2017 January 16
کیا روايات اهل سنت میں اہل بیت (ع) کے لیے عزاداری کرنے پر جزاء و ثواب بیان ہوا ہے؟
مندرجات: ٣٢٧ تاریخ اشاعت: ٠٥ October ٢٠١٦ - ٠٨:٠١ مشاہدات: 296
سوال و جواب » امام حسین (ع)
جدید
کیا روايات اهل سنت میں اہل بیت (ع) کے لیے عزاداری کرنے پر جزاء و ثواب بیان ہوا ہے؟

توضيح سؤال:

شیعہ کی معتبر کتب اور صحیح روایات میں اہل بیت(ع) اور بخصوص امام حسین(ع) کے لیے گریہ، عزاداری اور اشک بہانے پر بے شمار جزاء و ثواب ذکر ہوا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا روايات اهل سنت میں اہل بیت اور خاص طور امام حسین(ع) کے لیے عزاداری کرنے پر بھی جزاء و ثواب ذکر ہوا ہے یا نہیں ؟

جواب:

شیعہ کتب کی طرح کتب و روایات اہل سنت میں بھی اہل بیت اور خاص طور امام حسین(ع) کے لیے عزاداری کرنے پر بھی جزاء و ثواب ذکر ہوا ہے۔

كتاب «فضائل الصحابه»، میں احمد بن حنبل رئيس مذهب حنبلي روايت صحيح السند کو  امام حسين (عليه السلام) سے نقل كرتا ہے كه:

احمد ابن حنبل کی روایت اشک بہانے پر ثواب کے بارے میں:

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْرَائِيلَ، قَالَ: رَأَيْتُ فِي كِتَابِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ بِخَطِّ يَدِهِ، نا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قثنا الرَّبِيعُ بْنُ مُنْذِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، يَقُولُ: مَنْ دَمَعَتَا عَيْنَاهُ فِينَا دَمْعَةً، أَوْ قَطَرَتْ عَيْنَاهُ فِينَا قَطْرَةً، أَثْوَاهُ اللَّهُ عز وجل الْجَنَّةَ.

احمد بن اسرائيل کہتا ہے کہ: احمد ابن حنبل کی کتاب میں اس کے ہاتھ سے لکھا ہوا میں نے دیکھا ہے کہ اسود بن عامر (ابو عبد الرحمن) نے ربيع بن منذر سے نقل کیا ہے کہ اس کے والد نے کہا ہے کہ: حسين بن علی (ع) هميشه فرمایا کرتے تھے کہ: جس کی آنکھیں ہمارے غم و مصیبت میں اشک سے نم ہو جائیں یا ایک اشک کا قطرہ ہمارے لیے  بہائے خداوند اس کو جنت عطا کرہے گا۔

فضائل الصحابة لابن حنبل، ج2، ص675، ح1154

یہی روایت دوسرے منابع اہل سنت میں:

اس روایت کو دوسرے علماء نے بھی اپنی کتب میں ذکر کیا ہے اور واضح طور کہا ہے کہ ہم نے اس روایت کو احمد بن حنبل کی كتاب «مناقب» سے ذکر کیا ہے۔

1. محب الدين طبري:

عن الربيع بن منذر عن أبيه قال كان حسين بن علي رضي الله عنهما يقول من دمعت عيناه فينا دمعة أو قطرت عيناه فينا قطرة آتاه الله عز وجل الجنة. أخرجه أحمد في المناقب.

ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربي، ج 1، ص 19، محب الدين أحمد بن عبد الله الطبري الوفاة: جمادي الآخرة / 694هـ ، دار النشر : دار الكتب المصرية - ...مصر.

احمد بن حنبل نے اس روایت  کو اپنی کتاب مناقب فضائل الصحابة)  میں نقل کیا ہے۔

2. ملا علي قاري:

أخرج أحمد في المناقب عن الربيع بن منذر عن أبيه قال : كان حسن بن علي يقول : من دمعت عيناه فينا دمعة أو قطرت عيناه فينا قطرة آتاه الله عز وجل الجنة .

ملا علي القاري، نور الدين أبو الحسن علي بن سلطان محمد الهروي (متوفاي1014هـ)، مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج 11، ص315، تحقيق: جمال عيتاني، ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولي، 1422هـ - 2001م .

احمد بن حنبل نے اس روایت  کو اپنی کتاب مناقب فضائل الصحابة)  میں نقل کیا ہے۔

 3. قندوزي حنفي:

قندوزی حنفي نے اس  روايت کو اپنی کتاب میں دو جگہ پر ذکر کیا ہے۔

وعن الحسين بن علي ( رضي الله عنهما ) قال : من دمعت عيناه فينا دمعة أو قطرت عيناه فينا قطرة بوأه الله ( عز وجل ) الجنة. ( أخرجه أحمد في المناقب ) .

القندوزي الحنفي، الشيخ سليمان بن إبراهيم (متوفاي1294هـ) ينابيع المودة لذوي القربي، ج 2 ، ص 117 و ص373، تحقيق: سيد علي جمال أشرف الحسيني، ناشر: دار الأسوة للطباعة والنشرـ قم، الطبعة:الأولي1416هـ .

احمد بن حنبل نے اس روایت  کو اپنی کتاب مناقب فضائل الصحابة)  میں نقل کیا ہے۔

 4. سخاوي شافعي:

اس نے بھی اپنی کتاب «استجلاب ارتقاء الغرف بحب أقرباء الرسول ذوي الشرف» میں اس روایت کو نقل کیا ہے:

قال : وعن الحسين بن علي رضي الله عنهما قال : من دمعت عيناه فينا أو قطرت عيناه فينا قطرة آتاه الله عز وجل الجنة . أخرجه أحمد في «المناقب».

حسين بن علی (ع) هميشه فرمایا کرتے تھے کہ: جس کی آنکھیں ہمارے غم و مصیبت میں اشک سے نم ہو جائیں یا ایک اشک کا قطرہ ہمارے لیے بہائے خداوند اس کو جنت عطا کرہے گا۔

اس روایت کو احمد بن حنبل نے كتاب «مناقب» میں ذکر کیا ہے۔

السخاوي، شمس الدين محمد بن عبد الرحمن (متوفي: 902 هـ.ق)، استجلاب ارتقاء الغرف بحب أقرباء الرسول ذوي الشرف ، ج 1، ص431-432، حديث 160، تحقيق : خالد بن احمد الصُّمِّي بابطين، ناشر: دار البشائر الإسلامية ، عربستان.

 5. احمد بن صالح بن أبي الرجال:

اس نے اپنی کتاب مطلع البدور ومجمع البحور میں اس روایت کو نقل کیا ہے۔

ولأحمد في مناقبه عن الحسين - عليه السلام -:من دمعت عيناه فينا قطرة آتاه الله تعالي الجنة .

احمد بن حنبل نے كتاب مناقب (فضائل الصحابة) میں امام حسين عليه السلام سے نقل كیا ہے کہ : جو ایک اشک کا قطرہ ہمارے لیے بہائے خداوند اس کو جنت عطا کرہے گا۔

أحمد بن صالح بن أبي الرجال، مطلع البدور ومجمع البحور، جزء 1 ، ص 15، تحقيق: عبد السلام عباس الوجيه، محمد يحيي سالم عزان ، مركز التراث والبحوث اليمني.

قابل توجہ یہ بات ہے کہ مصنف اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے کہ:

والأحاديث في (هذا) المعني كثيرة.

اس معنی و مفھوم والی احادیث بہت زیادہ ہیں۔

یہاں تک واضح ہوا کہ 5 اہل سنت کے علماء نے اس روایت کو اپنی اپنی کتابوں میں احمد بن حنبل اس روایت کو نقل کیا ہے اور کسی نے بھی اس روایت کی سند یا متن پر اشکال  یا اعتراض نہیں کیا۔

كتاب «فضائل الصحابة» کے محقق نے اس روایت کے راویوں کو ثقہ کہا ہے:

محقق كتاب (فصائل الصحابه) «جناب وصی الله بن عباس»

کتاب کے حاشیے میں روایت کی سند کے راویوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ:

 احمد بن اسرائيل شيخ القطيعي لم اجده والباقون ثقات.

احمد بن اسرائيل قطيعی کا استاد ہے، مجھے اسکی حالات زندگی کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہے لیکن باقی راوی مورد اعتماد و ثقہ ہیں۔

فضائل الصحابة لابن حنبل، ج 2، ص 675، ح1154

اب اگر «احمد بن اسرائيل» کا ثقہ ہونا بھی ثابت ہو جائے تو روایت صحیح ہو جائے گی۔

لھذا پہلے اس کے نام کے بارے میں پھر اسکی حالات زندگی کے بارے میں اور آخر میں اس کا ثقہ ہونا اہل سنت علماء کی نظر میں بیان کیا جائے۔

الف: بيان نام هاي «احمد بن اسرائيل» در سخنان علماي اهل سنت:

اہل سنت علماء کی مختلف عبارتوں میں دقت کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ احمد بن اسرائيل کے  کافی سارے نام ذکر کئے ہیں اور سب نے اس کی نسبت  اسکے دادا کی طرف دی ہے۔

1. ابو الفرج ابن الجوزي:

ابن جوزی نے «احمد بن اسرائيل» کے تین نام ذکر کیے ہیں اور لکھتا ہے کہ:

أبو بكر أحمد بن سليمان بن الحسن النجار روي عنه أبو حفص بن شاهين وهو أحمد بن سلمان بن الحسن بن إسرائيل بن يونس روي عنه ابن شاهين أيضا فنسبه إلي جد جده وهو أحمد بن إسرائيل الذي روي عنه أبو بكر بن مالك القطيعی.

ابو بكر احمد بن سليمان بن حسن نجاد، سے ابو حفص شاهين نے روايت کی ہے . ابو بكر وہی احمد بن سلمان بن حسن بن اسرائيل بن يونس ہے كه اس سے ابن شاهين نے بھی روايت نقل کی ہے اس کی نسبت اس کے دادا کی طرف دی ہے کہ وہ وہی احمد بن اسرائيل ہے اور ابو بكر بن مالك قطيعي نے اس سے  روايت نقل كی ہے۔

تلقيح فهوم أهل الأثر، ج1، ص369 ، أبي الفرج عبد الرحمن ابن الجوزي الوفاة: 597هـ ، دار النشر : شركة دار الأرقم بن أبي الأرقم - بيروت - 1997 ، الطبعة : الأولي

2. خطيب بغدادي:

خطيب بغدادی نے اس کے چار نام ذکر کیے ہیں:

ذكر أبي بكر أحمد بن سلمان بن الحسن النجاد.

قد ذكرنا بعض حديثه فيما تقدم، وهو أَحْمَد بن يونس القطيعي، الذي روي عنه عمر بن أَحْمَد بن شاهين.

ابو بكر احمد بن سلمان بن حسن نجاد کی بعض روایات کو ہم نے پہلے ذکر کیا ہے اور وہ احمد بن يونس قطيعی ہے اس سے  عمر بن احمد بن شاهين نے روايت نقل كی ہے۔

اوپر والی عبارت کے بعد اس روايت کو ذكر کرتا ہے اس میں «احمد بن يونس قطيعی کا نام آیا ہے:

أَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الدَّاوُدِيُّ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاعِظُ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ الْقَطِيعِيُّ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، حَدَّثَنَا مُعَلَّي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَتِ الْفُتْيَا: الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الإِسْلامِ، ثُمَّ أُحْكِمَ الأَمْرُ، وَنَهَي عَنْهُ .

اس روایت کے بعد دوبارہ «احمد بن سلمان نجاد» کو اس کے دادا کی طرف نسبت دے کر ذکر کرتا ہے۔

هو أَحْمَد بن سلمان بن الحسن بن إسرائيل بن يونس، فنسبه عمر إلي جد جده. وهو أَحْمَد بن إسرائيل، الذي روي عنه أبو بكر بن مالك القطيعی.

وہ احمد بن سلمان بن حسن بن اسرائيل بن يونس ہے اور عمر بن واعظ اس کا نسب اس کے دادا تک ذکر کرتا ہے اور وہ وہی احمد بن اسرائيل ہے كه ابو بكر بن مالك قطيعی نے اس سے روايت نقل كی ہے۔

موضح أوهام الجمع والتفريق، ج1، ص 464 ، أحمد بن علي بن ثابت الخطيب البغدادي الوفاة: 463 ، دار النشر : دار المعرفة - بيروت - 1407 ، الطبعة : الأولي ، تحقيق : د. عبد المعطي أمين قلعجي۔

احمد بن حنبل كتاب «فضائل الصحابه» میں «احمد بن اسرائيل»سے ایک دوسری روايت کو بھی نقل كرتا ہے:

حدثني أحمد بن إسرائيل قثنا محمد بن عثمان قثنا زكريا بن يحيي الكسائي نا يحيي بن سالم نا أشعث بن عم حسن بن صالح وكان يفضل عليه نا مسعر عن عطية العوفي عن جابر بن عبد الله الأنصاري قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم مكتوب علي باب الجنة محمد رسول الله علي أخو رسول الله قبل ان تخلق السماوات بالفي سنة.

فضائل الصحابة لابن حنبل، ج 2، ص 668، ح1140

قابل توجہ یہ ہے کہ محقق كتاب تمام راویوں کے بارے میں اظھار نظر کرتا ہے لیکن «احمد بن اسرائيل» کے بارے میں کچھ نہیں کہتا۔

3. عبد الكريم سمعاني:

سمعانی عالم نسب شناس اهل سنت ہے۔ «احمد بن اسرائیل» کو عالم فقیہ حنبلی کہتا ہے اور وضاحت کرتا ہے کہ وہ احمد ابن حنبل کی فقہ کے مطابق فتوا دیتا تھا اور  وہ عبد الله بن احمد بن حنبل کا شاگرد تھا۔

النجاد: هذه الحرفة مشهورة والمعروف بها أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن بن إسرائيل بن يونس الفقيه الحنبلي المعروف بالنجاد من أهل بغداد كان له في جامع المنصور يوم الجمعة حلقتان قبل الصلاة وبعدها إحداهما للفتوي في الفقه علي مذهب أحمد بن حنبل والأخري لإملاء الحديث وهو ممن اتسعت رواياته وانتشرت أحاديثه.

سمع الحسن بن مكرم البزاز ... وعبد الله بن أحمد بن حنبل وقوما يطول ذكرهم.

وكان ولادته في سنة ثلاث وخمسين ومئتين ومات في سنة ثمان وأربعين وثلاثمائة.

نجاد:  یہ ایک مشهور پیشہ ہے . ابو بكر «أحمد بن سلمان بن الحسن بن إسرائيل بن يونس» کا یہ پیشہ مشھور تھا۔ وہ فقیہ حنبلی و اھل بغداد تھا۔ وہ  جمعه کو جامعہ مسجد منصور میں نماز سے پہلے اور نماز کے بعد درس پڑھاتا تھا۔ ایک درس احمد ابن حنبل کے فقھی فتاوای اور دوسرا درس روایات کی املاء کا تھا۔ اس کی روایات  زيادہ تھیں اور اسکی احادیث بہت مشھور اور  منتشر ہوئی ہیں۔

السمعاني، أبي سعيد عبد الكريم بن محمد ابن منصور التميمي (متوفاي562هـ)، الأنساب، ج 5، ص457، تحقيق: عبد الله عمر البارودي، دار النشر: دار الفكر - بيروت ، الطبعة : الأولي 1998م

ب: توثيقات «احمد بن اسرائيل» از ديدگاه علماي اهل سنت:

نام و نسب «احمد بن اسرائيل» واضح ہونے کے بعد اب ہم اسکی توثيقات اور مدح کو علماء اهل سنت کی نظر میں بیان کرتے ہیں:

1. تصحيح حاكم نیشاپوری:

حاكم نيشابوری عالم معروف علم رجال و حديث اهل سنت ہے۔ اس نے بہت سی روايات کو کہ ان کی سند میں «احمد بن اسرائيل» ذکر ہوا ہے، کو صحیح قرار دیا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ راوی اس کی نظر میں ثقہ و مورد اعتماد ہے۔

 یہ روايت ايک نمونه ہے کہ حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے:

حدثنا أحمد بن سلمان بن الحسن النجاد الفقيه إملاء ببغداد حدثنا الحسن بن مكرم البزاز حدثنا عثمان بن عمر حدثنا علي بن المبارك عن يحيي بن أبي كثير عن عكرمة عن بن عباس رضي الله عنهما قال قضي رسول الله صلي الله عليه وسلم في المكاتب أن يقتل بدية الحر علي قدر ما أدي منه قال يحيي قال عكرمة عن بن عباس يقام عليه حد المملوک.

هذا حديث صحيح علي شرط البخاري ولم يخرجاه.

الحاكم النيسابوري، ابو عبدالله محمد بن عبدالله (متوفاي405 هـ)، المستدرك علي الصحيحين، ج 2 ص 237، تحقيق: مصطفي عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت الطبعة: الأولي، 1411هـ - 1990

2. ابی جراده:

عمر بن احمد بن ابی جراده ايک  عالم اهل سنت ہے، یہ احمد بن اسرائيل کو فقيه و محدث اور مورد اعتماد جانتا ہے اور لکھتا ہے کہ:

أحمد بن سلمان بن الحسن بن إسرائيل بن يونس

المعروف بالنجاد الفقيه الحنبلي كان فقيها مفتيا ومحدثا متقنا واسع الرواية مشهور الدراية.

أحمد بن سلمان بن حسن بن إسرائيل بن يونس، جو نجّاد معروف تھا۔ وہ فقيه مذهب حنبلی،مفتی و محدث (ناقل روايت)اور  مورد اعتماد تھا۔ اسکی روایات زیادہ اور وہ روایات کو جاننے اور سمجھنے والا بندہ تھا۔

كمال الدين عمر بن أحمد بن أبي جرادة (متوفاي660هـ)، بغية الطلب في تاريخ حلب، ج 2 ص 766، تحقيق: د. سهيل زكار، دار النشر: دار الفكر.

3. ذهبی:

ذهبی ایک عالم رجالی اہل سنت ہے جو اس کے بارے میں کہتا ہے کہ:

وكان أحمد بن إسرائيل من أذكياء العالم لا يسمع شيئاً إلا حفظه.

احمد بن اسرائيل ایک پرھیز گار اور بہت حافظے والا تھا۔ وہ جب ایک مطلب کو ایک مرتبہ سنتاتا تھا تو وہ اس کو حفظ ہو جاتا تھا۔

تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام ، ج 19 ، ص 34، محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي الوفاة: 748هـ ، دار النشر : دار الكتاب العربي - لبنان/ بيروت - 1407هـ - 1987م

 ذھبی اپنی دوسری کتاب میں اس کو «امام، حافظ حديث، استاد علماي بغداد» کہتا ہے اور نقل کرتا ہے کہ وہ خطيب بغدادی کے نزدیک بھی صدوق تھا۔

النجاد الإمام الحافظ الفقيه شيخ العلماء ببغداد أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن بن إسرائيل البغدادي الحنبلي ... قال الخطيب كان صدوقا عارفا صنف كتابا كبيرا في السنن وكان له بجامع المنصور حلقة قبل الجمعة للفتوي وحلقة بعدها للاملاء حدث عنه أبو بكر القطيعی.

نجاد؛ امام ، حافظ (جس کو ایک لاکھ روایات حفظ ہوں) فقيه و استاد علماء بغداد، ابو بكر احمد بن سلمان بن حسن بن اسرائيل بغدادي حنبلی ہے۔

 خطيب کہتا ہے کہ وہ فرد صدوق و عارف تھا اور اس نے ایک کتاب «سنن» تصنيف کی ہے۔  وہ فقیہ حنبلی و اھل بغداد تھا۔ وہ  جمعه کو جامعہ مسجد منصور میں نماز سے پہلے اور نماز کے بعد درس پڑھاتا تھا۔ ایک درس احمد ابن حنبل کے فقھی فتاوای اور دوسرا درس روایات کی املاء کا تھا اور اس سے ابو بكر قطيعی نے روايت کو نقل كیا ہے.

تذكرة الحفاظ، ج3، ص868 ، شمس الدين محمد الذهبي الوفاة: 748 ، دار النشر : دار الكتب العلمية - بيروت ، الطبعة : الأولي۔

اپنی ایک اور  کتاب میں  احمد بن اسرائيل کو صدوق کہتا ہے:

395 [ 583 ] - [ صح ] أحمد بن سلمان بن الحسن بن اسرائيل بن يونس أبو بكر النجاد الفقيه الحنبلي المشهور ... قلت هو صدوق 

ميزان الاعتدال في نقد الرجال ج 1، ص 238

4. ابن حجر عسقلانی:

ابن حجر عسقلانی بھی احمد بن اسرائيل کو صدوق کہتا ہے:

أحمد بن سليمان بن الحسن بن إسرائيل بن يونس أبو بكر النجاد الفقيه الحنبلي المشهور ... وكان رأسا في الفقه رأسا في الرواية .. قلت وهو صدوق.

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاي852 هـ)، لسان الميزان، ج 1، ص180، تحقيق: دائرة المعرف النظامية - الهند، ناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1406هـ - 1986م.

5. ابن ابی الدنيا:

ابن ابی الدنيا اپنی كتاب «الاخوان» میں احمد بن اسرائيل کا تعارف اس طرح ذکر کرتا ہے:

النجاد: الإمام المحدث الحافظ الفقيه المتقي ، شيخ العراق ، أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن البغدادي - الحنبلي النجاد - . ... قال الخطيب البغدادي : كان النجاد صدوقا عارفا ، صنف السنن.

نجاد: امام ، راوي حديث، حافظ ، فقيه، پرهيزگار و استاد عراق ابو بكر احمد بن سلمان بن حسن بغدادي حنبلي نجاد تھا۔ خطيب نے کہا ہے کہ:

نجاد ایک سچّا، عارف انسان تھا کہ جس نے سنن کو تصنيف کیا ہے۔

القرشي البغدادي، عبد الله بن محمد بن عبيد ابن أبي الدنيا (متوفاي281هـ)، الإخوان، ص53، تحقيق : محمد عبد الرحمن طوالبة بإشراف نجم عبد الرحمن خلف، طبق برنامه مكتبه اهل البيت.

6. ابن اثير:

ابن اثير احمد بن اسرائيل کو ایک صالح و نیک انسان جانتا ہے:

وفيها قتل أحمد بن إسرائيل وكان صالح.

ابن أثير نے  الكامل في التاريخ میں کہا ہے کہ وہ ایک  صالح انسان تھا۔

الكامل في التاريخ ، ج 6 ص 203، اسم المؤلف: أبو الحسن علي بن أبي الكرم محمد بن محمد بن عبد الكريم الشيباني الوفاة: 630هـ ، دار النشر : دار الكتب العلمية - بيروت - 1415هـ ، تحقيق : عبد الله القاضي

7. ناصر الدين البانی:

البانی ایک وھابی عالم ہے اور اسکی بات وھابیوں کے لیے حرف آخر ہے۔ اسکی نظر کے مطابق بھی احمد بن سلمان نجاد «حافظ و صدوق» ہے۔

( فائدة ) : النجاد الذي عزا إليه الحديث مؤلف الكتاب هو أحمد بن سلمان بن الحسين أبو بكر الفقيه الحنبلي ، يعرف بالنجاد ، وهو حافظ صدوق جمع المسند ، وصنف في السنن كتابا كبيرا ، روي عنه الدارقطني وغيره من المتقدمين.

ألباني، محمد ناصر (متوفاي1420هـ)، إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، ج 3، ص40، تحقيق: إشراف: زهير الشاويش، ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية، 1405 - 1985 م.

نتيجه:

اولا: اس روایت کا احمد بن حنبل سے نقل ہونا  مُسّلَم ہے کیوںکہ جس عالم نے بھی اس روایت کو اپنی کتاب میں نقل کیا ہے اس نے وضاحت کی ہے کہ  احمد بن حنبل نے اس روایت کو اپنی کتاب «مناقب» میں ذکر کیا ہے۔

ثانيا: علماء اہل سنت عبارات کہ جس میں انھوں نے «احمد بن اسرائيل» کے حالات زندگی کو ذکر کیا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی بندہ ہے جس کے چار نام ہیں کہ جن کے آخر میں لفظ نجّاد آیا ہے۔

قرائن قطعی ہیں جو ثابت کرتے ہیں «احمد بن اسرائيل» وہی  «احمد سلمان بن الحسن نجاد» ہے۔ وہ قرائن قطعی یہ ہیں:

1. محقق كتاب فضائل الصحابه (وصی الله بن عباس) حاشیے میں احمد بن اسرائيل کو قطيعی کا استاد کہتا ہے:

(1154) احمد بن اسرائيل شيخ القطيعي لم اجده والباقون ثقات.

فضائل الصحابة لابن حنبل، ج 2، ص 675، ح1154

اسی بات کو ابو الفرج ابن الجوزي و خطيب بغدادي نے بھی «احمد سلمان بن الحسن نجاد» کے حالات زندگی میں ذکر کیا ہے اور اس کو ابو بكر قطيعی کا استاد کہا ہے۔

2. علماء نے وضاحت کی ہے کہ «احمد بن سلمان بن الحسن نجاد» فقیہ حنبلی مذھب تھا جامعہ مسجد میں درس پڑھاتا تھا۔

یہ عبارت تایید کرتی ہے کہ وہ اس روایت کا ناقل بھی ہے اور اسکی ان روایات میں سے ایک یہی امام حسین(ع) والی روایت ہے۔

3. ایک سی ڈی ہے «جوامع الكلم» کہ اہل سنت نے بنائی ہے۔ یہ سی ڈی علم رجال کے بارے میں ہے۔ اس میں «احمد بن اسرائيل» کو اس  روايت میں  وہی «أحمد بن سلمان بن الحسن بن إسرائيل بن يونس» کہا گیا ہے اور اس میں اس کو «صدوق حسن الحديث» لکھا گیا ہے۔

ثالثا: حاكم نيشاپوری کا ان روایات کو صحیح قرار دینا،« ومحدثا متقنا» « صدوقا عارفا» الإمام الحافظ الفقيه شيخ العلماء»  «صدوق»  « الإمام المحدث الحافظ الفقيه المتقي»  «وكان صالح» ، «حافظ صدوق» کے وزنی القابات سے یہ  اس کے ثقہ ہونے پر بہترین دلیل ہے۔

لھذا روایت مذکور سند و متن کے لحاظ سے کاملا صحیح ہے اور قابل استدلال ہے۔

 

 گروه پاسخ به شبهات

مؤسسه تحقيقاتي حضرت ولي عصر (عج)





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی