2017 June 29
جمل و صفین اور نہرواں کے لوگ باغی تھے
مندرجات: ١٣٥ تاریخ اشاعت: ٢٢ November ٢٠١٦ - ١٧:١٥ مشاہدات: 472
تصویری دستاویز » پبلک
جمل و صفین اور نہرواں کے لوگ باغی تھے

 

یافعی کی باتوں کی تائید میں ابن کہتے ہیں:

قَوْلُهُ ثَبَتَ أَنَّ أَهْلَ الْجَمَلِ وَصِفِّينَ وَالنَّهْرَوَانِ بُغَاةٌ هو كما قال وَيَدُلُّ عليه حَدِيثُ عَلِيٍّ أُمِرْت بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ وَالْقَاسِطِينَ وَالْمَارِقِينَ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ في الْخَصَائِصِ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالنَّاكِثِينَ أَهْلُ الْجَمَلِ لِأَنَّهُمْ نَكَثُوا بَيْعَتَهُ وَالْقَاسِطِينَ أَهْلُ الشَّامِ لِأَنَّهُمْ جَارُوا عن الْحَقِّ في عَدَمِ مُبَايَعَتِهِ وَالْمَارِقِينَ أَهْلُ النَّهْرَوَانِ لِثُبُوتِ الْخَبَرِ الصَّحِيحِ فِيهِمْ أَنَّهُمْ يَمْرُقُونَ من الدِّينِ كما يَمْرُقُ السَّهْمُ من الرَّمِيَّةِ.

یافعی کا کہنا صحیح ہے کہ جمل و صفین اور نہروان کے لوگ باغی تھے، اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت علی علیہ السلام کی یہ روایت اس پر دلیل ہے جس میں آپ نے فرمایا مجھے ناکثین و مارقین اور قاسطین سے جنگ کرنے کا حکم ہوا ہے ۔۔۔۔۔ ناکثین سے مراد جنگ جمل کے لوگ ہیں اس لئے کہ انھوں نے علی علیہ السلام کی [بیعت کرنے کے بعد] ان کی بیعت کو توڑ دیا تھا؛ اور قاسطین سے مراد، شام کے لوگ ہیں اس لئے کہ انہوں نے آپ کی بیعت نہ کرکے حق سے تجاوز کیا اور مارقین سے مراد نہروان کے لوگ ہیں اس لئے کہ ان کے سلسلہ میں ہمارے پاس صحیح حدیث موجود ہے کہ یہ لوگ دین سے اسی طرح سے نکل گئے جس طرح سے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔

تلخيص الحبير  ج 4   ص 44، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الوفاة: 852 ، دار النشر :  - المدينة المنورة - 1384 - 1964 ، تحقيق : السيد عبدالله هاشم اليماني المدني

 اهل سنت بھائیوں سے سوال:

۱۔ عائشہ و طلحہ اور زبیر نے امیرالمومنین علیہ السلام کی بیعت شکنی کیوں کی؟

۲۔ اہل سنت کی روایتوں کے مطابق جو بھی امام کی بیعت کئے بغیر دنیا سے جائے گا اس کا شمار کافروں میں ہوگا، اس صورت میں عائشہ و طلحہ و زبیر اور معاویہ کا کیا انجام ہے؟ 

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی