2017 November 20
شیعہ مذہب میں چہلم کی اہمیت
مندرجات: ٤١٥ تاریخ اشاعت: ٠٣ November ٢٠١٧ - ٠٨:١٧ مشاہدات: 705
یاداشتیں » پبلک
شیعہ مذہب میں چہلم کی اہمیت

 

اربعین کے بارے میں جو کچھ ہماری دینی ثقافت میں آیا ہے ، وہ حضرت سید الشہداء (ع) کی شہادت کا چہلم ہے جوماہ  صفر کی 20 تاریخ کو ہوتا ہے۔ جو پوری دنیا میں سب سے بڑا ایک دینی اجتماع ہے کہ شرق و غرب میں اسکی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔

امام حسن عسکری(ع) نے ایک حدیث میں "مومن" کی پانچ علامات کا ذکر کیا ہے :

علامات المومن خمس : صلاۃ احدی و خمسین ، و زیارۃ الاربعین ۔۔۔۔۔۔۔۔

 51 رکعت نماز ادا کرنا ، زیارت اربعین، انگوٹھی کو دائیں ہاتھ میں پہننا ، نماز میں پیشانی کو خاک کربلاء پر رکھنا ، اور نماز میں "بسم اللہ" کو  بلند آواز میں پڑھنا۔ 

مجلسی ، بحار الانوار ، ج 98 ، ص 329 ، بیروت ،

اس کے علاوہ مورخین نے لکھا ہے کہ صحابی رسول خدا(ص) جابر ابن عبد اللہ انصاری ، عطیہ عوفی کے ہمراہ، عاشورا کے بعد امام حسین علیہ السلام کے پہلے اربعین پر امام کی زیارت کیلئے  کربلا آئے تھے۔

 طبری ، محمد بن علی، بشارۃ المصطفی، ص 126 ، قم موسسہ النشر الاسلامی،

سید ابن طاووس نقل کرتے ہیں کہ: جب امام حسین (ع )کے اہل بیت (ع) قید سے رہائی کے بعد شام سے واپس لوٹے، تو عراق پہنچے انہوں نے اپنے قافلے کے راہ بلد سے کہا، : ہمیں کربلا کے راستے سے لے چلو، جب وہ امام حسین (ع) اور ان کے اصحاب  کے مقتل میں پہنچے ، تو جابر ابن عبد اللہ انصاری کو بنی ہاشم کے بعض لوگوں کے ساتھ ، اور آل رسول اللہ ((ص) کے ایک مرد کو دیکھا جو امام حسین (ع) کی زیارت کے لئے آئے تھے۔  وہ سب ایک ہی وقت میں مقتل پر پہنچے اور سب نے ایک دوسرے کو دیکھ کر گریہ اور اظہار حزن کیا اور سروں اور چہروں کو پیٹنا شروع کیا اور ایک ایسی مجلس عزا برپا کی جو دلخراش اور جگرسوز تھی۔ اس علاقے کی عورتیں بھی ان سے ملحق ہوئیں، اور کئی دنوں تک انہوں نے عزاداری کی۔ 

 بحار الانوار ج 45 ص 146

چہلم سے مراد کیا ہے علماء نے اس موضوع پر کافی بحث کی ہے لیکن جس بات کو شیخ طوسی نے بیان کیا ہے کہ زیارت اربعین سے مراد 20 صفر کو امام حسین (ع) کی زیارت ہے کہ جو عاشورا کے بعد چالیسواں دن ہے، اس لئے اس بزرگوار نے اس روایت کو اپنی کتاب  تہذیب کے زیارت کے باب میں اور اربعین کے اعمال میں ذکر کیا ہے اور اس دن کی مخصوص زیارت بھی نقل ہوئی ہے کہ مرحوم محدث بزرگ قمی نے کتاب مفاتیح الجنان میں ذکر کیا ہے ۔ 

لیکن چالیس دن کے بعد ہی کیوں ؟ کہنا چاہیے کہ عدد چالیس روایات میں حتیّ قرآن میں بھی اسکا خاص مقام ہے اور چالیس کے عدد کی کچھ خصوصیات ہیں کہ جو دوسرے اعداد میں نہیں ہیں ۔ مثال کے طور پر خداوند متعال قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

اذا بلغ اشدّہ و بلغ اربعین سنة۔

یعنی جس وقت وہ کمال کی حالت تک پہنچا اور چالیس سال کا ہو گیا۔

سورہ احقاف آیت 51

اسی طرح بعض انبیاء چالیس سال کی عمر میں مقام رسالت پر فائز ہوئے۔ مثال کے طور پر حضرت علی(ع) نے ایک ادمی کو جواب میں جب اس نے سوال کیا کہ حضرت عزیر کتنی سال کی عمر میں رسالت کے مقام پر فائز ہوئے۔

بعثه اللہ و له اربعون سنة ،

بحار الانوار ج 1 ص 88

یعنی اس سوال کے جواب میں کی جناب عزیر کی عمر رسالت کے آغاز میں کتنی تھی اسکے جواب میں فرمایا کہ رسالت کے آغاز میں انکی عمر چالیس تھی۔اور خود نبی اکرم (ع) بھی چالیس سال کی عمر میں ظاہری طور پر مقام رسالت پر فائز ہوئے جیسا کہ معتبر روایات میں آیا ہے کہ: 

صدع بالرسالة یوم السابع و العشرین من رجب و له یومئذ اربعون سنة۔

یعنی حضرت محمّدبن عبداللہ خاتم انبیاء (ص)27 رجب کو چالیس سال کی عمر میں رسالت پر مبعوث ہوئے۔

بحار الانوار ج 51 ص 882

اسی طرح دعاؤں میں اور بعض دینی معارف میں عدد چالیس کا ایک خاص مقام ہے مرحوم علاّمہ مجلسی اس دعا کو نقل کرنے کے بعد کہ جس میں خدا کے نام ہیں یوں نقل کرتے ہیں:

عن النّبی صلی اللہ علیه و آله و سلّم (لو دعا بها رجل اربعین لیلة جمعة غفر اللہ له)

اگر کوئی شخص چالیس جمعرات کو خداوند متعال کی بارگاہ اس دعا کو پڑھے تو خدا اسکو بخش دیتا ہے۔

بحار الانوار ج 59 ص 683

خدا کو یاد کرنا مخصوص اذکار کے ساتھ اور عدد چالیس کے ساتھ اسکی بہت زیادہ سفارش کی گئی ہے ۔ جسطرح کہ رات کو جاگنا اور نماز کا پڑھنا لگاتار چالیس رات تک اور نماز وتر کی قنوت میں استغفار کرنا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ خداوند انسان کو سحر میں استغفار کرنے والے لوگوں کے ساتھ شمار کرے اور خداوند نے قرآن میں انکو نیکی اور اچھائی  کے ساتھ  یاد کیا ہے ۔

ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا: 

لا یجتمع اربعون رجلاً فی امر واحد الّا استجاب اللہ۔ 

یعنی چالیس مسلمان جمع نہیں ہوتے خداوند سے کسی چیز کے چاہنے میں، مگر یہ کہ خداوند متعال  انکی دعا کو قبول کرتا ہے ۔

بحار الانوار ج 39 ص 493

ایک دوسری روایت میں وارد ہوا ہے کہ پیامبر اکرم (ص) سے منقول ہے کہ: 

من اخلص العبادة للہ اربعین صباحاً جرت ینابیع الحکمة من قلبه علیٰ لسانه۔

یعنی اگر کوئی شخص چالیس دن اپنی عبادت صرف اور صر ف خدا کیلئے انجام دے اور اسکا عمل خالص ہو تو خداوند حکمت کے چشمہ اسکے دل سے زبان پر جاری کر دیتا ہے۔

بحار الانوار ج 35 ص 623

امام جعفر صادق (ع) سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ امام نے فرمایا:

من حفظ من شیعتنا اربعین حدیثاً بعثه اللہ یوم القیامة عالماً فقیھا و لم یعذّب۔

ہمارے شیعیوں میں سے اگر کوئی چالیس حدیثوں کو حفظ کرے گا تو خداوند اسکو قیامت کے دن عالم اور فقیہ محشور کرے گا اور ایسے شخص کو  عذاب بھی نہیں دیا  جائے گا۔

بحار الانوار ج 2 ص 351

البتہ اس بات کیطرف توجہ رکھنا ضروری ہے کہ احادیث کو حفظ کرنے سے مراد صرف عبارات ہی کو حفظ کرنا نہیں ہے بلکہ حدیث کو اسکی تمام جہات کے ساتھ حفظ کرنا ہے اور حقیقت میں وہ حدیث کا سمجھنا اور اس پر عمل کرنا اور اسکا رائج کرنا ہے ۔

اسی طرح روایات میں وارد ہوا ہے کہ انسان کی عقل چالیس سال میں کامل ہوتی ہے ۔

امام جعفر صادق (ع)  سےایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ:

اذا بلغ العبد اربعین سنة فقد انتھی منتھاہ۔

جب انسان چالیس سال کا ہو جاتا ہے تو اسکی عقل کامل ہو جاتی ہے ۔

بحار الانوار ج 6 210

اسی طرح نماز جماعت کو برپا کرنا اور اسمیں شرکت کی سفارش چالیس دن تک بھی، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ رسول خدا(ص) سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ:

من صلّی اربعین یوماً فی الجماعة یدرک تکبیرة الاولیٰ کتب اللہ براءتان : براءة من النار و براءة من النفاق۔

یعنی وہ شخص جو پابندی سے نماز جماعت میں شرکت کرے گا ، خداوند اسکو دو چیزوں سے محفوظ رکھے گا : ایک آتش جہنم اور دوسرا نفاق اور منافقت سے۔

بحار الانوار ج 88 ص4

آداب دعا میں آیا ہے کہ ا گر آپ چاہتے ہیں کہ اپکی دعا قبول ہو تو پہلے چالیس مؤمنین کیلئے دعا کریں اور اسکے بعد خدا سے اپنی حاجت طلب کریں ۔

من قدّم اربعین من المومنین ثمّ دعا استجیب له۔

اس روایت میں امام جعفر صادق (ع )نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے دعا کرنے پہلے دوسرے مومنین کیلئے بھی  دعا کرنا چاہیے۔

بحار الانوار ج 68 ص 212

اور روایات میں پڑوسیوں اور انکے حقوق کے بارے میں فرمایا ہے کہ پڑوسی محلے میں چاروں طرف سے چالیس چالیس گھر تک شامل ہوتا ہے یعنی جہاں وہ رہتا ہے،  اس سے ہر طرف سے چالیس گھر تک ۔

امام علی (ع) نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ:

الجوار اربعون داراً من اربعة جوانبھا۔ 

پڑوسی گھر کے ہر طرف سے چالیس گھر تک شامل ہو تا ہے ۔

بحار الانوار ج 48 ص 3

اور اسی طرح پیامبر اکرم (ص) سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ:

انّ السماء و الارض لتبکی علی المومن اذا مات اربعین صباحاً و انّما تبکی علیٰ العالم اذا مات اربعین شھراً۔

پیامبر اکرم (ص) نے فرمایا:  جب مومن دنیا سے رحلت کرتا ہے تو زمین اور آسمان چالیس دن تک اسکے لیے گریہ کرتے ہیں اور اگر کوئی مومن عالم اس دنیا سے رحلت کر جائے تو زمین اور آسمان اسکے فراق میں چالیس ماہ تک روتے رہتے ہیں ۔

بحار الانوار ج 24 ص 803

البتہ ہم جانتے ہیں انسان کامل اور واقعی مومن اور عالم کا مصداق آئمہ اطہار علیہم السلام ہیں ۔

امیر المومنین علی (ع) فرماتے ہیں کہ:

اذا صلیٰ علی المومن اربعون رجلاً من المومنین و اجتھدوا فی الدّعاء له استجیب لھم۔

یعنی جب مؤمنین میں سے چالیس افراد کسی مؤمن کے جنازے پر نماز پڑھیں اور اسکے لیے دعا کریں تو خداوند ان چالیس مؤمنوں کی دعا  کوقبول کرتا ہے ۔

بحار الانوار ج 18 ص 473

جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکاہے  کہ واقعی مومن ،اور عالم کا مصداق رسول اکرم (ص) دوسرے انبیاء اور آئمّہ طاہرین ہیں کہ زمین اور آسمان چالیس مہینے تک انکے فراق میں گریہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر  امام حسین علیہ السلام کی شہادت ایک بہت بڑی مصیبت ہے اور انکی شہادت اس قدر جانگداز ہے کہ روایات کے مطابق اگر انکی شہادت پر ہمیشہ  بھی گریہ کیا جائے، تو کم ہے۔

اس لحاظ سے ایک روایت کہ جس کو محدّث قمی نے منتھی الآمال میں ذکر کیا ہے کہ حضرت امام رضا  علیہ السلام نے ریّان بن شبیب سے کہا :

اے شبیب کے بیٹے اگر کسی چیز پر رونا چاہتے ہو تو میرے جدّ کی مصیبت پر گریہ کرو کہ جس کو پیاسا شہید کیا گیا۔

 ایک اور روایت میں وارد ہوا ہے کہ:

 وہ شخص جو خود روئے اور اور دوسروں کو بھی رلائے یا رونے والوں جیسی حالت بنائے تو جنّت اس پر واجب ہو جائے گی ۔  

یہ بات واضح ہے کہ کہ یہ ساری چیزیں اس وقت ہیں جب رونا معرفت اور اسکے دستورات کی پیروی کے ساتھ ہو ،اور ہمیں چاہیے کہ کربلا کے ہدف اور مقصد کو درک کریں اگر چہ خود رونا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ انسان امام (ع) کی معرفت حاصل کرے ،اس لیے کہ اگر امام حسین (ع) قیام نہ کرتے تو اسلام ختم ہو جاتا اور اسکا کوئی اثر باقی نہ رہتا ، اور یہ ایسی بات ہے کہ جس کا صرف ہم دعوی نہیں کرتے ہیں بلکہ مورّخین حتّی وہ جو شیعہ نہیں ہیں، وہ بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں ۔

اور جو بھی قیام، ظلم اور ستم کے مقابلے میں ہوا ہے تو  اس نے امام حسین (ع) کے قیام سے ہی درس لیا ہے۔ حتی گاندھی جو ہندوستان کی آزادی کے رہبر تھے، انھوں نے دنیا کو بتا دیا کہ ہماری یہ حرکت اور تحریک اور ہماری یہ جنگ امام حسین علیہ السلام کے قیام سے لیا گیا ایک درس ہے ۔ سچ میں یہ محرم اور سفر کا مہینہ ہے کہ جس نے عاشورہ کے فرہنگ کو لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھا  ہوا ہے۔

شیعیوں کے عقیدے میں اربعین سے مراد، امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد چالیسواں دن ہے کہ جو حقیقت میں صفر المظفر کی 20 تاریخ ہے ۔

اور آج بھی مسلمان اپنے آباء و اجداد کا چہلم مناتے ہیں اور اس دن صدقہ دیتے اور ان کا غم مناتے ہیں۔

20 صفر 61 ہجری یعنی امام حسین (ع) کا چہلم اور امام حسین کے اہل بیت کہ اس عظیم دن امام کی زیارت کرنے کے لیے شام سے کربلاء آئے، ان کا امام کے قیام کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں بہت عمل دخل ہے جنہوں نے عاشورہ کو دنیا والوں کے سامنے پیش کیا ،اسیروں ،جناب زینب اور امام سجاد علیہ السلام کے ظلم اور ستم گروں میں کوفہ شام اور امویوں کی مسجدوں میں خطبات کو پیش کر کے امام حسین علیہ السلام کے قیام کو زندہ رکھا اور اسکے ساتھ قیام توابین اور لوگوں کی بیداری غفلت کے بعد اور دوسرے کئی واقعات اس بات کا سبب بنے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کے قیام کی حقیقت کو لوگون کے سامنے پیش کریں اور انھیں عوامل میں سے چہلم خود اس بات کا سبب بنا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے قیام کی حقیت لوگوں کیلئے واضح ہو جائےاور آجکل جو انکے روضے پر چہلم منایا جاتا ہے اس بات پر زندہ ثبوت ہے۔ لوگ ایک بار پھر امام حسین علیہ السلام کے قیام کی بررسی کرتے ہیں اور انکے مقاصد سے آشنائی حاصل کرتے ہیں اور اسکی عظمت اور بزرگی تک پہنچتے ہیں اور اس کے سامنے اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

چہلم صرف سال کے دنوں میں سے ایک دن نہیں ہے بلکہ لاکھوں لوگوں کی نگاہوں میں امام حسین علیہ السلام کے قیام کی تصویر کھینچ کر رکھ دیتا ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ تاریخ میں اختلاف ہے کہ کیا امام حسین علیہ السلام کے گھر والے پہلا چہلم منانے کربلا آئے ہیں یا نہیں ، لیکن جو مسلم  ہے وہ یہ ہے کہ عاشورہ کے شہیدوں کے مزار کی زیارت کو جابر بن عبد اللہ اور عطیّہ نے انجام دیا ہے  اور بعض روایات کے مطابق نابینا بھی تھے ۔ لیکن جابر لوگوں کو غفلت کی نیند سے بیدار کرنے کیلئے اس کام کو انجام دیتے ہیں ۔

اور اہلبیت کی تائید کے ساتھ یہ ہر سال کی رسم بن چکی تھی اور اسکی بہت سی برکتیں بھی تھیں اور اس دن میں زیارت کے سلسلہ میں بہت سی روایات بھی نقل ہوئی ہیں ۔

اس زیارت میں جابر کے ہمراہ عطیّہ کہ جو اسلام کی بڑی شخصیتوں ،اور مفسر قرآن کے عنوان  سےپہچانے جاتے تھے بھی تھے۔

جابر اور عطیّہ نے فرات کے پانی میں غسل کیا اور جس طرح حاجی خدا کے گھر کیلئے احرام باندھتے ہیں، اپنے آپ کو تیار کر کے ننگے پاوں اور چھوٹے چھوٹے قدموں کے ساتھ شہداء کے مزار کی طر ف روانہ ہوئے سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی قبر مطہر پر تشریف لے گئے اور حبیبی ،حبیبی کی آواز کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کو مخاطب کو قرار دیا اور اسی حال میں امام حسین علیہ السلام سے پوچھا کیا یہ ہو سکتا ہے دوست ،دوست کے سلام کا جواب نہ دے اور بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ کیسے ہو سکتا کہ جواب دو جبکہ تمہارا سر تن سے جدا ہے ۔اس طر ح امام حسین ع کی عزاداری کی بنیاد رکھی ۔ 

 چہلم کی اہمیت کا راز کیا ہے؟ 

صرف یہی کہ شہید کی شہادت کو چالیس دن ہو گئے، اس میں کیا خاص بات ہے؟ اگر تاریخ میں یہ عظیم شہادت ہو جاتی لیکن بنی امیہ اس میں کامیاب ہو جاتے کہ جس طرح انہوں نے امام حسین علیہ السلام اور ان کے تمام ساتھیوں کو بظاہر  شہید کر دیا  تھا اور ان کے اجسام پاک کو خاک کے نیچے چھپا دیا تھا ان کی یاد کو بھی اس زمانے کی نسل بشر اور آیندہ نسلوں کے دلوں سے محو کر دیتے تو کیا   اس صورت میں اس شہادت کا عالم اسلام کو کوئی فائدہ ہوتا؟ 

صرف یہی کہ شہید کی شہادت کو چالیس دن ہو گئے اس میں کیا خصوصیت ہے؟

چہلم کی خصوصیت یہ ہے کہ چہلم کے دن حسین علیہ السلام کی شہادت کی یاد تازہ ہو گئی اور یہ چیز بہت اہمیت رکھتی ہے۔ فرض کریں کہ اگر یہ عظیم شہادت تاریخ میں رونما ہو جاتی یعنی حسین ابن علی اور باقی شہداء کربلاء میں جام شہادت نوش کر  جاتے لیکن بنی امیہ صرف اتنا کرنے میں کامیاب ہو جاتے کہ جس طر ح انہوں نے امام حسین (ع) اور ان کے پیارے عزیزوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور ان کے پاک جسموں کو خاک میں چھپا دیا تھا اسی طرح ان کی یاد کو بھی اس دور کی نسل بشر اور آئندہ نسلوں کے دلوں سے محو کر دیتے تو ایسی صورت میں آیا عالم اسلام کو اس شہادت کا کوئی فائدہ ہوتا؟

یا اگر اس دور میں کچھ اثر ہو بھی جاتا تو آیا تاریخ میں اس واقعے کا بعد کی نسلوں کو، مصیبت زدوں کو،سیاہیوں اور تاریکیوں کو، اور تاریخ کے آنے والے ادوار کے یزیدوں کی یزیدیت کو نمایاں اور آشکار کرنے کی صورت میں کوئی فائدہ ہوتا؟

اگر حسین (ع) شہید ہو جاتے لیکن اس زمانے کے لوگ اور آنے والی نسلوں کے لوگ نہ جان پاتے کہ حسین (ع) شہید ہو گئے ہیں تو یہ واقعہ تعمیر و ترقی اور قوموں اور جوامع بشری اور تاریخ کو انقلابی رخ دینے میں اپنا کوئی اثر اور کردار چھوڑ پاتا؟

آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس کا کوئی اثر نہ ہوتا۔ جی ہاں حسین (ع) شہید ہو گئے رضوان الہی کے مرتبہ اعلی علیین پر فائز ہو گئے۔  وہ شہید بھی کہ جو غربت و خاموشی کے عالم میں شہید ہوئے وہ آخرت میں اپنے درجات تک پہنچ گئے۔ ان کی روح کامیاب ہو گئی اور رحمت الہی کی درگاہ میں اس نے آرام و قرار پا لیا،  لیکن وہ کس قدر سبق آموز ہوئے کس قدر نمونہ عمل قرار پائے؟

وہ شہید درس آموز ہوتا ہے کہ جس کی شہادت و مظلومیت کے بارے میں اس کی معاصر اور آنے والی نسلیں سنیں اور جانیں۔  وہ شہید باعث درس اور نمونہ عمل ہوتا ہے کہ جس کا خون جوش مارے اور تاریخ کے ساتھ ساتھ بہتا چلا جائے۔ کسی قوم کی مظلومیت صرف اس وقت ملتوں کے ستم کشیدہ زخمی پیکر کو مرہم لگا کر ٹھیک کر سکتی ہے کہ جب اس کی مظلومیت فریاد بن جائے۔ اس مظلومیت کی آواز دوسرے انسانوں کے کانوں تک پہنچے۔  یہی وجہ ہے کہ آج بڑی طاقتوں نے شور و غل مچا رکھا ہے تا کہ ہماری آواز بلند نہ ہونے پائے۔ اسی وجہ سے وہ تیار ہیں کہ چاہے جتنا زیادہ سرمایہ خرچ ہو جائے مگر دنیا یہ نہ سمجھ پائے کہ جنگ کیوں شروع کی گئی اور کس محرک کے تحت چھیڑی گئی اس دور میں بھی استعماری طاقتیں آمادہ تھیں کہ چاہے جتنا سرمایہ لگ جائے مگر نام  اور یاد خون حسین (ع) اور شہادت عاشوراء ایک درس بن کر اس زمانے کے لوگوں اور بعد کی ملتوں کے اذہان میں نہ بیٹھنے پائے۔ وہ ابتداء میں نہیں سمجھ پائے کہ مسئلہ کتنا با عظمت ہے مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا لوگ زیادہ سے زیادہ سمجھنے لگے۔

خلافت بنی عباس کے دور  میں یہاں تک کہ امام حسین (ع) کی قبر مبارک کو بھی ویران کر دیا گیا روضہ مبارک کو پانی سے بھر دیا ۔ ان کی کوشش یہ تھی کہ اس کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہے۔ شہادت اور شہیدوں کی یاد منانے کا یہی فائدہ ہے شہادت اس وقت تک اثر انداز نہیں ہوتی جب تک کہ شہید کا خون جوش نہ مارے اور اس کی یاد دلوں میں تازہ نہ کی جائے اور چہلم کا دن وہ دن ہے کہ جس روز پہلی بار شہادت کربلا کے پیغام کے پرچم کو بلند کیا گیا ہے یہ شہیدوں کے پس ماندگان کا دن ہے اب چاہے پہلے ہی چہلم کے موقع پر امام حسین(ع) کے اہل حرم کربلا میں آ گئے ہوں یا نہ آئے ہوں لیکن پہلا چہلم وہ دن ہے کہ جب پہلی بار حسین ابن علی کے مشہور زائر جابر ابن عبد اللہ انصاری اور عطیہ کہ جو رسول خدا(ص) کے صحابی تھے کربلا کی سر زمین پر پہنچے جابر ابن عبد اللہ نابینا تھے اور جیسا کہ روایات میں آیا ہے عطیہ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور اس کو حسین ابن علی کی قبر پر رکھا انہوں نے قبر کو مس کیا گریہ کیا اس سے راز و نیاز کیا حسین ابن علی (ع)  کی یاد کو زندہ کیا اور قبور شہداء کی زیارت کی سنت حسنہ کی بنیاد رکھی چہلم کا دن ایک ایسا ہی اہم دن ہے ۔

چہلم کی اتنی اہمیت کیوں ؟

بنیادی طور پر چہلم کی اہمیت کا راز یہ ہے کہ اس روز اہلبیت الہی تدبیر کے ذریعہ امام حسین کے قیام کی یاد ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گئی اور اس کی بنیاد ڈال دی گئی۔  اگر شہیدوں کے پسماندگان اور اصلی وارث طرح طرح کے درد ناک حادثوں میں جیسے عاشورا کے دن امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد شہادت کے آثار کی حفاظت کی خاطر کمر بستہ نہ ہوں تو بعد کی نسلیں شہادت کے درخشاں نتائج سے فائدہ نہیں اٹھا پائیں گی۔

یہ بات صحیح ہے کہ خداوند متعال شہیدوں کو اسی دنیا میں زندہ رکھتا ہے اور شہید قہری طور پر تاریخ میں اور لوگوں کی یاد میں زندہ اور پائندہ ہے لیکن طبیعی وسائل جو خداوند متعال نے تمام دوسرے امور کی طرح اس امر کے لیے متعین فرمائے ہیں وہ یہی چیز ہے کہ جو ہمارے اختیار اور ارادے سے متعلق ہے ۔ یہ ہم ہیں کہ درست اور بجا ارادے کے ذریعے شہیدوں کی یاد اور فلسفہ شہادت کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔

چہلم کا درس :

چہلم جو درس ہمیں دیتا ہے وہ یہ ہے کہ شہادت کی حقیقت کو دشمنوں کی تبلیغات کے طوفان کے مقابلے میں زندہ رکھنا چاہیے۔چاہے وہ تبلیغات اور طوفان ہوں کہ جو جنگ کے خلاف اٹھائے گئے وہ جنگ کہ جو عوام کی شرافت اور حیثیت اور ملک و اسلام کی حفاظت اور ان کے دفاع کی خاطر تھی۔  اب دیکھئے کہ دشمن ان عزیز شہیدوں کے خلاف کہ جنہوں نے اپنی جانوں یعنی سب سے بڑے سرمائے کو آگے بڑھ کر خدا کی راہ میں قربان کردیا، مستقیم اور غیر مستقیم طریقے سے ریڈیو اخبارات اور مجلوں اور کتابوں کے ذریعے پوری دنیا میں سادہ لوح انسانوں کے ذہنوں کو ان سے منحرف کرنے کے لیے کس قدر تبلیغات کیں  اور کر بھی رہے ہیں !

اگر ان تبلیغات کے مقابلے میں حق کی تبلیغات نہ ہوتیں اور نہ ہوں اگر ملت  شیعہ سخن وروں قلم کاروں اور ہنر مندوں کی آگاہی اور بصیرت اس حقیقت کی خدمت میں مصروف نہ ہو کہ جو اس ملک میں پائی جاتی ہے تو دشمن تبلیغات کے میدان میں غالب آ جائے گا تبلیغات کا میدان بہت عظیم اور پر خطر میدان ہے البتہ ملت کی اکثریت قاطع اور عوام کی ایک ایک فرد انقلاب حسینی سے آگاہ ہونے کی برکت سے دشمن کی تبلیغات سے محفوظ ہے۔  دشمن نے بہت دروغ بافی کی اور جو چیزیں ہماری نظروں کے سامنے تھیں ان کو بر عکس اور الٹا کر کے دکھایا مگر ہمارے لوگوں کو عالمی تبلیغات جھوٹے پروپیگنڈوں اور بے بنیاد باتوں پر بالکل اطمینان نہیں رہا ۔

یزید کی ظالم اور جابر حکومت اپنی تبلیغات کے ذریعے حسین ابن علی (ع)  کو مجرم ٹھہراتی تھی اور یہ یقین کرانا چاہتی تھی کہ حسین وہ شخص ہے کہ جس نے اسلامی حکومت اور عدل کے خلاف دنیا کی خاطر قیام کیا ہے،  کچھ لوگ ان جھوٹی تبلیغات پر اعتماد کرتے تھے لیکن اس وقت کہ جب حسین ابن علی (ع) عجیب حالت میں اور درد ناک صورت میں ظالموں کے ذریعے صحرائےکربلا میں شہید ہو گئے تو اس چیز کو انہوں نے دشمن پر غلبے اور فتح کے طور پر منایا لیکن بارگاہ امامت کی تبلیغات نے ان تمام تہمتوں کو بدل دیا اور بتا دیا کہ حق کو جھوٹی سازشوں اور تہمتوں کے ذریعے دبایا یا چھپایا نہیں جا سکتا۔

التماس دعا۔۔۔۔۔

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی