2021 April 18
کیا ام مھدی امام حسن کی نسل سے ہیں؟
مندرجات: ١٩١٤ تاریخ اشاعت: ٠٤ April ٢٠٢١ - ٠٠:٤٠ مشاہدات: 105
سوال و جواب » امام حسین (ع)
کیا ام مھدی امام حسن کی نسل سے ہیں؟

 کیا ام مھدی امام حسن کی نسل سے ہیں؟

          کیا  حضرت مهدي (عج) امام حسن مجتبي (ع) کی نسل سے ہیں ؟

سوال کرنے والا : عليجان اميري

شبهه:

شیعہ اور اھل سنت کے درمیان مهدويت،کے موضوع پر اھم اختلافات میں سے ایک حضرت مهدي عجل الله تعالي فرجه الشريف، کا امام مجتبي کی نسل سے ہونا يا امام حسين عليهما السلام کی نسل سے ہونے میں ہے .

بہت سے اهل سنت، شیعوں کے برخلاف یہ نظریہ رکھتے ہیں اور آپ کو  امام مجتبي عليه السلام کی نسل سے مانتے ہیں اور آپ کا حضرت سيد الشهداء عليه السلام.کی نسل سے ہونے کے منکر ہیں۔

ابن تيميه حراني نے اپنی كتاب منهاج السنة میں لکھا ہے :

فالمهدي الذي أخبر به النبي صلي الله عليه وسلم اسمه محمد بن عبد الله لا محمد بن الحسن وقد روي عن علي رضي الله عنه أنه قال هو من ولد الحسن بن علي لا من ولد الحسين بن علي.

جس مهدي، کے آمد کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دی ہے اس کا نام محمد بن عبد الله ہے، نہ محمد بن الحسن ۔ جیساکہ حضرت علي عليه السلام سے منقول ہے : مهدي، حسن بن علی کی نسل سے ہوں گے نہ حسین بن علی کی نسل سے ۔.

ابن تيميه الحراني الحنبلي، ابوالعباس أحمد عبد الحليم (متوفاي 728 هـ)، منهاج السنة النبوية، ج 4 ص 95، تحقيق: د. محمد رشاد سالم، ناشر: مؤسسة قرطبة، الطبعة: الأولي، 1406هـ.

ابن تيميه کا مقصود وہ روایت ہے جس کو  ابو داود سجستاني نے نقل کیا ہے:

قال أبو دَاوُد حُدِّثْتُ عن هَارُونَ بن الْمُغِيرَةِ قال ثنا عَمْرُو بن أبي قَيْسٍ عن شُعَيْبِ بن خَالِدٍ عن أبي إسحاق قال قال عَلِيٌّ رضي الله عنه وَنَظَرَ إلي ابنه الْحَسَنِ فقال إِنَّ ابْنِي هذا سَيِّدٌ كما سَمَّاهُ النبي صلي الله عليه وسلم وَسَيَخْرُجُ من صُلْبِهِ رَجُلٌ يُسَمَّي بِاسْمِ نَبِيِّكُمْ يُشْبِهُهُ في الْخُلُقِ ولا يُشْبِهُهُ في الْخَلْقِ ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةً يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا....

ابواسحاق کہتا ہے : علي عليه السلام نے اپنے بیٹے امام حسن علیہ السلام کی طرف دیکھ کر فرمایا : : «میرا یہ بیٹا سید و سردار ہیں؛ جیساکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نام ان کے لئے انتخاب فرمایا ہے ، ان کی نسل سے ایک فرزند پیدا ہوا گا جس کا نام تم لوگوں کا ہمنام ہوگا،سیرت اور اخلاق میں وہ نبی جیسا ہوگا لیکن شکل و صورت میں نبی جیسا نہیں ہوگا " اس کے بعد امام نے اس کے ذریعے زمین کو عدل وانصاف سے بھر دینے کی خبر دی ۔۔

السجستاني الأزدي، ابوداود سليمان بن الأشعث (متوفاي 275هـ)، سنن أبي داود، ج 4 ص 108، ح4290، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، ناشر: دار الفكر.

تجزیہ وتحلیل:

اھل سنت نظرئے کہ سب سے اھم دلیل یہی روایت ہے ، اس سے ہٹ کر کوئی قابل توجہ روایت ان کے پاس نہیں ہے اور اس روایت پر بھی کئی اعتراضات وارد ہوئے ہیں ۔

ابوداود کی روايت مرسل ہے:

اولا: یہ روایت دو اعتبار سے مرسل ہے:

الف: جس نے اس روایت کو  اميرالمؤمین عليه السلام سے نقل کیا ہے وہ ابو إسحاق عمرو بن عبد الله السبيعي متولد سال 33 و متوفاي 129هـ ہے ،یہ امیر المؤمنین عليه السلام کی شھادت کے وقت سات سال کا تھا ،یہ بات ٹھیک ہے کہ اس نے ایک دفعہ اميرمؤمنین عليه السلام کو دیکھا ہے ؛ لیکن یہ بات ثابت نہیں ہے اس نے ان سے کوئی روایت نقل کی ہو ؛ جیساکہ مبارك فوري نے اسی روایت کی شرح میں منذري سے نقل کیا ہے کہ  یہ روایت " مقطوع " ہے :

قال المنذري هذا منقطع أبو إسحاق السبيعي رأي عليا عليه السلام رؤية.

منذري نے کہا: یہ روایت منقطع ہے؛ کیونکہ ابو اسحاق سبيعي نے صرف ایک دفعہ علي عليه السلام کو دیکھا ہے .

المباركفوري، أبو العلا محمد عبد الرحمن بن عبد الرحيم (متوفاي1353هـ)، تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، ج 6 ص 403، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت.

ب: ابو داود سند کی ابتدا میں کہتے ہیں : «حُدِّثْتُ عن هَارُونَ بن الْمُغِيرَةِ؛ ھارون کے توسط سے میرے لئے نقل کیا ہے » لیکن یہ بیان نہیں ہوا ہے کہ کس نے اس کو هارون سے ان کے لئے نقل کیا ہے ، اس کا ذکر یہاں نہیں ہے ؛ هارون بن المغيره، نویں طبقه میں اور ابوداود سجستاني گیارویں طبقہ کے راویوں میں سے ہیں ۔ لہذا یہ روایت دو لحاظ سے مرسل ہے ۔

ابن خلدون اپنے مقدمہ میں لکھتا ہے :

وأما أبو اسحاق الشيعي وإن خرج عنه في الصحيحين فقد ثبت أنه اختلط آخر عمره وروايته عن علي منقطعة وكذلك رواية أبي داود عن هارون بن المغيرة.

اگرچہ صحيح بخاري اور مسلم میں ابو اسحاق شيعي سے روایت نقل ہوئی ہے ؛ لیکن وہ عمر کے آخری حصے میں ذھنی توازن کھو چکا تھا اور  علي (عليه السلام) اس کی روایت منقطع ہے؛ اسی طرح ابوداود کی هارون بن المغيره سے روایت بھی منقطع ہے.

إبن خلدون الحضرمي، عبد الرحمن بن محمد (متوفاي808 هـ)، مقدمة ابن خلدون، ج 1 ص 314، ناشر: دار القلم - بيروت - 1984، الطبعة: الخامسة.

الباني وهابي نے اپنی کتاب میں اس کو انہیں دو دلائل کی وجہ سے ضعیف قراردیا ہے . وہ اپنی کتاب" السلسة الضعيفة،" میں  اس روایت کو ضعیف قرار دینے کے بعد ترمذی سے نقل کرتے ہیں :

هذا، وقبل إنهاء الكتابة حول حديث الترجمة لا بد لي من أن أذكر له شاهداً وجدته في "سنن أبي داود" في إسناده انقطاع وجهالة؛ فلم تطمئن النفس إليه، فقال أبو داود (4290): حُدِّثْتُ عَنْ هَارُونَ بْنِ الْمُغِيرَةِ...

هكذا ساقه أبو داود. فقال الخطابي عقبه في "المعالم" (6/162): «هذا منقطع؛ أبو إسحاق السبيعي رأي علياً رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رؤية، وقال فيه أبو داود: حدثت عن هارون بن المغيرة».

قلت: يعني أن شيخ أبي داود فيه لم يسم؛ فهو مجهول.

وأيضاً؛ فأبو إسحاق كان اختلط، وشعيب بن خالد ليس مذكوراً فيمن روي

عنه قبل الاختلاط.

اس کتاب کو ختم کرنے سے پہلے سنن ابو داود میں منقول اس روایت کے لئے ایک شاھد یہاں ذکر کرنا ضروری ہے  اس روایت کی سند میں انقطاع اور راوی کے بارے میں جہالت موجود ہے  لہذا میرا دل مطمئن نہیں ہے ؛ ابو داود نے کہا ہے: میرے لئے مغیرہ سے نقل کیا ہے... خطابي نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کتاب" المعالم" میں لکھا ہے : یہ روايت منقطع ہے، ابو اسحاق سبيعي  نے علي عليه السلام کو صرف ایک دفعہ دیکھا ہے  اسی طرح ابو داود نے کہا ہے میرے لئے هارون کے واسطے سے نقل ہوا ہے .

میں کہتا ہوں : ابوداود کے استاد کا نام اس روایت میں موجود نہیں ہے  لہذا وہ مجهول ہے اسی طرح ابواسحاق بھی حافظہ کھو چکا تھا اور اس کا ذھن صحیح کام نہیں کرتا تھا۔ شعيب بن خالد کا بھی ان لوگوں میں شمار نہیں ہوتا جنہوں نے اس کے  ذھن خراب ہونے سے پہلے اس سے روایت نقل کیا ہو۔.

ألباني، محمد ناصر (متوفاي1420هـ)، السلسبة الضعيفة وأثرها السيء في الأمة، ج13، ص 1097، ناشر: مكتبة المعارف للنشر والتوزيع لصاحبها سعد بن عبدالرحمن الراشد - الرياض، الطبعة: الطبعة الأولي، 1425هـ - 2004م

اسی طرح البانی نے كتاب: مشكاة المصابيح، ج3، ص 186، ح5462، ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الثالثة - 1405 - 1985  اور  كتاب ضعيف سنن أبي داود، ح924، میں بھی اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے ۔

ایک اور جگہ «نظر إلي إبنه الحسين» کی تعبیر آئی ہے :

ثانياً: یہی روایت اھل سنت کی دوسری کتابوں میں «نظر إلي إبنه الحسن» کے بجائے  «نظر إلي إبنه الحسين» کے ساتھ نقل ہوئی ہے. شمس الدين جزري شافعي نے أسني المطالب میں لکھا ہے :

والأصحّ أنّه من ذرية الحسين بن علي لنصّ أمير المؤمنين علي علي ذلك، فيما أخبرنا به شيخنا المسند رحلة زمانه عمر بن الحسن الرقي قراءة عليه، قال: أنبأنا أبو الحسن بن البخاري، أنبأنا عمر بن محمد الدارقزي، أنبأنا أبو البدر الكرخي، أنبأنا أبو بكر الخطيب، أنبأنا أبو عمر الهاشمي، أنبأنا أبو علي اللؤلؤي، أنبأنا أبو داود الحافظ قال: حدثت عن هارون بن المغيرة، قال: حدثنا عمر بن أبي قيس، عن شعيب بن خالد، عن أبي اسحاق قال: قال علي عليه السلام - ونظر إلي ابنه الحسين - فقال: إن ابني هذا سيد كما سماه النبي صلي الله عليه وسلم، وسيخرج من صلبه رجل يسمي باسم نبيكم، يشبهه في الخلق، ولايشبهه في الخلق. ثم ذكر قصة يملأ الارض عدلا. هكذا رواه أبو داود في سننه وسكت عنه.

صحیح نظریہ یہ ہے کہ حضرت امام مهدي علیہ السلام,  حضرت امام حسين بن علي عليه السلام کی نسل سے ہیں، کیونکہ امیر المومنین عليه السلام نے واضح انداز میں فرمایا ہے ؛ جیساکہ میرے استاد عمر بن الحسن.... نے ابو اسحاق کے واسطے سے نقل کیا ہے کہ حضرت علي عليه السلام نے اپنے بیٹے حسين کی طرف نگاہ کر کے فرمایا : «یہ میرا بیٹا سردار ہیں؛ جیساکہ  رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لئے یہی نام رکھا ، ان کی نسل سے ایک بیٹا دنیا میں آئے گا اور وہ رسول اللہ ص کا ہمنام ہوگا ۔ سیرت اور اخلاق میں ان سے ملتے جچلے  ہونگے لیکن شکل کے اعتبار سے ان کے شبیہ نہیں ہوں گے ۔

اس کے بعد زمین کو عدل وانصاف سے بھر دینے کا واقعہ ذکر کیا . ابو داود نے اس روایت کو سنن میں اسی طرح نقل کیا ہے  اور اس روایت کاحکم بتانے سے گریزکیا ہے .

الجزري الشافعي، أبي الخير شمس الدين محمد بن محمد (متوفاي 833هـ)، أسني المطالب في مناقب سيدنا علي بن أبي طالب كرم الله وجهه، تقديم، ص130، تحقيق و تعليق: الدكتور محمد هادي الأميني، ناشر: مكتبة الإمام اميرمؤمنان (ع) العامة، اصفهان ـ ايران.

ثالثاً یہ روایت ان روایات سے ٹکراتی ہے جو  یہ ثابت کرتی ہیں کہ  حضرت مهدي (عج)  امام حسين (ع) کی نسل سے ہوں گے :

مقدسي شافعي نے عقد الدرر میں اور محب الدين طبري نے ذخائر العقبي میں نقل کہا ہے :

وعن حذيفة رضي الله عنه قال: خطبنا رسول الله (ص) فذكرنا رسول الله (ص) بما هو كائن، ثم قال: «لو لم يبق من الدنيا إلا يوم واحد لطول الله عز وجل ذلك اليوم، حتي يبعث في رجلاً من ولدي اسمه اسمي».فقام سلمان الفارسي رضي الله عنه فقال: يا رسول الله، من أي ولدك ؟ قال: «هو من ولدي هذا»، وضرب بيده علي الحسين عليه السلام.

أخرجه الحافظ أبو نعيم، في صفة المهدي.

جناب حذيفه سے نقل منقول ہے کہ رسول خدا صلي الله عليه وآله ہم سے خطاب فررہے  رہے تھے اور دنیا کے انجام کے موضوع پر بحث ہوئی اس جگہ آپ نے فرمایا : دنیا کی عمر میں سے صرف ایک دن بھی باقی رہے ، اللہ اس دن کو اتنا طولانی کرے گا یہاں تک کہ میری نسل سے ایک کو فرد کو بھیجے گا جو میرا ہم نام ہوگا ۔ 

سلمان اٹھے اور سوال کیا : یا رسول اللہ وہ شخص آپ کے کس فرزند سے متولد ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : اس وقت آپ نے  حسين عليه السلام پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا: «اس بیٹے سے » ۔

اس روايت کو  ابو نعيم نے اپنی کتاب «صفة المهدي» میں نقل کیا ہے .

المقدسي الشافعي السلمي، جمال الدين، يوسف بن يحيي بن علي (متوفاي: 685 هـ)، عقد الدرر في أخبار المنتظر، ج 1 ص 83 و95، طبق برنامه الجامع الكبير.

الطبري، ابوجعفر محب الدين أحمد بن عبد الله بن محمد (متوفاي694هـ)، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربي، ج 1 ص 137، ناشر: دار الكتب المصرية - مصر

نعيم بن حماد مروزي نے كتاب الفتن میں، مقدسي شافعي نے عقد الدرر میں اور  جلال الدين سيوطي نے الحاوي للفتاوي میں نقل کیا ہے ۔:

حدثنا الوليد ورشدين عن ابن لهيعة عن أبي قبيل عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال يخرج رجل من ولد الحسين من قبل المشرق ولو استقبلتْه الجبال لهدمها واتخذ فيها طُرُقاً.

عبد الله بن عمرو سے نقل ہوا ہے کہ رسول خدا صلي الله عليه وآله نے فرمایا : حسين عليه السلام کی نسل سے ایک مرد مشرق کی طرف سے خروج کرے گا اگر پہاڑ بھی ان کے مقابلے میں کھڑا ہو تو اس کو بھی  ریزہ ریزہ کر دے گا اور ان لوگوں کے  لئے پہاڑوں کے بیج سے راستہ نکالے گا ۔

المروزي، أبو عبد الله نعيم بن حماد (متوفاي288هـ)، كتاب الفتن، ج 1 ص 371، ح1095، تحقيق: سمير أمين الزهيري، ناشر: مكتبة التوحيد - القاهرة، الطبعة: الأولي، 1412هـ.

المقدسي الشافعي السلمي، جمال الدين، يوسف بن يحيي بن علي (متوفاي: 685 هـ)، عقد الدرر في أخبار المنتظر، ج 1 ص 195 و 284، طبق برنامه الجامع الكبير.

السيوطي، جلال الدين أبو الفضل عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفاي911هـ)، الحاوي للفتاوي في الفقه وعلوم التفسير والحديث والاصول والنحو والاعراب وسائر الفنون، ج 2 ص 62، تحقيق: عبد اللطيف حسن عبد الرحمن، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1421هـ - 2000م.

ابن صباغ مالكي نے ایک طولانی روایت میں  رسول خدا صلي الله عليه وآله سے نقل کیا ہے ؛ کہ آپ نے اپنا ہاتھ امام حسين عليه السلام پر رکھ کر فرمایا : مهدي ان کی نسل سے ہوں گے :

... يا فاطمة إنا أهل بيت أعطينا ست خصال لم يعطها أحد من الأولين ولا يدركها أحد من الآخرين غيرنا، فنبينا خير الأنبياء [ وهو أبوك ]، ووصينا خير الأوصياء وهو بعلك، وشهيدنا خير الشهداء وهو عم أبيك [ حمزة ]، ومنا من له جناحان يطير بهما في الجنة حيث يشاء وهو جعفر، ومنا سبطا هذه الأمة وهما ابناك، ومنا مهدي [ هذه ] الأمة الذي يصلي خلفه عيسي بن مريم. ثم ضرب علي منكب الحسين ( عليه السلام ) وقال: من هذا مهدي هذه الأمة. هكذا أخرجه الدار قطني صاحب الجرح والتعديل.

اے فاطمه! اللہ  نے  ہم اهل بيت عليهم السلام کو چھے خصوصیات سے نوازا ہے ہمارے سوا پچھلوں اور آئندہ آنے والوں میں سے کسی کو  یہ  خصوصیات حاصل نہیں ہوں گی۔،ہمارا پیغمبر سب سے بہترین ہیں جو کہ آپ کے والد ہیں،اور ہمارے وصی اوصیاء کے سردار ہیں  جو آپ کے شوہر ہیں ،ہمارے شھداء سب سے بہترین شھداء ہیں جو آپ کے چچا حمزہ ہیں اور جو دو پروں کے ذریعے سے جب چاہے بہشت میں پرواز کرسکتا ہے وہ جعفر طیار ہم میں سے ہیں ۔اس امت کے دو سبط آپ کے بیٹے ہیں وہ ہم میں سے ہیں ۔ اس امت کے مھدی ہم میں سے ہیں اور مھدی علیہ السلام وہ ہیں جن کے پیچھے  عيسي بن مريم علیہما السلام نماز پڑھیں گے وہ ہم میں سے ہیں. پھر اپنا ہاتھ امام حسين عليه السلام کے کندھے ہر رکھ کر فرمایا : مھدی ان کی نسل سے ہیں.

اس روایت کو  دار قطني اور صاحب جرح و تعديل نے اسی طرح نقل کیا ہے .

ابن صباغ المالكي المكي، علي بن محمد بن أحمد (متوفاي855 هـ)، الفصول المهمة في معرفة الأئمة، ج2، ص1114، تحقيق: سامي الغريري، ناشر: دار الحديث للطباعة والنشر ـ قم، الطبعة: الأولي، 1422هـ

اسی روایت کو  قندوزي حنفني نے ينابيع الموده میں  جرح و تعديل دارقطني سے نقل کیا ہے  :

ومنها: أخرج الدارقطني في كتابه الجرح والتعديل: عن أبي سعيد الخدري: أن...

دار قطني نے کتاب "جرح و تعديل ' میں اس روایت کو ابو سعدي خدري سے نقل کیا ہے ۔القندوزي الحنفي، الشيخ سليمان بن إبراهيم (متوفاي1294هـ) ينابيع المودة لذوي القربي، ج3، ص394، تحقيق سيد علي جمال أشرف الحسيني، ناشر: دار الأسوة للطباعة والنشر ـ قم، الطبعة:الأولي، 1416هـ.

مقدسي شافعي نے امام باقر عليه السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : مهدي امام حسين عليه السلام کی نسل سے ہوں گے :

وعن جابر بن يزيد الجعفي، قال: قال أبو جعفر عليه السلام: يا جابر... قال: فيجمع الله تعالي للمهدي أصحابه، ثلاثمائة وثلاثة عشر رجلاً، يجمعهم الله تعالي علي غير ميعاد وقزع كقزع الخريف، فيبايعونه بين الركن والمقام. قال: والمهدي، يا جابر، رجل من ولد الحسين، يصلح الله له أمره في ليلة واحدة.

جابر بن يزيد جعفي نے نقل کرتے ہیں کہ امام باقر عليه السلام نے فرمایا : اے جابر!  اللہ حضرت مھدی کے 313 اصحاب کو جمع کرے گا ۔ یہ کام اچانک اور بغیر کسی مقدمہ کے  انجام پائےگا جبکہ یہ لوگ پتوں کی طرح بکھرے ہوئے ہوں گے اور یہ لوگ رکن اور مقام کے درمیان امام مہدی علیہ السلام کی بیعت کریں گے ۔پھر آپ نے فرمایا : اے جابر ! وہ شخص  حسين عليه السلام کی نسل سے ہوگا ۔ اللہ ایک ہی دن میں اس کے معاملات ٹھیک کر دے گا ۔

المقدسي الشافعي السلمي، جمال الدين، يوسف بن يحيي بن علي (متوفاي: 685 هـ)، عقد الدرر في أخبار المنتظر، ج 1 ص 157، طبق برنامه الجامع الكبير.

نتيجه، اگر ابوداود کی روایت کی سند ضعیف ہونے سے بھی صرف نظر کرلیا جائے ،پھر بھی یہ روایت ان دوسری روایات سے ٹکراتی ہے لہذا  ابوداود کی روایت پھر حجت نہیں رہے گی .

حضرت مهدي، «حسنين» عليه السلام کی نسل سے ہیں:

چوتھی بات: اگر ابوداود کی روایت کو مان بھی لیا جائے پھر بھی کہ یہ روایات جو حضرت مهدي عجل الله تعالي فرجه الشريف کو امام حسين عليه السلام کی نسل سے ہونے کی گوہی دیتی ہیں ان کا شیعوں کے عقیدے اور شیعوں کی روایات کے ساتھ کوئی  ٹکراو نہیں کیونکہ امام مھدی علیہ السلام باپ کی طرف سے امام حسين عليه السلام کی نسل سے ہیں اور ماں کی طرف سے امام مجتبي عليه السلام کی نسل سے ہیں ،کیونکہ امام زین العابدین کی زوجہ اور امام باقر عليه السلام، کی ماں فاطمه بنت الحسن ہیں لہذا امام مھدی عليه السلام اس اعتبار سے امام مجتبي اور سيد الشهداء عليهما السلام دونوں کی نسل سے ہیں.

قرآن كريم نے بھی اس قسم کی نسبتوں کو بیان کیا ہے ۔جیساکہ حضرت عيسي عليه السلام کو پچھلے انبیاء کی نسل سے قرار دیا ہے۔ جیسے،حضرت يعقوب، حضرت اسحاق اور حضرت ابراهيم  :

وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ كُلّا هَدَيْنَا وَنُوحا هَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَي وَهَارُونَ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ. وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَي وَعِيسَي وَإِلْيَاسَ كُلٌّ مِنْ الصَّالِحِينَ. الانعام/ 84 ـ85.

اور ہم نے ابراہیم علیہ السّلام کو اسحاق علیہ السّلام و یعقوب علیہ السّلام دئیے اور سب کو ہدایت بھی دی اور اس کے پہلے نوح علیہ السّلام کو ہدایت دی اور پھر ابراہیم علیہ السّلام کی اولاد میں داؤدعلیہ السّلام ,سلیمان علیہ السّلامً ایوب علیہ السّلام یوسف علیہ السّلام,موسٰی علیہ السّلام ,اور ہارون علیہ السّلام قرار دئیے اور ہم ِسی طرح نیک عمل کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں اور زکریا علیہ السلام ،یحیی علیہ السلام، عیسی علیہ السلام ،اور الیاس علیہ السلام ، یہ سب کے سب نیک لوگوں میں سے تھے۔

جب حضرت عيسي عليه السلام ماں کی طرف سے جناب اسحاق ، يعقوب اور ابراهيم علیہم السلام سے ملحق ہوسکتے ہیں تو اس میں بھی کوئی مشکل نہیں آئے گی کہ ہم  امام مھدی علیہ السلام کو  بھی ماں کی جہت سے امام مجتبي عليه السلام  اور امام حسین علیہ السلام سے ملحق کر دیں  اور آپ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرزند ہیں اور دونوں جناب فاطمہ سلام علیہا کے واسطے سے رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم کے فرزند ہوںگے۔

قابل توجہ بات یہاں پر یہ بھی ہے کہ اهل سنت کے بعض علماء نے جب یہ دیکھا کہ جو روایات امام مھدی علیہ السلام کو امام حسین علیہ السلام کی نسل سے بتاتی ہیں ، ان روایتوں کا انکار یا ان کو رد نہیں کرسکتے تو  عجیب قسم کی توجیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  امام مھدی ، ماں کی جہت سے امام حسین علیہ السلام کی نسل ہیں اور باپ کی طرف سے امام حسن علیہ السلام  کی نسل سے ہیں ۔

ملا علي قاري نے مرقاة المفاتيح میں لکھا ہے :

واختلف في أنه من بني الحسن أو من بني الحسين، ويمكن أن يكون جامعاً بين النسبتين الحسنين. والأظهر أنه من جهة الأب حسني ومن جانب الأم حسيني قياساً علي ما وقع في ولدي إبراهيم وهما إسماعيل وإسحاق عليهم [ الصلاة ] والسلام، حيث كان أنبياء بني إسرائيل كلهم من بني إسحاق، وإنما نبيء من ذرية إسماعيل نبينا وقام مقام الكل ونعم العوض وصار خاتم الأنبياء.

فكذلك لما ظهرت أكثر الأئمة وأكابر الأمة من أولاد الحسين فناسب أن ينجبر الحسن بأن أعطي له ولد يكون خاتم الأولياء ويقوم مقام سائر الأصفياء... وسيأتي في حديث أبي إسحاق عن علي كرم الله الله تعالي وجهه ما هو صريح في هذا المعني والله [ تعالي ] أعلم.

اس بات میں اختلاف ہوا ہے کہ حضرت مهدي ، امام حسن کی نسل سے ہیں یا امام حسين عليه السلام کی نسل سے ، ان دو میں جمع کا امکان بھی موجود ہے اور بہترین جمع یہ ہے کہ آپ باپ کی طرف سے حسنی اور ماں کی طرف سے حسینی ہیں۔ تاکہ اس طرح اس کو جناب ابراھیم علیہ السلام کے دوبیٹوں کے ساتھ قیاس کیا جائے ،کیونکہ بنی اسرائیل کے سارے انبیاء جناب اسحق کی نسل سے تھے ،لیکن ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جناب اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے ہیں ۔ یہی حالت ہمارے ائمہ علیھم السلام کے بارے میں بھی پیش آئی ہے چنانچہ جس طرح تمام ائمہ و بزرگان دین حضرت امام حسین علیہ السلام کی نسل سے ہیں اسی طرح تمام اولیاء کا خاتم امام مجتبی علیہ السلام کی نسل سے ہو جائے اس طرح امام مجتبی علیہ السلام کے حق میں مناسب انداز میں تلافی ہوسکتا ہے۔

  ہم عنقریب اگلے سطور میں اسی موضوع پر امام علی علیہ السلام سے نقل شدہ حدیث بھی پیش کریں گےجس کو ابواسحاق نے نقل کیا ہے اور اس روایت میں اسی مطلب کے بارے میں تصریح ہوئی ہے ۔

ملا علي القاري، نور الدين أبو الحسن علي بن سلطان محمد الهروي (متوفاي1014هـ)، مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج 10 ص 90، تحقيق: جمال عيتاني، ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولي، 1422هـ - 2001م.

ہم ملاقاری کے جواب میں کہتے ہیں :

پہلی بات: انہوں نے اپنی اس توجیہ کو ثابت کرنے کے لئے عقلي استحسانات اور ابوإسحاق سبيعي کی روایت کا سہارا لیا ہے اور ہم نے ثابت کیا کہ یہ روایت دو جہت سے مرسل ہے۔  لہذا اس توجیہ کی کوئی قیمت نہیں ، امام مھدی عجل الله تعالي فرجه الشريف کے نسب کو ان  عقلي استحسانات ،قیاس اور ضعیف روایت کے ذریعہ ثابت نہیں کیاجاسکتا.

یہ جو کہا: بہتر یہ ہے آپ باپ کی طرف سے امام حسن عليه السلام کی نسل سے ہو اور پھر اس مسئلہ کو حضرت ابراھیم علیہ السلام کے دو بیٹوں سے موازنہ کیا ، ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں: انساب قياس ، عقلي استحسانات کسی صحیح دلیل کے بغیر قابل اثبات نہیں ہیں بلکہ اس چیز کو ثابت کرنے کے لئے صحیح اور واضح دلیل کا ہونا ضروری ہے ۔

یہ بات تو ٹھیک ہے کہ ان میں جمع تو ممکن ہے لیکن جب ہمارے پاس اس سے احسن طریقہ موجود ہے تو کیوں ہم بہتر کا سہارا نہ لیں وہ طریقہ یہ ہے کہ امام مھدی باپ کی طرف سے حسینی اور ماں کی طرف سے حسنی ہیں اور یہ جمع تاریخی حقائق کے مطابق بھی صحیح ہے جیساکہ بیان ہوا کہ امام باقر علیہ السلام کی ماں امام مجتبی علیہ السلام کی نسل سے تھیں ۔

جس قیاس کا انہوں نے سہارا لیا ہے وہ بھی بالکل باطل قیاس ہے کیونکہ درست ہے کہ خاتم الأنبيا صلي الله عليه وآله ، تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل اور برتر ہیں ۔ لیکن یہ تو کسی نے نہیں کہا ہے کہ خاتم الأوصياء ، امام مهدي عجل الله تعالي فرجه الشريف بھی باقی ائمه عليهم السلام سے افضل اور برتر ہیں.

ویسے بھی اس بات پر کیا دلیل ہے کہ جب سارے انبیاء ،جناب اسحاق کی نسل سے قرار پائے ہیں اس میں جناب اسماعیل علیہ السلام کو اپنا حق دلانے کیلئے  ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جناب اسماعیل کی نسل سے قرار دیا ہو؟

 اللہ تعالیٰ پيامبر اور امام کے انتخاب میں اس قسم کے معیارات اور  مناسبات کو پیش نہیں کرتا، جیساکہ اللہ فرماتا ہے :

اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسالَتَه . الأنعام/124.

اللہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کہاں قرار دیا جائے ۔

اس کے علاوہ کیا ملا علي قاري امام حسين عليه السلام کی نسل سے پیداہونے والے دوسرے  ائمه عليهم السلام کی امامت کو قبول کرتے ہیں؟  اب جبکہ قبول کیا ہے تو پھر قیاس کر کے  امام مھدی علیہ السلام کو امام حسن علیہ السلام کی نسل سے ہونے کو مناسب قرار دینے کی کیا وجہ ہے ؟

اهل بيت عليهم السلام کی روايات میں امام  مهدي علیہ السلام کا نسب :

ان ساری باتوں سے ہٹ کر یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اهل بيت عليهم السلام  سے صحيح السند  روایات نقل ہوئی ہیں اور ان روایات کے مطابق امام مهدي عجل الله تعالي فرجه الشريف کا امام حسين عليه السلام کی نسل سے ہونا ثابت ہوجاتا ہے اور جیساکہ  رسول خدا صلي الله عليه وآله نے حدیث ثقلین میں اھل بیت علیہم السلام کو قرآن کا ہم پلہ قرار دیا ہے اور ان کی اطاعت کو سب پر واجب قرار دیا ہے  اور شیعوں کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ شیعہ ائمہ اھل بیت علیہم السلام کی اطاعت کرتے ہیں اور اپنے دینی امور کو ان سے لیتے ہیں۔

اس سلسلے میں شیعوں کے ہاں روایات تواتر کی حد تک موجود ہیں ۔ ہم اختصار کی خاطر ان میں سے ایک روایت یہاں نقل کرتے ہیں :

حَدَّثَنَا أَبِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي خَلَفٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْكَانَ عَنْ أَبَانِ بْنِ تَغْلِبَ عَنْ سُلَيْمِ بْنِ قَيْسٍ الْهِلَالِيِّ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَي النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وَإِذَا الْحُسَيْنُ عَلَي فَخِذَيْهِ وَهُوَ يُقَبِّلُ عَيْنَيْهِ وَيَلْثِمُ فَاهُ وَهُوَ يَقُولُ أَنْتَ سَيِّدٌ ابْنُ سَيِّدٍ أَنْتَ إِمَامٌ ابْنُ إِمَامٍ أَبُو الْأَئِمَّةِ أَنْتَ حُجَّةٌ ابْنُ حُجَّةٍ أَبُو حُجَجٍ تِسْعَةٍ مِنْ صُلْبِكَ تَاسِعُهُمْ قَائِمُهُم .

سلمان فارسي کہتے ہیں : میں رسول خدا صلي الله عليه وآله کی خدمت میں پہنچا؛ اس وقت  امام حسين عليه السّلام آپ کی گود میں تھے  ۔حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی آنکھوں اور منہ کا بوسلہ لے رہے تھے اور آپ نے فرمایا: آپ سید و سردار ہو اور سید و سردار کے فرزند ہو۔آپ امام ہو اور امام کے فرزند ہو ،آپ حجت ہو اور حجت کے فرزند ہو اور حجج  کے والد بھی ہو، ان حجج میں سے نو آپ کی نسل سے ہیں اور ان میں سے نواں ،قائم ہیں۔

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاي381هـ)، الخصال، ص 475، ح38، تحقيق: علي أكبر الغفاري، ناشر: جماعة المدرسين في الحوزة العلمية ـ قم، 1403هـ ـ 1362ش

نتيجه:

اھل سنت نے امام مھدی علیہ السلام کو امام مجتبي عليه السلام کی نسل سے ہونے کاجو نظریہ پیش کیا ہے یہ نظریہ سند اور صحیح دلیل سے خالی  ہے اور یہ ان مدارک سے تعارض بھی رکھتا کہ جو امام مھدی علیہ السلام کو امام حسین علیہ السلام کی نسل سے قرار دیا گیا ہے اور جیساکہ بیان ہوا اھل سنت کےاس نطریے کی بنیاد ایک ضعیف روایت پر استوار ہے جو قابل اعتماد نہیں  ۔

 اھل سنت نے امام مھدی علیہ السلام کو امام مجتبي عليه السلام کی نسل سے ہونے کاجو نظریہ پیش کیا ہے یہ نظریہ سند اور صحیح دلیل سے خالی  ہے اور یہ ان مدارک سے تعارض بھی رکھتا ہے کہ جس کے مطابق امام مھدی علیہ السلام کو امام حسین علیہ السلام کی نسل سے قرار دیا گیا ہے اور جیساکہ پہلے بیان ہوا اھل سنت کےاس نطریے کی بنیاد ایک ضعیف روایت پر استوار ہے جو قابل اعتماد نہیں  ۔

التماس دعا ۔۔۔۔۔

شبهات کے جواب دینے والی ٹیم

تحقیقاتی ادارہ  ، حضرت ولي عصر (عج





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی