2017 June 26
امام ہادی علیہ السلام کی شخصیت علماء اہل سنت کی نظر میں
مندرجات: ٣١٤ تاریخ اشاعت: ٣١ March ٢٠١٧ - ١٦:١٣ مشاہدات: 540
مضامین و مقالات » پبلک
امام ہادی علیہ السلام کی شخصیت علماء اہل سنت کی نظر میں


ابن خلکان (متوفی 681 ہجری ):

ذہبيی(متوفی 748 ہجری):

صفدی (متوفی 764 ہجری):

يافعی (متوفی 768 ہجری):

ابن کثير (متوفی 774 ہجری):

ابن صباغ (متوفی 855 ہجری):

ابن حجر ہيثمی (متوفی 973 ہجری):

قرمانی (متوفی 1019 ہجری):

شبراوی(متوفی 1171 ہجری):

زرکلی(متوفی 1396 ہجری):

نتيجہ:

 

امام ہادی علیہ السلام آسمان امامت و ولایت کے دسویں ستارے 15 ذی الحجہ سن 212 ہجری کو مدینہ کے محلے صریا میں پیدا ہوے۔ امام ہادی علیہ السلام کے والد گرامی امام جواد علیہ السلام اور والدہ گرامی سمانہ زن با فضیلت و با تقوی تھی۔ امام ہادی علیہ السلام کے زمانے کے حالات ایسےتھے کہ وہ اپنے بیٹے امام حسن عسکری علیہ السلام ان کی بیوی بی بی نرجس خاتون علیہا السلام اور امام جواد علیہ السلام کی بیٹی  حکیمہ خاتون علیہا السلام کے ساتھ سامراء کے محلے عسکر کہ ایک فوجی علاقہ تھا میں زندگی گزارتے تھے۔ امام ہادی علیہ السلام  کے زمانے کے حالات ایسے تھے کہ استفادہ علمی ان امام سے دوسرے اماموں کی نسبت بہت کم ہوا ہے۔

آخر کار امام ہادی علیہ السلام تینتیس سال امامت و انسانیت کی خدمت اور ہدایت کرنےکے بعد سن 254 ہجری شہر سامرا میں شہادت کے مرتبے پر فائز اور اپنےگھر میں دفن ہوئے۔اب ان کا نورانی مقبرہ شیعیان اور محبان کی پناہ گاہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

اس مختصر تحریر میں ہم امام ہادی علیہ السلام کی شخصیت علماء اہل سنت کی نظر میں بیان کر رہے ہیں۔

ابن خلکان (متوفی681 ہجری)

ابن خلکان عالم سنی شافعی مذہب امام ہادی علیہ السلام کی شخصیت کو اس طرح بیان کر رہا ہے:

أبو الحسن العسكري أبو الحسن علي الهادي بن محمد الجواد بن علي الرضا ... كان قد سعي به إلى المتوكل وقيل إن في منزله سلاحا وكتبا وغيرها من شيعته وأوهموه أنه يطلب الأمر لنفسه فوجه إليه بعدة من الأتراك ليلا فهجموا عليه في منزله على غفلة فوجدوه وحده في بيت مغلق وعليه مدرعة من شعر وعلى رأسه ملحفة من صوف وهو مستقبل القبلة يترنم بآيات من القرآن في الوعد والوعيد ليس بينه وبين الأرض بساط إلا الرمل والحصى فأخذ على الصورة التي وجد عليها وحمل إلى المتوكل في جوف الليل فمثل بين يديه والمتوكل يستعمل الشراب وفي يده كأس فلما رآه أعظمه وأجلسه إلى جنبه.

 ابوالحسن علی ہادی بن محمد جواد بن علی رضا علیہ السلام کی کسی نے متوکل کے دربار میں چغلی لگائی کہ امام ہادی علیہ السلام کے پاس گھر میں اسلحہ کچھ خط اور دوسری چیزیں ہیں جو امام نے اپنے شیعوں سے لی ہیں اور وہ حکومت کے خلاف بغاوت کرنا چاہتے ہیں۔ متوکل نے کچھ ترک سپاہیوں کو اچانک امام (ع)  کے گھر روانہ کیا اور انھوں نے رات کو امام (ع) کے گھر حملہ کر دیا۔ سپاہیوں نے گھر کی بہت تلاشی لی لیکن اُن کو گھر سے کچھ نہ ملا۔پھر انھوں نے دیکھا کہ امام (ع) اکیلے ایک کمرے میں گھر کے لباس میں زمین پر بیٹھے نماز اور تلاوت قرآن میں مصروف ہیں۔ سپاہی امام (ع) کو اُسی حالت میں متوکل کے دربار میں لے گے اس حالت میں کہ متوکل شراب پی رہا تھا۔ امام (ع) کی ہیبت کو دیکھ کر متوکل نے بے اختیار امام (ع) کا احترام کیا اور اپنے ساتھ بیٹھایا۔

إبن خلكان، ابوالعباس شمس الدين أحمد بن محمد بن أبي بكر (متوفى681هـ)، وفيات الأعيان و انباء أبناء الزمان، ج 3 ص 272 ، تحقيق احسان عباس، ناشر: دار الثقافة - لبنان.

 ذہبی(متوفی 748 ہجری):

امام اہل سنت ذہبی امام ہادی (ع) کی شخصیت کو اس طرح بیان کرتا ہے:

وكذلك ولده الملقب بالهادي شريف جليل.

 اسی طرح اس کا (امام جوادعلیہ السلام ) بیٹا کہ اس کا لقب ہادی ہے ایک شریف اور با عظمت انسان تھا۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفى748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 13 ص 121 ، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

 اسی طرح ذہبی اپنی کتاب العبر میں بیان کرتا ہے کہ:

وكان فقيها إماما متعبدا.

 امام ہادی ایک فقیہ اور عبادت گزار انسان تھے۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفى 748 هـ)، العبر في خبر من غبر، ج 2 ص 12 ، تحقيق: د. صلاح الدين المنجد، ناشر: مطبعة حكومة الكويت - الكويت، الطبعة: الثاني، 1984.

 صفدی(متوفی 764 ہجری):

 صفدی شافعی امام ہادی علیہ السلام کے علمی مقام کے بارے میں ایسے نقل کرتا ہے:

علي بن محمد بن علي بن موسي.هو أبوالحسن الهادي بن الجواد بن الرضا بن الکاظم بن الصادق بن الباقر بن زين ‌العابدين، أحد الأئمة الإثني عشر عند الإمامية .کان المتوکل قد اعتل، فقال:إن برأت لأتصدقن بمال کثير. فلما عوفي، جمع الفقهاء و سألهم عن ذلک، فأجابوه مختلفين. فبعث الي علي الهادي عليه‌السلام. فقال: يتصدق بثلاثة ثمانين دينار قالوا: من أين لک هذا؟ قال:لأن الله تعالي قال: (لقد نصرکم الله في مواطن کثيرة) (توبه، آيه 25). و روي أهلنا ان المواطن کانت ثلاثة و ثمانين موطنا.

 امام ہادی علیہ السلام شیعہ امامیہ کے بارہ اماموں میں سے ایک امام ہیں۔ ایک دن متوکل بیمار ہو گیا اُس نے نذ ر کی کہ اگر اُسے شفاء مل گی تو وہ بہت زیادہ دینار خدا کی راہ میں صدقہ دے گا۔جب وہ صحت مند ہو گیا تو اُس نے علماء کو جمع کیا اور اُن سے پوچھا کہ کتنے دینار صدقہ دے کہ اُس پر لفظ کثیر صدق کرے۔ علماء نے مختلف اقوال بیان کیے ۔ متوکل نے ناچار ہو کر امام ہادیؑ سے سوال کیا تو امام نے جواب دیا کہ 83 دینار صدقہ دو۔ علماء نے امام کے جواب سے تعجب کیا اور متوکل سے کہا کہ امام (ع) سے پتا کرے کہ اس جواب کی کیا دلیل ہے؟

امام (ع) نے جواب دیا کہ خداوند نے قرآن میں فرمایا ہے کہ (لقد نصرکم الله...) خداوند نے کثیر مقامات پر تمہاری مدد کی ہے اور ہم اہل بیت (ع) سے روایات نقل ہوئی ہیں کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے 83جنگوں میں شرکت کی ہے پس متوکل نے 83دینار صدقہ دیا۔

الصفدي، صلاح الدين خليل بن أيبك (متوفى764هـ)، الوافي بالوفيات، ج 22 ص 49 ، تحقيق أحمد الأرناؤوط وتركي مصطفى، ناشر: دار إحياء التراث - بيروت - 1420هـ- 2000م.

 يافعی(متوفی 768 ہجری):

یافعی امام ہادی علیہ السلام کے بارے میں ایسے بیان کرتا ہے:

سنة اربع وخمسين ومائتين فيها توفي العسكرى أبو الحسن على الهادى بن محمد الجواد بن على الرضأ بن موسى الكاظم بن جعفر الصادق العلوى الحسينى عاش اربعين سنة وكان متعبدا فقيها اماما.

حوادث سن 254 ہجری: اس سال میں امام ہادی علیہ السلام نے وفات پایئ۔ امام نے چالیس سال زندگی کی۔ امام ایک عبادت گذار فقیہ اور امام تھے۔

اليافعي، ابو محمد عبد الله بن أسعد بن علي بن سليمان (متوفى768هـ)، مرآة الجنان وعبرة اليقظان، ج 2 ص 159 و 160 ، ناشر: دار الكتاب الإسلامي - القاهرة - 1413هـ - 1993م.

 ابن کثير (متوفی 774 ہجری):

 ابن کثیر امام ہادی علیہ السلام کی ایسے تعریف بیان کرتا ہے:

وأما أبو الحسن علي الهادي .وقد كان عابدا زاهدا .وهو على التراب ليس دونه حائل.

 امام ہادی ایک عابد و زاہد انسان تھے اور وہ زمین پر بیٹھتے تھے اس حالت میں کہ چادر نیچے نہیں بچھاتے تھے یعنی سادگی کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔

ابن كثير الدمشقي، ابو الفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفى774هـ)، البداية والنهاية، ج 11 ص 15 ، ناشر: مكتبة المعارف – بيروت.

 ابن صباغ (متوفی 855 ہجری):

 ابن صباغ مالكی وجود مقدس امام ہادی علیہ السلام کی ایسے تعریف بیان کرتا ہے:

 فضل أبي‌الحسن علي الهادي قد ضرب علي المجرة قبابه و مد علي نجوم السماء اطنابه و ما تعد منقبة الا و له أفخرها و لا تذکر مکرمة الا و له فضيلتها و لا تورد محمدة الا و له تفصيلها و جملتها. استحق ذلک بما في جوهر نفسه من کرم تفرد بخصائصه فکانت نفسه مهذبة و اخلاقه مستعذبة و سيرته عادلة و افعاله فاضلة و هو من الوقار و السکون و الطمأنينة و الفقه و النزاهة و الزهادة و النباهة علي السيرة النبوية و الشنشنة العلوية و نفس زکية و همة عالية لا يقاربها أحد من الأنام و لا يداينها.

 امام ہادی کی فضیلت زمین و آسمان پر قابل مثال ہے۔ کوئی خوبی ایسی نہیں کہ بالا ترین آن امام کے پاس ہے اور ہر فضیلت جو ذکر ہو وہ امام کے وجود میں موجود ہے۔ ہر تعریف جو بیان ہوتی ہے وہ اپنی پوری تفصیل و اختصار کے ساتھ امام کے پاس موجود ہے۔ امام کی ذات ہر عیب و نقص سے پاک ہے۔ امام  کا اخلاق حسن و میٹھا ہے اُنکی سیرت نیک اور اعمال با فضیلت ہیں۔

اُن کا علم مانند رسول خدا اور طبیعت مانند حضرت علی(ع) تھا۔ اْن کی ہمت دوسرے انسانوں کی طرح نہیں تھی بلکہ بلند تھی۔

المالكي، علي بن محمد بن أحمد المالكي المكي المعروف بابن الصباغ (متوفي885هـ)، الفصول المهمة في معرفة الأئمة، ج 2 ص 1073 و 1074 ، تحقيق: سامي الغريري، ناشر: دار الحديث للطباعة والنشر مركز الطباعة والنشر في دار الحديث – قم، الطبعة الأولى: 1422 هـ .

ابن حجر ہيثمی (متوفی 973 ہجری):

 ابن حجر عالم متعصب امام ہادی علیہ السلام کے علم و سخاوت کو ایسے بیان کرتا ہے:

وكان وارث أبيه علما وسخاء.

 امام ہادی نے علم و سخاوت کو اپنے والد سے ارث میں لیا تھا۔

الهيثمي، ابو العباس أحمد بن محمد بن علي ابن حجر (متوفى973هـ)، الصواعق المحرقة علي أهل الرفض والضلال والزندقة، ج 2 ص 598 ، تحقيق: عبد الرحمن بن عبد الله التركي - كامل محمد الخراط، ناشر: مؤسسة الرسالة - لبنان، الطبعة: الأولى، 1417هـ - 1997م.

 قرمانی (متوفی 1019 ہجری):

 احمد بن یوسف قرمانی امام ہادیؑ کے نام کو ذکر کرنے کے بعد امام کی شخصیت کو اس طرح بیان کرتا ہے:

و اما مناقبه فنفيسة و اوصافه شريفة.

 امام کے فضائل گرانبہا و صفات نیک ہیں۔

القرماني، أحمد بن يوسف، (المتوفى: 1019هـ)، أخبار الدول و آثار الأول في التاريخ، ج 1 ص 349 ، المحقق، الدکتور فهمي سعد، الدکتور أحمد حطيط، دار النشر: عالم الکتاب، الطبعة الأولي: 1412 هـ.

 شبراوی (متوفی 1171 ہجری):

 شبراوی شافعی امام ہادی علیہ السلام کے نام کو ذکر کرنے کے بعد اشارہ کرتا ہے کہ امام (ع) کے فضائل بہت زیادہ ہیں:

و کراماته کثيره.

 اور اُسکی کرامات بہت زیادہ ہیں ۔

الشبراوي، الشافعي، عبد الله بن محمد بن عامر، الاتحاف بحب الاشراف، ص67 ، مطعبة مصطفي البابي الحلبي وأخويه بمصر .

 زرکلی (متوفی 1396 ہجری):

 زرکلی عالم سنی امام ہادی علیہ السلام کی شخصیت کو اس طرح بیان کرتا ہے:

علي (الملقب بالهادي) ابن محمد الجواد ابن علي الرضى بن موسى بن جعفر الحسيني الطالبي:عاشر ائمة الاثني عشر عند الإمامية، وأحد الأتقياء الصلحاء ولد بالمدينة.

 اُن کا لقب ہادی اور نام علی  بن محمد جواد بن علی رضا بن موسی بن جعفر حسينی حضرت ابو طالب کی نسل سے تھے۔ امام ہادی شیعہ امامیہ کے نزدیک متقی پرہیز گار تھے کہ جو مدینے میں پیدا ہوئے۔

الزركلي، خير الدين، الأعلام، ج 4، ص 323، چاپ پنجم، ناشر : دار العلم للملايين - بيروت – لبنان، 1980 م.

 نتيجہ:

 مطالب کہ جو بیان ہوئے وہ ایک قطرہ تھا جو امام ہادی علیہ السلام کے فضائل کے بحر بیکراں سے علماء اہل سنت نے بیان کیا۔ علماء اہل سنت نے اِن فضائل کو اپنی کتب سے بیان کیا ہے۔ ورنہ امام ہادی علیہ السلام کے فضائل اِس سے زیارہ ہیں کہ اِس مختصر تحریر میں بیان کیے جا سکیں۔

التماس دعا.....

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی