2022 May 20
صحابہ متعہ کرتے تھے۔
مندرجات: ٢١٧٤ تاریخ اشاعت: ٢٥ December ٢٠٢١ - ١٧:٠٢ مشاہدات: 631
وھابی فتنہ » پبلک
صحابہ متعہ کرتے تھے۔

صحابہ متعہ کرتے تھے۔

جناب جابر بن عبد اللہ کی گواہی۔۔۔

ہم [اصحاب متعہ] کرتے تھے۔

جناب ابن مسعود اور ابن عباس کا فتوا ۔۔۔۔

جناب خلیفہ دوم کا اعتراف ۔۔۔

اہل سنت کے علماﺀ کا اعتراف۔۔۔

 اہل سنت کی معتبر کتابوں میں یہ بات انتہائی واضح انداز میں موجود ہے کہ اصحاب متعہ کرتے تھے ۔ خلیفہ دوم کے دور میں خلیفہ نے طاقت کا استعمال کر کے اصحاب کو اس کام سے منع کیا ۔۔

لہذا متعۃ نسا اور متعہ حج سے منع کرنے اور اس کو حرام قرار دینے کو بہت سے اصحاب جناب عمر کا ذاتی اجتھاد سمجھتے تھے اور خلیفہ دوم خود بھی یہ اعلان کرتے تھے میں ان دونوں کو حرام  قرار کردیتا ہوں ۔۔۔

نوٹ : یہاں بحث اس میں نہیں ہے کہ متعہ حلال ہے یا حرام ۔۔۔

بحث اس میں ہے ،چاہئے متعہ حرام ہو یا حلال اصحاب اس کو خلیفہ دوم کے دور تک انجام دیتے رہے ۔۔۔

عجیب بات یہ ہے کہ :  بعض کہتے ہیں یہ کام فتح خیبر کے موقع پر حرام ہوا تھا ۔۔۔۔۔اب اہل سنت کی معتبر کتابوں کی معتبر روایات کی بنیاد پر اصحاب اس کو خلیفہ دوم کے دور تک انجام دیتے رہے ۔۔۔۔

جناب جابر  کی گواہی :

سند  : ۱

 - وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَطَاءٌ قَدِمَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مُعْتَمِرًا فَجِئْنَاهُ فِى مَنْزِلِهِ فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنْ أَشْيَاءَ ثُمَّ ذَكَرُوا الْمُتْعَةَ فَقَالَ نَعَمِ اسْتَمْتَعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبِى بَكْرٍ وَعُمَرَ.

صحيح مسلم --- كتاب الحج --- باب جواز تقصير المعتمر من شعره وانه لا يجب حلقه ، وانه يستحب كون حلقه او تقصيره عند المروة  حدیث نمبر3025

   سند  : ۲

حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقُبْضَةِ مِنَ التَّمْرِ وَالدَّقِيقِ الأَيَّامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبِى بَكْرٍ حَتَّى نَهَى عَنْهُ عُمَرُ فِى شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ۔۔۔۔

 صحيح مسلم --- كتاب النكاح --- باب نكاح المتعة وبيان انه ابيح ثم نسخ ثم ابيح ثم نسخ واستقر تحريمه إلى يوم القيامة: رقم الحديث: 3416 

 ‏‏‏‏  جناب جابر کہتے تھے کہ ہم متعہ کرتے تھے یعنی عورتوں سے کئی دن کے لئے ایک مٹھی کھجور اور آٹا دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابوبکر کے زمانہ میں یہاں تک کہ عمر بن خطاب نے اس سے عمرو بن حریث کے قصہ میں منع کیا۔

 

 

سند  : ۳

حَدَّثَنِى حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَأَتَاهُ آتٍ فَقَالَ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَابْنَ الزُّبَيْرِ اخْتَلَفَا فِى الْمُتْعَتَيْنِ فَقَالَ جَابِرٌ فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا.۔۔۔

  صحيح مسلم   ,  کتاب الحج- باب التَّقْصِيرِ فِى الْعُمْرَةِ.۔۔۔ح 3084

‏‏‏‏ ابونضرہ نے کہا کہ میں جابر کے پاس تھا کہ ایک شخص نے آ کر کہا کہ ابن عباس اور ابن زبیر دونوں متعوں میں اختلاف کر رہے ہیں (یعنی ایک متعہ نساء میں اور ایک متعہ حج میں،تو جناب جابر نے کہا کہ ہم نے دونوں متعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور میں انجام دیا  پھر عمر نے ان دونوں کو منع فرمایا تو ہم نے نہیں کیا۔

 

ابن مسعود کی گواہی

. سند  : ۴   

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ لَنَا شَيْءٌ فَقُلْنَا أَلَا نَسْتَخْصِي فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا

{ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ }

صحيح البخاري --- كتاب النكاح --- باب ما يكره من التبتل والخصاء: رقم الحديث: 5075 

 ان سے عبداللہ بن مسعود نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جہاد کو جایا کرتے تھے اور ہمارے پاس کچھ  نہ تھا (کہ ہم شادی کر لیتےاس لیے ہم نے عرض کیا ہم اپنے کو خصی کیوں نہ کرا لیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا۔ پھر ہمیں اس کی اجازت دے دی کہ ہم کسی عورت سے ایک کپڑے پر (ایک مدت تک کے لیےنکاح کر لیں۔ آپ نے ہمیں قرآن مجید کی یہ آیت پڑھ کر سنائی «يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما أحل الله لكم ولا تعتدوا إن الله لا يحب المعتدين‏» کہ ایمان لانے والو! وہ پاکیزہ چیزیں مت حرام کرو جو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ نے حلال کی ہیں اور حد سے آگے نہ بڑھو، بیشک اللہ حد سے آگے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

دیکھیں صحیح بخاری کے شارحین نے بھی  یہی معنی کیا ہے اور اس بات کو اظہار کیا ہے کہ ابن مسعود یہ کہنا چاہتے تھے کہ متعہ حلال ہے حرام نہیں ہے ۔۔۔

امام النووي

قوله ( رخص لنا أن ننكح المرأة بالثوب ) أي بالثوب وغيره مما نتراضى به قوله ( ثم قرأ عبد الله يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما أحل الله لكم ) فيه اشارة إلى أنه كان يعتقد اباحتها كقول بن عباس۔۔۔۔

شرح النووي على مسلم (9/ 182):

بدر الدين العيني

قوله ثم رخص لنا أن ننكح المرأة بالثوب هذا نكاح المتعة وهذا يدل على أن ابن مسعود يرى بجواز المتعة۔۔۔

عمدة القاري - بدر الدين العيني (20/ 73):

ابن حجر عسقلانی

وظاهر استشهاد بن مسعود بهذه الآية هنا يشعر بأنه كان يرى بجواز المتعة۔۔۔۔

 فتح الباري - ابن حجر (9/ 119):

 

 

 

صحابی عمران بن حصین

سند  : ۵

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنِي مُطَرِّفٌ عَنْ عِمْرَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ تَمَتَّعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ الْقُرْآنُ قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ

صحيح البخاري --- كتاب الحج --- باب التمتع: [حدیث نمبر: 2947

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے بیان کیا کہا کہ مجھ سے مطرف نے عمران بن حصین سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے تمتع کیا تھا اور خود قرآن میں تمتع کا حکم نازل ہوا تھا۔ اب ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔

سند  : ۵

 جناب ابن عباس کا فتوا :

5116 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ فَرَخَّصَ فَقَالَ لَهُ مَوْلًى لَهُ إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الْحَالِ الشَّدِيدِ وَفِي النِّسَاءِ قِلَّةٌ أَوْ نَحْوَهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَعَمْ۔۔

 صحيح البخاري --- كتاب الاضاحي --- باب ما يشتهى من اللحم يوم النحر: رقم الحديث: 5549 

 ابوجمرہ نے بیان کیا، کہا میں نے ابن عباس سے سنا، ان سے عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے اس کی اجازت دی، پھر ان کے ایک غلام نے ان سے پوچھا کہ اس کی اجازت سخت مجبوری یا عورتوں کی کمی یا اسی جیسی صورتوں میں ہو گی؟ تو ابن عباس نے کہا کہ ہاں۔ 

3429 وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَامَ بِمَكَّةَ، فَقَالَ: «إِنَّ نَاسًا أَعْمَى اللهُ قُلُوبَهُمْ، كَمَا أَعْمَى أَبْصَارَهُمْ، يُفْتُونَ بِالْمُتْعَةِ»، يُعَرِّضُ بِرَجُلٍ، فَنَادَاهُ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَجِلْفٌ جَافٍ، فَلَعَمْرِي، لَقَدْ كَانَتِ الْمُتْعَةُ تُفْعَلُ عَلَى عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ - يُرِيدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ: «فَجَرِّبْ بِنَفْسِكَ، فَوَاللهِ، لَئِنْ فَعَلْتَهَا لَأَرْجُمَنَّكَ بِأَحْجَارِكَ»، ۔۔۔۔۔

صحيح مسلم،  كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ نِكَاحِ  الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ،

    عبداللہ بن زبیر   مکہ میں کھڑے ہوئے، اور کہا: بلاشبہ کچھ لوگ ہیں، اللہ نے ان کے دلوں کو بھی اندھا کر دیا ہے جس طرح ان کی آنکھوں کو اندھا کیا ہے۔ وہ لوگوں کو متعہ (کے جواز) کا فتویٰ دیتے ہیں، وہ ایک آدمی (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ) پر تعریض کر رہے تھے، اس پر انہوں نے ان کو پکارا اور کہا: تم بے ادب، کم فہم ہو، میری عمر قسم! بلاشبہ امام المتقین کے عہد میں (نکاح) متعہ کیا جاتا تھا۔۔ ان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی۔۔ تو ابن زبیر نے ان سے کہا: تم خود اپنے ساتھ اس کا تجربہ کر (دیکھو)، بخدا! اگر تم نے یہ کام کیا تو میں تمہارے (ہی ان) پتھروں سے (جن کے تم مستحق ہو گے) تمہیں رجم کروں گا۔

 

سند  : ۷

خود جناب عمر کا اجتھادی نظریہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِالْمُتْعَةِ وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ عَلَى يَدَىَّ دَارَ الْحَدِيثُ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ يُحِلُّ لِرَسُولِهِ مَا شَاءَ بِمَا شَاءَ وَإِنَّ الْقُرْآنَ قَدْ نَزَلَ مَنَازِلَهُ فَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ وَأَبِتُّوا نِكَاحَ هَذِهِ النِّسَاءِ فَلَنْ أُوتَى بِرَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً إِلَى أَجَلٍ إِلاَّ رَجَمْتُهُ بِالْحِجَارَةِ.

‏‏‏‏  صحيح مسلم --- كتاب الحج --- باب في المتعة بالحج والعمرة: رقم الحديث: 2947 

 ابونضرہ نے کہا کہ ابن عباس تو ہم کو حکم کرتے تھے متعہ کا اور ابن زبیر اس سے منع کرتے تھے اور میں نے اس کا ذکر کیا جابر سے تو انہوں نے کہا: یہ حدیث تو میرے ہاتھ سے لوگوں میں پھیلی ہے اور ہم نے تمتع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ۔ پھر جب عمر بن خطاب خلافت پر قائم ہوئے تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے واسطے جو چاہتا تھا حلال کر دیتا تھا جس سبب سے کہ وہ چاہتا تھا اور قرآن کا ہر ایک حکم اپنی اپنی جگہ میں اترا ہے تو پورا کرو تم حج اور عمرہ کو اللہ کے واسطے جیسا کہ تم کو اللہ پاک نے حکم دیا ہے اور قطعی اور دائمی ٹھہرا دو ہمیشہ کے لیے نکاح ان عورتوں کا (یعنی جن سے متعہ کیا گیا ہے یعنی ایک مدت معین کی شرط سے نکاح کیا گیا ہےاور میرے پاس جو آئے گا ایسا کوئی شخص کہ اس نے نکاح کیا ہو گا ایک مدت معین تک تو میں اس کو ضرور پتھر سے ماروں گا۔

سرخی نے اپنی دو کتابوں میں اس کو ان روایات میں سے قرار دیا ہے جو عمر سے صحیح سند نقل ہوئی ہے ۔

وقد صحّ أنّ عمر رضي اللّه عنه نهي الناس عن المتعة فقال: متعتان كانتا علي عهد رسول اللّه صلي اللّه عليهوسلم وأنا أنهي الناس عنهما ؛متعة النساء، ومتعة الحج .

صحیح سند کے ساتھ عمر سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے لوگوں کو متعہ سے منع کیا اور کہا    :  رسول خدا صلي الله عليه وآله وسلم کے زمانے میں دو متعے حلال تھے ،  عورتوں سے متعہ ، حج تمتع کا متعہ ۔

المبسوط للسرخسي ج4 ص27 - أصول السرخسي ج2 ص6

یہ روایت درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے ۔

مسند أحمد بن حنبل ج3 ص325 ش 14519 - المغني ج7 ص136چاپ دار الفكر 1405- أحكام القرآن للجصاص ج1 ص347 چاپ دار احياء التراث العربي - تفسير القرطبي ج2 ص392 - تذكرة الحفاظ ج1 ص366 - التفسير الكبير ج5 ص130 چاپ اول دار الكتب العلميه بيروت - بداية المجتهد ج1 ص244 چاپ دار الفكر بيروت - وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان ج6 ص150 دار الثقافة لبنان

سند  : ۸

 امير المومنین علیہ السلام  اور  ابن عباس کا قول  :

 اگر عمر متعہ سے منع نہ کرتا تو بدبخت انسان کے علاوہ کوئی اور زنا نہ کرتا ۔

اس مطلب کو  جرير طبري اور سيوطي نے اپنی تفسیروں میں امام علي عليه السلام سے نقل کیا ہے :

لولا أنّ عمر رضي اللّه عنه نهي عن المتعة ما زني إلاّ شقي.

 اگر عمر متعہ سے منع نہ کرتا تو بدبخت انسان کے، کوئی اور زنا نہ کرتا ۔{لوگ زنا کے بجائے متعہ کرتے }

تفسير الطبري ج5 ص13 چاپ دار الفكر بيروت - الدر المنثور ج2 ص486 دار الفكر بيروت

عبد الرزاق نے المصنف (ج7 ص500 شماره14029) میں ایسی ہی روایت کو امیر المومنین ع سے نقل کیا ہے ۔

 سند  : ۹

سعد بن أبي وقاص:

2152 - و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ الْفَزَارِيِّ قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ الْمُتْعَةِ فَقَالَ فَعَلْنَاهَا وَهَذَا يَوْمَئِذٍ كَافِرٌ بِالْعُرُشِ يَعْنِي بُيُوتَ مَكَّةَ

 صحيح مسلم ج2 ص 898 كتاب الحج باب جواز التمتع چاپ دار احياء التراث العربي بيروت

مسند أحمد بن حنبل ج1 ص181 چاپ موسسة قرطبه مصر و...

اشكال : سعد سے اس سلسلے میں نقل شدہ روایات متعہ حج کے بارے میں ہے ،متعہ نساء کے بارے میں نہیں ہے  .

جواب  : ان کی روایت میں متعہ کا لفظ استعمال ہوا ہے ،اھل سنت کے علماء نے اس روایت کو متعۃ حج {حج تمتع} سے مربوط قرار دیا ہے ،لیکن خود سعد نے اس روایت میں کہا ہے : ہم نے اس وقت متعہ کیا جس وقت معاویہ کافر تھا ،سب کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حج تمتع حجۃ الوداع کے سال انجام پایا اور معاویہ نے اس سال اسلام قبول کیا تھا

لہذا یہ روایت اس سے پہلے والے زمانے سے متعلق ہے اور اس سے مراد متعہ نساء ہے ،متعۃ الحج مراد نہیں ہے ۔

  صحابہ کی راے اور ان کی عملی سیرت :

غیر قابل انکار ادلہ میں سے ایک اصحاب اور تابعین کی سیرت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد بھی متعہ کے حکم پر عمل کرنا ہے ۔ متعہ پر عمل کی سیرت اس حد تک ان میں زیادہ اور مشہور ہے کہ اس کو دیکھ کر متعہ کے حکم نسخ ہونے اور یا ان سارے اصحاب ،تابعین اور اھل سنت کے علماء کا اس کے حکم سے جاھل ہونے کی بات قابل قبول نہیں ہے۔

 

وقد ثبت علي تحليلها بعد رسول اللّه صلي اللّه عليه وسلم جماعة من السلف رضي اللّه عنهم منهم من الصحابةرضي اللّه عنهم: أسماء بنت أبي بكر الصديق . وجابر بن عبد اللّه . وابن مسعود . وابن عباس. ومعاوية بن أبيسفيان ، وعمرو بن حريث . وأبو سعيد الخدري . وسلمة . ومعبد أبناء أميّة بن خلف ، ورواه جابر بن عبد اللّه عنجميع الصحابة مدّة رسول اللّه صلي اللّه عليه وسلم . ومدّة أبي بكر . وعمر إلي قرب آخر خلافة عمر.

واختلف في إباحتها عن ابن الزبير . وعن علي فيها توقّف . وعن عمر بن الخطاب أنّه إنّما أنكرها إذا لم يشهد عليهاعدلان فقط وأباحها بشهادة عدلين.

ومن التابعين طاوس . وعطاء . وسعيد بن جبير . وسائر فقهاء مكّة أعزها اللّه

المحلي ج 9 ص 519

وَقَالَ مَالِكٌ : هُوَ جَائِزٌ ؛ لِأَنَّهُ كَانَ مَشْرُوعًا فَيَبْقَي إلَي أَنْ يَظْهَرَ نَاسِخُه وَاشْتَهَرَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ تَحْلِيلُهَا وَتَبِعَهُ عَلَي ذَلِكَ أَكْثَرُ أَصْحَابِهِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ وَمَكَّةَ ۔۔۔۔۔

مالك بن أنس نے  متعه کو جائز قرار دیا ہے ۔کیونکہ یہ شروع میں حلال تھا لہذا یہ حکم اسی حالت میں باقی رہے گا یہاں تک نسخ ہونا مشخص ہو  ،مشہور یہی ہے کہ ابن عباس بھی اس کو جائز سمجھتا تھا اور مکہ اور مین والے اس کے ساتھی اور شاگرد بھی اس کو جائز سمجھتے تھے ۔

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق فخر الدين ابو محمد عثمان بن علي زيلعي كتاب النكاح باب المتعة

 

صحیح مسلم کے راوی ابن جریح کون ہے ؟

کیا یہ شیعہ تھا ؟

قال يحيى لم يكن أحد أثبت في نافع من بن جريج وكان من أحسن الناس صلاة۔

التاريخ الكبير (5/ 422):

وهو بن ست وسبعين سنة وكان ثقة كثير الحديث جدا۔

الطبقات الكبرى (5/ 492):

  عبد الملك بن عبد العزيز بن جريج الأموي مولاهم المكي ثقة فقيه فاضل۔۔۔

تقريب التهذيب (ص: 363):

138 - ابْنُ جُرَيْجٍ الأُمَوِيُّ عَبْدُ المَلِكِ بنُ عَبْدِ العَزِيْزِ بنِ جُرَيْجٍ (ع)

الإِمَامُ، العَلاَّمَةُ، الحَافِظُ، شَيْخُ الحَرَمِ، أَبُو خَالِدٍ، وَأَبُو الوَلِيْدِ القُرَشِيُّ، الأُمَوِيُّ، المَكِّيُّ، صَاحِبُ التَّصَانِيْفِ، وَأَوَّلُ مَنْ دَوَّنَ العِلْمَ بِمَكَّةَ.

سير أعلام النبلاء [ مشكول + موافق للمطبوع ] (11/ 396):

3877 - عبد الملك بن عبد العزيز بن جريج الأموي مولاهم أبو الوليد أو أبو خالد المكي الفقيه أحد الاعلام عن بن أبي مليكة وعكرمة وعنه الأوزاعي

لسان الميزان (7/ 292):

عبد الملك بن عبد العزيز بن جريج، أبو الوليد وأبو خالد: فقيه الحرم المكيّ. كان إما م أهل الحجاز في عصره

الأعلام للزركلي (4/ 160):

 

:

کچھ اسکین ۔۔۔۔۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی