر از ان کے چچا عباس کو کہ وہاں پر اس وقت موجود نہیں تھے!!! کیوں رسول خدا ان کے ساتھ بھی وہ کام کرنا چاہتے ہیں ؟؟؟ کیا قرآن نے نہیں فرمایا کہ:

وَ لا تَزِرُ وازِرَةٌ وِزْرَ أُخْري .

کوئی بھی کسی دوسرے کے گناہ کو بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

 الأنعام / 164 و الأسراء /15 و فاطر 18 و الزمر / 7.

اس تفصیل کی روشنی میں سب کو رسول خدا، رسول رحمت اور مہربانی کی مظلومیت پر اشک بہانے چاہیں، کہ وہ رسول اس امت کے ہاتھوں اور حتی اپنے گھر میں بھی کتنا مظلوم تھا کہ اس دنیا سے مسموم ہو کر رخصت ہوا۔ کیا یہی اجر رسالت تھا، کیا یہی رسول خدا کا حق تھا ؟؟؟

السلام علیک یا رسول اللہ، السلام علیک یا رحمۃ للعالمین و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔

التماس دعا





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی